Instagram

Saturday, 9 November 2013

Dr. Iqbal K Taleemi Nazariyat




ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی نظریات
٭ ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی

       ڈاکٹر اقبالؔ (۱۸۷۶ئ/۱۹۳۸ئ)عالمِ اسلام کے عالی دماغ مفکر،فلسفی اور دانش ور شاعر و ادیب گزرے ہیں۔ آپ نے اُمتِ مسلمہ کا ذہن اپنی شاعری کے حوالے سے قرآن کی طرف موڑنے کی سعیِ بلیغ فرمائی ہے۔اقبالؔ دلِ دردمند رکھتے تھے ،مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا کرتے تھے۔وہ ایک ماہرِ تعلیم بھی تھے ان کے تعلیمی افکار و نظریات بہت بلند و بالا ہیں ۔پیشِ نظر تحریرمیں ایک ماہرِ تعلیم کی حیثیت سے ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی نظریات کا مختصر جائزہ مقصود ہے۔
       سائنس اور تیکنالوجی جیسے علومِ جدیدہ کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ علوم و فنون اہلِ یورپ کے ایجاد کردہ ہیں۔ جب کہ حقیقتاً یہ مسلمانوں ہی کا ورثہ ہیں ان علوم کو اہلِ اسلام نے نہ صرف ایجاد کیے بلکہ اس حد تک پہنچادیا کہ اس سے آگے جانا آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی مشکل ہے اس حقیقت کواقبالؔ کی زبانی سنیے    ؎
حکمتِ اشیا فرنگی زاد نیست
اصلِ او جز لذتِ ایجاد نیست
نیک گر بینی مسلماں زادہ است
ایں گہرزدستِ ما افتادہ است
ایں پری از شیشۂ اسلافِ ماست
باز صیدش کن کہ ازقافِ ماست
(مثنوی مسافر)
       ’’یہ حکمت ِ شیا درحقیقت فرنگیوں کی ایجاد کردہ نہیں۔ اس کی اصل تو انسانی سرشت ہے اگر تعصب سے ہٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ گوہرِ آب دار مسلمانوں کے ہاتھوں سے ہی گرا ہے۔ حکمت کے یہ علوم تو ہمارے علمی کوہِ قاف کی پری ہیں اس لیے ہم کو حق پہنچتا ہے کہ ان کو دوبارہ حاصل کریں۔‘‘
       چوں کہ جدید علوم و فنون اقبا ل ؔکے نزدیک مسلمان اسلاف کا ترکہ اور میراث ہیں اس لیے موجودہ دور کے مسلمانوں کو ان علوم کی تحصیل کرنا ضروری ہے ۔ اقبالؔ کا ترغیبی انداز خاطر نشیٖن کریں    ؎
نائبِ حق در جہاں آدم شود
بر عناصر جمازہ را ما ہارکن
’’انسان دنیا میں اسی وقت نائبِ حق بنتا ہے جب کہ عناصرِ قدرت پر اس کاحکم جاری ہو۔‘‘
خویش را بر پشت بادا سوار کن
یعنی جمازہ را ما ہار کن
’’اے مسلمان تو ہوا کی پشت پر سواری کر اس تیز رفتار اونٹ کی نکیل تیرے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔‘‘
از شعاعش دیدہ کن نا دیدہ را
دانما اسرارِ نا فہمیدہ را
’’اے نوجوان مسلمان ! توفضائے آسمان کی ایک حقیر ذرۂ روشنی سے چشمِ بینا کو منور کردے جگمگاتے خورشید کی شعاعوں کو گرفتار کر۔‘‘
جستجو را محکم از تدبیر کن
انفس و آفاق را تسخیر کن
’’اپنی جدو جہد کو تدبر سے مستحکم بنا۔انفس و آفاق کو مسخر کر۔‘‘
تو کہ مقصودِ خطابِ اُنظری
پس چرا ایں راہ چوں کوراں بری
’’اے مسلمان!توہی خطابِ الٰہی افلا ینظرون الی الابلِ کیفَ خُلِقت کا مخاطب ہے تجھے تو اشیاے کائنات کی حقیقت و ماہیت پر غور وفکر کی دعوت دی گئی ہے تو پھر کیوں اس راہ میں غور نہیں کرتا۔‘‘
آں کہ بر اشیا کمند انداخت است
مرکب از برق و حرارت ساخت است
’’ذرا غور سے سن!جس نے اشیائے کائنات پر کمند ڈالی۔ وہی عناصرِ قدرت برق و باد کا حکمراں ہے وہ ان اشیا کا راکب ہے اور وہ اس کا مرکب۔‘‘
علمِ اشیا اعتبارِ آدم است
حکمتِ اشیا حصارِ آدم است
(رموزِ بے خودی)
’’حقیقت کا علم ہی حضرت آدم علیہ السلام کی برتری کاسبب ہے۔ اگر انسان اشیاکے رموز و اسرار سے آگاہی حاصل کرلے تو یہی اشیا اس کے لیے امن کاحصار بن جاتی ہیں۔‘‘
       ان خیالات و افکار کا اظہار کرنے کے باوجوداقبالؔ نے جدید تعلیم کے نقصان دہ اثرات پر سخت تنقید بھی کی ہے ۔ اقبال ؔکی نگاہ میں جدید تعلیم کا ایک نقص یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو بے ادب اور بد تہذیب بنا رہی ہے ۔جدیدتعلیم یافتہ نوجوانوں کی ان بد تمیزیوں کو دیکھ کر اقبالؔ کا دل کڑھتا ہے اور وہ موجودہ تعلیم و تربیت سے بہت زیادہ پشیمان ہوجاتے ہیں     ؎
نوجوانے را چوں بینم بے ادب
روزِ من تاریک گردد چوں شب
تاب و تب در سینہ افزاید مرا
یادِ عہدِ مصطفی آید مرا
از زمانِ خود پشیماں می شوم
در قرونِ رفتہ پنہاں می شوم
       اقبالؔ اس بات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ جدید تعلیم نے ملّتِ اسلامیہ کے نوجوانوں کو حق و صداقت بیان کرنے سے بھی روک دیا ہے ۔آج کا نوجوان سچائی کے اظہار سے کوسوں دور ہوتا جارہا ہے   ؎
گلا توگھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا
کہاں سے آئے صدا لاالٰہ الّا اللہ
       جدیدتعلیم نے نوجوانوں کے قلوب واذہان سے ایمان و یقین کی دولت نکال لی ہے اور وہ ناامیدی و مایوسی کے باعث تاریکیوں میں در بدر بھٹک رہے ہیں   ؎
جواناں تشنہ لب خالی ایاغ
شیشہ رُوٗ ، تاریک جاں ، روشن دماغ
کم نگاہے بے یقیں و ناامید
چشم شاں اندر جواں چیزے ندید
(جاوید نامہ)
       اقبالؔکے نزدیک جدید تعلیم نے نوجوانوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کردیا ہے ۔ حالانکہ اقبالؔکا نوجوان شاہین زادہ ہے۔ لیکن اب یہ راہ و رسمِ شاہبازی سے بے خبر اور عقابی روح سے ناآشنا ہوگیا ہے تو آخر کیوں؟اور یہ شاہین زادہ کرگس بنا تو کیوں ؟ اقبالؔاس کا سبب تلاش کرتے ہیں    ؎
وہ فریب خوردہ شاہین جو پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہبازی؟
       اقبالؔ کے نزدیک اس کا سبب جدید تعلیم کے ذریعہ مادّیت کا فروغ و ابلاغ ہے۔وہ جدید تعلیم میں اساتذہ کے منفی کردار کا تذکرہ کتنے تاسُّف بھرے لب و لہجے میںکرتے ہیں ۔ اسے خاطرنشین کریں    ؎
شکایت ہے مجھے یارب خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا
       جدید تعلیم اور اس کے متعلقات نے مسلم نوجوانوں کو انگریزوں کی غلامانہ ذہنیت میں اس طرح جکڑ کر رکھ دیا ہے کہ اس کا ظاہری وجود درحقیقت صرف قالب بن کررہ گیا ہے جو قلبِ گداختہ سے خالی ہے اور جامعات کی اس تعلیم نے نوجوانوں کو مردہ لاش میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے    ؎
گرچہ مکتب کا جواں زندہ نظر آتا ہے
مردہ ہے مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نَفَس
       جدید تعلیم کے مقاصد میں کہا گیا تھا کہ اس سے آراستہ ہوکر تعلیم یافتہ طبقہ معاش کا ذریعہ بآسانی پیدا کر لے گا اقبالؔکی نظر میں یہ مقصد انگریزوں کی غلامی کو اور زیادہ مضبوط اور دیرپا کرنے کا سبب ہوگا    ؎
وہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہو جہاں میں دو کفِ جَو
       جدیدتعلیم کی ’’برکات‘‘ نے ’’جان‘‘ بھی ’’گردِ غیر‘‘ اور’’ دل‘‘ بھی ’’گردِ غیر‘‘ کی کیفیت پیدا کردی۔ اقبالؔ یہ دیکھ کر تڑپ اٹھے    ؎
بہ طفلِ مکتبِ ما ایں دعا گفت
پَے نانے بہ بندِ کس می افتاد
       بتایا گیا ہے کہ جدید تعلیم سے روشن خیالی اور آزادیِ ضمیر حاصل ہوگی۔ مگراقبالؔکا تجربہ ہے کہ یہ روشن خیالی درحقیقت ناپختہ ذہنی ،دینی عقائد سے بیزاری اور الحاد و زندقہ کی طرف پیش قدمی ہے   ؎
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
       الغرض جدید تعلیم کہ جس کے تانے بانے مادّیت پر بُنے گئے؛اقبالؔ کے نزدیک حقیقتاً مسلمانوں کے خلاف ایک گہری سازش ہے۔ تعلیم کے حسین پردے میں نوجوانوں کو بے یقینی ،لادینیت اور الحاد و زندقہ کی تاریک وادی میںچھوڑنا تھا۔چنانچہ اقبالؔ فرماتے ہیں    ؎
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظامِ تعلیم!
ایک سازش ہے فقط دینِ مروّت کیلئے
       علم جو کہ بذاتِ خود منبعِ خیر و قوت ہے ۔ مظہرِ جبریل ہے لیکن اب جدید تعلیم سے     ع
شر و قہر کا مرکز اور ابلیس بنا
       اسی مضمون سے ہم آہنگ اقبالؔ کاایک شعر خاطر نشین کریں   ؎
علم از رسوا است اندر شہر و دشت
جبرئیل از صحبتش ابلیس گشت
       اقبالؔکی نگاہ میں وہ علم جس میں عشق کا امتزاج نہ ہو؛ناپسندیدہ ہے ،وہ اُس علم کے مداح ہیں جس میں عشق کا امتزاج ہواور جس کا خمیر عشق میں گوندھا گیا ہو،شعر نشانِ خاطر ہو    ؎
علم بے عشق است از طاغوتیاں
علم با عشق است از لاہوتیاں
       گویا علمِ باعشق مشرف باسلام ہے ۔ اس کی ضیاپاشیوں سے جہاں منور و تابندہ ہے۔ دل زندہ اور روح صاف و شفاف ہے۔ اورعلمِ بے عشق اسلام سے دور ،طاغوت کا وجود،بے حرماں و بے نصیب ہے۔ اس سے دل تاریک اور جسم غلام ہوتا ہے عالِم اپنی وسعت و فراخیِ علم کے باوصف اگر اسلام کے تابع نہ ہوتو وہ شیطان ہے،اسے بولہبی نہیںبلکہ مصطفوی ہوناازحد ضروری ہے۔ اس کے لیے یہ فرض ہے کہ اس کی زنبیلِ علم کے تمام تر علوم وفنون قرآنی ہدایات کے تابع ہوں نہ کہ اس کو اپنے تابع بنائیں ۔ جب تک قرآن ،علوم پر حاکم نہ ہوگا ۔ علوم مسلمان نہ ہوں گے۔اس حقیقتِ مبین کو اقبالؔنے کس خوبی سے بیان کیا ہے ۔خاطر نشین فرمائیں     ؎
خوشتر آں باشد مسلمانش کنی
کشتۂ شمشیرِ قرآنش کنی
       سیکولر اور لامذہبی تعلیم نے اسلامی قومیت کی بقا او رنشوو نما کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ اقبالؔموجودہ تعلیمی تحریکات کو مسلم قومیت کی تشکیل کے لیے مضر تصور کرتے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ ایک ایسا عظیم الشان تعلیمی نظام قائم کیا جائے جو ایک طرف تو افراد میں اسلامی شعور بیدارکرے تو دوسری طرف سیکولر اور لامذہبی نظامِ تعلیم کے منفی اثرات کا سدِ باب کرے ۔ وہ راقم ہیں   :
       ’’اخلاق و مذہب کے اصول و فروع کی تلقین کے لیے موجودہ زمانہ کے واعظ کو اقتصادیات اور عمرانیات کے حقایقِ عظیمہ سے آشنا ہونے کے علاوہ اپنی قوم کے لٹریچر اور تخیل میں پوری دسترس رکھنی چاہیے۔‘‘(اقبالؔاور مسئلۂ تعلیم ،ص ۲۳۹)
       سیکولر تعلیم خواہ یہ مکتب کی تعلیم ہویا کالج کی اقبالؔکے نزدیک اسلامی قومیت کی تشکیل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ سیکولر تعلیم سے قومیت کا مفہوم وہ بن جاتا ہے جسے اہلِ مغرب نے نہ صرف قبول کیا بلکہ اس کی اشاعت و تشہیر میں پوری صلاحیتیں صرف کردیں یہ تصورِ قومیت،وطن،نسل،رنگ، زبان کے اجزائے ترکیبی سے نشوونماپاتا ہے ۔حالانکہ اسلام انھیٖں امتیازات کو مٹانے آیا ہے ۔ بدقسمتی سے دارالعلوم دیوبند کے صدر معلم مولوی حسین احمد ٹانڈوی نے جب اسلامی قومیت کا ناطہ وطن سے جوڑا تو اقبالؔسراپا احتجاج بن کر یوں گویا ہوئے کہ    ؎
عجم ہنوز نداند رموزِ دیں ورنہ
ز دیوبند حسین احمد ایں چہ بولعجبی ست
سروٗد بر سرِ منبر کہ ملّت از وطن است
چہ بے خبر زمقامِ محمدِ عربی ست
بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باو نرسیدی تمام بولہبی ست
       اقبالؔتحقیق و جستجو کے متلاشی ہیں ان کے نزدیک تحقیق سے قوموں کا وجود ہے مگر مغربی محققین جنہیں ہم مستشرقین کہتے ہیں ،ان کی تحقیق سے ناراض ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مستشرقین تحقیق کے پردے میں اپنے سیاسی ،سماجی، تعلیمی اور تبلیغی مقاصد کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں ،اقبالؔل کھتے ہیں  :
       ’’میں یورپین مستشرقین کا قائل نہیں ،کیوں کہ ان کی تصانیف سیاسی پروپیگنڈہ یا تبلیغی مقاصد کی تخلیق ہوتی ہیں۔‘‘(اقبالؔ نامہ،حصہ اوّل،مرتبہ:شیخ عطاء اللہ)
       اقبالؔکی نظر میں تعلیمِ نسواں کی بھی اہمیت ہے ۔مگر وہ اس میں بھی اعتدال کے قائل ہیں ۔ان کے نزدیک عورتوں کی تعلیم اس طرز کی ہونی چاہیے جو انھیں اپنے فرایضِ منصبی سے آگاہ کردے ،چراغِ محفل کی بجائے چراغِ خانہ بنادے،عورتوں کی تعلیم میں دین کی تعلیم بنیادی اور ابتدا سے ہی ہونی چاہیے،ضربِ کلیم کا قطعہ خاطر نشین ہوجس کا عنوان ہے ’’عورت اور تعلیم‘‘     ؎
تہذیبِ فرنگی ہے اگر مرگِ امومت
ہے حضرتِ انساں کے لیے اس کا ثمر موت
جس کی علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
بے گانہ رہے دیں سے اگر مدرسۂ زن
ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر موت
       تعلیمِ نسواں کے متعلق اقبالؔ نے جوکچھ اشعار کی صورت میں پیش کیا ہے اس کا خلاصہ ان ہی کی نثر میں نشانِ خاطر فرمائیں   :
       ’’ایک قوم کی حیثیت سے ہمارے استحکام کاانحصار مذہبی اصولوں کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہنے پر ہے جس لمحہ یہ گرفت ڈھیلی پڑجائے گی۔ ہم کہیں کے نہیں رہیں گے شاید ہمارا حشر یہودیوں جیسا ہوجائے؛ تو پھر ہم اس گرفت کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لیے کیا کرسکتے
ہیں؟ کسی قوم میں مذہب کا ’محافظِ خاص کون ہوتا ہے؟عورت اور صرف عورت‘اس لیے مسلمان عورت کو عمدہ،معتبردینی تعلیم ملنی چاہیے کیوں کہ وہی فی الواقع قوم کی معمار ہے۔میں مطلقاًآزاد طریقۂ تعلیم کا قائل نہیں دیگر تمام امور کی طرح طریقۂ تعلیم کا تعین بھی ایک قوم کی ضروریات کے ماتحت ہونا چاہیے ۔ہمارے مقاصد کے لیے لڑکیوں کی دینی تعلیم کافی ہے۔‘‘(اقبالؔ نامہ،حصہ اوّل)
       ڈاکٹر اقبالؔک ی نثر و نظم کے حوالے سے اقبالؔ کے تعلیمی نظریات کا یہ مختصر سا جائزہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات کی بنیاد اسلامی افکار و نظریات اور امتِ مسلمہ کے استحکام و بقا پر مبنی ہے۔ان کے نزدیک تعلیم و تربیت کے ذریعہ اسلامی اصولوں اور اسلامی قومیت کی نشوونما اور تبلیغ و تحفظ ہے۔ اقبالؔ نے مغربی طریقۂ تعلیم کو ملّتِ اسلامیہ کے لیے مضر قرار دیاہے ۔اسی طرح ان کے نزدیک عورتوں کو تعلیم دینابھی ضروری ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی قومیت اور اصولوں کے استحکام اور تبلیغ و اشاعت کے لیے عورتوں کو دینی تعلیم دینا ہمارے مقاصد کی تکمیل کے لیے از بس ضروری ہے۔

(روزنامہ اردوٹائمز،ممبئی،ج ۶،شمارہ۱۳۱،جمعہ ۱۳؍مئی۲۰۰۵ئ/۴؍ربیع الآخر۱۴۲۶ھ)
٭٭٭٭٭

ڈاکٹر محمدحسین مُشاہدؔ رضوی
Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi
Writer, Poet, Research Scholar, Author.