Instagram

Monday, 25 August 2014

Haj Kis Par Farz Hae?

    حج کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے : وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیْلًا۔ترجمہ : اور اللہ کے لئے لوگوں پر بیت اللہ کا حج فرض ہے ، اُن پر جواس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ۔ (سورۂ اٰل عمران ۔ 97)
جامع ترمذی شریف میں حدیث پاک ہے:عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا یُوجِبُ الْحَجَّ قَالَ الزَّادُ وَالرَّاحِلَۃُ۔
ترجمہ: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ایک صاحب حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض گزار ہوئے: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! حج کو کیا چیز واجب کرتی ہے؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: توشۂ سفر اور سواری ۔ (جامع ترمذی ‘ کتاب الحج‘ باب ما جاء فی إیجاب الحج بالزاد والراحلۃ‘ حدیث نمبر818)
فقہاء کرام نے اس کی یوں وضاحت کی ہے کہ جس شخص کے پاس بنیادی ضرورت سے زائد اس قدر مال ہوکہ وہ بیت اللہ شریف تک آنے جانے اور قیام کرنے کے اخراجات برداشت کرسکتاہو اور سفرحج سے واپس آنے تک اہل وعیال کے نفقہ کا انتظام کرسکتاہوتووہ صاحب استطاعت ہے اور اس پر حج فرض ہے ۔
زکوٰۃ واجب ہونے کے لئے دیگر شرائط کے ساتھ نصاب کا مالک ہونا‘مال کابڑھنے والاہونااور نصاب پرسال گزرنا‘شرط ہے ،حج واجب ہونے کے لئے مال کے بڑھنے یا اس پر سال گزرنے کی شرط نہیں اور نہ نصاب کی تکمیل لازمی ہے، محض بنیادی ضرورت اور اہل وعیال کے نفقہ سے زائد اتنی رقم ہو کہ بیت اللہ شریف جانے آنے کے اخراجات برداشت کرسکتاہوتو حج فرض ہوجاتاہے۔
رہائشی گھرکے علاوہ جائیداد ہو اور اس کو فروخت کرنے سے اتنی رقم حاصل ہوتی ہے کہ وہ واپسی تک اہل وعیال کے نفقہ کا بندوبست کرکے حج کے مکمل اخراجات برداشت کرسکتاہو توایسے شخص پرحج فرض ہے۔
فتاوی عالمگیری ، کتاب المناسک میں ہے : وتفسیر ملک الزاد والراحلۃ أن یکون لہ مال فاضل عن حاجتہ ، وہو ما سوی مسکنہ ولبسہ وخدمہ ، وأثاث بیتہ قدر ما یبلغہ إلی مکۃ ذاہبا وجائیا راکبا لا ماشیا وسوی ما یقضی بہ دیونہ ویمسک لنفقۃ عیالہ ، ومرمۃ مسکنہ ونحوہ إلی وقت انصرافہ۔ ۔ ۔ وفی التجرید إن کان لہ دار لا یسکنہا وعبد لا یستخدمہ فعلیہ أن یبیعہ
ویحج بہ ۔
حج فرض ہونے پر تاخیر کرنا
    حج ہر صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے ، حج فرض ہونے کے بعد حج میں تاخیر نہ کی جائے ، اس فریضۂ اسلامی کی ادائی میں عجلت کریں ، جیساکہ سنن ابوداؤد میں حدیث پاک ہے : عن ابن عباس، قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : من اراد الحج فلیعجل ۔ ترجمہ : سیدنا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے ، آپ نے فرمایاکہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص حج کا ارادہ رکھتاہو وہ اُس کو ادا کرنے میں عجلت کرے ۔ (سنن ابوداؤد ، کتاب المناسک ،حدیث نمبر:1734)۔ حج فرض ہونے کے بعد بلا عذر شرعی تاخیرکرنا درست نہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب