Instagram

Thursday, 22 August 2013

15th Shawwal al-Mukarram | Hadrat Sayyid ash-Shuhada Sayyiduna Hamzah Radi Allahu Ta'ala Anhu [URDU]

15th Shawwal al-Mukarram | Hadrat Sayyid ash-Shuhada Sayyiduna Hamzah Radi Allahu Ta'ala Anhu [URDU]



بِسْمِ اللہ ِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ بَلْ اَحْیَآءٌ وَلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ
جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں ان کو مردہ نہ کہو، وہ تو زندہ ہیں ، مگر تم کو خبر نہیں

اللہ تعالیٰ ہمارے آقا ومولا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ، آپ کی آل اور آپ کے صحابہ کرام پر رحمتیں نازل فرمائے اور بکثرت سلام بھیجے۔

یہ سید الشہداء ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سفارش کرنے والوں کے سردار، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے شیر، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے مبارک چچاحضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مناقب ہیں، جن کے موتیوں کو پرونے اور جن کی چمک دمک ظاہر کرنے کا فریضہ خاندان نبوت اور علمی خانوادے کے گوہرشب تاب مشہور''مولد نبوی'' (مولود برزنجی) اور شہداء بدر کے اسماء گرامی پر مشتمل کتاب '' جالیۃ الکدر فی نظم اسماء شھداء بدرــ'' اور دیگر مفید اور جلیل کتب کے مصنف حضرت علامہ سید جعفر بن حسن برزنجی رحمۃ اللہ علیہ نے سر انجام دیا ہے۔

یہ حضرت سید الشہداء رضی اللہ تعالی عنہ کے عظیم مناقب ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے جان کی بازی لگادی ، غزوہ احد میں جن کی شہادت پر ہمارے آقا ومولا اور حبیب مکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم غمگین ہوئے، اس غزوہ کے اسلامی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب ہوئے، وہ تاریخ جس کی بنیاد ان جانبازوں نے رکھی۔ یہ مناقب حضور قلب کے ساتھ متوجہ ہونے والوں کے لیے کئی اسباق اور نصیحتیں اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہیں۔

  یہ دلکش اور روح پرور باغ ہے جس کی باد صباحضرت سید الشہداء حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے احوال کی خوشبو سے معطر ہے اور اس کی جودوسخا کی بارش، حضرت سید الشہداء کے ہمراہ جام شہادت نوش کرنے والے خوش بختوں کے موتیوں جیسے ناموں سے سیراب ہوتی ہے، ان حضرات نے دین مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی نصرت و حمایت میں اپنی جانوں کی بازی لگادی اور اسلام کے پھیلاؤ کا راستہ ہموار کردیا۔

میرے دل میں اس باغ کے گھنے درختوں میں داخل ہونے، اس کے حوضوں کے چشموں سے سیراب ہونے، نور کے برجوں سے موتیوں کی بارش طلب کرنے اور ان موتیوں کو مندرجہ ذیل سطور کی لڑی میں پرونے کا خیال پیدا ہوا، تاکہ انہیں حضرت سید الشہداء صکے مزار مقدس کے پاس مقرر عمل (ایصال ثواب) کے بعد پڑھا جائے، خصوصاً آپ کی خصوصی زیارت (٢) کی رات جس کی روشن صبح ابر آلود نہیں ہوتی بلکہ اجلی اجلی ہوتی ہے، مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ اور باکمال بندوں کے ذکر سے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی موسلادھار بارشیں حاصل کی جائیں۔

میں کہتا ہوں کہ وہ سیدنا حمزہ ابن عبد المطلب بن ہاشم، نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور رضاعی بھائی ہیں، ابو لہب کی آزاد کردہ کنیز ثوبیہ نے ان دونوں ہستیوں اور حضرت ابو سلمہ ابن عبد الاسد مخزومی (حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پہلے شوہر) کو دودھ پلایا تھا۔

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی عمر نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے دو سال اور ایک قول کے مطابق چار سال زیادہ تھی(٣)، ان دونوں ہستیوں کو مختلف اوقات میں (٤) دودھ پلایاگیا، حضرت سیدالشھداء اور حضرت صفیہ (نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی پھوپھی) کی والدہ، ھالہ بنت اھیب بن عبد مناف بن زہرہ، نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی چچا زاد بہن تھیں۔


آپ کی اولاد میں سے پانچ بیٹے تھے، چار کے نام یہ ہیں:

١۔ یعلی(٥) ٢۔عمارۃ (٦) ٣۔عمرو اور ٤۔ عامر

دو بیٹیاں تھیں:

١۔ ام الفضل(٧) ٢۔امامہ(٨) اس وقت حضرت سید الشھداء کی اولاد میں سے کوئی نہیں ہے(٩)

اللھم ادم دیم الرضوان علیہ
وامد نا بالا سرار التی اودعتھا لدیہ

اے اللہ! ان پر رحمت و رضوان کی موسلادھار بارش ہمیشہ برسا اور جو اسرار تو نے ان کے پاس امانت رکھے ہیں، ان کے ساتھ ہماری امداد فرما۔ حضرت سید الشہداء بہادر، سخی، نرم خوش اخلاق، قریش کے دلاور جوان اور غیرت مندی میں انتہائی بلند مقام کے مالک تھے۔

بعثت کے دوسرے سال (١٠) اور ایک قول کے مطابق چھٹے سال(١١) مشرف باسلام ہوئے، اسلام لانے کے دن انہوں نے سنا کہ ابو جہل،نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات کہہ رہا ہے تو آپ نے حرم مکہ شریف میں اس کے سر پر اس زور سے کمان ماری کہ اس کا سر کھل گیا۔(١٢)

حضرت حمزہ نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے گزارش کی۔۔۔۔۔۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اپنے دین کا کھل کر پرچار کیجئے !اللہ تعالیٰ کی قسم ! مجھے دنیا بھر کی دولت بھی دے دی جائے تو میں اپنی قوم کے دین پر رہنا پسند نہیں کروں گا، ان کے اسلام لانے سے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو تقویت حاصل ہوئی اور مشرکین آپ کی ایذا رسانی سے کسی حد تک رک گئے، بعد ازاں ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلے گئے۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے جو پہلا جھنڈا تیار کیا وہ سید الشہداء ہی کے لیے تھا (١٣)، جب ٢ھ / ٦٢٣ء میں حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قوم جھینہ کے علاقے میں سیف البحر کی طرف (ایک دستے کے ہمراہ ) بھیجا، جیسے کہ مدائنی نے کہا ہے(١٤)۔

ابن ہشام نے سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے یہ اشعار نقل کیے ہیں (١٥)۔

فما برحوا حتی انتدبت بغارۃ
لھم حیث حلوا ابتغی راحتہ الفضل
بامر رسول اللہ اول خافق
علیہ لو لم یکن لاح من قبلی

وہ اسلام دشمنی سے باز نہیں آئے یہاں تک کہ میں ان کے ہر ٹھکانے پر حملے کے لیے آگے بڑھا، فضیلت کی راحت حاصل کرنا میرا مقصود تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر میں پہلا تلوار چلانے والا تھاجس کے سر پر جھنڈا تھا، یہ جھنڈا مجھ سے پہلے ظاہر نہ ہوا تھا۔



حضرت سید الشہداء صجنگ بدر میں اس حال میں شامل ہوئے کہ انہوں نے شتر مرغ(١٦) کا پر اپنے اوپر بطور نشان لگایا ہوا تھا ، انہوں نے اس جنگ میں زبردست جانبازی کا مظاہرہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے آگے دو تلواروں (١٧) کے ساتھ لڑتے رہے،کفارکے سورماؤںکو بکھیر دیا اور مشرکین کو کاری زخم لگائے (١٨) ۔

حضرت سید الشہداء رضی اللہ تعالی عنہ جنگ احد کے دن خاکستری اونٹ اور پھاڑنے والے شیر دکھائے دیتے تھے، انہوں نے اپنی تلوار سے مشرکین کو بری طرح خوف زدہ کردیا، کوئی ان کے سامنے ٹھہرتا ہی نہ تھا۔

غزوہ احد میں آپ نے اکتیس مشرکوں کو جہنم رسید کیا، جیسا کہ امام نووی رحمۃا للہ تعالیٰ علیہ نے بیان فرمایا (١٩)، پھر آپ کا پاؤں پھسلا تو آپ تیر اندازوں کی پہاڑی کے پاس واقع وادی میں پشت کے بل گرگئے، زرہ آپ کے پیٹ سے کھل گئی، جبیر بن مطعم کے غلام وحشی بن حرب نے کچھ فاصلے سے خنجر پھینکااور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھوں آپ کو مرتبہ شہادت سے سرفراز فرمایا، یہ واقعہ ہفتے کے دن نصف شوال کو ٣ھ (٢٠) یا ٤ھ(٢١) (٦٢٤ء یا ٦٢٥ء) کو پیش آیا، اس وقت آپ کی عمر ٥٧ سال تھی۔ ایک قول کے مطابق آپ کی عمر شریف ٥٩ سال(٢٢) اور ایک دوسرے قول کے مطابق ٥٤ سال تھی۔(٢٣)

پھر مشرکین نے آپ کے اعضاء کاٹے اور پیٹ چاک کیا ، ان کی ایک عورت نے آپ کا جگر نکال کر منہ میں ڈالا اور اسے چبایا، لیکن اسے اپنے حلق سے نیچے نہ اتار سکی، ناچا ر صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے تھوک دیا۔(٢٤)

جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا:

اگر یہ جگر اس کے پیٹ میں چلا جاتا تو وہ عورت آگ میں داخل نہ ہوتی،(٢٥) کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حمزہ کی اتنی عزت ہے کہ ان کے جسم کے کسی حصے کو آگ میں داخل نہیں فرمائے گا۔(٢٦)

اللھم ادم دیم الرضوان علیہ
وامد نا بالا سرار التی اودعتھا لدیہ


جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے مثلہ کیے ہوئے جسم کو دیکھا، تو یہ منظر آپ کے دل اقدس کے لیے اس قدر تکلیف دہ تھا کہ اس سے زیادہ تکلیف دہ منظر آپ کی نظر سے کبھی نہیں گزراتھا، اسے دیکھ کر آپ کو جلال آگیا، آپ نے فرمایا:

''تمھارے جیسے شخص کے ساتھ ہمیں کبھی تکلیف نہ دی جائیگی، ہم کسی ایسی جگہ کھڑے نہیں ہوئے جو ہمیں اس سے زیادہ غضب دلانے والی ہو۔''

اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ماعوقبتم بہ ولئن صبرتم لھو خیر للصابرین وما صبرک الا باللہ ولا تحزن علیھم ولا تک فی ضیق مما یمکرون ان اللہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون۔(٢٧)
(ترجمہ: ''اور اگر تم سزا دو تو اتنی ہی دو جتنی تمہیں تکلیف دی گیئ اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے، آپ صبر کیجئے! اور آپ کا صبر اللہ ہی کے بھروسے پر ہے، آپ ان کے بارے میں غمگین اور تنگ دل نہ ہوں ان کے فریبوں کے سبب، بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی ہیں اور ان کے ساتھ جو نیکوکار ہیں۔'')

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا : ''اے رب ! بلکہ ہم صبر کریں گے۔''

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: '' اے چچا! آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، کیونکہ آپ جب تک عمل کرتے رہے، بہت نیکی کرنے والے اور بہت صلہ رحمی کرنے والے تھے۔''(٢٨)

پھر ان کے جسد مبارک کو قبلہ کی جانب رکھا اور ان کے جنازے کے سامنے کھڑے ہوئے اور اس شدت سے روئے کہ قریب تھا کہ آپ پر غشی طاری ہوجاتی۔

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرمارہے تھے:

'' اے اللہ تعالیٰ کے رسول کے چچا! ـــــــــــ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے شیر!ـــــــــــ اے حمزہ! اے نیک کام کرنے والے!ـــــــــــــ اے حمزہ! مصیبتوں کے دور کرنے والے ـــــــــــــ اے حمزہ! ــــــــــــ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرنے والے!''(٢٩)

یہ بھی فرمایا: ہمارے پاس جبرائیل امین علیہ السلام تشریف لائے اور ہمیں بتایا کہ حضرت حمزہ کے بارے میں ساتوں آسمانوں میں لکھا ہوا ہے:

'' حمزہ ابن عبد المطلب، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے شیر ہیں ۔''(٣٠)

حاکم نیشاپوری، مستدرک میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا (یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا فرمان) روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت حمزہ ابن عبد المطلب شفاعت کرنے والوں کے سردار ہیں۔(٣١)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

افمن وعدناہ وعدا حسنا فھو لاقیہ(٣٢)۔
(کیا جس شخص سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہے وہ اس سے ملاقات کرنے والا ہے۔)

سدی کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت حمزہ کے بارے میں نازل ہوئی۔(٣٣)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

یاایتھا النفس المطمئنہ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ۔ (٣٤)
ترجمہ: '' اے اطمینان والی جان! تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ جا کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔''

سلفی کہتے ہیں کہ اس سے مراد حضرت حمزہ ہیں۔(٣٥)


نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایسی چادر کا کفن پہنایا کہ جب اسے آپ کے سر پر پھیلاتے تو پاؤں ننگے ہوجاتے اور پاؤں پر پھیلاتے تو سر ننگا ہوجاتا، چنانچہ وہ چادر آپ کے سر پر پھیلادی گئی اور پاؤں پر اذخر (خوشبودار گھاس) ڈال دی گئی۔(٣٦)

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، یہی زیادہ صحیح ہے(٣٧)، یا ان کی نماز جنازہ کا نہ پڑھنا ان کی خصوصیت ہے(٣٨)۔ انہیں ایک ٹیلے پر دفن کیا، جہاں اس وقت ان کی قبر انور مشہور ہے (٣٩) اور اس پر عظیم گنبد ہے، یہ گنبد خلیفہ الناصر لدین اللہ احمد بن المستضئی العباسی کی والدہ نے ٥٩٠ ھ میں تعمیر کروایا۔

کہا جاتا ہے کہ قبر میں ان کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن جحش (٤٠) اور حضرت مصعب بن عمیر(٤١)، بعض علماء نے کہا کہ حضرت شماس بن عثمان ہیں، آپ کے مزار شریف کے سرہانے سید حسن بن محمد بن ابی نمی کے بیٹے عقیل کی قبر ہے، مسجد کے صحن میں بعض سادات امراء کی قبریں ہیں۔

اللھم ادم دیم الرضوان علیہ
وامدنا بالا سرار التی اود عتھا لدیہ

جب نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم غزوہ احد کے بعد مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تو انصار کی عورتوں کو اپنے شہیدوں پر روتے ہوئے سنا، آپ نے فرمایا:
''لیکن حمزہ پر کوئی رونے والیاں نہیں ہیں(٤٢)۔''

اور آپ پر گریہ طاری ہوگیا، انصار نے اپنی عورتوں کو حکم دیا کہ اپنے شہیدوں سے پہلے حضرت حمزہ پر روئیں، ایک مدت تک انصار کی خواتین کا معمول یہ رہا کہ وہ جب بھی کسی میت والے گھر جاتیں تو پہلے حضرت حمزہ پر روتیں(٤٣)۔

حضرت کعب بن مالک انصاری اپنے قصیدے میں اظہار غم کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

ولقد ہددت لفقد حمزہ ھدۃ
ظلت بنات الجوف منھا ترعد
ولو انہ فجعت حراء بمثلہ
لرایت راسی صخرھا یتھدد
قرم تمکن من ذؤابہ ھاشم
حیث النبوۃ والندا والسؤدد
والعاقر الکوم الجلاد اذا غدت
ریح یکاد الماء منھا یجمد
والتارک القرن الکمی مجندلا
یوم الکریھۃ والقنا یتقصد
وتراہ یرفل فی الحدید کانہ
ذو لبدۃ شثن البراثن اربد
عم النبی محمد و صفیہ
ورد الحمام فطاب ذاک المورد
وافی المنیۃ معلما فی اسرۃ
نصروا النبی ومنھم المستشھد
اللھم ادم دیم الرضوان علیہ
وامد نا بالا سرار التی اود عتھا لدیہ (٤٤)

حضرت حمزہ کے رحلت فرما جانے سے مجھ پر ایسا صدمہ ہوا ہے کہ میرا دل اور جگر لرز اٹھے ہیں۔
ایسا صدمہ اگر جبل حرا کو پہنچایا جاتا تو دیکھتا کہ اس کی چٹانوں کے دونوں کنارے تھرا اٹھتے۔
وہ ہاشمی خاندان کے معزز سردار تھے جہاں نبوت، سخاوت اور سرداری ہے۔
وہ طاقتور جانوروں کے گلے کو ذبح کرنے والے تھے جب ٹھنڈی ہوا سے پانی جمنے کے قریب ہوتا تھا(یعنی سخت سردی کے موسم میں)
جنگ کے دن جب نیزے ٹوٹ رہے ہوں وہ بہادر مد مقابل کو کشتہ تیغ بنادیتے تھے۔
تو انہیں مسلح ہوکر فخر سے چلتا ہوا دیکھتا (تو کہتا کہ) وہ خاکستری رنگ والا، مضبوط پنجوں والا، ایال دار(شیر)ہے۔
وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور برگزیدہ اصحاب میں سے ہیں، انہوں نے موت کے منہ میں چھلانگ لگائی تو وہ جگہ خوشگوار ہوگئی۔
انہوں نے اس حال میں موت سے ملاقات کی کہ ان پر(شتر مرغ کے پر کا) نشان لگا ہوا تھا، وہ مجاہدین کی ایسی جماعت میں تھے جس نے نبی اکرم اکی امداد کی اور ان میں سے کچھ لوگ مرتبہ شہادت پر فائز ہوگئے۔

اللھم ادم الدیم الرضوان علیہ
وایدنا بالاسرار التی اودعتھا لدیہ

ان کے علاوہ جن حضرات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس دن شہادت سے نوازے گئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے اعمال صالحہ کی اچھی خبر اور زیادہ اجر دیا گیا، ان کے ناموں کی فہرست حسب ذیل ہے۔(٤٥)


مہاجرین:
ثقف بن عمر و ، الحارث بن عقبہ، سعد حاطب کے مولیٰ،شماس بن عثمان،عبد اللہ بن جحش حضرت حمزہ کے بھانجے،عبد اللہ بن الھبیب، عبد الرحمٰن بن الھبیب، عقربہ بن عقربہ،مالک بن خلف۔۔۔۔۔۔مصعب بن عمیر، نعمان بن خلف یہی ابن قابوس ہیں۔

قبیلہ اوس:
انیس بن قتادہ، ایاس بن اوس بن عتیک،ثابت بن الدحداح،ثابت بن عمرو بن زید،ثابت بن وقش،حارث بن انس بن رافع،حارث بن اوس معاذ، حارث بن عدی بن خرشۃ،حباب بن قیظی،حبیب بن زید بن تیم، حسیل بن جابر،حنظلہ بن ابی عامر، خداش بن قتادۃ ، خیثمۃ بن حارث، رافع بن یزید، رفاعہ بن عبد المنذر، رفاعہ بن وقش،زیاد بن السکن،زید بن ودیعہ،سبیع بن حاطب بن الحارث،سلمہ بن ثابت بن وقش،سھل بن رومی،سھیل بن عدی،صیفی بن قیظی بن عمرو،عامر بن یزید، عباد بن سھل،عبد اللہ بن جبیر بن نعمان،عبد اللہ بن سلمۃ،عبید بن التیہان،عمارہ ابن زیاد بن السکن، عمرو بن ثابت، عمرو بن معاذ بن النعمان،عمیر بن عدی، قرۃ بن عقبہ،قیس بن حارث،مالک بن نمیلہ،معبد بن مخرمہ،یزید بن حاطب بن امیہ، یزید بن السکن، یسار ابوالھیثم کے مولیٰ، ابو حبہ بن عمرو بن ثابت،ابو حرام عمرو بن قیس،ابو سفیان بن حارث بن قیس۔

قبیلہ خزرج:
انس بن النضر،اوس بن الارقم بن زید،اوس ثابت بن المنذر،ایاس بن عدی،ثعلبہ ابن سعد بن مالک،ثقب بن فروہ،الحارث بن ثابت بن سفیان،الحارث بن ثابت بن عبداللہ الحارث بن عمرو،خارجہ ابن زید،خلاد بن عمرو بن الجموح،ذکوان بن عبدقیس،رافع غزیہ کے مولیٰ،رافع بن مالک،رفاعہ ابن عمرو، سعد بن الرابیع،سعد عبید،سعد بن سوید بن قیس،سلمہ ابن ثابت بن وقش،سلیم بن الحارث،سلیم بن عمرو،سھل بن قیس بن ابی کعب،ضمرۃ بن عمرو،عامر بن امیہ،عامر بن مخلد،عباس بن عبادہ،عبد اللہ بن الربیع،عبد اللہ بن عمرو بن وھب،عبد اللہ بن قیس،عبدۃ بن الحسحاس،ابن المعلی بن لوذان،عتبہ ابن ربیع،عمرو بن الجموح،عمرو بن قیس بن زید،عمرو بن مطرف بن علقمہ عنترہ مولیٰ سلیم ، قیس بن عمرو،قیس بن مخلد،کیسان مولیٰ بنی النجار،مالک بن ایاس،مالک بن سنان،المجذر بن زیاد،نعمان بن عبد عمرو،نعمان بن مالک بن ثعلبہ،نوفل بن عبد اللہ،ابو ایمن مولیٰ بن الجموح،ابو ھبیرہ ابن الحارث،ابو زید(رضی اللہ تعالیٰ عنہم)
اس میں شک نہیں کہ التباس سے محفوظ،راجح قول کے مطابق شہداء احد کی تعداد ستر ہے،(٤٦)اس تعداد میں زیادتی،تفصیل میں اختلاف کے سبب پیدا ہوئی،جیسے کہ حضرت ابن سید الناس نے بیان فرمایا:(٤٧)

اے اللہ! ان سب سے راضی ہوا اور ہمیں بہتر نصرت و امداد عطا فرما۔


شہداء کے بارے میں وہ فضائل وارد ہیں جن کے سننے والے کوفضیلت اور زینت حاصل ہوتی ہے،یہ وہ نفیس فضائل ہیں جن تک امنگوں اور آرزوؤں کی رسائی نہیں ہوتی۔

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہوگا،جس کا رنگ خون جیسا اور خوشبو کستوری جیسی ہوگی۔(٤٨)

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جب تمہارے بھائی احد میں شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے پوٹوں میں جگہ عطا فرمائی،وہ جنت کی نہروں پر اترتے ہیں،جنت کے پہل کھاتے ہیںاور عرش کے سائے میں معلق قندیلوں میں آرام کرتے ہیں،جب انہوں نے بہترین کھانے اور شاندار استقبال دیکھا تو انہوں نے کہا:
کاش ہمارے بھائی جان لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے کیا کچھ تیار کیا ہے،تاکہ وہ جہاد سے بے رغبت نہ ہوجائیں اور جنگ سے منہ نہ موڑ لیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:ـتمہاری طرف سے میں انہیں پیغام پہنچا دیتا ہوں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول مکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی۔ (٤٩)
ولا تحسبن الذی قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون فرحین بما آتاھم اللہ من فضلہ و یستبشرون بالذین لم یلحقوا بھم من خلفھم ان لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔(٥٠)
اور تم اللہ کے راستے میں قتل کیے جانے والوں کو مردہ ہر گز گمان نہ کرنا،بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں،رزق دیے جاتے ہیں،اس نعمت پر خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی اور خوش ہوتے ہیں ان لوگوں کے ذریعے جو ان سے لاحق نہیں ہوئے ان کے پیچھے سے،اس بات پر کہ ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔(٥١) (یہ دنیا کی زندگی جیسی حقیقی زندگی ہے۔)

شہداء اکرام نماز پڑھتے ہیں،روزہ رکھتے ہیں،حج کرتے ہیں،کھاتے پیتے ہیں اس لیے نہیں کہ انہیں کھانے پینے کی حاجت ہے بلکہ محض انعام و اکرام کے طور پر(٥٢)،وہ اپنی قبروں سے نکلتے ہیں ،دنیا اور عالم بالا میں تصرف کرتے ہیں (٥٣) ، تمھارے لیے کافی ہے کہ انہیںایسے فضائل حاصل ہیں جن میں وہ انبیاء کرام کے ساتھ شریک ہیں۔

چالیس سال کے بعد شہداء احد کی قبریں کھولی گئیں تو ان کے جسم تروتازہ تھے،ان کے ہاتھ پاؤں مڑ جاتے تھے اور ان کی قبروں سے کستوری کی خوشبو آتی تھی(٥٤)۔ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاؤں پر کدال لگ گیا تو اس سے خون بہنے لگا، جیسے کہ انسان العیون میں ہے(٥٥)۔حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کے والد ماجد(حضرت عبد اللہ انصاری رضی اللہ تعالی عنہ) کا ہاتھ چہرے کے زخم سے ہٹایا گیا تو وہاں سے خون بہنے لگا،ہاتھ دوبارہ اسی جگہ رکھ دیا گیا تو خون بند ہو گیا۔(٥٦)

علامہ بقاعی بلقاء کے رہنے والوں کی قابل اعتماد جمیعت سے روایت کرتے ہیں (٥٧) کہ انہوں نے مقام موتہ(شام کی ایک جگہ جہاں غزوہ موتہ واقع ہوا) میں شہداء موتہ کواپنے گھوڑوںپر سوار ہو کر چلتے پھرتے دیکھا،دیکھنے والا جب اس جگہ پہنچا جہاں ان شہداء کو دیکھا تھا تو وہ اس جگہ سے دور کسی اور جگہ دکھائی دیے،اسی طرح وہ اس کی نظروں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہے۔

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے شہداء احد کے بارے میں بیان فرمایا کہ جو شخص قیامت تک ان کی زیارت کرے گا اور ان کی خدمت میں سلام عرض کرے گا تو وہ اسے جواب دیں گے(٥٨)۔نیک لوگوں کی ایک جماعت نے سنا کہ جس شخص نے شہداء احد کی بارگاہ میں سلام عرض کیا تو انہوں نے جواب دیا۔

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ہر سال کے آخر میں شہداء احد کے مزارات پر تشریف لے جاتے اور فرماتے:

سلام علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار
تم پر سلام ہوتمہارے صبر کے سبب، دار آخرت کیا ہی اچھی دار ہے۔

اہل مدینہ رجب کے مہینے میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی زیارت کرتے ہیں،یہ حدیث اس عمل کی دلیل بن سکتی ہے،جنید مشرعی کے خاندان کے بعض افراد نے اس زیارت کو رواج دیا،انہوں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ انہیں زیارت کا حکم دے رہے ہیں(٥٩)۔


اے اللہ!ان سب شہداء سے راضی ہو،اور ہمارے لیے عظیم ترین ناصر اور مددگارہو!

جب ہمارا راہوارقلم اپنا سفر طے کر چکا اور ہر صاحب عقل و خرد کے لیے شہداء کی حقیقی زندگی سے مقصود واضح ہوگیا تو ہم شہداء اکرام کے جود و سخا کے بادل سے لطف و کرم کی بارش طلب کرنے اور ان کے اخلاق عالیہ سے فیض اور بخشش کے روح پرور موتیوں کی برسات کی درخواست کرنے کے لیے انہیں یاد کرتے ہیں۔

اے شہداء کرام! اے ارجمندو! تم نے فوزوفلاح کا مقصد جلیل حاصل کرلیا اور رب کریم کی خوشنودی کے لیے تلوار کے سائے میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا،تمہیں یہ نوید جانفزادی گئی۔

فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ

تمہیں یہ سودا مبارک ہو جس میں تم نے (اپنی جانوں کو) بیچ دیا ہے۔ تو جنت تمہارا ٹھکانہ بن گئی اور تم نے اپنی تلواروں کے لیے مشرکوں کی کھوپڑیوں کو میان بنادیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہوا اور تمہیں راضی کردیا۔

تمہارے فضائل قرآن پاک نے بیان کیےہیں، تم وہ اصحاب محبت ہو جنہیں تعظیم و تکریم کی مختلف قسموں سے نوازا گیا، تم وہ زندہ جاوید ہو جنہیں جنت میں رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے وسیلے سے بارش کی دعا کی جاتی ہے۔

تمہاری ذات مطلع انور ہے، تم برکت اور امان کے چمکتے ستارے ہو، تم کامیابی اور رضائے الہی کے سفیر ہو، تم نے بلند و بالا نیزوں کے درمیان جانبازیوں کی بدولت شہادت کا اعلی ترین جام نوش کیا، تم سراپا کرم سردار ہو، مقابلے کے وقت تمہارا ایک ہی مطالبہ تھا کہ اترو اور سامنے آؤ، تم ہدایت کے درخشندہ ستارے ہو، تم دشمنوں کے لیے شہاب ثاقب ہو، ہر دوست کے لیے تریاق اور ہر دشمن کے حق میں زہر ہو، تم خوفناک حادثے میں امداد فراہم کرنے والے اور ہر رسوا کن تکلیف کے وقت جائے پناہ ہو۔

ہم آپ کی بارگاہ میں حاضر ہونے والے فقیر ہیں، آپ کے اونچے پہاڑ کے پہلو میں پناہ لینے والے کمزور ہیں، آپ کی مضبوط اور ناقابل شکست رسی کو پکڑنے والے ہیں اور آپ کے مستحکم وسیلے کو اپنانے والے ہیں جومقصد تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔

آپ ہمارے غم دور کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، ہماری مصیبت جلد دور کیجئے! ایک لمحے کے لیے اپنی اکسیر نظر کی سعادت بخشئے! اپنی عنایت کی خوشبو کا ایک جھونکا ہمیں عنایت فرمائیں، قوت و طاقت کے ساتھ ہماری امداد فرمائیں اور ایسے عزم اور ہمت سے ہماری دستگیر ی فرمائیں کہ دشمنوں کا ہر حملہ اور مکر پسپا ہوجائے۔

سادات کرام! اگرچہ ہم دستگیری کے لائق نہیں ہیں لیکن آپ حضرات تو لطف و عنایت اور چشم پوشی کے اہل ہیں اگر ہمارے اعمال کے راستے انتہائی ناہموار ہیں لیکن آپ کی بارگاہ تو پناہ گزینوں کے لئے پر سہولت اور کشادہ ہے۔


اے اللہ! اے وہ ذات جس کی بارگاہ بیکس پناہ میں زمین و آسمان کی مخلوقات کی آوازیں فریاد کناں ہیں، جسے سوالات مغالطے میں نہیں ڈال سکتے، جس کے لئے زبانوں کا اختلاف اور سوالات کی کثرت کوئی مسئلہ نہیں۔

اے وہ ذات کہ تو محتاجوں کی حاجتوں کا مالک ہے اور امید واروں کے دلوں کی باتیں جاننے والا ہے، ہم تجھ سے ارباب فضیلت کے دولہا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کہ طفیل دعا کرتے ہیں، جن کا راز بلندیوں اور پستیوں کے چہروں میں سرایت کیے ہوئے ہے، وہ آیات بیّنات کا نور اور کلمات تامّہ کے رسول، عالم بالا کی مخلوقات کے امام اعظم، میدان محشر کے کلام کرنے والے خطیب، ذات باری تعالیٰ کی مراد کے سفیر اور اسماء و صفات کی جلالت کے پاسبان ہیں اور آپ کی آل پاک کے طفیل جن کے نیکو کاروں اور خطا کاروں کے بارے میں آپ نے وصیت فرمائی اور ہر ایمان دار مرد اور عورت کو ان کی محبت کی تلقین فرمائی اور آپ کے صحابہ کرام کے طفیل جنہوں نے ازل سے مقرر کردہ سعادت کی بدولت اسلام کی قوت کو مستحکم کیا، خصوصاً وہ صحابہ کرام جنہوں نے تیری خوشنودی کے لئے جان کی بازی لگا دی اور انکا خاتمہ شہادت پر ہوا۔

ہماری درخواست یہ ہے کہ ہماری دعا قبول فرما، اپنے فضل کے فیض سے ہمارے برتن بھر دے، ہمارے عیوب کو ڈھانپ دے، ہماری بے چینیوں کو چین عطا فرما، ہمارے مقاصد پورے فرما، ہمیں ان کاموں کی توفیق عطا فرما جو ہمیں موت کے بعد فائدہ دیں، ہمارے درجات بلند فرما، ہمیں عظیم اجر و ثواب عطا فرما، اپنی رضا سے ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک عطا فرما، ہمارے ذمہ حقوق اور قرضوں سے ہمیں سبکدوش فرما، ہماری اولادوں کی اصلاح فرما، ہماری برائیوں کو نیکیوں سے تبدیل فرما، ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے باطن تیرے ذکر سے مسرور ہیں، جو تیرے شکر سے رطب اللسان ہیں جو تیرے احکام کے لئے سراپا اطاعت ہیں، جن کے دل تیری وعید اور خفیہ تدبیر سے لرزاں ہیں، تنہائیوں میں تجھے یاد کرنا انکا میدان ہے اور اسی میں انکا دل خوش رہتا ہے، سحری کے اوقات میں عرض نیاز سے انہیں راحت ملتی ہے اور انکا دل و دماغ معطر ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ذکر ان کے لئے باغ و بہار ہے اور قرآن پاک کی تلاوت ان کے لئے نعمتوں اور برکتوں کا خزانہ ہے۔

اے اللہ! اس روشن انوار والی بارگاہ کے صاحب (حضرت حمزہ) کے طفیل ہماری دعا ہے کہ ہم سب کو آتش جہنم کے شعلوں سے رہائی عطا فرما، کدورتیں دور فرما، ہلاکتوںسے محفوظ فرما، بکثرت بارشیں عطا فرما، اشیاء ضرورت سستی فرما، اطراف و جوانب کو امن عطا فرما، قریب و بعید اور پڑوسیوں پر رحم فرما، ارباب حکومت اور رعایا کی اصلاح فرما، اسلامی لشکروں اپنی نصرت سے تقویت عطا فرما، اپنے دشمن کافروں میں اپنے قہر کا حکم نافذ فرما اور انہیں مسلمانوں کے لیے مال غنیمت بنا۔

اے اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے شیر! ہم آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ہیں، ہم امید رکھتے ہیں کہ ہم میں سے ہر شخص کی درخواست قبول کی جائیگی، ہم نے اپنی امیدوں کی کجاوے آپ کی بارگاہ میں اتارے ہیں، آپ کے دربار کرم میں حاضر ہیں، آپ کی شان یہ نہیں ہے کہ آپ ہمیں نظر انداز کر دیں، ہم نے آپ کی جود و سخا کے بھر پور برسنے والے بادلوں سے بارش طلب کی ہے۔

یارب قد لذنا بعم نبینا
رب المظاھر قدست اسرارہ
فا قل عثار من استجار بعمہ
او زارہ لتکفرن اوزارہ
والطف بنا فی المعضلات فاننا
بجوار من لا شک یکرم جارہ
واختم لنا باالصالحات اذ دنا
منا الحمام وانشب اظفارہ
ثم الصلاۃ علی سلالۃ ھاشم
من طاب محتدہ و طاب نجارہ
والآل والصحب الکرام اولی التقی
صید الانام ومن ھم انصارہ
ما انشدت طرباً مطوقۃ الشظی
او ناح بالالحان فیہ ھزارہ

اے رب کائنات! ہم نے مظہر نعمت و قدرت اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے چچا کی پناہ لی ہے، انکے اسرار کو تقدس عطا کیا جائے۔
اس شخص کی لغزشوں کو معاف فرما جس نے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے محترم چچا کی پناہ لی ہے یا گناہوں کی مغفرت کے لیے انکی زیارت کی ہے۔
مشکلات میں ہم پر مہربانی فرما، کیونکہ ہم اس ہستی کے جوار میں ہیں جو بلا شک و شبہ اپنے پڑوسیوں کی عزت افزائی کرتی ہے۔
جب موت ہم سے قریب ہو اور اپنے پنجے گاڑ دے تو اعمال صالحہ پر ہمارا خاتمہ فرمانا پھر صلوۃ و سلام ہو بنو ھاشم کے خلاصہ پر جنکا حسب و نسب تیب و طاہر ہے۔
اور مخلوق کے سرداروں اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم مددگاروں، اور تقویٰ شعار آل پاک اور صحابہ کرام پر صلوٰۃ وسلام ہو۔
جب تک کسھی دار کبوتر مسرت بھرے لہجے میں چہچہاتے رہیں یا بلبل ہزاز داستان دلکش آوازوں کے ساتھ نغمہ سرا رہے۔

سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ۔وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ۔ وَالحَمدُ لِلَّہِ رَبِّ العَالِمِین


مآخذ ومراجع

١۔ فواد عبد الباقی: المعجم المفھرس لالفاظ القرآن الکریم
٢۔ عبد البر: الاستیعاب
٣۔ ابن الاثیر: اسد الغابۃ
٤۔ ابن سعد: الطبقات الکبری
٥۔ حاکم : المستدرک
٦۔ برھان الدین حلبی: السیرۃ الحلبیۃ (انسان العیون)
٧۔ القسطلانی: المواھب اللدنیہ
٨۔ ابن کثیر: البدایۃ والنھایۃ
٩۔ ابن الجوزی: المنتظم
١٠۔ المقریزی: امتاع الاسماع
١١۔ ابن حجر العسقلانی: الاصابہ
١٢۔ قرطبی: التذکرہ
١٣۔ابن القیم: الروح
١٤۔ابن ہشام: السیرۃ النبویۃ
١٥۔السیوطی: انباء الاذکیاء بحیاۃ الانبیائ
١٦۔ السیوطی: الحاوی للفتاوی
١٧۔ واقدی: المغازی
١٨۔ السیوطی: الخصائص الکبری
١٩۔ ابن رجب الحنبلی: اھوال القبور
٢٠۔ ابن عبد البر: التمھید
٢١۔ ابن عبد البر: البیان والتحصیل
٢٢۔ ابن النجار:الدرۃ الثمنیہ فی تاریخ المدینہ
٢٣۔ابی برکات النسفی: تفسیر النسفی
٢٤۔ابن شبہ: تاریخ المدینہ المنورہ
٢٥۔ الرازی: التفسیر الکبیر
٢٦۔ الاصبھانی: الترغیب والترھیب
٢٧۔ النووی: تہذیب الاسماء واللغات
٢٨۔ الطبری: جامع البیان فی تاویل القرآن
٢٩۔ البیھقی: حیاۃ الانبیائ
٣٠۔البیھقی : دلائل النبوۃ
٣١۔ الطبری: ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی
٣٢۔ الذھبی: ذیل تذکرۃ الحفاظ
٣٣۔ الکردی: رفع الخفا شرح ذات الشفائ
٣٤۔ ذھبی: سیر اعلام النبلائ
٣٥۔ صالحی: سبل الھدی والرشاد
٣٦۔ السجستانی: سنن ابی داود
٣٧۔ القزوینی: سنن ابی ماجہ
٣٨۔ السیوطی: شرح الصدور بشرح حال الموتی والقبور
٣٩۔ ابن العماد الحنبلی:شذرات الذھب فی اخبار من ذھب
٤٠۔ ابن الجوزی: صفۃ الصفوۃ
٤١۔ ابن سید الناس: عیون الاثر
٤٢۔ ابن حجر العسقلانی: فتح الباری بشرح صحیح البخاری
٤٣۔ تقی الدین السبکی: فتاوی السبکی
٤٤۔ السمھودی: وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ
٤٥۔ الشیبانی: مسند امام احمد
٤٦۔ صابونی: مختصر تفسیر ابن کثیر
٤٧۔ ابن منظور: لسان العرب


منقبتِ سید الشہداء حضرت سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ

آپ ہیں دین کے نگہبان جناب حمزہ رضی اللہ عنہ
ہے اٹل اپنا یہ ایقان جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ 

ناز کرتی ہے تواریخ شجاعت پہ ُہنوز
قابل رشک ہے یہ شانِ جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ 

جس جگہ نوش کیا جام شہادت بے خوف
ہے شفق زار وہ میدان جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ 

انتہا ہے یہ محمد سے وفاداری کی
کر گئے جان بھی قربان جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ 

دل میں قندیل عقیدت ہی رہیگی روشن
ہے جسے آپ کا عرفان جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ 

بن گئی شمع رسالت کے لئے اک فانوس
جب اُٹھا کُفر کا طوفان جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ 

خواب ہی میں کبھی دیدار میّسر ہو مجھے
ہے میرے دل کا یہ ارمان جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ 

ماری اس زور سے بو جہل کے چہرے پہ کمان
قوت کفر تھی حیران جنابِ حمزہ رضی اللہ عنہ 

بزم ہستی میں ہمیشہ ہی رہے گا چرچا
ہے یہ الطاف کا ایمان جناب حمزہ رضی اللہ عنہ 



— — —
تحریر: حضرت سید جعفر بن حسن عبد الکریم برزنجی
مترجم: استاز العلماء مفتی عبد الحکیم شرف قادری
------------

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg