Instagram

Sunday, 21 October 2012

چند غزلیں


غزلیات
از : ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی
0000

جہاں پر ہماری جبیں آج خم ہے
یقیناً تمہار ا وہ نقشِ قدم ہے
حضور ﷺآپ کی جب سے نظرِ کرم ہے
مرے دل سے کافور ہر ایک غم ہے
یہ معلوم کرنا ہے جا کر کسی دن
خفا کس لیے مجھ سے شیخِ حرم ہے
اکیلا نہیں غم زدہ مَیں جہاں میں
جسے دیکھتا ہوں وہی چشمِ نم ہے
مَیں ساقی کی آنکھوں سے پینے لگا ہوں
مجھے اب نہیں حاجتِ جامِ جم ہے
پسینے سے اُن کی جبیں ہو گئی تر
جو دیکھا سرِ بزم کھلتا بھرم ہے
اندھیرا جو ہے آج سارے جہاں میں
نَئی روشنی کا یہ لطف و کرم ہے
000
جب سے میرے لبوں کی ہنسی کھو گئی
میری حسرت بھری زندگی کھو گئی
گردشِ وقت تیری عنایات سے
دیکھتے دیکھتے ہر خوشی کھو گئی
جب سے تہذیبِ نَو کا چلاسلسلہ
دوستو! عظمتِ آدمی کھو گئی
دور کرتی تھی جو دل کی تاریکیاں
آج وہ علم کی روشنی کھو گئی
بجھنے پایی نہ تھی میری تشنہ لبی
ساقیا! تیری دریا دلی کھو گئی
بےخودی ایسی دل پہ مسلط ہوئی
ہوش گم ہوگیا اور خودی کھو گئی
ٹھنڈی ہوتی تھیں آنکھیں جسے دیکھ کر
صحنِ گلشن کی وہ دل کشی کھو گئی
رشک کرتے تھے جس پر فرشتے کبھی
ابنِ آدم کی وہ سادگی کھو گئی
غم نے پامال کچھ اس طرح سے کیا
لب بھی خاموش ہے نغمگی کھو گئی

0000

میری شہرت چار سوٗ ہونے لگی
یعنی حاصل آبروٗ ہونے لگی
جس کے باعث تھا کبھی قدسی صفت
ختم انساں کی وہ خوٗ ہونے لگی
جب کہ ہم کنجِ لحد میں سوگئے
تب ہماری جستجوٗ ہونے لگی
اے خوشا کہ اُن کی بزمِ ناز میں
میری ہستی سرخروٗہونے لگی
اُن کی محفل سے مَیں اُٹھ کر آگیا
جب کہ بحثِ ما و تُوٗ ہونے لگی
لایقِ توصیف تھی کل جن کی ذات
آج اُن کی بھی ہجوٗ ہونے لگی
دیکھ کر اُن کی کرم فرمائیاں
زندگی کی آرزوٗ ہونے لگی
گردشِ ایام تیرے فیض سے
خواہشِ جام و سبوٗ ہونے لگی
مجھ سے جتنے لوگ تھے روٹھے ہوئے
اُن سے پھر اب گفتگوٗ ہونے لگی

000

زخم جگر ہر اک کو دکھانا فضول ہے
یعنی تماشا خود کو بنانا فضول ہے
جب اپنی خامیاں ہیں عیاں شمس کی طرح
انگشت دوسروں پہ اٹھانا فضول ہے
تاریکیِ جہاں پہ جو غالب نہ آسکے
ایسا کویی چراغ جلانا فضول ہے
چہرے سے آشکار جو ہوجائے کہے
وہ راز پھر کسی سے چھپانا فضول ہے
بیمارِ غم سے جب کہ تعلق نہیں کوئی
پھر پُرسشِ مریض کو آنا فضول ہے
کھولے گا لب نہ کوئی تسلی کے واسطے
رودادِ غم کسی کو سنانا فضول ہے
اپنے نصیب کا جو ہے رسوائیوں میں ہاتھ
الزام دوسروں پہ لگانا فضول ہے
ساقیِ مَے خلوص سے لبریز جو نہ ہو
رندوں کو ایسا جام پلانا فضول ہے
انسانیت کی جن کو ہوا تک نہیں لگی
اے دوست اُن سے ربط بڑھانا فضول ہے

0000

نہ لب پہ ہلکا سا ہے تبسم نہ دل کو حاصل کوئی خوشی ہے
گھرا ہوا ہوں غم و الم میں یہ زندگی کوئی زندگی ہے
ہے یوں تو کہنے کو آدمی سے بھری ہوئی بزمِ دہر لیکن
ہو آدمیت کا جس میں جوہر حقیقتا وہ ہی آدمی ہے
ہے بات تو جب ہر ایک سجدہ ادا ہو واعظ خلوصِ دل سے
نہ ہوگی مقبول کوئی صورت کہ جو دکھاوے کی بندگی ہے
جسے بھی دیکھو ہے مضطرب وہ جسے بھی دیکھو ہے وہ پریشاں
اُداس چہرہ ہے خشک ہے لب نگاہ میں جیسے بے بسی ہے
اے ساقیِ مَے کدہ اِدھر بھی بڑھادے اک جام ہو جو ممکن
ہمارا ہی ظرف ہے مکمل ہماری فطرت ہی مَے کشی ہے
عبث ہے اب انتظار ان کا سحر کے آثار ہیں نمایاں
نہ اب ستا رے ہیں آسماں پر نہ اب چراغوں میں روشنی ہے
غریب ہو یا ہو کہ ہو تونگر جو ان  ہو یا ضعیف کوئی
ذرا بتاؤ تو مجھ کو یارو! کسی کے چہرے پہ زندگی ہے

0000

دوستی کی آڑ میں کارِ عدوٗ کرتے رہو
بے سبب بدنام مجھ کو چارسوٗ کرتے رہو
آگئے ہو جب تصور میں ذرا کچھ دیر اور
مسکرا کر یوں ہی مجھ سے گفتگوٗ کرتے رہو
صورتِ آئینہ ہے کردار میرا آج بھی
غم نہیں اک اک سے تم میر ی ہجو کرتے رہو
اک نہ اک دن آہی جائے گا ہر اک گل پر نکھار
دوستو! نذرِ چمن اپنا لہو کرتے رہو
ہے اگر پی کر بہک جانے کا تم کو احتمال
دور سے نظّارۂ جام و سبو کرتے رہو
کام آکر دوسروں کے وقت ہر اے دوستو!
خود کو دنیا کی نظر میں سرخرو کرتے رہو
یہ بھی کوئی زندگی ہے بیٹھ کر آٹھوں پہر
توڑ کر دنیا سے رشتہ ذکرِہوٗ کرتے رہو
یہ تو کچھ اچھا نہیں معلوم ہوتا ہے کہ تم
مسکرا کر روز قتلِ آرزوٗ کرتے رہو
دے کے پیغامِ عمل سب کو مُشاہدؔ صبح و شام
ہر بشر کے دل میں پیدا نیک خوٗ کرتے رہو

0000

اک دل ہی نہیں عقل و خرد تاب و تواں دی
قربان مشیت کے مجھے جنسِ گراں دی
وعدے سے مُکرنا ہی جو منظور تھا صاحب
پھر آپ نے کیوں مجھ کو سرِ بزم سزا دی
پیشانی پہ بل آئے نظر پیرِ فلک کے
جب گردشِ دوراں نے ذرا مجھ کو اماں دی
آمادہ ہوئی جب کبھی دینے پہ مشیت
ہر صاحبِ تقدیر کو بے وہم و گماں دی
رندوں میں نظر آنے لگا ہوش کا عالم
مَے خانوں میں جب قلقل و مینا نے اذاں دی
اب وہ بھی لگانے لگے الزام ہمیں پر
صد شکر کہ اللّٰہ نے ان کو بھی زباں دی
رکتی ہوئی محسوس ہوئی نبضِ دوعالم
قدموں پہ ترے جب کسی مظلوم نے جاں دی
بے وجہ تو یہ آئی نہیں آپ لبوں پر
جب برق گری شاخِ نشیمن نے دھواں دی
کہتے ہیں جس ذات کو سب قادرِ مطلق
ہم نے اُسے آواز جہاں چاہا وہاں دی
0000

شمعِ وفا دلوں میں جلائیں گے دوستو!
کچھ اس ادا سے جشن منائیں گے دوستو!
دیوار نفرتوں کی گرائیں گے دوستو!
جَوروجفا جہاں سے مٹائیں گے دوستو!
دورِ خزاں میں پھول کھلا ئیں گے دوستو!
جشنِ بہار یوں بھی منائیں گے دوستو!
وہ اپنی دشمنی کو رکھیں اپنے پاس ہی
ہم دوستی کا ہاتھ بڑھائیں گے دوستو!
مِل جائے جس سے خاک میں اپنا وقار ہی
ایسا کوئی قدم نہ اُٹھائیں گے دوستو!
یہ حوصلے ہمارے ہیں دے زندگی جو ساتھ
گلشن کی ہر روش کو سجا ئیں گے دوستو!
ہم اپنی زندگی کو سنواریں گے آپ ہی
بہکے ہوؤں کو راہ پہ لائیں گے دوستو!
ہوگا نہ کوئی فرق امیر و غریب میں
اک ایسا انقلاب بھی لائیں گے دوستو!
سکھلا دیا ہے ایسا یہ ماحول نے سبق
اب ہم کبھی فریب نہ کھائیں گے دوستو!
00000

نقشِ وفا کو اور ابھاریں گے دوستو!
یوں زندگی کا قرض اتا ریں گے دوستو!
مانا کہ آج لوگوں کے دل ہیں بجھے ہوئے
ہم بڑھ کے زندگی کو پکا ریں گے دوستو!
جن کو دبادیے ہیں زمانے کے سنگ دل
دے کے سہارا ان کو ابھاریں گے دوستو!
آنے تو دو نظامِ چمن اپنے ہاتھ میں
صحنِ چمن کو اور نکھاریں گے دوستو!
اُلجھی ہوئی ہے گیسوے گیتی جو اِن دنوں
ہاتھوں سے اس کو اپنے سنوا ریں گے دوستو!
چھوڑیں گے ہم نہ دامنِ انصاف ہاتھ سے
حق دار کا نہ حق کبھی ماریں گے دوستو!
انگلی اٹھا سکے نہ ہماری طرف کوئی
یوں زندگی جہاں میں گزاریں گے دوستو!
مقصد میں اپنے ہوں بہ ہر حال کامراں
ہمّت کو مشکلوں میں نہ ہاریں گے دوستو!
جو لوگ اقتدار کے نشّے میں چور ہیں
نشّہ ہم ان کا بڑھ کے اتاریں گے دوستو!

0000

آوارہ آج بوے قبا راستوں میں ہے
لگتا ہے جیسے حشر بپا راستوں میں ہے
جاتا ہوں جس طرف نظر آتی ہیں سرخیاں
جیسے لہو کا پھول کھلا راستوں میں ہے
اب اس سے بڑھ کے فیضِ ترقی ہو اور کیا
بکھری ہوئی جو لاش وفا راستوں میں ہے
انساں نکل کے پھنس گیا بابِ خلوص سے
پھیلا جو دامِ مکر و ریا راستوں میں ہے
جو قافلہ تھا جانبِ منزل رواں دواں
وہ منتشر جگہ بہ جگہ راستوں میں
کوئی بچا کے رکھے تو رکھے کہاں قدم
رقصاں ہر اک قدم پہ قضا راستوں میں ہے
پائے بھی کوئی کس طرح منزل خلوص کی
جب حرص و آز جلوہ نما راستوں میں ہے
میرے پیامِ شوق میں ہے کچھ کمی ضرور
الجھی ہوئی جو بادِ صبا راستوں میں ہے
ہوں گے ضرور اہلِ جنوں اس سے فیض یاب
اے دوست نقشِ پا جو مرے راستوں میں ہے
000
تمہارے فیض سے حاصل مجھے دوام تو ہے
مری نظر میں درخشاں سوادِ شام تو ہے
بہار آئے نہ آئے کسے خبر لیکن
چمن میں جشنِ بہاراں کا اہتمام تو ہے
نہیں ہے مائل لطف و کرم تو کیا غم ہے
کسی حسیٖن کے لب پر ہمارا نام تو ہے
بَلاسے کرتا ہے ساقی ہمیں نظر انداز
یہی بہت ہے کہ گردش میں دورِ جام تو ہے
ہر ایک لفظ ہے تیرا خلوص سے خالی
زہے نصیب کہ مجھ سے تو ہم کلام تو ہے
اے رہروانِ محبت! نہ حوصلہ ہارو
تمہاری منزلِ مقصود چند گام تو ہے
نظر سے دور ہے لیکن بہ شکلِ یادِ حسیٖں
ہمارے خانۂ دل میں ترا قیام تو ہے
000
جو اپنے آپ کو سمجھا حقیقتاً مَیں نے
لیا نہ غیر کا احساں ضرورتاً مَیں نے
خدا گواہ قیامت ہی آگئی جیسے
ذرا سی بات جو کہہ دی نصیحتاً مَیں نے
مجھے نکالے وہ محفل سے بے ادب کہہ کر
نظر اٹھائی جو اپنی شکایتاً مَیں نے
جو رعبِ حسن سے اپنی زباں پہ لا نہ سکا
وہ بات کہہ دی نظر سے اشارتاً مَیں نے
عجیب بات ہے ان کے بدل گئے تیور
دیا جو درس محبت محبتاً مَیں نے
وہی تو ان کی نظر میں کھٹکتا رہتا ہے
کیا ہے نام جو حاصل شرافتاً مَیں نے
دے میرے حوصلے کی داد گردشِ دوراں
کہ تجھ کو چھیڑ دیا ہے شرارتاً مَیں نے
بُرا وہ کہتے رہے مجھ کو طیش میں لیکن
اٹھایا ہاتھ نہ اپنا مروتاً مَیں نے
جسے بھی چاہا مُشاہدؔ نے دل سے ہی چاہا
نہ کی کسی سے محبت روایتاً مَیں نے
0000
روبرو جب تک کسی کی شکلِ نورانی رہی
میری آنکھوں میں چمک اور دل میں تابانی رہی
ختم ہوجائے گی اک دن نسل انسان دیکھنا
خونِ انساں کی یوں ہی کچھ اور ارزانی رہی
دہر نے دیکھا ہے تخت و تاج چھن جانے کے بعد
مدتوں موجود ہم میں خوے سلطانی رہی
جس کی وجہِ خاص سے انساں کا اونچا تھا وقار
اب وہ انساں میں کہاں تہذیبِ انسانی رہی
کیا سمجھ میں ان کے آئے عظمتِ بامِ حرم
آستانِ ناز پر خم جن کی پیشانی رہی
بات کیا تھی باغباں جو اس طرح اب کے برس
فصل گل ہوتے ہوئے گلشن میں ویرانی رہی
فقر و فاقہ میں گزاری میں نے ساری زندگی
عیش و عشرت سے طبیعت میری بیگانی رہی
رنج و غم ، یاس و تمنا اور فکرِ روزگار
خانۂ دل میں مرے اِن سب کی مہمانی رہی
راہِ ہستی پر رہا تا عمر مَیں ثابت قدم
راہِ ہستی میری خاطر پھر بھی انجانی رہی
0000
نہ پیرِ مَے کدہ اپنا نہ شیخِ حرم اپنا
ہے لے دے کے جہاں میں ایک تو ہی اے صنم اپنا
رہِ حق و صداقت پر رہا جب تک قدم اپنا
جہاں چاہا وہاں لہرادیا بڑھ کر عَلم اپنا
جہاں پر نسل انساں کا پہنچنا کارِ مشکل تھا
وہاں پر چھوڑ آئے جاکے ہم نقشِ قدم اپنا
نہ میری فکر کیجے ظلم سہنے کا مَیں عادی ہوں
تم اپنے پاس ہی رہنے دو فرسودہ کرم اپنا
مَیں پھر کہتا ہوں یہ تم کو کہ مجھ کو بے وفا کہہ کر
سرِ محفل نہ کھلواؤ عبث مجھ سے بھرم اپنا
ملیں غم کے عوض خوشیاں اگر سارے زمانے کی
یقیں مانو نہ دوں پھر بھی کسی انساں کو غم اپنا
ستم ہے دوستو! وہ غیر نکلا وقت پڑنے پر
جسے سمجھے ہوئے بیٹھے تھے اپنے دل میں ہم اپنا
اگر مَیں روکنا چاہوں بھی تو رکتا نہیں ہرگز
روانی میں جب آتا ہے مُشاہدؔ یوں قلم اپنا
0000
ہم میں جو کل تھی آج وہ زندہ دلی کہاں؟
ہے زندگی کا نام مگر زندگی کہاں؟
گھر سے نکل پڑا ہوں مگر یہ خبر نہیں
لے جائے گی مجھے مری دیوانگی کہاں؟
کہہ دوں مَیں ان سے حالِ دلِ مضطرب مگر
کرتے ہیں مجھ سے ان دنوں وہ بات ہی کہاں؟
جس پر پہنچ کے ہوتا ہے حاصل سکونِ دل
اے دوست ہم نے پائی ہے وہ منزل ہی کہاں؟
کرتے تھے جن کا دل سے فرشتے بھی احترام
ملتے ہیں اب جہان میں وہ آدمی کہاں؟
قیدِ قفس سے چھوٹ کے اڑنے نہ پائیں گے
اس بات سے تھی ہم کو بھلا آگہی کہاں؟
رندوں کو کردے جام عطا بے طلب کئی
ساقیِ مَے کدہ میں یہ زندہ دلی کہاں؟
جو روشنی نہاں مرے داغِ جگر میں ہے
یارو! مہ و نجوم میں وہ روشنی کہاں؟
خاروں کے ساتھ پھول بھی جھلسے ہوئے ہیں آج
صحنِ چمن سے جانے گئی دل کشی کہاں؟
0000
تیرگی کے خوگر کو روشنی سے نفرت ہے
دشمنِ محبت کو دوستی سے نفرت ہے
زندگی میں مَیں اپنی غیر کاسہارا لوں
میرے عزم کو ایسی زندگی سے نفرت ہے
شکوۂ جفا لب پر اس سے ہوگیا ظاہر
چاند کے پرستارو! چاندنی سے نفرت ہے
اس کا نام لیتا ہوں اس کا ذکر ہے لب پر
کس نے یہ کہا مجھ کو بندگی سے نفرت ہے
پھول مسکراتا ہے خار کے بھی پہلو میں
آدمی کا جانے کیوں آدمی سے نفرت سے
جُرم ہے سرِ محفل ہاتھ روکنا ساقی
مَیں نے کب کہا مجھ کو مَے کشی سے نفرت ہے
وقت نامناسب ہے ذکرِ دار کیا کیجے
تیرے غم کے ماروں کو بے خودی سے نفرت ہے
گلستاں کی حالت سے صرف مطمئن وہ ہیں
جن کو اپنے گلشن کی دل کشی سے نفرت ہے
آدمی جسے سُن کر راہ سے بھٹک جائے
آج بھی مجھے ایسی شاعری سے نفرت ہے
0000
عبث ہے مجھ میں جو ایسا کمال آجائے
کہ چار دن میں ہی جس کو زوال آجائے
بجاے اشک بہانے کے مسکرادیتا
کبھی جو بھول کے میرا خیال آجائے
حضور! آپ کی ان سخت سخت باتوں سے
کسی کے شیشۂ دل میں نہ بال آجائے
ہمیشہ کیجیے اس طرح نرم تر باتیں
کہ جن کو سن کے زمانے کو حال آجائے
مرے زوال پہ خوشیاں منانے والو! کہیں
مری طرح نہ تمہیں بھی زوال آجائے
نگاہِ دہر کا مرکز وہ بن ہی جاتا ہے
جس آدمی میں اچانک کمال آجائے
مَیں ان کے ظلم پہ رہتا ہوں اس لیے خاموش
مری طرف سے نہ دل میں ملال آجائے
0000
عشرتوں کی مَے نہ جام دو
زندگی کا تم ہمیں پیغام دو
کرسکو تم خود نہ جو وہ کام دو
ہم یہ کب کہتے ہیں کہ آرام دو
آزمالو باوفا ہیں کہ نہیں
بے وفائی کا نہ یوں الزام دو
مَے کدے والو! بہ جشنِ مَے کدہ
تشنہ کاموں کا بھی اِذنِ عام دو
ساتھ منزل تک نہ دو تو کم سے کم
ساتھ میرا دوستو! دو گام دو
اپنے عیبوں کو چھپانے کے لیے
غیر لوگوں کو نہ تم الزام دو
ہم خدا لگتی کہیں گے دوستو!
غم نہیں ہم کو اگر دشنام دو
0000