Instagram

Tuesday, 30 October 2012

تمہیدِ ایمان اور فیضانِ اعلیٰ حضرت



تمہیدِ ایمان اور فیضانِ اعلیٰ حضرت
ڈاکٹر محمد حسین مشاہدرضوی
       امام احمد رضا بریلوی (وفات 1921ء) عالم اسلام کی وہ عظیم نابغۂ روزگار شخصیت کانام ہے جن کے علمی قدو قامت اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہوئے اچھے اچھوں کی ٹوپیاں گر گئیں اور ماہر سے ماہر شناورانِ بحرِ علم وفن کے ہاتھ پاؤں شل ہوگئے ، لیکن امام احمدرضا کے علمی قدومات کا صحیح طور پر کوئی اندازہ نہ لگا سکے۔
       امام احمدرضا قدس سرہ امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے تئیں مخلصانہ جذبات سے سرشار تھے ۔ ان کی زندگی کا مقصد اور نصب العین امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلاۃ والتسلیم کے ایمان و عقیدے اور اعمال و افعال کی اصلاح تھا جس کے لیے انھوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ وقف کر رکھا تھا۔ آپ کی تصنیفات و تالیفات اور فتاؤوں کے مطالعہ سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ آپ کی ذاتِ مقدسہ امت کے ایمان و عقیدے کی حفاظت و صیانت ، محبت و تعظیمِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ترویج و اشاعت اور دینِ اسلام کی سچی اور حقیقی روح سے واقف کرانے کے لیے کیسے اعلیٰ ترین خیر خواہانہ جذبات کی آئینہ دار تھی۔
       پیشِ نظر کتاب" تمہیدِ ایمان بآیات قرآن 1326ء "امام احمدرضا قدس سرہ کی ایک شاہ کار اور معرکہ آرا تصنیف ہے ۔ جس میں آپ نے قرآن و حدیث کے بہ کثرت حوالوں سے امت مسلمہ کو سیدِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کا ایمانی درس دیا ہے ۔ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عقیدت کے دعوؤں کی سچائی اور صداقت کا ایک معیاری پیمانہ بھی اس کتاب میں آپ نے بیان فرمایا ہے ۔ اللہ و رسول جل و علا و صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والوں کے لیے قرآنی انعامات ، اعزازات ،خوش خبریوں اور بشارتوں کا ایمان افروز اظہاریہ اس کتاب کے ورق ورق میں مسطور اور سطر سطر میں معمور ہے ۔ اسی طرح اللہ و رسول جل و علا و صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں اور گستاخوں کے لیے جو سخت وعیدیں اور عذاب قرآن و حدیث میں وارد ہیں ان کا باطل سوز تذکرہ بھی اس مبارک کتاب میں موجود ہے۔
       امام احمدرضا قدس سرہٗ نے اپنی اس کتاب میں گستاخانِ خداورسول سے دوستی اور اتحاد و وِداد کرنے والوں کی بھی خوب خبر لی ہے۔ یہ سب کچھ اتنے سنجیدہ ، مخلصانہ ، شگفتہ اور دل نشین انداز میں امام کے موے قلم نے پیش فرمایا ہے کہ پڑھتے ہوئے طبیعت پر وجدانی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔ ایمان میں تازگی اور عقیدے کی کشت زار میں بادِ بہاری چلنے لگتی ہے ۔
       یہ کتاب راہِ حق کے متلاشیان کے لیے ہمیشہ سے ایک نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں رہی ہے۔ تعصب و عناد اور تنگ نظری سے بالاتر ہوکر منصفانہ اور غیر جانب دارانہ طور پر اس کتاب کو پڑھنے والاحق شناس ہوجا تا ہے ۔ یہی وہ ایمان افروزاور باطل سوز کتاب ہے جو حضور شیرِ بیشۂ سنّت مولانا مفتی محمد حشمت علی خاں رضوی لکھنوی ثم پیلی بھیتی رحمۃ اللہ علیہ کے ایمان و عقیدے کی اصلاح کا سبب بنی۔ چناں چہ مناظرۂ ملتان میں امام المناظرین شیرِ بیشۂ سنت علیہ الرحمہ پر تمہیدِ ایمان کے ذریعہ جیتے جاگتے فیضانِ اعلیٰ حضرت کی تفصیل یوں درج ہے:
       "حضرت شیرِ بیشۂ سنت کی والدہ محترمہ جب مولانا ہدایت رسول صاحب قبلہ آل رسولی علیہ الرحمہ سے بیعت ہوئیں تو پیر و مرشد نے ان کو امام اہل سنت اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ کا تصنیف کردہ مشہوررسالہ "تمہید ایمان بآیات قرآن" اور اس کے ساتھ چند دیگر رسائل اپنی طرف سے عطا فرمائے ۔اس پر والدہ ماجدہ نے کہا صاحب زادہ کی روش تو بدل گئی ہے۔ یہ کتابیں کس کے کام آئیں گی۔ اس پر صاحب کشف و کرامات بزرگ خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا ہدایت رسول صاحب قبلہ آل رسولی علیہ الرحمہ نے ارشاد فرمایا کہ یہ کتابیں رکھو کام آئیں گی۔ پیر ومرشد کی مقدس زبان سے نکلے ہوئے یہ چند کلمات دل کی گہرائیوں میں اتر گئے اوریقین ہوگیا کہ کسی نہ کسی وقت اس کا فائدہ ظاہر ہوگا۔ چناں چہ بستے میں بڑی حفاظت سے رکھ دیں ۔ اس یقین و اعتماد کے ساتھ کہ اس کا فائدہ ضرور ظاہر ہوگا۔ کسی نہ کسی دن یہ ضرور کام آئیں گی۔ چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ پیر کی کرامت اور اس کی صداقت کا ظہور ہوا۔
       یہ وہ زمانہ تھا کہ حضرت شیر بیشۂ سنت مظہر اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ العزیز مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ میں زیر تعلیم تھے اور شرح جامی وغیرہ پڑھ رہے تھے، دیوبندیوں نے درس نظامی کی تعلیم کے ساتھ اپنی بد عقیدگی بھی پلانا شروع کردی تھی اور اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ سے متنفر کردیا تھا۔ والدۂ ماجدہ ان کے حالات سے سخت غم گین و پریشان رہا کرتی تھیں اور اکثر آپ کے والد حافظ نواب علی خاں علیہ الرحمہ سے فرمایا کرتیں ۔ بیٹے کو کیا ہوگیا ہے وہ کبھی خاموش ہوجاتے کبھی فرماتے لڑکا ہے پڑھ کر ٹھیک ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ وہ سعید و مبارک ساعتیں آ پہنچیں ، جس کی خبر صاحب کشف و کرامات پیرومرشد حضرت مولانا ہدایت رسول صاحب قبلہ آلِ رسولی علیہ الرحمہ نے دی تھی، گویا مردِ کامل کی نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہٗ کی کتابیں گھر میں بدعقیدگی کو گھسنے سے روکیں گی اور راہ بھولے ہوؤں کو ہدایت پر لاکر مرد کامل بنادیں گی چناں چہ ایسا ہی ہوا کہ ایک روز حضرت شیر بیشۂ سنت قدس سرہٗ مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ سے پڑھ کر دوپہر کے وقفہ میں گھر پہنچے تو اعلیٰ حضرت بریلوی رضی اللہ عنہ کی مقدس کتابیں گھر میں سوکھ رہی تھیں ، اور انھیں دھوپ دکھائی جارہی تھیں ۔ اپنے گھر میں ان کتابوں کو دیکھ حضرت شیر بیشہ سنت کو تعجب ہوا اور اس کے بعد آگے بڑھ کر اعلیٰ حضرت کی مقدس کتاب"تمہید ایمان بآیات قرآن" ہاتھ میں لے کر پڑھنے لگے ۔ پیر ومرشد کی کرامت کے ظہورکا وقت آچکا تھا۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے سحر آفریں کلمات نے اپنا اثر دکھایا کہ کتاب پڑھتے جارہے ہیں اور بے اختیار یہ کلمات زبان پر جاری ہیں کہ "یقیناً کافر ہیں ، یقیناً کافر ہیں ، یقیناً کافر ہیں ۔" والدۂ ماجدہ اس وقت چولہے کے پاس بیٹھی روٹی پکارہی تھیں ۔ دوپہر کا وقت تھا ان کے کانوں میں جیسے ہی یہ جملے پہنچے ، فوراً روٹی پکانا چھوڑ کر مصلیٰ بچھاکر سجدے میں گر گئیں اور شکرانے کے لیے نماز نفل ادا فرمائی ۔"
( مشمولہ تمہیدِ ایمان ، شائع کردہ : رجاے خواجہ پبلی کیشن ، اجمیر شریف ص ۲۲/۲۳)
       سبحان اللہ!تمہید ایمان کے مطالعے نے حضرت شیر بیشۂ سنت کی دنیا بدل دی ، رجب المرجب 1326ھ کو بارگاہِ اعلیٰ حضرت میں حاضر ہوئے اور اعلیٰ حضرت کے ایسے شیدائی بنے کہ مظہرِاعلیٰ حضرت کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں ۔ آپ کی پوری زندگی احقاقِ حق اور ابطالِ باطل میں بسر ہوئی ۔ یہ سب "تمہیدِ ایمان" ہی کے ذریعہ سے فیضان اعلیٰ حضرت کی تجلیاں ہیں۔
       یوں تو تمہید ایمان کے اب تک پچاسوں ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور اب بھی مسلسل اس کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہے ۔ وقت کے تقاضے اس بات کی دستک دے رہے ہیں کہ اسے زیادہ سے زیادہ عام کیا جائے ۔ قابل مبارک باد ہیں "اعلیٰ حضرت فاؤنڈیشن ، مالیگاؤں" کے ارکان کہ جنھوں نے اسے شائع کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ دعا ہے کہ اللہ عزوجل نبیِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ و طفیل انھیں اسی طرح خلوص و للہیت کے ساتھ امام احمد رضا کے افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کا جذبہ عطا فرمائے ۔
( آمین بجاہٖ النبیِ الکریم صلی اللہ علیہ وسلم       
18 شعبان المعظم 1433ھ بروز پیر ۔۔۔09/07/2012
                                        

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg