Instagram

Monday, 1 September 2014

Sahaba E Keram Awr Mooe Mubarak ki Taazeem

صحابہ کرام، حضور اکرم ﷺ کے موئے مبارک کا کیسا ادب فرماتے تھے؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حجۃ الوداع کے موقع پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپناسرمبارک حلق کرانے کے بعد حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو موئے مبارک تقسیم کرنے کا حکم فرمایا (صحیح مسلم شریف ج1ص421۔حدیث نمبر؛ 3215)فاعطاہ ابا طلحۃ فقال اقسمہ بین الناس۔ علاوہ ازیں وضو کے وقت جو موئے مبارک یاریش مبارک نکلتے،زمین پر گرنے سے پہلے صحابہ کرام انہیں ہاتھوں میں لے لیتے او را س سے برکت حاصل کرتے۔ حضرت عثمان بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری اہلیہ نے مجھ کو پانی کا ایک پیالہ دیکر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا او رانکی یہ عادت تھی کہ جب کسی کو نظر لگتی یا کوئی مرض لاحق ہوتا تو پانی کا ایک بڑا برتن حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجتیں، آپ کے پا س حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک تھے جس کو وہ چاندی کی ایک نلی میں رکھی تھیں، آپ ان موئے مبارک کو برتن میں جنبش دیکرعطاء فرماتیں تو وہ اس کوپی لیتے۔ راوی فرماتے ہیں میں نے نلی میں دیکھا اس میں چند سرخ موئے مبارک تھے۔ (زجاجۃ المصابیح ج 3 ص 441/442۔ مشکوۃ المصابیح ص391،بحوالہ صحیح بخاری شریف ج 2ص875 ۔( عن عثمان بن عبداللہ بن موہب قال ارسلنی اہلی الی ام سلمۃ بقدح من ماء وکان اذا اصاب الانسان عین او شیَ بعث الیہا مخضبۃ فاخرجت من شعر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وکانت تمسکہ فی جلجل من فضۃ فخضخضتہ لہ فشرب منہ قال فاطلعت فی الجلجل فراَیت شعرات حمراَ۔ ونیز حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کئی ایک جنگوں میں شرکت کی ،دشمن کی تعداد اسلامی لشکر سے کئی گنا زیادہ ہونے کے باوجودآپ کو فتح ونصرت، کامیابی وکامرانی حاصل ہوئی ،خود حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ ادافرمایا او رحلق شریف کیلئے حکم فرمایا، لوگ اطراف کے موئے مبارک لینے لگے تو میں نے سبقت کرکے جبین اقدس کے اوپر کے موئے مبارک حاصل کئے اور ان موئے مبارک کو ٹوپی میں رکھ لیا ‘پھر میں نے یہ ٹوپی پہن کر جس جنگ میں بھی شرکت کی مجھے نصرت اور کامیابی ہی نصیب ہوئی ۔ (خصائص کبری ج1ص68 ۔فتح الباری باب مناقب خالد بن الولید رضی اللہ عنہ ج7 ص 471۔حجۃ اللہ علی العلمین ص489) ان خالد بن الولید ۔ ۔ ۔ وقال اعتمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فحلق رأسہ فابتدر الناس جوانب شعرہ فسبقتہم الی ناصیتہ فجعلتھا فی ھذہ القلنسوۃ فلم اشھد قتالاوہی معی الارزقت النصر۔ واللہ و رسولہٗ اعلم بالصواب