Instagram

Thursday, 22 November 2012

مذاکرہ بہ عنوان - نعت میںاحتیاطی رویّے اور موضوع روایتیں

مذاکرہ بہ عنوان   -  نعت میںاحتیاطی رویّے اور موضوع روایتیں

آل انڈیا ریڈیو(آکاش وانی) جلگاؤں پر 16 نومبر 2012ء کوجاوید انصاری صاحب کے ساتھ ڈاکٹر محمد حسین مشاہدرضوی کی
"نعت میں احتیاطی رویےاور موضوع روایتیں" عنوان کے تحت ہونے والی گفتگو کا تحریری روپ

جاویدانصاری:     سب سے پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ نعت کسے کہتے ہیں اور نعت کی تعریف کیا ہے؟
مشاہدؔرضوی:     یوں تو عام طور پر نعت اس نظم کو کہا جاتا ہے جس میں اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف بیان کی جاتی ہے۔ویسے میرے نزدیک ہر وہ ادب پارہ جو اپنے قاری یا سامع کو سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف متوجہ اور قریب کرے وہ نعت ہے چاہے وہ نظمیہ اظہار ہو یا نثری۔

جاویدانصاری:     عموماً نظم کے فارم میں لکھا جانا والاکلام نعت کہلاتا ہے ، آپ نے نثر ی اظہار کو بھی نعت کہا ہے تو نثری نعت کے زمرے میں آپ کن کو شمار کرتے ہیں؟
مشاہدؔرضوی:     نثری نعت کی سب سے بڑی اورعمدہ مثال قرآن کریم ہے کہ جس میں جگہ جگہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر جمیل ملتا ہے کہیں آپ کو مزمل ومدثر ، کہیں طٰہٰ و یٰسین، کہیں سراج منیر ، کہیں منذر و نذیر کہہ کر خطاب کیا گیا ہے ، آپ ﷺ کے شمائل و فضائل سے قرآن کریم کا ورق ورق معمور ہے۔قرآن نہ صرف نثری نعت کا بہترین شاہ کار ہے بل کہ کامل و اکمل اور اولین درس گاہِ نعت بھی ہے ناچیز نے اپنے ایک شعر میں کہا ہے کہ    ؎
میں نے تفسیر قرآن میں سیرت سرور پڑھی
ہر ورق پر نقش ہے نعتِ شہنشاہ امم
    ا س کے علاوہ باب فضائل کی حدیثیں اور سیرت کی کتابیں بھی نثری نعت کے نمونے قرار دیے جاسکتے ہیں ۔ وہ نعت جو نظم کے فارم میں لکھی جاتی ہے اس میں بیان کیے جانے والے موضوعات تو قرآن و حدیث اور سیرت ہی سے ماخوذ ہوتے ہیں۔

جاویدانصاری:      ماشاء اللہ ! بہت خوب ! آپ خود بھی نعتیہ شاعری کرتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ نعتیہ ادب پر آپ کو پی ایچ ڈی کا اعزازبھی حاصل ہے ۔ کن امور نے آپ کو اس کام کی طرف راغب کیا؟
مشاہدؔرضوی:     گھریلو ماحول کے سبب خصوصاً والدین کی تربیت سے بچپن ہی سے کانوں میں نعتیہ نغمات گونجتے رہے جن میں عموماً امام احمد رضا بریلوی ، علامہ حسن رضا بریلوی ،علامہ جمیلِ قادری، مفتیِ اعظم ہند ، مولانا سعید اعجاز کامٹوی ، سید نظمی میاں مارہروی ، اجمل سلطان پوری ، بیکل اتساہی ،الطاف سلطان پوری اور کلیم شاہدوی وغیرہ کی نعتیں کثرت سے پڑھنے سننے میں آئیں۔ دسویں جماعت میں ناچیز نے اپنی زندگی کی پہلی نعت لکھی جو کہ امام احمدرضا بریلوی کی مشہور نعت… زہے عزت و اعتلاے محمد (ﷺ) کی زمین پر ہے جس کا مطلع یوں ہے کہ     ؎   
ہے بہتر وظیفہ ثناے محمد (ﷺ)
خدا خود ہے مدحت سراے محمد (ﷺ)
    اس کے بعد فضل الٰہی اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف خاص نے نعت گوئی کی طرف راغب کیا، ایم اے میں رہتے ہوئے NETنیشنل ایجوکیشنل ٹیلنٹ کے مشکل ترین امتحان میں جب کامیابی ملی تو پی ایچ ڈی کا خیال جو پہلے ہی سے تھا مزید پختہ ہوا اور نعتیہ ادب سے چوں کہ بچپن ہی سے لگاو تھا لہٰذا یہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیضان ہے کہ تین سال کی قلیل مدت میں مفتیِ اعظم علامہ مصطفی رضا نوری بریلوی کی نعتیہ شاعری پر محترمہ ڈاکٹر شرف النہارصاحبہ کی نگرانی میں مراٹھواڑہ یونی ورسٹی اورنگ آباد سے ڈگری ایوارڈ ہوئی۔

جاویدانصاری:     محترم! نعت جتنی مقدس اور پاکیزہ صنف ہے اتنی ہی مشکل ترین بھی ۔ آپ کے خیال میں نعت نگار کے لیے سب سے اہم اور قابل توجہ پہلو کیا ہے؟
مشاہدؔرضوی:     نعت میں سب سے اہم اور قابل توجہ پہلو عبد اور معبود کے فرق کو ملحوظ رکھنا ہے کہ کہیں اظہارِ عقیدت میں غلو تو نہیں ہورہا ہے۔ ہماری اردو شاعری میں امام احمدرضا بریلوی نے جو ممتاز مقام حاصل کیا ہے وہ آفاقیت کا حامل ہے نعت سے متعلق انھیں کا قول سماعت کرتے چلیں لکھتے ہیں کہ :’’حقیقتاً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے،جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے اگر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہو نچ جاتاہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں راستہ صاف ہے جتناچاہے بڑھ سکتا ہے، غرض ایک جانب اصلاً حد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانب سخت پابندی ہے۔‘‘
    حضرت امام احمدرضا کے اس قول کی روشنی میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ نعت اس ذات گرامی ﷺکی مدحت سرائی کانام ہے جس کاادب و احترام اللہ نے اپنے مقدس کلام میں جابجا فرمایا ہے ، اس لیے نعت نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا شہبازِ فکر اس وادی میں سنبھل سنبھل کر حد درجہ احتیاط کے ساتھ پرواز کرے اگر مبالغہ ہوا تو شرک ہوسکتا ہے اور کمی ہوئی تو شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں توہین کی شمشیرِبے نیام شاعر کی گردن ناپ دے گی۔ اس لیے نعت لکھتے وقت بڑے محتاط رویے اور ادب شناسی کی ضرورت ہے۔ موضوع کا تقدس شاعر کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ کسی خیال کو فنی پیکر دینے سے پہلے نپے تلے الفاظ میں حسن خطاب اور حسن بیان کے ساتھ اسے سوبار احتیاط کی چھلنی میں چھان لے ، یہاں بے ساختہ تیشۂ قلم چلا کر کچھ بھی نہیں لکھا جاسکتا نعت میں وہی لکھا جاسکتا ہے جو عبد و معبود کے فرق ، انبیاے کرام کے مقام و مرتبہ ، قرآن و حدیث سے ماخوذ مستند اور معتبر موضوعات ہوں ۔ نعت میں بے جاخیال آرائیوں، مبالغہ آمیزی ، افراط و تفریط اور موضوع ومن گھڑت روایتوں کی ذرہ بھر گنجایش نہیں۔ مختصر یہ کہ نعت ’’اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں‘‘سے عبارت ہے۔
    ہماری اردو نعتیہ شاعری کا تنقیدی جائز ہ لینے کے بعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جہاں بیش تر شعرا نے نعت میں احتیاطی رویوں کو قائم رکھتے ہوئے مبالغہ آمیزی سے پاک شاعری کی ہے وہیں بعض کے یہاں غیر محتاط انداز بھی در آیا ہے۔

جاویدانصاری:
      جیسا کہ ابھی آپ نے کہا کہ بعض شاعروں کے یہاں غیر محتاط انداز بھی در آیا ہے ذرا ان کی نشان دہی کردیں تو بہتر ہوگا۔
مشاہدؔرضوی:     جی ہاں! شرعی اعتبار سے قابل گرفت اور بعض موضوع روایتوں پر مبنی اشعار کا تجزیہ کرتے ہوئے بات آگے بڑھاتے ہیں۔ مشہور نعت گو شاعراستاذالاساتذہ امیرؔ مینائی کے چند اشعار ملاحظہ ہوں      ؎   
ظاہر ہے لفظِ اَحد و احمدِ بے میم
بے میم ہوئے عین خدا احمدِ مختار
    ظاہر ہے لفظِ ’’احد‘‘ حقیقت میں بے میم ہے یا لفظِ ’’احمد ‘‘ سے میم کو جدا کردیں تو لفظ’’ احد‘‘ رہ جاتا ہے ۔ جس سے امیرؔ مینائی یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ’’ احد ‘‘ و ’’احمد‘‘ ایک ہیں اور’’ احمدِ مختار‘‘  معاذ اللہ ’’عین خدا‘‘ ہیں ۔ آپ مشکل سے یقین کریں گے کہ یہ امیرؔ مینائی جیسے ہوش مند شاعر کا شعر ہے۔ مزید دیکھیں    ؎   
قرآن ہے خورشید تو نجم صحیفے
اللہ گہر اور صدف احمدِ مختار
    مصرعۂ ثانی شرعاً قابلِ گرفت اور لائقِ اعتراض ہے،کیوں کہ صدف سے گہر (موتی) پیدا ہوتا ہے اورامیرؔ مینائی کے اس شعر کی روشنی میں حضور رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم صدف ہوئے اور اللہ تعالیٰ جل شانہٗ گہر تو غور فرمائیے کہ معنی و مفہوم کہاںسے کہاں تک جا پہنچا ہے ؟موصوف کے اس شعر سے بھی صَرفِ نظر نہیں کیا جاسکتاکہ      ؎   
طور کا جلوہ تھا جلوہ آپ کا
لن ترانی تھی صداے مصطفیٰ
    شاعر کے نزدیک طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جو تجلی دیکھی تھی وہ جلوۂ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھا، اور لن ترانی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے کہا تھا(گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے پردے میں خود ہی لن ترانی فرما رہے تھے، معاذ اللہ) یہ عقیدہ بھی توحیدکے یک سر منافی اور شرعاً نادرست ہے ۔ اسی طرح امیرؔ مینائی کا ہی ایک شعر دیکھیں    ؎   
طور وہ روضہ ہے ، میں صورتِ موسیٰ لیکن
اَرِ نی مُنہ سے نکالوں جو مزار آئے نظر
    اس شعر میں موصوف کہہ رہے ہیں کہ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہِ طور ہے اور میں بہ صورتِ موسیٰ (علیہ السلام) … جب مجھے روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نظر آجائے گا تو میں ربِّ ارِنی کہوں گا۔ یہاں نبیِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو ’’رب‘‘ کہنا نعت گوئی کا منصب نہیں بل کہ یہ آدابِ نعت اور لوازماتِ نعت سے بھٹک جانا ہے۔
    میں نے جن اشعار کو بیان کیا ہے ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امیر ؔمینائی سے لغزشیں ہوئی ہیں کیوںکہ ان اشعار میں حضور احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کا بیان الوہیت کی صفات سے متصف کرکے کیا گیا ہے جس سے اخذ ہونے والا مفہوم یہی بتاتا ہے کہ معاذ اللہ ثم معاذاللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خدا ہیں ۔جب کہ آقا ے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی سخت ممانعت فرمائی ہے کہ ہرگز ہرگز تم مجھ کو خدا نہ بناناچناںچہ ارشاد فرماتے ہیں :
     ’’مجھے حد سے نہ بڑھاؤ جیسا کہ نصاریٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ کیا میںتو خدا کا بندہ اور اسکا رسول ہوں مجھے صرف خدا کا بندہ اور اسکا رسول ہی کہو۔‘‘ 
    اس طرح کے معاملات مشہور اور عظیم نعت گو شاعر محسنؔ کاکوروی کے کلام میں بھی ملتے ہیں، آپ کا کلام ملاحظہ ہو     ؎   
عینیت سے غیرِ رب کو رب سے
غیریتِ عین کو عرب سے
ذاتِ احمد تھی یا خدا تھا
سایا کیا میم تک جدا تھا
    ان شعروں میں ’’احمد‘‘ کے ’’میم‘ ‘ کو ہٹا کر ’’اَحد‘‘ اور ’’عرب‘‘ سے ’’عین‘‘ کو لفظ سے جدا کرکے ’’رب ‘‘ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔جن سے شرعی سقم مترشح ہوتا ہے۔
     مشہور نعت گو حضرت کرامت علی شہیدیؔ کا ایک شعر سنیں    ؎   
خدا منہ چوم لیتا ہے شہیدیؔ کس محبت سے
زباں پر میرے جس دم نام آتا ہے محمد کا
    یہ شعر عاشقِ رسول (ﷺ) حضرت شہیدی ؔکا سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں والہانہ وارفتگی کا اشاریہ ہے ، جس کے پُرخلوص ہونے سے انکار محال ہے لیکن ’’منہ چومنا‘‘… ’’بوسا لینا‘‘ یہ سب انسانی افعال ہیں جن سے سبحان السبوح و القدوس جل شانہٗ پاک و منزہ ہے۔ اسی طرح حضرت بیدمؔ شاہ وارثی کا یہ شعر بھی ملاحظہ کریں کہ بیدم ؔ شاہ وارثی آدابِ نعت اور لوزماتِ نعت اور تقاضاے نعت کی حدود سے کتنی آگے نکل گئے ہیں اس شعر کو کسی بھی طرح سے نعت کا عمدہ شعر قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ اس قسم کی بے جا خیال آرائیوں کی نعت میں چنداں گنجایش نہیں    ؎   
عشق کی ابتدا بھی تم عشق کی انتہا بھی تم
رہنے دو راز کھل گیا بندے بھی تم خدا بھی تم
    امیرؔ مینائی، کرامت علی شہیدیؔ، بیدمؔ شاہ وارثی اور محسنؔ کاکوروی جیسے اساتذۂ نعت کے علم و فضل پر ذرّہ بھر بھی شبہ نہیں کیاجا سکتا اور نہ ہی ان حضرات کے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخلصانہ تہہ داریوں کو نشانۂ تنقید بنایا جاسکتا ہے۔اردو نعت گوئی کے فروغ و ارتقا اور استحکام میں ان کی خدمات یقینا آبِ زر سے لکھے جانے کے قابل ہیں ان حضرات سے جوشِ عقیدت میں جو شرعی لغزشیں واقع ہوئی ہیں اگر وہ ان سے باخبر ہوجاتے تو ایسے مضامین کو اپنے کلام سے خارج کردیتے۔
    عصرِ حاضرکے نعتیہ منظر نامے پر جو شعرا نعت کے میدان میں اپنی فکری جولانیاں دکھا رہے ہیں اُن میں بھی کچھ کے کلام میں قابلِ گرفت موضوعات در آئے ہیں۔ مشہور نعت گو شاعر جناب اعظم چشتی کے اشعار بہ طورِ مثال سماعت کریں جنھوں نے حزم و احتیاط کی شرط کو برقرار نہ رکھتے ہوئے شاعری کی ہے    ؎   
انسانیت کو بخشی وہ معراج آپ نے
ہر آدمی سمجھنے لگا ہے ، خدا ہوں میں
عبد و معبود میں ہے نسبتِ تام
ہے محمد بھی احمدِ بے میم
عقل کہتی ہے مثلُنا کہیے
عشق بے تاب ہے خدا کہیے
آگئی سامنے آنکھوں کے اللہ کی صورت
آئے سرکار جو اللہ کی برہاں بن کر
                                    (اعظم چشتی: نیرِ اعظم ، صفحاتِ متفرقہ)
    ان اشعار میں عبد و معبود اور الوہیت و رسالت کے فرق کو ملحوظ نہ رکھتے ہوئے شرکیہ مضامین قلم بند ہوئے ہیں ان اشعار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوبندہ بھی اور خدا بھی بتایا گیا ہے جو کسی بھی لحاظ سے صحیح نہیں ہے۔نعت گوئی میں حزم و احتیاط اور لغزشوں پر مبنی جن اشعار کی مثالیں میں نے دی ہیں ان سے مقصود بزرگ نعت گو شعرا پر نشترِ تنقید چلانا نہیں ہے بل کہ اس محاکمہ سے مجھے اس خیال کو مزید تقویت پہنچانا ہے کہ یقینا نعت کے پلِ صراط پر چلنا نہایت مشکل کام ہے ، اورنعت گوئی ’’اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کاکام نہیں ‘‘ سے عبارت ہے ۔
    میدانِ نعت میں ان احتیاطی رویوں کے ساتھ متن اور لفظوں کے انتخاب میں بھی غایت درجہ توجہ کی ضرورت ہے۔ نعت میں انھیں مضامین کو نظم کیا جانا چاہیے جو مستند اور قرآن و حدیث کے متقاضی ہیں اور روایت و درایت کے اصولوں سے پایۂ ثبوت تک پہنچتے ہیں ۔ بابِ فضائل میں ضعیف روایتیں بھی قابل قبول ہیں۔ لیکن موضوعات اور من گھڑت واقعات و قصص اور روایتوں کو جلیل القدر محدثین و محققین اور علماے محتاطین کے نزدیک کسی بھی قسم کا مقامِ اعتبار حاصل نہیں ہے۔ واضح ہونا چاہیے کہ نعت گوئی میں موضوع اور من گھڑت روایتوں کو بیان کرنا نعت گوئی کے اصولوں کے یک سر منافی ہے۔ نعت نگار کے لیے ضروری ہے کہ وہ نعت گوئی سے پہلے صرف نعتیہ شاعری ہی نہیں بل کہ مستند روایتوں پر مشتمل سیرتِ طیبہ کی کتب و رسائل کا بھی گہرائی سے مطالعہ کرے ۔
     مشہور ناقد و شاعراحسان دانشؔ اپنے شاگردوں کو مشورہ دیا کرتے تھے کہ:
     ’’صرف شاعری کا مطالعہ کافی نہیں ہے، اچھا اور ستھرا شعر کہنے کے لیے نثری ادب بھی پڑھنا ضروری ہے ۔‘‘
    میرے خیال میں تونعتیہ اشعار قلم بند کرنے کے لیے تو نثری ادب کی شرط کے ساتھ ساتھ دینی ادب کی شرط بھی لگانی ضروری ہے ۔چناں چہ نعت گو کو چاہیے کہ وہ سیرت و مغازی ، تاریخِ اسلام ، حیاتِ طیبہ ، اور فضائلِ سیدُ الانام صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھی گئی مستند نثری کتب کا بھی مطالعہ کرے ۔ موضوع اور من گھڑت روایتوں پر مشتمل میلاد ناموں،معراج ناموں، مواعظ، خطبات اور حکایات سے دور رہے تاکہ اس کاکلام ہر قسم کی بے اعتدالی ، بے راہ روی اور شرعی اسقام سے پاک و مبرا بن سکے ۔ بلاتردد ہر قسم کے زباں زدِ خاص وعام غیر ثقہ اور وضعی مضامین،جعلی حکایات اور واقعات کو نعت میں منظوم کرتے رہنا یہ کسی بھی طرح سے لائقِ تحسین نہیں ۔ ہاں! یہ بات بھی تسلیم ہے کہ دورِ متاخرین و متوسطین کے شعرا کا ماخذ عموماً سنی سنائی روایتوں اور غیر مستند واقعات و حکایات پر مشتمل کتابیں تھیں اور جن کے صحیح و سقیم کا اندازہ لگانا بہ ہر کیف ! ایک مشکل امر تھا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بعض علماے اعلام نے روایت و درایت کے اصولوں پر جانچ پرکھ کر ایسی جملہ موضوع روایتوں کو اپنی کتب و رسائل میں جمع کردیا ہے۔ اردو نعتیہ شاعری میں کثرت سے نظم کیے جانے والے بعض ایسے مضامین کو اجمالاً سماعت کریں۔
    شبِ معراج میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین شریف سمیت عرشِ معلا پر تشریف لے جانے سے متعلق ایک روایت کو نعت گو شعرا نے کافی نظم کیا ہے ؛ اس کے مفہوم سے پہلے چند مشہور شعرا کے اشعار ملاحظہ کریں      ؎   
نعلینِ پا سے عرشِ معلا کو ہے شرَف
روح الامیں ہے غاشیہ بردارِ مصطفی
                                    (بیدمؔ وارثی)   
سُن کے جسکے نام کو جھک جائے عقیدت کی جبیں
جس کی نعلین کہ اتری نہ سرِ عرشِ بریں
                                (ادیبؔ راے پوری)
    اس واقعہ کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ جب سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرشِ الٰہی کی طرف عروج فرمایا تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے پیشِ نظر جو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا گیا تھا  :
    ’’اے موسیٰ بے شک میں تیرا رب ہوں تو تُو اپنے جوتے اتار ڈال، بے شک تُو پاک جنگل طویٰ میں ہے۔‘‘(3)
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نعلین اتارنے کا قصد فرمایا ؛ لیکن ارشاد ہوا  :
    یا محمد! لا تخلع نعلیک     لتشرک السمآء  بھما۔ ترجمہ: اے محمد! تم اپنے نعلین نہ اتارو تاکہ آسمان ان سے شرف حاصل کرے ۔
    سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلینِ مقدس کی فضیلت و عظمت پر لکھی جانے والی علامہ احمد المقری التلمسانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور و معروف کتاب ’’فتح المتعال فی مدح النعال ‘‘ اورعلامہ رضی الدین قزوینی اور محمد بن عبدالباقی زرقانی علیہم الرحمۃ نے ’’شرح مواہب اللدنیہ ‘‘میں زور دے کر وضاحت کی ہے کہ یہ قصہ مکمل طور پر موضوع ہے۔
     امامِ نعت گویا ں امام احمدرضا محدث بریلوی سے بھی اس روایت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے بھی اس کو جھوٹ اور موضوع قرار دیا ،احکامِ شریعت صفحہ ۱۶۵ پر سوال و جواب موجود ہے۔
     اسی طرح مدینے کو یثرب کہنے کے لیے حدیث میں ممانعت آئی ہے ۔ بہت سے شعرا نے یثرب کو مدینہ لکھا ہے ، اس سے بھی بچنا ضروری ہے۔اور بھی بہت سارے موضوع واقعات اور روایتوں کی نشان دہی کی جاسکتی ہے جسے نعت میں بیان کردیا جارہا ہے لیکن وقت اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ تفصیل کے لیے اس موضوع پر ناچیز کا کتابچہ میری ویب سائٹ پر پڑھا جاسکتا ہے۔

جاویدانصاری:      ماشاء اللہ! بے شک آپ نے جن باتوں کی طرف اشارا کیا ہے ان پر ہمارے نعت گو شاعروں کو توجہ مبذول کرنا ضروری ہے، محترم ذرا یہ بھی بتاتے چلیں کہ عصری منظر نامے پر نعت نگاری کا اندازاوررفتار کیسی ہے؟
مشاہدؔرضوی:     عصری منظر نامے پر تو نعت نگاری بے پناہ مقبول ہے۔ آج کے شعرا نت نئی تراکیب اور لفظیات ، متنوع بحروں اور خود تراشیدہ زمینوں میں نعتیہ کلام لکھ رہے ہیں ، دنیا کے تقریباً ہر خطے میں بلالحاظ رنگ و نسل اور مذہب وملت نعت گوئی مسلسل جاری ہے ، نعت شاعری کے جملہ فارم مثلاً غزل ، مثنوی ، رباعی ، قطعہ ، قصیدہ، ثلاثی، مربع، مسدس، مخمس ، دوہا ، کہہ مکرنی، چھند ، چوپائی ، سانیٹ ، ہائیکو، ترائیلے، ماہیے وغیرہ وغیرہ اصناف میں لکھی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکیسویں صدی کونعت گوئی کی صدی خیال کیا جارہا ہے۔

جاویدانصاری:     نعتیہ ادب کے حوالے سے آپ کی کوئی تصنیف منظر عام پر آئی ہو تو ان کے نام بتائیں۔
مشاہدؔرضوی:     نعتیہ دیوان لمعات بخشش، صنعتِ تشطیر پر مبنی تشطیرات بخشش ۱۲۰ اشعار پر نعتیہ تشطیرات، اقلیم نعت کا معتبر سفیر - سید نظمی مارہروی، ان کے علاوہ آن لائن کتابیں کو نعتیہ ادب کے حوالے سے ہیں ان کے نام یوں ہیں۔ نعت کی خوشبو گھر گھر پھیلے، نعت میں حزم و احتیاط اور موضوع روایتیں ، درود و سلام رضا مع فرہنگ، حسن رضا بریلوی کی نعتیہ شاعری، محدث اعظم ہند - شخصیت اور نعتیہ شاعری، بلبل بستان مدینہ - علامہ اختررضا بریلوی، مولانا سعیداعجاز کامٹوی کی سعادت افروز نعتیہ و سلامیہ شاعری، … ان کے علاوہ پی ایچ ڈی کا مقالہ او رمختلف نعتیہ مجموعوں پیش لفظ و تاثرات الگ ہیں۔ ناچیز کی جملہ مطبوعات اور مضامین و مقالات کو ویب سائٹ    

    پر بہ آسانی پڑھا جاسکتا ہے۔ 

http://www.mushahidrazvi.in/
..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg