Instagram

Tuesday, 9 December 2014

Aqaed E Ulama E Chirayyacot By Maulna Afroz Qadri



عقائد علماے چریاکوٹ
-تاریخ ہند کے فراموش شدہ اَوراق سے-
از:  محمد افروز قادری چریاکوٹی
 afrozqadri@gmail.com
            تاریخی شواہدگواہ ہیں کہ برصغیرہندوپاک میں نامور علمی خانوادے اور خانقاہی نظام صدیوں سے سوادِ اعظم اہل سنت کے علما ومشایخ کے رہین منت رہے ہیں۔ یہاں ہمیشہ سے حال وقال کے زمزمے بھی الاپے جاتے رہے، اور معمولاتِ اہل سنت بھی علیٰ رؤوس الاشہاد اَدا کیے جاتے رہے۔ یوں ہی جیسے یہاں فروغِ سنت وسنیت کے لیے ہمہ جہت اقدام ہوتے رہے اسی طرح فکرواِعتقاد کو صیقل کرکے یہاں سے ہردور میں قوم ومعاشرہ کو نفع بخش اَفراد بھی فراہم کیے جاتے رہے؛ لیکن پھر کیا ہوا کہ جس طرح زندگی کے دیگر شعبے زوال واِنحطاط سے دوچار ہوئے، خانقاہی نظام اور علمی خانوادے بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے -الا ما شاء اللہ- اور بعض خانقاہوں اور قدیم خانوادوں میں معروف بزرگوں کی شہرت کی بیساکھی پر نظام طریقت چلانے والوں نے تو مذہب ومسلک اورفکروعقیدہ کے نام پر وہ لے دے مچائی کہ الامان والحفیظ۔
            حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں اگر انھیں ’خیرسلف‘ کا ’شرخلف‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا؛ کیوںکہ ان کے دین بیزار عمل سے خانقاہی نظام کی عظمت تو تہ وبالا ہوئی ہی، ستم یہ ہے کہ ہمارے خیر اَسلاف کی ذواتِ قدسیہ بھی موردِ طعن وتشنیع بن گئیں۔ اب عوام کے ذہن میں یہ شوشہ چٹکی لینے لگا کہ جیسے یہ اَخلاف ہیں ویسے ہی ان کے اَسلاف بھی رہے ہوں گے، حالانکہ ’چہ نسبت خاک را با عالم پاک‘۔
            بات یہیں پرختم نہیں ہوجاتی بلکہ اِس کی مار اور بھی آگے تک جاتی ہے ، اور وہ یہ کہ آج ہندوپاک کے بیشتر علمی خانوادوں اور خانقاہی گدیوں پر اہلسنّت سے آنکھ مچولی کرنے والے اَفراد کا دبدبہ اور سنی عقائد ومعمولات کو دور کا سلام کہہ دینے والے طبقے کا اَثر و رسوخ ہے، جو موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بلکہ ابن الوقتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلاے بے درماں بن کر اِن پاک گدیوں پر آدھمکے ہیں۔ حالانکہ یہ علم آفریں خانوادے اور روحانیت پرور خانقاہیں تاریخی واِعتقادی تناظر میں اہل سنت کی حقیقی میراث ہیں؛ کیوںکہ ان بزرگوں کے مسلک ومشرب پر جادہ پیما اور اُن کے عقائد ونظریات کے بے باک ترجمان یہی خوش عقیدہ افرادِ اہل سنت وجماعت ہی ہیں۔
            اَب عوام تک اس کا ایک غلط تأثر یہ جاتا ہے بلکہ اسی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ جس طرح موجودہ گدی نشینان [قبضہ کنندگان] غیر سنی (دیوبندی، وہابی) ہیں اُسی طرح ان کے اَسلاف بھی غیرسنی (دیوبندی، وہابی تھے۔ اگر یہ کوئی دو ایک خانقاہوں یا علمی خانوادوں کا معاملہ ہوتا تو شاید یہ سطریں سپردِ قرطاس نہ کی جاتیں بلکہ تحقیق وتفتیش کے بعد ہندوپاک میں ایسی سینکڑوں خانقاہیں ملی ہیں جن پر آج وہابیائی شامیانہ تنا ہوا ہے، حالانکہ وہابیت شکنی ہی کے لیے وہ خانقاہیں معمورۂ وجود میں آئی تھیں۔   ع:  ناطقہ سربہ گریباں ہے اِسے کیا کہیے
            کچھ ایسی ہی دردناک اوررشک مظلومیت کہانی خانوادۂ چریاکوٹ کی بھی ہے۔ یہاں کے اکابر ومشاہیرعباسیان ہمیشہ سے سوادِ اعظم اہل سنت کے عظیم دھارے سے نہ صرف جڑے رہے بلکہ فروغِ اہل سنت وجماعت میں اپنا عالمانہ اور قائدانہ کردار بھی اَدا کرتے رہے (حقائق آگے آتے ہیں) لیکن شومئی قسمت کہ آج اسی خانوادے سے کچھ ایسے اصحابِ علم ہویدا ہورہے ہیں جن کا ڈانڈافکر واِعتقادمیں اُن کے خیر اَسلاف سے ملائے نہیں ملتا؛ اور مسلکی اِعتبار سے یہ اُن سے بہت دور بالکل الگ تھلگ کھڑے دکھائی دیتے ہیں؛ مگر چونکہ ان کا اسی خانوادے سے ہونے کا دعویٰ ہے؛ اس لیے اب عوام کے ذہن میں یہ شوشہ ڈالنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے کہ جن بدیسی عقائد ونظریات کے ہم حامل وعامل ہیں ہمارے اَسلافِ چریاکوٹ بھی اُنھیں معتقدات پر قائم تھے۔گویا وہی بات ہوئی کہ   ع :  خود بدلتے نہیں قرآن بدل دیتے ہیں
            میں چاہوں گاکہ میری یہ تحریر اُن نوجوان علماے اہل سنت کے لیے ایک تحریک اورپیمانہ ثابت ہو جو اپنے سینے میں قوم وملت کا حقیقی درد، اور اس کی عظمت رفتہ کی بازیابی کے لیے سرفروشانہ عزم رکھتے ہیں، اُٹھیں اور ایسی قدیم خانقاہوں اور علمی خانوادوں کے آثار وباقیات کی تحقیق وتحلیل کریں جن پر ہمارے تغافل وتکاسل کے باعث کچھ ایسے ’شرخلف‘ نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے جو روحانیت کے اَزلی دشمن اور متقداتِ اہل سنت کے سراسر باغی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ اُمت مسلمہ کے حقیقی وارث اُٹھیں اور حکمت ومصلحت کے اسلحے سے لیس ہوکر بزرگوں کی ہڈیاں چبانے والی اس نامرادقوم سے برسرپیکار ہوں؛ تاکہ روحانیت کو زندگی ملے اور بزرگوں کی روحوں کو کسی طرح کا گزند نہ پہنچے۔ اس مجاہدانہ عمل میں قدم بقدم خدا کی رحمتیں آپ کے شامل حال ہوں، اور اس زہرہ گداز کام کی آپ کو توفیق خیر ملے۔آمین یارب العالمین۔
            اس سلسلے میں میرے کچھ پاکستانی اَحباب نے بڑی خوش آئند پیش رفت کی ہے اور ایسے کئی خانوادوں کی بازیافت کرلی ہے جہاں غیروں نے موقع کا فائدہ اُٹھا کر غاصبانہ قبضہ جمارکھا ہے۔ اب اس کے تعاقب وتدارک کے لیے وہ اپنی سی کوششیں فرمارہے ہیں۔ اِس پانی پتہ کردینے والی مہم میں اللہ ان کا بھی حامی وناصر ہو۔
            اِس باب میں میری یہی کوشش ہے کہ علماے چریاکوٹ کے صحیح معتقدات کا ایک اِجمالی خاکہ آپ کے سامنے رکھ دوں؛ تاکہ حقیقت کا سورج خط نصف النہار پر آجائے اوردجل وفریب کے سارے اندھیرے اپنی موت آپ مرجائیں۔ وماتوفیقی الاباللہ علیہ توکلت والیہ اُنیب۔
            چریاکوٹ کی سرزمین نے سینکڑوں علما وفضلا اور صوفیہ ومشایخ کو جنم دیا ہے جو اپنے اپنے وقتوں میں فضل وکمال کے آفتاب وماہتاب رہے، اور زمانے کو مستفیض کرتے ہوئے جوارِ رحمت الٰہی میں پناہ گزیں ہوگئے۔ ظاہر ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے عقائد و نظریات کو اِنفرادی طورپر تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے تو اس کے لیے دفتر درکار ہوگا؛ اس لیے سردست صرف مشاہیر علماے چریاکوٹ کے اَفکار ومعتقدات کے ذکر پر ہی اِکتفا کیا جاتا ہے۔
            تاریخی شواہدوبراہین کی روشنی میں یہ بات بلاخوفِ لومۃ لائم کہی جاسکتی ہے کہ دبستانِ چریاکوٹ سے وابستہ علما وفضلا ہمیشہ سوادِ اعظم اہل سنت وجماعت کے عظیم دھارے سے نہ صرف وابستہ رہے بلکہ زمانے کو اس سلسلہ زرّیں سے جوڑنے کی تاحیات سعی مشکور بھی فرماتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیاں بیت جانے کے باوصف چریاکوٹ کے عوام آج بھی عقائد ومعمولاتِ اہل سنت پر پامردی اوردلجمعی کے ساتھ قائم ودائم ہیں۔ گویا علماے ومشایخ چریاکوٹ نے انھیں جو عقیدہ ومسلک سکھایا بتایا، وہ صدیوں سے اسے اپنے سینہ ودل سے لگائے چلے آرہے ہیں۔ اور آج بھی وہ -الحمدللہ- سنی صحیح العقیدہ ہی ہیں۔
            آپ کے علم میں شاید یہ بات ہوگی کہ علامہ محمد فاروق عباسی چریاکوٹی (م۱۳۲۷ھ) نے میلاد وفاتحہ وغیرہ کے تعلق سے مشہورو معروف کتاب ’انوارِ ساطعہ‘ پر ایک جاندار تقریظ رقم فرما ئی ہے اور اُس کے مندرجات سے اپنی کلی موافقت کا اِظہار فرمایاہے۔ اگریہ کتاب اُن کے عقائد و معمولات سے کچھ مختلف ہوتی تو وہ بھلا اس پر تقریظ ہی کیوں لکھتے، اور اگر کتاب کے بعض مباحث و مسائل سے علامہ کو کوئی اِختلاف ہوتا تو وہ یقینا برملا اسے بیان فرما دیتے۔
            آج بھی بہت سے تقریظ نگار جب کتاب کے کسی مسئلے سے متفق نہیں ہوتے تو بلاتکلف اُسے لکھ کر اس سے اپنی عدم موافقت کا اظہار کردیتے ہیں، اور پھر مصنف اسے یوں ہی باقی رکھ کر طبع کرادیتاہے، اِس علمی اَمانت میں خیانت کا اسے کوئی حق نہیں ہوتا۔ تو پھر علامہ فاروق تو علامہ فاروق تھے، اگراس کتاب کے کسی مسئلے سے انھیں اختلاف ہوتا تووہ بلاخوفِ لومۃ لائم ضرور اُسے ضبط تحریر میں لاتے۔ چریاکوٹی علما کا یہ خاصہ رہا ہے کہ انھوں نے کبھی کسی معاملے میں کسی مداہنت سے کام نہیں لیا، جسے سچ جانااسے سچ کہا اور جھوٹ کوہمیشہ جھوٹ بتایا۔
            انوارِ ساطعہ میں کیا ہے یہاں اس کے مباحث کی مختصرسی جھلک پیش کردینا خالی از فائدہ نہ ہوگا : میلاد و قیام کا ثبوت… کھانا اور شیرینی پر فاتحہ، نیزتیجہ، چالیسواں، اور برسی وغیرہ کا ثبوت… مخالفین میلاد کے اِعتراضات کا جواب… بدعت کی سیرحاصل بحث… عرس کا جواز… قبرشریف پر دست بستہ کھڑا ہونا… انبیاواولیا کی روحوں کاچلنا پھرنا اور تصرف کرنا… حضور کوغیب کا علم ہونا… قبورِ مشائخ وعلما پر قبے بنانا… نداے یارسول اللہ کا جواز وغیرہ۔
()         تفصیل کے لیے دیکھیں انوار ساطعہ دربیان مولود وفاتحہ، از مولانا عبد السمیع بے دل رام پوری خلیفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی۔
            یہ اور اس طرح کی بہت سی دوسری علمی اور معتقداتی بحثیں قریباً آٹھ سو صفحات پر اس میں پھیلی ہوئی ہیں۔ راقم الحروف کی تسہیل وتخریج کے ساتھ یہ کتاب ہندوپاک کے کئی معروف مکتبوں سے بار بار چھپ چکی ہے، اور مارکیٹ میں دستیاب بھی ہے۔ آپ اس کا مطالعہ کرتے جائیں اور سمجھتے جائیں کہ معمولات وعقائد اہل سنت وجماعت کے تعلق سے یہی علماے چریاکوٹ بالخصوص مولانامحمد فاروق عباسی چریاکوٹی کے بھی معتقدات رہے ہیں۔
            اس کے علاوہ وہابیوں، سلفیوں اورغیرمقلدوں کے رد میں علامہ محمد منصور علی مراد آبادی علیہ الرحمہ کی تصنیف کردہ جلیل القدر کتاب’فتح المبین فی کشف مکائدغیر المقلدین‘ -جو آج تک غیرمقلدوں کے لیے کھلا چیلنج ہے اور جس کا جواب اُن کے سر پر قرض ہے- اس کا ضمیمہ مولانا عبدالعلی آسیؔ مدراسی نے ’تنبیہ الوہابیین‘کے نام سے لکھا ہے ، اس پر بھی بہت سے علماومشایخ کے ساتھ مولانا فاروق عباسی نے ایک بڑی ہی جاندار اورفکرانگیز تقریظ رقم فرمائی ہے۔
            یہ پوری کتاب غیرمقلدوں، سلفیوں اور وہابیوں کے عقائد و اَفکار کے رد وابطال میں لکھی ہے، جس پر تقریظ لکھ کر مولانا فاروق نے گویا وہابیہ وسلفیہ کے نظریات ومعتقدات کی تردیداوراس کتاب کے مشمولات سے کلی موافقت کا اِظہار فرمادیا ہے۔
()         تفصیل کے لیے دیکھیں تنبیہ الوہابیین،ازمولاناعبدالعلی آسی مدراسی۔ ضمیمۂ فتح المبین فی کشف مکائد غیر المقلدین، ازمولانا محمد منصور علی مراد آبادی۔ مطبوعہ از دارالعلم والعمل فرنگی محل، لکھنؤ۔
         قصیدۂ بُردہ شریف جسے ہردور میں اکابرین واَساطین اہل سنت نے حرزِ جاں بنایا اور اپنے معمولات میں شامل رکھا، اور جس کی قراء ت وسماعت ڈھیروں برکات کی موجب رہی ہے اوراُمت میں صدیوں سے ذوق وشوق سے پڑھا اور سنا جاتا رہا ہے، اب سعودی علما اور اُن کے ایجنٹوں نے نہ صرف اسے ناجائز وحرام قرار دیا ہے،بلکہ سعودی کے کتب خانوں سے بھی اسے ہمیشہ کے لیے نکال باہر کیا ہے، اُس قصیدہ بردہ کے اشعار کا اِستعمال علامہ عنایت رسول عباسی چریاکوٹی (م۱۳۲۰ھ) نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب’بشریٰ‘ میں کثرت سے کیا ہے۔علاوہ بریں اِستغاثے کا یہ شعر بھی ہر دوسرے تیسرے صفحے پر مولانا فرطِ عقیدت اور وفورِ جذباتِ محبت میں رولتے نظر آتے ہیں   ؎
علیک سلام اللّٰہ یا أکرم الوریٰ
ومن ہو في الدارین للخلق شافعٗ
()         تفصیل کے لیے دیکھیں، بشریٰ، اَز مولانا قاضی عنایت رسول عباسی چریاکوٹی۔ ازتلامذۂ سیف اللہ المسلول مولاناشاہ فضل رسول بدایونی۔مطبوعہ شروانی پرنٹنگ پریس، علی گڑھ۔
            یوں ہی مولانا مفتی ظہور الدین احمد عباسی چریاکوٹی نے بھی میلاد و قیام کے تعلق سے کیے گئے ایک سوال کے جواب میں پوری ایک کتاب ہی لکھ دی ہے۔ اور اس میں متقدمین علما وفقہا کی عبارتوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ میلاد النبی منانا اور اس کے لیے قیام تعظیمی کرنا نہ صرف جائز بلکہ کارِ ثواب ہے۔
            میرا وجدان کہتا ہے کہ اگر مفتی ظہور الدین عباسی چریاکوٹی کا یہ مسلک وموقف نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی میلادوقیام کے جوازکا فتویٰ نہ دیتے، خاموش رہ جاتے یا اس کے ناجائز ہونے کا فتویٰ دے ڈالتے!۔ کیا بعض کج طبع علمانے میلاد کو ناجائز وبدعت نہیں لکھ مارا ہے؟؛ مگر چونکہ یہ مولانا کی خاندانی روایت اور تاریخی تسلسل کے خلاف تھا اس لیے میلاد وقیام کے جواز کا فتویٰ دے کر انھوں نے مکین گنبد خضرا ا کی رضا جوئی نیز خود کو اسی ’شجرسایہ دار‘ سے جوڑے رکھنے کی سعی مشکور کی ہے۔
()         تفصیل کے لیے دیکھیں سبل السلام درثبوت میلادوقیام، از مولانا مفتی ظہور الدین حنفی عباسی چریاکوٹی۔مطبوعہ ملت پریس، اعظم گڑھ، باہتمام شاہ فضل اللہ قادری اعظمی۔
            اسی طرح خطے کے نامور عالم وفاضل مولانا نجم الدین عباسی چریاکوٹی (م۱۳۰۷ھ) نے میلادِ مصطفیٰ اکی اہمیت وعظمت پر مشتمل ایک شاندار منظوم کتاب ’خمسہ محمدیہ‘ کے نام سے تصنیف کی، جو زیورِ طباعت سے آراستہ ہوکر منظرعام پر بھی آچکی ہے۔ جس سے اُن کی خوش اِعتقادی کا بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے۔
()         تفصیل کے لیے دیکھیں خمسہ محمدیہ، از مولانا نجم الدین نجم عباسی چریاکوٹی۔ مطبوعہ منشی نول کشور،لکھنؤ  ۱۸۷۱؁ء
            اور پھر مولانا محمد محسن عباسی چریاکوٹی کی خوش عقیدگی اور عشق نبوی میں شیفتگی ووارفتگی کا کیا کہنا!۔ وہ نہ صرف نعت گو شاعر تھے، بلکہ فروغِ نعت کے لیے اُنھوں نے اپنی زندگی کا لمحہ لمحہ وقف کر رکھاتھا۔ ذاتِ مصطفوی سے فقط عشق ومحبت کا دعویٰ ہی نہ تھا بلکہ عملی طور پر وہ ہر سال جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بڑے تزک واِحتشام کے ساتھ اعلیٰ پیمانے پر اِنعقاد کیا کرتے تھے۔ اور حاضرین کو جہاں شیرینی بانٹتے تھے، وہیں اپنے مطبوعہ نعتیہ کلام سے بھی نوازتے۔
()         تفصیل کے لیے دیکھیں، تاریخ ادبیات گورکھ پور… نیز دبستان گورکھ پور۔
            یہ دیکھیں سیف الاسلام مولانا یٰسین عباسی (م۱۳۴۴ھ) بن مولانا محمد فاروق عباسی چریاکوٹی ہیں، جو غیرمنقسم ہندوستان کے تاریخ کی سب سے بڑی کانفرنس - جس کی سطوت وشوکت کا نظارہ چشم فلک نے شاید کبھی نہ دیکھا ہو، اور شاید کبھی نہ دیکھ سکے- یعنی ’آل انڈیاسنی کانفرنس‘کی نظامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، جس میں اکابرعلماے اہل سنت کے ساتھ بڑی کثرت سے اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت محدث بریلوی کے خلفاوتلامذہ رونق اسٹیج تھے، اور کانفرنس کو کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں اپنا کردار اَدا کررہے تھے۔ اس کے اصل محرک وروحِ رواں علامہ صدر الافاضل اور سنوسیِ ہند شیخ سید جماعت علی شاہ علیہما الرحمہ تھے۔ اور اس کانفرنس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ معمولاتِ اہل سنت کا فروغ نیز مسلمانانوںکے ایمان وعقیدہ کا تحفظ ہو۔
()         تفصیل کے لیے دیکھیں ہفتہ واری اخبار’الفقیہ‘ امرتسر،پنجاب: جلد۸۔۱۸؍شوال ۱۳۴۳… نیز خطبات آل انڈیا سنی کانفرنس، از مولانا جلال الدین قادری مطبوعہ پاکستان۔
            یہی نہیں جامعہ فاروقیہ بنارس میں ایک تاریخ ساز عظیم الشان اِجلاس ہوا جس میں عمائدین واکابرین قوم وملت شریک ہوئے اور عوام وخواص اہلسنّت کو امام احمد رضا کے نظریۂ حق اور حسام الحرمین کے فکرو اِعتقاد کے مطابق زندگی گزارنے کا ریزولوشن پاس ہوا تواس کی تصدیق وتائید کرنے والے علما میں مولانا یٰسین عباسی چریاکوٹی بھی تھے۔
            انجمن اِشاعۃ الحق بنارس کے ریکارڈ میں جن مشایخ کرام کی دستخطی تائیدات موجود ہیں ان میں سے ایک عمدۃ المقررین، قدوۃ الفلسفین حضرت مولانا مولوی محمد یٰسین صاحب چریاکوٹی بھی ہیں۔
()         تفصیل کے لیے دیکھیں:مخدومِ بنارس، از مولانا عبدالمجتبیٰ صدیقی رضوی:ص۱۳۔
            یوں ہی اعلیٰ حضرت امام احمدرضا کی قائم کردہ ’جماعت رضاے مصطفیٰ‘ جس کی شاخیں ہندوستان کے طول وعرض میں پھیلی ہوئی تھیں، مرادآباد میں اس کی ایک شاخ ’انجمن اہل سنت‘ کے نام سے بھی قائم تھی، جہاں سے دین وسنیت کے تحفظ و توسیع کا مختلف حیثیتوں سے متعدد محاذوں پر کام ہورہا تھا۔ اس انجمن کے صدرالصدور علامہ صدر الافاضل سید نعیم الدین اور ناظم الامور مولانا یٰسین عباسی چریاکوٹی تھے۔ یوں ہی ہندوستان کی چوٹی کی کانفرنسوں میں مولانا یٰسین اسلامیانِ ہندکے ایمان وعقیدہ کو گھنی چائوں عطا کرتے اور انھیں کفروشرک کی بادِ سموم سے بچاتے نظرآتے ہیں۔
()         تفصیل کے لیے دیکھیں، تاریخ جماعت رضاے مصطفیٰ، ازمولانا شہاب الدین رضوی۔
            اور پھر اخیرمیں چریاکوٹ کے آخری عالم ربانی علامہ احمد مکرم عباسی چریاکوٹی (م۱۳۷۱ھ)نے اپنی ایک اِستغاثاتی نظم میں جس انداز سے پیرانِ پیر دستگیر شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ سے مدد طلب کی ہے اس سے یہ اندازہ کرلینا کچھ بھی مشکل نہیں ہے کہ وہ اہل اللہ اور اولیاے کرام سے توسل واِستمداد کے نہ صرف قائل تھے بلکہ اس پر عامل بھی، اِستغاثے کے ایک مقام پر فرماتے ہیں   ؎
ناوِ  اُمید ِ  مکرمؔ  بہ  تباہی  اُفتاد      ٭      غوثِ پیراں مددے خسروِ جیلاں مددے
یعنی اَحمدمکرمؔ کی اُمید وآس کی کشتی تباہی و ہلاکت کے بھنور میں آپھنسی ہے۔تو اے غوثِ اعظم پیرانِ پیر میری اِمداد کیجیے۔ اے شاہِ جیلاں (اس مشکل گھڑی سے) مجھے نجات دلوائیے۔
            اِستیعاب مقصود نہیں؛ ورنہ تلاش وتحقیق سے فکرواِعتقاد کے مزید گوشے آشکار کیے جاسکتے تھے۔ تومجموعی طور پر یہ تھے علماے چریاکوٹ کے عقائدومعمولات جن کی وہ پوری زندگی لوگوں کو تعلیم دیتے رہے اور خود بھی اُن پرعمل پیرا رہے۔ مندرجہ ذیل ’وصایابراے عباسیانِ چریاکوٹ‘ سے بھی بہت سے حقائق چھن کر سامنے آتے ہیں۔
            نئی پود نئی سوچ :
چھائے رحمت کی گھٹا‘ کوثروزمزم برسے          ٭    آرزو ہے وہی برسات کا موسم آئے
            ایک طویل وقفے کے بعد آج خانوادۂ عباسیہ سے ایک بار پھر اہل علم کی کچھ دھمک سی محسوس ہورہی ہے۔کئی دہائیوں کا جمود ٹوٹا توکچھ نوجوان فضلا معمورۂ وجود میںآئے۔ یہ اَمر ہمارے لیے جتنا خوش آئند ہے اُتنا ہی غیراطمینان بخش بھی؛ کیوں کہ اُصول یہ ہے کہ ’پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ‘۔ تو جب شجر‘ سایہ دار بلکہ رشک باغ وبہار ہو تو یقینا اُس سے وابستگی ہی ہر فلاح وظفر کا اَوّلین زینہ قرار پائے گی۔
            لیکن اِس خانوادے سے سردست اُٹھنے والے اہل علم کا سررشتہ بظاہر ماضی و حال کے علماے چریاکوٹ کی خوش عقیدگی سے غیرمربوط نظر آرہا ہے۔ نیز اُن کی دعوت وتبلیغ، اور ان کے اَفکار ونظریات بتارہے ہیں کہ وہ اپنے آبائو اَجداد کی سچی روشِ عالمانہ پرقائم نہیں، اوراُن کے مسلک و اِعتقاد سے اُن کا اِنحراف صاف عیاں ہے۔ نتیجتاً ان کی تبلیغ (نہیں بلکہ تفریق ) کے باعث چریاکوٹ کی وحدت‘ پارہ پارہ ہورہی ہے، اور عوام دو پاٹوں میںبٹے جارہے ہیں۔
            راہِ اتحاد: 
            علماے چریاکوٹ کے عقائد ونظریات اوپر بیان کردیے گئے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ عباسیانِ چریاکوٹ کے اَخلاف واَحفاد ہونے کا دعویٰ کرنے والوں میں اگر کسی نے ان معمولات کا اِنکار کیا ، یا انھیں بدعت قرار دیا، تو یہ اِس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ وہ اپنے اَسلاف کی روش سے منحرف اور ان کے معتقدات سے باغی ہوگئے ہیں؛ اسی لیے اب انھیں نہ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محفلیں بھاتی ہیں…، نہ قیام تعظیمی کے لیے اُن کے پائوں اُٹھتے ہیں…۔ فاتحہ وچالیسواں سے بھی بیزار ہوگئے ہیں…، اور معمولات اہل سنت کی ہر چیز پر شرک و بدعت کا فتویٰ داغ رہے ہیں…، اہل اللہ سے عقیدت کا بھرم بھی جاتارہا…، توسل واِستمداد وہ کیا جانیں…، ’نداے یارسول اللہ‘ اُن کے حلق کا کانٹا بن گیا…، اور علم غیب رسول کے بھی وہ اِنکاری ہوبیٹھے ہیں۔
            الغرض! ایسا محسوس ہوتاہے کہ وہ پورے طور پر سلَفیت ووہابیت کے زیر اَثر ہیں، اور وہابی تحریک کے شانہ بشانہ چل رہے ہیں، اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، ا ور اُن کے افکارو عقائد کی ترویج واِشاعت میں اپنا ’داعیانہ‘ کردار اَدا کررہے ہیں۔ کاش! وہ یہ سمجھ پاتے کہ اُن کے آباو اَجداد کیا تھے، اور یہ لوگ اَب کیا ہیں اور اِنھیں کیا اور کیسا ہونا چاہیے؟۔
       شاید علامہ احمدمکرم عباسی چریاکوٹی کو ایسے ننگ اَسلاف کا کچھ اِحساس ہوچلا تھا؛ اس لیے جاتے جاتے وہ بڑے پتے کی بات فرماگئے ہیں   ؎
بے علم کسے ہست کہ بدتر زپسراست                       بے جاست ہمہ فخرنسب راوحسب را
بدنامی  آبایٔ  شود  شہرۂ  آفاق                     اولاد نہ دانند اگر اخلاق واَدب را
یعنی زیورِعلم سے عاری بیٹا بدترین انسان ہے۔ اسے یہ زیب نہیں دیتا کہ محض اپنے حسب و نسب کی بلندی پر فخریہ اِتراتا پھرے۔ اور اگر اولاد اخلاق کی صحیح قدروں سے ناواقف اورشیوۂ اَدب سے بے بہرہ ہو تو اپنے آباو اَجداد کی جگ ہنسائی کا سبب بن جاتی ہے۔
            اِس موجودہ پود نے اپنے آباو اَجداد کی اِعتقادی روش سے ہٹ کر یہ ثابت کردیاہے کہ یہ اپنے اَسلاف کی نیک نامی کی علم بردار نہیں بلکہ -بدقسمتی سے- بدنامی آبایٔ کی مرتکب ہورہی ہے۔ خدااِسے توفیق خیر سے نوازے، اور اُسی شجر سایہ دار سے وابستہ رہنے نیز اپنے روشن و تابندہ ماضی سے مربوط ہونے کی ہمت وجرأت بخشے؛ ورنہ اُن کی تبلیغِ جدید کے تیور سے چریاکوٹ کے عوام مسلکی اِعتبار سے شش وپنج میں مبتلا ہوتے چلے جارہے ہیں، اور معمولاتِ اہل سنت کی بجا آوری میں غفلت وکوتاہی برت رہے ہیں۔
            رونا اِس بات کا ہے کہ سنیوںکو تبلیغ کی فرصت نہیں، اور غیروں کو تبلیغ سے فرصت نہیں؛ نتیجتاً عوام کالانعام کارندوں کے پیچھے چلنے میں عافیت محسوس کررہے ہیں۔ خداوند عالم‘ چریاکوٹ کے سنی علما پر خاص الخاص کرم فرمائے۔ ہمیں علماے چریاکوٹ کے منہاج وخطوط پر کام کرنے کی توفیق بخشے۔اور چریاکوٹ کے اتحاد و اِتفاق کی فضا کو اِفتراق کے تکدرسے محفوظ ومامون رکھے۔ آمین یارب العالمین بجاہِ سید المرسلین ا۔
من آنچہ شرطِ بلاغ است با تومی گویم
تو  خواہ  از سخنم  پند گیر  خواہ  ملال
()         یہ ساری تفصیلات فقیر قادری کی زیرترتیب کتاب’تذکرۂ علماے چریاکوٹ‘ کے ایک باب سے ماخوذ ہیں۔                                              -چریاکوٹی-

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg