Instagram

Wednesday, 15 May 2013

صدرالافاضل مولانا سیدنعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی کے مجموعۂ کلام ’’ریاضِ نعیم‘‘ کا ایک مطالعہ



صدرالافاضل مولانا سیدنعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی کے مجموعۂ کلام
’’ریاضِ نعیم‘‘ کا ایک مطالعہ

(صدرالافاضل سمینار ، 27 مئی 2013ء مرادآباد کے لیے لکھا گیا ایک مقالہ)

       صدرالافاضل حضرت مولاناحافظ سید نعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی چشتی اشرفی قادری برکاتی قدس سرہٗ ، حضرت سید علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہما کے خلیفہ تھے۔ آپ کی ولادت ۲۱؍ صفرالمظفر۱۳۰۰ھ بمطابق یکم جنوری ۱۸۸۳ء بروز پیر کو شہر مرادآباد میں ہوئی، اور آپ نے ۱۸؍ ذی الحجہ ۱۳۶۸ھ بمطابق ۲۳؍اکتوبر ۱۹۴۸ء بروز جمعہ کووفات پائی۔
       آپ کا تاریخی نامـ ـ’’غلام مصطفی‘‘ تھا۔ آپ کاخانوادہ علم و فضل میںیگانہ تسلیم کیا جاتا تھا ۔ والد ماجدمولانا سید محمد معین الدین المتخلص بہ نزہتؔ مرادآبادی (م ۱۳۳۹ھ) اور جد امجد مولانا سید محمد امین الدین راسخؔبن مولانا سید محمد کریم الدین آرزوؔاپنے عہد کے مشاہیر علما و شعرا میں شمار کیے جاتے تھے۔
       حضرت صدرالافاضل کی ابتدائی تعلیم و تربیت والد ماجد مولانا سیدمحمد معین الدین نزہتؔ مرادآبادی کی آغوش میں ہوئی۔ محض آٹھ سال کی مختصر سی عمر میں حافظ سید نبی بخش اور حافظ حفظ اللہ خاں کے پاس حفظِ قرآن کی تکمیل کی ۔ بعدہٗ مولانا شاہ فضل احمد امروہوی سے استفادہ کیا۔ دارالعلوم امدادیہ، مرادآباد  میں مولانا سید گل محمد علیہ الرحمہ سے دورۂ حدیث مکمل کیا ۔ ۱۳۳۰ھ بمطابق ۱۹۰۲ء میں اس زمانے کے جملہ علوم عقلیہ و نقلیہ سے آراستہ ومزین ہوکرتعلیم سے فراغت حاصل کی۔ والد ماجد مولانا سید محمد معین الدین نزہت ؔ مرادآبادی نے درج ذیل شعر سے دستارِ فضیلت کا سال استخراج فرمایا     ؎
نزہتؔ نعیم الدین کو یہ کہہ کے سُنادے
دستارِ فضیلت کی ہے تاریخِ فضیلت۱۳۳۰ھ
       حضرت صدرالافاضل مولاناسید محمد نعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی نے سلسلۂ عالیہ قادریہ میں اپنے استاذِ مکرم حضرت مولانا سید گل محمد علیہ الرحمہ سے شرفِ بیعت حاصل کیا ۔حضرت مولانا سید گل محمد علیہ الرحمہ نے بیعت کے بعد آپ کو حضرت سید علی حسین اشرفی میاں کچھوچھوی قدس سرہٗ (م ۱۳۵۵ھ) کے سپرد کردیا۔ حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمہ نے آپ سے روحانی اکتسابِ فیض کیا اور آپ ہی سے خلافت و اجازت حاصل کی۔ حضرت سید علی حسین اشرفی میاں کی اجازت سے صدرالافاضل علیہ الرحمہ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ (۱۳۴۰ھ) سے بھی خلافت و اجازت حاصل کی۔
       حضرت صدرالافاضل مولانا نعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی علیہ الرحمہ کے علمی تفوق و برتری کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مجدداسلام اعلیٰ حضرت امام احمدرضا بریلوی قدس سرہٗ آپ کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے اور آپ کے علم و فضل کی سراہنا فرمایا کرتے تھے،چناں چہ’’ خلفاے اعلیٰ حضرت ‘‘صفحہ ۳۴۱پر مرقوم ہے کہ :
       ’’ صدرالافاضل متبحر عالم اور صاحبِ بصیرت سیاست داں تھے علمی پایگاہ کااندازہ اس سے ہوتا ہے کہ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ نے ’’الطاری الداری ‘‘ کا مسودہ آپ کو دکھایا اور جب آپ نے بعض ترمیمات کی سفارش کی تو قبول کرلی گئیں۔‘‘
       اسی طرح اعلیٰ حضرت نے اپنی ایک ۳۶۱؍ اشعار پر مشتمل طویل نظم’’الاستمداد‘‘ میں نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم اور عقائد باطلہ کا رد فرمانے کے بعد اخیر کے ۲۴؍ اشعار میں اپنے احباب اور خلفاکے فضائل و مناقب قلم بند کیے ہیں۔ جس میں آپ نے اپنے ۱۴ ؍ خلفا کا ذکر اختصاصی طور پر فرمایا ہے۔ ہر ایک کو اس کے مرتبہ و منصب کے اعتبار سے دین کی خدمت کرنے پر دعائیں دی ہیں اور فخر و مباہات فرمایا ہے۔اسی نظم میں آپ نے اپنے خلیفۂ خاص صدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی علیہ الرحمہ کا ذکر بایں طور کیا ہے ، فرماتے ہیں حضرتِ رضاؔ بریلوی    ؎
میرے نعیم الدین کو نعمت
اس سے بلا میں سماتے یہ ہیں
       جہاں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی آپ کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا کرتے تھے وہیں حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کی علمیت اور نظریاتی برتری کو صدقِ دل سے قبول کیا کرتے تھے۔ اور آپ کے مخالفین و معاندین کا مسکت جواب دیتے تھے۔ اعلیٰ حضرت نے اپنے اس عقیدت مند اور جاں نثار کو بریلی میں طلب کیا ۔ اور زندگی بھر اپنا رفیقِ کار بنائے رکھا۔ حضرت صدرالافاضل نے بھی اعلیٰ حضرت کے مشن کو خلوص و للہیت کے ساتھ بڑی کامیابی و کامرانی سے آگے بڑھایا اور مسلمانانِ ہند کی سیاسی و مذہبی امور میں رہنمائی فرمائی۔ اعلیٰ حضرت کے مشہورِ عالم ترجمۂ قرآن ’’کنزالایمان ‘‘ پر ’’خزائن العرفان‘‘ کے نام سے جو تفسیری حاشیہ ہے وہ آپ ہی کے موے قلم کا ایک علمی شاہ کار ہے۔
       آپ نے ۱۳۲۸ھ میں مرادآباد میں ’’مدرسۂ اہل سنت و جماعت ‘‘ کی بنیاد رکھی۔ ۱۳۵۲ھ میں اسی مدرسہ کو وسعت دیتے ہوئے ’’جامعہ نعیمیہ‘‘ کے نام سے مُعَنوَن کیا گیا۔ یہ دارالعلوم ہندوستان بھر میں تکمیلِ علومِ دینیہ کی ایک اعلیٰ درس گاہ تھی۔ اسی دارالعلوم کے فارغ طلبا آگے چل کر برصغیر میں دینی مدارس کے بانیان بنے۔مولاناسیدابوالحسنات احمد قادری، مولاناابوالبرکات شیخ الحدیث مرکزی حزب الاحناف لاہور، مفتی محمد عمر نعیمی دارالعلوم امجدیہ کراچی، حکیم الامت مفتی احمد یار خاںسالکؔ نعیمی گجرات، پیر محمد کرم شاہ  دارالعلوم محمدیہ بھیرہ شریف، فقیہ اعظم مولانا محمد نور اللہ بصیر پوری، مفتی غلام معین الدین نعیمی(سوادِ اعظم، لاہور)مفتی محمد حسین نعیمی جامعہ نعیمیہ لاہور، مولانا غلام فخر الدین گانگوی ، مفتی عبدالرشید خاں فتح پوری وغیرہم علیہم الرحمۃ والرضوان حضرت صدرالافاضل کے گلستانِ نعیمیہ کے گل ہاے سرسبد ہیں۔
       حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمہ مفسر، فقیہ، محقق، شاعر، مصنف، مدرس، مہتمم اورمناظر کی حیثیت سے عالمِ اسلام میں مشہور ہوئے۔ عیسائی، آریہ ، روافض، خوارج، قادیانی اور غیر مقلدین کے مناظرین کو کئی بار شکست دی۔ آپ نے ملک کے سیاسی اور دینی مسائل میں عملی حصہ لیا ۔ ہر تحریک میں پیش پیش رہے۔ ماہ نامہ ’’سوادِ اعظم، مرادآباد‘‘ کے ذریعہ ایک عرصہ تک بالغ نظر دینی و عصری صحافت کا روشن نقوش مرتب فرماتے رہے۔ تاریخ سازآل انڈیا سنی کانفرنس ، بنارس میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ کی تصانیف میں سے خزائن العرفان، الطیب البیان، رد تقویت الایمان، الکلمۃ العلیائ، ہدایت کاملہ، التحقیقات، کتاب العقائد، سوانح کربلا، زادالحرمین ، آداب الاخیار، اسواط العذاب، الفرائد النور، گلبن غریب نواز، فیضانِ رحمت اور ریاض نعیم قابلِ ذکر ہیں۔
       ان تصانیف میں ’’ریاضِ نعیم ‘‘حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمہ کا شعری مجموعہ ہے ۔ اور آج یہی مجموعۂ کلام میری تبصراتی و تجزیاتی کاوش کا عنوان ہے۔ مولانا معین الدین نعیمی علیہ الرحمہ کی مؤلفہ کتاب ’’حیات صدرالافاضل‘‘ ، سواد اعظم، لاہور کے حصۂ چہارم میں شامل مجموعۂ کلام ’’ ریاضِ نعیم‘‘ اس وقت میرے مطالعہ کے میز کی زینت بنا ہوا ہے۔ حضرت صدرالافاضل سید نعیم الدین نعیمؔمرادآبادی علیہ الرحمہ دیگر علوم و فنون کی طرح شعر و سخن میں بھی مکمل دسترس اور مہارت رکھتے تھے۔آپ نے عربی ، فارسی اور اردو تینوں زبانوں میں بڑ ی کامیابی سے شعر کہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ شاعری کا ملکہ آپ کو اپنے اجداد سے ورثے میں ملا تھا۔ والد ماجد مولانا سیدمحمد معین الدین نزہتؔ مرادآبادی ،اور جد کریم مولانا سید محمد امین الدین راسخؔاور جد امجد مولانا سید محمد کریم الدین آرزوؔ علیہم الرحمۃوالرضوان اپنے عہد کے استاذ الشعراء میں شمار کیے جاتے تھے۔ حضرت سید نعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی میں بے شمار نعتیں، نظمیں،مناقب،سلام،مناجات اور دعا قلم بند فرمائیں ، افسوس ! کہ وہ سب کے سب یک جا نہیں کیے جاسکے۔ جس قدر کلام دستیاب ہوسکا وہ پیشِ نظر مجموعۂ کلام’’ریاضِ نعیم‘‘ میں شامل ہے۔ اس ضمن میں حضرت صدرالافاضل کے معتبر سوانح نگار مولانا معین الدین نعیمی کے ان جملوں کو نقل کرنا قطعی غیر مناسب نہ ہوگا، موصوف راقم ہیں کہ  :
       ’’سیدی قدس سرہٗ نے اپنی حیاتِ طیبہ میں بے شمار نعتیں اور نظمیں فرمائی ہیں۔افسوس! کہ وہ سب جمع نہیں کی گئیں،بل کہ جس کے جو ہاتھ لگا اپنے ساتھ لے گیا۔ اس خادم نے اس معاملہ میں بعض افراد سے رابطہ بھی قائم کیا، مگر خاطرخواہ کلام فراہم نہ ہوسکا۔مندرجہ ذیل کلام بھی وہ ہے جس کو میں نے اپنی حاضری کے دوران جمع کیا، یا جس کو حضرت نے وقتاً فوقتاً فرمایا۔ان میں کچھ نظمیں ایسی تھیں جو مقطع سے خالی تھیں، آخری دنوں میں مَیں نے عرض کیا کہ ان کو مکمل فرمادیا جائے ، تو حضرت نے کچھ دن پہلے انھیں مکمل فرمایا۔ان اشعار میں اپنے دنیا سے رخصت ہونے کے بارے میں تلمیح موجود ہے ، مثلاً یہ شعر کہ    ؎
چل دئیے باغ سے چمن پیرا
گل و گلزار کا خدا حافظ
       بہ ہر حال !مَیں جس قدر کلام جمع کرسکا نذرِ قارئین کیا جاتا ہے ،اگر چہ اس کلام کو کتابی شکل میں حضرت قدس سرہٗ کے وصال فرمانے کے بعد مرادآباد سے شائع بھی کیا تھا۔‘‘ ( بہ حوالہ : حیات صدرالافاضل ، حصہ چہارم، سوادِ اعظم، لاہور، صفحہ ۲۰۱)
       ’’ریاضِ نعیم ‘‘ کا دریچۂ سخن روایتِ مسنونہ کے مطابق حمد باریِ تعالیٰ سے وا ہوتا ہے۔ حضرت نعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی نے بڑے سہل پیرایۂ اظہار میں اللہ رب العزت کے کمالات ، اوصاف اور عنایات کا ذکر کیا ہے۔مترنم بحر و وزن سے ہم رشتہ سلیس و رواںحمد کے چند اشعار نشانِ خاطر فرمائیں    ؎
سب کا پیدا کرنے والا میرا مولیٰ میرامولیٰ
سب سے افضل سب سے اعلیٰ میر امولیٰ میرا مولیٰ
جگ کا خالق سب کا مالک ، وہی ہی باقی وہ ہی ہالک
سچا مالک سچا آقا میرا مولیٰ میرا مولیٰ
       آخری شعر میں اللہ رب العزت کی اطاعت و عبادت کا جو خوب صورت شعری اظہاریہ ابھرتا ہے وہ دوسرے مصرعے میں ایسی سلاست سے ہم کنار ہوجاتا ہے کہ بے ساختہ دل سے سبحان اللہ ! سبحان اللہ کی داد نکلتی ہے     ؎
طاعت سجدہ اُس کا حق ہے ، اُس کو پوجو وہ ہی رب ہے
اللہ  اللہ  اللہ  اللہ  میرا  مولیٰ  میرا  مولیٰ
       حمد باریِ تعالیٰ کے بعد حضرت نعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی علیہ الرحمہ کا خامۂ فیض رقم مدحتِ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے گل بوٹے اس طرح بکھیرتا ہے   ؎
اے بہارِ زندگی بخشِ مدینہ مرحبا
اے فضاے جاں فزاے باغِ طیبہ مرحبا
غنچۂ پژمردۂ دل کو شگفتہ کردیا
مرحبا اے بادِ صحراے مدینہ مرحبا
       ’’ریاضِ نعیم ‘‘ میں شامل اس پہلی نعت کی زیریں رَو سے یہ اظہاریہ مترشح ہوتا ہے کہ غالباً یہ نعت حضرت نعیمؔ مرادآبادی نے دیارِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم میں رقم فرمائی تھی۔نشانِ خاطر کریں یہ شعر جس میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جود و کرم سے مدینے کی بہارِ جاں فزا کی زیارت کا والہانہ بیان موجود ہے   ؎
تو نے اِن آنکھوں کو دکھلائی مدینہ کی بہار
مرحبا جود و نوالِ شاہِ طیبہ مرحبا
       مقطع میں یوں فرماتے ہیں کہ   ؎
یہ نعیم الدین اور طیبہ کے جلوے یاعجب
مرحبا فضل و عطاے شاہِ طیبہ مرحبا
       اس نعت کے بعد حضرت نعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی نے اپنے پیر و مرشد حضرت سید علی حسین اشرفی میاں قدس سرہٗ کی شان میںایک منقبت کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ فارسی زبان میں لکھی گئی یہ منقبت اپنے ممدوح کے تئیں حضرت صدرالافاضل کی والہانہ مگر محتاط وارفتگی کی علامت ہے ۔ حضرت نعیمؔ مرادآبادی نے اپنے پیر و مرشد کو یہ خراج عقیدت بہ وقت طواف ِ کعبہ پیش کیا تھا۔جس کا ذکر اس منقبت کے سرنامے میں ’’ریاضِ نعیم ‘‘ کے مرتب نے یوں کیا ہے ۔
’’منقبت اعلیٰ حضرت شبیہ غوث الثقلین سید شاہ علی حسین الاشرفی الجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ : بوقت طوافِ کعبہ تحریر نمود‘‘
       حضرت صدرالافاضل کے بعض کلام میں آپ نے بہ طورِ تخلص اپنے نام ’’نعیم الدین‘‘ کو بھی برتا ہے اور اسی طرح ’’نعیمؔ‘‘ کے علاوہ ’’منعمؔ‘‘کو بھی  تخلص کے طور پر استعمال فرمایا ہے ۔ ہوسکتا ہے اس کی وضاحت حضرت کے تذکرہ نگاروں نے کہیں کی ہو۔ منعم ؔ تخلص کے چند مقطعے خاطرنشین ہوں     ؎
ہاے منعمؔ کی بے کسی افسوس
نزع میں بھی وہ اشک بار رہا
نزع میں بھی وہ اشک بار رہا
چھوڑ کرآئے ہیں منعمؔ کو تباہِ امید
بندہ تنہا مصیبتیں بے حد
منعمِ ؔ زار کا خدا حافظ
لطف ہو منعمؔ سے فرمائیں حضور
ہے مزے کی داستانِ دردِ دل
       صوفیہ کی روایت رہی ہے کہ انھوں نے اپنے جذباتِ قلبی اور وارداتِ دلی کا اظہار شعری پیکر میں کرتے وقت تغزل کے رنگ و آہنگ کو اپنایا ہے۔ حضرت صدرالافاضل کی شاعری میں ہمیں یہ رویّہ پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر دکھائی دیتا ہے ۔ آپ کے کئی کلام ایسے ہیں کہ جس کوپڑھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ خالص غزل ہی کے اشعار ہوں گے۔ لیکن آپ کی فکری طہارت و پاکیزگی کہیں ایسا اظہاریہ پیش کردیتی ہے کہ وہ کلام مجازی کے بجاے حقیقی محبت و الفت کا آئینہ دار بن جاتا ہے ۔ ایسے کلام میں زبان و بیان کے اعتبار سے بھی کہیں کسی قسم کا جھول نہیں پایا جاتا ۔ سلاست و روانی ، لفظیات کا خوب صورت انسلاک، طرزِ ادا کا بانکپن، مشکل زمینوں اور ردیفوں کا استعمال حضر ت صدرالافاضل نعیم ؔ مرادآبادی کے قادرالکلام شاعرہونے کی بین دلیل ہے۔چندنمایندہ اشعار نشانِ خاطر کریں    ؎
کیجیے کس سے بیانِ دردِ دل
کس سے کہیے داستانِ دردِ دل
غیر کی منت اٹھانا کیا ضرور
حال کہہ دے گی زبانِ دردِدل
تابشِ رُخ سے سحر کردیجیے
ہے شبِ تیرہ جہانِ دردِ دل
اے صبا جاکر مدینہ میں سنا
حالِ زارِ نیم زارِ دردِ دل
کس کے وعدہ پہ اعتبار رہا
مرتے مرتے بھی انتظار رہا
آنکھ وہ دید سے جو شاد رہی
دل جو دلبر سے ہم کنار رہا
قتیلِ خنجرِ بیداد ہوں میں
فداے ناوکِ صیاد ہوں میں
مجھی سے ہے جہاں میں نامِ الفت
حدیثِ عشق کی اَسناد ہوں میں
نالہ کرتے ہیں آہ کرتے ہیں
یہ بھی کوئی گناہ کرتے ہیں
ان کے حُسنِ جمیل کی توصیف
انجم و مہر و ماہ کرتے ہیں
       بنیادی طور پر حضرت صدرالافاضل کی شاعری کا خصوصی عنصر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و الفت میں والہانہ سرشاری ہی ہے۔ مدینۂ منورہ کا تذکرۂ خیر اور سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ کا محتاط ادب و احترام اور آقاے کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل وشمائل ، تصرفات و اختیارات اور مراتبِ رفیعہ کا بیان آپ کے نعتیہ اشعار میں بڑی گہماگہمی کے ساتھ ہمیں شاد کام کرتا دکھائی دیتا ہے ، ذیل میں حضرت نعیمؔ مرادآبادی کے چند نعتیہ اشعار ملاحظہ کریں   ؎
اے صبا جاکر مدینہ میں سنا
حالِ زارِ نیم جانِ دردِ دل
فزوں در مرتبہ از عرشِ اعلیٰ
زہے قدرِ زمینِ شاہ عالم
بد ہیں اگر چہ ہم حضور ، آپ کے ہیں مگر ضرور
کس کو سنائیں حالِ دل ، تم کو نہیں سنائیں تو
ترے رتبہ سے بالا مرتبہ کس کا ہے دنیا میں
رفیقِ بے کساں تم ہو انیسِ بے کساں تم ہو
جو تم سے پھر گیا مولیٰ ٹھکانہ ہے کہاں اس کا
خدا بھی مہرباں اس پر کہ جس پر مہرباں تم ہو
عطائیں پوچھیے سرکار کی محتاج سائل سے
اٹھائے ہوں جنھوں نے فیض ان کے بحرِ ساحل سے
       یہ شعر دیکھیں اور سبحان اللہ !! ماشاء اللہ !! کی داد وتحسین کانعرہ بلند کریں    ؎
مدینہ ہو یہ آنکھیں ہوں وہ سنگِ در یہ پیشانی
وہ آقا ہوں یہ بندہ ہو یہ دامن و ہ گُہرباری
       نعت کے مختلف موضوعات میں شعرا کے نزدیک نبیِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم سے استغاثہ و فریاد کا عنصر ہے ، ذخیرۂ نعت کا جب جائزہ لیا جاتا ہے ہے توہمیں ایسے کلام بہ کثرت ملتے ہیں جن میں شعرا نے اپنے کرب و ابتلا کو بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کرکے ان کے مداوا کا مودبانہ عریضہ پیش کیا ہے ، حضرت صدرالافاضل کی ایک نظمِ مسلسل جو آپ نے دیارِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانے والے زائرین سے خطاب کرکے رقم فرمائی ہے ، اس نظم کی زیریں رَومیں درد و کرب کا جو آہنگ پایا جاتا ہے وہ قاری و سامع کو بھی یقینا کربیہ لذت سے ہمکنار کرے گا، پوری نظم سلاست وروانی کا حسین مرقع ہے ، پڑھتے جائیے ، جھومتے جائیے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہر عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کا اظہاریہ ہے ، چند اشعار نشان خاطر کیجیے    ؎
اے زائر کوے نبی اتنا تو کر اے مہرباں
اہلِ مدینہ کو سنا حالِ نعیمؔ خستہ جاں
مایوسیوں کی کثرتیں ناکامیوں پر حسرتیں
تنہائیوں کی وحشتیں اندوہ و غم کی داستاں
اعدا کے نرغے ہیں جدا اپنے ہوئے ہیں بے وفا
ہر سمت سے آئی بلا آفت کا ٹوٹا آسماں
اے رحمتِ عالم مدد اے سید اکرم مدد
اے دافع ہر غم مدد ، امداد اے شاہِ جہاں
ہم کو خلاصی ہو عطا ہو دور سب رنج و بلا
آفت کی گھٹ جائے گھٹا چمکیں نہ غم کی بجلیاں
یا ربّنا سلّم علیٰ روحِ النبیِ المصطفیٰ
والآلِ والصَّحبِ اِلیٰ مادارَ دَورانُ الزماں
       حضرت صدرالافاضل کی غزلیہ رنگ و آہنگ میں رچی بسی اس غزل نے مجھے کافی متاثر کیا ،زمین کافی سنگلاخ اور مشکل ہے لیکن حضرت نعیمؔ الدین نعیمؔ مرادآبادی کی فکرِرسا نے بڑی کامیابی سے اپنے مطلب کے اشعار نکال لیے ہیں ، ملاحظہ ہو شہ پارہ   ؎
تختۂ مشقِ جفاے کج ادا میں ہی تو ہوں
گردِ رہوارِ عتابِ دل رُبا میں ہی تو ہوں
خاک ہو کر میں نے اُن کا رتبہ بالا کردیا
مِس کو جو کردے طلا وہ کیمیا میں ہی تو ہوں
بانیِ ظلم و ستم ، جور و جفا تم ہی توہو
ناز بردارِ ستم عینِ وفا میں ہی تو ہوں
سختیوں کے واسطے پیدا ہوا میں ہی تو ہوں
قیسؔ اور فرہادؔ سب کا پیشوا میں ہی تو ہوں
کشتۂ تیغِ ستم ، رنجور نازِ فتنہ زا
منعمِؔ افگار مشکورِ جفا میں ہی تو ہوں
       حضر ت صدرالافاضل علیہ الرحمہ کو تقدیسی شاعری میں تغزل کا رنگ و آہنگ اپنے پیر و مرشد ہی سے ملا یہی وجہ ہے کہ آپ کے کلام میں ویسا ہی رنگ و آہنگ پایا جاتا ہے جیسا کہ ان کے پیر و مرشد حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہٗ کے کلام میں ہمیں دیکھنے کو ملتاہے۔ مثال کے طور پر حضرت صدرالافاضل کی درج غزل پڑھ کر بے ساختہ حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی میاں کا یہ کلام کانوں میں گونجنے لگتا ہے ، جس کا مطلع یہ ہے    ؎
کھو گئے دوعالم سے محو جانِ جاں ہوکر
دَیر میں کیا مسکن طالبِ بتاں ہوکر
       لیجیے ملاحظہ فرمائیں حضرت صدرالافاضل کی زیرِ تذکرہ غزل کے چند اشعار     ؎
کبھی تو آمرے دل میں قرارِ دل ہوکر
کبھی ہوآتشِ غم سر دمشتعل ہوکر
پھر ایسا جلوہ دکھا حُسنِ بے مثالی کا
ہرے ہوں زخمِ دلِ زار مندمل ہوکر
مٹادے مجھ کو کہ جلوہ نما ہو ہستیِ حق
مرے وجود کا پندار مضمحل ہوکر
نعیمِؔ مست خدا جانے کہہ گیا کیا کیا
خرد سے دور حماقت سے مشتعل ہوکر
       حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمہ نے اپنے ایک شعر میں اپنے مرشد کے اس فیضانِ روحانی کا اظہار واعتراف اس طرح کیا ہے ، فرماتے ہیں   ؎
رازِ وحدت کھلے نعیم الدین
اشرفی کا یہ فیض ہے تجھ پر
       حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمہ کی شاعری پر کماحقہٗ تبصرہ کرنے کے لیے مبصر کا فارسی داں ہونا ضروری ہے ، کیوں کہ حضرت کے مجموعۂ کلام میں کافی منظومات فارسی میں موجود ہیں۔ آپ نے صنف ’’خمسہ‘‘ کو اختیار کرتے ہوئے حضرت جامی علیہ الرحمۃ والرضوان کی غزلوں پر کئی خمسے قلم بند کیے ہیں ۔ ان خمسوں کا اسلوب اور طرزو آہنگ لفظی و معنوی اور صوتی اعتبار سے حضرت جامیؔ علیہ الرحمہ کے کلام سے اس درجہ مماثلت رکھتا ہے کہ وہ خمسے حضرت جامیؔ کے موے قلم سے نکلے ہوئے لگتے ہیں ،’’ریاضِ نعیم‘‘ میں شامل خمسوں میں سے چند بند خاطر نشین کریں     ؎
نرود زدِ اطبا نرود
فکر دارد و مداوا نکند
منتِ نازِ طبیباں نکشد
ہر کجا دردِ دوا نیز بُوَد
چو تو بے درد فتادی چہ دوا
………
اگر برگردنِ عاشق نہی تیغ
فداے تیغ گردم سیدی تیغ
براے جانِ منعمؔ می بَری تیغ
بقصدِ قتلِ جامیؔ می بَری تیغ
کرم ہاے کنی اللہ ابقاک
………
نعیماؔ بے ہست ہشیار جامیؔ
کہ دارد نیازے بہ سرکار جامیؔ
زعشقِ نبی گنجِ اسرار جامی
نہ بینم گہے بر بہ بازار جامیؔ
ؔکہ از دیدہ و دل بُرد خوں نہ گریم
       علاوہ ان خمسوں کے ایک خمسہ میں حضرت جامیؔ علیہ الرحمۃ والرضوان کی غزل سے پہلے جو تین مقفا مصرعے حضرت صدرالافاضل نے نظم کیے ہیں وہ فارسی کی بجاے اردو میں ہیں ، یہ خمسہ بھی اپنے آپ میں ایک خاصے کی چیز ہے ۔ فارسی داں اہلِ اردو جب اس خمسہ کا مطالعہ کریں گے تو یقینااس میں پنہاں معنویت ، گہرائی و گیرائی ،اور طرزِ اظہار سے بڑے لطف اندوز ہوں گے ، نیز حضرت جامیؔ کی فارسی غزل سے جو ہم آہنگی ہے وہ ضرورمتاثر کرے گی    ؎
یہ ہجراں و حرماں کے صدمے اشد
یہ دوری کے رنج و الم بے عدد
ہمارے غموں کی نہیں کوئی حد
نہ پیکے کہ از ما پیامش بُرد
نہ بادے کہ روزے سلامش بُرد

وہ سیماے انور وہ نورِ انام
وہ رخ کی تجلی وہ حسنِ تمام
خجل مہر ہو ایسی روشن ہو شام
چوآں می کند جلوہ از طرفِ بام
فلک رشک ازطرفِ بامش بُرد
       ’’ریاضِ نعیم‘‘ میں حضرت بیدلؔ کی ایک نعت پر خوب صورت تضمین بھی شامل ہے جو تضمین نگار کے اعلیٰ فکری و فنی معیار کا پتہ دیتی ہے ، مذکورہ تضمین کے دوبند ملاحظہ کریں    ؎
ربِ احمد کی قسم احمدِ ذی شاں کی قسم
اپنے آقا کی قسم شاہِ رسولاں کی قسم
دردِ دل کی قسم اپنے دلِ پنہاں کی قسم
’’مٹ گئے عشق میں خاکِ درجاناں کی قسم
پھر بھی بے چین ہے دل جنبشِ داماں کی قسم‘‘
دلِ وحشی ہے ترے ہجر میں ہردم مغموم
درِ اقدس پہ پہنچنا یہ کہاں تھا مقسوم
آگے تقدیر میں کیا ہے یہ نہیں کچھ معلوم
’’تیرہ بختی نے رکھا وصل سے اب تک محروم
شبِ ہجراں کی قسم شامِ غریباں کی قسم‘‘
       اس تضمین کے علاوہ حضرت صدرالافاضل نعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی علیہ الرحمہ نے خود اپنی ایک غزل پر تضمین رقم فرمائی ، جو ’’ریاضِ نعیم‘‘ میں ’’تضمین بر غزلِ خود ‘‘ کے عنوان سے شامل ہے ،شعری محاسن سے لبریز تضمین کے چند بندنشان خاطر کریں     ؎
زبانِ لال ہے نطقِ خجستہ انشا کی
عجب ہے عاجزی افکارِ عرش پیما کی
ہو مدح کس طرح اُس لعلِ عالم آرا کی
 ’’گل از نزاکتِ لب ہاے دل رُبا حاکی
قمر زطلعتِ رُخسارِ پُرضیا حاکی‘‘
حواس و عقل و خرد فہم و دانش و فطنت
جلالِ حُسن سے سب کو ہے عالمِ حیرت
زمین والے کریں کیا کمال کی مدحت
’’نجوم واصفِ لمعانِ نورِ دندانت
خور از جبینِ پُر انوارِ مصطفی حاکی‘‘
تمہاری مدح کی خاطر چمن میں غنچوں نے
ہزار نازش و انداز سے دہن کھولے
ترانہ سنجی بہت کی زبانِ سوسن نے
’’سپہرِ رفعتِ قدرترا ثنا گوے
صنوبر از قدِ دل جوے خوش ادا حاکی‘‘
       کلامِ نعیمؔ میں مشکل زمینیں اور ردیفیں اپنی پوری شان سے جلوہ گرہیں ۔ سنگلاخ زمینوں میں طبع آزمائی کرنا بڑا مشکل مرحلہ ہوتا ہے ۔ لیکن کلامِ نعیمؔ کو پڑھ کر یہ اندازہ ہوتاہے کہ ایسے موڑ پربحر و وزن، ردیف و قوافی ، لفظ و بیان اور نغمگی و ترنم نے آگے بڑھ بڑھ کر حضرت نعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی کے قلم کو بوسے دئیے ہیں۔ بڑی کامیابی و کامرانی کے ساتھ برتی گئی مشکل زمینوں میں بھی سلاست و روانی ، ندرتِ اظہار، معنی آفرینی، شوکتِ الفاظ اور بانکپن کہیں متاثر ہوتا نہیں دکھائی دیتا     ؎
اے بہارِ زندگی بخشِ مدینہ مرحبا
اے فضاے جاں فزاے باغِ طیبہ مرحبا
تکتے رہتے ہیں عجب طرح سے راہِ اُمید
حسرتِ دیدِ تماشاے نگاہِ اُمید
دل افگار کا خدا حافظ
تنِ بیمار کا خدا حافظ
ہم اٹھا بیٹھے ہیں اُس شوخ کے دیدار پہ حلف
جان دینے کے لیے ابروے خم دار پہ حلف
گل ازنزاکتِ لب ہاے دل رُبا حاکی
قمر ز طلعتِ رخسارِ پُرضیا حاکی
       ’’ریاضِ نعیم‘‘ کے صفحات پر ہمیںمختلف اصنافِ سخن مثلاً: حمد، نعت، غزل، قطعہ، خمسہ، تضمین ، ترجیع بند، مناجات اور منقبت میں کلام بکھرے نظر آتے ہیں ۔ جن میں شعری و فنی محاسن کی لہریں موج زن ہیں ۔ حضرت نعیمؔ مرادآبادی کے کلام میں قرآنی ادب کی جلوہ باریاں ہیں ۔ مجازی رنگ میں لکھے گئے کلام بھی حقیقت ریز ہیں ۔ان منظومات میں شعری و فنّی محاسن موجود ہیں ۔صنائع کے نجوم بھی درخشاں ہیں اور بدائع کے مہر وماہ بھی روشن ہیں۔
       ’’ترجیع بند‘‘ نظم کے بند کی ایک ایسی ہیئت ہے جس میں ہر بند کے آخر میں ایک ہی مصرعے یا ایک ہی شعر کی تکرار کی جاتی ہے ۔ صنفِ ’’ترجیع بند‘‘ میں حضرت نعیمؔ کے لکھے گئے کلام سے دوبند    ؎
کھول دو سینہ مرا فاتح مکہ آکر
کعبۂ دل سے صنم کھینچ کے کردو باہر
پردے غفلت کی نگاہوں سے ہٹادو یکسر
مجھ سیاہ کار پہ فرمادو عنایت کی نظر
نورِ ایماں سے مرا سینہ منور کردو
دل میں عشقِ رُخِ پُر نور کا جذبہ بھر دو
جلوہ فرمائیے قالب میں مری جاں ہوکر
سلطنت کیجیے اس جسم میں سلطاں ہوکر
آپ میں ہو کے فناآپ میں قرباں ہوکر
قدسیوں کو بھی تو دکھلادوں میں حیراں ہوکر
نورِ ایماں سے مرا سینہ منور کردو
دل میں عشقِ رُخِ پُر نور کا جذبہ بھر دو
       حضرت صدرالافاضل کے موے قلم سے نکلی ہوئی ایک مناجات احساسِ دروں کا ایک ایسا حسین و جمیل مرقع ہے ۔ جس کو پڑھنے کے بعد ہمیں اپنے آپ کا احساس ہوتا ہے ۔ہمیں اپنے اعمال و افعال اور کرتوتوں کا عرفان ہوتا ہے اور ہمیں اپنے اندرون سے توبہ وا ستغفار کی اپیل ہونے لگتی ہے ۔ ندامت و شرمندگی سے ہمارا سرِ نیاز بارگاہِ رب ِ ذوالجلال میں جھک جاتا ہے     ؎
رہے گی ناخنِ فرقت کی کب تک سینہ افگاری
کرے گی یاس تا کَے زخم پر دل کے نمک باری
بہیں گے دل کے ٹکڑے بن کے آنسو آنکھ سے کب تک
رہیں گے چشمِ پُر ارماں سے کب تک اشکِ غم جاری
نہ کچھ حُسنِ عمل ہی ہے نہ کوئی مادی ساماں
جو کچھ ساماں ہے تو چھوٹی سی تھوڑی گریہ و زاری
میں کس منھ سے کہوں مجھ کو بلالیجے مدینہ میں
میں خود نادم ہوںآقا دیکھ کر اپنی سیاہ کاری
ولیکن کیا تعجب ہے اگر اپنی کریمی سے
کرے وہ رحمتِ عالم خطاکاروں کی ستاری
ذرا بھی چشمِ رحمت ہو تو مٹ جائیں گنہ میرے
مرادیں سب برآئیں نکلیں دل کی حسرتیں ساری
وہ الطافِ کریمانہ ہوں وہ انعامِ شاہانہ
نعیم الدیںؔ کو دیکھیں دیدۂ حسرت سے درباری
       حضرت صدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین نعیمؔ مرادآبادی علیہ الرحمہ کے مجموعۂ کلام’’ریاضِ نعیم ‘‘ میں تین مناقب بھی شامل ہیں ۔ پہلی منقبت انھوں نے اپنے مرشدِ گرامی وقار حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہٗ کی شان میں مطاف کے اندر رقم کی ، چند اشعار ملاحظہ ہوں      ؎
شد دلم چو بکعبہ طواف را
پُرنور کرد از رُخ، روشن مطاف را
بارید در ز نرگس و سیراب تر نمود
گل را و چاہ را و صراحیِ صاف را
اے دستگیر دستِ نعیمؔ حزیں بگیر
انجا کہ حزن نیست مرا ہل عفاف را
       دوسری منقبت امام عالی مقام سیدنا حضرت اما م حسین رضی اللہ عنہ کے شہزادۂ عالی وقار حضرت امام علی اکبر رضی اللہ عنہ کی شان میں ہے جس میں حضرت نعیمؔ مرادآبادی علیہ الرحمہ نے حضرت امام علی اکبر رضی اللہ عنہ کے ان تمام اوصاف اور خوبیوں کا خوب صورت شاعرانہ محاسن کے ساتھ محتاط اظہار کیا ہے، جو کہ ان کی مہتم بالشان شخصیت کا حصہ تھیں    ؎
نورِ نگاہِ فاطمۂ آسماں جناب
صبرِ دلِ خدیجۂ پاکِ ارم قباب
لختِ دلِ امامِ حسین ابنِ بو تراب
شیرِ خدا کا شیر و ہ شیروں میں انتخاب
صورت تھی انتخاب تو قامت تھا لاجواب
گیسو تھے مشک ناب تو چہرہ تھا آفتاب
چہرہ سے شاہزادہ کے اٹھا ہی تھا نقاب
مہرِ سپہر ہوگیا خجلت سے آب آب
کاکل کی شام رُ خ کی سحر موسمِ شباب
سنبل نثارِ شام فداے سحر گلاب
شہزادۂ جلیل علی اکبرِ جمیل
بُستانِ حُسن میں گلِ خوش منظرِ شباب
پالا تھا اہلِ بیت نے آغوشِ ناز میں
شرمندہ اس کی نازکی سے شیشۂ حباب
صحراے کوفہ عالمِ انوار بن گیا
 چمکا جو رن میں فاطمہ زہرا کا ماہ تاب
       اور تیسری منقبت تاج دارِ کربلا شاہِ گلگوں قباحضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شان میں ہے۔ یہ منقبت بھی دیگر کلام کی طرح بڑی سلیس ، رواں دواں اور دل کش و دل نشین ہے ۔ جی چاہتا ہے کہ بس بار بار پڑھتے ہی رہیں      ؎
عابدِ کبیریا امامِ حسین
زاہدِ بے ریا امامِ حسین
گلِ گل زارِ سیدِ عالم
مہ جبیں خوش لقا امامِ حسین
حضرتِ فاطمہ کے نورِ نظر
دینِ حق کی ضیا امامِ حسین
قرۃ العینِ حضرتِ حیدر
سیدِ اولیا امامِ حسین
سبطِ اکبر کے راحتِ دل و جاں
قوتِ مجتبیٰ امامِ حسین
جملہ اصحاب کے قرارِ دل
وارثِ انبیا امامِ حسین
وہ ، شہادت کو ناز ہو جس پر
اہلِ صبر و رضا امامِ حسین
دھوم عالم میں ہے شجاعت کی
کام ایسا کیا امامِ حسین
       جیسا کہ عرض کیا گیا کہ شعر گوئی اور دیگر علوم و فنون جو حضرت صدرالافاضل کو حاصل ہوئے وہ ان کے پیر و مرشد حضرت سید شاہ علی حسین اشرفی میاں قدس سرہٗ کا فیضان ہے ۔ جس کا اظہار آپ نے خود اپنے ایک شعر میں کیا ہے    ؎
رازِ وحدت کھلے نعیم الدینؔ
اشرفی کا یہ فیض ہے تجھ پر
        نیز یہ بھی سچ ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی صحبت نے بھی آپ کی شخصیت کو چار چاند لگائے۔فیضان اشرفی کے ساتھ ساتھ صحبتِ رضا نے حضرت نعیم الدین نعیمؔ و منعمؔ مرادآبادی علیہ الرحمہ کے ذوقِ سخن کو خوب خوب نکھارا ۔ آپ کے کلام میں عشق و عرفان کی جو خوب صورت پرچھائیں ابھرتی ہیں وہ ظلمت کدۂ قلب کو صیقل و مجلا کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ حضرت نعیمؔ مرادآبادی نے نعت کے تقدس اور تغزل کے رنگ و آہنگ کو جس احسن طرز سے اپنایا ہے کہ وہ فیضانِ اشرفی اور صحبتِ رضا اور خود ان کی بے پناہ علمی لیاقت و صلاحیت کا حسین و جمیل ثمرہ ہے ۔ ’’ریاضِ نعیم ‘‘ کامکمل تجزیہ اور فنی جائزہ اس مختصر سے مقالے میں ممکن نہیں۔ نیز کسی شاعر کے کلام میں موجود شعری و فنی محاسن اور اندازِ سخن کو صحیح طور پر فہم کرنے کے لیے چند اشعار کو درج کردینا کافی نہیں اس کے لیے تو براہ راست مکمل مجموعۂ کلام کا مطالعہ از بس ضروری ہے ۔ بہ ہر کیف! روایتِ پارینہ کے مطابق ذیل میں ’’ریاضِ نعیم‘‘ سے چند منتخب اشعار نشانِ خاطر کریں جن سے  حضرت صدرالافاضل کی شاعرانہ حیثیت کا اندازہ لگانے میں معاونت مل سکتی ہے     ؎
جہاں زیرِ نگینِ شاہِ عالم
درخشاں مہرِ دینِ شاہِ عالم
فزوں در مرتبہ از عرشِ اعلیٰ
زہے قدرِ زمینِ شاہِ عالم
امامِ قدسیانِ سدرہ منزل
یکے از خادمینِ شاہِ عالم
………
اجڑے ہوئے دیار کو عرشِ بریں بنائیں تو
اُن پہ فدا ہے دل مرا ناز سے دل میں آئیں تو
چہرۂ پاک سے نقاب آپ ذرا اٹھائیں تو
حُسنِ خدا نما کی شان ، شانِ خدا دکھائیں تو
کرتے ہیں کس پہ کچھ ستم ،کیوں ہو کسی کو رنج و غم
مولدِ مصطفی کی ہم عید اگر منائیں تو
بدہیں اگر چہ ہم حضور ، آپ کے ہیں مگر ضرور
کس کو سنائیں حالِ دل تم کو نہیں سنائیں تو
………
سیر دل کی جسے میسر ہے
عیشِ دنیا اسے مکدرہے
اس کے نزدیک زینتِ عالم
خس و خاشاک سے بھی کم تر ہے
سارے عالم میں جو سما نہ سکے
جلوہ فرما وہ دل کے اندر ہے
پرتوِ حُسنِ لم یزل پہ مٹو
جس سے مومن کا دل منور ہے
………
پھر جنوں کہتا ہے خود کو پا بہ جولاں دیکھیے
چلیے اٹھیے اب کے پھر وحشت میں زنداں دیکھیے
ازرہِ بندہ نوازی چشمِ پُرانوار سے
دیکھیے میری طرف ختمِ رسولاں دیکھیے
دیکھیے سیماے انور ، دیکھیے رُخ کی بہار
مہرِ تاباں دیکھیے ، ماہِ درخشاں دیکھیے
جلوہ فرما ہیں جبینِ پاک میں آیاتِ حق
مصحفِ رُخ دیکھیے ، تفسیرِ قرآں دیکھیے
………
غریبوں کی حاجت روا کرنے والے
فقیروں کو دولت عطا کرنے والے
عفو کرنے والے عطا کرنے والے
کرم چاہتے ہیں خطاکرنے والے
اشارے سے مردے جِلا دینے والے
تبسم سے دل کی دوا کرنے والے
سناتے ہیں تفسیرِ تنزیلِ محکم
جنابِ نبی کی ثنا کرنے والے
…………
شبِ غم بھی آخر بسر ہوگئی
تڑپتے تڑپتے سحر ہوگئی
مدینہ کا دیدار مشکل نہیں
نگاہِ عنایت اگر ہوگئی
لیے قلبِ مضطر مدینہ میں پہنچا
تسلی زمیں چوم کر ہوگئی
نگاہیں فدا روضۂ پاک پر
جبیں عاشقِ سنگِ در ہوگئی
مواجہِ میں عرضِ صلاۃ و سلام
مری آبرو اس قدر ہوگئی
       اس مجموعے کا اختتام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہٗ کی شان میں ایک عربی شعر پر ہوتا ہے ، جو صنعتِ مقلوب مستوی کی ایک قسم میں رقم کیا گیا ہے ، شعر ملاحظہ ہو     ؎
اَضَرَّ دَمَّحَ اَحمد رضا اَعلامَ کفرِ
فکمالعا اَضَرَّ دَمَّحََ احمد رضا
       غرض یہ کہ حضرت صدرالافاضل علیہ الرحمہ کا شعر ی و فنی محاسن سے لبریزیہ مختصر شعری مجموعہ اس قابل ہے کہ اس پر بھی ناقدینِ فن اپنی توجہ مبذول کریں۔حضرت کی شاعری ایسی نہیں کہ اُس سے صرفِ نظر کرکے گذر جایا جائے۔ اس مختصر سے مقالے میں ’’ریاضِ نعیم‘‘ کا ایک ہلکا سا تجزیہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس مقدس شعری ذخیرے کے جملہ پہلوؤں پرروشنی ڈالنے کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔ کسی محقق کو چاہیے کہ وہ حیاتِ صدرالافاضل کے اس اہم گوشے پر شرح و بسط کے ساتھ کام کرے تاکہ حضرت کا یہ رُخ بھی اہلِ نقد و نظر تک پہنچ سکے۔

                                                ڈاکٹر  محمد حسین مشاہدرضوی
                                                (مالیگاؤں(انڈیا
                                                ۲۲؍جمادی الآخر ۱۴۳۴ھ / ۴؍مئی ۲۰۱۳