Instagram

Tuesday, 23 October 2012

شام کی ٹہنی کا پھول سلطان سبحانی کا افسانوی مجموعہ



شام کی ٹہنی کا پھول
سلطان سبحانی کا افسانوی مجموعہ

تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد حسین مشاہد رضوی

       سلطان سبحانی کا افسانوی مجموعہ ’’شام کی ٹہنی کا پھول‘‘ اس وقت میرے مطالعہ کے میز کی زینت بنا ہوا ہے۔ کتاب کے انتساب ’’سچ تیرے نام‘‘ سے آپ کاوالہانہ خلوص اور فکری پاکیزگی مترشح ہوتی ہے۔ اس پُر آشوب عہد میں جب کہ ہر محاذ پر نو بہ نو انداز میں سچ کا گلا گھونٹنے کی آتش انگیز کوششیں عروج پر ہیں۔ ایسے عالم میں سچائی کا اظہار وابلاغ بڑا کٹھن مرحلہ ہے ۔ سلطان سبحانی نے اپنے افسانوں کے ذریعہ سچ کو عام کرنے کی کام یاب کوشش کی ہے۔جس کانظارا ’’شام کی ٹہنی کا پھول‘‘ کی مختلف کہانیوں میں کیا جاسکتا ہے۔
       آج کے اس مخربِ اَخلاق دور میں ادب کو محض تفریحِ طبع اور جنسی تلذّذ کا ذریعہ بنایا جارہا ہے اور بد قسمتی سے ہمارے بعض شعرا و ادبااِس رَو میں بے محابابہتے چلے جارہے ہیں۔جاننا چاہیے کہ بے مقصد اور خالص تفریحی ادب نہ تو کل مفید تھا نہ اب ہے اور نہ آیندہ اس سے کچھ فوائد و ثمرات کے حصول کی توقع ہے۔ ادب کا مقصد محض حِظ اُٹھانا ہی نہیں بل کہ اس کے وسیلے سے سماج کی اصلاح اور انسان کو انسان بناناہے۔ اس لیے ہمارے شاعروں اور ادیبوں کے لیے ضروری ہوجاتاہے کہ وہ اپنے منصب کو پہچانتے ہوئے اپنی فکر و نظر کو اچھے ادب کی طرف مہمیز دیں ۔
       اس تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ سلطان سبحانی اپنے افسانوں اور کہانیوں کے ذریعہ اچھا ادب پیش کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے یہاں مقصدیت پائی جاتی ہے۔ سلطان سبحانی جیسے حسّاس فن کا ر کے موے قلم سے نکلی ہوئی کہانیوں کی زیریں رَو میں انسانی رشتوں کا احترام و تقدس، غور و فکر کی دعوت، معاشرتی اصلاح اور جھوٹ کے خلاف سچائی کے مردانہ وار اظہار جیسے قابلِ تحسین عناصر پیوست ہیں۔
       سلطان سبحانی اپنے افسانوں کے ذریعہ اصلاحِ معاشرہ کاکام بڑے احسن انداز میں کرتے ہیں ۔’’ بڑھیا کہہ رہی ہے …‘‘ افسانے میں آپ نے انسانوں کے مروجہ نظام اور سماجی زندگی کی بعض اُن تلخ اور سفاک حقیقتوں کو واشگاف کیا ہے جن میں آج کا سماج بُری طرح جکڑا ہوا ہے۔ ان برائیوں سے سماج کو پاک کرنا ہر اچھے اور قابل فن کار اور انسان کے لیے ضروری ہے۔ سلطان سبحانی کو اپنے اس منصب کا بہ خوبی عرفان ہے کہ انھیں اپنی کہانیوںکے ذریعہ تفریح کے ساتھ اصلاح کا کام بھی لینا ہے۔
       ’’شام کی ٹہنی کا پھول‘‘ افسانہ میں آپ کی یہ سطریں: ’’ وظائف کی بجاے میں تمہیں ایک دوسرا راستہ بتاتاہوں جو عمل کا ہے۔ تم خدا پر پورا بھروسہ رکھو، رزقِ حلال کھاؤ اور سچ بولو۔ تمہاری زندگی تبدیل ہوجائے گی ۔‘‘ … اور … ’’ سچ پر تمہاری گرفت ابھی ڈھیلی ہے ، سچ کی روشنی سے اپنا ہر لمحہ جگمگادو ، اس کے بعد تمہیں خدا کا کرشمہ نظر آئے گا۔‘‘ … اس بات کا واضح اشاریہ ہیں کہ سلطان سبحانی اپنی کہانیوں کے وسیلے سے ایک ایسے صالح معاشرے کی تشکیل کے لیے فکر مند ہیں جس میں رزقِ حلال اور سچائی کا بول بالا ہو۔ اس مجموعہ میں شامل ’’ گرتا ہوا مکان، کاشانۂ خلیل ، پوسٹ مین شیخ اور بچّوں کا مذہب‘‘آپ کے شاہ کار افسانے ہیں ۔ ان میں ’’پوسٹ مین شیخ ‘‘نامی افسانہ گیارہویں جماعت (مہاراشٹر ) کی درسی کتاب کے سرسری مطالعہ میں ’’ایک عام آدمی‘‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ ویسے ’’گرتا ہو ا مکان‘‘نے مجھے کافی متاثر کیا، خصوصاً کہانی کا اختتام کہ  :
        ’’ زندگی ایک عجیب طلسم ہے … آج ڈاکٹر نے کہہ دیا ہے۔ میں تیزی سے رو بہ صحت ہورہا ہوں اور خطرے سے باہر ہو چکا ہوں ۔اس کا مطلب یہ ہے … کہ ان لوگوں کی بے وفائیوں اور سفاکیوں نے میرے اندر ایک ایسا شعلۂ احتساب بھڑکا دیا ہے جس نے مجھے رخصت ہونے سے روک دیا ہے … ایسا لگتا ہے کہ ابھی میرے کچھ فرائض باقی ہیں ۔ جن بیٹوں نے میرا سینہ چھلنی کیا ہے وہ خود زخموں سے کراہ رہے ہیں ۔ مجھے اب ان کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے کیوں کہ میں ایک باپ ہوں… اور مجھے ثابت کرنا ہے کہ کوئی باپ گرتا ہوا مکان نہیں ہوتا بل کہ ہر مکان کا سنگِ بنیاد ہوتا ہے۔ ‘‘
       سلطان سبحانی صاحب کا یہ مجموعہ زبان و بیان اور اسلوب کے اعتبار سے بھی بہت بلند ہے۔ آپ کی نثر میں جو چمک دمک ،شاعرانہ رنگ و آہنگ ، تصویریت اور پیکریت کے جِلو میں استعارہ سازی اور تراکیب کی دل کش جھلکیاں ہیں وہ آپ کے افسانوں کو تاثیر کی جوہر سے آراستہ و مزین کرتی ہیں ۔ یہ ترکیبیں تو بڑی متاثر کن ہیں۔ ’’جلوۂ نمود ، طرۂ پیچاک، مرقعِ سوچ، طلسمِ احساس ، آتش انگیز فکر کا حصار، نقارۂ نقب زن، مہتاب کشش دریا ، شعلۂ احتساب‘‘ وغیرہ
       آپ کی دوسری تصانیف کی طرح’’شام کی ٹہنی کاپھول‘‘ بھی آپ کے ایک باشعور ، مخلص اور اپنے عصر کے دکھوں کے علاج سے باخبر فن کار کا بیّن اظہاریہ ہے ۔ جو آپ کو ادبی دنیا میں زندہ و پایندہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔
                     09/10/2011
ڈاکٹر محمدحسین مُشاہدؔ رضوی
Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi
Writer, Poet, Research Scholar, Author.