Instagram

Thursday, 7 March 2013

Tableegi Jamaat : Chand Maroozat

تبلیغی جماعت ؛ چند معروضات
از:وسیم احمد رضوی، مالیگاؤں

     موجودہ اسلامی صدی کے آغاز ہی سے اسلام کے خلاف عالمی سطح پر نظریاتی اور تہذیبی جنگ چھیڑی جا چکی ہے۔اسلام دشمن طاقتیں ہر چند اس کوشش میں لگی ہیں کہ مسلمان اپنے فکری و ایمانی جوہر سے ہاتھ دھوبیٹھیں،مسلمان صرف نام کا مسلمان رہ جائے ،اس میں نہ دینی حمیت ہو اور نہ اسلامی غیرت،نہ ایمانی حرارت ہو نہ اعتقادی قوت۔مسلمانوں کے دلوں سے اسلامی شوکت و سطوت اور روحِ عشقِ محمدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نکالنے کی صہیونی سازشوں نے آج قومِ مسلم کا ہر طرح سے محاصرہ کرلیا ہے۔ایک طرف سیاسی سطح پرکھلے عام مسلم ممالک کی تاراجی ومسلم بستیوںکی تباہی اور مسلمانوں کی نسل کشی الکفرملۃ  واحدہ (تمام کفار ایک قوم ہیں) کی صدائے بازِ گشتمعلوم ہوتیہے تو ایک طرف صہیونی مشنریز مسلمانوں کے ذہن و فکر پر قبضہ جمانے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہیں۔فکرِ اسلامی پرصہیونیوں اور مستشرقوں کے مسلسل حملوں سے مسلمان ان خارجی دشمنوںسے رفتہ رفتہ باخبر ہوتے گئے،اب عالم یہ ہے کہ کوئی بھی صہیونی ایجنٹ یا مستشرق اسلامی فکر پر براہِ راست حملہ کرتا ہے تو مسلمان اسے مسترد کر دیتا ہے اس کے خلاف صدائے احتجاج بھی بلند کرتا ہے۔مسلمانوں کی اس شعوری بے داری بلا شبہہ لائقِ قدر ہے مگر افسوس اس وقت ہوتا ہے جب کوئی بھی شخص،جماعت ،تحریک یا تنظیم اسلام وتبلیغ کا لیبل لگا کر، اصلاح و تربیت کا نام لے کر،قرآن و حدیث کا نعرہ لگا کر مسلمانوں کے ایمان و عقیدے پر ڈاکہ ڈالنے کی ناپاک جسارت کرتی ہے،تبلیغِ اسلام کا نام دے کر مخصوص اور نو مولودفرقوں کے متشدد اور خلافِ اسلام عقائدونظریات کی تبلیغ کرتی ہے تو سادہ لوح مسلمان ان کے دامِ فریب میں آجاتے ہیں،ڈھیروں ثواب کمانے کی لالچ میں اپنے عقاید بگاڑدیتے ہیں،اعمال کی درستی کا خواب لیے ایسی جماعتوں سے وابستہ ہوتے ہیں اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ جب بھی اسلام کے خلاف ایسی داخلی جماعتوں اور ان کی سرگرمیوں کا زور ہونے لگے تو ان کے میٹھے زہر سے عوام مسلمین کو بچانا ہماری دینی ذمہ داری ہے…برصغیر میں روحِ اسلام کے خلاف مسلمانوں کے درمیان داخلی طور پر سب سے بڑی تحریک’’تبلیغی جماعت ‘‘ہے۔
    تبلیغی جماعت بلا شبہہ آج کے دور میں کوئی اجنبی تحریک نہیں ہے،ہمارے گرد و پیش آج اس کا بڑا حلقہ اور عوام و خواص میں چرچہ بھی ہے۔اس جماعت سے متعلق عوام و خواص میں جو تاثرات ہیں ان میں اکثرمنفی ہیں اورکچھ مثبت بھی۔مگر ایک طبقۂ عوام وہ بھی ہے جو اس جماعت کے بارے میں تَذَبْ ذُبْ کا شکار ہے اورتَذَبْ ذُبْ کے اس عالم میں ضروری ہے کہ تبلیغی جماعت کے ’’اصلاحی مکھوٹے‘‘ کو نوچ کر اصل اور بھیانک چہرے کو بے نقاب کیا جائے تاکہ سادہ لوح اور بھولے بھالے عوام مسلمین اپنے دین و ایمان اور عقائد و اعمال کی حفاظت کر سکیں۔
تبلیغی جماعت ؛ پرو پے گنڈا اور حقایق:کسی بھی منفی تحریک یا فکرکو فروغ دینے کے لیے اس کے اصل مقصد کو اجاگر کرنے کی بجائے اس سے متعلق کوئی مثبت پرو پے گنڈا کیا جاتا ہے تاکہ عوام اس کے مضر اور خطرناک عزائم و مقاصد کی طرف توجہ نہ کرسکیں اور اسی پرو پے گنڈے کے در پردہ اپنا منفی کام بھی جاری رکھنا بہت آسان ہوتا ہے۔تبلیغی جماعت سے متعلق بھی یہ پروپے گنڈا بہت عام کیا گیا کہ یہ جماعت مسلکی اختلافات اور بحث و مباحثہ سے دور رہتی ہے۔اس جماعت کا اختلاف سے کوئی تعلق نہیں۔یہ جماعت محض فضائل کے ذریعے اعمال کی اصلاح کرتی ہے،وغیرہ وغیرہ،مگر ان کھوکھلے دعوؤں کی قلعی اس وقت کھل کرسامنے آتی ہے جب کوئی شخص دوچار جماعتوں یامروجہ بدعتی چِلّوں کے چکر کاٹ کر آتا ہے، اور اپنے سامنے ہر کس و ناکس کو جاہل یا کم از کم اپنے سے کم علم سمجھنے لگتا ہے،پھر وہ رفتہ رفتہ اصلاح کے نام پر یا ’’توحیدِ خالص‘‘ کے نام پر بارگاہِ نبوت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں ایسی ایسی جسارت کرنے لگتا ہے کہ گویا یہی اس کا فرضِ منصبی ہے،نبی کو اپنے جیسا کہنا،ان کے علمِ پاک پر اعتراض کرنا،ان کی حیات بعد از ممات کا انکارکرنا،ان کی نعت وفضائل بیان کرنے کو شرک سے تعبیر کرنا…ان پر صلوٰۃ و سلام با قیام پڑھنے والوں پر شرک کے فتوے داغنا…ان کے نامِ پاک کے ساتھ ’’یا ‘‘لگا کر انہیں پکارنے پر شرک و بدعت کے فتوے لگانا…اولیاے کرام اور مشایخ عظام سے وسیلہ و استعانت کو شرک ٹھہرانا…عید میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم منانے کو شرک سے تعبیر کرنا…عیدمیلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر چراغاں و جلوس کو ہندوؤں کی دیوالی اور گنپتی،ہولی سے تشبیہ دینا وغیرہ جیسی باتیںچند ہی چِلّوں میں از بر کروادی جاتی ہیں،حتیٰ کہ سر پر سہراباندھنا بھی انہیں شرک نظر آنے لگتا ہے…اب اہلِ انصاف ہی بتائیں کہ کیا یہ باتیں مسلمانوں میں اختلاف و انتشار پھیلانے والی نہیں؟کیا یہ مسلکی عصبیت کی بد ترین مثالیں نہیں؟کیا یہ کسی اسلامی جماعت کا طریقہ ہوسکتا ہے؟کیا اس طرح کی تبلیغ کرنے سے مسلمان مسلمان رہ پائے گا؟…کیا ایسی اصلاح یا تبلیغ سے مسلم معاشرے میں امن وسکون قائم رہ سکتا ہے؟…اور سب سے اہم سوال کہ آخر مذکورہ عقائدونظریات کی تبلیغ مسلمانوں میں ہی کیوں کی جاتی ہے؟؟؟اس کا سیدھا سادہ جواب تو یہی ہے کہ یہ اسلامی اتحاد اور ایمانی و اعتقا دی بنیادوں کو متزلزل کرنے کی ناپاک کوشش اور تحریک ہے جو بیرونی امداد(پیٹروڈالر و ریال)کے سہارے مسلمانوں میں داخلی طور پر سرگرمِ عمل ہے۔
غیر مسلموں میں اسلام کا غلط تعارف:دراصل تبلیغی جماعت مسلمانوں کی اصلاح اور غیروں میں اسلام کی تبلیغ کے نام پر مسلمانوں ہی میں اپنے مخصوص عقائد و نظریات کی اشاعت اور تبلیغ کرتی ہے۔یہ وہ عقاید اورنظریات ہیںجو برطانوی جاسوس مسٹر ہمفرے کے ذریعے شیطان کی سینگ محمد بن عبدالوہاب نجدی تک پہنچے اور پھر اسی سے منسوب ہوکر’’ مذہبِ وہابیت‘‘سے موسوم ہوگئے۔تبلیغی جماعت کی سرگرمی سے اسلام کے آفاقی و عالم گیر و ہمہ گیر نظام کے خلاف ایک تاثر ابھرکر غیر مسلم اور جدیددنیا میںیہ آرہا ہے کہ اسلام محض چند باتوں ہی کی تعلیم دیتا ہے(یاد رہے تبلیغی جماعت کا ہدف صرف چھ باتوں کی تبلیغ ہے)۔اسلام محض چند رسموں اور عبادات کا مجموعہ ہے،اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دنیاوی کام کاج،کاروبار،اعلیٰ تعلیم،سائنس و ٹیک نالوجی،سیاست،حکومت اور دیگر وہ امور جو بظاہر دنیاوی ہوں ان کی انجام دہی ضروری نہیں بلکہ تبلیغی جماعت کے اصول کی روشنی میں اگر دوسرے لفظوں میں کہا جائے تو دنیاوی امور اور حقوق العباد سے راہ فرار اختیار کرنا ان کے نزدیک اسلامی تعلیمات کا مقصد و مدعا ہے۔اگر بہ چشمِ حقیقت دیکھا جائے تو دورِ حاضر میں تبلیغی جماعت مسلمانوں کو ’’رہبانیت‘‘ کا درس دے رہی ہے۔جب کہ اسلام میں رہبانیت کا کوئی تصورنہیں بلکہ حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی ہر مسلمان پر فرض ہے۔
سونے والو جاگتے رہیو!:مسلمانو! ہوش میں آؤ! کیا تم نہیں جانتے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے۱۴؍ صدیوں پہلے ہی ان کی علامات اور حرکات کی نشان دہی نہ کردی تھی کہ تم ان بدمذہبوں کی میٹھی میٹھی زبان کو مت دیکھنا ان کے دل پتھر سے زیادہ سخت ہوںگے،ان کی عبادتو ںسے مرعوب نہ ہونا،ان کی بھیٖڑ بھاڑ سے مرعوب نہ ہونا کیوں کہ ان کی عبادتیں ان کی حلق کے نیچے نہیں اتریںگی،ان کے عبادت خانے(اجتماعات )میں لوگوں کی بھیڑ ہوگی مگر وہ( اجتماعات) ہدایت سے خالی رہیںگے وغیرہ وغیرہ …کیا یہ سب احادیث میں وارد نہیں ہوئے؟؟؟…مسلمانو!یہ سب آثارِ قیامت ہیںان کا ظہور ہمارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی غیب دانی کاثبوت دے رہا ہے۔
نوٹ:آئندہ قسط میں ’’تبلیغی جماعت؛روحِ جہاد کے خلاف ایک سازش!‘‘عنوان کے تحت تحریر ضرور ملاحظہ کیجیے۔ان شاء اللہ!

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg 

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpg