Instagram

Sunday, 25 June 2017

Ahed E Nabvi Me Eid



عہد نبویﷺ میں عید
ڈاکٹر محمد حسین مشاہدرضوی

            عیدالفطر کی آمد آمد ہے۔ حقیقی عید تو انہی خوش نصیب لوگوں کو ملے گی جنہوں نے رمضان المبارک کی رحمت و بخشش اور مغفرت کے مہینہ میں روزے رکھے ، قرآن مجید پڑھنے اور سننے کی سعادت حاصل کی۔ سحری و افطاری کے وقت اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر اداکرتے ہوئے ان سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ ’’اعتکاف‘‘ میں بھی بیٹھے اور ’’شبِ قدر‘‘ جیسی بخشش ومغفرت کی عظیم رات کو پایا ۔عید کا تہوار ہمیں خدا پرستی، الفت و محبت، ہمدردی، خیر خواہی اور بھائی چارے کی پاکیزہ روح سے منور کرنا چاہتاہے اور یہ خدا کا بڑا ہی فضل ہے کہ مسلمان کثیر تعداد میں عید منانے کے ُاسی طریقے پر عمل پیرا ہیںجس کا حکم پیغمبر اسلام مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دیا تھا، تمام مسلمان عید کی صبح عید گاہ اور مساجد میں اکھٹے ہوکر اﷲ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے ہیں خطبۂ عیدسنتے ہیں اور اجتماعی دعا کے بعد ایک دوسرے کو عید کی مبارک باد دیتے ہیں مصافحہ و معانقہ کرتے ہیں اور پھر سارا دن مہمانوں کی آمدرورفت کا سلسلہ جاری رہتاہے۔ طرح طرح کے پکوان پکائے جاتے ہیں اور مہمانوں کی خاطر مدارت کی جاتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے عہد میں جس طرح عید منائی جاتی تھی اس کی ایک مختصر جھلک یہاں ہم آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں۔
No automatic alt text available.
امام الانبیاء مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرماکر مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ یہاں پر آپﷺ نے دیکھا کہ اہل ِ مدینہ دو تہوار مناتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دنوں کی حقیقت دریافت فرمائی۔انصار نے جواب دیا کہ ہم ان دنوں کو مدتِ قدیم سے بس اسی طرح مناتے چلے آرہے ہیں اس پر آقائے دوجہاںﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے تمہارے ان دو تہواروں کے بدلے ان سے بہتر دو دن تمہارے لیے مقرر کردیے ہیں۔ یعنی عید الفطر اور عید الاضحی۔روایتوں میں ملتا ہے کہ حضورِاکرم صلی اﷲ علیہ وسلم کے زمانے میں عید الفطرکے روز اہلِ ایمان صبح سویرے گھروں سے نکلتے ، حکم تھا کہ عورت، مرد بچے، سب نکلیں تاکہ مسلمانوں کی کثرت اور ان کی شان کا اظہار ہو اوراجتماعی دعا میں بھی سب لوگ ایک ساتھ شریک ہوں اور اس اجتماعی خوشی میں بھی سب لوگوں کی اجتماعی طور پر شرکت ہو۔چنانچہ عید کی نماز مسجد کے بجائے بستی سے باہر میدان میں ہوتی تھی تاکہ بڑے سے بڑا اجتماع ہو ۔ مسلمان نماز کے لیے جاتے ہوئے تکبیر پڑھتے ہوئے جاتے تھے۔اﷲ اکبر، اﷲ اکبر ، لاالہ الا اﷲ، واﷲ اکبر، اﷲاکبر وﷲ الحمد۔ہر جگہ ہر مقام اور ہر بازار اور ہر سڑک پرانہی صدائوں کی باز ِ گشت ہوتی تھی۔


            اس کے علاوہ دل کھول کر خیرات کی جاتی تاکہ عید خوش حال ہی لوگوں کا تہوار بن کر نہ رہ جائے بلکہ غریبوں کو بھی عیدکی خوشیوں میں ساتھ شریک کیا جائے۔ عید گاہ میں جب تمام لوگ جمع ہوجاتے تو سورج نکلنے کے بعد کچھ دیر تمام لوگ صفیں سیدھی کرتے اور پھر سارا مجمع دو رکعت نماز واجب اداکرتا،اﷲ کے پیارے او ر آخری رسول مصطفیٰ جانِ رحمت صلی اﷲ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوتے ہی خطبہ ٔ عید ارشاد فرماتے، اس خطبے میں تعلیم وتلقین اور وعظ و نصیحت کے علاوہ ان تمام مسائل پر بھی آپ روشنی ڈالتے جو اس وقت اُمت کو درپیش ہوتے تھے۔ کوئی فوجی یا سیاسی مہم درپیش ہوتی تو اس کا بھی انتظا م کیا جاتا اور اگر اجتماعی معاملات میں کوئی ضرورت ہوتی تو آپ اس طرف بھی توجہ فرمایا کرتے تھے اور پھر ہرشخص اس کو پورا کرنے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔پھر جب یہ مجمع عید گاہ سے پلٹتا تو حکم یہ تھا کہ جس راستے سے آئے ہو اس کے علاوہ دوسرے راستے سے گھروں کو واپس جائو تاکہ بستی کا کوئی حصہ خدا کی کبریائی کی گونج سے خالی نہ رہ جائے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ عید الفطرکی صبح غسل فرماکرعمدہ لباس زیب تن فرماتے، حضورپاکﷺ کی یہ بھی عادتِ مبارکہ تھی کہ عید الفطر کے دن عید گاہ جانے سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے تھے اور ان کی تعداد طاق ہوتی یعنی تین ، پانچ ، سات وغیرہ۔حضورﷺ عید کی نمازِ عید گاہ (میدان )میں ادا فرماتے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ اپنی عیدوں کو بکثرت تکبیر سے مزید کرو۔ حضورﷺ عید گاہ جاتے ہوئے سواری استعمال نہ فرماتے بلکہ پیدل تشریف لے جاتے تھے۔عید الفطر کا دن دوسروں کے دکھ ، درد اور تکلیف کو اپنے دل میں محسوس کرنے کی ضرورت پر زور دیتاہے۔ایک مرتبہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نمازِ عید کی ادائیگی کے لیے تشریف لے جارہے تھے، صحابہ کرام رضوان اﷲ علہیم اجمعین کے علاوہ آپ کے دونوں نواسے سیدنا امام حسن مجتبیٰ اور سیدنا امام حسین شہزادۂ گلگوں قبا رضی اللہ عنہم بھی ہمراہ تھے۔ دفعتاً نظرِ رحمت ایک ایسے بچے پر پڑی جو والدین کے سایۂ شفقت سےمحروم تھا اور بوسیدہ لباس پہنے ہوئے تھااور آنکھوں میں آنسو لیے حسرت ویاس کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ ِ رحمت جب اس بچے پر پڑی تو بچے کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی لڑی کی مانند گرنے لگے۔ آپ نے اپنی بابرکت چادرِ مبارک سے اس بچے کے آنسو پونچھے اور اس کو اپنے سایۂ عاطفت میں لے کر کاشانۂ نبوت پر تشریف لائے اور اس بچے کو ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا اور فرمایا کہ اس کو نہلاکر اچھے اور نئے کپڑے پہنائے جائیں۔ پھر جب تک وہ بچہ تیار ہوتا رہا آپﷺ محو ِ انتظار رہے اور پھر اس بچے کی اُنگلی پکڑ کر اسے اپنے ساتھ عید گاہ لے کر گئے۔(سیرتِ رسول اعظمﷺ)آج ہم رسول اﷲﷺ کے امتی اگر اپنا احتساب کریں اور اپنی ذات کو میزانِ عدل میں رکھ کر دیکھیں تو نہ سوچ وبچار کی ضرورت پڑے گی اور نہ غور وفکر کی اور نتیجہ ہمارے سامنے آجائے گا کہ ہمارے آقا ومولاﷺ کا اسوۂ حسنہ کیا تھا اور آج ہم کس مقام پر جاکھڑے ہوئے ہیں!؟؟