Instagram

Friday, 11 September 2015

Haj k Fazael Awr Masael



حج کے فضائل و مسائل اور مقامات

اَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ0بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ 0وَمَن دَخَلَہ کَانَ اٰمِنَا۔”اور جو اس میں داخل ہو جائے تو وہ امن والا ہو گیا ۔“(القرآن)

یہاں امن سے اگر امن آخرت مراد ہے ۔تو ”من “ سے مومنین مراد ہوں گے کیوں کہ آخرت میں امن و سلامتی صرف مومنین کے لئے ہے ۔حدیث پاک میں ہے جو (مسلمان) حرمین شریفین میں سے کسی ایک حرم میں وفات پا جائے تو اللہ تعالیٰ روز قیامت اسے امن والوں میں سے اٹھائے گا اور اگر امن سے دنیا کا امن مراد ہے تو یہ ہے کہ مسلمان یا کافر کوئی بھی جرم کر کے حرم کعبہ میں داخل ہو جائے تو حکومت اسے گرفتار نہیں کر سکے گی ۔جب تک وہ مجرم حدود حرم سے خود باہر نہ نکلے البتہ ایسے مجرم کے لئے کھانا پانی وغیرہ اشیاءضرورت بند کر کے اسے حرم کی حدود سے نکلنے پر مجبور کرنا جائز ہے ۔تاکہ حرم سے باہر نکلنے کے بعد اسے گرفتار کیا جا سکے ۔

 
 اس امن میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جنگلی جانور بھی داخل ہیں کہ حدود حرم میں جنگلی جانوروں کا شکاربھی حرام ہے ۔نیز یہاں جانور خود بھی دوسرے جانوروں کے لئے خطرہ نہیں بنتے ۔حرم شریف میں خود رو درختوں کو بھی امن حاصل ہے ۔کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺنے حدود حرم میں خود رو درختوں کو اکھاڑنے اور ازخر گھاس کے علاوہ ہر قسم کی خود رو گھاس اور پودوں کو کاٹنے سے منع فرمایا ہے ۔وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُِ البَیتَ مَنِ استَطَاعَ اِلَیہِ سَبِیلًا۔اور اللہ کے لئے بیت اللہ کا حج کرنا لوگوں پر لازم ہے ۔جسے وہاں پہنچنے کی طاقت ہے ۔(القرآن)

حج بیت اللّٰہ :حج کا لغوی معنی ہے ارادہ کرنا ،زیارت کرنا ،غالب آنا وغیرہا ۔لیکن اسلام میں حج ایک مشہور عبادت ہے ۔جو خانہ کعبہ کے طواف (چکر ) اور مکہ مکرمہ شہر کے متعدد مقدس مقامات میں حاضر ہو کر کچھ آداب و اعمال بجالانے کا نام ہے ۔حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے ۔جس مسلمان میں اس کے فرض ہونے کی شرطیں پائی جائیں اس پر عمر میں ایک بار حج کرنا فرض ہے ۔حج میں کچھ کام فرض ہیں ۔جن کے بغیر حج ہوتا ہی نہیں کچھ کام واجب ہیں جن میں سے کسی ایک کے رہ جانے سے عموماً دم (قربانی) واجب ہوجاتی ہے ۔کچھ کام سنت ہیں جن کے رہ جانے سے ثواب و برکت میں کمی آتی ہے لیکن حج ہوجاتا ہے اور کچھ کام منع ہیں جن کے کرلینے سے جرمانہ واجب ہوتا ہے اور بعض میں حج فاسد ہو جاتا ہے اور بعض میں صرف ثواب میں کمی آتی ہے ۔

 
 حج کے فوائد و برکات:حج کے بے شمار فضائل و برکات ہیں جن میں چند ایک نہایت اختصار کے ساتھ بیان کئے جاتے ہیں ۔

1۔ حاجی اللہ تعالیٰ کی محبت میں سب کچھ چھوڑ کر اپنے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں گناہوں کی بخشش کے لئے حاضر ہو جاتا ہے اس لئے رحیم و کریم رب تعالیٰ اس کے تمام گزشتہ گناہ معاف کر دیتا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ کے لئے حج کرے اور حج کے دوران فحش (عورت سے ہمبستری اور اسکے متعلقات) اور نافرمانی نہ کرے ۔تو وہ حج سے (گناہوں سے پاک ہو کر)اس دن کی طرح لوٹے گا جس دن اسے ماں نے جنم دیا تھا ۔ایک حدیث میں ہے حاجی کی مغفرت ہو جاتی ہے اور جس کے لئے حاجی استغفار کرے اس کی بھی۔ ایک اور حدیث میں ہے حاجی 400افراد کی شفاعت کرے گا۔
2۔حج کے دوران حاجی پر سخت پابندیاں لگا دی جاتی ہیں اور لاکھوں افراد کے سخت ہجوم میں افعال حج انجام دئے جاتے ہیں لمبے سفر کی مشقت اور بے پناہ ہجوم و گرمی کے باوجود حاجی کو اپنے ساتھیوں اور دیگر حجاج کے ساتھ نرمی و ملاطفت اور نیکی و ایثار کا حکم دیا گیا ہے ۔اس طرح تقویٰ اور بلندی اخلاق کا ذریعہ اور ایک عسکری تربیت بھی ہے۔
3۔دنیا بھر سے مسلمان فضائی بری اور بحری راستوں سے کائنات ارضی کا مطالعہ کرتے ہوئے خانہ کعبہ پہنچتے ہیں جہاں مختلف رنگوں نسلوں ،علاقوں اور تہذیبوں کے لوگوں سے ملاقات کر کے قسم قسم کی معلومات حاصل کرتے ہیں ۔گویا حج ایک عبادت کے ساتھ ساتھ ایک عالمگیر مطالعاتی و معلوماتی سفر بھی ہے ۔
4۔حج کے موقع پر دنیا بھر کے علماءمحققین سائنسدان ،سیاست دان ،تاجر ،قانون دان، اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لوگ جمع ہوتے ہیں تو وہ حج کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اپنے ملکی اور عالمی پیچیدہ مسائل پر افہام و تفہیم کر کے ملت اسلامیہ کے لئے بہتر لائحہ عمل تجویز کر سکتے ہیں ۔اس طرح حج ایک عالمی اسلامی کانفرنس بھی ہے ۔
5۔حج کے مقامات انبیاءکرام اور محبوبان خدا کی یادگاریں ہیں جن کی زیارت سے برکت کے حصول کے علاوہ انبیاءکرام اور دیگر محبوبان خدا کے عظیم واقعات کا علم حاصل ہوتا ہے اور ان کی اتباع کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔

حج آٹھ شرائط پائے جانے سے فرض ہوتا ہے:حج کے فرض ہونے کےلئے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔
۱۔مسلمان ہونا ،۲۔اگر کفار کے ملک میں ہو تو حج کے فرض ہونے کا علم ہونا ،۳۔ عقلمند ہونا یعنی پاگل نہ ہونا ،۴۔ بالغ ہونا ،۵۔آزاد ہونا ،۶۔تندرست ہونا کہ اعضاءسلامت ہوں لیکن اگر پہلے تندرست تھا اور دیگر شرائط فرضیت حج پائے جانے کے بعد اپاہج ہو گیا تو کسی دوسرے مسلمان کو اپنی طرف سے حج کرانا ضروری ہے اور اسے حج بدل کہا جاتا ہے ،۷۔مکہ مکرمہ پہنچنے کی طاقت کا ہونا اور اس سے مراد یہ ہے کہ حاجت اصلیہ مثلاً رہائش کا مکان ،سواری ،استعمال کے کپڑے ،برتن و بستر اور اوزار وغیرہا کے علاوہ اس کے پاس سوار ہو کر سفر کے اخراجات و دیگر ضروریات خوردو نوش و رہائش کے علاوہ اپنی واپسی تک اپنے اہل و عیال جن کا خرچ اس کے ذمے ہے موجود ہو ،۸۔ان شرائط بالا کا حج کے مہینوں شوال، ذیقعد اور ذوالحج میں موجود ہونا ۔

 
 مسافر عورت کے لئے محرم یا شوہر کے ساتھ جانا ضروری ہے :عورت کے لئے اگر اس کا گھر خانہ کعبہ سے 57میل 3فرلانگ کی مسافت پریا اس سے زیادہ ہو تو واجب ہے کہ شوہر یا محرم کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہو ۔ورنہ سخت گنہگار ہو گی ۔محرم سے مراد وہ رشتہ دار ہےں جس کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ نکاح حرام ہے ۔مثلاً باپ ،بیٹا وغیرہ اور محرم کا بالغ اور صالح ہونا بھی ضروری ہے ۔اب ہم نہایت اختصار کے ساتھ عمر و حج کے مقامات اور اصطلاحات کی وضاحت کرتے ہیں ۔اس کے بعد حج کے فرائض وواجبات و سنن و ممنوہات بیان کر کے عمرہ و حج کا طریقہ بیان کریں گے ۔

اصطلاحات حج و مقامات حج و عمرہ
احرام: اس سے مراد مرد کا بغیر سلا تہبند باندھنا اور بغیر سلی چادر اوڑھنا ہے ۔احرام کی حالت میں بہت سی پابندیاں عائد ہو جاتی ہیں ۔مثلاً عورت سے ہمبستری اور اس کے متعلقات ،شکار کرنا ،اور شکار کا گوشت کھانا ، خوشبو لگانا ،حجامت بنوانا ،جوں مارنا ،سر اور چہرے کو کپڑے سے نہ ڈھانپنا مگر عورت پہن سکتی ہے اور اجنبی لوگوں کے سامنے اور نماز میں سر کو ڈھانپنا بھی اس کے لئے ضروری ہے ۔لیکن چہرے کو کپڑے سے نہیں ڈھانپ سکتی اور نہ ہی برقعہ پہن سکتی ہے ۔البتہ پنکھا وغیرہ کسی چیز کو چہرے سے دور رکھ کر غیر محرم سے منہ چھپا سکتی ہے ۔

میقات:اس سے مراد وہ پانچ مقامات ہیں جو بھی باہر سے حرم کعبہ میں عمرہ یا حج کی غرض سے داخل ہونے کے لئے آئے تو اس پر واجب ہے کہ احرام باندھ کر ان مقامات سے آگے بڑھے وگرنہ اس پر اس جرم کی وجہ سے سے ایک دم (قربانی) واجب ہے ۔اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ،عراق والوں کے لئے ذات العرق، مصر و شام والوں کے لئے حجفہ یا رابغ، نجد والوں کے لئے قرن اور ہندوستان پاکستان اور یمن والوں کے لئے یلملم میقات ہیں۔

حِلُّ وحَرَم :حرم سے مراد خانہ کعبہ کے اردگرد کئی کئی میل تک کا معین علاقہ ہے ۔مسجد عائشہ رضی اللہ عنہا حرم سے باہر ہے اسی طرح مزدلفہ حرم میں داخل ہے اور عرفات میدان حرم سے باہر ہے اور مسجد جعرانہ حرم سے باہر ہے ۔حدود حرم میں ہمیشہ جنگلی جانور کا شکار حرام ہے اور خود رو درختوں و گھاس کا کاٹنا بھی حرام ہے۔ صرف از خر گھاس کاٹنے کی اجازت ہے ۔حرم کی حدود کے اند ررہنے والوں یا وہاں پہنچ جانے والے کے لئے حکم ہے کہ وہ عمرہ کا احرام حرم سے باہر نکل کر باندھیں اور حج کا احرام حرم کے اندر رہ کر باندھیں اور حل سے مراد حرم اور پانچ میقاتوں کے درمیان کے علاقے ہیں ۔حل میں رہنے والوں کے لئے حکم ہے کہ حج و عمرہ کا احرام حل ہی سے باندھیں ۔

لبیک یا تلبیہ اور دعائیں
تلبیہ سے مراد:لَبَیکَ اَللّٰھُمَّ لَبَیک لَبَیّکَ لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَیک اِنَّ الحَمدَ وَالنِّعمَةَ لَکَ وَالمُلکَ لَا شَرِیکَ لَکَ۔ہے عمرہ یا حج کا احرام باندھنے کے بعد عمرہ یا حج کے سفر میں تلبیہ کی کثرت مسنون ہے ۔تلبیہ کے علاوہ مختلف مقامات پر نبی علیہ السلام و بزرگان دین نے دعائیں کی ہیں ان دعا
ں میں سے جس قدر پڑھ سکے پڑھے اور دعاں کی جگہ صرف درود شریف پڑھتا رہے تو زیادہ بہتر ہے ۔

طواف:اس سے مراد خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگانا ہے ہر چکر کا آغاز حجر اسود والے کونے سے ذرا پہلے سے ہوتا ہے ۔عمرہ میں ایک طواف فرض ہے اور حج میں تین طواف ہیں ۔پہلا طواف جسے طواف قدوم کہتے ہیں سنت ہے ۔ دوسرا طواف جسے طواف زیارت یا طواف افاضہ یا طواف فرض کہتے ہیں ۔حج کا رکن اور فرض ہے ۔یہ طواف دس گیارہ اور بارہ ذوالحج میں سے کسی روز کرنا ضروری ہے البتہ اگر عورت حیض و نفاس کی حالت میں ہو تو اس حالت میں مسجد کی حدود میں داخل نہ ہو سکنے کی وجہ سے ان ایام کے بعد بھی طواف کر سکتی ہے ۔اورتیسرا طواف جسے طواف وداع یا صدر کہتے ہیں واجب ہے حج سے واپسی کے وقت کیا جاتا ہے ۔ اگر عورت حیض و نفاس میں ہو تو معا ف ہو جاتا ہے ۔

مطاف: خانہ کعبہ کے ارد گرد وسیع احاطہ جہاں طواف کیا جاتا ہے ۔مطاف کہلاتا ہے ۔

مسجد حرام:خانہ کعبہ کے چاروں طرف جو شاندار مسجد ہے اس کا نام مسجد حرام ہے ۔اس میں ایک نماز پر لاکھ نماز کا ثواب ملتا ہے ۔

چار رکن :خانہ کعبہ کے چاروں بیرونی کونوں کو رکن کہا جاتا ہے ۔شرقی و جنوبی کو نہ جس میں حجرہ اسود(سیاہ پتھر) نصب ہے کورکن اسود کہا جاتا ہے ۔جنوب غربی کونے کو رکن یمانی کہا جاتا ہے ۔شمالی جنوب کونے کو رکن شامی کہاجاتا ہے اور شمالی مشرقی کونے کو رکن عراقی کہا جاتا ہے ۔

استلام:اس سے مراد طواف کے ہر چکر کے شروع میں حج اسود کو چومنا ہے اور اگر چومنا ممکن نہ ہو تو ہاتھ یا لاٹھی سے چومنے کا اشارہ کر کے اسے چوم لینا ہے ۔

ملتزم:خانہ کعبہ کی شرقی دیوار میں دروازہ ہے ۔دروازہ اور حجرہ اسود کے درمیان دیوار کے حصے کو ملتزم کہتے ہیں اس حصہ سے لپٹنا اپنے رخسار سینہ وغیرہ اس کے ساتھ لگانا بڑی برکت کا باعث ہے ۔یہ عمل طواف کے بعد کرتے ہیں ۔

مستجار:ملتزم سے بالمقابل غربی دیوار کا بیرونی حصہ مستجار کہلاتا ہے ۔

مستجاب:خانہ کعبہ کی جنوبی دیوار مستجاب کہلاتی ہے یہاں دعا کر نے پر ستر ہزار فرشتے آمین کہتے ہیں ۔

حطیم:خانہ کعبہ کے شمال میں قوسی شکل میں کچھ جگہ ہے یہ جگہ خانہ کعبہ کا حصہ ہے لیکن اس پر چھت نہیں اسی جگہ میں خانہ کعبہ کا پرنالہ جسے میزاب رحمت کہتے ہیں گرتا ہے ۔

رمل:عمرہ کے طواف اور حج کے طواف قدوم یا طواف فرض میں پہلوانوں کی طرح شانے ہلاہلا کر تیز اور چھوٹے قدموں کے ساتھ چلنا بشرطیکہ کسی کو ازیت نہ پہنچے رمل کہلاتا ہے ۔

اضطباع:طواف سے پہلے احرام کی چادر کا ایک پلہ بائیں کندھے پر آگے کی طرف ڈالنا اور دوسرا پلہ دائیں کندھے کے نیچے سے گزار کر بائیں کندھے کے اوپر والی جانب ڈال دینا اضطباع کہلاتا ہے ۔

سعی :اس سے مراد صفا و مروہ دو پہاڑوں (جو کہ خانہ کعبہ کے جنوب میں واقع ہیں ) کے درمیان سات چکر لگانا ہے صفا سے مروہ جانا ایک چکر ہے اور مروہ سے واپس صفا آنا اسی طرح سات چکر سعی ہے جو عمرہ و حج دونوں میں واجب ہے ۔سعی کے ہر چکر میں صفا و مروہ کے درمیان دو سبز لائٹوں والے مقامات کے درمیان مرد کے لئے دوڑنا واجب ہے ۔

حلق و تقصیر:حلق کا معنی ہے سر کے بال استرے وغیرہ سے مونڈنا اور تقصیر کا معنی ہے بال چھوٹے کرنا ۔عمرہ میں سعی مکمل کرنے کے بعد مرد کے لئے حلق یا تقصیر واجب ہے لیکن عورت کے لئے ایک پورے کے برابر بال کاٹنا کافی ہے ۔حج میں 10ذوالحج کو قربانی کے بعد حلق و تقصیر واجب ہے ۔حلق و تقصیر ہی سے احرام کی حالت ختم ہوتی ہے ۔

منیٰ:یہ مقام خانہ کعبہ سے مشرق کی جانب ساڑھے تین میل کے فاصلے پر ہے ۔یہ دو پہاڑیوں کے درمیا ن کھلا میدان ہے اس مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربانی فرمائی تھی ۔اس میدان میں شیطان نے انسانی صورت میں متشکل ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی قربانی نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔ تو آپ نے اسے کنکرمارے چنانچہ یہا ں تین جمرے (ستون )تعمیر کرا دیے گئے ہیں ۔ جنہیں حاجی کنکر یاں مارتے ہیں مشہور مسجد خیف بھی اسی میدان میں ہے ۔ اور مسجد خیف کے ساتھ والاجمر ہ ، جمرہ اولیٰ ہے۔ حا جیو ں کے لیے آٹھ ذوالحج کو منیٰ میں پہنچ کر ظہر سے فجر تک پانچ نمازیں پڑھنا مسنون ہےں اور دس ، گیارہ اور بارہ ذوالحج کو منیٰ میں ٹھہرنا بھی مسنون ہے۔

۰۱ ذوالحج کو منیٰ میں پہلے جمرے کو سات کنکریاں مارنا اور اس کے بعد قربانی اور اس کے بعد حلق و تقصیر کرکے حاجی احرام سے آزاد ہوجاتے ہیں اور تما م پابندیا ں ماسوائے عورت سے ہمبستری کے ختم ہو جاتی ہیں اور عورت سے ہمبستری کی پابندی طواف زیارت کے بعد ختم ہو جاتی ہے ۔

رمی:رمی سے مراد تین جمروں (ستونوں ) کو کنکریاں مارنا ہے ۔10ذوالحج کو دن صرف جمرے کو سات سات کنکریاں ماری جاتی ہے ۔پہلے روز کنکریاں زوال سے پہلے ماری جاتی ہیں اور باقی ایام میں زوال کے بعد۔

مز دلفہ:یہ دو پہاڑوں کے درمیان ایک کشادہ میدان ہے ۔جو کہ منیٰ سے تقریباً تین میل آگے ہے اسی میدان میں حضرت آدم و حوا علیہا السلام کی توبہ قبول ہونے کے بعد ملاقات ہوئی تھی 9ذوالحج کو حجاج میدان عرفات سے غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ آتے ہیں اور عشاءکے وقت میں نماز مغرب و عشاءجمع کر کے پڑھی جاتی ہیں اور نماز فجر اندھیرے میں پڑھکر اس میدان میں کچھ وقت ٹھہرنا واجبات حج میں سے ہے ۔
قزح /مشعر حرام:مزدلفہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان خاص جگہ کا نام مشعر حرام اور قزح ہے اور سارے مزدلفہ میدان کو بھی مشعر حرام کہا جاتا ہے ۔

وادی محسر:یہ وہ مقام ہے جہاں ابرہہ یمن جب وہ خانہ کعبہ گرانے کے لئے ہاتھیوں کے ساتھ حملہ آور ہوا ٹھہرا تھا ۔حکم ہے کہ حجاج یہاں نہ ٹھہریں اور اس منحوس جگہ سے تیزی سے گزر جائیں ۔

عرفات اور جبل رحمت: مزدلفہ سے مزید 3میل آگے جبل عرفہ کے دامن میں وسیع و عریض میدان کا نام عرفات ہے ۔اس میدان میں 9ذوالحج کے روز دوپہر کے بعد کچھ وقت ٹھہر نا حج کا رکن اعظم ہے ۔اس میدان میں حجاج نماز ظہر اور نماز عصر اکٹھی وقت ظہر میں با جماعت ادا کرتے ہیں ۔اسی مقام پر ایک پہاڑ جبل رحمت ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے وقوف فرمایا تھا ۔اسے موقف اعظم بھی کہاجاتا ہے ۔یہ پہاڑ سطح ارض سے تین سو فٹ اور سطح سمندر سے تین ہزار فٹ اونچا ہے ۔میدان عرفات کے ایک کنارے پر مشہور مسجد نمرہ بھی واقع ہے ۔یہ مسجد مشہور نالے عرنہ کے بھی کنارے پر ہے ۔اس نالے میں وقوف عرفہ ممنوع ہے ۔

محصر:محصر وہ ہے جو احرام باندھ کر عمرہ یا حج کی نیت کر لینے کے بعد بیماری دشمن یا حکومت کی پابندی لگادینے وغیرہ کی وجہ سے مکہ مکرمہ نہ پہنچ سکے ۔تو اس کےلئے حکم ہے کہ حرم میں کسی طریقہ سے ایک قربانی کروا ئے اور اس کے بعد احرام کھول کر حلق یا تقصیر کر کے احرام سے نکل جائے اور پھر رکاوٹ دور ہونے کے بعد قضا کرے ۔

بدنہ :اس سے مراد گائے یا اونٹ کی قربانی ہے ۔پورے بدنہ کی قربانی اس شخص پر فرض ہے جو وقوف عرفہ کے بعد حلق یا تقصیر سے پہلے بیوی سے ہمبستری کر لے اور حلق و تقصیر کے بعد اور طواف فرض سے پہلے ہمبستری کرے تو دم (ایک قربانی ) واجب ہے اور جو شخص وقوف عرفہ سے پہلے ہمبستری کرے اس کا حج فاسد ہو جاتا ہے ۔دم دے یہ حج بھی پورا کرے اور قضا بھی کرے ۔

دم:دم سے مراد ایک بکری یا گائے اونٹ کا
۷/۱ حصہ ہے ۔کسی واجب کے چھوٹ جانے یا کسی حرام کے کرلینے سے عموماً دم واجب ہو جاتا ہے ۔البتہ اگر کسی پابندی کی خلاف ورزی عذر کی وجہ سے ہو تو دم واجب ہونے کی صورت میں 2مسکینوں کو چھے صدقے بھی دے سکتا ہے ۔ایک صدقہ صدقة الفطر کے برابر ہوتا ہے اور چاہے تو ایک دم کی جگہ تین روزے رکھ لے اور پابندی کی خلاف ورزی عذر کے بغیر ہو تو دم ہی دینا پڑے گا۔

حج کے فرائض: حج میں پانچ فرض ہیں ۔1۔نیت حج یعنی دل میں حج کا ارادہ کرنا ۔2۔ احرام۔3۔وقوف عرفات یعنی عرفات میدان میں 9ذوالحج کو دوپہر کے بعد کچھ وقت ٹھہرنا وقوف عرفہ اگر دن کو نہ کر سکے تو آئندہ رات کو صبح صادق سے پہلے تک یہ فرض ادا کیا جا سکتا ہے ۔4۔ طواف زیارت ۔5۔ان افعال میں ترتیب ۔ان فرائض میں سے ایک کے رہ جانے سے بھی حج نہیں ہوتا ۔

حج کے واجبات:1۔ میقات سے باہر آنے والوں کے لئے میقات یا اس سے پہلے احرام باندھنا ۔2۔سعی ۔3۔ سعی صفا سے شروع کرنا ۔4۔ اگر عذر نہ ہو تو پیدل کرنا۔5۔دن کو وقوف عرفہ کرنے والے کے لئے غروب آفتاب تک عرفات میں ٹھہرنا ۔6۔سعی کا طواف کے کم از کم چار چکروں کے بعد ہونا ۔ 7۔عرفات سے امام کے ساتھ واپسی مزدلفہ ۔8۔مزدلفہ میں ٹھہرنا ۔9۔مغرب و عشاءکی نماز عشاءکے وقت میں مزدلفہ میں ادا کرنا ۔10۔10ذوالحج کو صرف پہلے جمرہ (ستون) کو سات کنکریاں اور گیارہ ،بارہ ذوالحج کے روز تینوں جمروں کو کنکریاں مارنا۔11۔10ذوالحج کو رمی حلق سے پہلے کرنا ۔12۔حلق یا تقصیر دس ،گیارہ اور بارہ میں سے کسی روز حرم کی حدود کے اندر اندر کرنا ،13۔عمرہ و حج دونوں کی سعادت حاصل کرنے والے کے لئے قربانی کرنا جو کہ ایام قربانی کے اندر ہو حدود حرم کے بھی اندر ہو نیز رمی کے بعد اور حلق و تقصیر سے پہلے ہو ۔14۔طواف زیارت کا اکثر حصہ ایام قربانی کے اندر ادا کرنا ۔15۔طواف حطیم کعبہ سے باہر کرنا ۔ 16۔دائیں طرف طواف کرنا ۔17۔عذر نہ ہو تو پیدل طواف کرنا ۔ 18۔طواف با وضو کرنا ۔19۔ طواف کے وقت اپنا ستر ڈھانپنا ۔20۔ طواف کے بعد 2رکعت پڑھنا ۔21۔ رمی قربانی حلق و تقصیر اور طواف زیارت میں ترتیب ۔22۔ طواف صدر ،ان کے لئے جو میقات سے باہر سے آئے ہوں ۔23۔ وقوف عرفہ کے بعد حلق و تقصیر کے بعدجماع نہ کرنا ۔24۔ احرام کی پابندیوں کا لحاظ رکھنا ۔

حج کی سنتیں:1۔ طواف قدوم یہ طواف صرف مفرد اور قارن حاجی کے لئے ہے اور اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے ۔2۔طواف کا حجر اسود سے شروع کرنا ۔ 3۔رمل ۔4۔ سعی میں دونوں سبز لائٹوں کے درمیان مرد کےلئے دوڑنا ۔5۔امام کا سات ذوالحج کو خطبہ دینا ۔6۔ 9ذوالحج کو عرفات میں خطبہ دینا ۔ 7۔منیٰ پہنچ کر پانچ نمازیں پڑھنا ۔9۔نویں رات منیٰ میں گزارنا ۔10۔10ذوالحج کو طلوع آفتاب کے بعد منیٰ سے عرفات روانگی ۔11۔ وقوف عرفات کے لئے غسل کرنا ۔12۔ عرفات سے واپسی پر مزدلفہ میں رات گزارنا ۔13۔10ذوالحج کو طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے منی روانہ ہونا ۔14گیارہ اور بارہ ذوالحج کی راتیں منیٰ میں گزارنا ۔15۔ابطح خانہ کعبہ کے قریب ایک مقام ہے جسے وادی محصب بھی کہتے ہیں ۔منیٰ سے واپسی پر یہاں کچھ دیر ٹھہرنا۔

احرام میں کونسی باتیں حرام ہیں :1۔عورت سے صحبت کرنا ،بوسہ لینا ،یا شہوت سے چھونا وغیرہ ۔2۔ عورت سے ہیجان انگیز باتیں کرنا ۔3۔ فحش کام اور فحش باتیں ۔4۔دنیاوی جھگڑا ۔5جنگلی جانور کا شکار یا شکاری کی مدد کرنا ۔6۔پرندوں کے انڈے توڑنا، کھانا ،پکانا وغیرہ ،اسی طرح کسی جنگلی جانور کو تکلیف پہنچانا یا اس کا دودھ دھونا ۔7۔ناخن کترنا، حجامت بنوانا ،بال اکھیڑنا ،یا کاٹنا وغیرہ ۔8۔ منہ یا سر مرد کے لئے چھپانا ، البتہ عورت اجنبی لوگوں کے سامنے اور نماز میں سر چھپا ئے ۔ 9۔عمامہ باندھنا برقعہ یا دستانے پہننا موزے یا جرابیں وغیرہ جو پنڈلی اور قدم کے جوڑ کو چھپائے یامِلہ کپڑا پہننا یو نہی ٹوپی پہننا۔ 10۔ جسم یا کپڑوں میں خوشبو لگانا ۔ 11۔کسی خوشبو دار چیز سے رنگے کپڑے پہننا ،جبکہ ابھی خوشبو دے رہے ہوں ۔12۔ خالص خوشبو یا کوئی خوشبودار چیز مثلا الائچی ،زعفران ،دار چینی وغیرہ کھانا یا آنچل میں باندھنا ۔13۔کسی دوائی سے سریا داڑھی دھونا تاکہ جوئیں مر جائیں ۔14۔ مہندی وغیرہ کا استعمال۔ 15گوندوغیرہ سے بال جمانا ۔16۔زیتون اور تل کا تیل لگانا ۔17۔ کسی دوسرے کا سر مونڈنا ۔18۔جوں مارنا یا کسی کو اس کےلئے اشارہ کرنا ۔ 19۔کپڑوں کو جوئیں مارنے کے لئے دھوپ میں رکھنا ۔

احرام کے مکروہات:یعنی وہ کام جن سے حج فاسد تو نہیں ہوتا اور نہ ہی دم (قربانی ) واجب ہوتا ہے البتہ ثواب میں کمی آتی ہے ۔

1۔ جسم کی میل دور کرنا ۔2۔کنگھی کرنا یا کھجانا ، جس سے بال گریں یا جوئیں مریں ۔3۔جان بوجھ کر خوشبو سونگھنا ۔4۔سر یا منہ پر پٹی باندھنا ،ناک یا منہ کا کچھ حصہ کپڑے سے چھپانا ۔5۔غلاف کعبہ کے اندر اس طرح داخل ہونا کہ سر یا منہ غلاف سے چھوئے ۔6۔احرام کا بے سلا کپڑا جو رفوکیا ہوا ہو یا پیوند لگا ہو ۔ 7۔تکیہ پر منہ رکھ کر اوندھا لیٹنا ۔8کوئی ایسی چیز کھانا پینا جس میں خوشبو ملائی گئی ہو اور اسے زائل نہ کیا گیا ہو اور پکایا نہ گیا ہو ۔9مہکتی خوشبو (خشک ) کو ہاتھ لگانا۔10۔بازو یا گلے پر تعویز باندھنا۔ 11۔سنگھار کرنا مثلا!آئینہ دیکھنا وغیرہ۔12۔ تہبند کو رسی یا کمر بند سے کسنا ۔13۔تہبند دونوں کناروں میں گرادینا ۔ 14چادر کے آنچلوں میں گرہ دینا ۔15۔بلا عذر بدن پر پٹی باندھنا ۔16۔ خوشبو کی دھنی دیا ہوا کپڑا کہ ابھی خوشبو دے رہا ہو پہننا یا اوڑھنا ۔

حج کی تین قسمیں :حج کی تین قسمیں ہیں ۔
افراد:اُس حاجی کو مفرد کہتے ہیں ۔حج افراد یہ ہے کہ احرام باندھ کر صرف حج کیا جائے اور عمرہ نہ کیا جائے یہ حج اہل مکہ کے لئے ہے کیونکہ اہل مکہ سارا سال عمرہ کرتے رہتے ہیں لہٰذا ان کے لئے حج افراد کافی ہے ۔
حج قران:اُس حاجی کو قارن کہتے ہیں ۔حج قران یہ ہے کہ عمرہ و حج کی اکٹھی نیت کرکے احرام باندھا جائے اور عمرہ سے فارغ ہو کر احرام ختم نہ کیا جائے بلکہ اسی احرام سے حج کیا جائے یہ حج افضل ترین حج ہے حجة الوداع میں حضور نبی اکرم ﷺ نے حج قران ہی کیا تھا ۔
حج تمتع:اُس حاجی کو متمتع کہا جاتا ہے ،حج تمتع یہ ہے کہ عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کیا جائے اور حلق یا تقصیر کر کے احرام ختم کر دے ۔پھر حج کے لئے علیحدہ احرام باندھ کر حج کرے۔

حج قران اور حج تمتع میں قربانی واجب ہے ۔یہ قربانی ایام نحر یعنی 12-11-10ذوالحج میں حدود حرم کے اندر کرنا واجب ہے ۔

عمرہ:عمرہ یہ ہے کہ حسب دستور احرام باندھ کر طواف کعبہ کرے اور صفا و مروہ کی سعی کر کے حلق یا تقصیر کرائے ۔

حج کا مختصر طریقہ:مفرد حاجی اور قارن طواف قدوم اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کریں اور آٹھ ذوالحج کو ہر قسم کے حاجی صبح کے وقت مکہ مکرمہ سے منیٰ جائیں اور پانچ نمازیں وہاں پڑھیں اور 8ذوالحج کی صبح کو عرفات روانہ ہو جائیں ۔عرفات میں بعد دوپہر کچھ ٹھہریں اسے وقوف عرفہ کہتے ہیں اور یہ حج کا رکن اعظم ہے اور نماز ظہر و عصر دونوں وقت ظہر میں ادا کریں بشرطیکہ جماعت کے ساتھ پڑھیں وگرنہ اپنے اپنے اوقات میں پڑھیں ۔غروب آفتاب کے بعد امام الحج کے ساتھ مزدلفہ آئیں اور یہاں عشاءکے وقت میں مغرب اور عشاءکی نمازیں پڑھیں اور پھر اندھیرے میں نماز فجر پڑھ کر مزدلفہ میں مشعر حرام یا جہاں ممکن ہو کچھ ٹھہریں جو کہ واجب ہے اور پھر طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے منی آئیں اور پھر منیٰ میں کم از کم 12ذوالحج سہ پہر رمی کرنے تک ٹھہریں اور اگر 13ذوالحج کو بھی ٹھہریں جو کہ زیادہ بہتر ہے تو 13ذوالحج دن کو زوال کے بعد رمی کر کے مکہ مکرمہ واپس جائیں ۔

منیٰ میں 10ذوالحج کو پہلے جمرہ کو زوال سے پہلے سات کنکریاں ماریں پھر قارن اور متمتع قربانی کریں اور حلق یا تقصیر کریں اور اس کے بعد 11-10اور 12ذوالحج کے اندر مکہ مکرمہ پہنچ کر طواف فرض کریں ۔طواف فرض کے بعد متمتع حاجی سعی بھی کرے اور مفرد و قارن حاجی طواف قدوم اور سعی پہلے کر چکے ہیں انہیں اب سعی کی ضرورت نہیں ۔عورت اگر حیض یا نفاس کی حالت میں ہو تو پاک ہو کر ان دنوں کے بعد طواف فرض ادا کرے ۔11اور 12ذوالحج کو زوال کے بعد تینوں جمروں کو سات سات کنکریاں ماریں اور اگر 13ذوالحج کو ٹھہرے تو 13ذوالحج کو بھی زوال کے بعد تینوں جمروں کو رمی کریں ۔اس کے بعد مکہ مکرمہ آئے وادی محصب میں کچھ دیر ٹھہرے اور طواف صدر کرے۔ طواف صدر پر حج مکمل ہو گیا ۔
حج بدل:جس شخص پر حج فرض ہو جائے اور وہ اس کے بعدکمزوری یا معذور ہونے کی وجہ سے خود حج پر روانہ نہ ہو سکے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ کسی اور مسلمان کو اپنی جگہ پر بھیجے ۔جو اس کی طرف سے حج کرے ایسے ہی وہ عورت جس پر حج فرض ہو گیا ہو ،اگر اسے محرم یا شوہر کے ساتھ حج کے لئے جانا ممکن نہ ہو تو وہ حج بدل کے لئے کسی کو بھیجے۔ ایسے ہی اگر کوئی شخص وصیت کر گیا ہو تو اس کے مال سے حج بدل کروا دیا جائے ۔اگر مال کے 1/3سے حج بدل ممکن ہو تو ورثاءپر وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے ۔

وَمَن کَفَرَفَاِنَّ اللّٰہَ غِنِیّعَنِ العٰلَمِی ±ن۔ترجمہ۔” اور جو انکار کرے تو اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے ۔“

یعنی اگر کوئی خانہ کعبہ کی عظمت و جلالت اور آیات بینات کا انکار کرے یا حج کی فرضیت کا انکار کرے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ،کیونکہ وہ تو بے نیاز ہے ۔البتہ کافر کا اپنا نقصان ہے کہ اس نے کفر کر کے اپنے آپ کو آخرت کی نعمتوں سے محروم کر لیا ۔اور عذاب الیم کا مستحق ہو گیا ۔




بارگاهِ سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضری کی فضیلت کیا ہے!!!!؟

            بیت اﷲ شریف کی زیارت اور حج کے مقدس فریضہ کی بجاآوری کے بعد عشاق اپنے اگلے سفر یعنی مدینہ منورہ کی زیارت کے لئے روانہ ہو جاتے ہیں، اور اس دربار کی حاضری کے لئے مچلتے جذبات، دھڑکتے دلوں اور برستی آنکھوں کے ساتھ کشاں کشاں اپنے آقا و مولا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں بصد ادب و احترام حاضر ہوتے ہیں۔ یہی عشاق کے دلوں کا حج ہوتا ہے۔
حاجیو! آؤ شہنشاہ کا روضہ دیکھو
کعبہ تو دیکھ چکے، کعبے کا کعبہ دیکھو
            بارگاہِ سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضری کی فضیلت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث مبارکہ کی روشنی میں درج ذیل ہے:
            حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
            مَنْ زَارَ قَبْرِی، وَجَبَتْ لَه شَفَاعَتِيْ.(دار قطنی، السنن، 2 : 447، رقم : 2669)
            ’’جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔‘‘
            حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
            ’’جس شخص نے خلوصِ نیت سے مدینہ منورہ حاضر ہو کر میری زیارت کا شرف حاصل کیا میں قیامت کے دن اس کا گواہ ہوں گا اور اس کی شفاعت کروں گا۔‘‘
            (بيهقی، شعب الايمان، 3 : 490، رقم : 4157)
            حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’جس نے میری قبر (یا راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری زیارت کی میں اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا، اور کوئی دو حرموں میں سے کسی ایک میں فوت ہوا اﷲ تعالیٰ اسے روزِ قیامت ایمان والوں کے ساتھ اٹھائے گا۔‘‘(طیالسی، المسند، 12 : 13، رقم : 65)
            حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’جس نے حج کیا پھر میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی تو گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔‘‘(دارقطنی، السنن، 447، رقم : 2667)
 حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہِ اقدس میں حاضری کے آداب کیا ہیں؟
            جب شہرِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں داخلہ کا وقت آئے تو زائر مدینہ غسل اور وضو کرے، اچھی سے اچھی پوشاک پہنے، نوافل ادا کرے، توبہ کی تجدید کرے اور پیدل چلتا ہوا اندر داخل ہو کر تصویر عجز بن جائے کہ وہ شہنشاہ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار اقدس میں حاضری کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔
            ابن قیم الجوزیہ نے اپنے شہرہ آفاق ’القصیده النونیه‘ میں زیارت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آداب بیان کیے ہیں، وہ کہتے ہیں :
٭ جب ہم مسجد نبوی میں حاضر ہوں تو سب سے پہلے دو رکعت نماز تحیۃ المسجد ادا کریں۔
٭ پھر باطناً و ظاہراً انتہائی عاجزی و انکساری کے ساتھ حضوری کی تمام تر کیفیتوں میں ڈوب کر قبر انور کے پاس کھڑے ہوں۔
٭ یہ احساس دل میں جاگزیں رہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قبرانور میں زندہ ہیں سماعت بھی فرماتے ہیں اور کلام بھی فرماتے ہیں، پس وہاں کھڑے ہونے والوں کا سر ادباً و تعظیماً جھکا رہے۔
٭ بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یوں کھڑے ہوں کہ رعبِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پاؤں تھر تھر کانپ رہے ہوں اورآنکھیں بارگاہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گریہ مسلسل کا نذرانہ پیش کرتی رہیں اور وہ طویل زمانوں کی مسافت طے کرکے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کھو جائیں۔
٭ پھر مسلمان حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں وقار و ادب کے ساتھ ہدیہ سلام پیش کرتے ہوئے آئے جیسا کہ صاحبانِ ایمان و صاحبان علم کا شیوہ ہے۔
٭ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کے قریب آواز بھی بلند نہ کرے، خبردار! اور نہ ہی سجدہ ریز ہو۔
٭ یہی زیارت افضل اعمال میں سے ہے اور روزِ حشر اسے میزانِ حسنات میں رکھا جائے گا۔(ابن قيم، القصيدة النونيه : 181)
اس کے بعد زائر یہ دعا کرے :
اَللّٰهُمَّ قَدْ سَمِعْنَا قَوْلَکَ وَأَطَعْنَا أَمْرَکَ وَقَصَدْنَا نَبِيَّکَ مُسْتَشْفِعِيْنَ به إِلَيْکَ مِنْ ذُنُوْبِنَا، اَللّٰهُمَّ! فَتُبْ عَلَيْنَا وَاسْعَدْنَا بِزِيَارِتِه وَادْخِلْنَا فِي شَفَاعَتِه، وَقَدْ جِئْنَاکَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ ظَالِمِيْنَ أَنْفُسَنَا مُسْتَغْفِرِيْنَ لِذُنُوْبِنَا، وَقَدْ  سَمَّاکَ اﷲُ تَعَالٰی بِالرُّئُ وْفِ الرَّحِيْمِ، فَاشْفَعْ لِمَنْ جَائَ کَ ظَالِمًا لِنَفْسِه مُعْتَرِفًا بِذَنْبه تَائِبًا إِلٰی رَبه.
’’اے اللہ ہم نے تیرا فرمان سنا اور تیرے احکام کی تعمیل میں تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہیں، جو تیری بارگاہ میں ہمارے گناہوں کی شفاعت کریں گے، اے اللہ ہم پر رحم و کرم فرما اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی برکت سے ہمیں خوش بخت بنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت ہمیں نصیب فرما۔ یا رسول اللہ صلی اﷲ علیک وآلک وسلم! ہم آپ کی بارگاہ میں اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہوئے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے حاضر ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ’روف و رحیم‘ بنایا ہے۔ پس وہ جو اپنی جانوں پر ظلم کرکے اپنے رب کی بارگاہ میں اپنا گناہوں کا اقرار کرکے اس سے معافی مانگتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور حاضر ہوا اس کی شفاعت فرمائیے۔‘‘
اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے لئے، اپنے ماں باپ، شیخ، اساتذہ، اولاد، اعزا و اقرباء، دوستوں اور سب مسلمانوں کے لئے شفاعت مانگیں، اور بار بار عرض کریں :
اَسْئَلُ الشَّفَاعَةَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اﷲ عليک و آلک وسلم.
پھر اگر کسی نے بارگاہ رسالت مآب میں سلام عرض کرنے کے لئے کہا ہو تو شرعاً اس کی طرف سے سلام پہنچانا لازم ہے اور یوں عرض کرے : السلام علیک یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن فلاں بن / بنت فلاں (نام و ولدیت)
 


..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg