Instagram

Monday, 12 February 2018

Jamal Nasir Ka Hamdia Majmooe Rabbana Lakal Hamd Me Sanae Wo Badae Ka Ijmali Jaeza

جمالؔ ناصر کے حمدیہ مجموعے’’ربنا لک الحمد‘‘میں صنائع و بدائع کا اجمالی جائزہ
----ڈاکٹر محمد حسین مشاہدرضوی

جمالؔ ناصر کی شاعری کا ایک خاص وصف یہ ہے کہ انھوں نے شاعری میں اپنا پسندیدہ رویہ حمد نگاری کو بنایا ۔ بارگاہِ رب العزت جل جلالہٗ میں نت نئے اندازاور طرزِ ادا کے ساتھ حمد پاک کا نذرانہ پیش کیا ۔ یہاں تک کہ اردو کےتقدیسی شعری سرمائے میں ایک مکمل مجموعۂ حمد ’’ربنا لک الحمد‘‘کا گراں قدر اضافہ کیا جسے شہر عزیز مالیگاؤں میں اولین حمدیہ مجموعے کا اعزاز حاصل ہے ۔’ ربنا لک الحمد‘ یقیناً ہر اعتبار سے لایقِ تحسین کارنامہ ہے۔ اللہ عزو جل کی عظمت و کبریائی ،تسبیح و تمجید، تہلیل و تکبیراور تحمید و تقدیس کا کماحقہٗ حق ادا کرنا کسی بھی انسان کے بس کی بات نہیں ۔ ہاں! اظہارِ بندگی اور سجدۂ نیاز اداکرتے ہوئے شعرااس کی بارگاہ میں عاجزانہ حمدیہ اظہار کرتے ہیں ۔ جمال ؔناصر اس لحاظ سے شہرِ ادب مالیگاؤں میں نمایاں قرار دیےجانے کا مکمل استحقاق اپنے نام محفوظ رکھتے ہیں کہ انھوں نے مثالی انداز میں حمدِ باریِ تعالیٰ کا نذرانہ بارگاہِ صمدیت میں پیش کیا۔ان کی حمدیہ شاعری میں رب کائنات جل جلالہٗ کی تعریف و توصیف اور اپنی عاجزی و انکساری کے جلو میںجس انداز سے فنی محاسن کی جلوہ گری، جذبہ وتخیل کی بلندی ، اور جذبات کی صداقت نظر آتی ہے اس کو دیکھتے ہوئے بے ساختہ سبحان اللہ ! ماشآء اللہ ! کی داد نہاں خانۂ دل سے ابھرتی ہے۔ ان کے یہاں سنجیدگی ہے ، متانت ہے ، کیف ہے ، سوز ہے ، گداز ہے ، ربِ کائنات جل جلالہٗ کی صفات کا نت نئے آہنگ کے ساتھ شاعرانہ اظہار کی چند مثالیں نشانِ خاطر کریں ؂
خلوصِ دل بھی اس کی جستجو میں ہو اگر شامل
جہاں چاہو ، جہاں سوچو ، جہاں دیکھو ، وہاں ہے وہ
اُسی کے حُسنِ تدبر کا فیض ہے ورنہ
نظرنواز نظاروں کی آب و تاب ہے کیا ؟
خدا یوں ہی نہیں کرتا کسی کومبتلاے غم
مکافاتِ عمل ہے سر بسر ، آفات کا ہونا
تری یادوں میں کھو کر آدمی محفوظ رہتا ہے
قلق سے ، رنج سے ، آزار سے ، غم سے ، تفکر سے
ہاں ترے دیدار کو چشمِ بصیرت بھی تو ہو
واقعہ یہ ہے کہ ہر شَے سے ترا اظہار ہے
’’اردو کی حمدیہ شاعری میں صنائع و بدائع‘‘عنوان کے تحت ایک تحقیقی مقالہ قلم بند کرنے کے دوران راقم کو جمالؔ ناصر کے حمدیہ مجموعے ’’ربنالک الحمد‘کوبالاستیعاب پڑھنے کا موقع ملا ۔ جمالؔ ناصر نے اپنی حمدیہ شاعری میں جس احسن انداز سے صنائع کے نجوم درخشاں کیے ہیں اور بدائع کے مہر و مہ جگمگائے ہیں ان سے ان کے شعری و فنی محاسن پر گہری گرفت کا اندازہ ہوتا ہے ۔
صنائع و بدائع شاعری کے حُسن و زیور ہیں۔ اس سے کلام میں حُسن اور لطف کی کیفیت میں اضافہ ہوتاہے۔ لہٰذا اس کو لوازم ِ شاعری میں شمار کیا جا تا ہے ۔ البتّہ صنائع وبدائع کا استعمال بڑی سلیقہ مندی کامتقاضی ہے ۔ حدِ اعتدال سے زیادہ اس کا استعمال کلام میں حُسن و خوبی کے بجاے بے کیفی اور عیب جوئی کی کیفیت پید ا کردیتاہے۔
اردوٗ کے شعرا نے جہاں ایک طرف شاعری سے اپنی شناخت قائم کی وہیں دوسری طرف انھوں نے اردوٗ شاعری کو وہ بلندیاں اور رفعتیں بخشی ہیں کہ جن کی وجہ سے آج اردوٗ ہر لحاظ سے ایک مکمل اور پُختہ زبان ہونے کا فخر حاصل کر چکی ہے۔شاعری ایک تخلیقی فن ہے۔ادبی صنعتیں اس میں حُسن پیدا کرتی ہیں ۔اس لیے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اردوٗ زبان کی جملہ صفات میں ایک اہم اور نمایاں خوبی اس کی ’’صنعتی شاعری‘‘ ہے ۔اردو میں یہ فنّی حُسن دوسری اصناف کی طرح عربی و فارسی زبانوں سے آئی ہے۔
اصنافِ غزل و قصیدے میں صنائع وبدائع کے استعمال کی بڑی گنجایش ہے کیوں کہ اس میدان میں مبالغہ اور غلو پر کوئی پابندی یا قدغن نہیں ہے۔ لہٰذا شعرا صنائع وبدائع کے استعمال کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ غزل اور قصیدہ میں صنائع بدائع کا استعمال آسان ہے ۔ جب کہ حمد و نعت کے تنگناے میں اس کا استعمال بے حد دشواراور مشکل ترین امرہے ۔ اس لیے کہ یہاں غلو اور مبالغہ کا ہر گز گذر نہیں ۔ البتہ حمدمیں صنعتِ تلمیح، صنعتِ تلمیع، لف و نشر مرتب وغیرمرتب ، مراعاۃ النظیر، صنعتِ اقتباس ( قرآن و حدیث کے حوالے یا اشارے وغیرہ) خا ص طور سے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ لیکن ان کے استعمال کے لیے بھی شعری تجربہ اور سلیقہ درکار ہے۔
صنعتوںسے کلام میں حسن ظاہری کے ساتھ معنوی وسعت بھی آشکارا ہوتی ہے۔پھر یہ کہ حمدیہ شاعری میں شاعر کے داخلی کیف و سرور کا بھی پتا ملتا ہے۔اپنے مالکِ حقیقی کے ساتھ اس کا تعلقِ خاطراسے منفرد حمدیہ شاعری پر اکساتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ صنائع وبدائع کا استعمال ، کلام کی فطری جلوہ سامانیوں کا مرقع بن کر جلوہ گر ہوتا ہے۔اس سے یہ اندازہ لگانا مستبعد نہیں کہ حمدیہ شاعری کا دامن بھی فنی کمالات اور انفرادی خصوصیات سے مالامال ہے۔قدیم اردو کے حمد نگار شعرا نے صنعتوں کا خاص التزام کر کے اپنے حمدیہ اشعار کو خوبصورت پیکر عطا کیے ہیں، بعض ایسے شعرا بھی پائے جاتے ہیں جن کے یہاں صنعتوں کا استعمال تو ہوا ہے لیکن ان میں آمد ہی آمد ہے آورد کا نام و نشان نہیں ملتا۔ فرط عقیدت میں شاعر نے ایک شعر کہہ دیا لیکن جب اس میں شعر ی حسن تلاش کیا گیا تو صنعات لفظی و معنوی سے وہ معمور نظر آیا۔جمال ناصر کی حمدیہ شاعری میں بڑی خوب صورتی اور فن کارانہ چابکدستی سےصنائع معنوی اور لفظی دونوں کا استعمال کیا گیا ہے ۔ جس کاسرسری جائزہ پیش خدمت ہے :
صنائع معنوی
تعریف :ظاہری طور پر معنویت پر منحصر صنعتوں کو صنائعِ معنوی کہتے ہیں، شعرا جب مختلف الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے کلام میں رنگارنگ معنویت کو پیدا کرتے ہیں تو اُسے صنائع معنوی کہتے ہیں ،لیکن الفاظ کے بغیر معنوی صنعت کا وجود ممکن نہیں۔ ایہام، مبالغہ ، مراعاۃ النظیر، تضاد، تنسیق الصفات، لف و نشر مرتب و غیر مرتب، تلمیح ، حُسنِ تعلیل اور ہجو وغیرہ معروف صنائعِ معنوی ہیں ۔
(۱) مراعاۃ النظیر:
تعریف :جب شاعر کسی شعر یا کلام میں ایک لفظ کی رعایت سے اس کے مترادف الفاظ کا استعمال کرتا ہے تو اسے مراعاۃ النظیر کہتے ہیں۔ مثلاً : برسات کا ذکر اس طرح کیا جائے کہ بارش ، بادل، گرج، چمک، بجلی وغیرہ کا ذکر بھی ہو۔ یاچمن کا ذکر اس طرح ہو کہ پھول، پتی، شاخ ، خوشبو، وغیرہ کا بیان ہو، ہر صنفِ شاعری میں یہ صنعت عام طور سے استعمال کی جاتی ہے اس سے کلام میں حُسن پیدا ہوجاتا ہے ، جمالؔ ناصر مالیگ کے مجموعۂ حمد ’’ربنا لک الحمد ‘‘سے مراعاۃ النظیر کی چند دل کش مثالیں نشانِ خاطر کریں ؂
سرد ہو یا گرم ہو ، مرطوب ہو یا معتدل
کس سے ہو تبدیلیِ آب و ہوا تیرے سوا
( سرد، گرم ،مرطوب، معتدل ،آب و ہوا میں رعایت لفظی ہے)
------------
گل زار و دشت ، کوہ و دمن ، نخل و ریگ زار
بحرِ عمیق اور کنارے خدا ہے ہیں
(گل زار ، دشت ، کوہ ، دمن ، نخل ، ریگ زار میں رعایت لفظی ہے)
------------
ہر پھول، کلی ، برگ ، شجر ،خارِ مغیلاں
گھنگھور گھٹا ، مست ہوا تجھ کو پکارے
( پھول ، کلی، برگ شجر ، خارِ مغیلاں میں رعایت لفظی ہے)
------------
شجر اُس کے ، ثمر اُس کے ، اُسی کے لالہ و گل
وہی باغِ جہاں کی باغبانی کررہا ہے
( شجر ، ثمر ، لالہ و گل میں رعایت لفظی ہے)
------------
(۲) تضاد:
تعریف:جب شاعر کسی شعر یا کلام میں دو ایسے الفاظ کا استعمال کرتا ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہوں تو اسے صنعتِ تضاد کہتے ہیں ۔ اس صنعت کو تکافو ، طباق اور مطابقت بھی کہتے ہیں۔ یہ صنعت بھی حمدیہ شاعری میں بہ کثرت استعما ل ہو ئی ہے ،جمالؔ ناصر کے یہاں بھی اس کے بڑے خوب صورت نمونے ملتے ہیں ، ذیل کا شعر دیکھیں اس میں حق و باطل اور ظفر مندی کے ساتھ ذلت کا استعمال بڑی عمدگی سے کیا گیا ہے ؎
براے ’حق‘ ہمیشہ کے لیے رکھ دی’ ظفر مندی ‘
رہا ’باطل ‘تو اس کے واسطے ’ذلت‘ عطا کی ہے
( حق و باطل /ظفر مندی و ذلت)
------------
جمالؔ ناصر کا مرقومہ تضاد کا یہ شہ پارہ بھی دیکھیں ، کیا خوب ہے ؂
’ظاہر‘و’باطن‘سے ہر بندے کے ہے تو باخبر
کیا عمل ’خلوت ‘ میں ہے اور کیا عمل ’جلوت‘ میں ہے
(ظاہر و باطن / خلوت جلوت)
------------
’سرد‘ ہو یا ’گرم‘ ہو ، مرطوب ہو یا معتدل
کس سے ہو تبدیلیِ آب و ہوا تیرے سوا
( سردو گرم )
------------
’روز و شب‘ ،’ شام و سحر‘، موسم ، ہوائیں ، برگ و گُل
ہر قدم پر مظہرِ حق ، صورتیں ہیں بے شمار
( روز و شب / شام و سحر)
------------
جمالِ بے بصر کو اے خدا اتنی بصارت دے
کہ اُس کو امتیازِ ’خیر و شر‘ فوراً نظر آئے
( خیر و شر)
------------
(۳) تنسیق الصفات:
تعریف : جب شاعر کسی شعر یاکلام میںکسی کا ذکر صفاتِ متواتر سے کرے تواسے صنعتِ تنسیق الصفات اور تواترکہتے ہیں ۔ اس صنعت پر مشتمل جمالؔ |ناصر کے دو حمدیہ شعر خاطر نشین کریں ؎
کریم ہے تو ، رحیم ہے تو ، علیم ہے تو ،عظیم ہے تو
جمالؔ کا یہ سخن ہے تیری ہی رفعتوں کا بیان والا
------------
تو ناصر بھی ، تو یاور بھی ، تو مونس بھی ، تو مشفق بھی
جب کوئی ہمارا ہو نہ سکے ، اک تو ہی ہمارا ہوتا ہے
------------

No automatic alt text available.
صنائعِ لفظی
تعریف:وہ صنعتیں جن میں منفرد الفاظ کاہنر مندی سے استعمال کیا جائے صنائعِ لفظی کہلاتی ہیں ۔ تجانیس، ایک یا زائد لفظوں کا استعمال ، سجع ، تلمیع، اقتباس، ردالعجز، مسمط ، تاریخ گوئی، نقطوں یابغیر نقطوں کی صنعت اور معمّا وغیرہ معروف صنائعِ لفظی ہیں ۔
(۱) صنعتِ تجنیس:
تعریف:جب شاعر کسی شعر یا کلام میں ایسے دولفظوں کا استعمال کر ے جو تلفظ میں یک ساں اور معنی کے اعتبار سے مختلف ہوں تو اسے صنعتِ تجنیس کہتے ہیں ۔صنائعِ لفظی میںصنعتِ تجنیس کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ صنعتِ تجنیس کی متعدد قسمیں ہیں لیکن ان میں ’’تجنیسِ تام‘‘سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
(الف) تجنیس تام کی مثالیں:
تعریف: جب شاعر کسی شعر میں دوایسے ا لفاظ استعمال کرتا ہے ۔ جو لکھنے پڑھنے اور بولنے میں ایک جیسے ہوں لیکن ان کے معنی جدا جدا ہوں تو اسے صنعتِ تجنیسِ تام کہتے ہیں ، جمالؔ ناصر کی حمدیہ شاعری سے تجنیسِ تام کی دو خوب صورت مثالیں نشانِ خاطر ہوں ؎
اس چشم پر ’جمالؔ‘ تصدق ہزار بار
جس چشم پر ’جمالِ‘ خدا آشکار ہو
------------
خدا کی راہ پر چل کر ہی ’ منزل‘ پائیں گے ورنہ
عبث گم کردۂ ’منزل‘ ہمارا قافلہ ہوگا
جمال ؔ ناصر کے ان اشعارمیں پہلے شعر کے مصرعِ اولیٰ کے’جمالؔ‘کا استعمال بہ طورِ تخلص ہواہے جب کہ دوسرے ’جمال‘کا معنی جلوہ یا تجلی ہے۔ دوسرے شعر میں ایک منزل کا معنی’ مقام ‘اور دوسری منزل کا معنی ’راستہ ‘ ہے۔
------------
(ب) تجنیس مضارع :
تعریف: جب شاعر کسی شعر میں دوایسے الفاظ کااستعمال کرتا ہے جو تلفظ میں یکساں ہوں لیکن بعض حروف مختلف اور قریب المخرج ہوں تو اسے صنعتِ تجنیسِ مضارع کہتے ہیں ، جمالؔ ناصر کا ایک شعر ؎
تجھ پہ ہے موقوف ’عشرت ‘ اور’عُسرت‘ کی عطا
تجھ پہ ہی موقوف ہے دارو مدارِ زندگی
(’عشرت‘ اورعُسرت‘ کےدوسرے حروف مختلف لیکن قریب المخرج ہیں، یہ شعر تکرار مع الوسائط کی بھی عمدہ مثال ہے ، ’’عشرت اور عسرت‘‘میں تکرار مع الوسائط ہے)
------------
(ج) تجنیس مذیّل:
تعریف:جب شاعر کسی شعر میں دو ایسے الفاظ کا استعمال کرے جن میںسے ایک میں دوحرف زائد ہوں تو اسے صنعتِ تجنیسِ مذیّل کہتے ہیں ۔
مالیگاؤں کے اولین حمدیہ مجموعے ’’ربنا لک الحمد ‘‘از: جمالؔ ناصر سے تجنیسِ مذیّل کی مثالیں ؎
’کبر ‘ذاتِ ’کبریا ‘کو زیب دیتا ہے فقط
وہ معاذ اللہ ! کیوں انسان کے اندر رہے
(’کبر‘اور’کبریا‘میں تجنیس مذیل ہے)
------------
افکارِ صالحہ کو پھر سے عروج دیدے
اِس دورِ ’بے حیا‘ میں پھیلے ’حیا‘ کے خوشبو
(’بے حیا‘اور’حیا‘میں تجنیس مذیل ہے)
------------
(د) تجنیسقلبِ بعض:
تعریف: جب شاعر کسی شعر میں دو ایسے الفاظ کا استعمال کرتا ہے جن میں الفاظ کے بعض اجزا کی تقلیب ہوتی ہے اور ایک سے دوسرے کے معنی حاصل ہوتے ہیں تو اسے صنعتِ تجنیسِ قلبِ بعض کہتے ہیں بہ طورِ مثال جمالؔ ناصر مالیگ کا ایک شعر ؂
ہے ذات تری ’کامل‘ و ’اکمل‘ یارب
سارے ہی کمالات سے تُو واقف ہے
(’’کامل‘‘اور ’’اکمل‘‘ میں تجنیس قلب ِ بعض ہے)
------------
(۲) مسمّط:
تعریف : جب شاعر کسی شعر میںاصل قافیےکے علاوہ تین مسجع یا ہم وزن فقرے یا قافیے مزید نظم کرے تو اسے صنعتِ مُسمّط کہتے ہیں۔جمالِ ناصر مالیگانوی کے مجموعۂ حمد’’ ربنالک الحمد ‘‘سے مسمط کی مثالیںخاطر نشین ہوں ؎
ترا ہر کام ہے کتنا منظم ، رواں ہے کاروبارِ پیہم
زمیں تا عرش موجوداتِ عالم ، ہیں سب تیری شہادت دینے والے
کروںدن رات میں تیری اطاعت ، ترے محبوب کی ہو دل میں الفت
عنایت کردے پاے استقامت ، مجھے راہِ شریعت دینے والے
کبھی ملتا نہیں ساحل کسی کو ، عطا کردی کبھی منزل کسی کو
رعایا میں کیا شامل کسی کو ، کسی کو بادشاہت دینے والے
تری حکمت تو ہی سمجھے ہے بہتر ، کوئی مفلوک کوئی صاحبِ زر
زمیں کو پستیاں دی ہیں سراسر ، فلک کو اوج و رفعت دینے والے
------------
(۳) تکرار یا تکریر:
تعریف: جب شاعر کسی شعر میں ایک ہی لفظ یا ترکیب یا مصرعے کی باربار تکرار کرے ، اس کو صنعتِ تکرار یاتکریر بھی کہتے ہیں ، اس کی کئی قسمیں ہیں۔
(الف) تکریرِ مطلق:
تعریف: جب شاعرکسی شعر میں ایک ہی لفظ مکرر لائے خواہ دونوں مصرعوں کے شروع میں یا درمیان میں ،جمال ناصر کے کلام سے تکریرِ مطلق کی خاطر نشین کریں ؂
تیر ا ہی یہ وصف کہ تُو ہے حاضر بھی اور ناظر بھی
’بستی بستی‘ ، ’کوچہ کوچہ‘ ، ’گھر گھر‘ تُو ہے اے مولا
------------
(ب) تکریر مع الوسائط:
تعریف: جب شاعر کسی شعر میں دو لفظِ مکرر کے درمیان کوئی لفظ بہ طور واسطہ استعما ل کرے، خواہ وہ لفظِ مکرر شعر کے دونوں مصرعوں میں ہوں یا ایک ہی میں، اس کو صنعتِ تکریر مع الوسائط کہتے ہیں۔ ربنا لک الحمد سے ایک بہترین مثال ؂
’لب بہ لب‘ پاک نام اُس کا
تذکرہ صبح و شام اُس کا
جمال ناصر کے حمدیہ مجموعے ’’ربنا لک الحمد ‘‘کے سرسری مطالعہ سے صنائع معنوی و لفظی کی درج بالا مثالیں خوان مطالعہ پر سجائی گئی ہیں ۔ اگر اس دل کش حمدیہ مجموعے کا بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے تو مزید مثالیں بھی اخذ کی جاسکتی ہیں۔
محمد حسین مشاہدرضوی
6؍ نومبر 2016ء ، بروز اتوار
----------------------------


..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg