Instagram

Monday, 19 November 2012

محمد حسین مُشاہدؔ رضوی کی نعتیہ شاعری



محمد حسین مُشاہدؔ رضوی کی نعتیہ شاعری
از: محمد اکرم نقش بندی بالا پوری (اورنگ آباد

       نعت اپنے موضوعاتی حسن و تقدس اور ہیئتی تنوع کے اعتبار سے ادب کی جملہ اصناف میں سب سے محترم،مکرّم اور آفاقی صنفِ سخن کا درجہ رکھتی ہے۔نعت دیگر اصناف کے مقابل انتہائی مشکل ترین اور حزم و احتیاط کی متقاضی صنف ہے۔اس میں انھیں موضوعات اور جذبات و خیالا ت کو بیان کرنا چاہیے جو شریعت کے تقاضوں کے عین مطابق ہوں۔دراصل سچّی نعت وہی ہوتی ہے جو عبد و معبود کے فرقِ مراتب کا لحاظ کرتے ہوئے،احتیاط کے ساتھ،مبالغہ اور بے جا خیال آرائی سے پاک و صاف لکھی جائے ۔علماے ادب اور نعتیہ ادب کے محققین کا اس امر پر اجماع ہے کہ نعت کا راستہ بال سے باریک تر اور تلوار کی دھار سے بھی تیز تر ہے۔اس وادی میں بال برابر بھی زیادتی ہوئی تو شرک اور بال برابر بھی کمی ہوئی تو تَوہینِ رسالت(ﷺ) ہوسکتی ہے۔جس سے نعت بجائے مدح کے قدح میں بدل کر رہ جائے گی۔
       اِس وقت میرے مطالعہ کی میزپر عزیزی محمد حُسین مُشاہدؔ رضوی زید مجدہٗ کا نعتیہ دیوان’’لمعاتِ بخشش‘‘ ہے ۔جس میںحمدومناجات ودُعا،نعتیہ نغمات،سلام،مناقب و قصاید،قطعات اور آزاد منظومات شامل ہیں۔دیدہ زیب و خوش نماسرورق،عمدہ کمپوزنگ اور بہترین طباعت کے ساتھ ۲۴۰؍صفحات پر مشتمل یہ دیوان سٹی بک ڈپو،قصاب باڑہ مسجد ،محمد علی روڈ ،مالیگاوں پر دست یاب ہے۔
       محمد حُسین مُشاہدؔ رضوی،مراٹھواڑہ یونی ورسٹی ،اورنگ آباد سے حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمہ کے فرزندِ اصغر مفتیِ اعظم مولانا مصطفی رضا نوریؔ بریلوی کی نعتیہ شاعری پر پی۔ایچ۔ ڈی۔ کررہے ہیں۔موصوف کا اورنگ آباد بار بار آنا جانا لگا رہتا ہے۔ملاقاتیں ہوتی ہیں،علمی و ادبی گفتگوئیں ہوتی ہیں۔ویسے میرا آپ سے قریباً ۴؍ سال سے تعلق ہے مگر اس قلیل مدت میں ہی راقم آپ کی علمی،ادبی صلاحیتوں اور لیاقتوں کا سچّے دل سے معترف اور قدر داں ہے۔ایک مرتبہ مجھے اچھی طرح یاد ہے موصوف نے ایک نشست میں اپنی لکھی ہوئی حمد پڑھی۔جس کے چند اشعار یہ ہیں     ؎
بطونِ سنگ میں کیڑوں کو پالتا ہے تُو ہی
صدف میں گوہرِ نایاب ڈھالتا ہے تُو ہی
تُو ہی تو مردہ زمینوںکو زندہ کرتا ہے
گُلوں کے جسم میں خوش بوئیں ڈالتاہے تُو ہی
       مُشاہدؔ رضوی کے ان حمدیہ اشعار کو سن کو سامعین وجد کر اُٹھّے …میں تو کبھی مُشاہد کو سر تاپا دیکھتا تو کبھی اِن بلیغ اشعار میں پوشیدہ انوکھی لفظیات اور طرزِ اظہار کی پختگی و نغمگی کی صداے باز گشت کو سنتا…جو میری سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔بے ساختہ میں نے مُشاہدؔ سے اُس کی عمر پوچھی،جب اُس نے اپنی تاریخ پیدائش ۱۹۷۹ء بتائی تو میں مزید متحیر و متعجب ہوگیا کہ اتنی کم عمری میں اتنا پُختہ اور گہرا مطالعہ اور ایسی بہترین لفظیات کا سادگی و صفائی سے فن کارانہ استعمال…میں نے مُشاہدؔسے چند اور کلام سنانے کی فرمائش کی ،اور اس طرح آپ کے شعری و فنّی خد وکال کا مجھے اجمالی ادراک ہوا۔
       اب جب کہ موصوف کا نعتیہ دیوان’’لمعاتِ بخشش‘‘ مجھے موصول ہو تو مُشاہدؔ کی علمی شخصیت کو اُن کی شاعری کے حوالے سے سمجھنے کا مزید موقع میسر آیا۔’’لمعاتِ بخشش‘‘ایسا دیوان نہیں ہے کہ اسے سرسری پڑھ کر گزر جایا جائے بل کہ اس کے شعر شعر میں موجزن گہرائی وگیرائی،صداقت و سچّائی،خلوص و للہیت ہمیں اس بات پر مہمیز کرتی ہے کہ اس میں پوشیدہ شعری و فنّی محاسن پر خامہ فرسائی کی جائے۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مکمل دیوان کا جائزہ تفصیل کا متقاضی ہے۔یہاں مختصراً روشنی ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
       ’’لمعاتِ بخشش‘‘کے اشعار میں بقول ڈاکٹر غلام جابر شمسؔ مصباحی:
       ’’سچائی ہے…صداقت ہے…شیرینی ہے…حلاوت ہے…صفائی ہے…نظافت ہے…پاکیزگی ہے…طہارت ہے …ادب ہے …احترام ہے…تعظیم ہے…توقیر ہے…وارفتگی ہے…شیفتگی ہے…شگفتگی ہے…شادابگی ہے…عشق کی چمک ہے…محبت کی دمک ہے…خلوص کی مہک ہے…شعروں میں زندگی ہے…شاعری میں بندگی ہے…کیف آگیں پیکریت ہے…استعارہ سازی ہے…صنائع کے نجوم درخشاں ہیں…بدائع کے مہر و ماہ روشن ہیں…محاورات کا ادیبانہ استعمال ہے…ہندی بھاشاکی آمیزش ہے …فارسیت کا رچاو ہے…‘‘       ؎
نُطق فدا ، قلم فدا ، ذہن فدا ، زباں فدا
طیبہ پہ شاعری فدا ، سارے سخن وراں فدا
رنگ کا رنگ اُن سے ہے ، اُن سے ہی نکہتِ شمیم
گل نہیں غنچہ ہی نہیں اُن پر ہے گلستاں فدا
لائے مُشاہدؔ اور کیا، آپ کی نذر کرنے کو
اِسکا کلام ہو فدا اِسکی خموشیاں فدا
وہ رنگِ بیاں آپ کا اعجازِ کلامی
فُصحائے عرب کرتے ہیں گفتار کا چرچا
انھیں کا عشق ہے مشعل فروزِ قلب و نظر
وہ خوش نصیب ہے جس دل میں اُن کا پیار آیا
قاسمِ نعمتِ خالقِ دوجہاں
دیدیں ہم کو نِعَم سیدالانبیا
آپ ہیں واقفِ رازِ کون و مکاں
مغزِ رازِ حِکَم سیدالانبیا
غارِ حِرا سے نکلی تھی عرصہ گذر گیا
اب بھی ہے خوب روشن قرآن کی شعاع
       مُشاہدؔ رضوی کی کم عمری اوراس قدر اعلا اور بلیغ لفظیات جو دیکھ کر بے ساختہ سبحان اللہ ! کہنے کو جی چاہتا ہے اور دل سے دُعا نکلتی ہے کہ ’’اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ‘‘
        مُشاہدؔ رضوی کی نعتیہ شاعری بھی دیگر عاشقانِ رسول(ﷺ)کی طرح عقیدے اور عقیدت کی شاعری ہے،لیکن عقیدت کی سرشاری و سر مستی کے باوجود حزم و احتیاط کا دامن کہیں بھی مُشاہدؔنے ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا ہے۔مکمل دیوان میں مبالغہ و غلو اور افراط و تفریط کا شائبہ بھی نہیں ملتا      ؎
اُن کے طفیل ہم کو خدا کا یقیں ملا
دنیا انھیں سے پائی انھیں سے ہے دیں ملا
یوں تو محبوب سارے انبیا مجھ کو مگر
ہے اُنھیں محبوب امت جس قدر ، اچھّا لگا
ہمارے لفظ ہیں بے بس ثنائے سرور میں
کہ جب قرآن ہے رطبُ اللساں شمائل کا
دل میں یادِ خالق ہو ، لب پہ ذکر ہو اُن کا
اور چاہیے پھر کیا اور کیا کروں گا میں
       چوں کہ مُشاہدؔ نے حضرت امام احمد رضا بریلوی سے خوب اکتسابِ فیض کیا ہے ۔اس سبب سے آپ کی لفظیات،موضوعات اور خیالات میں ’’حدائقِ بخشش‘‘ کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔کلامِ مُشاہدؔ اور کلامِ رضاؔ کی صوتی و معنوی ہم آہنگی کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں     ؎
پتھروں کو ہے مِلا ثَور و حرا کا منصب
میرے دل کو بھی کوئی درجہ دلادیں آقا
ہے خود قرآن میں اللہ نے فرمائی نعت اُن کی
کرے گا حق ادا پھر کوئی کیسے اُن کی مدحت کا
شہرِ یارِ ارم سیدالانبیا
تاج دارِ حرم سیدالانبیا
کہفِ روزِ مصیبت ہیں آقا مرے
موجِ بحرِ کرم سیدالانبیا
جن کو قسمت سے ملی پُشتوں تلک مہکا کیے
ایسی خوش بو ہے بسی درمیاں گیسوئے دوست
دِیا اذن کعبہ کو قبلا بنالیں
رضائے خدا ہے رضائے محمد(ﷺ)
جبینِ پاک ہے انوار کا خزانہ ایک
اور آئینے سے سوا حُسن و طلعتِ عارض
پُل سے تو تُو گذرے گا بے خطر مُشاہدؔ سُن
ہے صدائے سلِّم جب لب پہ اُن کے محشر میں
       الغرض ’’لمعاتِ بخشش‘‘ کی نعتوں میں فکر و فن،جذبہ و تخیل،مضمون آفرینی،جدّتِ خیال،ندرتِ بیان،شوکتِ ادا،مُعانی آفرینی،سادگی و صفائی،سلاست و روانی،شاعرانہ حُسن و رعنائی،نغمگی و موسیقیت،پاکیزہ خیالات و جذبات ،جمالیاتی رنگ و آہنگ،کیف و سرمستی ،سوز و گداز،اچھوتے موضوعات ولفظیات،عشق و محبتِ رسول (ﷺ)کا جذبۂ خیراور تعظیم و ادبِ رسول (ﷺ)کی جھلکیاں ہیں ،جو مُشاہدؔ رضوی کے ایک محتاط ،بہترین،اہل علم،سچے عاشقِ رول شاعر ہونے پر دال ہیں۔ذیل میں’’لمعاتِ بخشش‘‘ سے چیدہ چیدہ اشعار ملاحظہ ہوں    ؎
مجھے طلب نہ دُنیا کے سیٖم و زر کی خدا
فقط ہو دل سے مرے دل کو آرزوئے نبی
تھے ظلم وجَور کے طوفاں جہاں میں اوج پر لوگو!
شہِ کون و مکاں آئے پیامِ آشتی لے کر
نکالا ہم کو جہالت کے اندھے غاروں سے
نہ آیا جگ میں کوئی میرے رہِ نما کی طرح
وہ جن کی خود سری صدیوں پہ تھیں محیط مگر
نگاہِ لطف و کرم سے انھیں سنوار آیا
خلوص و عدل و مساوات و نظم و ضبط و وفا
جہاں میں بانٹتا محبوبِ کردگار آیا
سنگ باری کے بدلے میں دعاوں سے نوازا
لاریب! ہے بے مثل یہ کردار نبی کا
زندگی کی زندگی ہے عشق و اُلفت آپ کی
حُبِ احمد گر نہ خاشاک ہوجائے حیات
ہاں! امن کے دشمن تم ہی ہو الزام ہمیں دیتے ہو مگر
آکر کے ذرا تم دیکھ تو لو اَخلاقِ پیمبر کی باتیں
دیکھا نہ تھا دنیا کی نگاہوں نے کبھی ، اب
اخلاق کا وہ کال ہے سرکارِ مدینہ
ظلمتِ جہالت کو نورِ علم سے بدلا
کیوں نہ اُن کے آنے کی ہر طرف خوشی ہوگی
       مُشاہدؔ رضوی کی ذیل نعت تو اپنا جواب آپ نہیں رکھتی۔ایک ہی لفظ سے دوسرا لفظ ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں بڑے حُسن و خوبی سے کیا گیا ہے۔لسانی تعمل کا یہ انوکھا اظہار مُشاہدؔ رضوی کی فصاحت و بلاغت اور زبان و بیان سے گہری واقفیت کا ثبوت ہے    ؎
صبیح آپ صباحت کی آبرُو بھی آپ
ملیح آپ ، ملاحت کی آبرُو بھی آپ
ہوا ، نہ ہے ، نہ کبھی ہوگا آپ سا کوئی
وجیہ آپ ، وجاہت کی آبرُو بھی آپ
سعادتوں نے سعادت ہے آپ سے پائی
سعید آپ ، سعادت کی آبرُو بھی آپ
سراپا آپ کا معمور نکہتوں سے ہے
نفیس آپ ، نفاست کی آبرُو بھی آپ
زبان گنگ فصیحانِ کائنات کی ہے
فصیح آپ ، فصاحت کی آبرُو بھی آپ
بلاغتوں میں جو یکتا تھے بن گئے گونگے
بلیغ آپ ، بلاغت کی آبرُو بھی آپ
جو قتل کرنے کے درپے تھے وہ بھی کہتے تھے
امین آپ ، امانت کی آبرُو بھی آپ
قسیمِ نعمتِ رب آپ ہیں مرے آقا
کفیل آپ ، کفالت کی آبرُو بھی آپ
       الغرض محمد حُسین مُشاہدؔ رضوی مالیگانوی کے اندر ایک اچھے نعت گو شاعر کی تمام خوبیاں اور محاسن موجود ہیں۔چندفنّی اسقام سے قطعِ نظر اردو ادب کے لیے مُشاہدؔ رضوی نے ایک گنج ہائے گراں مایہ کا اضافہ کیا ہے ۔آپ کے نعتیہ دیوان’’لمعاتِ بخشش‘‘کے مطالعہ کی پُرزور سفارش کی جاتی ہے۔دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحبِ قرآن  ﷺ کے صدقہ و طفیل مُشاہدؔ رضوی کے نعتیہ دیوان کو شرفِ قبول بخشے اور موصوف کو اس کی جزائے خیر عطا فرماتے ہوئے حاسدوں کے حسد اور شریروں کے شر سے محفوظ رکھے ۔(آمیٖن)
(روزنامہ ’’اردو ٹائمز‘‘جلد ۵۱؍شمارہ۱۱۲؍سنیچر۲۴؍اپریل۲۰۱۰ئ،جمادی الاول ۱۴۳۱ھ،ص۶)