Instagram

Tuesday, 13 November 2012

قافلۂ حجاز میں— اسلامی نشاۃ ثانیہ کے لیےحسین کا عزم و عمل درکار ہے



قافلۂ حجاز میں—
اسلامی نشاۃ ثانیہ کے لیےحسین کا عزم و عمل درکار ہے
ڈاکٹرمحمد حسین مشاہدؔ رضویO
 
       محرم الحرام 1434ھ میدان کرب و بلا میں جگر گوشۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت عظمیٰ کی یاد تازہ کرنے کا مہینہ ایسے خوں آشام ماحول میں آیا ہے جب کہ ساری مسلم دنیا پریشاں حال اور تباہ کن حالات سے گزر رہی ہے ۔ یہ سچ ہے کہ مسلم دنیا میں اسلام کا نظام عدل و انصاف اور اصول امن و مساوات نافذ کرنے کی جس قدر ضرورت آج محسوس کی جارہی ہے دور جدید میں اس سے قبل کبھی نہیں کی گئی۔ اس عہد میں شاید پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ مغربی ممالک میں اسلامی نشاۃ ثانیہ کے امکانات پر تبادلۂ خیالات اور بحث و تمحیص کا سلسلہ دراز ہے۔ لیکن اس خوش آیند پہلو کے پیش نظر جب ہم مسلم ممالک پر طائرانہ نگاہ کرتے ہیں تو یہ دیکھ کر تمام خوش فہمیاں خاک میں مل جاتی ہیں کہ مغربی دنیا جس نشاۃ ثانیہ کو ممکن قرار دے رہی اس کے لیے خود مسلمانوں کےاندر حقیقی تڑپ اور سچی طلب پیدا ہونے میں اب بھی کچھ دیر ہی محسوس ہوتی ہے۔ اس وقت عالم اسلام کا نقشہ کیا ہے؟ چند مختصر جملوں میں یہ کہ کسی بھی مسلم ملک میں اسلامی نظام تو کجا اس سے کم درجہ جمہوری نظام تک موجود نہیں ۔ کہیں باشاہت ہے ۔ کہیں ایک پارٹی کی حکومت ہے اور کہیں عوام سے لاتعلق سا سیاسی نظام ہے۔ تقریباً ہر ایک مسلم ملک میں اسلامی نظام کے لیے ایک جدوجہد موجود ہے جو کامیابی و ناکامی کے مختلف مراحل و مدارج کے درمیان لٹکی ہوئی ہے۔ جن مسلم ملکوں میں دولت و ثروت کا سمندر ٹھاٹھیں ماررہا ہے انھوں نے دوسروں پر اپنا ابدی وازلی انحصار ختم کرنے کی کوشش کو لامحدود نہیں بل کہ محدود کردیا ہے۔ اور بعض حالات میں ان کی شہ رگ دوسروں کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ خوراک جیسی بنیادی چیز کے لیے بھی ان لوگوں کے محتاج ہیں جو اسلام کی سرفرازی و کامرانی کی کسی کوشش کو ہر گز ہرگز پسند نہیں کرسکتے ۔ محض دکھاوے کے لیے ہی سہی برداشت کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔جو مسلم ممالک غریب ہیں وہ غربت کے مسائل سے اس بری طرح الجھے ہوئے ہیں کہ اپنا روایتی نظام ترک کرکے اسلامی نظام اختیار کرنے کی جست لگانے میں انھیں ہچکچاہٹ سے بچنا محال ہے۔ عالم اسلام کے اندرونی حالات کی یہ تصویر جو ہم سب کےسامنے پیش کرتی ہے وہ کوئی دل خوش کن منظر نہیں ہے۔ مغربی میڈیا ہمیں اس خوش فہمی میں مبتلا کرنا چاہتا ہے کہ اسلامی نشاۃ ثانیہ کی کوشش ہورہی ہے ۔لیکن ہم اس حقیقت سے چشم پوشی ہرگز نہیں کرسکتے کہ ہتھیاروں اور خوراک جیسی بنیادی چیزوں کے لیے تمام مسلم ممالک غیر ممالک کے محتاج ہیں شاید اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اسلامی ملکوں میں کہیں بھی عوام کا راج نہیں ہے اورقیادت اس خالص ترین جذبہ سے سرشار نہیں جو ستاروں پر کمند ڈالنے کا عزم مصمم کرسکے اور اس عزم کو عمل میں ڈھال سکے۔ کسی بھی زاویۂ نگاہ سے مسائل کا جائزہ لیں بات وہیں پہنچتی ہے کہ   ؂
قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
       ہم یاد تو اپنی تمام محبوب شخصیات کی مناتے ہیں ، ماہ محرم الحرام میں بھی اس عظیم الشان قربانی کی یاد منائی جاتی ہے ۔ جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہم میں وہ جذبۂ حسینی کسی طور بیدار نہیں ہوتا جو دنیا میں اسلامی پرچم سرفراز کرسکتے اور بساط عالم پر مسلم ملکوں کو ایک بڑی اور فیصلہ کن طاقت بنواسکے ۔
       مسلم ملکوں میں اب اتحاد و اتفاق اور اسلامی نظام کی باتیں پہلے سے زیادہ ہونے لگی ہیں شاید یہ احساس کو عمل میں ڈھالنے کی ایک ضروری منزل ہو ۔ لیکن نوشتۂ دیوار بہ ہر حال یہی ہے کہ اسلامی ملکوں کو حقیقتاً اسلام نافذ کرنا پڑے گا۔
       اپنے اپنے ملک میں ہر فرد بشر کے لیے اسلام کے مطابق عدل و مساوات کا نظام رائج کرنا ہوگا اور ہر جگہ قیادت کے لیے لازمی ہوگا کہ عوام کو ساتھ لے کر اسلامی نشاۃ ثانیہ کے لیے ہی جدوجہد کرے۔ جب تک اسلامی ملکوں کی لیڈر شپ اور عوام قدم بہ قدم ایک ہی سمت میں سفر شروع نہیں کریں گے یہ خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا اور عوام کو ساتھ لے کر چلنا صرف اسی قیادت کو نصیب ہوسکتا ہے ۔ جو بنیادی مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوجائے اس طرح بات یہاں پہنچتی ہے کہ مسلم ملکوں میں حکومت کے کارپرداز اگر حقیقتاً اسلامی نشاۃ ثانیہ چاہتے ہیں تو انھیں اپنے اپنے عوام کے بنیادی مسائل حل کر دینے چاہئیں اور اس کے بعد انحصار کی اس لعنت کو ختم کردینا چاہیےجو وہ غیر ممالک پر کیے ہوئے ہیں ۔ جب تک اسلامی ملکوں میں یہ کام نہیں ہوتا بار باریہ صدا آتی رہے گی کہ
قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg