Instagram

Thursday, 22 November 2012

Tasawwuf Kya Hae? Fikr E Raza K Aaine Me



تصوف کیا ہے؟ فکر ِ رضا کے آئینے میں
٭ڈاکٹر محمد حسین مشاہدؔرضوی ، مالیگاؤں

       آج کل بے شرع ، جاہل اور نام نہادصوفیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے ۔ ایسے افراد اونچی ٹوپی اور اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کئی کئی انگوٹھیاں پہنے ، زلفیں بڑھائے ، شہر شہر، قریہ قریہ لوگوں کو نہ صرف مرید بناتے پھر رہے ہیں ۔بل کہ پے در پے خلافت پہ خلافت تقسیم کررہے ہیں ۔ وہ سادہ لوح مسلمان جنہیں علومِ اسلامی سے ذرہ بھر بھی دل چسپی نہیں ۔ اِن نام نہاد صوفیوں کی ظاہری شکل و صورت اور پُرتصنع وجاہت سے مرعوب ہوکر ان کے دامِ تزویر میں پھنس کر بربادی کے دہانے لگتے جارہے ہیں ۔ اگر خلافت بانٹنے والے اور خلافت یافتہ افراد پر طائرانہ نگاہ ڈالیں تو سمجھ میں آئے گا کہ یہ وہ افراد ہیں جنہیں نہ تو شریعت کی ’’ش‘‘ میں جو تین نقطے ہیں اس سے آشنائی ہے اور نہ ہی وہ طریقت کی ’’طا‘‘ سے واقف ہیں۔ ان جاہل افراد کا تصوف سے ذرہ بھربھی واسطہ نہیں ہے۔ ان کی جاہلانہ اور غیر شرعی حرکات و سکنات کو دیکھ کر وہ حضرات جنہیں بیعت و ارشاد ، خلافت و اجازت، ریاضت و مجاہد ہ اور تصوف و معرفت کے رموز واسرار کے بارے میں چنداں واقفیت نہیں ہوتی وہ براہ راست تصوف ہی سے متنفر ہوتے چلے جارہے ہیںاور تصوف کو دوسرے مذاہب سے آئی ہوئی چیز سمجھ کر اسے مسترد کررہے ہیں ۔ لہٰذا ایسے وقت میں تصوف کیا ہے؟ اس تعلق سے خامہ فرسائی ضروری ہوجاتی ہے۔
       عصر حاضر کے ان نام نہاد صوفیوں کی جاہلانہ اور غیر شرع حرکتوں کو دیکھتے ہوئے حضور سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری (وفات ۴۶۵ھ) کی تحریر پُرتنویر کو پیش کرنا غیر مناسب نہ ہوگا کہ حضرت داتا علیہ الرحمہ نے ان نام نہاد صوفیوں کی کتنی صحیح اور سچی تصویر کشی کی ہے کہ ان لوگوںنے: ’’ خواہشات کا نام شریعت، حُبِّ جاہ کانام عزت ، تکبر کا نام علم ، ریا کاری کا نام تقویٰ ، دل میں کینہ چھپانے کا نام حلم ، مجادلہ کانام مناظرہ ، محاربہ و بے وقوفی کا نام عظمت ، نفاق کا نام وفاق ، آرزو کا نام زہد ، ہذیانِ طبع کا نام معرفت ، نفسانیت کا نام محبت ، الحاد کا نام فقر ، انکارِ وجود کا نام صفوۃ ، بے دینی و زندقہ کانام فنا اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو چھوڑنے کا نام طریقت رکھ لیا ہے ۔‘‘ (کشف المحجوب ص ۳۳، اردو ترجمہ)
       یہ بات ذہن نشین رہ کہ نہ صرف ہمارے عہد میں ایسے جاہل صوفیہ پید اہوگئے ہیں بل کہ اکثر و بیش تر ادوار میں ایسے بے علم صوفیوں کا سیلِ رواں اسلام کو نقصان پہنچاتا رہا ہے ۔ مگر ان کے فاسد نظریات اور غلط خیالات کی دھجیاں بکھیرنے والے مقدس علماے حق بھی جلوہ فرما رہے ہیں۔ جنہوں نے کتب و رسائل تصنیف فرماکر اور تزکیہ و طہارت کی روحانی محفلیں سجاکر ایسے جہلا کے باطل نظریات سے ہمیں روشناس کرایا ہے۔
       امام احمد رضا بریلوی (وفات ۱۳۴۰ھ) کے دور میں بھی ایسے صوفیوں کاجھکڑ چل رہا تھا۔ چناں چہ آپ کی بارگاہِ عبقری میں ایک صاحب نے سوال ارسال کیا جس کے جواب میں امام اہل سنت قدس سرہٗ نے ایک مبارک رسالہ بہ نام ’’ مقال عرفا بہ اعزاز شرع و علما‘‘ سنہ ہجری ۱۳۲۷ میں تصنیف فرمایا۔ زیرِ نظر مضمون میں تصوف کا اجمالی تعارف امام اہل سنت قدس سرہٗ کے اسی رسالے کو مآخذ بنا کر پیش خدمت ہے ۔
       قارئین کرام سے التماس ہے کہ اس مضمون کو بہ غور پڑھیں اور جاہل صوفیوں سے خود کو دور رکھتے ہوئے دوسروں کو بھی ان سے بچنے کی تلقین کریں ۔ نیزخداے وحدہٗ لاشریک سے دعا ہے کہ وہ تمام اہل ایمان کو ان جاہل صوفیوں کے شر سے محفوظ و مامون رکھتے ہوئے تصوف و معرفت کے اصل حقائق و معارف کا کماحقہٗ عرفان بخشے ۔ (آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم)
       عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی فرماتے ہیں : ’’ تصوف کیا ہے ؟ بس احکامِ شریعت پر بندہ کے عمل کا خلاصہ ہے ‘‘ (طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ص ۴،  بہ حوالہ : مقال عرفا ص ۳۰، مطبوعہ رضا اکیڈمی ، ممبئی)
       سیدی عبداللہ محمد بن خفیف ضبی فرماتے ہیں کہ :’’ تصوف اس کانام ہے کہ دل صاف کیا جائے اور شریعت میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہو۔‘‘ ( طبقات کبریٰ للامام الشعرانی ص ۱۸ ،بہ حوالہ : مقال عرفا ص ۱۲، مطبوعہ رضا اکیڈمی ، ممبئی)
       تصوف طریقت ہی کا دوسرانام ہے اور طریقت اس راہِ خدا کانام جو خداوند قدوس تک پہنچانے والی ہو۔ اب خدا تک پہنچانے والی راہ کون سی ہے؟ اسے ہم سردارِ اولیا حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ بالرضا السرمدی کی مقدس ترین زبان سے سنتے ہیں :’’ اللہ عزوجل کی طرف سب سے قریب تر راستہ قانونِ بندگی کو لازم پکڑنا اور شریعت کی گرہ تھامے رہنا ہے ۔‘‘ ( بہجۃ الاسرار ص ۵۰، بہ حوالہ : مقال عرفا ص۶۱، مطبوعہ رضا اکیڈمی ، ممبئی)
       ہر صوفیِ کامل، ولایت کے درجہ پر فائز ہوتا ہے اور ہر ولی ، صوفیِ کامل ضرور ہوتا ہے ۔ ولی کون ہے؟ اس کی تعریف میں بھی بہت سے اقوال ہیں ۔ لیکن سرچشمۂ ہدایت قرآن کریم ارشاد فرماتا ہے :آیت کا مفہوم:’’( اولیا اللہ ) وہ ہیں جو ایمان اور تقویٰ کے کمال سے سرفراز ہوں ۔ ‘‘دوسری بات یہ ہے کہ ولایت کے لیے کرامت لازم ہے ۔ کرامت دو طرح کی ہے ایک وہ جس میں کسی دھوکہ کا دخل نہیں ہوسکتا ۔ دوسری وہ جس میں استدراج اور شعبدہ کا شبہ ہوسکتا ہے ۔ تو اصل کرامت وہی ہے جو شبہ سے پاک ہو۔ اسی لیے حضور سیدنا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ بالرضا السرمدی فرماتے ہیں کہ :’’ ولی کی کرامت یہ ہے کہ اس کا ہرفعل نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کے قانون پر ٹھیک اترے۔‘‘( بہجۃ الاسرار ص ۳۹، بہ حوالہ : مقال عرفا ص۱۵، مطبوعہ رضا اکیڈمی ، ممبئی)
       علماے باطن کے ان ارشاداتِ عالیہ کی روشنی میں تصوف ، صاحبِ تصوف ، کرامت اور ولی کا اجمالی نقشہ ذہن میں آجاتا ہے کہ اصل تصوف تصفیۂ قلب اور اتباعِ شریعت ہے ۔ حقیقی اور اعلیٰ کرامت شریعت پر استقامت ہے۔ سچاصوفی اور ولی وہی ہوگا جو سیدالکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و پیروی میں سچا ہوگا۔ تصوف کے اس اجمالی تعارف کو ذہن میں رکھ کر آج کل کے نام نہاد صوفی بننے والے افراد کا جائزہ لیاجائے تو یہ افراد شریعت او ر اتباعِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوسوں دور دکھائی دیتے ہیں ۔ جب ان کے سامنے شریعت مطہرہ کاذکرِ جمیل نکلتا ہے تو یہ طریقت کو شریعت سے جدا بتاتے ہیں ۔ جب کہ علماے ربانیین کے ارشادات و اقوال سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ جو جتنا زیادہ شریعت اور سیدالکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اتباع کرے گا۔ وہ اتنا ہی اللہ عزوجل سے قریب ترین ہوگا اور اس کا دل صاف و شفاف ہوگا ۔ مختصر یہ کہ صفائیِ قلب اور مصطفی جانِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کا نام ہی ’’تصوف ‘‘ ہے۔ شریعت منبع ہے اور طریقت اس سے نکلا ہوا دریا ، کہ دریا کو ہمیشہ منبع کی احتیاج و ضرورت ہوتی ہے ۔ لہٰذا صوفی اسے ہی کہا جائے گا جو سنتِ رسول صلی اللہ علیہ پر کامل و اکمل طور پر عمل کرتا ہو اور اس کا دل بھی تمام تر آلایشوں سے پاک و صاف ہو۔
                                                              ۱۹؍ ذی الحجہ ۱۴۳۳ھ /۵؍نومبر ۲۰۱۲ء بروز پیر
                                                ڈاکٹر محمدحسین مُشاہدؔ رضوی
Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi
Writer, Poet, Research Scholar, Author.