Instagram

Thursday, 7 March 2013

Nazeer Akbaraadadi Ki Shaeri Me Manazir E Fitrat Ki Akkasi


نظیر اکبرآبادی کی شاعری میں مناظر قدرت کی عکاسی

    بنیادی طور پر نظیرؔ ایک عوامی شاعر ہیں اس لئے ان کی شاعری میں جہاں قدرتی مناظر کا عکس دکھائی دیتا ہے وہیں عرس، میلوں اور تہواروں کے مناظر بھی پیش کئے گئے ہیں۔ ان کی مشہور نظم ’’برسات کی بہاریں‘‘ قدرتی مناظر کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی نظم ’گرمی‘ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ نظیرؔاکبرآبادی نے قدرتی مناظر کو پورے سلیقے کے ساتھ اپنی شاعری میں شامل کیا۔ نظیرؔ کی نظموں میں مناظر قدرت کی عکاسی لفظوں کے ذریعے نمایاں ہے ان کی نظمیں ’بنجارہ نامہ‘ اور ’آدمی نامہ‘ بھی ایک طرح سے انسان کے مختلف روپ و رنگ کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان نظموں میں بین السطور اخلاقی اقدار بھی سامنے آتے ہیں۔ ان کی ایک مشہور نظم ’کل جگ‘ کے اشعار ملاحظہ ہوں۔
نیکی کا بدلہ نیک ہے بد کر بدی کا ساتھ لے
کانٹا لگا کانٹا پھلیں، پھل پات بو پھل پات لے
کل جگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے ، اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے
    قدرتی مناظر کے علاوہ نظیر اکبرآبادی ہر نظم کو کسی نہ کسی فطری منظر سے وابستہ کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی نظموں میں نیکی، سچائی اور حقیقت کی بھرپور نمائندگی ہوتی ہے اور اسی خصوصیت کی وجہ سے نظیرؔ اکبرآبادی کی نظموں کے مناظر اپنا اثر دکھاتے ہیں۔ ان کی نظم ’’بلدیو سنگھ کا میلا‘‘ اور ’’عید گاہ اکبرآباد‘‘ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ نظیرؔ نے اپنے ماحول کے مناظر کو بھی نظموں میں شامل کر لیا ہے۔


’’ہولی‘‘ ایک شاہکار نظم

    نظیرؔ کی نظم ’’ہولی‘‘ کا تعلق ہندوستان کے ایک رنگ رنگیلے تہوار سے ہے۔ جس میں رنگ و پانی کے ساتھ دلوں کی کدورتیں دور ہو جاتی ہیں۔ یہ ۶بند کا مخمس ترکیب بند ہے۔ ہر بند ہولی کا ایک ایک منظر پیش کرتا ہے۔ جس میں زندگی ہی زندگی ہے۔ نظم میں ہر چار مصرعوں کے بعد ایک مصرعے کو ہراتے ہوئے ایک ایک منظر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس نظم میں طبلے کی تال، ڈھولک اور مردنگ کی تھاپ، رباب اور سارنگی کی آوازوں، تنبوروں کی جھنک اور گھنگھروئوں کی چھنک سے ایک خوشگوار تاثر پیدا ہو جاتا ہے۔ اس نظم میں گلال، رنگ اور پچکاری کا ذکر کر کے اس تہوار میں کی جانے والی دھینگا مستی، کھینچا تانی اور کیچڑ پانی کے مناظر پیش کئے گئے ہیں۔ رنگ چھڑکنے، راگ راگنی کی محفلوں، شراب کے جام چھلکنے اور کھیل کود کی کیفیت کو مناسب حال الفاظ کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے۔ نظیرؔ نے اس نظم میں فارسی و ہندی الفاظ کو بھرپور استعمال کیا ہے۔ اس سے نظیرؔ کے گہرے مشاہدے کا اندازہ ہوتا ہے۔ پانچ پانچ مصرعوں پر مشتمل ۶ بند کی اس نظم ہولی کی مختلف کیفیتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ پہلے بند میں نظیرؔاکبرآبادی نے اس حقیقت کی نمائندگی کی ہے کہ ہولی کے آنے کی وجہ سے عیش و عشرت کا موقعہ فراہم ہو گیا ہے اور ہر طرف خوشی کی دھوم مچی ہے۔ نظم کے دوسرے بند میں نظیرؔ اکبرآبادی نے اپنے دور میں استعمال ہونے والے باجوں اور سازوں کی تفصیل پیش کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ طبلے کی تال کھٹک رہی ہے۔ ڈھولک اور مردنگ بج رہے ہیں۔ ربابوں، سارنگی اور چنگ کی آوازیں پھیلتی جا رہی ہیں۔ تنبورے کے تار جھنک رہے ہیں اور گھنگھروئوں کی آواز پر لوگ دھوم مچارہے ہیں۔ غرض ناچنے گانے کا یہ سلسلہ ہولی کی دولت ہے۔نظم کے تیسرے بند میں وہ لکھتے ہیں کہ تھالوں میں گلال پیش ہو رہے ہیں اور پچکاری سے رنگ چھڑکے جا رہے ہیں۔ عبیر چھڑکا جا رہا ہے۔ لوگوں کی خوشیوں کا ذکر کرتے ہوئے نظیرؔ نے یہ لکھا ہے کہ رنگ بھری پچکاری سے لوگوں کے منہ اور جسم گلنار ہو رہے ہیں۔ اور جسم رنگ میں تر بتر ہوتا جا رہا ہے۔ یہ تمام انداز ہولی کی وجہ سے دکھائی دے رہے ہیں۔ نظیرؔ اکبرآبادی نے نظم کے چوتھے بند میں رنگ کھیلتے ہوئے خوشی میں کی جانے والی دھینگا مشتی اور کیچڑ پانی میں تربتر ہونے کے منظر کی عکس بندی کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ خوشحالی کا جوش ہولی کی وجہ سے چاروں طرف نمایاں ہے۔ نظم کے پانچویں بند میں ہنس ہنس کر دیا ہے اور بتایا کہ لوگ ہنستے کھیلتے کس طرح خوش ہیں۔ کبھی وہ سوانگ بھرتے ہیں اور کبھی موج مستی کی باتیں کرتے ہوئے ہولی کی وجہ سے خوش ہو رہے ہیں۔ کچھ گانے میں مصروف ہیں تو کچھ ناچنے اور سوانگ بھرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ غرض خوشی کا یہ سامان ہولی کی وجہ سے میسر آیا ہے۔
    نظیرؔ نے نظم ہولی کے ذریعے ایک ہندوستانی تہوار میں منائی جانے والی خوشیوں کو بڑے دلچسپ انداز میں نظم کر دیا ہے۔ اس نظم میں سادہ زبان اور عوامی الفاظ کے استعمال کی وجہ سے نظم کا لطف دوبالاہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم بھی ہولی کے تہوار میں شریک ہیں۔
آجھمکے عیش و طرب کیا کیا، جب حسن دکھایا ہولی نے
ہر آن خوشی کی دھوم ہوئی، یوں لطف جتایا ہولی نے
ہر خاطر کو خورسند کیا، ہر دل کو لبھایا ہولی نے
دفِ رنگین نقش سنہری کا، جس وقت بجایا ہولی نے
بازار، گلی اور کوچوں میں، غل شور مچایا ہولی کا




نظیر اکبرآبادی کی نظم ’’مفلسی‘‘ کا تجزیہ

    نظیرؔ اکبرآبادی اردو نظم کے ایک ایسے شاعر ہیں جنہوں نے فطری موضوعات کے علاوہ سماجی، معاشی اور معاشرتی موضوعات پر بھی نظمیں لکھیں۔ ایسی ہی نظموں میں نظیرؔ کی نظم ’’مفلسی‘‘ کا شمار ہوتا ہے۔ یہ نظم نظیرؔ کے مزاج کے عین مطابق ہے۔ اس نظم کو انھوں نے پانچ مصرعوں کے بند یعنی مخمس میں تحریر کیا ہے۔ یہ ایک طویل نظم ہے، جس میں سماجیاتی مطالعہ کے ساتھ نظیرؔ نے ان حقائق کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ جن کی وجہ سے مفلسی اور بدحالی کے پھیلنے کا امکان بڑھتا جا رہا ہے۔ ۱۹بند پر مشتمل نظم ’مفلسی‘ بنیادی طور پر وضاحتی انداز کی نظم ہے۔ اس نظم میں نظیرؔ نے اپنے مشاہدے کی گہرائی اور تشبیہ اور تلمیح کے استعمال اور محاورے کی گرمی سے ایسا ماحول تیار کر دیا ہے کہ یہ نظم مفلسی کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالتی ہے۔
    نظم کے پہلے بند میں نظیرؔ اکبرآبادی نے بتایا ہے کہ جب آدمی پر مفلسی کا حملہ ہوتا ہے تووہ مختلف طریقوں سے انسان کو پریشان کرتی ہے۔ کبھی وہ رات بھر بھوکا سلاتی ہے اور کبھی پیاسا رہنے پر مجبور کردیتی ہے۔ جس پر بھی مفلسی آتی ہے اسے ہر قسم کے دکھ اٹھانے پڑتے ہیں۔ حکیم جو بیماریوں کا علاج کرتا ہے اور جس کی عزت بڑے بڑے نواب اور پٹھان بھی کرتے ہیں۔ لیکن وہ بھی غریب ہو جائے تو اس کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ حد یہ ہے کہ لقمان سے بڑا طبیب اور عیسیٰ جیسا مسیحا بھی موجود ہو لیکن وہ غریب ہو تو اس کی تمام تر حکمت غریبی میں ڈوب جاتی ہے۔
    نظیرؔ نے نظم کے تیسرے بند میں بتایا ہے کہ اہل علم و فضل بھی ہوں اور ان کو مفلسی گھیرے تو وہ غریبی کی وجہ سے کلمہ تک بھول جانے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ بھوکے سے کوئی الف کے بارے میں پوچھے تو وہ اسے ب بتاتا ہے۔ غریب کے بچوں کو پڑھانے والا سدا مفلس ہی رہتا ہے اور اگر کوئی غریب کے گھر مفلسی آتی ہے تو وہ عمر بھر جا نہیں سکتی۔ اگر مفلس کسی مجلس کے درمیان اپنا حال بیان کرتا ہے تو لوگ یہی تصور کرتے ہیں کہ اس نے روزگار حاصل کرنے کے لئے یہ جال پھیلادیا ہے۔ غریب کے پاس لاکھوں علم و کمال ہوں لیکن وہ مفلس ہو تو ہزار سنبھال لینے کے باوجود اس سے لغزش ہو جاتی ہے۔ اس طرح مفلسی انسان کی تمام صلاحیتوںکو خاک میں ملا دیتی ہے۔
    نظم مفلسی کے پانچویں بند میں نظیرؔ اکبرآبادی نے بتایا ہے کہ جب انسان مفلس بن جاتا ہے تو اسے اپنی عزت سے زیادہ روٹی یا نان پیاری ہوتی ہے۔ اور وہ ایک ایک روٹی پر جان دینے کے لئے مجبور ہو جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ جہاں بھی روٹی اورکھانے کا خوان دیکھتا ہے اس پر بھوکے کتے کی طرح ٹوٹ پڑتا ہے۔ اس طرح مفلسی نہ صرف روٹی کے لئے جھگڑا کراتی ہے بلکہ حددرجہ ذلیل بھی کرواتی ہے۔ مفلسی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حیا کی بنیاد پر جن کاموں سے انسان خود کو بچائے رکھتا ہے وہ سب کام کرنے پر وہ مجبور ہو جاتا ہے اور اس میں حلال و حرام کی بھی تمیز باقی نہیں رہتی۔ غرض جسے شرم و حیا کہتے مفلسی کی وجہ سے وہ انسان سے رخصت ہو جاتی ہے۔
    نظم کے ذریعے نظیرؔ اکبرآبادی نے ساتویں بند میں بتایا ہے کہ اگرچہ انسان پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں اور وہ شور و غل مچائے تو لوگ گوارا کر لیتے ہیں۔ لیکن مفلس کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ غم کے بغیر ہی ہائے ہائے کرتا ہے اور اس کے واویلا مچانے کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ مفلسی کی وجہ سے اس میں اس قدر ذلت آجاتی ہے کہ اگر کوئی مرجائے تو لاش اٹھانے کے لئے اس کے پاس سرمایہ نہیں ہوتا۔ لاش کو بے کفن دفن کرنا پڑتا ہے۔ مفلسی کی وجہ سے نہ تو چولھے پر توا رکھا جا سکتا ہے اور نہ مٹکے میں پانی بھرا جا سکتا ہے۔ مفلسی کھانے پینے اوراس کے لئے رکابی حاصل کرنے کو بھی محتاج کر دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے مفلس بے غیرت بن جاتا ہے اور غریب کی بیوی کی عزت بھی ہر ایک کے دل سے ختم ہوجاتی ہے۔ انسان کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو اگر مفلسی اسے گھیر لے تو اس کے طفیل انسان کی قابلیت گھٹ جاتی ہے اور اسے لوگ گدھے اور بیل کا درجہ دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ افلاس کے مارے پھٹے کپڑوں اور بکھرے بالوں کے ساتھ جسم، منہ اور بدن کی پاکی پر توجہ نہیں دے سکتا۔ افلاس کی وجہ سے انسان کی شکل قیدیوں جیسی ہو جاتی ہے۔
    مفلسی کا اثر کیا ہوتا ہے اس کا جائزہ لیتے ہوئے نظیرؔ اکبرآبادی یہ بتاتے ہیں کہ جب کسی پر مفلسی آتی ہے تو اس کی وجہ سے دوستوں میں عزت گھٹ جاتی ہے۔ اور چاہنے والوں کی محبت میں کمی آتی ہے۔ اپنے اور غیر میں فرق بڑھاتی ہے اور اسی کے ساتھ شرم و حیا کے علاوہ عزت اور حرمت میں بھی مفلسی کی وجہ سے کمی آتی ہے۔ بہرحال انسان پر مفلسی آجائے تو اس کی بدولت جسم کی صفائی نہ ہونے سے بال اور ناخن بڑھ جاتے ہیں اور انسان صفائی کی خصوصیات کھو دیتا ہے۔
    نظیرؔ اکبرآبادی نے بتایا ہے کہ مفلسی کی وجہ سے شرافت کا خاتمہ ہوجاتا ہے انسانی عزت باقی نہیں رہتی۔ عزت کے خاتمے کے ساتھ تعظیم اور تواضع ختم ہوجاتی ہے۔ اور انسان اس قدر ذلیل ہوتا ہے کہ اسے محفلوں میں جوتوں کے قریب بیٹھنا پڑتا ہے۔ غرض مفلسی ایک ایسی حقیقت ہے جو عزت کو خاک میں ملانے، محبت کا خاتمہ کرے اور انسان کو چوری کی طرف راغب کرنے کا کام انجام دیتی ہے۔ اور اسی مفلسی کی وجہ سے انسان بھیک مانگنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ نظم کے آخری بند میں نظیرؔ اکبرآبادی کہتے ہیں کہ دنیا میں خدا کسی بادشاہ یا فقیر کو کبھی مفلسی میں گرفتار نہ کرے کیونکہ مفلسی ہی شریف انسان کو حقیر بناتی ہے۔ اس کی خرابیاں کہاں تک بیان کی جائیں بس اتنا کہا جا سکتا ہے کہ خدا ہر انسان کو مفلسی سے محفوظ رکھے کیوں کہ مفلسی انسان کے دل کو جلاتی ہے۔ نظیرؔ اپنی اس نظم کو دعائیہ کلمات پر ختم کرتے ہیں۔
    نظیرؔ اکبرآبادی کی نظم مفلسی میں بے شمار محاورے، تشبیہات اور استعارے استعمال ہوئے ہیں۔ ان کی نظم میں تلمیحات کی بھی کمی نہیں ہے۔ وہ حضرت لقمان اور حضرت عیسیٰ کا تلمیحی اشارہ اپنی نظم میں استعمال کرتے ہیں۔ نظیرؔ نے نئی لفظیات کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے استعمال کی چیزوں کو بھی اس نظم میں جگہ دی ہے۔ چنانچہ بی بی کا نتھ، لڑکوں کے ہاتھ کے کپڑے، چھٹ کی کڑیاں، دروازے کی زنجیر، چولھا، توا، رکابی اور کھانے پینے کی تمام چیزیں اس نظم میں شامل ہیں۔ ان کی تشبیہات اور استعارے اس حقیقت کا اشارہ کرتے ہیں کہ نظیرؔ اکبرآبادی نے مفلسی کو ایک جرم کی حیثیت دی ہے چنانچہ وہ انسان کو مفلسی کے دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ مفلسی کی وجہ سے شرافت اور عزت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

جب آدمی کے حال پہ آتی ہےمفلسی
کس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسی
پیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسی
بھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسی
یہ دکھ وہ جانے کہ جس پہ آتی ہے مفلسی

کہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شان
تعظیم جس کی کرتے ہیں نواب اور خان
مفلس ہوئے تو حضرت لقمان کیا ہیں یاں
عیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاں
حکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسی

جو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیں
مفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیں
پوچھے کوئی الف تو اسے بے بتاتے ہیں
وہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیں
ان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسی