Instagram

Saturday, 30 March 2013

Hujjatul Islam Maulna Hamid Raza Khan



حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمدحامدرضا خاں


(عرس حامدی 1434ھ پر ایک نذرانہ)

       اعلیٰ حضرت امام احمدرضا بریلوی کی ذاتِ ستودہ صفات سے کون واقف نہیں ۔ آپ کو عالم اسلام کی عظیم المرتبت شخصیات میں شمار کیا جاتاہے۔ آپ کی وجہ سے شہر بریلی کو وہ شہرت و مقبولیت ملی کہ آج پوری دنیا کے مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت اپنے آپ کو بریلوی کہنے اور کہلوانے پر فخر محسوس کرتی ہے ۔ آپ کے گھرانے میں 1292ھ میں ایک یوسفِ جمال اور صاحبِ عظمت و کمال ہستی کی ولادت ہوئی جس کانام امام احمدرضا نے محمد حامدرضا رکھا، فاضل وافضل ، عالم و اعلم اور کامل واکمل بزرگ باپ نے بہ نفس نفیس اس کی تعلیم و تربیت فرماکر اسے صاحبِ فضل و کمال بنایا ۔ مارہرہ شریف کی مقدس ترین خانقاہ کے ایک عارف کامل حضور سید شاہ ابوالحسین احمدنوری مارہروی قدس سرہٗ سےانھیں نورِ معرفت اور فیض روحانی ملا اور اس طرح جمال ظاہری و باطنی سے منور و مجلا ہوکر وہ امت محمدیہ و شریعت مصطفویہ علی صاحبہاالصلاۃ والتسلیم کی خدمت میں مصروف ہوئے ۔ علماے وقت اور فضلاے عصر نے اُن کی عظمتوںکو تسلیم کیا ۔ فضل ربانی نے اُن کو "حجۃ الاسلام " کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔ یعنی حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ حامدرضا خاں کی حیثیت سےآپ نے اکنافِ عالم میں شہرت پائی۔
       1311ھ/1894ھ میں 19 سال کی عمر میں درس نظامی سے فارغ ہوئے ۔ 1323ھ/1905ء میں حج بیت اللہ شریف اور زیارت حرمین شریفین کی سعادت حاصل کی ۔عارف کامل حضور سید شاہ ابوالحسین نوری میاں کے علاوہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی سے 13 سلاسل طریقت میںاجازت حاصل کی۔ 1326ھ/1908ء میں دارالعلوم منظر اسلام بریلی کے مہتمم ہوئے ۔ 1354ھ/ 1936ء میں اسی دارالعلوم کے شیخ الحدیث اور صدرالمدرس کے منصب پر فائز ہوئے۔ 17 جمادی الاول 1362ھ/ 23 مئی 1943ء کو 70 سال کی عمر میں عین حالتِ نماز دوران تشہد10 بج کر 45 منٹ پر آپ نے وصال فرمایا۔ نماز جنازہ آپ کے قابل فخر شاگرد و خلیفہ محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قدس سرہء نے پڑھائی۔
       حجۃ الاسلام حضرت شاہ محمد حامدرضا خاں بریلوی بڑے متبحر عالم، بہترین معلم ، طلبہ پر نہایت ہی شفیق و مہربان تھے۔ وہ مایۂ ناز خطیب بھی تھے، انھوں نے ملک گیر دورے کیے ۔ رشد و ہدایت اور تبلیغ دین کا کام بڑے ہی احسن انداز میں فرمایا۔ خود اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کو ان کی خدمات دینیہ پر ناز تھا۔ برصغیر ہند وپاک کے چھوٹے چھوٹے قصبات اور دیہی علاقوں میں آپ نے دورے کیے اور دین و سنیت کی ترویج و اشاعت فرمائی۔
       حضور حجۃ الاسلام مولانا حامدرضاخاں بریلوی علیہ الرحمہ زبان و ادب پر بھی بڑی دسترس رکھتے تھے۔ آپ کو شعر و سخن سے بھی لگاو تھا۔ عربی ، فارسی اور اردو میں آپ نے بڑے بہترین اشعار کہہ ہیں۔ حمد و نعت و منقبت کے علاوہ دوسری اصناف میں بھی اشعار آپ کے یہاں ملتے ہیں۔ تاریخ گوئی میں تو آپ کو بڑا ملکہ حاصل تھا۔چند شعر ملاحظہ فرمائیں جن میں محبت و عقیدت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوب صورت پرچھائیاں منعکس ہوتی نظر آتی ہیں    ؂
شکیب دل قرارجاں محمد مصطفیٰ تم ہو
طبیب دردِدل تم ہو مرے دل کی دوا تم ہو
تمہارے حسن رنگین کی جھلک ہے سب حسینوں میں
بہاروں کی بہاروں میں بہارِ جاں فزا تم ہو
پڑا ہوں میں ان کی رہ گزر میں پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا
دل و جگر فرش رہ بنیں گے یہ دیدۂ عشق خرام ہوگا
چاند سے ان کے چہرے پر گیسو مشک فام دو
دن ہے کھلا ہوا مگر وقت سحر ہے شام دو
اب تو مدینے لو بلا گنبد سبز دو دکھا
حامد و مصطفیٰ ترے ہند میں ہیں غلا م دو
       حجۃ الاسلام علیہ الرحمہ کو ارد و نثر و نظم کے علاوہ عربی اور فارس نثر و نظم پر بھی کمال حاصل تھا۔ آپ کی عربی دانی کے کئی واقعات کتابوں میں موجود ہیں۔ دوسرے حج و زیارت 1342ھ کے موقع پر آپ کی عربی دانی کو دیکھتے ہوئے حضرت شیخ دباغ اور سید مالکی ترکی نے یوں خراج تحسین پیش کیا: "ہم نے ہندوستان کے اطراف و اکناف میں حجۃ الاسلام جیسا فصیح و بلیغ دوسرا نہیں دیکھا جسے عربی زبان میں اتنا عبور حاصل ہو۔" اسی طرح اعلیٰ حضرت کی کئی عربی کتابوں کا تعارف بھی آپ نے عربی میں قلم بند فرمایا نیز عربی کتاب کو اردو کے قالب میں ڈھالا۔
       علاوہ ازیں آپ نے تصنیفی خدمات بھی انجام دیں۔ آپ کی کئی علمی یادگاریں اہل ذوق کے لیے باعث مطالعہ ہیں ۔ "الصارم الربانی علی اسراف القادیانی " یہ قادیانیوں کے رد پر عالم اسلام کا پہلا رسالہ ہے ، جو حجۃ الاسلام ہی کے قلم حق رقم سے نکلا۔ الدولۃ المکیہ، حسام الحرمین کے اردو تراجم ، حاشیہ ملا جلال، مقدمہ الاجازات المتینہ، نعتیہ مجموعہ ، مجموعہ فتاویٰ ، اور بیشتر کتب پر تقاریظ آپ نے قلم بند فرمائیں۔
       حضور حجۃ الاسلام مولاناحامدرضا بریلوی نے مختلف مذہبی اور سیاسی تحریکوں کے طوفانوں کا کڑا مقابلہ کیا ۔ مثلاً قادیانی تحریک ، تحریکِ خلافت ، تحریکِ ترکِ موالات، تحریکِ شدھی سنگھٹن، تحریکِ ہجرت، تحریکِ مسجد شہید گنج وغیرہ وغیرہ۔
       1354ھ/1935ء میں آپ نے الجمیعۃ العالیۃ المرکزیہ ،مرادآباد کے تاریخی اجلاس میں جو فاضلانہ خطبہ دیا اس سے ان کی بے مثال فکر و تدبر کا اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کے خطبۂ صدارت کے ایک ایک لفظ پر اگر غور کیا جائے توظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض ایک خطبہ نہیں بلکہ فلاحِ ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک ایسا دستورالعمل ہے کہ اگر اس کے مطابق مسلمانان ہند نےاپنے رہوارِ زندگی کو مہمیز کیا ہوتا تو آج ہماری حالت ہی کچھ اور ہوتی ۔ مسلمان معاشی ، تعلیمی ، تجارتی غرض یہ کہ ہر قسم کے دینی و دنیاوی امور میں کسی سے پیچھے نہ رہتا ۔ ذیل میں آپ کے خطبۂ صدارت کا ایک اقتباس ملاحظہ کریں جس میں ملازمت کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے صنعت و حرفت اور تعلیم و تجارت پر زور دیا ہے:
       "ہمارا ذریعۂ معاش صرف نوکری اور غلامی ہے اور اس کی بھی یہ حالت ہے کہ ہندونواب مسلمان کوملازم رکھنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ رہیں گورنمنٹی ملازمتیں ان کا حصول طولِ امل ہے۔اگر رات دن کی تگ و دو اور ان تھک کوششوں سے کوئی معقول سفارش پہنچی تو کہیں امیدواروں میں نام درج ہونے کی نوبت آتی ہے ۔ برسوں بعد جگہ ملنے کی امید پر روزانہ خدمتِ مفت انجام دیا کرو اگر بہت بلند ہمت ہوئے اور قرض پر بسر اوقات کرکے برسوں کے بعد کوئی ملازمت حاصل بھی کی تو اس وقت تک قرض کا اتنا انبار ہوجاتاہے کہ جس کو ملازمت کی آمدنی سے ادانہیں کرسکتے ۔"  (خطبۂ حجۃ الاسلام،ص 51/52)
       اس کے بعد نوکری پر تجارت اور صنعت و حرفت کا یوں اظہار کیا:
       " ہمیں نوکری کاخیال چھوڑ دینا چاہیے ، نوکری کسی قوم کومعراجِ ترقی تک نہیں پہنچا سکتی ، دست کاری اور پیشے و ہنر سے تعلق پیدا کرنا چاہیے۔" (خطبۂ حجۃ الاسلام،ص 51/52) 
       اسی خطبۂ صدارت میں آپ نے تعلیم نسواں پر بھی کافی زور دیا بلکہ لڑکیوں کی تعلیم اور اس کی فلاح و ترقی کے لیے بھی آپ بے حد کوشاں رہے۔ آپ کے خیال میں صنفِ نازک کی بقا و استحکام نیز اس کی تعلیم و تربیت میں ہی قوم کی ترقی کا راز مضمر ہے۔ آپ نےاس خطبے میں ملتِ اسلامیہ کی سیاسی بیداری پر بھی زور دیا۔ مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی کوممکن بنانے کے لیے کئی ملک گیر دورے بھی کیے۔ آپ کے ٹھوس تاثرات اور تجاویز جو آپ نے مختلف اجلاس اور کانفرنسیس میں پیش فرمائے ان کو پڑھ کراس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کے سینے میں ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کا کیسا درد موجزن تھا۔
       آپ کی متنوع صفات شخصیت کے جملہ پہلووں کا احاطہ اس مضمون میں ناممکن ہے ۔ مختصر یہ کہ آپ نےتاعمر ملت اسلامیہ کی ترقی و استحکام ، نیز اہل سنت و جماعت کے تحفط و بقا کے لیے اپنے آپ کو متحرک و فعال رکھا ۔حضور حجۃ الاسلام کے ذکرِ خیر میں آپ کے حسن و جمال کا تذکرہ نہ کرنا مناسب نہیں معلوم ہوتا چناچہ عرض ہے کہ آپ کا حُسن ظاہری ایسا دل کش و پُرکشش تھا کہ جو دیکھتا وہ آپ کا گرویدہ ہوجاتا ۔بلکہ کئی غیرمسلموںنے محض آپ کے جمال جہاں آرا کو دیکھ کر اسلام کی حقانیت و صداقت پر ایمان لائے۔ آپ کے جمالِ جہاں افروز کے کئی واقعات مشہور ہیں ۔ آپ کے مرید خاص و خلیفہ ٔ مفتی اعظم و حضرت ضیا ء الدین مدنی حضرت علامہ سید ظہیر احمد زیدی علیہ الرحمہ حضور حجۃ الاسلام کے حسن جہاں تاب سے متعلق اپنا چشم دید واقعہ یوں بیان کرتے ہیں :
       "24صفر المظفر (1358ھ ) کو میں نماز عشا سے فراغت پاکر مزار مبارک سے متصل مسجد کی فصیل پر کھڑا تھا کہ اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ کے شاہزادہ زیب سجادہ و خلیفہ مجاز زبدۃ العارفین ، عالم علوم شریعت واقف طریقت حجۃ الاسلام حضرت مولانا شاہ حامدرضا خاں نعت خوانانِ سرکار علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کے جلو میں برابر والی سڑک سے آستانۂ مبارکہ کی سمت جاتے ہوئے گذرے اچانک میری نگاہ حضرت پر پڑی ۔ اللہ اکبر! حسن و جمال کاوہ منظر دیکھا کہ ہوش و حواس سلامت نہ رہے۔ حُسنِ عقیدت کا کوئی سوال نہیں جیسا کہ میں بیان کرچکا ہوں کہ اس خاندان سے میرا کوئی ربط و تعلق نہ تھا نہ پہلے سے اس خاندان کے افراد سے میری کوئی ملاقات و معرفت تھی۔ عرس رضوی میں حاضری کا بھی پہلا موقع تھا اس سے قبل کبھی کسی اور بزرگ کے عرس میں حاضری کا بھی اتفاق نہیں ہوا تھا اس لیے جو کچھ عرض کررہا ہوں اس میں نہ کوئی مبالغہ ہے نہ غلط بیانی بلکہ اظہار حقیقت ہے عین الیقین ہے بلکہ حق الیقین ہے ۔ میں نے دیکھا کہ حضرت حجۃ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نعت خوانوں کے جلو میں ہیں نعت خوانوں نے آپ کے گرد حلقہ بنا رکھا ہےاور نور کا ایک ستون ہے جو آسمان سے زمین تک آپ کے قد و قامت کا احاطہ کیے ہوئے ہے انوار قدسیہ اورحسن و جمال کا ایسا ہوش رُبا نظارہ تو کیا اس کا عشر عشیر اور اقل اقیل بھی آج تک میری نگاہ بلکہ میرے تصور سے کبھی نہیں گذرا تھا اس نظارہ ہی سے وارفتگی کا وہ عالم پیدا ہوا کہ صبر وقرار نہ رہا ۔ مرزا غالب نے اپنے شعر میں غالباً اسی کیفیت کی ترجمانی کی ہے کہ    ؂
جب وہ جمالِ دل فروز ، صورتِ مہرِ نیم روز
آپ ہی ہو نظارہ سوز ، پردہ میں منہ چھپائے کیوں "
       حضرت علامہ سید ظہیر احمد زیدی علیہ الرحمہ اس وقت مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کی سٹی ہائی اسکول میں لکچرار تھے ۔ دوسرے روز حضرت حجۃ الاسلام کے دست حق پرست پر بیعت ہوکر سلسلہ قادریہ میں داخل ہوئے جب کہ وہ خود ساداتِ زیدیہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا گھرانا خود بھی اہل طریقت و شریعت میں بڑا باثر مانا جاتا تھا۔    حضور حجۃ الاسلام کے حسن و جمال کا تذکرہ ہو اور حضرت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد چشتی علیہ الرحمہ کا ذکر نہ کیا جائے تو بات نامکمل تسلیم کی جائے گی۔حضرت حجۃ الاسلام کے جمال جہاں آرا نے ہی آپ کو دنیاوی تعلیم ترک کرنے پر مجبور کیا انجمن حزب الاحناف لاہور کے تاریخی سالانہ اجلاس میں جب آپ نے حضور حجۃ الاسلام کا چہرۂ زیبا دیکھا تو اتنے متاثر اتنے متاثر ہوئے کہ بے قراری اور بے تابی کا یہ عالم ہواکہ سب کچھ ترک کرے حضرت کے ساتھ بریلی آگئے اور دینی علوم و فنون کاایسا سرچشمہ بن گئے کہ آج بر صغیر ہندوپاک کے علما کی ایک بڑی تعدا د آپ کے خوشۂ علمی سے اکتساب فیض کررہی ہے۔
       حسنِ ظاہری و باطنی کے اس حسین سنگم کو جس نے بھی دیکھا وہ دیکھتا ہی رہا ۔ آپ کی شخصیت میں بڑی عاجزی اور انکساری تھی۔ آپ ایسے متواضع اور خلیق تھے کہ اپنے تو اپنے بے گانے بھی ان کی بلندد اخلاقی کے قائل اور معترف تھے۔ آپ نہایت متقی اور پرہیزگار تھے۔ علمی وتبلیغی کاموں سے فرصت پاتے تو ذکرِ الٰہی ودرود وسلام کی کثرت کرتے ۔ آپ کے جسم اقدس پر ایک پھوڑا ہوگیا تھا جس کا آپریشن ناگزیر تھا ۔ ڈاکٹر نے بے ہوشی کا انجکشن لگانا چاہا تو منع فرمادیا ۔ اور صاف کہہ دیا کہ میں نشے والاٹیکہ نہیں لگواوں گا۔ عالم ہوش میں تین گھنٹے تک آپریشن چلتا رہا ۔ درود شریف کا ورد کرتے رہے اور کسی درد و کرب کا اظہار نہ کیا ڈاکٹر آپ کی ہمت اور استقامت و تقویٰ شعاری پر ششدر رہ گئے۔ اللہ کریم سے دعاہے کہ ہمیں اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم)