Instagram

Tuesday, 9 December 2014

kya Aalahazrat Mutasaddid thy?

کیا اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ متشدد تھے؟

 علامہ ابو حفص محمد اظہر سعید رضوی
نماز فجر کے بعد علامہ صاحب نے جیسے ہی درس قرآن مکمل کیا۔ مقتدیوں میں سے ایک شخص نے ذرا بلند آواز میں پکارا۔ حضور ایک سوال ہے۔ اگر آپ اس کے بارے میں ہماری قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمادیں تو بڑی نوازش ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ اتنے متشدد کیوں تھے؟ اور انہوں نے بہت سے مولیوں کے جبوں اور رقبوں کا لحاظ کئے بغیر ان پر کفر کا فتویٰ کیوں لگایا؟
رمضان المبارک کی برکتوں سے مستفید ہونے کے لئے نمازیوں سے بھری ہوئی مسجد میں ایک لمحہ کے لئے سناٹا طاری ہوگیا۔ سوال تھا ہی بہت اہم! لیکن دوسرے ہی لمحے علامہ صاحب نے سائل کی طرف مسکرا کر دیکھا اور گفتگو کا آغاز کیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ’’متشدد‘‘ سے آپ کی مراد کیا ہے؟ اگر تو متشدد سے آپ کی مراد ’’اپنے خود ساختہ نظریات کو دوسروں کے سر تھوپنے والا اور بغیر کسی تحقیق کے کفروشرک کے فتوے صادر کرنے والا‘‘ تو فاضل بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ کے بارے میں ایسا نظریہ رکھنا سراسر بہتان طرازی اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ جس کی وضاحت میں آگے چل کر کروں گا۔ اور اگر ’’متشدد‘‘ سے آپ کی مراد ’’ایسی چھوٹی سے چھوٹی بات کہ جس میں بارگاہ رسالتﷺ میں گستاخی کا شائبہ بھی ہو، اس کو بھی برداشت نہ کرنے والا اور دنیا داروں کی پرواہ کئے بغیر اس پر سختی سے گرفت کرنے والا‘‘ تو پھر یہ صفت تو ہر مسلمان میں ہونی چاہئے۔
اور فاضل بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ تو خود فرماتے ہیں:
کروں مدح اہل دول رضا پڑے اس بلا میں میری بلا
میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارۂ ناں نہیں
اور دشمن احمد پہ شدت کیجئے
ملحدوں کی کیا مروت کیجئے
بلکہ خالق کائنات عزوجل نے یہ صفت تو صحابہ کرام علیہ الرضوان اجمعین کی سورہ فتح (آیت ۲۹) اشداء علی الکفار کے الفاظ میں بیان فرمائی ہے اور تاجدار بریلی رحمتہ اﷲ علیہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کی اسی صفت کے مظہر تھے۔
یاد رہے کہ کفار سے مراد صرف وہی لوگ نہیں جو توحید و رسالت پر ایمان نہیں رکھتے بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو ظاہری کلمہ پڑھنے کے باوجود رسول اکرمﷺ کے کمالات مقام و مرتبہ کو نہیں ماننے اور آپ کی شان اقدس میں گستاخی کے مرتکب ہوئے۔
سورہ نساء کی (آیت ۶۵) کی تفسیر پڑھ کر دیکھئے کہ جب فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی بارگاہ میں ایک ظاہراً کلمہ پڑھنے والا مسلمان اور یہودی کسی مسئلہ کے حل کے لئے آئے۔ یہودی نے کہا اے عمر! فیصلہ کرنے سے پہلے سن لیں کہ آپ کے رسول مکرمﷺ نے میرے حق میں فیصلہ ارشاد فرمایا ہے۔ لیکن یہ مجھے وہاں سے آپ کے پاس لے آیا ہے تو فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے اس منافق کی گردن اڑادی۔ یہ فرماتے ہوئے کہ جو نبی کریمﷺ کا فیصلہ تسلیم نہیں کرتا، اس کا فیصلہ عمر کی تلوار کرے گی۔ اب کیا ہوا اس ظاہری کلمہ گو مسلمان کے چیلوں نے شور مچانا شروع کردیاکہ عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ نے ایک مسلمان کو قتل کردیا۔ جن کے جواب میں یہ آیت مقدسہ نازل ہوئی جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے ’’تو اے محبوب تمہارے رب کی قسم وہ مسلمان نہ ہوں گے جب تک اپنے آپس کے جھگڑے میں تمہیں حاکم نہ بنائیں پھر جو کچھ تم حکم فرمادو اپنے دلوں میں اس سے رکاوٹ نہ پائیں اور جی سے مان لیں‘‘ (سورہ نساء ۶۵ ترجمہ کنزالایمان)
اسی طرح ایک دفعہ خلافت فاروقی میں ایک مسجد کے امام کے بارے میں شکایت آئی کہ وہ ہر نماز میں سورہ عبس کی تلاوت کرتا ہے۔ فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے اسے بلا بھیجا اور پوچھا کیا تجھے قرآن یاد نہیں؟ اس نے اقرار کیا کہ مجھے اور قرآن مجید بھی یاد ہے۔ آپ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا۔ وہاں سے کیوں نہیں تلاوت کرتے۔ اس نے کہا مجھے یہ سورت بہت زیادہ پسند ہے۔ اس لئے میں اس کی تلاوت کرتا ہوں۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے اس کی گردن اڑادی اور فرمایا یہ شخص منافق ہے۔
معلوم ہوا کہ
دستار کے ہر پیچ پہ تحقیق ہے لازم
ہر صاحب دستار معزز نہیں ہوتا
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی رسول اکرمﷺ کی شان اقدس میں کسی نے گستاخی کا ارتکاب کیا۔ سب سے پہلے فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کی تلوار اس کا سرتن سے جدا کرنے کے لئے تیار ہوگئی۔ ایسے بیسوں واقعات تفسیر و حدیث کی کتابوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ وہ رسول اﷲﷺ کے مال غنیمت کی تقسیم پر طعن کرنے والے کا واقعہ ہو یا عبداﷲ بن ابی رئیس المنافقین کے سرکار دوعالمﷺ کی شان اقدس میں کہے ہوئے نازیبا کلمات ہوں۔ سردست ہم اس تفصیل کو کسی اور درس کے لئے اٹھا رکھتے ہیں کہ فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کو بھی منافقین نے ’’متشدد‘‘ مشہور کیا اور پھر ان کے خلاف ایسا محاذ کھڑا کیا کہ ان کے قرآن و سنت کے مطابق بیان کردہ مسائل کی کھلی مخالفت شروع کی جو آج تک جاری ہے۔ تو جس طرح سرکار فاروق اعظم نے مندرجہ بالا دونوں واقعات میں باوجود ان کے جبہ و قبہ اور تسبیح و مصلی کے ان کے اندر کی خباثت کو اپنی فراست ایمانی سے پہچان لیا اور یاد رہے کہ فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ نے ان لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنا گوارا نہ کیا جنہوں نے نبی کریمﷺ کے علم مبارک کے بارے میںاعتراضات کئے تھے۔ تو کیا آپ لوگ فاروق اعظم کو بھی ’’متشدد‘‘ کہنے کی جسارت کریں گے۔ باوجود کہ فرمان رسولﷺ موجود ہے کہ ’’لو کان بعدی نبی لکان عمر‘‘ یعنی میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے۔
تو میرے دوستو! بات بالکل سادہ ہے بالکل اسی طرح سرکار فاروق اعظم رضی اﷲ عنہ کے فیض سے بریلی کے تاجدار ’’نائب غوث اعظم‘‘ رسول اﷲ کی ناموس کے سچے محافظ الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمتہ اﷲ علیہ نے بھی گستاخان رسول کو ان کی لمبی داڑھیوں، اونچی شلواروں، بڑی دستاروں اور ظاہری وضع قطع کے باوجود ان کے اندر چھپی ہوئی خباثت کو نہ صرف پہچانا بلکہ پوری تحقیق کے بعد قلم کی تلوار کا وار کیا اور مکہ و مدینہ کے ۳۰ سے زائد نامور مفتیان کرام اور پشاور سے لے کر بنگال تک کے دو سو اڑسٹھ جید اور معزز ترین علماء مشائخ کے دستخطوں کے بعد ان پر کفر کا فتویٰ لگایا۔
وہ رضا کے نیزہ کی مار ہے کہ عدو کے سینہ میں غار ہے
کسی چارہ جوئی کا وار ہے، کہ یہ وار وار سے پار ہے
اور اس میں کسی دنیادار کی پرواہ نہیں کی۔ جب کسی نے عرض کی کہ حضور یہ آپ نے کس چھتے کو ہاتھ لگالیا ہے کہ وہ لوگ تو اب آپ کو برسر منبر گالیاں دینے لگے ہیں۔ تو آپ نے آنسوئوں کی لڑیوں میں فرمایا ’’اتنا تو ہوا کہ جتنا وقت وہ مجھے کوستے ہیں اتنا وقت میرے حبیب لبیب محمد مصطفیﷺ کی شان میں گستاخی سے تو باز رہتے ہیں‘‘ آہ!
تجھ سے در در سے سگ اور سگ سے ہے مجھ کو نسبت
میری گردن میں بھی ہے دور کا ڈورا تیرا
تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سورج ہو
دیکھو مجھ بے کس پر سب نے کیسی آفت ڈالی ہے
ایک طرف اعدائے دین، ایک طرف حاسدین
بندہ ہے تنہا شاہ تم یہ کہ وروں درود
کیوں کہوں بے کس ہوں میں کیوں کہوں بے بس ہوں میں
تم ہو، میں تم پہ فدا تم پر کروڑوں درود
دوستو! اگر متشدد سے یہی مراد ہے تو پھر ہر مسلمان کو اپنی لجپال آقاﷺ کی ناموس کی حفاظت کے لئے تاجدار بریلی کے چنے ہوئے راستے کو اپنانا ہوگا۔ کیونکہ
سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والو! جاگتیرہیو چوروں کی رکھوالی ہے
آنکھ سے کالج صاف چرالیں یاں وہ چور بلاکے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تونے نیند نکالی ہے
اور اگر ’’متشدد‘‘ سے مراد وہی ہٹدھرمی اور دوسروں پر اپنے خود ساختہ نظریات کو تھوپنا ہے تو پھر بتائیں ’’متشدد‘‘ کون ہے۔ ساری امت مسلمہ پر ’’یارسول اﷲ‘‘ کہنے پر شرک و بدعت اور کفر کے فتوے کون لگا رہا ہے۔
داتا علی ہجویری کے مزار اقدس کی حرمت کو بم حملے سے کس نے پائمال کیا۔ عبداﷲ شاہ غازی اور بابا فرید الدین کے مزارات پر خودکش حملے کس نے کروائے۔ غوث اعظم سے محبت کرنے والوں پر شرک و بدعت کی صدائیں کہاں سے بلند ہورہی ہیں؟
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg