Instagram

Tuesday, 30 October 2012

غلام ربانی فداؔ کی غزل گوئی



غلام ربانی فداؔ کی غزل گوئی
٭ ڈاکٹر محمد حسین مُشاہد رضوی
       غزل کو کلیم الدین احمد نے ’’نیم وحشی‘‘ صنفِ سخن قرار دیا تو رشید احمد صدیقی نے اسے ’’اردو شاعری کی آبرو‘‘… دونوں ہی ناقدینِ فن کے ان تاثرات کے تناظر میں جب ہم اردو کی غزلیہ شاعری کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ کہنا غیر مناسب محسوس نہیںہوتا کہ غزل کو محض جنسی تلذذ کا مرکز،آوارگیِ فکر کا سامان اور رومانوی تصورات کا پابند بنا رکھ دیا جائے تو وہ ’’نیم وحشی‘‘ بن کر رہ جاتی ہے۔ جب کہ اس کے برعکس اسی غزل کو اعتدال پسندانہ عشقِ مجازی کے ساتھ عشقِ حقیقی کا آئینہ دار ، تصوفانہ رنگ و آہنگ سے مزین کرکے اِس صنف میں اپنے عصر میں ابھرنے والے سلگتے ہوئے مسائل کا اظہاریہ اور اس کے علاج و مداوا کی بات کی جائے اور اس کے ذریعہ زبان کی ہمہ گیر ترقی کا نظریہ بھی شاعر کا مطمحِ نظر ہوتو پھر غزل ’’اردو شاعری کی آبرو‘‘ کہلانے کا مکمل استحقاق رکھتی ہے۔
        حقیقت تویہی ہے کہ غزل ’’حکایات بایار گفتن ‘‘ ہی کا نام ہے۔ لیکن اب غزل کے موضوعات میں ہمہ گیریت اور وسعت لائی جاچکی ہے۔ نت نئے موضوعات اور افکار و نظریات غزل میں پیش کیے جارہے ہیں۔ اب بیش تر شعرا اس محبوب و مروج ہیئت و الی صنفِ سخن میں اپنے دلی جذبات، احساسات و ادراکات، وسیع ترتجربات اوراصلاحی باتوںکو زیبِ قرطاس کررہے ہیں۔ فی زمانہ غزل میں ہر قسم کے موضوعات پر طبع آزمائی نے غزل کو صحیح معنوں میں مقبولِ عام صنف بنا دیا ہے۔ شاعر کے فکری میلانات اور تخییلی رویوں پر یہ بات منطبق ہوتی ہے کہ وہ اپنی شاعری میں کس قسم کے خیالات کو پیش کرتا ہے۔ جید مشاہدہ ہے کہ شاعر جس ماحول کا پروردہ ہوتا ہے اور جن نظریات کو وہ پسند کرتا ہے وہ غیر محسوس طور پر انھیں ہی اپنی شاعری میںاستعمال کرتا رہتا ہے۔
       ۱۹۸۸ء میں آنکھ کھولنے والے غلام ربانی فداؔ کو مَیں ایک نعت گو شاعر کے روپ میں جانتا ہوں ۔ مجھے حیرت بھی ہوئی اور یک گونہ مسرت بھی کہ اس صالح فکر و نظر کے حامل نوجوان نے غزلیہ شاعری کے میدان میں بھی اپنے اشہبِ فکر کو دوڑایا ہے۔ حیرت اس بات کی کہ نعت جیسی پاکیزہ صنف میں طبع آزمائی کرنے والا شاعر کج ادا صنف غزل کے میدان میں کیوں کر قدم رنجہ ہوا اور مسرت اس بات کی کہ موصوف کی غزلیں پڑھنے کے بعد محسوس ہوا کہ ہاں! ایسی غزل گوئی تو کوئی معیوب بات نہیں ۔ پیشِ نظر کتاب ’’شہرِ آرزو میں‘‘ موصوف کی دوسری شعری تصنیف ہے ۔ اس سے قبل آپ کا تقدیسی شاعری (حمد و نعت و منقبت و سلام) پر مبنی خوب صورت مجموعہ ’’گل زارِ نعت‘‘ منظر عام پر آچکا ہے۔ جس میں نعت کے تقدس اور اس کے لوازمات کا خیال رکھتے ہوئے محتاط رویوں کے حامل نعتیہ کلام فداؔ کے موے قلم سے نکلے جویقینا قابلِ ستایش ہیں۔ ادبی دنیا میں فداؔ صاحب نعت گو شاعر اور نعت سے محبت و انسیت رکھنے والے نوجوان کی حیثیت سے معروف ہیں ۔ چوں کہ موصوف کی ادارت مین نعتیہ ادب کا ایک جریدہ ’’جہانِ نعت‘‘ بھی شائع ہوتا ہے۔
       غزل جیسی کج ادا صنف میں طبع آزمائی کرتے ہوئے انھوں نے ایک غزل گو شاعر کی حیثیت سے بھی اپنا تعارف کروانے کی کوشش کی ہے۔پیشِ نظر مجموعۂ کلام میں غزلیات ، منظومات اور قطعات شامل ہیں جوموصوف کی شاعرانہ ریاضت کا ایک ایسا اظہاریہ ہے جس میں غزل ہمیں ’’نیم وحشی ‘‘صنفِ سخن نظر نہیں آتی بل کہ غزل اردو شاعری کی آبرو کے طور پر اپنا وجود منواتی ہوئی دکھائی دیتی ہے       ؎
ڈھونڈنے والے دعاؤں میں اثر پیشِ خدا
رات کے پچھلے پہر دیدۂ پُر نم لے جا
کائنات شگفتہ مرے دم سے ہے
دہر میں پھول بن کے نکھرتا ہوں مَیں
حق پرستوں کی وہ راہِ پر نور ہے
جان قربان فداؔ جس پہ کرتا ہوں مَیں
محبوب مت بنائیے ایسوں کو اے فداؔ
جو بے خلوص ہیں وہ ستائیں گے بار بار
مظلوم کی نگاہوں میں سچائی کا جمال
ہر ظلم کو جوابِ جہاں تاب دے گیا
کشتیاں ہم نے جلائی تھیں نہ جانے کے لیے
جن کے تاریخ کے صفحے پہ نشاں آج بھی ہیں
       شاعری ایک ایسا ملکہ ہے جو کسبی کم وہبی زیادہ ہے۔ جن کی طبیعت موزوں ہوتی ہے ان کی کارگاہِ فکر میں اشعار ڈھلتے رہتے ہیں ۔ ہاں! فنّی اعتبار سے نوک پلک درست کرنے کے لیے ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب شاعر محنت و مشقت کرتا ہے تو اس کے اشعار میں شعریت اور فنّی محاسن بھی اپنی جگہ بنالیتے ہیں اور ایسا ہی شعرلائقِ تحسین و آفرین ہوتا ہے ، بہ قول فداؔ    ؎
جب فکر کی آتش میں پہروں کوئی جلتا ہے
تب ذہن کے پردے سے اک شعر نکلتا ہے
       فداؔ نے اپنی شاعری کا آغاز کم عمری ہی سے کردیا تھا۔ بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں سے ان کے گہرے مراسم ہیں ۔ ادبی محفلوں ، مذاکروں اور مشاعروں میں شرکت کرتے رہتے ہیں ۔مذہب اور ادب دونوں کا مطالعہ کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں ، نظموں اور قطعات میںجہاںعشقِ مجازی کے ساتھ ساتھ عشقِ حقیقی کی دل کش پرچھائیاں ابھرتی ہیں۔ وہیں تصوفانہ رنگ و آہنگ اور بلند خیالی ،ندرتِ اظہار، بانکپن، شوخی ، طراوت ، نغمگی اور ایک خاص قسم کی ترنگ بھی پائی جاتی ہے۔ چند شعر ملاحظہ کریں      ؎
ترا حسن ظالمانہ مرا عشق عارفانہ
ترا در مری جبیں کا بنا مستند ٹھکانہ
یوں ہی در بہ در بھٹکنا مرا رمزِ عاشقانہ
یہ نظر کاہے نشانہ میرے دل کا آشیانہ
ترا پاک حسن ہی تو مری شاعری کاعنواں
مرا مرکزِ محبت تری چشمِ ساحرانہ
جسے کہتے ہیں مجازی مرا عشق وہ نہیں ہے
ہے حقیقی عشق یارو مرا جذبِ عاشقانہ
ہوئے میرے اپنے جدا مجھ سے کیسے
مقدر ہوا ہے خفا مجھ سے کیسے
تصور میں رکھتا تھا اس کو بسا کر
صنم دور آخر رہا مجھ سے کیسے
عشق کا انجام سمجھے بس ہوس کو چند لوگ
ان کو کیا جو حرف نامِ عشق پر آنے لگے
ان کا کردارِ احسن جو روشن ہوا
مٹ گئی ظلمتِ شب سحر ہوگئی
       ایک سچا شاعراپنے عہد کاترجمان ہوتا ہے۔ جب تک اس کی شاعری میں عصری آگہی موجزن نہ ہوجائے اس کی شاعری سچی شاعری کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی۔ اپنے گردو پیش کے مسائل ، سماجی دکھ درد، سیاست کے گلیاروں میں ہونے والی مکاریوں کی تردید، رہبر کے لبادے میں رہزنی کرنے والوں کو عیاں کرنا اور معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کو اپنی شعری کاوش سے دور کرنے کی سعیِ جمیل کرنا ہی سچی شاعری کی علامت ہے ۔ غلام ربانی فداؔ کے مجموعۂ کلام میں شامل غزلوں، منظومات اور قطعات کی زیریں لہروں میں یہ باتیں پنہاں نظر آتی ہیں۔ وہ ایک حساس ،سچے اور باخبر غزل گو کے روپ میں اپنے دریچۂ ذہن سے یوںشعر نکالتے ہیں کہ     ؎
حکمراں یہ کیسے ہیں جو وطن کو گھیرے ہیں
کارواںمیں شامل سب چور اور لٹیرے ہیں
پاسبانِ عصمت کو ساتھ لے کے دکھلاؤ
ہر محلے کوچے میں عصمتوںکے ڈیرے ہیں
بھیس میں شریفوںکے قاتل اور ستم گر ہیں
اجلے کپڑے والوںکے ہر نگر میں پھیرے ہیں
بیچتے ہیں ایماں کو بن کے دیںکے رکھوالے
صرف ان کے ہی باعث قوم میں اندھیرے ہیں
للہ! ہوئی جاتی ہے ایمان کی تقسیم
حسرت کا ہے بٹوارہ تو ارمان کی تقسیم
اب اس کے سوا ذہنی ترقی ہو بھلا کیا
انسان نے کی ہاے رے انسان کی تقسیم
تجھ کو پانی ہے اگر منزلِ مقصود اپنی
حوصلے دل میں جگا اور جواں دم لے جا
       عصرِ حاضر کے بازی گرانِ سیاست پر دیکھیے کیسی گہری چوٹ ہے ؟
ملک کے رہبر نے جب عزت کو سودا کرلیا
عورتیں کہتی ہیں سر سے آج تاجِ سر گیا
       دورِ حاضر کے شاعروں میں ’’ماں‘‘ کا استعارہ بھی رفتہ رفتہ محبوب و پسندیدہ بنتا جارہاہے۔ منور راناایک ایسے شاعر ہیں جن کی تقریباً ہر غزل میں ’’ماں ‘‘کے موضوع پر ایک شعر ملتا ہیں ہے۔ مفتی محمد توفیق احسن برکاتی ممبئی نے ’’ماں کے آنچل پہ شبنم ٹپکتی رہی‘‘ نام کا ایک شعری مجموعہ ’’ماں ‘‘ کے موضوع پر دنیاے ادب کو دیا تھا حال ہی میں شہر عزیز مالیگاں کے کہنہ مشق اور بزرگ شاعر ارشد ؔمینانگری نے ’’ماں‘‘ نام کا ایک ضخیم شعری مجموعہ ۳۲؍ اصنافِ سخن کو محیط پیش کیا ہے۔ دنیا کے تمام رشتوں میں ماں باپ کا رشتہ سب سے مقدس و متبرک تسلیم کیا گیا ہے۔ ماں کی عظمت ، ماں کی رفعت ، ماں کی عزت ، ماں کی حرمت اورماں کا مقام و مرتبہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ماں اپنے بچوں کے لیے کس قدر والہانہ خلوص کا پیکر ہوتی ہے اسے صحیح معنوں میں لفظوں کا جامہ پہنا کر بیان نہیں کیا جاسکتا۔قرآن و حدیث کی روشنی میں ماں کے ادب و احترام کا جو جذبہ ہم میں ہونا چاہیے تھا بدقسمتی سے و ہ دورِ حاضر میں مفقود ہوتے جارہا ہے ۔ جب کہ ماں اپنی نافرمانی کرنے والے بچے سے بھی ویسا ہی پیار کرتی ہے جیسا کہ فرماں بردار اولاد سے ۔دیگر شاعروں کی طرح فداؔ نے بھی اپنی شاعری میں ماں کی عظمت و رفعت بیان کی ہے اور ساتھ ہی ماں کی نا قدر ی کرنے والوں پر طنز کے کاٹ دار وار بھی کیے ہیں ۔ ’’شہر آرزو میں‘‘ سے ماں کے حوالے سے چند اشعار    ؎
اے فداؔ ہم نے منزلِ مقصود
پائی ماں باپ کی دعاوں سے
کڑکتی ہے بجلی ، برستے ہیں بادل
تو ماں! بچے سہمے ہوئے ڈھونڈتے ہیں
       آج کل ماں پر بیوی کو ترجیح دینے کی وبا ہمارے معاشرے میں فیشن بن چکا ہے، لوگ اپنی بیوی اور بچوں کے خیال میں اتنا محو ہوگئے ہیں کہ بوڑھی ماں کی دوائیں لینا تک بھی یاد نہیں رہ جاتا ۔ فداؔ کا طنزو نشتریت سے مملو شعر     ؎
ساڑیاں بیوی کی بچوں کے کھلونے تو لیے
صرف ماں کی ہی دوا لے کر نہ بیٹا گھر گیا
       مختصر یہ کہ غلام ربانی فداؔکی غزل گوئی میں کلاسیکیت اور جدیدیت دونوں کا حسین امتزاج ہے جو قاری کو متاثر کرنے میں ضرور کامیاب ہوگا ۔ نظموں میں بھی موصوف کا صالح فکری نظریہ اس بات کا اظہاریہ بن کر ہمیں یہ کہنے پر مجبور کرتا ہے کہ فداؔ نے خلوص و للہیت کے ساتھ سماج اور معاشرے کی اصلاح کے لیے اپنی شاعری کو بہ طورِ وسیلہ استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ اُن کی نظموں میں ’’بنتِ حوا‘‘-- ’’گوا بیچ پر ‘‘--اور --’’ فرار ‘‘ بہترین نظمیں قرار دی جاسکتی ہیں۔ اسی طرح ان کے قطعات بھی قابلِ تعریف ہیں ۔ ’’گل زارِ نعت‘‘ کے بعدفداؔ صاحب کاشعری پڑاو جو ’’ شہر آرزو میں‘‘ کے حوالے غزلیات ، منظومات اور قطعات کے جِلو میںمنظر عام پر آرہا ہے ۔ اس کی سراہنا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے موصوف نے اتنی کم عمری میں ایسا عمدہ اور دل کش شعری اظہاریہ دنیاے ادب کو دیا ہے جو حیرت انگیز بھی ہے اورباعثِ مسرت بھی۔ فداؔ صاحب کے لیے روشن ادبی مستقبل کی دعاکے ساتھ قلم روکتا ہوں۔            (۲۷؍ رمضان المبارک ۱۴۳۳ھ/ ۱۷؍ اگست ۲۰۱۲ء )
ڈاکٹرمحمدحسین مُشاہدؔ رضوی
Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi
Writer, Poet, Research Scholar, Author.