Instagram

Monday, 19 November 2012

لمعاتِ بخشش‘‘ جامع دیوانِ نعت




’’لمعاتِ بخشش‘‘ جامع دیوانِ نعت
منظور دایک ، کشمیر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، سری نگر ، کشمیر

       ’’لمعاتِ بخشش‘‘ دراصل سرزمینِ مالیگاؤں ناسک مہاراشٹر کے ایک جوان سال صاحبِ علم و قلم ، معلم و شاعرکئی تحقیقی کتابوں کے مصنف و مولف محترم ڈاکٹرمحمد حسین مُشاہدؔ رضوی کا ایک جامع دیوانِ نعت ہے ۔ جس میں حمدِ باریِ تعالیٰ ، مناجات و دعا و دربارِ رسولِ مقبول ، پیغمبرِ آخرالزماں ، سرورِ ہر دوعالم ، جنابِ محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے حضور میں نعت پاک کے نذرانۂ محبت کے علاوہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا فارقِ اعظم رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ و حضرت سیدنا علیِ مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی شان میں نذرانۂ عقیدت کے علاوہ امام حسین رضی اللہ عنہ وحضرت غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ و حضرت خواجہ غریب نواز و دیگر عظیم اور بلند مرتبہ صاحبِ روحانیت و علم و عظمت کے تئیں خراجِ عقیدت شامل ہے ۔
       اس خوب صورت دیوان میں شاعرِ موصوف نے پیغمبرِ آخرالزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے تئیں نہایت ہی ادب و احترام سے اپنی عقیدت و محبت اور عظمتِ رسول ِ مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا والہانہ اظہار کیا ہے۔
       یہ دل کش نعتیہ مجموعہ عصرِ حاضر کے نعتیہ ادب کی تاریخ میں ایک نادر اور عمدہ اضافہ ہے، جس میں شاعرِ موصوف نے اپنی عقیدت و محبت کو ایک مخصوص اندازِ فکر ، طرزِ اسلوب اور لامحدود ذوقِ ادب کو سہل زبان میں پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ مُشاہد ؔ رضوی کے کلام  میں عظمتِ رسول ، شخصیتِ رسول، عنایتِ رسول، فضائلِ رسول، شمائلِ رسول ، خصائلِ رسول اور وقارِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ پروردگارِ عالم جل جلالہٗ کی رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پر لا محدود عنایات کی بارش اور عطاشدہ لامحدود رفعت و منزلت کا شاعرانہ اور فن کارانہ طور پر علاماتی اظہار ملتا ہے ۔ مُشاہدؔ کو فنِ نعت گوئی اور اسلامی و روحانی اور اخلاقی و اقداری شاعری کا عرفان اور  اظہارِ بیان کا تجربہ حاصل ہے۔مُشاہدؔ نے پابند نعتیہ شاعری کے ساتھ ساتھ آزاد نعتیہ منظومات  بھی نہایت خوب صورت انداز میں فکر انگیز ، سلیس و رواں اور مختصر الفاظ کو مختلف دل کش عنوان کے تحت اپنے دیوان میں پیش کیا ہے ۔
       دراصل مُشاہدؔ نے اعلا حضرت مولانا احمدرضا بریلوی کے فنِ نعت و نعتیہ ادب سے براہِ راست اثر قبول کیا اور فیض اٹھایا ہے ۔ یہ اسی کا ثمرہ ہے کہ مُشاہد کا کلام اہلِ علم کو متوجہ کررہا ہے ۔ مُشاہدؔ کی بعض آزاد نظمیں انقلابِ امت اور اصلاحِ اعمال و عقائد کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں سے جڑی ہو ئی ہیں جو شاعرِ موصوف کی ذہانت اور مطالعہ کو عیاں کرتی ہیں ۔
       مختصر یہ کہ مُشاہدؔ نے میمون بن قیس اعشیٰ سے شروع کردہ نعتیہ ادب کی تعمیل کی ہے ۔ مُشاہدؔ کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھوں نے اسلامی تاریخ کے ساتھ ساتھ سیرتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اور سیرتِ صحابۂ کرام اجمعین کا تفصیلی مشاہدہ کیا ہے جس کی وجہ سے مُشاہدؔ کی نعتیہ شاعری میں حوالہ جاتی اعتبار سے جو اظہارِ بیان ہے وہ افراط و تفریط اورروایاتی اسقام سے پاک ہے۔دعا ہے کہ       ع
خدا مُشاہدؔ کا قلم اور توانا کرے
                          

                           از: منظور دایک ، سری نگر
                                  ۲۰؍ اپریل ۲۰۱۱ ء شب ۱۱ بجے