Instagram

Wednesday, 24 October 2012

Jamaliyat K Naaqid Shakeelur Rahman Baba Sai



جمالیات کے معتبر ناقد
پروفیسرشکیل الرحمان باباسائیںکا اجمالی تعارف
٭ ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی
          صانعِ کائنات جل شانہٗ کی تخلیق کردہ حسین و جمیل اور خوب صورت چیزوں کو دیکھ کر خوشی و مسرت اور زندگی میں حسن و جمال کی اہمیت و افادیت کا علم یا فلسفہ جمالیات کہلاتاہے ۔ جس پر مشرق و مغرب کے قدیم و جدید فلاسفہ نے اپنے گراں قدر اور گوناگوں خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستانی جمالیات کا سر اغ سنسکرت ادب کے رس، النکار اور دُھونی کے اصولو ں سے لگایا جاسکتا ہے۔ حظ و طمانیت ، مسرت و انبساط، اور رس اور آنند کی اصطلاحات جمالیات میں بنیادی اور مقصدی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ایک جمالیات پسند یا جمالیات کا دل دادہ اپنی یا کسی اور کی کاوشات میں صرف وہ عناصر تلاش کرتا ہے جن سے حظ و طمانیت حاصل ہو۔ جمالیات پسندی فن براے فن جیسے تصورات کی بنیاد بھی ہے۔ بقول سلیم شہزاد: ’’ اسے کلاسیکیت، مادیت اور جبریت کے خلاف ردِ عمل کہا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں رومانیت ، روحانیت اور آزادہ روی کا فن تخلیق پاتا ہے۔‘‘ (فرہنگِ ادبیات)
       جمالیات یا جمالیات پسندی کے زیرِ اثر ادبی اور فنی کاوشات کو مسرت و انبساط کے حصول کے مقصد کے تحت جانچنے، پرکھنے اور فن کار کی کاوشات کی جمالیاتی قدر و قیمت متعین کرنے کا نظریہ مغرب و مشرق میں رائج ہوا جسے جمالیاتی تنقید کانام دیا گیا۔ جمالیاتی تنقید بنیادی طور پر ادب میں لفظی و معنوی موسیقت اور نغمگی، طرزِ اظہار میں نظم و ترتیب، داخلی اور خارجی آہنگ اور نظم یا افسانے وغیرہ سے مسرت و انبساط کے حصول کو پیشِ نظر رکھتی ہے ۔ ادب میں بیان کیے گئے جملہ حقائق کو وہ فن تصور کرتے ہوئے اس کے ذریعہ سے جمالیاتی کیف و سرور کا اکتساب فن کا مقصد قرار دیتی ہے۔ جدید تنقید جمالیاتی خطوط پر ہی رواں دواں ہے۔ نفسیات ، بشریات اور لسانیات وغیرہ علوم و فنون کی مدد سے جمالیاتی تنقید نے فرد یا فن کار کے لاشعور اوراجتماعی لاشعور سے اس کے تعلق کودریافت کیا ہے۔ اردو میں اس قسم کی تنقید محمد حسین آزادؔ، شبلی نعمانی، امداد امام اثرؔ، مرزا رسواؔ، نیازؔ فتح پوری، مہدیؔ افادی، وحیدالدین سلیمؔ، سجادحیدر یلدرم، جوشؔ، فراقؔ، آل احمد سرورؔ، کلیم الدین احمد، محمد حسن عسکری، سلیم احمد، وزیر آغا، شمس الرحمان فاروقی ، کرامت علی کرامت اور پروفیسر شکیل الرحمن بابا سائیں وغیرہ کے یہاں دیکھی جاسکتی ہے ۔ ان ناقدین میں کسی نے اپنا مرکز و محور رومانیت تو کسی نے روحانیت ،کسی نے آزادہ روی کوبنایا اور بعض نے ان تمام کو مسرت و انبساط کے حصول کا ذریعہ تصور کیا۔
       پروفیسر شکیل الرحمان باباسائیں اردو میں جمالیاتی تنقید کی ایک ہشت پہلو معتبر اورکرشماتی شخصیت کا نام ہے ۔آپ کی ولادت ۱۸؍فروری ۱۹۳۱ء کو موتیہاری، چمپارن ، بہار میں ہوئی ۔ اعلا تعلیم و تربیت کے حصول کے بعد ترقی کے منازل طَے کرتے ہوئے کشمیر یونی ورسٹی کے صدر شعبۂ اردو، ڈین فیکلٹی آف آرٹس، چیرمن سینٹرل ایشین اسٹڈیز،اور یہیں وائس چانسلر کے عہدے پر فائز کیے گئے۔ بعد ازاں بہار یونی ورسٹی اور این آئی متھلا یونی ورسٹی میں بالترتیب وائس چانسلر بنائے گئے ، اندرا کانگریس سے منسلک ہوکر عملی سیاست میں بھی پنجہ آزمائی کی اور دربھنگہ بہار سے لوک سبھاکی رکنیت پاکر مرکزی وزیر براے صحت و خان دانی فلاح و بہبود ، اور چیرمن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ پارلمینٹ آف انڈیا بنائے گئے ۔
       پروفیسر شکیل الرحمان کے اس اجمالی تعارف کے بعد قارئین بہ خوبی سمجھ سکتے ہیں کہ موصوف کی زندگی کس قدر مصروف ترین ہوگی۔ لیکن ہمیں اس وقت حیرت و استعجاب میں مبتلا ہونا پڑجاتا ہے جب ان کے ذریعہ لکھی گئی کتابوں کی فہرست پر ہماری نظر پڑتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ضرور کوئی جن ان کے قبضے میں ہے ۔ اور پھر شکیل الرحمان پر جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں ان کودیکھ کر بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جاتا ہے۔ جمالیات کے معتبر ناقد شکیل الرحمان کی نثر کی بھی تعریف ہوئی ہے ۔ادب میں تخلیقی تنقید کا نعر ہ انھوں نے ہی بلند کیا تھا، ناقد کے بارے میں آپ کا کہنا ہے کہ ’’ ادب کا ناقد حکیم کی طرح نسخے نہیں لکھاکرتا بل کہ حسن وجمال کو محسوس بناتا اور حسن کو دیکھنے کا ایک وژن دیتاہے۔‘‘(شکیل الرحمان کی ڈائری)
       شکیل الرحمان محقق، ناقد، ڈرامہ نگار، کالم نویس، فکشن رائٹر اور ناول نگار سبھی کچھ ہیں جمالیات آپ کا انفرادی اور مستقل موضوع ہے اور اس میں آپ نے رومانیت اورآزادہ روی کی بجاے روحانیت، عرفانیت ، اثباتیت اور تزکیہ و طہارت کے پہلو کو مقدم رکھالیکن کہیں کہیں رومانیت کا ہلکا سا آہنگ بھی آپ کے یہاں مل جاتا ہے جسے آپ کی کتاب ’’منٹو شناسی ‘‘میں دیکھا جاسکتا ہے۔ آپ نے فن کاروں کی کاوشات سے انسانیت کا درس دینے کی سعیِ بلیغ کی ہے ۔تصوف و معرفت سے آپ کی والہانہ وارفتگی اور جذباتی ہم آہنگی کو دیکھتے ہوئے لوگ اُنھیں پیار سے’’ باباسائیں‘‘ کہا کرتے ہیں ۔ فراق گورکھپوری نے آپ کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’شکیل الرحمان ایک نمک حلال نقاد ہیں ۔ ‘‘ اُنھوں نے اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر جب لکھنے کا آغاز کیا تو صر ف تین برس کی قلیل مدت میں معتبر ناقدین کی صف میں اپنی جگہ بنالی ۔ ابتدامیںمارکس ازم کا عمیق مطالعہ کیااور مارکسی تنقید سے متاثر ہوئے اور پھر اسی تنقید کے لیے فرائیڈ ازم، تحلیل نفسی اور ژونگ کے اجتماعی شعورکے نظریے کو پیشِ نگاہ رکھتے ہوئے اردو میں سچی نفسیاتی تنقید کی بنیاد ڈالی۔ لیکن جب اسلام اور تصوف کا گہرا مطالعہ کیا تو مارکسی نظریات تاروپود کی طرح بکھر کر رہ گئے تزکیۂ نفس اور طہارتِ قلبی کے آفاقی نظریات جو کہ تصوف کی دین ہیں اس کی روشنی حاصل کرکے اپنی فکر ونظر کو جمالیات کے لیے وقف کردیااور آج جمالیاتی تنقید ہی ان کے لیے سب کچھ ہے اور اس میں بھی آپ کا آہنگ تصوف کی خوشبووں کا متلاشی بن کر لوگوں کوحقیقی جمالیاتی انبساط اورحقیقی حظ و طمانیت سے ہم کنار کرنے کے لیے کوشاں ہے موصوف کے بہ قول  :
       ’’تصوف اردو شاعری کی ایک بڑی روایت ہے ۔ اس روایت کی جڑیں برصغیر کی مٹی میں بھی پیوست رہیں اور عجمی روایات کے ساتھ بھی اس روایت کا ایک بڑا سفر رہا، اردو میں تصوف کا ذکر جب بھی آیا نظریۂ وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود وغیرہ پر اظہارِخیال کرکے بات ختم کردی گئی میر دردہی تصوف کے بڑے شاعر کی حیثیت سے ابھرے ، ذائقہ بدلنے کے لیے جن شعرا نے وحدۃ الوجود کی روشنی لی انھیں صوفیت سے قریب دیکھا گیا، ہم نے یہ نہیںدیکھا کہ تصوف کی جڑیں کتنی مضبوط اور مستحکم ہیں ۔ تصوف نے شعر ی تجربوں کی روایات میں سب سے قیمتی روایت بن کر تجربوں کو متحرک کیا اور ان میں معنویت پیدا کی میری کتاب ’’ تصوف کی جمالیات‘‘ میں اس کی قد و قیمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔انگریزی شاعری اس سے متاثر ہوئی ہے مولاناے روم اور حافظ کی شاعری کے اثرات ہوئے ہیں، اس پر بھی میرا ایک مقالہ اس میں شامل ہے۔ یہ بڑی ہمہ گیر روایت ہے جسے ہم تصوف کی روایت کہتے ہیں ۔ ہندوستان میں کبیر، جائسی، میرا بائی، بلھے شاہ، للہ عارفہ، شیخ نورالدین ،… اس روایت کی روشنی اور اس کی خوشبو کا ایک بہت بڑا سلسلہ ہے۔ اس کی جمالیات زیادہ اہمیت رکھتی ہے جس کا آہنگ حقیقی آسودگی رکھتا ہے۔ خسرو، بیدل، غالب، اقبال، سب تصوف کی جمالیات سے متاثر ہیں ، تصوف کی جمالیات نے ہی ان کی شاعری کو وقار بخشا ہے ۔‘‘(باباسائیں سے مصاحبہ، مشمولہ: ماہ نامہ شاعر ، ممبئی)
       پروفیسرشکیل الرحمان باباسائیں کے ان جملوں کی روشنی میں مزید کچھ فہمایش کی گنجایش نہیں رہ جاتی کہ موصوف کے یہاں جمالیاتی تنقید کا جو تصور ہے وہ کتنا دل کش، پاکیزہ اور توانا ہے ۔ بہت ہی کم وقتوں میں آپ نے اردو ادب کی تنقیدی تاریخ میں جو روشن نقوش ثبت کیے ہیں وہ حیرت انگیز اور متاثر کن ہے۔ آپ کا اشہبِ قلم جمالیاتی تنقید وتحقیق کے میدان میں سرپٹ دوڑتے ہوئے اپنی فرماں روائی کا علم نصب کررہا ہے۔ میرے دیرینہ کرم فرما پروفیسر شکیل الرحمان باباسائیں کے تعارف پر مبنی اس مختصر سے مقالہ کو ختم کرتے ہوئے آپ کی تصنیفات و تالیفات کی فہرست نشانِ خاطر کرانا غیر مناسب نہ ہوگا۔
جمالیات پر کتابیں: ٭مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات٭ امیر خسرو کی جمالیات ٭ فراق کی جمالیات ٭ جمالیاتِ حافظ شیرازی٭ تصوف کی جمالیات٭ محمد قلی قطب شاہ کی جمالیات٭ ہند اسلامی جمالیات٭ بدھ جمالیات سے جمالیاتِ غالب تک(تین جلدیں)٭ اقبال کی جمالیات٭ مجتبیٰ حسین کا فن جمالیاتی مظہر٭ مولانا رومی کی جمالیات٭ اخترالایمان جمالیاتی لی جنڈlegend٭ کلاسیکی مثنوی کی جمالیات٭ اساطیر کی جمالیات٭ ہندوستان کا نظامِ جمال٭ ہندوستانی جمالیات(تین جلدیں)٭ کبیراورنظیراکبرآبادی کی جمالیات٭ قرآن حکیم سر چشمۂ جمالیات٭ 
فکشن : داستان ِ امیر حمزہ اور طلسم ہوش رُبا٭ میر شناسی ٭ آشرم (خود نوشت سوانح)٭ فکشن کے فن کار پریم چند٭ رقصِ بتانِ آزَری٭ غالب کا داستانی مزاج٭ دربھنگہ کا جو ذکر کیا٭ منٹو شناسی٭ راگ راگنیوں کی تصویریں٭ غالب اور مغل مصوری٭
سفر نامے:  لندن کی آخری رات٭ قصہ میرے سفر کا 1967ء (روس)٭ دیوارِ چین سے بت خانۂ چین تک ٭
ڈرامے: دوبالیاں گیہوں کی٭ شکور دادا٭ تلاش٭ پھول کی خوشبو٭ اندر کا آدمی٭ تابوت٭ لہو رنگ ٭ پرچھائیں ٭ فصل اُ گ آئی٭ آنگن٭ واپسی ٭ سانپ کے رقص ٭ رات کا سورج٭ جنگل کا چہرہ٭ نیا جنم٭ بَلی٭ دل کا سمُندر گہرا ٭پتھر کا دل٭ پیاس سمندر کی ٭ کالے پتھر کا لہو٭ لالہ رُخ ٭ پرانی حویلی٭ گھٹن٭ مٹی کی مہک٭ ڈاک بنگلہ٭ پتھر کا چاند٭ تیسری آنکھ وغیرہ۔
اسٹیج ڈرامے: سلطان زین العابدین٭ ایک چہرہ پرچھائیں کا٭  زخمی پرندہ٭
ناول : بے نام سمندر کا سفر٭ نئے فرہاد ٭ پتھر میں نمک ٭
چند دیگر کتابیں : اقبال اور فنونِ لطیفہ ٭ رگ وید اور اپنیشد کی روشنی میں ٭احمد ندیم قاسمی ٭ ادبی قدریں اور نفسیات٭ یہ باتیں ہماریاں ٭اقدار کا تعلیمی تصور ٭ خواجہ غلام السیدین وغیرہ ۔علاوہ ازیں پروفیسر شکیل الرحمان صاحب پر لکھی گئی کتب کی تعداد ایک درجن سے زائد ہے ۔جن میں شکیل الرحمان ، ایک لی جنڈ٭ شکیل الرحمان ، تنقید کا نیا وژن٭ شکیل الرحمان کی غالب شناسی ٭ شکیل الرحمان اور مولانا روم کی جمالیات ٭ منٹو شناسی اور شکیل الرحمان ٭ پریم چند اور شکیل الرحمان٭ اور آہنگِ جمالیات کے ناقد شکیل الرحمان قابل ذکر ہیں ۔المختصر 80؍ برس کی عمر میں بھی باباسائیں کا ذہن و فکردنیاے ادب میں اپنی شان و شوکت کے ساتھ جمالیاتی تنقید و تحقیق، ڈرامہ ،افسانہ، ناول ، فکشن ، تذکرہ وغیرہ میدانوں میں اپنی خوشبوئیں بکھیر رہا ہے۔ یقینا ایسے فن کار ادب کے لیے قدرت کی طرف سے ایک نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں ۔ راقم موصوف کی درازیِ عمر کے لیے دعا گو ہے ۔
              (26؍ مئی 2001ء بروز جمعرات )
ڈاکٹر محمدحسین مُشاہدؔ رضوی
Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi
Writer, Poet, Research Scholar, Author.