Instagram

Saturday, 23 August 2014

Hazrat Abu Ayyub Ansari Radi Allah Anho Awr Mazar E Rasool Ka Bosa

حضرت ابو ایوب انصاری رضی ﷲ عنہ اور روضۂ اطھر کا بوسہ
٭٭٭٭٭٭٭٭
سوال:   ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم مزار مبارک چوم رہے تھے اور وہاں مروان نامی بادشاہ یا گورنر موجود تھا، اس نے کہا کہ یہ کیا چوم رہے ہو؟ آپ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مزار مبارک چوم رہا ہوں- برائے مہربانی اس کا حوالہ بیان فرمائیں- جزاک اللہ
............................................................................
جواب:    جس روایت سے متعلق آپ نے دریافت کیا ہے وہ مسند امام احمد، مستدرک علی الصحیحین، مجمع الزوائد اور سبل الہدی و الرشاد وغیرہ میں موجود ہے:
عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِى صَالِحٍ قَالَ أَقْبَلَ مَرْوَانُ يَوْماً فَوَجَدَ رَجُلاً وَاضِعاً وَجْهَهُ عَلَى الْقَبْرِ فَقَالَ أَتَدْرِى مَا تَصْنَعُ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ فَإِذَا هُوَ أَبُو أَيُّوبَ فَقَالَ نَعَمْ جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلَمْ آتِ الْحَجَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ تَبْكُوا عَلَى الدِّينِ إِذَا وَلِيَهُ أَهْلُهُ وَلَكِنِ ابْكُوا عَلَيْهِ إِذَا وَلِيَهُ غَيْرُ أَهْلِهِ ».
ترجمہ: سیدنا داود بن ابو صالح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، آپ نے فرمایا کہ ایک دن مروان نے دیکھا کہ ایک صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے روضۂ اطہر پر اپنا چہرہ رکھے ہوئے ہیں، مروان کہنے لگا: تم کیا کررہے ہو؟ جب آگے بڑھا تو دیکھا کہ وہ صاحب حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ ہیں، آپ نے فرمایا: ہاں! میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں، میں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا ہوں- میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تم دین پر مت روؤ جب اس کا اہل اس کاحکمراں ہو البتہ اس وقت دین پر روؤ جب کوئی غیر اہل اس کا حکمراں ہو-
(مسند امام احمد، حدیث ابی ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر: 24302-
مستدرک علی الصحیحین ، کتاب الفتن والملاحم ، حدیث نمبر: 8717-
مجمع الزوائد، باب وضع الوجہ علی قبر سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث نمبر: 5845-
سبل الہدی والرشاد،  ابواب زیارتہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ج 12 ، ص 398)
واللہ ورسولہٗ اعلم بالصواب –
www.fb.com/mushahidrazvi1979