Instagram

Monday, 25 August 2014

Haj kab Farz Hua?

:     حج ارکان اسلام میں ایک مہتم بالشان رکن ہے اس کی فرضیت کا حکم کب نازل ہوا اس میں مختلف اقوال ہیں:سن6ھجری / سن7 ھجری /8 ھجری اور 9 ھجری-
صاحب سیرت حلبیہ نے فرمایا : 6 ھجری جمہور کا قول یہی ہے ، امام رافعی اور امام نووی نے اس کو صحیح کہا ہے-
سیرت حلبیہ ج 3،حجۃ الوداع کے بیان میں ص 283، پر ہے:
قال الجمهور فرض الحج کان سنة ست من الههجرة ای وصححه الرافعی فی باب السير وتبعه النووی-
لیکن درمختار اور اس کی شرح ردالمحتار میں 9 ھجری کے قول کو ترجیح دی گئی ہے:
  (فرض) سنة تسع، وإنما، أخره عليه الصلاة والسلام لعشر لعذر مع علمه ببقاء حياته ليكمل التبليغ-
اور ردالمحتار ج 2،ص 151، میں ہے:
  وَقَدَّمَ الْأَوَّلَ لِمَا فِي حَاشِيَتِهِ لِلشَّلَبِيِّ عَنْ الْهَدْيِ لِابْنِ الْقَيِّمِ أَنَّ الصَّحِيحَ أَنَّ الْحَجَّ فُرِضَ فِي أَوَاخِرِ سَنَةِ تِسْعٍ-
  ( ردالمحتار ج 2،ص 151، کتاب الحج )
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت کے بعد سے ہجرت تک تین حج ادا فرمائے، فرضیت حج کا حکم نازل ہونے کے بعد آپ نے ایک حج فرمایا جس کو حجۃ الوداع، حجۃ البلاغ اور حجۃ الاسلام کہتے ہیں-
یہ وہ عظیم یادگار اور تاریخ ساز حج ہے جس میں صحابہ کرام اقطاع عالم سے سفر کرکے حاضر ہوئے اور سرور عالمیان، معلم کتاب وحکمت، شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بافیض سے مستفیض ہوتے ہوئے مناسک حج ادا کرنے کی سعادت حاصل کی-     
سیرت حلبیہ ج 3، ص 283،پر ہے:
  ولم يحج منذ هاجر الي المدينة غير هذه الحجة,قال واما بعد النبوة قبل الهجرة فحج ثلاث حجات-
واللہ اعلم بالصواب