Instagram

Sunday, 24 August 2014

Qarz De kar Zaed Wasool Karna Kaesa?

قرض دے کر زائد وصول کرنا

سوال:   
ہمارے ایک قریبی دوست ہیں جنہوں نے سخت حاجت کی بناء اپنے ایک دیرینہ دوست سے قرضہ حسنہ کا مطالبہ کیا تو انہوں نے اس شرط کے ساتھ انہیں ایک لاکھ روپئے دئیے کہ وہ چھ ماہ بعد اصل رقم کے علاوہ مزید دوہزار رقم ادا کریں ، چوں کے یہ صاحب اپنی اہلیہ کی طبیعت ناسازہونے کی بناء ان کے علاج معالجہ کے لئے رقم حاصل کرنے پر مجبور تھے، ان سے قرض حاصل کرلئے ۔ میں نے اس قرض د ینے والے ساتھی کو سمجھایا کہ آپ کا اس طرح زائد رقم کا مطالبہ کرنا گناہ ہے تو انہوں نے کہا کہ اگرقرآن وحدیث کی روشنی میں میر ا عمل غلط ثابت ہو جائے توضرور میں اس زائد رقم کو چھوڑ دوں گا۔

............................................................................
جواب:   
انسان کی زندگی مختلف مراحل سے گذرتی ہے۔ کبھی آسودگی اور خوشحالی توکبھی غربت وتنگدستی، شریعت اسلامیہ نے تمام احوال میں فلاح انسانیت ، ہمدردی واخوت کا قانون دیاہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص تنگدست ہواور اسے قرض کی سخت ضرورت لاحق ہوتو مالداروں کے لئے اس کو قرض دینا اور اس کا تعاون کرنا ایک انسانی فریضہ قرار دیا گیاہے۔ لیکن یہ ہدایت بھی دی گئی کہ قرض دے کر اس سے کوئی منفعت حاصل نہ کی جائے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ۔ کل قرض جرنفعافھو ربا (الجامع الصغیر،ج 2ص284)۔ ترجمہ :جو قرض کسی نفع کو کھینچ لائے وہ سودہے۔ لہذا ان صاحب کا ایک لاکھ رقم قرض دے کرا س پردو ہزار اضافی رقم کی شرط لگانا اور اسکامطالبہ کرناشرعاً ناجائز وحرام ہے ،کیوں کہ اصل رقم پر یہ اضافی رقم سود شمار ہوتی ہے اور سود کی حرمت قرآن کریم وحدیث شریف سے ثابت ہے۔ ارشاد الہی ہے :وأحل اللہ البیع وحرم الربوا (سورۃالبقرۃ،آیت275) ترجمہ:اور اللہ نے بیع کوحلال قراردیا اور سود کو حرام قراردیا۔ سودی لین دین پر سخت وعید آئی ہے۔ ارشادخداوندی ہے فان لم تفعلوا فأذنوا بحرب من اللہ ورسولہ(سورۃ البقرہ،آیت279) ۔ ترجمہ: اگر سودی معاملہ سے باز نہ آؤگے تو اللہ اور اس کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جنگ کا اعلان سن لو۔ زجاجۃ المصابیح ج2‘ص241میں بحوالہ مسلم شریف حدیث پاک ہے عن جابر قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکل الربوا وموکلہ وکاتبہ وشاہدیہ وقال ھم سواء رواہ مسلم ۔ ترجمہ؛ سیدناجابررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سودکھانے والے‘ کھلانے والے اورسودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ارشاد فرمایا کہ یہ سب برابر کے گہنگارو ملعون ہیں۔(صحیح مسلم شریف، باب لعن آکل الربوا ومؤکلہ، حدیث نمبر؛ 4177 ) قرآن کریم کی آیات کریمہ واحادیث مبارکہ سے سود کی حرمت وقباحت روزروشن کی طرح عیاں ہے۔ اس لئے ایک بند ہ مومن پر لازم ہے کہ وہ سودتو درکنا رسود کے شائبہ سے بھی کلیۃً دور رہے۔ بناء بریں آپ کے ساتھی کوجنہوں نے ایک لاکھ کی رقم قرض حسنہ دے کر دوہزار زائد رقم کی شرط رکھی ہے ، وہ کھلم کھلا سود ہے ، وہ صرف اصل قرض وصول کرسکتے ہیں ۔ زائد رقم ہرگزنہ لیں کہ اس میں دنیا وآخرت کا خسارہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
By : Mushahid Razvi