Instagram

Saturday, 20 October 2012

کیا اما م احمدرضا بریلوی اور مولوی اشرفعلی تھانوی نے ایک ساتھ تعلیم حاصل کی ایک علمی و تحقیقی بحث



کیا اما م احمدرضا بریلوی اور مولوی اشرفعلی تھانوی نے ایک ساتھ تعلیم حاصل کی
ایک علمی و تحقیقی بحث
از : ڈاکٹر محمدحسین مشاہد رضوی
        امام احمدرضا بریلوی اور مولوی اشرفعلی تھانوی کے تعلق سے ایک افسانہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ مذکورہ دونوں شخصیات نے ایک ساتھ دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کی اوردوران طالب علمی مولوی اشرفعلی تھانوی سے کسی علمی مسٔلہ میں اختلاف کی بنا پر اختلاف کی بنا پر امام احمدرضا نے دارالعلوم دیوبند سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور بریلی میں آکر ایک مدرسہ قا یم کیااور اس طرح سنی دیوبندی اختلاف کی بنیاد پڑی۔
        بغیر کسی مستحکم دلیل کے بس کانوں ہی کانوں میں مذکورہ باتیںایک طبقہ کی طرف سے مسلسل پھیلاییٔ جاتی رہی ہیں ۔ لیکن جب ہم تاریخ پر نظر ڈالیں حقایق کا پتا لگایٔیںتو اس کی ہمیں کوییٔ اصل نہیں ملتی ۔ بل کہ یہ بھی ان بے شمار من گھڑت اور مذموم پروپیگنڈہ کا ایک حصہ نظر آتا ہے جس کے پیش نظر صرف ایک ہی مقصد کارفرما ہے کہ امام احمدرضا کی شخصیت کو مجروح کیا جاۓ ہم اپنے اس مضمون میں دلایل کے ذریعہ ثابت کریں گے کہ امام احمدرضا بریلوی اور مولوی اشرفعلی تھانوی نے دارالعلوم دیوبند میں ایک ساتھ تعلیم حاصل کی اس خود ساختہ اور من غھڑت افسانے کا حقیقت و صداقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ۔ آییےسب سے پہلے یہ دیکھیں کہ دونوں کی تاریخ پیدایش اور عمروں میں کیا فرق ہے؟
        علامہ ظفرالدین بہاری حیات اعلیٰ حضرت (ناشر قادری بک ڈپو بریلی) کی پہلی جلد کے صفحہ نمبر ۱۱ پر رقمطراز ہیں: مولوی احمدرضا خا ں صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے بتاریخ ۱۰ ماہ دہم یعنی شوال المکرم بروز دوشنبہ ۱۲۷۲ہجری عرصۂ دنیا میں قدم مبارک رکھا:
        اسی طرح مولوی اشرفعلی تھانوی کے خلیفۂ خاص خواجہ عزیز الحسن اشرف السوانح (ناشر مکتبۂ تالیفاتِ اشرفیہ تھانہ بھون) کی جلد اول صفحہ نمبر ۱۶ پر لکھتے ہیں کہ : حضرت والا کی ولادتِ باسعادت ۵ ربیع الثانی ۱۲۸۰ ہجری کو چہار شنبہ کے دن بوقت صبح صادق ہوییٔ:
        دونوں شخصیات کی تاریخ پیدایش سے علم ہوتا ہے کہ امام احمدرضا کی عمر مولوی اشرفعلی تھانوی سے ساڑھے آٹھ سال زیادہ ہے ۔ ہم امام احمدرضا کے بارے میں معلوم کریں کہ کن اساتذہ سے انھوں نے علوم و فنون کی تکمیل کی اس بابت معلومات فراہم کرتے ہوۓ امام احمدرضا کے اولین سوانح نگار مولانا ظفرالدین بہاری حیات اعلیٰ حضرت جلد اول کے صفحہ ۱۱ پر لکھتے ہیں کہ : اعلیٰ حضرت الشاہ مولانا احمدرضا نے بریلی شریف میں اپنے مکان پر والد ماجد ریٔس الاتقیا علامہ نقی علی خاں اپنے جد امجد مولانا رضا علی خاں اور حضرت غلام عبدالقادر بیگ بریلوی سے صرف ۱۴ سال کی عمر میں یعنی ۱۲۸۶ ہجری میں علوم کی تکمیل کرلی اور اسی سال ۱۲۸۶ ہجری میں آپ مسند افتا پر جلوہ افروز ہوۓ:
        اب آییۓ مولوی اشرفعلی تھانوی  کے سوانح نگار سے ملیے خواجہ عزیز الحسن اشرف السوانح جلداول صفحہ نمبر ۲۴ باب نمبر ۱۶ پر لکھتے ہیں کہ : حضرت والا نے ۱۵ سال کی عمر کے بعد ۱۲۹۵ہجری میں دارالعلوم دیوبند میں حصول تعلیم کے لیے داخلہ لیا اور ۱۳۰۱ہجری میں فارغ التحصیل ہوۓ :
        محترم قاریین غور کریں کہ ۱۲۸۶ہجری میں اما م احمدرضا بریلوی جب مسند افتا پر بیٹھ کر عالم اسلام سے اپنے علم کا لوہا منوارہے تھے اور لوگوں کے استفتا کے جوابات عنایت کررہے تھے اس وقت تھانوی صاحب کی عمر صرف ۶ سال تھی اور اپنی عمر کے پندرہ سال کے بعد انھوں نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا۔
        ہم یہاں پر ایک اور بات واضح کردیتے ہیں کہ امام احمدرضا بریلوی ۱۳۰۰ہجری تک پچہتر کتابیں تصنیف کرچکے تھے ۔ علامہ ظفرالدین بہاری حیات اعلیٰ حضرت جلداول صفحہ نمبر ایک سوبیس پر لکھتے ہیں کہ: ماہ جمادی الآخر ۱۳۰۰ ہجری میں مفضلہ بریلی ، بدایوں ، سنبھل ، رام پور وغیرہ  نے متفقہ طریقہ سے مسٔلہ تفضیل میں اعلیٰ حضرت سے مناظرہ کیا ۔۔۔۔ اس وقت تک پچہتر کتابیں تصنیف فرما چکے تھے:
        غور کریں کہ جب مولوی اشرفعلی تھانوی ۱۳۰۱ہجری میں فارغ التحصیل ہی ہوۓ تھے تب امام احمدرضا بریلوی ۷۵ کتابوں کے مصنف کی حیثیت سے افق علوم اسلامیہ پر چمک رہے تھے ۔ ان تمام حقایق سے یہ واضح ہوجا تا ہے کہ امام احمدرضا بریلوی نے دینی علوم کی تحصیل اور تکمیل بریلی ہی میں فرماییٔ اور ان کا دارالعلوم دیوبند سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔۔ اگر ایسا ہوتا تو کم از کم دیوبند کے ریکارڈ یا کتاب تاریخ دارالعلوم دیوبند میں تو اس کاذکر ملتا۔
        مندرجہ بالا تاریخی حقایق و شواہد کے بعد بھی یہ کہنا کہ مولوی اشرفعلی تھانوی اور امام احمدرضا بریلوی دونوں ہم سبق تھے گویا سورج کو ظلمت ، پھول کو بدبو ، چاند کو گرمی ، سمندر کو خشکی ، بہار کو پت جھڑ ، صبا کو صر صر ، پانی کو حدت ، ہوا کو حبس اور حکمت کو جہالت کہنے کے مترادف ہے۔
پاپوش میں لگاییٔ کرن آفتاب کی
جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی