Instagram

Monday, 16 October 2017

Hazrat Syed Shah Barkatullah Marehravi

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سلطان العاشقین ’’صاحب البرکات‘‘ حضرت سیدنا شاہ برکت اللہ
عشقیؔ و پیمیؔ مارہروی رحمۃ اللہ علیہ
از قلم : ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی بدایونی ( شعبۂ جغرافیہ مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ )

شاہ برکات برکات پیشینیاں
نو بہار طریقت پہ لاکھوں سلام
  امام سلسلہ برکاتیہ حضرت سیدشاہ برکات اللہ عشقیؔ و پیمیؔ مارہروی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت  ۲۶ جمادی الآخرہ
 ۱۰۷۰ھ میں بلگرام شریف میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد حضرت شاہ اویس ابن عبد الجلیل بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔
          آپ کا نسب نامہ اس طرح ہے۔
          حضرت سید شاہ برکت اللہ بن حضرت سید شاہ اویس بن حضرت سید شاہ عبد الجلیل بن میر سیدعبد الوحد بلگرامی (صاحب سبع سنابل) بن سید ابراہیم بن سید قطب الدین بن سید شاہ ماہ رو بن سید شاہ بدا بن سید کمال بن سیدقاسم بن سید حسین بن سید نصیر بن سید حسین بن سید عمر بن میر سید محمد صغریٰ عرف دعوت الصغریٰ بن سید علی بن سید حسین بن سید ابو الفرح ثانی بن سید ابو فارش بن سید ابو الفرح بن سید داؤد بن سید حسین بن سید یحییٰ بن سید زید سوم بن سید عمر بن سید زید دوم بن سید علی عراقی بن سید حسن بن سید علی بن سید محمد بن سید عیسیٰ موتم الاشبال (شیروں کو یتیم بنانے والے) بن سید زید شہید بن امام زین العابدین بن سید الشہداء حضرت امام حسین بن امیر المومنین سیدنا حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم زوج سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراء بنت سید الانبیا حضرت محمد مصطفی ﷺ تک پہنچتا ہے۔(صلی اللہ علیہ وسلم و رضی اللہ عنہم اجمعین)
          حضور صاحب البرکات سلسلۂ برکاتیہ کے بانی اور اپنے دور کے مشہور صوفی، عالم، مصنف اور شاعر بزرگ تھے۔ صاحب البرکات کو بیعت و خلافت سلسلۂ چشتیہ میں اپنے والد ماجد سید شاہ اویس سے حاصل تھی۔ اس کے علاوہ اپنے چچا زاد بھائی سید مربی ابن سید عبدالنبی سے بھی سلسلۂ قادریہ آبائی میں اجازت و خلافت حاصل تھی۔
          فقر و سلوک کے تمام معاملات و مقامات طے کرنے کے بعد حضور صاحب البرکات حضرت محی الدین اورنگ زیب کے زمانے میں مارہرہ مقدسہ تشریف لائے۔ اس جگہ کچھ افغانیوں کے مکان تھے۔ جو قوم گونڈل کہلاتے تھے۔ ان لوگوں کو حضرت کا وہاں رہنا گراں گذرا۔ لہٰذا اس قوم نے حضرت کو ایذا پہنچانی شروع کی۔ حضرت نے تنگ آکر ان کے لیے بد دعا کی اور فرمایا ’’تم سب جوان مرو‘‘ حضرت کی بد دعا کا یہ اثر ہوا کہ کچھ عرصے میں یہ پوری قوم غارت ہو گئی۔ حضرت صاحب البرکات نے ایک بار پھر بلگرام جانے کا عہد کیا لیکن چودھری فرید خاں عامل مارہرہ کے اصرار پر حضرت نے دوبارہ وہیں قیام فرمایا یہ وہ زمانہ تھا کہ جب حضرت شاہ جلال قطب مارہرہ تھے۔ بڑے صاحب کمال سالک تھے۔ خرد تخلص فرماتے تھے۔ بوستانِ خرد آپ کی مشہور تصنیف ہے۔ حضرت سید شاہ حمزہ عینیؔ کی تصنیف فص الکلمات میں درج ہے کہ ایک رات صاحب البرکات کو حضور غوث پاک کی زیارت ہوئی اس وقت حضور محبوب سبحانی نے صاحب البرکات کو بشارت دی کہ تم پشتہا پشت کے لیے مارہرہ کے قطب کئے گئے جلد از جلد کسی مرید کو کلیر بھیجو تاکہ تم کو اس ولایت اور قطبیت کی سند مع خلعت کے دی جائے۔ صبح کو سب سے پہلے حضرت صاحب البرکات نے اس واقعے کی اطلاع بذریعہ ایک تحریر حضرت سید جلال کو دی۔ فرمایا: ’’جس جگہ جمال ہو وہاں جلال کی کیا ضرورت، جب عاشق آئے تو عقل کیوں باقی کیسے باقی رہے۔‘‘ اس پیام کے ساتھ ہی حضرت شاہ جلال صاحب نے انتقال فرمایا۔
          حضور صاحب البرکات نے پھر مارہرہ شریف میں پیم نگر برکات نگری آباد کی جو اس وقت بستی پیر زادگان کے نام سے آباد ہے۔
          حضور صاحب البرکات سرکار غوث اعظم کے عشق میں سرشار تھے اور عشق اس درجہ پہنچا ہوا تھا کہ سیرابی نہ ہوتی تھی۔معرفت اور طریقت کی پیاس اور عشق غوث اعظم میں سرشار ہو کر مخدوم کالپی حضرت سید شاہ فضل اللہ رحمتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ قطب مارہرہ کا سرکار کالپی نے سینے سے لگا کر استقبال کیا اپنی ٹوپی عطا فرمائی اور’’ دریا بہ دریا پیوست‘‘ فرماتے ہوئے سلسلۂ قادریہ کی خلافت و اجازت عطا فرمائی۔
          سرکار کالپی نے حضور صاب البرکات کو رخصت کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا سلوک کمال کی انتہا کو پہنچا، تم اپنے مکان میں قیام کرو۔ اسی جگہ تمہاری ذات با برکت استقامت کے ساتھ رہے، وہاں کے طالبوں اور فیض پانے والوں کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ مخدوم کالپی کی زبان کا یہ اثر تھا کہ حضور صاحب البرکات نے ۳۴ سال تک سجادۂ برکاتیہ سے اپنے آپ کو جدا نہ کیا۔
          حضور صاحب البرکات کو ایک مرتبہ نبی پاک ﷺ اور حضرت سیدنا غوث اعظم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ سرکار غوث اعظم نے حضور صاحب البرکات کی آل میں سات قطب پیدا ہونے کی بشارت فرماتے ہوئے حضرت بو علی شاہ پانی پتی رحمتہ اللہ علیہ کے ذریعے اپنی تسبیح کے سات دانے اس بشارت کی تصدیق میں عطا فرمائے۔ ساتھ ہی سرکار غوث اعظم نے حضور صاحب البرکات سے ایسا جملہ ارشاد فرمایا جس پر صبح قیامت تک برکاتی غلام فخر بھی کریں گے اور مطمئن بھی رہیں گے۔ سرکار بغداد نے فرمایا ’’برکت اللہ عبد القادر جب تک تیرے مریدوں کو جنت میں نہ داخل کرادے گا خود جنت میں داخل نہ ہو گا‘‘۔ حضور صاحب البرکات کی عبادت و ریاضت کا عالم نرالا تھا اپ نے سلوک و تصوف کی ان تمام منزلوں کو طے فرمایا جس کے بعد مقام محبوبیت اور تاج ولایت حاصل ہوتا ہے۔ عبادتوں کا یہ عالم تھا کہ تاریخ داں لکھتے ہیں کہ ۲۶؍ سال مسلسل حالت روزہ میں رہے اور کھجور اور قلیل غذا سے افطار فرماتے ہوئے بیشتر وقت یاد الہٰی میں غرق رہتے اور مدتوں رات بھر بیدار اور مشغول عبادت رہے۔تین برس تک غذا ان کی دوفلوس آب برنج رہا،ڈکار اور جمائی حضرت کو کبھی نہیں آئی۔ نہ خندہ و قہقہہ کبھی سرزد ہوا۔ نماز میں ایسا خود کو غرق فرماتے کہ کسی کے حال کی خبر نہ ہوتی۔ درویشی اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ کبھی دنیا اور دنیا داروں کی طرف توجہ نہ فرمائی اور پوری زندگی دین کی تبلیغ اور مخلوق خدا کی رہنمائی میں گزاری۔ آپ کے روحانی کمال اور شخصیت کا یہ شہرہ تھا کہ بڑے بڑے بادشاہوں سے لے کر امیر غریب حاضری دینے کے لیے عرضیاں پیش کرتے تھے ۔ اورنگ زیب سے لے کر محمد شاہ تک سرکار صاحب البرکات کی بارگاہ میں عرضی پیش کرتے لیکن باریابی مشکل ہوتی۔ حضور صاحب البرکات کی بے نیازی اور توکل کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ آپ کے خلیفہ عبد اللہ شاہ صاحب کو بادشاہ محمد شاہ نے ان کی قیام گاہ پر حاضر ہو کر کچھ نذر پیش کردی تھی تو حضور صاحب البرکات نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایاکہ ’’ بادشاہوں سے ملنے والا فقیر کے دروازے پر نہ آئے۔ ہم جانتے ہیں تمہاری خواہش ملاقات کی نہ تھی لیکن اگر بادشاہ کے آنے کی خبر مل گئی تھی تو تمہیں وہ جگہ چھوڑ دینی چاہئے تھی آگے فرمایا فقیر تو تمہارے دلوں کو اللہ کے نام سے روشن کرتا ہے اور تم اپنے دل پر محمد شاہ کا نام لکھتے ہو۔‘‘ یہ صاحب البرکات کے فیضان ہی کا اثر ہے کہ موجودہ دور میں ان کے وارث و جانشین بھی حکومت و ثروت سے خود کو بے نیاز رکھتے ہیں۔ سلسلہ قادریہ برکاتیہ کے تیتیسویں شیخ طریقت، حضور صاحب البرکات نے پوری زندگی مذہب اسلام اور سنت رسول کی خدمت میں گزار دی نہ جانے کتنے ویران دلوں کو آباد کیا۔
          ہزاروں کرامتیں آپ کی ذات والا سے سر زد ہوئیں، ہزاروں لوگ آپ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔امروہا کے مشہور بدکار عامل جو کثیر در کثیر عملیات کرنے کی وجہ سے بہت مضبوط ہو کر لوگوں کو بالخصوص عورتوں کو اسیر بنا لیتا تھا اس کو محصور کرنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے برکات مارہرہ کے مصنف مولانا طفیل احمد متولی لکھتے ہیں: ’ آئین احمدی‘ میں درج ہے کہ’’ جس زمانے میں حضرت پیر برکات قدس روحہ مارہرہ میں تشریف لائے، اس زمانے میں اس جگہ شیخ سدو کی پرستش کا بازار گرام تھا، گھر گھر اس مردود کی کڑھائی ہوتی تھی اور وجہ اس کی یہ تھی کہ مارہرہ میں کمبوہ صاحبان کی آبادی تھی اور ان لوگوں کی زیادہ تر رشتہ داریاں امروہ میں تھیں اور امروہہ اس خبیث شیخ سدو کا دار السلطنت ہے۔ پس امروہہ سے جو خراب ہوا چلنا شروع ہوئی تھی اس کا اثر مارہرہ کی آبادی تک پایا جاتا تھا۔
          جب حضرت صاحب البرکات صاحب مارہرہ وارد ہوئے تو حضرت نے لوگوں سے اس کی کڑھائی کرنے کو منع فرمایا، اس خبیث کو یہ بات نا گوار معلوم ہوئی، تب ایک دن یہ مردود حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ ’’تم نے میرے معتقدین کو مجھ سے برگشتہ کردیا ہے اور میری پرستش کرنے سے ان کو روک دیا ہے اور میری نذر دینے کو تم لوگوں کو منع کرتے ہو، میں کسی نہ کسی دن تم سے اس کا بدلہ لوں گا‘‘ ۔ حضرت قدس سرہٗ نے اس کو للکار بتائی اور فرمایا ’’اے مردود خبیث! توہم سے کیا بدلہ لے سکتا ہے؟ حضرت قدس سرہٗ کا معمول تھا کہ سال میں دو بار اترنجہ کھیڑے پر جاکر اربعین (چلہ) فرمایا کرتے تھے۔
          ایک مرتبہ حضرت قدس سرہٗ حسب معمول اُس کھیڑے پر اربعین (چلہ) میں تھے کہ حاجت غسل کرنے کی پیش آئی۔ حضور دریا کی طرف کو اس کھیڑے سے اتر کر جاتے تھے، اثنائے راہ میں اس خبیث شیخ سدو نامی نے حضرت کو گھیرا اور کہنے لگا ’’آپ نے مجھے بہت تکلیفیں پہنچائی ہیں اور انتہا کی اذیتیں دیں ہیں پس آپ سے بدلہ لینے کا یہ اچھا موقعہ ہے، اس وقت میں آپ کو جلا دوں گا‘‘۔ اس وقت حضرت قدس سرہٗ نے پھر اس کو ڈانٹا اور فرمایا کہ ’’فقیروں سے بہت سا الجھنا ٹھیک نہیں ہوتا، اب تو نہیں مانتا اور ہمارے جلانے کی فکر میں ہے تو خیر تو توجب جلاوے گا جلاوے گا اب ہمارا جلانا بھی دیکھ لے‘‘۔ یہ کہہ کر حضرت نے غسل فرمایا اور پھر میاں شیخ سدو کو بذریعہ مضبوط حصار کے گھیر لیا اور حصار کو تنگ فرماتے فرماتے بالکل اپنے متصل کر لیا اور فرمایا کہ ’’دیکھ اب تجھے آن کی آن میں جلا کر نیست و نابود کرتا ہوں‘‘۔ اس وقت مردود نے کوئی چارہ نہ دیکھا، آخر رونے اور گڑ گڑانے لگا اور حضرت سے عہد کیا کہ ’’آج سے آپ کے خاندانی مریدوں اور متوسلوں کو ہر گز ہر گز نہ ستاؤں گا، بلکہ جہاں کہیں آپ یا آپ کی اولاد کا کوئی صاحبزادہ ہوگا وہاں بھول کر قدم نہ رکھوں گا اور اگر میرے دخل کی جگہ آپ یا آپ کے صاحبزادوں اور متوسلوں اور مریدوں میں سے کوئی صاحب تشریف لے جائیں گے تو میں وہاں سے فوراً علیحدہ ہو جاؤں گا، آپ مجھ کو رہا کردیں‘‘۔ حضرت قدس روحہ نے اس کو اس عہد کے ساتھ چھوڑ دیا۔
          شیخ سدو اس معاہدے پر اب تک قائم ہے اور تجربے کی بات ہے کہ یہ خبیث اس گھرانے کے مریدوں کو کبھی نہیں ستاتا نہ ستا سکتا ہے بلکہ جہاں کہیں یہ خبیث ہوتا ہے وہاں اگر برکاتی خاندان کا کوئی صاحبزادہ یا مرید و متوسل جا پہنچے تو اسی وقت میاں شیخ سدو اس جگہ سے مفرور ہو جاتا ہے، اس کے متعلق مجھے اس موقع پر ایک واقعہ یاد آگیا۔
          برکات مارہرہ کے مصنف حضرت شاہ اسماعیل حسن صاحب سے روایت کرتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ’’ جب میں ایک سال کا بچہ تھا وہ مجھے گود میں لیے ہوئے ایک پٹھان کے گھر میں (جن کی بی بی سے ان عفیفہ سے بہنا پا تھا) چلی گئیں‘‘۔
          خان صاحب کے یہاں اس دن شیخ سدو کی کڑھائی تھی، بکرا ہو چکا تھا، پوریاں ہو رہی تھیں اور یہ مردود شیخ سدو ان پٹھان کے بیٹے کی جوان بہو کے سر پر چڑھا ہوا تھا۔ وہ بیچاری بد حواس بیہوش پڑی تھی، گلا پھولتا چلا آتا تھا۔ جیسے ہی میری کھلائی مجھے گود میں لیے ہوئے اس گھر میں پہنچیں وہ جوان عورت میں ہوش میں آگئی اور گلا بھی حالت اصلی پر آگیا۔ گھر والے کیا چھوٹے کیا بڑے سب کے سب خوش ہو گئے اور کہنے لگے میاں نے کڑھائی قبول کرلی۔ غرض جب تک میں وہاں رہا اس عورت کو کچھ بھی خلش نہ ہوئی۔ جب میری کھلائی مجھے لے کر وہاں سے اٹھ آئیں پھر وہی حالت شروع ہو گئی تب گھر والوں نے میاں سے پوچھا کہ جب آپ کڑھائی قبول کر چکے پھر ستانا کیا؟ جواب دیا کہ اس وقت تک ہمیں نہ تمہاری کڑھائی پہنچی نہ بکرا، بات یہ تھی کہ تمہارے گھر میں پیر برکات صاحب کا پوتہ آگیا تھا اس وجہ سے میں چلا گیا تھا اب دوبارہ کڑھائی اور بکرا دو تب اس لڑکی کو چھوڑوں گا۔ تب مجبوراً ان ناعقلوں نے دوبارہ کڑھائی کر کے نذر نیاز کی اس طرح اس عورت بیچاری کی گلو خلاصی ہوئی۔
          آپ تفسیر، حدیث،فقہ، منطق، تاریخ و شاعری سب میں بے مثال صلاحیتوں کے حامل تھے۔ برج بھاشا کے ایسے بڑے شاعر تھے کہ مشہور ماہر لسانیت (Linguistic) پروفیسر مسعود حسن خاں نے اپنے تاریخ اردو زبان و ادب کے مقدمہ میں لکھا تھا’’بھاشا کی شاعری شاہ برکت اللہ پیمی کی شاعری کے بغیر ادھوری ہے‘‘۔
          صاحب البرکات نے تمام ریاضتوں، عبادتوں اور سلوک و تصوف کی منزلوں کو طے کرنے کے باوجود کتابوں کے مطالعے کا بہت شوق رکھتے اور خود بھی کتابیں تصنیف فرماتے۔ چہار انواع، سوال و جواب، مجمع البرکات، بیاض ظاہر و باطن، رسالہ تکسیر، عوارف ہندی، رسالہ تصوف، وصیت نامہ وغیرہ آپ کی قلمی یادگار ہیں۔
          صاحب البرکات کا شمار اس دور میں برج بھاشا، عربی اور فارسی کے ممتاز شاعروں میں تھا۔ دیوان فارسی، پیم پرکاش، مثنوی ریاض عشق، رقعات صوفیاء آپ کی شعری تصنیفات ہیں۔ صاحب البرکات فارسی اور عربی میں ’’عشقی‘‘ اور ہندی میں ’’پیمی‘‘ تخلص فرماتے۔
          آپ کی شادی سید مودود صاحب کی صاحبزادی سے ہوئی۔ آپ کے دو صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں ہوئیں۔ بڑے صاحب زادے سید شاہ آل محمد اور چھوٹے سید شاہ نجات اللہ رحمۃ اللہ علیہما ہیں۔ دونوں صاحبزے والد ماجد کے وصال کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔ بڑے صاحبزادے کی نسبت سے موجودہ دور میں خانوادہ ’’بڑی سرکار‘‘ سے جانا جاتا ہے اور چھوٹے صاحبزادے کی اولادیں چھوٹے سرکار کے نام سے مشہور ہیں۔
          حضور صاحب البرکات سید شاہ برکت اللہ کا وصال عاشورہ (دسویں محرم) کی رات ۱۱۴۲ھ؁ / ۱۷۲۹ء؁ کو مارہرہ شریف میں ہوا۔
          نواب محمد بنگش خاں والی فرخ آباد حضور صاحب البرکات کے عقیدت مند اور بہت خدمت گزار تھے۔ نواب بنگش خاں ہی فقط ایسے امیر تھے جن کو عقیدت اور انکساری کی وجہ سے حضرت کی بارگاہ میں خدمت گزاری کا موقع حاصل تھا۔ ان کی گذارش پر ’’مصارف مہمانان دربار مارہرہ‘‘ کے نام سے دو جاگیریں تلک پور اور دادن پور صاحب البرکات نے قبول فرمائیں۔ نواب بنگش خاں نے حضور صاحب البرکات کے وصال کے بعد آپ کا روضہ بھی تعمیر کرایا۔
 No automatic alt text available.
          حضور صاحب البرکات علیہ الرحمہ کے بے شمار خلفا تھے جن میں سے چند مشہور خلفا کا نام اور مختصر تعارف یہاں ذکر کیا جارہا ہے۔
          حضرت سید شاہ آل محمد (آپ کے بڑے صاحبزادے) جن کا تذکرہ آگے آرہا ہے۔
شاہ عبداللہ: آپ مارہرہ کے رہنے والے تھے اور ان کا تعلق زبیری خاندان سے تھا۔ ہندی میں شاعری کرتے تھے۔ ۱۱۴۰ھ؁ میں انتقال ہوا۔(۱)
          شاہ مشتاق البرکات: یہ صاحب البرکات کے بہت چہیتے خلیفہ تھے۔ ان کا وصال ۱۱؍ صفر ۱۱۶۷ھ؁ میں ہوا۔ (۲)
          شاہ راجو: یہ بلگرام کے باشندے تھے اور سید عبد الفرح کی اولاد میں تھے۔ ان کا انتقال ۱۱۴۳ھ؁ میں ہوا۔(۳)
          شاہ صادق: یہ قصبہ بھرگون ضلع ایٹہ کے رہنے والے تھے۔ وہیں پر وصال فرمایا۔(۴)
          اس کے علاوہ شاہ میم کشمیری، شاہ من اللہ ، شاہ ہدایت اللہ، شاہ عاجز مارہروی، شاہ عاشق البرکات، شاہ نذر، شاہ صابر، شاہ بو علی، شاہ حمامی، شاہ عین حق، شاہ بے ریا، شاہ روح اللہ قابل ذکر ہیں۔