Instagram

Friday, 11 September 2015

Ayyam E tashreeq



ایام تشریق

ایام تشریق:
١. یوم عرفہ یعنی٩ ذی الحجہ و یوم قربانی یعنی١٠ ذی الحجہ اور ایام تشریق یعنی ١١ ذی الحجہ تا ١٣ ذی الحجہ، ان پانچ دن میں تکبیراتِ تشریق کہی جاتی ہیں
٢. یہ تکبیر کہنا واجب ہے
٣. ان تکبیرات کا وقت عرفہ یعنی ٩ ذی الحجہ کی نمازِ فجر سے شروع ہوتا ہے اور تیرہویں ذی الحجہ ( ایام تشریق کا آخری دن) کی نماز عصر تک ہے یہ سب تئیس (٢٣) نمازیں ہوئیں جن کے بعد یہ تکبیر واجب ہے
٤. اس تکبیر کا بلند آواز ( جہر) سے ایک بار کہنا واجب ہے ذکر سمجھ کر دو یا تین بار کہنا افضل ہے اگر عورتیں کہیں تو آہستہ کہیں
٥. اس تکبیر کا کہنا نماز کا سلام پھیرنے کے بعد فوراً متصل ہونا واجب ہے اگر جان بوجھ کر یا بھول کر مسجد سے نکل گیا یا حدث کیا تو یہ تکبیر ساقط ہو جائے گی مقتدی کو امام سے پہلے تکبیر کہنا جائز ہے لیکن مستحب یہ ہے کہ امام کے بعد کہے اور اگر امام تکبیر کہنا بھول جائے تو مقتدی فوراً کہہ دیں امام کا انتظار نہ کریں
٦. اس تکبیر کے الفاظ یہ ہیں
اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر لا الہ الا اللّٰہ و اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر وللّٰہ الحمد
٧. اس کی شرائط یہ ہیں
١. مقیم ہونا،
٢. شہر میں ہونا،
٣. فرض نماز جماعتِ مستحبہ سے پڑھنا،
پس یہ تکبیر مسافر اور گاؤں کے رہنے والے اور عورت پر واجب نہیں ہے لیکن اگر یہ لوگ ایسے شخص کے مقتدی ہوں جس پر تکبیر واجب ہے تو ان پر بھی واجب ہو جائے گی، اکیلے نماز پڑھنے والے پر بھی یہ تکبیر واجب نہیں ہے لیکن اگر وہ کہہ لے تو بہتر ہے اسی طرح مسافر اور عورت بھی کہہ لے تو بہتر ہے
٨. یہ تکبیر مذکورہ وقتوں میں فرضِ عین نماز کے بعد واجب ہے پس نمازِ وتر و عیدالاضحٰی و نفل و سنت و نماز جنازہ وغیرہ کے بعد کہنا واجب نہیں ہے لیکن عیدالا ضٰحی کی نماز کے بعد بھی یہ تکبیر کہہ لے کونکہ بعض کے نزدیک واجب ہے

ايام تشريق كے روزوں كا حكم؟

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:" ايام تشريق كھانے پينے اور اللہ كا ذكر كرنے كے ايام ہيں "صحيح مسلم حديث نمبر ( 1141 ).اور امام احمد رحمہ اللہ نے حمزہ بن عمرو اسلمى رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ انہوں نے ايك شخص كو منى ميں اونٹ پر سوار ہو كر لوگوں كے خيموں ميں اعلان كرتے ہوئے ديكھا، اور وہاں نبى كريم صلى اللہ عليہ بھى موجود تھے: آدمى يہ اعلان كر رہا تھا: ان ايام كے روزے نہ ركھو كيونكہ يہ ايام كھانے پينے كے ايام ہيں "مسند احمد حديث نمبر ( 16081 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 7355 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.ام ھانئ رضى اللہ تعالى عنہا كے غلام ابو مرہ بيان كرتے ہيں كہ وہ عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہا كے ساتھ ان كے والد عمرو بن عاص رضى اللہ تعالى عنہ كے پاس گئے تو انہوں نے ان دونوں كے سامنے كھانا ركھا، اور كہنے لگے: تناول كريں، تو انہوں نے كہا ميں روزے سے ہوں.عمرو رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: كھاؤ، يہ ايام كھانے پينے كے دن ہيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہميں ان ايام ميں روزہ نہ ركھنے كا حكم ديا كرتے تھے"مالك كہتے ہيں اور يہ ايام تشريق ہيں "مسند احمد حديث نمبر ( 17314 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 2418 ) البانى نےبهی صحيح ابو داود ميں اسے صحيح كہا ہے.امام احمد نے سعد بن ابى وقاص رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے وہ كہتے ہيں: منى كے ايام ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے يہ اعلان كرنے كا حكم ديا كہ:" يہ كھانے پينے كے ايام ہيں، چنانچہ ان ميں روزہ نہيں ہے " يعنى ايام تشريق میں۔"

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg