Instagram

Tuesday, 24 March 2015

Sayyadul Ulma Sayyad Aly Mustafa Sayyad Miya Marehravi




    سید العلماء سید آل مصطفی مارہروی
                   شخص اور عکس

از: توفیق احسنؔ برکاتی،ممبئی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم۔ اما بعد!
بابائے اردو مولوی عبد الحق نے کیا خوب کہا ہے کہ:
’’دنیا میں بڑے آدمی دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جن کا ہم ادب واحترام کرتے ہیں، دوسرے وہ جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔ ادب ہم ان اولوالعزم اور عالی حوصلہ مدبروں اور وطن پرستوں اور باکمال حکیموں اور ادیبوں کا کرتے ہیں جن کی حیرت انگیز جد وجہد، قربانیوں اور عظیم الشان کاموں اور تدبیروں نے اور جن کے علم وکلام نے عالم کو فیض پہنچایا اور سورج کی طرح تاریکیاں مٹائیں۔ محبت ہم ان سے کرتے ہیں جن کی پاک سیرت، خوش اطواری اور خوش اخلاقی دل کے موہنے میں وہی کام کرتی ہے جو چودہویں رات کی چاندنی، ان کے پاس سے جو اٹھا کچھ لے کر اٹھا اور ان کے پاس جو گیا کچھ بن کر آیا۔‘‘                 (بہ حوالہ ماہ نامہ ایوان اردو، دہلی، شمارہ ستمبر ۲۰۱۲ء ص:۱۸)
بابائے اردو نے اعاظم زمانہ کی جن دو قسموں کا تذکرہ درج بالا اقتباس میں کیا ہے اس کی روشنی میں ممدوح گرامی حضرت علامہ حکیم مفتی سید شاہ آل مصطفی قادری برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ کی مثالی شخصیت اور ان کے ہمہ جہت تاریخی کارنامے انہیں مذکورہ دونوں قسموں کے نمائندہ فرد کی حیثیت سے امتیازی نشان عطا کرتے ہیں، انہیں کسی ایک زمرے میں محصور نہیں کیا جاسکتا، ان کی بے پناہ کاوشات، عظیم الشان قربانیاں، اور ان کے ناخن تدبیر سے حل ہوئے لاتعداد مسائل اور فیض بخشی کی وجہ سے ہم ان کا ادب واحترام بھی کرتے ہیں، اور ان کی پاک طینتی،خوش اطواری اور خوش اخلاقی کے سبب ان سے سچی محبت بھی کرتے ہیں، ان کے متعلق راقم نے ایک جگہ لکھا ہے:
 ’’وہ جلیل القدر، دوربین، دور اندیش، نکتہ داں، حق گو، حق آگاہ، حق بیں، حق شناس، حقیقت بیان، صداقت شعار، سراپا ایثار، پرتو حیدر کرار ذات جس نے اپنی حق بیانی، شیریں مقالی اور دینی وعلمی فتوحات کی بدولت تقریباً نصف صدی کو متاثر کیا ہے اور آج بھی ایک عالم جس کے شفاف کردار واطوار، شخصیت ووجاہت اور سیادت وقیادت کا معترف ومداح ہے۔‘‘
وہ یقینا سید العلماء تھے، بہ قول شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ:
’’دقیق سے دقیق علمی مباحث میں وہ نکتہ سنجیاں فرما تے کہ عقل دنگ رہ جاتی، اس وقت اعتراف کرنا پڑتا کہ سید العلماء کا خطاب ان کے قامت زیباہی کے لیے وضع ہوا ہے۔‘‘
(حضور سید العلماء، ص:۱۲)
ڈاکٹر محمد ارشاد ساحلؔ شہ سرامی لکھتے ہیں:
’’حضرت سید العلماء قدس سرہ بیک وقت محدث، مفسر، مفتی، نغز گو شاعر، حاذق حکیم، مدبر، اسلامی سیاست داں اور اعلیٰ تنظیمی صلاحیتوں کے مالک عابد شب زندہ دار بزرگ تھے۔‘‘
 (سال نامہ اہل سنت کی آواز، مارہرہ مقدسہ، جلد:۶، اکتوبر ۱۹۹۹ء ص:۲۳۱)
اسم گرامی:
آپ کا پورا نام آل مصطفی اولاد حیدر ہے، عرفیت ’’سید میاں ہے‘‘ اور لقب ہے ’’سید العلماء‘‘۔
ولادت:
 ۲۵؍ رجب المرجب ۱۳۳۳ھ مطابق ۹؍ جون ۱۹۱۵ء بروز بدھ مارہرہ مطہرہ میں پیدا ہوئے۔
سلسلہ نسب:
حضرت سید العلماء کا نسب نامہ پدری ونسب نامہ مادری دونوں جاکر حضرت سید محمد صغریٰ قدس سرہ پر ملتے ہیں، سب سے پہلے دونوں سلسلۂ نسب ملاحظہ کرلیں:
شجرۂ پدری:
۱۔ حضرت سیدنا شاہ آل مصطفی اولاد حیدر قادری علیہ الرحمہ
۲۔ حضرت سید شاہ آل عبا قادری قدس سرہ
۳۔ حضرت سید شاہ حسین حیدر قدس سرہ
۴۔ حضرت سید شاہ محمد حیدر قدس سرہ
۵۔ حضرت سید دلدار حیدر قدس سرہ
۶۔ حضرت سید منتجب حسین قدس سرہ
۷۔ حضرت سیدناظم علی قدس سرہ
۸۔ حضرت سید حیات النبی تاتومیاں قدس سرہ
۹۔ حضرت سید سید حسین قدس سرہ
۱۰۔ حضرت سید ابو القاسم قدس سرہ
۱۱۔ حضرت سید جان محمد قدس سرہ
۱۲۔ حضرت سید حاتم قدس سرہ
۱۳۔ حضرت سید بدر الدین عرف بدلے میاں قدس سرہ
۱۴۔ حضرت سید ابراہیم قدس سرہ
۱۵۔ حضرت سید پیارے میاں قدس سرہ
۱۶۔ حضرت سید حسن قدس سرہ
۱۷۔ حضرت سید محمود عرف بدھن میاں قدس سرہ
۱۸۔ حضرت سید بڈھا میاں قدس سرہ
۱۹۔ حضرت سید جمال الدین قدس سرہ
۲۰۔ حضرت سید ابراہیم قدس سرہ
۲۱۔ حضرت سیدناصر قدس سرہ
۲۲۔ حضرت سید مسعود قدس سرہ
۲۳۔ حضرت سید سالار قدس سرہ
۲۴۔ حضرت سید محمد صغریٰ قدس سرہ (فاتح بلگرام)
۲۵۔ حضرت سید علی قدس سرہ
۲۶۔ حضرت سید حسین قدس سرہ
۲۷۔ حضرت سید ابو الفرح ثانی قدس سرہ
۲۸۔ حضرت سید ابو الفراس قدس سرہ
۲۹۔ حضرت سید ابو الفرح واسطی قدس سرہ (سادات زیدیہ بلگرام کے جد امجد)
۳۰۔ حضرت سید داؤد قدس سرہ
۳۱۔ حضرت سید حسین قدس سرہ
۳۲۔ حضرت سید یحیٰ قدس سرہ
۳۳۔ حضرت سید زید سویم قدس سرہ
۳۴۔ حضرت سید عمر قدس سرہ
۳۵۔ حضرت سید زید دوم قدس سرہ
۳۶۔ حضرت سید علی عراقی قدس سرہ
۳۷۔ حضرت سید حسین قدس سرہ
۳۸۔ حضرت سید علی قدس سرہ
۳۹۔ حضرت سید محمد قدس سرہ
۴۰۔ حضرت سید عیسیٰ موتم اشبال قدس سرہ
۴۱۔ حضرت سید زید شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۴۲۔ حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
۴۳۔ حضرت سیدنا امام حسین شہید کربلا رضی اللہ عنہ
۴۴۔ حضرت سید السادات مولا علی مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم زوج خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا (بنت)۔ ۴۵ ۔ حضور سرور کائنات فخر موجودات محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔
شجرۂ مادری:
۱۔ حضرت سید آل مصطفی اولاد حیدر قادری قدس سرہ
۲۔ حضرت بی بی سیدہ اکرام فاطمہ لخت جگر شہر بانو رحمۃ اللہ علیہا بنت
۳۔ حضرت سید ابو القاسم اسماعیل حسن قدس سرہ
۴۔ حضرت سید میر محمد صادق قدس سرہ
۵۔ حضرت سید شاہ اولاد رسول قدس سرہ
۶۔ حضرت سید آل برکات ستھرے میاں قدس سرہ
۷۔ حضرت سید شاہ حمزہ قدس سرہ
۸۔ حضرت سید آل محمد قدس سرہ
۹۔ حضرت سید شاہ برکت اللہ (صاحب سلسلہ برکاتیہ)
۱۰۔ حضرت سید میر اویس قدس سرہ
۱۱۔ حضرت سید میر عبد الجلیل قدس سرہ
۱۲۔ حضرت سید میر عبد الواحد بلگرامی قدس سرہ ( صاحب سبع سنابل شریف)
۱۳۔ حضرت سید ابراہیم قدس سرہ
۱۴۔ حضرت سید قطب الدین قدس سرہ
۱۵۔ حضرت سید ماہ رو قدس سرہ
۱۶۔ حضرت سید بڈھا میاں قدس سرہ
۱۷۔ حضرت سید کمال قدس سرہ
۱۸۔ حضرت سید قاسم قدس سرہ
۱۹۔ حضرت سید حسن قدس سرہ
۲۰۔ حضرت سید نصیر قدس سرہ
۲۱۔ حضرت سید حسین قدس سرہ
۲۲۔ حضرت سید عمر قدس سرہ
۲۳۔ حضرت سید محمد صغریٰ علیہ الرحمۃ والرضوان (فاتح بلگرام)
حضرت سید محمد صغریٰ علیہ الرحمہ سے لے کر سرکار دو عالم سرور کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک شجرہ یکساں ہے۔
خاندانی پس منظر:
حضور تاج العلماء سید اولاد رسول محمد میاں قدس سرہ جو بلا شبہہ خانوادۂ برکاتیہ کے مستند تاریخ نویس بھی تھے اپنی کتاب ’’تاریخ خاندان برکات‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’جاننا چاہیے کہ ہمارا نسب بواسطۂ حضرت زید شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور سرور عالم صلی تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم تک پہنچتا ہے بادشاہان ظالم کے ظلم سے ہمارے دادا سید علی عراقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ترک وطن فرما کر قریہ واسطہ میں جو مابین عراق، عرب وعراق، عجم کے ہیں تشریف لاکر قیام پذیر ہوئے، آپ کے احفاد سے حضرت سید ابوالفرح واسطی اپنے چار صاحب زادوں سید ابو نواس جد سادات بلگرام وسید ابو الفضائل وسید داؤد وسید معز الدین کے ساتھ سلطان محمود غزنوی کے زمانہ میں واسط سے غزنی تشریف لائے، اور بعد قیام چند روزہ مع سید معز الدین پھر واسط کو مراجعت فرمائی اور باقی صاحب زادوں نے ہندوستان کا قصد فرمایا اور سید ابو نواس نے جاجیز اور سید ابو الفضائل نے چہاترود اور سید داؤد نے تہن پور میں اقامت اختیار فرمائی۔ سید ابو نواس کے احفاد سے حضرت سید محمد صغریٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حسب ایماے سلطان شمس الدین التمش سری نام راجۂ بلگرام پرجو کافر سخت اور بڑا سرکش تھا جہاد فرمایا اور اس کے قتل کے بعد ۶۱۴ھ چھ سو چودہ ہجری میں فتح پائی۔ سلطان نے اس فتح کے جلدو میں بلگرام مع اس کے توابع ولواحق کے آپ کی جاگیر میں دے دیا، حضرت نے اس کا نام سری نگر سے بدل کر بلگرام رکھا اور وہاں شعار ومراسم اسلام کو رواج دیا اور اپنے توابع شیوخ فرشوری اور ترکمانوں اور اپنے اہل وعیال کے ساتھ وہیں سکونت اختیار فرمائی۔ ‘‘
(تاریخ خاندان برکات، ص:۴)
بلگرام ہندوستان کے صوبہ اودھ کا مشہور ومعروف مردم خیز قصبہ ہے اور آج کل ضلع ہردوئی کے توابع میں ہے، بعد فتح بلگرام حضرت سید محمد صغریٰ نے وہاں اکتیس برس عدل وانصاف، رعایا پروری، رشد وہدایت اور حکمرانی میں عمر شریف گزاری اور وہیں بروز دو شنبہ بوقت دوپہر چودہ شعبان المعظم ۶۴۵ھ میں وصال فرمایا اور وہیں مدفون ہوئے۔ حضرت میر سید صغریٰ کے دوصاحب زادے ہوئے، بڑے سید سالار اور چھوٹے سید عمر، والد کا انتقال ہواتو سید عمر نے قرآن پاک لیا اور سید سالار نے اس قرآن پاک کی حفاظت کے لیے تلوار سنبھالی، ان دونوں کی اولادوں میں وہ صاحب کمال شخصیات اکابر علما وفضلا وکملا پیدا ہوئے جنہوں نے تاریخ میں اپنا نام روشن کیا۔
فتح بلگرام کے بعد سے سید محمد صغریٰ علیہ الرحمہ کا خاندان حضرت میر سید عبد الواحد بلگرامی رحمۃ اللہ علیہ تک بلگرام میں رہا۔ اس کے بعد حضرت میر عبد الواحد بلگرامی کے بڑے صاحب زادے حضرت سید شاہ میر عبد الجلیل (وفات: ۱۰۵۷ھ) ۱۰۱۷ھ میں مارہرہ تشریف لائے، اسے آباد فرمایا، اس وقت سے آج تک حضرت کی اولاد مارہرہ شریف میں ہے۔
مارہرہ اور میر عبد الجلیل بلگرامی مارہروی سے متعلق مولانا محمود احمد قادری نے اپنی کتاب ’’حیات آل رسول‘‘ میں یہ تفصیل دی ہے ملاحظہ فرمائیں:
’’ساتویں صدی ہجری کے اواخر میں سلطان علاؤ الدین خلجی کے عہد میں ۶۹۹ھ میں مذکورہ بادشاہ کی اجازت سے راجہ بینی رام نے مارہرہ کی بنیاد ڈالی۔ ‘‘ (ص:۲۹)
’’میر سید عبد الواحد بلگرامی (متوفی ۱۰۱۷ھ) صاحب سبع سنابل کے صاحب زادے اور مارہرہ شریف میں سادات زید یہ واسطیہ کی مشہور روحانی شخصیت حضرت میر سید عبد الجلیل بلگرامی مارہروی زیدی واسطی (متولد ۹۷۲ھ در بلگرام ہردوئی۔ متوفی ۱۰۵۷ھ) زیدی سادات میں سب سے پہلے مارہرہ تشریف لائے، آپ حالت جذب ووارفتگی میں جنگل جنگل گھومتے پھرتے، بلگرام سے ۱۰۱۷ھ میں مارہرہ کے قریب اترنجی کھیڑہ پہنچے، یہاں ایک مرد غیب نے شبر برنج کھلا کر ارشاد فرمایا: یہاں سے قریب ایک شہر مارہرہ نام کا آباد ہے، بارگاہ الٰہی اور دربار رسالت پناہی سے وہاں کی ولایت تم کو عطا ہوئی ہے، وہاں جاکر رہو اور ارشاد وہدایت خلق میں مشغول ہو۔‘‘ اور حضرت کا ارادہ مارہرہ کا ہوا، ادھر چودھری وزیر خان رئیس مارہرہ نے تین بار خواب میں حضور علیہ السلام کی زیارت کی اور چودھری صاحب کو حکم رسالت ملا کہ میری اولاد سے تیرا پیر یہاں کا صاحب ولایت اترنجی کھیڑہ پر ہے، مشرق کی طرف سے آرہا ہے، اس کا استقبال کرکے لے آؤ، چودھری صاحب نے حکم رسالت پر عمل کیا اور اپنے دیوان خانے میں ٹھہرایا اور بیعت کی اور تھوڑے عرصے کے بعد حضرت سید بدر الدین شہید صاحب ولایت مارہرہ نے ارشاد فرمایا: ’’ہم اور تم ایک جگہ رہیں‘‘ چودھری صاحب کی صلاح سے اس جگہ پر محل سراے، دیوان خانہ، مسجد وخانقاہ بن گئی اور حضرت میر عبدالجلیل کے متعلقین بھی بلگرام سے آگئے، یہاں قریب اکتالیس برس خلق کی ہدایت فرمائی اور بدعات وقبائح کا قلع قمع کیا، آٹھویں صفر المظفردو شنبہ بعد نماز فجر ۱۰۵۷ھ بعہد شاہ جہاں بادشاہ وصال فرمایا اور اپنی خانقاہ (مارہرہ) میں مدفون ہوئے جو درگاہ پیر کہلاتی ہے۔ (حیات آل رسول ملخصاً، ص:۲۹ تا ۳۱، از: محمود احمد قادری)
مذکورہ بیان سے پتہ چلتا ہے کہ ۱۰۱۷ھ میں میر عبد الجلیل بلگرامی کی مارہرہ آمد سے پہلے ہی یہاں مسلمان موجود تھے بلکہ ایک صاحب ولایت بزرگ سید بدر الدین بھی یہیں پر رہتے تھے۔
حضرت تاج العلماء فرماتے ہیں:
’’حضرت سید شاہ عبد الجلیل نے وہیں (مارہرہ) سکونت مستقلہ اختیار فرمائی، حضرت نے تقریباً اکتالیس برس بہدایت وارشاد مارہرہ میں قیام فرمایا۔‘‘ (تاریخ خاندان برکات، ص:۱۰)
حضرت سید میر عبد الجلیل بلگرامی مارہروی علیہ الرحمہ نے اپنا دوسرا عقد مارہرہ مطہرہ کے بخاری سادات کی ایک صاحب زادی سے فرمایا، جن سے دو صاحب زادے ہوئے اور جوانی ہی میں آپ کی حیات میں عالم جذب میں گھر سے نکل گئے، اور پھر ان مسافران راہ سلوک کا پتہ نہ چلا۔ پہلی بلگرامی بیوی صاحب سے آپ کے چار بیٹے سید ابو الفتح، سید اویس، سید محمد اور سید ابو الخیر صاحبان رحمۃ اللہ علیہم اور دو بیٹیاں تھیں۔ آپ کے دوسرے صاحب زادے سیداویس قدس سرہ العزیز سے ہی مارہرہ مطہرہ برکاتیہ خانوادہ چل رہا ہے۔ آپ کے دوسرے صاحب زادگان کی اولاد بلگرام وغیرہ میں ہیں۔ حضرت سیدنا شاہ اویس قدس سرہ (متوفی ۱۰۹۷ھ) کے تین صاحب زادے حضرت شاہ سید برکات اللہ، حضرت سید شاہ عظمت اللہ اور حضرت سید شاہ رحمت اللہ علیہم الرحمۃ والرضوان اور دو صاحب زادیاں تھیں۔
سید شاہ اویس قدس سرہ کے بڑے صاحب زادے سید شاہ برکت اللہ علیہ الرحمہ کی ولادت ۲۶؍ جمادی الاٰخرہ ۱۰۷۰ھ کو بلگرام میں ہوئی، بچپن کا زمانہ والد ماجد اور دیگر بزرگان خاندان کی آغوش تربیت میں گزارا، آپ کے والد ماجد نے اپنے وصال (۲۰؍ رجب، ۱۰۹۷ھ) سے پہلے شاہ صاحب کو سجادہ نشینی اور سلاسل آبائی قدیم چشتیہ وسہروردیہ وقادریہ کی اجازت وخلافت عطا فرمائی تھی، اس کے بعد کالپی شریف کے مشہور زمانہ بزرگ سید شاہ فضل اللہ علیہ الرحمہ سے بھی اجازت وخلافت سلاسل عالیہ قادریہ وچشتیہ وسہروردیہ ونقش بندیہ، ابو العلائیہ ومداریہ بدیعیہ حاصل کی اور صاحب البرکات کا خطاب پایا۔ سید شاہ برکت اللہ قدس سرہ نے ۱۰۹۷ھ کے بعد بلگرام کی سکونت ترک فرمادی اور مارہرہ کو مسکن بنایا۔ آپ کے دادا میر سید عبد الجلیل قدس سرہ مارہرہ کو اپنا وطن بنا چکے تھے، شاہ صاحب قبلہ نے مارہرہ میں اپنے دادا کی خانقاہ میں قیام فرمایا۔ مگر ایک شریر قوم گوندل کی ہمسائیگی پسند نہ فرما کر ۱۱۱۸ھ میں قصبہ سے باہر نئی آبادی کی بنیاد ڈالی اور مسجد وخانقاہ کی تعمیر فرمائی، اس جدید آبادی کا نام ’’پیم نگر برکات نگری‘‘ رکھا، جو ’’میاں کی بستی‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ اور جہاں اب تک آپ کی اولاد آباد ہے۔ آپ ہی کے دو صاحب زادگان، حضرت سید شاہ آل محمد قدس سرہ اور حضرت سید شاہ نجات اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے مارہرہ مطہرہ کی دو سرکاروں، سرکار کلاں اور سرکار خورد کا آغاز ہوتا ہے اور اس کی شاخیں پھیلتی ہیں۔
حضرت شاہ سید برکت اللہ قادری علیہ الرحمہ ایک عرصہ تک تشنگان بادۂ وحدت کو جام معرفت سے سیراب کرنے کے بعد شب عاشورہ محرم الحرام ۱۱۴۲ھ مطابق ۷؍ اگست ۱۷۲۹ء کو وصال فرماگئے۔
مارہرہ مطہرہ میں جہاں آپ مدفون ہوئے اور جو آج درگاہ شاہ برکت اللہ کے نام سے معنون ہے اس کی تعمیر نواب محمد خاں نیگش مظفر جنگ والیِ فرخ آباد نے شجاعت خان ناظم کے زیر اہتمام کرائی۔ اب یہیں سے سلسلہ برکاتیہ اور خانوادۂ برکاتیہ کا آغاز ہوتا ہے۔ برکات نگری کی خاک سے علم وعمل، رشد وہدایت، فضل وکرامت اور شریعت وطریقت کے ایسے آفتاب وماہتاب طلوع ہوئے اور اپنی علمی وروحانی خدمات اور دینی ومذہبی کارہائے نمایاں سے تاریخ کو حیران کردیا، حضرت سید شاہ برکت اللہ قادری مارہروی قدس سرہ کے بعد اس خانقاہ برکاتیہ کو رونق بخشنے والوں میں جن اعاظم زمانہ کا نام سر فہرست ہے وہ ذیل میں درج کیے جارہے ہیں۔
۱۔ استاد المحققین حضرت سیدنا شاہ آل محمد قدس سرہ( ولادت ۱۱۱۱ھ۔ وفات: ۱۱۶۴ھ)
۲۔ محبوب العاشقین حضرت سید شاہ حمزہ قادری قدس سرہ(ولادت: ۱۱۳۱ھ۔ وفات:۱۱۹۸ھ)
۳۔ قطب العارفین حضرت سیدنا شاہ آل احمد اچھے میاں قدس سرہ (ولادت:۱۱۶۰ھ۔ وفات:۱۲۳۵ھ)
۴۔ خاتم الاکابر حضرت سیدنا شاہ آل رسول احمدی قدس سرہ (ولادت:۱۲۰۹ھ۔ وفات: ۱۲۹۶ھ)
۵۔ حضرت سیدنا شاہ ابو الحسین احمد نوری قدس سرہ (ولادت: ۱۲۵۵ھ۔ وفات:۱۳۲۴ھ)
۶۔ حضرت ابو القاسم سید شاہ محمد اسماعیل حسن شاہ جی قدس سرہ (ولادت: ۱۲۷۲ھ۔وفات: ۱۳۴۷ھ)
۷۔ تاج العلماء سید شاہ اولاد رسول محمد میاں قادری قدس سرہ (ولادت: ۱۳۰۹ھ۔ وفات: ۱۳۷۵ھ)
ساتویں نمبر کے بزرگ تاج العلماء سید شاہ اولاد رسول محمد میاں قادری قدس سرہ حضرت ابو القاسم سید شاہ محمد اسماعیل حسن شاہ جی قدس سرہ کے چھوٹے صاحب زادے ہیں، آپ کو اپنے نانا حضور سیدنا شاہ ابو الحسین احمد نوری علیہ الرحمہ اور والد ماجد سیدنا شاہ محمد اسماعیل حسن نور اللہ مرقدہ سے خلافت واجازت حاصل تھی، آپ کو خانوادۂ برکاتیہ کا مستند تاریخ نویس اور مجدد برکاتیت بھی کہا جاتا ہے، آپ صاحب تصنیف کثیرہ بزرگ ہیں، ڈاکٹر محمد ارشاد ساحل شہ سرامی نے اپنے مقالہ ’’مشایخ مارہرہ کی تصنیفی خدمات‘‘ مشمولہ سیدین نمبر ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور(ص:۳۳۷) میں حضور تاج العلماء علیہ الرحمہ کی ۳۹ تصانیف کی فہرست دی ہے۔ اور اپنے ایک دوسرے تحقیقی مقالے ’’خانوادۂ برکات کی علمی وادبی خدمات‘‘ مشمولہ اہل سنت کی آواز، شمارہ ۶، اکتوبر ۱۹۹۹ء (ص:۱۲۵) میں آپ کی ۴۲ تصنیفات وتالیفات کا موضوعاتی خاکہ پیش کیا ہے۔
والد ماجد حضرت شاہ سید محمد اسماعیل حسن صاحب قدس سرہ نے اپنی حیات ہی میں اپنے سلسلے کا سجادہ نشین حضرت تاج العلماء کو بنادیا تھا۔ اس کے مطابق حضرت شاہ سید ابو القاسم محمد اسماعیل حسن قدس سرہ کے عرس چہلم کے موقع پر حسب دستور قدیم خاندان برکاتیہ آپ سجادہ غوثیہ برکاتیہ پر رونق افروز ہوئے۔
شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
’’اپنے والد ماجد قدس سرہ کی تحریک کو حضرت تاج العلماء قدس سرہ نے پوری توانائیوں کے ساتھ چلایا اور آپ کی علمی وروحانی توانائیوں کی بدولت سلسلہ برکاتیہ کے وابستگان کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔‘‘ (سیدین نمبر، ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور ۲۰۰۲ء ص:۳۰۷)
آگے مزید لکھتے ہیں:
’’مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کے مرشد کا آستانہ جیسے ان کے مرشد کے عہد پاک میں مرکزی آستانہ تھا، حضرت تاج العلماء کی بدولت پھر دنیا کو اس کی مرکزیت تسلیم کرنی پڑی۔ ‘‘ (حوالہ سابق)
حضرت تاج العلماء علیہ الرحمہ بہت زبردست عالم، عظیم مفتی، محدث، مفسر، کثیر المطالعہ بزرگ تھے، حافظہ قوی تھا، انتہائی ذہین، فطین، نکتہ رس، طباع تھے، جس پر ان کی تحریرات شاہد ہیں لیکن آپ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ سے بہت متاثر تھے، اس کے باوجود کہ امام احمد رضا سے کچھ پڑھا نہیں تھا مگر انہیں اپنا استاد سمجھتے تھے، ایک جگہ خود ہی تحریر فرماتے ہیں:
’’فقیر کو اگر چہ حضرت امام اہل سنت مولانا احمد رضا خاں صاحب بریلوی قدس سرہ سے تلمذ رسمی حاصل نہیں مگر فقیر ان کو اپنے اکثر اساتذہ سے بہتر وبرتر اپنا استاد جانتا ہے۔ ان کی تقریرات وتحریرات سے فقیر کو بہت کثیر فوائد دینی وعلمی حاصل ہوئے اور چوں کہ تقریر و تحریر میں ان کا طریقہ بے لوث اور مواخذات صوری ومعنوی، شرعی وعرفی سے منزہ ومبرا ثابت ومحقق ہوا لہٰذا فقیر بھی تابہ وسعت ان کے طریقہ کا اتباع کرنا پسند کرتا ہے۔‘‘ (تاریخ خاندان برکات، ص:۶۶)
حضور تاج العلماء علیہ الرحمۃ والرضوان کے ایک فرزند بچپن ہی میں انتقال فرما گئے تھے اس کے بعد کوئی اولاد نہیں ہوئی لہٰذا آپ نے اپنے بھانجوں، سید العلماء حضرت علامہ سید شاہ آل مصطفی قادری اولاد حیدر، احسن العلماء حضرت علامہ سید شاہ مصطفی حیدر حسن اور حضرت سید شاہ مرتضیٰ حیدر حسین کو مثل اولاد پالا، خانقاہ برکاتیہ کی سجادگی وتولیت حضور نوری میاں علیہ الرحمۃ والرضوان کے بعد حضور سید مہدی میاں، حضور سید محمد اسماعیل حسن اور حضور تاج العلماء علیہم الرحمہ سے ہوتی ہوئی حضور سید العلماء اور حضور احسن العلماء قدس سرہ تک آئی اور ان دونوں بزرگ بھائیوں کی ہمہ جہت کاوشوں اور روحانی توانائیوں کی بدولت سلسلہ برکاتیہ کو کافی فروغ حاصل ہوا اور خانوادۂ برکاتیہ کو شہرت دوام ملی۔ شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
’’حضرت تاج العلماء کے بعد ان کے پروردہ وتربیت یافتہ حضرت سید العلماء مولانا سید شاہ آل مصطفی اور احسن العلماء حضرت سید شاہ مصطفی حیدر حسن میاں صاحب کی بدولت آج دنیا کا گوشہ گوشہ براہ راست اس آستانہ سے وابستہ ہے، جن کی صحیح تعداد کا معلوم کرنا مشکل ہے۔‘‘
(سیدین نمبر، ص:۳۰۷)
تحصیل علم کا آغاز:
سید العلماء سید شاہ آل مصطفی قادری مارہروی قدس سرہ کی تعلیم وتربیت سے متعلق شہزادۂ سید العلماء سید آل رسول حسنین میاں نظمی مارہروی لکھتے ہیں:
’’حضور سید میاں چوں کہ خاندان میں اپنی نسل کے سب سے بڑے لڑکے تھے۔ اس لیے سب کی آنکھوں کا تارا تھے۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے نانا شاہ جی میاں یعنی سید شاہ اسماعیل حسن صاحب اپنے نواسے پر جان چھڑکتے تھے۔ سید میاں کی پرورش وپرداخت کا ذمہ خود نانا نے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور پھر اس نقیب برکاتیت کی تربیت خانقاہ عالیہ کے مقدس اور اللہ والے ماحول میں ہوئی، زمینداری کا زمانہ تھا، ۲۷ دیہات کی مال گزاری درگاہ برکاتیہ کے لیے بندھی ہوئی تھی، نانا جان بھی ظاہری وباطنی اعتبار سے صاحب ثروت تھے، نواسے کی تربیت اور پرورش شہزادوں کی طرح کی۔ اپنے سے کبھی جدا نہ ہونے دیتے تھے، یہاں تک کہ کبھی دادیہال میں بھیجتے تو تاکید فرمادیتے کہ زیادہ دیر وہاں نہ رکیں۔ دادا سید شاہ حسین حیدر قدس سرہ کو اپنے پوتے کے بہترین مستقبل کی خاطر یہ سب کچھ گوارا تھا۔
نواسا جب چار سال چار ماہ چار دن کا ہوا تو نانا شاہ جی میاں صاحب نے پورے شرعی اہتمام سے تسمیہ خوانی کا جشن کیا۔ سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دست مبارک کی تحریر کی ہوئی بسم اللہ شریف ہمارے خاندان میں موجود ہے۔ سارے بچے اس کو سامنے رکھ کر بسم اللہ پڑھتے ہیں۔ سید میاں کو بھی علم کا پہلا جام بغدادی میخانہ سے ہی پلایا گیا۔ تسمیہ خوانی کے بعد علم دین کا سفر شروع ہوا، اس سفر کا پہلا مرحلہ تھا حفظ قرآن، جو سید میاں نے سات آٹھ سال کی چھوٹی سی عمر میں طے کرلیا۔ شروع کے پارے والدہ ماجدہ نے ازبر کرائے پھر حافظے کی تکمیل حافظ عاشق علی صاحب برکاتی نے کرائی۔ حافظ سلیم الدین صاحب کی اعانت بھی شامل رہی، اسی چھوٹی سی عمر میں مسجد جامع برکاتی میں پہلی محراب سنائی، سامع تھے نانا جان شاہ جی میاں صاحب۔ فارسی کی پہلی کتاب اپنی والدہ ماجدہ سے پڑھی۔ نانا حضرت اور خال محترم سید شاہ اولاد رسول محمد میاں صاحب قدس سرہ سے علوم درسیہ مروجہ کا اکتساب کیا، تفسیر قرآن، علم حدیث، منطق، علم کلام، صرف ونحو اور ادب عالیہ میں کمال حاصل کیا۔ جامعہ معینیہ اجمیر مقدس میں حضور صدر الشریعہ،، شیخ الطریقۃ مولانا امجد علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے بہت ہی چہیتے شاگرد رہے، استاد محترم کی اجازت خاص تھی کہ مدرسہ کے اوقات کے علاوہ جب چاہیںدرس لے سکتے ہیں۔ مولوی، عالم (دینیات میں پوسٹ گریجویشن کی ڈگری کے برابر) کی سند پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کی، طیبہ کالج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ادویۂ ہندی ویونانی اور عمل جراحی میں ڈی۔ آئی۔ ایم۔ ایس کا ڈپلوما لیا۔‘‘
(سیدین نمبر، ص:۴۷۳، ۴۷۴، مضمون سید آل رسول حسنین میاں نظمی مارہروی)
شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
’’جہاں تک مجھے معلوم ہے صرف صدر الشریعہ قدس سرہ ہی کی وجہ سے ان کو اجمیر مقدس بھیجا گیا تھا۔ حضرت تاج العلماء قدس سرہ نے پہلے حضرت صدر الشریعہ کے وہاں مفاوضۂ عالیہ امضا فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھانجے سید آل مصطفی سلمہ کو آپ کی خدمت میںتعلیم کے لیے بھیجوں۔ حضرت صدر الشریعہ قدس سرہ نے بہ خوشی بلکہ بصد خوشی اسے منظور فرمایا۔ عریضہ میں تحریر فرمایا کہ ’’صاحبزادے صاحب تشریف لائیں، میرے پاس جو کچھ ہے ان کے جد امجد کا عطیہ ہے، یہ ان کی امانت ہے تشریف لاکر اپنی امانت مجھ سے واپس لے لیں۔‘‘ حضرت تاج العلماء قدس سرہ نے پھر مفاوضۂ عالیہ امضا فرمایا کہ سید آل مصطفی فلاں ٹرین سے فلاں وقت اجمیر شریف پہنچ رہے ہیں۔ حضرت صدر الشریعہ قدس سرہ بہ نفس نفیس مع چند تلامذہ کے حضرت سید العلماء کو اسٹیشن لینے تشریف لے گئے اور بڑے اعزاز واکرام کے ساتھ ان کو لائے اور ان کے طعام کا بندوبست اپنے گھر کیا۔ تین دن کے بعد حضرت صدر الشریعہ قدس سرہ نے حضرت سید العلماء سے دریافت فرمایا: صاحبزادے! آپ کس لیے تشریف لائے ہیں؟ فرمایا: پڑھنے کے لیے آئے ہیں۔ فرمایا: اب جب کہ آپ پڑھنے کے لیے آئے ہیں تو طالب علموں کی طرح رہنا ہوگا۔ اس قیمتی لباس کے بجائے معمولی سادہ لباس پہننا ہوگا اور شہ زادگی کا تصور ختم کرکے ایک طالب علم کا ذہن بنانا ہوگا۔
حضرت صدر الشریعہ خود بازار تشریف لے گئے، معمولی کپڑا خریدا اور سلوایا، پہنایا اور پھر تعلیم شروع کی۔ پہلی بار جب حضرت صدر الشریعہ کی درس گاہ میں تشریف لے گئے۔ (صدر الشریعہ) کھڑے نہ ہوئے جب کہ اس سے قبل جب حضرت سید العلماء تشریف لاتے ان کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے، دست بوسی فرماتے، اپنی جگہ بٹھاتے۔ حضرت سید العلماء جب پہلی بار درس گاہ میں آئے تو حضرت صدر الشریعہ تعظیم کے لیے کھڑے کیا ہوتے، ہلے بھی نہیں اور طلبہ کی صف میں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ حضرت سید العلماء طلبہ کے ساتھ بیٹھ گئے مگر چہرے پر کچھ دوسرے آثار تھے، حضرت صدر الشریعہ بھانپ گئے اور فرمایا: صاحب زادے! تعلیم اور اخذ فیض کے لیے ضروری ہے کہ آپ طالب علم اور متعلم کی طرح رہیں اور جب تک آپ تعلیم جاری ہے ایک طالب علم کا مزاج رکھتے ہوئے محنت سے پڑھیں۔
حضرت سید العلماء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے سنا اور جب تک زیر تعلیم رہے ایک نیاز مند طالب علم کی طرح زندگی گزاری، اسی کا نتیجہ ہے کہ سیدالعلماء ہوئے۔‘‘
(سیدین نمبر، ص:۴۵۹، ۴۶۰، مقالہ شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی)
طب کی تحصیل:
درس نظامی سے فراغت کے بعد حضرت سید العلماء قدس سرہ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جاکر شاہی حکیم عبد اللطیف لکھنوی سے علم طب کی تحصیل کی اور اس کا فائدہ عوام تک پہنچانے کی غرض سے سید میاں مارہرہ مطہرہ میں مطب کرتے رہے، خانقاہ شریف کے سامنے سڑک پر جو بڑا گیٹ ہے اس کے اوپر آپ کا مطب تھا۔ دوا اور دعا کا سنگم ہوا تو مریضوں کو شفا تقسیم ہونے لگی، حکمت چلی اور خوب چلی۔ دیہات سے دور دراز کا سفر طے کرکے لوگ مارہرہ مطہرہ آتے اور خانقاہ برکاتیہ کے مطب سے فیض یاب ہوکر لوٹتے۔
بیعت وخلافت:
حضور سید العلماء کی خاندان کے جن بزرگوں سے بیعت وخلافت ہے وہ یہ ہیں:
نانا سید شاہ اسماعیل حسن شاہ جی میاں، ماموں تاج العلماء سید شاہ اولاد رسول محمد میاں، خالو سیدشاہ مہدی حسن علیہم الرحمۃ والرضوان۔ اس کی جو تفصیل آپ کے فرزند سید حسنین میاں نظمی مارہروی نے اپنے مقالہ ’’نقیب مسلک برکاتیت۔ سید العلماء علیہ الرحمہ‘‘ مشمولہ سیدین نمبر (ص:۴۷۲) میں دی ہے اس کا خلاصہ نذر قارئین ہے:
’’نانا جان شاہ جی میاں نے اپنے پیارے نواسے کو تیرہ سال کامل خانقاہی تربیت عطا فرمائی، اپنی بیعت کے ساتھ ساتھ خلافت واجازت سے بھی نوازا۔ نانا کے وصال کے بعد سید میاں کی تربیت خال محترم تاج العلماء سیدشاہ اولاد رسول محمد میاں صاحب قدس سرہ نے اپنے ذمہ لی۔ سونے کو کندن بنانے میں جوکسر رہ گئی تھی وہ پوری ہوگئی۔ تقریر وخطابت کا آغاز خانقاہ ہی سے ہوگیاتھا۔ ۱۰؍ ربیع الاول شریف ۱۳۴۷ھ کے مبارک دن خال محترم نے اپنے چہیتے بھانجے کو خلافت سے نوازا۔‘‘ (سیدین نمبر، ص:۴۷۴)  (آگے وہ خلافت نامہ لکھا گیا ہے:  احسنؔ)
مارہرہ مطہرہ میں خاندان کے سارے بزرگوں کی شفقت سید میاں کے حصے میں بھرپور طریقے سے آئی تھی۔ حضور سید شاہ ابو الحسین احمد نوری قدس سرہ کے چچازاد بھائی اور سید میاں کے سگے خالو حضرت سید شاہ مہدی حسن صاحب رحمۃ اللہ علیہ رب تعالیٰ کے حکم سے اولاد نرینہ سے محروم تھے، اس لیے انہوں نے سید میاں کو اپنے سایۂ عاطفت میں لے لیاتھا اور باپ سے زیادہ شفقت فرمایا کرتے تھے۔ سید شاہ مہدی میاں صاحب کے مزاج پر جذب غالب تھا، سید میاں کو اپنا جانشین اور وصی مقرر فرمایا، عرس نوری کے موقع پر اپنے مکان سجادگی کی چوکھٹ پر سید میاں کو کھڑا کرکے ہزاروں کے مجمع میں انہیں اپنا سجادہ قرار دیا اور اپنی مسند پر بٹھا کر مریدوں سے نذریں دلائیں۔ اسی پر نہیں بلکہ اپنے دست مبارک سے سید میاں کے نام ایک شفقت نامہ بھی تحریر فرمادیا۔‘‘ (سیدین نمبر، ص:۴۷۵)
(آگے وہ شفقت نامہ درج ہے: احسنؔ)
’’ادھر خال محترم سید شاہ اولاد رسول محمد میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سید میاں کو خلافت واجازت سے تو سرفراز فرمایا ہی، خاندانی روایات کے پیش نظر کتاب مستطاب ’’النور والبھا فی اسانید الحدیث وسلاسل الاولیاء‘‘ (سن تالیف تاریخی ۱۲۰۷ھ) مؤلفہ سید شاہ ابو الحسین احمد نوری رحمۃ اللہ علیہ کے سرورق پر اپنے دست مبارک سے خاندان کے جملہ اوراد واشغال واعمال کی اجازت تحریر فرمادی۔ (سیدین نمبر، ص: ۴۷۶)
آگے کتاب مذکورہ کے صفحہ ۲ پر تحریر کیا ہوا اجازت نامہ درج کیاگیا ہے۔ اس کے بعد تحریر کیا ہے کہ:
’’سید میاں علیہ الرحمۃ والرضوان کو ان کے بزرگوں نے بھرپور پیار دیا اور جی بھر کر نوازا۔ ایک خالو سید شاہ مہدی حسن صاحب قدس سرہ اپنی روحانی اور مالی وراثت کا مالک بناہی چکے تھے، دوسرے خالو اور خانقاہ کی تیسری گدی کے وارث سید شاہ ارتضیٰ حسین صاحب قادری نے بھی سید میاں کو اپنا بیٹا بلکہ بیٹے سے زیادہ چہیتا بنا کر اپنا سب کچھ ان کے نام لکھ دیا۔‘‘ (سیدین نمبر، ص:۴۷۷)
اس کے بعد قریب پانچ صفحات پر مشتمل سید شاہ ارتضیٰ حسین قادری عرف پیر میاں کا تحریر کردہ مکتوب نقل کیاگیا ہے جس میں اس حق ملکیت کا تذکرہ بڑے واضح لفظوں میں کیاگیا ہے۔
خلفائے کرام:
حضور سیدالعلماء علیہ الرحمہ نے جن اشخاص کو سلاسل عالیہ قادریہ برکاتیہ کی اجازت وخلافت سے نوازا، ان میں کل سات افراد کے اسما راقم کو دست یاب ہوسکے وہ درج ذیل ہیں:
(۱) سید آل رسول حسنین میاں نظمی مارہروی(جانشین حضور سید العلماء)
(۲) سید محمد اشرف برکاتی مارہروی (شہزادۂ حضور احسن العلماء)
(۳)مولانا سخاوت علی برکاتی (مگہر بستی)
(۴) شیر نیپال مفتی جیش محمد قادری (نیپال)
(۵) حضرت مولانا عبد القادر کھتری (ممبئی)
(۶) حضرت مولانا غلام عبد القادر علوی (براؤں شریف)
(۷)حاجی غلام احمد صاحب برمو والے (بہار)
حضور سید العلماء کی ہمہ جہت دینی خدمات اور مثالی شخصیت کا عمومی جائزہ:
ممدوح گرامی حضور سید العلماء سید آل مصطفی قادری مارہروی علیہ الرحمۃ والرضوان کی اولوالعزم ذات اور ہر اعتبار سے مثالی شخصیت کے جن پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی جاسکتی ہے وہ ہیں تصلب فی الدین، استقامت علی المذہب، علمی جلالت، تنظیمی صلاحیت، فتویٰ نویسی، تقریر وخطابت، تصنیف وتالیف، ذوق شعر وادب، بحث ومناظرہ، امام احمد رضا سے عشق ومحبت، مسلک رضا کی کامیاب ترجمانی، احترام علما ومشایخ، مدارس اسلامیہ کی سرپرستی اور تحریک اشرفیہ سے وابستگی وغیرہا۔
بمبئی میں وردو:
ہم نے ماقبل کی سطور میں لکھا ہے کہ آپ نے تقریر وخطابت کا آغاز خانقاہ ہی سے کردیاتھا اور اس فن میں بہ تدریج کمال حاصل ہوتا گیا، کامیاب مطب کے بعد آپ کی باقاعدہ عملی زندگی اور دینی خدمات کا آغاز سرزمین بمبئی میں تشریف آوری سے ہوتا ہے، بمبئی کے اہل سنت اور مسلک حق بلکہ پورے ہندوستان کی سنیت کے لیے ایک مؤثر آواز کی شکل میں ممبئی میں وردومسعود سب کے لیے نیک فال ثابت ہوا، جس ستارے کو خانقاہ برکاتیہ کے اکابرین نے رشک قمر بنایا تھا اس کی چمک دمک سرزمین بمبئی میں آکر نکھرنے لگی اور دلوں کی دنیا میں انقلاب برپا کردیا۔ بمبئی آمد سے متعلق سید آل رسول حسنین میاں نظمی مارہروی رقم طراز ہیں:
’’حضور سید العلماء سید شاہ آل مصطفی سید میاں علیہ الرحمہ ۱۹۴۹ء میں بمبئی تشریف لے گئے یہاں کی جماعت بکر قصابان نے سید میاں کو بمبئی کی مسجد کھڑک کی امامت کی پیش کش کی جو سید میاں نے قبول کرلی۔ اس طرح مارہرہ کا سید شہر ممبئی کی گہما گہمی کا ایک جزو بن گیا۔‘‘
 (سیدین نمبر، ص:۴۸۵، ۴۸۶)
شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
’’اللہ عزوجل نے حضرت سید العلماء قدس سرہ کو اس لیے نہیں پیدا فرمایاتھا کہ وہ ایک چھوٹے سے قصبے میں بیٹھ کر مطب کریں بلکہ اللہ عزوجل نے انہیں پورے ہندوستان کے سنیوں کی قیادت کے لیے پیدا فرمایاتھا، اسی سبب ممبئی میں ورود ہوا۔‘‘ (سیدین نمبر، ص:۴۶۲)
یقینا یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ ایک عظیم خانقاہ کا پروردہ خانقاہ کے عیش وآرام کو چھوڑ کر بمبئی جیسی سنگلاخ زمین کا رخ کرتا ہے اور ایک چھوٹی مسجد کی امامت وخطابت کو ترجیح دیتا ہے لیکن ایسا ممکن ہوا اور دنیا نے دیکھا کہ سید العلماء علیہ الرحمہ نے جس نیک نیتی اور جذبۂ دروں کے ساتھ خدمت دین اورفروغ اہل سنت کے جس میدان میں قدم رکھ دیا اس میں انہیں بے پناہ کامیابیاں میسر آئیں اورجماعت اہل سنت کو سربلندی نصیب ہوئی، رفیق ملت سید شاہ نجیب حیدر مارہروی (شہزادۂ حضور احسن العلماء) رقم طراز ہیں:
’’کیا ہماری جماعت حضور سید العلماء کی اس قربانی کو فراموش کرسکتی ہے کہ وہ ذات اپنی خانقاہ اور حلقۂ مریدین کو چھوڑ کر جماعت کی شیرازہ بندی کی خاطر ممبئی کی ایک مسجد کی امامت کو فوقیت دے دی ہے۔ نیت ثابت اور صاف تھی، محنت رنگ لائی، پورے اہل سنت وجماعت کو ایک پلیٹ فارم پر لے آئے، نتیجتاً جماعت اہل سنت کا قد اونچا ہوا، ہمیں ایک نئی شناخت حاصل ہوئی۔
(اداریہ، اہل سنت کی آواز، مارہرہ مطہرہ ، جلد:۱۸، نومبر ۲۰۱۱ء ص:۱۶)
آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کا قیام:
اس تنظیم کے قیام کے سلسلے میں شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
’’غازی ملت (مولانا محبوب علی خاں رضوی) کے کیس کے دوران اہل سنت کے حساس افراد نے یہ دیکھا کہ ہم اہل سنت کی کوئی مضبوط تنظیم نہیں۔ ہمارے بالمقابل دیوبندیوں کی بہت مستحکم تنظیم ’’جمعیۃ العلماء‘‘ ہے۔ غازی ملت کے کیس میں جمعیۃ العلماء نے قدم قدم پر دیوبندی فتنہ گروں کی قیادت کی تھی، بمبئی کے سارے اہل سنت نے بالاتفاق یہ طے کرلیا کہ اہل سنت کو بھی اپنی ایک مضبوط اور مستحکم تنظیم قائم کرلینی چاہیے۔ چناں چہ تمام عمائد اہل سنت بشمول مفتی اعظم ہند کے مشورے سے ’’آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء‘‘ کا قیام عمل میں آیا، جس کے بالاتفاق پہلے صدر حضرت سید العلماء منتخب ہوئے اور تاحیات صدر رہے۔ حضرت سید العلماء نے آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کے ذریعے اہل سنت کی کتنی نمایاں خدمات انجام دیں، یہ ایک لمبی داستان ہے۔‘‘ (سیدین نمبر، ص:۴۶۳، ۴۶۴)
آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کی تاسیس ۱۹۵۸ء میں عمل میں آئی، حضور شیر بیشۂ سنت اور حضور سید العلماء علیہما الرحمۃوالرضوان نے اس جماعت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیاتھا، اس کے قیام میں جماعت اہل سنت کے اکابرین کی دعائیں اور مشورے شامل تھے، اس جماعت کے سرپرست تاجدار اہل سنت حضور مفتی ا عظم ہند علامہ شاہ مصطفی رضا نوری بریلوی اور شہنشاہ خطابت حضور محدث اعظم ہند سید محمد کچھوچھوی تھے اور صدر بالاتفاق حضور سید العلماء سید آل مصطفی قادری مارہروی علیہ الرحمہ کو چنا گیا تھا، پورے ہندوستان میں آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کی شاخیں قائم کی گئیں۔ ڈاکٹر محمد ارشاد ساحل ؔ شہ سرامی لکھتے ہیں:
’’۱۹۵۸ء میں آل انڈیا سنی جمعیۃالعلماء مسلمانوں کے دینی، مذہبی، سیاسی، سماجی، اقتصادی اور معاشرتی مسائل کے حل کرنے اور انہیں ہر موڑ پر آگے لانے کے لیے عمل میںآئی۔ حضرت سید العلماء مولانا حکیم سید آل مصطفی قادری برکاتی قدس سرہ کی خدمت اقدس میں آپ کی جامعیت، کمالات اور ذاتی اعلیٰ تنظیمی خصائص کی بنا پر اس تنظیم کی صدارت کی شہ نشینی پیش کی گئی۔ آپ نے اکابرین ملت کے اصرار اور اصلاحات کے تئیں ذاتی رجحانات کے پیش نظر اسے قبول فرمایا اور تاحیات اس عظیم منصب کی ذمہ داریوں کے احساس اورشان دار اصلاحی خدمات کی بنیاد پر اس کے صدر نشین رہے۔ آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کی شاخیں پورے ہندوستان میںقائم کی گئیں، جس نے ہندوستانی مسلمانوں کے واسطے مذہبی اور سیاسی سطح پر عظیم الشان نمایاں کارنامے انجام دیے۔ اس تنظیم کے مقاصد بہت واضح اور شرعی اصولوں پر مبنی تھے۔‘‘
(اہل سنت کی آواز، مارہرہ مطہرہ شمارہ ۶، اکتوبر ۱۹۹۹ء، ص:۲۳۶)
سرزمین بمبئی میں سنی جمعیۃ العلماء کے زیر اہتمام ہونے والی ایک اہم تاریخی تنظیمی کانفرنس میںوقت کے جید علما و مشایخ، پیران طریقت اور خطبا ومناظرین کااجتماع دیکھ کر رئیس القلم علامہ ارشد القادری لکھتے ہیں:
’’اس نعمت کبریٰ کو ہم جماعت کی خوش بختی ہی سے تعبیر کریں گے کہ صف اول کے اکابر کی اب گراں قدر توجہ ہندوستان کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے چھ کروڑ اہل سنت کی تنظیم (سنی جمعیۃ العلماء) کی طرف منعطف ہوگئی۔‘‘
(ماہ نامہ جام نور دہلی، رئیس القلم، نمبر، جون، جولائی، اگست ۲۰۰۲ء، ص:۱۸۹)
ہندوستان بھر کے اکابرین اہل سنت میں حضور مفتی اعظم ہند، برہان ملت، سیدالعلماء، حافظ ملت، مجاہد ملت، سلطان المتکلمین، پاسبان ملت، محبوب العلماء، اشرف العلماء، اورطوطی ہند وغیرہم کے اسما قابل ذکر ہیں، جنہوں نے اس عظیم الشان کانفرنس کو زینت بخشی تھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کس معیار کی تحریک تھی اور اس کا دائرہ کار کتنا وسیع اور پر اعتماد تھا۔ آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کا میدان عمل مذہبی اور سیاسی دونوں تھا، یہ ممبئی میں اہل سنت کی واحد تنظیم تھی جس سے تقریباً تمام سنی مساجد، مدارس اور جماعتیں وابستہ تھیں۔ اس ضمن میں علامہ بدر القادری لکھتے ہیں:
’’آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء دراصل پراگندہ ذہن مسلمانان اہل سنت کی جمعیت خاطر کا ایک مرکز تھا تاکہ الیکشن اور دیگرمواقع پر مسلمانان اہل سنت اپنے مقتدر علما اور سربراہان ملت کی ہدایات کے مطابق اقدامات کریں۔‘‘ (سیدین نمبر، ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پور، ص:۶۶۹)
سنی جمعیۃ العلماء کی برانچ آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کان پور کے زیر اہتمام ۱۹۶۳ء میں حلیم مسلم کالج کے گراؤنڈ پر ایک سہ روزہ کانفرنس کا انعقاد کیاگیا جس میں ملک کے بہترین دماغ اور اعلیٰ صلاحیتیں مجتمع تھیں۔ اس کانفرنس کے آخری اجلاس کی صدارت سید العلماء قدس سرہ نے فرمائی، اس میں آپ نے جو خطبۂ صدارت پیش فرمایاتھا وہ متعدد بار کتابی شکل میں چھپ چکا ہے، اپنے خطبۂ صدارت کے آخیر میں اپنی قوم کو پیغام بیداری دیتے ہوئے فرماتے ہیں، توجہ سے پڑھیں اور ان نکات پر سنجیدگی سے غور کریں:
’’محترم حضرات! اب وقت سونے کا نہیں رہا، زمانہ اپنی برق رفتاری سے گزرتا جارہا ہے، اور ملک کی شاطر جماعتیں اپنی نت نئی شاطرانہ حرکتوں سے ہمارے جماعتی نظام کو منتشر کردینا چاہتی ہیں۔ اگر آپ حضرات یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے حقوق کی پائمالی نہ ہونے پائے تو اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ہر جگہ سنی جمعیۃ العلماء کی شاخوں کا قیام عمل میں لایا جائے اور زیادہ سے زیادہ ممبر سازی کرکے یہ واضح کردیا جائے کہ ملک کی رائے عامہ آل انڈیا سنی جمعیۃالعلماء کے ساتھ ہے۔ ‘‘
(خطبۂ صدارت، اجلاس سوم، ص:۱۵)
حضور سید العلماء علیہ الرحمہ کو سنی جمعیۃ العلماء سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا اور یہی وجہ ہے کہ آپ ہر وقت اس کے دست وبازو بن کر جماعت اہل سنت کا قد اونچا کرتے رہے اور دینی وملی خدمات انجام دیتے رہے۔ ۱۹۷۴ء میں بعض سنی حلقوں کی طرف سے جب آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کے بالمقابل ایک دوسری جماعت کی تشکیل کی بات شروع ہوئی تو تمام اتحاد پسند علماے اہل سنت کو اس کا افسوس بھی ہوا اور غم بھی مگر اس المیہ کا سب سے زیادہ اثر حضور سید العلماء کی ذات پر ہوا۔ صحافی اہل سنت حضرت علامہ طیش صدیقی کانپوری لکھتے ہیں:
’’سید میاں کو جمعیت سے عشق تھا، پیار تھا، محبت تھی، ۱۹۷۴ء کے شروع میں جب بعض حلقوں کی طرف سے سنی جمعیۃ العلماء کے مقابلے میں ایک نئی تنظیم کا شوشہ چھوڑا گیا تو سید میاں تڑپ اٹھے، بے چین ہوگئے۔ کانپور کے ایک زبردست مجمع میں تقریباً ایک لاکھ افراد سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ میں سید زادہ ہوں، سنی جمعیۃ العلماء کی پرورش وپرداخت میں میرے بوڑھے خون کے قیمتی قطرات صرف ہوئے ہیں۔ میں اپنے جیتے جی اسے مرنے نہیں دوں گا، میں اپنے خون کا آخری قطرہ تک اس کی آبیاری میں صرف کردوں گا۔‘‘ (سیدین نمبر، ص:۵۵۰، ۵۵۱)
اکابرین اہل سنت نے متفقہ طور پر جس جمعیت کی داغ بیل ڈال کر اس کا پاسبان سید العلماء کو بنایا تھا، سید العلماء نے اس کی پاسبانی کا حق ادا کردیا، پورے ہندوستان میں اس کی شاخیں قائم ہوئیں، جمعیت کے نام سے ملک کے اندر متعدد اہم تاریخی اجلاس اور کامیاب کانفرسیں منعقد ہوئیں، کچھ نامساعد حالات کی وجہ سے حضور سید العلماء علیہ الرحمہ نے سنی جمعیۃ العلماء کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا، جس کا اثر حضرت مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ پر بہت گہرا پڑا تو حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ نے خود بمبئی پہنچ کر استعفیٰ واپس لینے پر مجبور کیا۔ جس کی تفصیل سید آل رسول حسنین میاں نظمی مارہروی نے اپنے طویل مضمون میں یہ دی ہے، لکھتے ہیں کہ:
’’مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جماعت کے قیام کے کچھ برسوں کے بعد ایک مرحلہ ایسا آیا جب ابا جماعت کے کچھ عہدے داروں کی بدچلنی سے ناراض ہوگئے اور صدارت سے استعفیٰ لکھ کر بریلی شریف بھیج دیا، حضور مفتی اعظم ہند کو جیسے ہی استعفیٰ ملا ویسے ہی بمبئی روانہ ہوگئے، ان دنوں مسجد کھڑک میں واقع ابا کے حجرے کی مرمت چل رہی تھی اور ابا مسجد کی دوسری منزل کے ایک کونے میں معتکف تھے، ایک شام حضور مفتی اعظم بہت تیز تیز سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دوسری منزل پر پہنچے اور اس سے پہلے کہ ابا تعظیم کے لیے اٹھیں مفتی ا عظم نے اپنا عمامہ اتار کر ابا کے قدموں پر رکھ دیا۔ میرے چھوٹے سے ذہن میں اس وقت کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ ماجرا کیا ہے؟ ابا نے عمامہ اٹھا کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ حضور مفتی اعظم نے فرمایا: سید میاں! سنیت کی لاج آپ کے ہاتھ میں ہے، جماعت سے آپ علاحدہ ہوگئے تو شیرازہ بکھر جائے گا۔ دشمن پہلے ہی سے ہمارے اتحاد پر نظر جمائے ہوئے ہے، انہیں ہم پر ہنسنے اور گل کھلانے کا موقع مل جائے گا۔ آپ کو اپنے نانا جان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا واسطہ اپنا استعفا واپس لے لیجیے۔ یہ کہہ کر مفتی اعظم نے آپ کا استعفا نکال کر پیش کیا۔ میں نے ابا کو دیکھا، مفتی اعظم کا عمامہ اپنے سر پر رکھے روتے جارہے تھے، ادھر مفتی اعظم کی بھی آنکھوں میں آنسو رواں تھے، میں نے ابا کو روتے دیکھا تو خوب زور زور سے رونے لگا، ابا کے خادم صوفی نظام الدین صاحب مجھے گودمیں اٹھا کر نیچے صحن مسجد میں لے آئے۔ اس دن حضور مفتی اعظم تب ہی واپس گئے جب ابا نے استعفا واپس لے لیا۔‘‘
(جہان مفتی اعظم مطبوعہ ممبئی، ص:۲۲۴)
حضور سید العلماء علیہ الرحمۃ والرضوان نے آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کے لیے اپنی زندگی کا آخری لمحہ تک وقف کردیاتھا اس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے خصوصی تاریخی اجلاس اور کانفرنسوں میں آپ کا خطاب اپنے موضوع پر ایک جامع اور مؤثر خطاب ہوتا تھا۔ دینی موضوعات کے علاوہ جب سیاسی موضوعات پر گفتگو کرتے تب بھی آپ کی جہاں دیدگی اور سیاسی بصیرت کے اجالے ہر طرف بکھرے دکھائی دیتے اور بڑے بڑے سیاست داں دم بخود ہوکر آپ کا خطاب سماعت کرتے ،یہ ان کی ذہانت اور علمی کمال تھا اور سب سے بڑی بات تو یہ تھی کہ خانقاہی بزرگوں سے ملی ہوئی ان کی روحانی توانائی اور علمی فیضان تھا جو ان کی زبان فیض ترجمان سے نکل کر اہل دل کو مالا مال کر رہا تھا، سنی جمعیۃ العلماء نے اپنے عروج کے زمانے میں نہ صرف جماعت اہل سنت کے لیے خوشیوں کا سامان فراہم کیا بلکہ مخالفین اور حریف جماعتوں کے لیے سوہان روح سے کم نہ رہی اور جو شہرت ومقبولیت اس کو حاصل ہوئی وہ بہت کم جماعتوں اور تحریکوں کے حصے میں آئی، لیکن افسوس قائد تحریک کے وصال نے اس کا دم خم توڑ دیااور اس کی عظمت قصہ پارینہ بن چکی ہے، شارح بخاری لکھتے ہیں:
’’جو مقبولیت آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کو عوام وخواص میں حاصل ہوئی وہ آج تک کسی تنظیم کو میسر نہیں ہوئی۔ افسوس کہ حضرت سید العلماء رحمۃ اللہ علیہ کے بعد آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کی عظمت قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ ‘‘ (کتابچہ حضور سید العلماء از: شارح بخاری، ص:۱۴)
سرزمین بمبئی کے عوام وخواص اہل سنت آج بھی حضور سید العلماء کے احسان عظیم کو یاد کرتے ہیں تو آبدیدہ ہوجاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے جمعیت کے ذریعہ آخر ی سانسوں تک جماعت کے فروغ اور استحکام کے لیے کام کیا، علماے اہل سنت کو ایک وقار عطا کیا، ائمہ مسجد کو ایک مستحکم بنیاد فراہم کی، شہر بمبئی کے تقریباً ہر محلے میں نیاز کمیٹیاں قائم کروائیں اور ان کے زیر اہتمام مختلف پاکیزہ مجالس اور اعراس بزرگان منعقد کروائے، پورے ہند کے جید خطبا اور مشہور مقررین کا دورہ شروع ہوا یہ وہ ناقابل فراموش خدمت ہے جس میںاولیت کا سہرا حضور سید العلماء قدس سرہ کے سر سجتا ہے۔
علمی جلالت:
حضور سید العلماء علیہ الرحمہ کو اللہ عزوجل نے غضب کی قوت حافظہ عطا فرمائی تھی، اس اعلیٰ درجے کی ذہانت وذکاوت پر حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی قدس سرہ جیسے مربی استاذ کی استاذانہ مہر لگ جائے تو پھر کیا پوچھنا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی ذات علوم جدیدہ وقدیمہ کی سنگم اور ظاہری اور باطنی جامعیت کا منبع نظر آتی ہے، مفتی ظفر احمد قادری بدایونی آپ کے وفور علم اور جلالت شان کا اعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’آپ کے مبارک سینے میں علوم وفنون کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا، مناظرہ میں امام المناظرین، گفتگو میں سید المتکلمین، تحریر وتقریر کے مانے ہوئے بادشاہ اور قادر الکلام تھے، ایک ہی موضوع پر مختلف عنوانات اور متعدد پیرائے سے بیان آپ کے لیے معمولی بات تھی۔ قوت حافظہ کا یہ عالم کہ آٹھ نو سال کی عمر شریف میں آپ نے قرآن پاک حفظ کرلیاتھا۔ جب مدارس عربیہ کے طلبا کے امتحان لیتے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مسند تدریس کے بادشاہ ہیں، دورۂ حدیث شریف کا امتحان لیتے تو احادیث نبویہ خود سناتے کہ حافظ حدیث کا گمان ہوتاتھا۔‘‘
(اہل سنت کی آواز، شمارہ۶، اکتوبر، ۱۹۹۹ء ص:۲۳۲، بحوالہ آہ سید العلماء بدر الفضلاء، ص:۸)
تحدیث نعمت کے طور پر ایک جگہ حضور سید العلماء خود ہی فرماتے ہیں:
’’درس وتدریس سے میرا کوئی خاص تعلق نہیں لیکن اس عمر میں عربی گرامر اس طرح پرنقش ہیں کہ کوئی جب چاہے دریافت کرسکتا ہے۔‘‘
(سیدین نمبر، ص:۵۲۶، بہ حوالہ :ماہ نامہ اعلیٰ حضرت، بریلی، نومبر ۱۹۷۴ء، ص:۳۳)
فتویٰ نویسی:
حضور سید میاں قدس سرہ کے علمی تبحر اور جلالت فن کا مشاہدہ آپ کے تحریر کردہ فتاویٰ اور کتب ومقالات میں کیا جاسکتاہے بالخصوص’’اہل سنت کی آواز‘‘ اور ’’ملفوظات مشایخ مارہرہ‘‘ میں شامل شدہ علمی اور ٹھوس مضامین کو ضرور مثال میں پیش کیا جاسکتا ہے جن کا مطالعہ آج بھی دور رس نتائج کا حامل ہے۔ آپ کو فقہ وافتا میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ جزئیات فقہ پر کامل عبور رکھتے ہوئے جب کوئی محققانہ فتویٰ تحریر فرماتے تو اس کے استناد میں ذرہ بھر شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہتی، آپ کا قول قول فیصل مانا جاتا بلکہ آپ کے فتاویٰ ممبئی ہائی کورٹ تک میں تسلیم کیے جاتے تھے۔ شہزادۂ سید العلماء حضور نظمی میاں مارہروی آپ کی فتویٰ نویسی سے متعلق رقم طراز ہیں:
’’سید میاں نے فتویٰ نویسی میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی سنت پر عمل کیا، وہ جب تک مسئلے کی گہرائی کو نہ سمجھ لیتے اس وقت تک کوئی حکم نہ لگاتے۔ ‘‘ (سیدین نمبر، ص:۵۱۳)
ایک دوسرے مقام پر آپ کی فقہی بصیرت وژرف نگاہی کا انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
 ’’سید العلماء نے ہزاروں فتاویٰ قلم بند کیے، آج کے مفتیان کرام اپنے فتوؤں کی نقلیں تیار کرکے رکھتے ہیں تاکہ زندگی کے کسی موڑ پر فتاویٰ کے مجموعے شائع کرسکیں مگر سید میاں نے کبھی اس طرف توجہ نہیں دی، اگر چہ ان کے میراث کے فتوے ممبئی ہائی کورٹ تک میں تسلیم کیے جاتے تھے۔ سید میاں کے کاغذات میں بہت کم فتوؤں کی نقلیں ملیں۔‘‘ (اہل سنت کی آواز، شمارہ۶، اکتوبر ۱۹۹۹ء ص:۳۵)
استاد گرامی محقق مسائل جدیدہ مفتی محمد نظام الدین رضوی صاحب قبلہ نے حضور سید العلماء کی فتویٰ نویسی پر آپ کے چند مختصر اورتفصیل فتاویٰ کی روشنی میں قریب ۳۰؍ صفحات میں مفصلاً گفتگو کی ہے۔ (ملاحظہ ہو سال نامہ اہل سنت کی آواز، خصوصی شمارہ، اکابر مارہرہ مطہرہ (حصہ دوم) ص:۴۶۶ تا ۴۹۵)
تصنیف وتالیف:
شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
’’مارہرہ کے قیام کے دوران آپ نے متعدد کتابیں لکھیں۔ انہی ایام میں مارہرہ شریف سے ماہانہ رسالہ ’’اہل سنت کی آواز‘‘ جاری فرمایا جس میں انتہائی اہم مفید مضامین لکھتے رہے۔‘‘
(سیدین نمبر، ص:۴۶۶)
حضور سید العلماء سید آل مصطفی قادری مارہروی علیہ الرحمہ کی بے پناہ مصروف زندگی نے انہیں اتنا موقع نہ دیا کہ پوری توجہ تصنیف وتالیف کی جانب کر پاتے، آل انڈیا سنی جمعیۃالعلماء کی صدارت، جلسوں اور کانفرنسوں میں شرکت وخطابت، دوروں کی کثرت، اوردیگر مسائل اس قدر زیادہ تھے کہ تحریر وقلم کے میدان کو زیادہ مالا مال نہ کرسکے لیکن جتنا بھی لکھا وہ اپنے کیف وکم ہر دو اعتبار سے انتہائی جامع اور وقیع تسلیم کیا جاتاہے، آپ کے تحریر کردہ مضامین ومقالات اور چندقلمی نگارشات جو یادگار ہیں ان سے آپ کی تحریری مہارت اور جودت فکر کا اندازہ ہوتاہے۔ ڈاکٹر محمد ارشاد ساحلؔ شہ سرامی لکھتے ہیں:
’’حضرت سید العلماء قدس سرہ کو نثر ونظم، تقریر وتحریر کے اصناف سخن پر یکساںد سترس حاصل تھی۔ لیکن قدرت نے خدمت اسلام کا کام آپ کی لسانی خوبیوں سے زیادہ لیا۔‘‘
آگے مزید رقم طراز ہیں:
’’لیکن آپ کی جو بھی قلمی یادگاریں ہیں ان سے آپ کی تحریری مہارت، زبان وبیان پر پوری دسترس، قلم کی برق رفتاری، زبان کی سلاست، فکر کی جولانی، اسلوب کا اچھوتا پن اور نثر ونظم کی اعلیٰ خوبیوں کااندازہ لگایا جاسکتا ہے۔‘‘ (اہل سنت کی آواز، اکتوبر ۱۹۹۹ء ص:۲۳۳)
اس کے بعد ساحل صاحب نے نو صفحات میں آپ کی مستقل تین تصنیف (۱)فیض تنبیہ (۲)نئی روشنی (۳)مقدس خاتون اور ایک خطبۂ صدارت پر وقیع تبصرہ وتجزیہ پیش کیا ہے اور اخیر میںآپ کے چند علمی مضامین کی نشان دہی کی ہے۔
ذوق شعر وادب:
حضور سید العلماء قد س سرہ کا ذوق شعر وسخن بھی بڑا ستھرا، نکھرا اور پاکیزہ تھا، آپ فن ادب اور نعت گوئی میں کامل مہارت رکھتے تھے اور زبان دانی کے عظیم جوہر سے مالا مال تھے، آپ کا اردو کلام اہل سنت کی آواز کے مختلف شماروں میں شائع ہوتا رہتا تھا۔ حضور احسن العلماء علیہ الرحمہ کے مرتب کردہ رسالہ ’’مدائح مرشد‘‘ میں بھی آپ کی متعدد منقبتیں شامل ہیں۔ سید آل رسول حسنین میاں نظمی مارہروی لکھتے ہیں:
’’حضور سید العلماء سید شاہ آل مصطفی سید میاں علیہ الرحمہ ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ مرزا داغؔ دہلوی مرحوم کے شاگرد رشید اورفرزند معنوی سید شاہ احسنؔ مارہروی کے تلامذہ میں سے تھے۔ سید میاں نے بہت کم سنی میں شاعری شروع کردی تھی۔ بہاریہ شاعری کا الگ انداز تھا اور نعتیہ شاعری کے تیور کچھ اور۔ سیدؔ تخلص فرماتے تھے۔ ایک دیوان بھی ترتیب دے رکھا تھا مگر وہ شعری بیاض سفر پاکستان کے دوران سامان کے گم ہوجانے کے ساتھ ضائع ہوگئی اور ہم اردو والے ایک روایت سے محروم ہوگئے۔‘‘ (سیدین نمبر، ص:۵۰۰)
ان کے اشعار کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان میں وہ تمام خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جو کسی اچھے شعر کا طرۂ امتیاز ہیں، برجستگی، روانی، تغزل، شعریت، نغمگی، شوخی سب کچھ نظر آتا ہے، غزلیں ہوں، یا نعت ومنقبت کے اشعار ان کا رنگ وآہنگ الگ ہی تاثر دیتاہے۔ ذرا یہ شعر دیکھیں:
ہونا تھا جس کو پیر خرابات میکدہ
 اس کو رہین جبہ ودستار کردیا
خیال یار نے بستر لگایا قلب مضطر میں
 یہ مہمان عزیز اترا ہے کس اجڑے ہوئے گھر میں
نعت کے چند اشعار بھی پڑھ لیں:
خدا نے خود تمہیں ایسا سنوارا یارسول اللہ
 نہیں ممکن کوئی ثانی تمہارا یارسول اللہ
اور اس نعت کا یہ مقطع تو زبان زد خاص وعام ہوچکا ہے:
کسی کی جے وجے ہم کیوں پکاریں کیا غرض ہم کو
ہمیں کافی ہے سیدؔ اپنا نعرہ یارسول اللہ
ان کے علاوہ امام حسین سید الشہدا، خواجۂ اجمیری، نوری میاں اور امام احمد رضا علیہم الرحمہ کی شان میں لکھی گئی منقبتیں تو بڑی دھوم سے مذہبی مجالس میلاد میں پڑھی جاتی ہیں۔ بس ایک شعر امام عالی مقام کی شان میں:
تمہارے سجدے کو کعبہ سلام کہتا ہے
جلال قبۂ خضرا سلام کہتا ہے
بحث ومناظرہ:
مذکورہ تمام خوبیوں کے ساتھ حضور سید العلماء علیہ الرحمہ ایک باکمال اور بلند پایہ مناظر تھے۔ اپنی تقریر میں بدمذہبوں کا رد وتعاقب تو کرتے ہی تھے باقاعدہ تحریری طور پر بھی ان کا تعاقب فرمایا اور بدمذہبوں کے ایوان میں زلزلہ برپا کردیاتھا۔ آپ کے ایک تحریری مناظرے کی روداد و تفصیل’’اہل سنت کی آواز‘‘ اکتوبر ۱۹۹۹ء کے شمارے میں صفحہ ۳۴؍ پر دی گئی ہے جس کے مطالعے سے آپ کی مناظرانہ شان نمایاں نظر آتی ہے، جس کے آغاز میں آپ کے بلند اقبال فرزند سید نظمی میاں لکھتے ہیں:
’’حضور والد ماجد سرکار سید میاں علیہ الرحمہ نے بمبئی کے قیام کے ا بتدائی دور میں وہابیت سے کافی مچیٹے لیے۔ بھیونڈی کامناظرہ ایسی ہی ایک اہم کڑی تھی، ان دنوں وہابی لابی کا ایک سرگرم رکن مولوی محمد یونس بگھیروی بمبئی کی سرزمین پر بڑا فعال تھا اور چاہتا تھا کہ بمبئی کے سنی عوام کو اپنے مکر وفریب سے صراط مستقیم سے بہکادے اور شیطان کی راہ پر لگادے۔ حضور سید میاں نے ابھی نہیںتو کبھی نہیں، یہ سوچ کر یونس بگھیروی کا تعاقب کیا اور جھوٹے کو جھوٹے کے گھر تک پہنچا کر دم لیا۔ ایک دن یوں ہی میں ابا حضور کے کاغذات کو دیکھ رہاتھا کہ ان میں یونس بگھیروی سے متعلق خط وکتابت نظر آئی، ابا حضرت نے جس طرح اس کا پیچھا کیا اسے آپ بھی پڑھ لیں۔‘‘
 (اہل سنت کی آواز، شمارہ۶، ص:۳۵، اکتوبر، ۱۹۹۹ء)
سید نظمی میاں کا یہ تفصیلی مقالہ ’’ حضور سید العلماء: مناظر بے نظیر‘‘ کے عنوان سے ۶۳؍ صفحات میں شائع ہوا ہے، جس کے اخیر میں ایک تمثیلی مناظرہ بھی درج ہے جو حضور سید العلماء کی کتاب ’’مقدس خاتون‘‘ سے ماخوذ ہے جو انتہائی علمی رنگ لیے ہوئے ہے، اس کے مطالعہ کے بعد حق کی صداقت اور باطل کا بطلان آفتاب نیم روز کی طرح روشن ہوجاتا ہے اور جس سے حضور سیدالعلماء کی مناظرانہ شان تاباں ودرخشاںہوجاتی ہے۔ یہی مقالہ بعد میں سیدین نمبر میں بھی شامل کیا گیا جو مذکورہ نمبرکے صفحہ ۵۹۷  تا  ۶۴۶ پر پھیلا ہوا ہے اور قارئین کو دعوت مطالعہ پیش کر رہا ہے۔
امام احمد رضا سے عشق ومحبت:
مجدد اعظم، فقیہ اسلام، امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ تو چشم وچراغ خاندان برکات ہیں اور مارہرہ مطہرہ امام احمد رضا کا پیر خانہ ہے، ساتھ ہی امام احمد رضاقدس سرہ نے دین متین اور مسلک حقہ کی جس ذمہ داری کے ساتھ ترجمانی کی اور عشق رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جیسی بیش بہا پونجی کا زندگی بھر تحفظ کرتے رہے۔ ایسے ان گنت کمالات وروابط نے حضور سید العلماء علیہ الرحمہ کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کا سچا شیدا بنادیاتھا اور آپ کے دل میں امام عشق ومحبت کی پاکیزہ عقیدت اتنی رچ بس گئی تھی کہ ان کے خلاف ذرا بھی سننا گوارا نہیں کرتے تھے، سید نظمی میاں مارہروی رقم طراز ہیں:
’’سید میاں مارہرہ مطہرہ کے اس مقدس خانوادے کے فرد تھے جو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ کا پیر خانہ تھا۔ اتنا ہی نہیں، وہ اس گدی کے وارث تھے جس سے ارادت ووابستگی امام احمد رضا اپنے لیے دنیا وآخرت کی سب سے بڑی نعمت سمجھتے تھے۔ سید میاں نے امام احمد رضا کا پیر زادہ ہونے کا حق ادا کردیا۔ انہوں نے دنیا کو ایک جاندار نعرہ دیا   ؎
یا الٰہی مسلک احمد رضا خاں زندہ باد
حفظ ناموس رسالت کا جو ذمہ دار ہے
(سیدین نمبر، ص:۵۰۴، ۵۰۵)
شہزادۂ صدر الشریعہ علامہ ضیاء المصطفیٰ امجدی دام ظلہ رقم طراز ہیں:
’’حضور سید العلماء کو اعلیٰ حضرت مجدد دین وملت سے بہت والہانہ لگاؤتھا، جب آپ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا ذکر فرماتے تو اندازبیان اس قدر مؤثر اور رقت انگیز ہوتا کہ آنکھیں اشکبار ہوجاتیں۔‘‘ (سیدین نمبر، ص:۳۴)
امام احمد رضا کا نام آتے ہی سید میاں بے قرار ہوجاتے اور اگر کہیں ان کی مخالفت سامنے آتی تو پوری جواں مردی کے ساتھ اس کے خلاف سینہ سپر ہوجاتے، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ سے سید میاں علیہ الرحمہ کی والہانہ محبت کا ثبوت آپ کا وہ رسالہ ہے جو ’’فیض تنبیہ‘‘ کے تاریخی نام سے ۱۹۷۴ء میں دارالاشاعت برکاتی مارہرہ سے شائع ہوا جس میں امام احمد رضا کے قصیدہ معراجیہ پر کی گئی تنقید کا وافی وشافی جواب دیا گیا ہے۔ اور اس قصیدے پر کی گئی گرفت کا سخت محاسبہ کیاگیا ہے جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
امام احمد رضا کے مشن کو عام کرنے میں سید میاں علیہ الرحمہ نے زندگی کا ایک ایک لمحہ وقف کردیاتھا، انہوں نے اپنی پوری حیات مستعار مسلک برکاتیت کے نقیب اور مسلک رضا کے علم بردار کی حیثیت سے گزار دی، شہزادۂ امام احمد رضا حضور مفتی اعظم ہند علامہ شاہ محمد مصطفی رضا نوری علیہ الرحمہ سے بھی سید میاں کو بے حد گہرا لگاؤ تھا اور دونوں بزرگوں میں ایک دوسرے کا حد درجہ احترام وادب باقی رہا، آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کے سلسلے میںدونوں حضرات ایک دوسرے کے اور بھی قریب آگئے اور جماعت کا کام کرتے ہوئے دونوں ایک دوسرے کے رفقائے کار بن گئے، بہ قول نظمی میاں:
’’حضور مفتی اعظم ہند کا یہ معمول رہا کہ آخری فیصلہ سید میاں کا ہی مانتے تھے۔‘‘
(سیدین نمبر، ص:۵۰۵)
ماقبل کی سطور میں گزرا کہ چند وجوبات کی بنیاد پر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء کی صدارت سے سید میاں کا استعفا دینا اور مفتی اعظم ہند کابریلی سے بمبئی آکر استعفا واپس لینے پر مجبور کرنا اسی محبت ووارفتگی کا ثبوت تھا۔ ان دونوں بزرگوں میں خط وکتابت کاسلسلہ عرصۂ دراز سے قائم تھا، اسی پس منظر میںسید نظمی میاں مارہروی کے دو اشعار پڑھ لیں:
مفتی اعظم جنہیں خط میں لکھیں یاسیدی
 ہاں وہی فخر سیادت حضرت سید میاں
مفتی اعظم سے پوچھا آپ کا پیارا ہے کون
 آگیا ان کی زباں پر برملا سید میاں
احترام علما ومشایخ:
خانوادۂ برکاتیہ کے مشایخ کرام اور سجادہ نشینان کی دیرینہ روایت رہی ہے کہ وہ علماے اہل سنت کا بے حد احترام کرتے ہیں اور انہیں دل کے نہاں خانے میں جگہ دیتے ہیں، اعراس کے مواقع پر بھی یہ منظر خوب دیکھنے کو ملتا ہے۔حضور سید العلماء قدس سرہ کو احترام علما کا یہ بیش قیمت جوہر وافر مقدار میں عطا ہواتھا آپ اپنے معاصر علمائے اہل سنت ومشایخ طریقت کا حد درجہ ادب واکرام کرتے تھے، حضور مفتی اعظم سے متعلق اوپر کی سطور پر اجمالاً روشنی ڈالی جاچکی ہے، استاد محترم حضور صدر الشریعہ علامہ امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے سید میاں قدس سرہ غایت درجہ عقیدت ومحبت فرماتے اور ادب واحترام سے آپ کا ذکر فرماتے، اس ضمن میں حضرت مولانا عابد حسین مصباحی لکھتے ہیں:
’’۴؍ ذو الحجہ ۱۴۱۵ھ کو مولانا مبین الہدیٰ صاحب نورانی خلیفۂ حضور مفتی اعظم ہند نے ایک ملاقات پر راقم سے یہ واقعہ بیان فرمایا: کہ ایک مرتبہ سیدالعلماء حضرت سید آل مصطفی مارہروی قدس سرہ بیت الانوار ایک جلسہ کی بابت تشریف لائے، خواص وعوام کی ایک مجلس میں حضرت صدرالشریعہ کا تذکرہ چھڑ گیا تو حضرت سید العلماء نے برجستہ فرمایا کہ ’’حضرت صدر الشریعہ کا وہ مقام ہے کہ اگر آپ کی جوتیاں مجھے مل جائیں تو میں اپنے سر پر رکھنے کو باعث فخر وانبساط سمجھوںگا اور انہیں سر پر لیے گھومتا رہوں گا۔ ‘‘
ترے غلاموں کا نقشِ قدم ہے راہ خدا
وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے
(ماہ نامہ اشرفیہ کا صدر الشریعہ نمبر، اکتوبر، نومبر ۱۹۹۵ء ص:۱۹۲، ۱۹۳)
سید العلماء سید آل مصطفی مارہروی حضور صدر الشریعہ کی مجسم کرامت کا نام ہیں جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔حضور حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مراد آبادی اور سید میاں علیہ الرحمہ کے مابین قلبی روابط اور دینی تعلقات کو بھی اس خصوص میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ جس کا واضح ثبوت ۶؍ مئی ۱۹۷۲ء میں الجامعۃ الاشرفیہ کے سنگ بنیاد کے موقع پر کل ہند تعلیمی کانفرنس میںحضور سید میاں کا مفتی اعظم ہند کے ساتھ شرکت، خطبہ صدارت اور تعاون کا وعدہ آج بھی اشرفیہ کی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا ہوا ہے، سید میاں کے چھوٹے بھائی احسن العلماء سید شاہ مصطفی حیدر حسن مارہروی قدس سرہ کے روابط اور دونوں بزرگ بھائیوں کے تعلقات اور گہری قلبی وابستگی کے گواہ آج بھی سیکڑوں لوگ زندہ مل جائیں گے اس سلسلے میں شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی اور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفیٰ امجدی کے تاثرات بھی اہمیت کے حامل ہیں۔
خطابت کی منفرد آواز:
تبلیغ دین کے کار آمد ذرائع میں تحریر وقلم اور تدریس وافتا کے ساتھ تقریر وخطابت کی افادیت وضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، یہ بڑا منظم اور انتہائی مفید فن ہے، اس فن کو انتہائی آسان اور بے حد منافع بخش تصور کرلیاگیا ہے، آسان ضرور ہے لیکن اس کے لیے جو اس فن کو پیشہ بنالے اور یہی اس کا ذریعۂ معاش ہو لیکن جو تقریر وخطابت کو اشاعت مذہب حق کا مؤثر وسیلہ گردانتا ہو اور حقائق ومعرفت سے لبریز اور اخلاص وجذبۂ دروں سے ہم آہنگ خطبات پیش کرتا ہو اس کے مشکل اور دقت طلب ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا، یہ میدان انبیا ومرسلین علیہم الصلوٰۃ والسلام کا مرغوب میدان رہا ہے، ان کی زبان فیض ترجمان سے نکلے ہوئے الفاظ ہیرے اور جواہرات ہیں، ان کا اثر براہ راست دل پر ہوتا تھا اور دل کی دنیا زیر وزبر ہونے لگتی تھی۔ حضور سید العلماء سید آل مصطفی قادری مارہروی قدس سرہ نے بھی اس میدان کو چنا اور یہ عظیم فن اختیار کیا تو اس لیے نہیں کہ وہ دور دور تک مشہور ہوجائیں اور ان کا سکہ دلوں پر قائم ہو اور نذرانوں سے جیب وزنی ہوجائے بلکہ آپ کی پوری زندگی گواہ ہے کہ آپ کی خطابت دین وسنیت کے لیے وقف تھی، کبھی بھی اس فن کو حصول زر اور دنیا طلبی کا ذریعہ نہ بنایا، آپ اپنے اس اصول پر تا حیات قائم رہے۔ اللہ عزوجل نے آپ کو جو جوہر خطابت اور حسن تقریر عنایت فرمایاتھا اسے آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں تو آبدیدہ ہوجاتے ہیں، دل ودماغ عش عش کرنے لگتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ براہ راست جن سماعتوں نے آپ کی خطابت کی لذت پائی ہے اور آپ کی تقریر کی حلاوت جن کانوں میں آج بھی رس گھول رہی ہے ان کے چند تاثرات پیش کردوں جس کو پڑھ کر قارئین خود اندازہ لگا سکیں گے کہ خطابت کی اس منفرد آواز میں کتنا دم خم تھا۔
تاج العلماء سید شاہ اولاد رسول محمد میاں قادری قدس سرہ نے ’’زمانۂ قدیم میں عرس قاسمی کی تقریبات‘‘ میں حضور سید العلماء کی ایک تقریر ’’تفسیر سورۂ فاتحہ‘‘ (یہ تقریر اس مجموعے میں شامل ہے) پر درج ذیل تبصرہ فرمایا ہے:
’’مولانا عبد السلام صاحب کے بیان کے بعد مولانا حافظ قاری حکیم سید شاہ آل مصطفی میاں صاحب سلمہ نے سورۂ فاتحہ مبارکہ کی تفسیر وتشریح کرتے ہوئے اتباع شریعت مطہرہ اور صورۃً سیرۃً، ظاہر وباطن میں سچی کامل اطاعت وغلامی محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور تمام جہاں وجہانیاں سے زائد حضور اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کو محبوب رکھنے کی ضرورت واہمیت بتائی اور روشن کیا کہ جو آقائے دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا سچا پکا فرماں بردار محب ومخلص غلام ہے وہ اپنے آقائے کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کے دشمنوں، معاندوں، تمام اگلے اور پچھلے کفار ومشرکین مرتدین ومبتدعین سے حتی الوسع قطعاً دور ونفور رہتا ہے۔ جو ایک طرف سردار دو جہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی محبت وغلامی کا دعویٰ کرے دوسری طرف ان کے دشمنوں، مخالفوں، معاندوں کی مدح وتعریف کے گیت گائے، ان کو اپنا مقتدا اور پیشوا، رہبر ورہنما، محبوب قائد اعظم اور بڑا پرہیزگار، روح اعظم وغیرہ وغیرہ بڑے القاب وخطاب سے سرا ہے، ان سے گھال میل، الفت ومحبت رکھے وہ ضرور اپنے دعویِ ایمان اور غلامی ومحبت آقائے دو عالم علیہ الصلوٰۃ والسلام میں جھوٹا اور کھوٹا ہے۔‘‘
(اہل سنت کی آواز، مارہرہ مطہرہ، خصوصی شمارہ اکابر مارہرہ نمبر، حصہ سوم، ۲۰۱۱ء ص:۱۹۹)
شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ رقم طراز ہیں:
’’حضرت سید العلماء قدس سرہ خطابت میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے، دلکش، بلند آواز، ساحرانہ طرز بیان، نکات ودقائق سے بھرپور تقریر ایسی کہ گھنٹوں سنتے رہیے، مگر جی نہ بھرے، بمبئی میں ایام محرم میں وعظ کی سیکڑوں مجالس منعقد ہوتیں، لیکن ہمیشہ سب سے زیادہ مجمع حضرت سید العلماء کی محفل میں ہوتا تھا، ویسے تو حضرت بہت نحیف ونازک نظر آتے تھے لیکن تقریر کے وقت ہمیشہ جوان معلوم ہوتے تھے۔ پانچ پانچ گھنٹے مسلسل وعظ فرماتے مگر ذرا بھی تکان کا نام نہ ہوتا، نہ کبھی حضرت کی آواز بیٹھتی، یکساں مسلسل تقریر فرماتے اور کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ صبح نماز فجر تک وعظ ہوتا رہتا اور لاکھوں لاکھ کا مجمع محویت کے ساتھ سنتا رہتا، ذکر شہادت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔‘‘
(سیدین نمبر، ماہ نامہ اشرفیہ، ۲۰۰۲ء ص:۴۶۷)
ایک دوسرے مقام پر شارح بخاری مزید فرماتے ہیں:
’’تقریر وخطابت کے سلسلے میں دنیا ان کا لوہا مانتی تھی، کوئی بھی موضوع ہو، کتنا ہی خشک ہو، اس کو بلا تکلف ایسی شگفتگی کے ساتھ بیان فرماتے کہ بے پڑھے لکھے عوام پر بھی بار نہ ہوتا تھا۔‘‘
 (کتابچہ، حضور سید العلماء، ص:۱۳)
شہزادۂ سید العلماء سید آل رسول حسنین میاں نظمی مارہروی لکھتے ہیں:
’’سید میاں علیہ الرحمۃ والرضوان نے کبھی تقریر سے پہلے تیاری نہیں کی۔ کیسا ہی موقع ہو، کیسا ہی ماحول ہو، کیسا ہی موضوع ہو، سید میاں موقع ومحل کے اعتبار سے اپنا موضوع طے کرتے اور بیان کرنے لگتے، نپے تلے الفاظ، مسحور کن پیرایہ، قرآن وحدیث اور اقوال اسلاف سے حوالہ جات سید میاں کی تقریروں کی خصوصیت تھی۔‘‘ (سیدین نمبر، ص:۵۰۳)
مفتی مظفر احمد قادری بدایونی تحریر فرماتے ہیں:
’’اس فرزند رسول اللہ میں بیک وقت شجاعت حیدری، سیادت حسنی، اور شہادت حسینی سب ہی چیز جمع تھی، اس مرد خدا کو دین وملت کی خدمات میں نہ دن کو چین آتا نہ رات کو آرام۔
سرکار سید العلماء سید الحکماء قدس سرہ کی ذات ستودہ صفات سے کون واقف نہیں ہے۔ کون نہیں جانتا کہ خطابت وبلاغت کا یہ شہ سوار جس وقت منبر پر رونق افروز ہوتا تو زمین کی خوش بختی پر آسمان کے تاروں کو بھی رشک ہوتا۔ زور بیانی پر جس وقت اتر جاتا تو فارابی وارسطو کے ماتھے پر بھی پسینہ آجاتا۔ خاموشی میں تکلم کی حلاوت، الفاظ دل نشیں، خوب صورت وبارعب چہرہ، کشادہ پیشانی، موزوں قامت، چھریرا بدن، حاضر جوابی ایسی کہ ہزاروں لاکھوں کے مجمع پر کنٹرول کرلینا ان کا ادنیٰ کام تھا، آپ کی ایک آواز پر حاضرین گوش بر آواز ہوجاتے تھے۔‘‘
 (اہل سنت کی آواز، ۱۹۹۹ء ص:۲۳۱، ۲۳۲)
خطیب البراہین حضرت علامہ صوفی محمد نظام الدین خلیفۂ حضور احسن العلماء لکھتے ہیں:
’’رئیس الخطباء مقتداے اہل سنت حضور سید العلماء کی ذات گوناگوں خوبیوں کی مالک تھی۔ آپ اعلیٰ درجے کے خطیب، بہترین نثر نگار اور خوش فکر شاعر بھی تھے۔ آپ کی خطابت کی پورے ملک میں دھوم تھی۔ ‘‘ (سیدین نمبر، ص:۳۶۸)
شہزادۂ حضور صدر الشریعہ محدث کبیر حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ امجدی رقم طراز ہیں:
’’حضور سید العلماء ایک بلند پایہ فکر انگیز خطیب، معاصرین علما میں بے مثال مفکر، طبیب حاذق، زاہد شب زندہ دار، نخبۃ الصوفیہ، قادر الکلام شاعر اور نقاد بھی تھے، جماعتی شیرازہ بندی کے ماہر، شکل وصورت دلوں کو موہ لینے والی، آواز میں گھن گرج، بہت خوش مزاج، مگر شخصیت سے ہیبت حق کا جلوہ نمایاں، دنیا سے بے نیاز اور اصول کے پابند تھے، جب تک آپ بمبئی میں قیام پذیر رہے کسی بدمذہب کو پر مارنے کی بھی مجال نہ ہوئی۔‘‘ (سیدین نمبر، ص:۳۴)
حضرت علامہ بدر القادری مصباحی ارقام فرماتے ہیں:
’’حضرت سید العلماء سید الخطباء اور امام المقررین تھے۔ ان کے خطبوں اور تقریروں کے آہنگ پر ایک زمانے میں شہر ممبئی کی فضائیں بدلا کرتی تھیں، وہ سید برکاتیت جب حق کی للکار کے لیے گرجتا تھا تو سیاست کے ایوان میں زلزلہ آجاتا تھا۔‘‘ (سیدین نمبر، ص:۶۶۱)
ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی لکھتے ہیں:
’’حضور سید العلماء کو تاریخ پر بڑا عبور حاصل تھا۔ آپ کی تقریریں بڑی پُرجوش ہوتی تھیں، کبھی کبھی آپ مقفیٰ ومسجع تقریر بھی کرتے تھے، محرم الحرام کی دس گیارہ روزہ تقریریں تو یادگار تقاریر ہوا کرتی تھیں۔ شب عاشورہ کی تقریر خصوصیت کے ساتھ بہت ہی معلوماتی، اصلاحی، پرجوش اور ساتھ ہی ساتھ رقت آمیز ہوتی تھی۔ راقم نے آپ کی بمبئی کی تقریروں کی کیسٹیں سنی ہیں اور استقامت ڈائجسٹ کان پور کے شہید اعظم نمبر میں شب عاشورہ کی جو تقریر پڑھی ہے وہ ایک یادگار اور تاریخی تقریر ہے اور آج کے لفاظ مقررین اس تقریر سے کئی تقریریں تیار کرسکتے ہیں، البتہ وہ قابلیت، انداز، لب و لہجہ اور جذبۂ صادق کہاں سے لائیں گے۔‘‘ (حوالہ سابق، ص:۳۸۳)
مولانا بشیر احمد بشیر القادری لکھتے ہیں:
’’(حضور سید العلماء نے) اپنے زور خطابت سے بمبئی جیسے عظیم شہر کو ایسا مسخر کردیا کہ اپنے تو اپنے، غیروں نے بھی اعتراف کیا کہ سید العلماء کا بمبئی شہر میں وہ وقار واقتدار ہے کہ بمبئی کے سنی مسلمانوں کو جدھر چاہیں جھکادیں، ان کے دلوں پر قبضہ تھا۔‘‘
آگے مزیدایک تاریخی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’ایک بار شب عاشورہ میں چھ گھنٹے ذکر شہادت بیان فرمایا، بمبئی شہر کی چہل پہل، ٹرافک، گلی کوچہ سب جام تھے، مجمع کا یہ عالم تھا کہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آرہاتھا، شہادت اکبر پر جو بیان فرمایا کہ سارا مجمع آہ ونالے بھر رہاتھا ، رقت کا یہ عالم تھا کہ سامعین کے آنسوؤں سے دامن تر تھے اور کتنے سکتہ وبے ہوشی میں اٹھائے گئے۔‘‘ (حوالہ سابق، ص:۵۷۶)
مندرجہ بالا تأثرات اور وضاحتوں کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ حضور سید العلماء کو فن خطابت پر کامل عبور حاصل تھا۔ وہ میدان تقریر کے بادشاہ تھے، ان کے تمام کمالات وجواہر میں تقریر وخطابت کا جوہر کھل کر نمایاں ہوتا تھا، اور دلوں کو مسحور کرلیتاتھا، جذبات وکیفیات قلبی کو نئے رنگ وآہنگ سے آشنا کرتا تھا اور اپنی فتح ونصرت کا علم بند کرتا تھا، اس میں آپ کی خداداد صلاحیتوں، روحانی امانتوں، علمی بصیرتوں، تاریخی حوالوں اور زبان وبیان، انداز تکلم اور لب و لہجے کی انفرادیت سب کو دخل تھا جو انہیں یقینا ’’سید الخطباء‘‘ کے منصب پر فائز کرتا ہے۔
کشف وکرامت:
کشف وکرامت، اللہ رب العزت کی جانب سے اپنے محبوب اور مخصوص بندوں کے لیے خاص عطیہ ہے، اللہ نے اس عطیۂ بیش بہا سے حضرت سید العلما ء کو بھی مالا مال کیا تھا۔ آپ کے دفتر فضیلت وکرامات سے چند ناظرین کی خدمت میں پیش ہے۔ حضرت شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ رقم فرماتے ہیں:
’’میں خود اپنی معلومات کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ حضرت سید العلماء مستجاب الدعوات صاحب کشف وکرامات بزرگ تھے، خود میرے اوپر بارہا ایسی افتاد پڑی کہ میں پریشان ہوگیا۔ حضرت سید العلماء سے دعا کی درخواست کی، حضرت نے دعا فرمائی دعا کے بعد بشارت بھی دے دی تمہاری مصیبت ٹل گئی اور پھر ویسا ہی ہوا۔
(۱) بلرام پور میں دیوبندیوں نے اپنے پیسے اور حکام رسی کے بل بوتے پر مجھ پر اور میرے احباب پر ایک جھوٹا کیس دائر کردیاتھا، میں سخت پریشان تھا۔ عرس قاسمی میں حاضری ہوئی، دعا کی درخواست کی، دعا فرمائی اور فرمایا: مفتی صاحب جاؤ اب آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا کچھ نہ ہوگا۔ سب جانتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔
(۲) کالپی شریف حاجی دین محمد صاحب کے صاحب زادے خفا ہوکر گھر سے چلے گئے تھے اور کئی دن سے لاپتہ تھے۔ رات کو بعد جلسہ حاجی دین محمد صاحب نے حضرت سید العلما ء سے عرض کیا۔ حضور دعا فرمائیں وہ آجائے۔ حضرت سید العلماء نے فرمایا کہ صبح کی گاڑی سے آجائے گا۔ میں اس وقت وہاں حاضر تھا، صبح جب گاڑی کی سیٹی ہوئی، اورئی کے مولوی بشیر القادری صاحب موجود تھے، ان سے فرمایا: دروازہ کھولو دیکھو وہ آگیا۔ انہوں نے دروازہ کھولا، دیکھا تو صاحب زادے دروازے پر کھڑے تھے۔ (کتابچہ، حضور سید العلماء ، از: شارح بخاری، ص:۱۶،۱۷)
(۳) مولانا بشیر احمد بشیر القادری اورئی بیان کرتے ہیں:
۱۹۵۶ء میں اورئی میں فرقہ وارانہ فساد ہوگیا۔ جس میں ہمارے اور مسلمانوں کے مکانات اور دکانیں جلا دی گئیں، سب کچھ لٹ گیاتھا، ہمارے ساتھیوں کو اور اورئی کے بااثر مسلمانوں کو پولس نے گھروں سے پکڑ پکڑ کر جیل میں بند کردیاتھا، میری بھی پولس کو تلاش تھی۔ میں بمبئی چلا آیا، یہاں حضور سید العلماء رضی اللہ عنہ کی شہرت تھی وہ اپنے وقت کے عارف باللہ، درویش کامل، قطب زمن اور روشن ضمیر بزرگ تھے۔ ان کی کرامت کا خوب چرچاتھا۔ خادم اپنے دوست عبد القادر بابا کے ساتھ مسجد کھڑک نماز پڑھنے جاتا، سرکار کی خدمت میں اور مسجد کھڑک میں اپنا وقت گزارتا، قلب کو سکون ملتا۔ لیکن جب اورئی کی یاد آتی، کسی پولس والے کو دیکھتا، دل گھبرانے لگتا، چہرے پر پسینہ آجاتا، کئی بار دل میں آیا کہ اپنے حالات حضور سید العلماء کی بارگاہ میں عرض کروں مگر ہمت نہیں پڑتی، آخر دل پر جبر کرکے اٹھا اور سرکار سید العلماء کی دست بوسی ومصافحہ کیا، آنکھوں سے آنسو نکل پڑے، حضور نے فرمایا: کیوں روئے، کیا بات ہے؟ غلام نے اپنا حال عرض کیا، فرمایا: بیٹے بشیر! گھبراؤ مت، اللہ پر بھروسہ رکھو، ہم نے تمہارا معاملہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں عرض کردیا ہے، ان شاء اللہ کچھ نہ ہوگا جاؤ۔ خادم سلام وقدم بوسی کے بعد واپس چلا آیا، مجھے ایسا لگا کہ جیسے میرے سر پر بوجھ تھا کسی نے اتار لیا، اسی وقت سے میرے دل میں ڈر، خوف ختم ہوگیا اور بمبئی میں اطمینان وسکون سے رہنے لگا۔ پولس والوں کے سامنے سینہ تان کر نکل جاتا، دل یہ کہتا اب ڈرنے کی کیا بات ہے۔ حضور سید العلماء رضی اللہ عنہ ہمارے ساتھ ہیں، ان کے کرم سے ہم محفوظ ہیں، ہمارا کچھ نہ ہوگا اور یہی ہوا، تقریباً چھ ماہ بعد اورئی سے اطلاع ملی کہ تمہارا نام پولس نے جانچ میں خارج کردیا ہے۔ سبحان اللہ کیا شان ہے سید العلماء کی، میرے آقا! تمہارے کرم کا کیا کہنا جو فرمایا وہ ہوکر رہا۔
(سیدین نمبر، ص:۵۷۸، تا ۵۸۰، ملخصاً)
(۴) مولانا بشیر القادری اورئی رقم طراز ہیں:
دوسری بار حضور سید العلما ء رحمۃ اللہ علیہ جب ۱۹۶۶ء میں اورئی تشریف لائے ،دارالعلوم برکات محمدیہ کا سالانہ جلسہ تھا، چیت کی فصل کٹ رہی تھی، باہر کے مہمانوں کے آنے کی امید کم تھی، لہٰذا کھانا کم بنوایاتھا مگر مہمان بکثرت آگئے۔ میں بہت پریشان تھا کہ اب کیا ہوگا؟ میری پریشانی کو دیکھ کر حضور نے فرمایا بیٹا بشیر! کیا بات ہے؟ عرض کیا: سرکار! مہمان زیادہ ہیں کھانا کم بنوایا ہے۔ جلسہ کا وقت شروع ہونے کا ہے۔ اتنی جلدی کھانا بن نہیں سکتا، سمجھ میں نہیں آرہا ہے کیا کروں؟ فرمایا گھبرانے کی کیا بات ہے، جاؤ کھانے پر چادر ڈال دو، دیکھنا مت۔ کھانا کھلانا شروع کردو، خادم نے کھانا کھلانا شروع کردیا، واللہ سارے مہمان کھا گئے، ہم خوش خوش سرکار کی بارگاہ میں حاضر ہوئے حضور نے پوچھا سب مہمان کھا چکے، میں نے کہا جی۔ حضور نے فرمایا جاؤ چادر ہٹا کر دیکھو کتنا کھانا ہے اب ہم نے چادراٹھا کر دیکھا تو آدھا کھانا موجود تھا خادم نے کل دس کلو گوشت اور بیس کلو آٹے کی روٹی بنوائی تھی جس میںتقریباً تین سو حضرات نے کھانا خوب سیر ہوکر کھایا اور آدھا بچ رہا۔ کیوں نہ ہو شاہ برکت اللہ کی برکتیں ہیں ان کے ہاتھ میں۔ (سیدین نمبر، ص:۵۸۶، ۵۸۷)
وفات حسرت آیات:
حضرت سید العلماء کی وفات ممبئی میں یکم جولائی ۱۹۷۴ء/ ۱۰؍ اور ۱۱؍ جمادی الآخرہ ۱۳۹۴ھ کی درمیانی شب ۱۱؍ بج کر ۴۰؍ منٹ بروز دو شنبہ ہوئی، وصال کے وقت حضرت سید العلماء کی عمر ساٹھ برس کی تھی۔ انہیں سرکاری توپوں کی سلامی دی گئی اور سرکاری اعزاز کے ساتھ بذریعہ طیارہ مارہرہ شریف لے جایاگیا، جہاں آپ کے صاحب زادے سید آل رسول حسنین میاں نظمی دام ظلہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ خانقاہ عالیہ برکاتیہ مارہرہ شریف میں پیرومرشد کے پہلو میں آپ کی آخری آرام گاہ زیارت گاہ خلائق ہے۔
حضرت علامہ ضیاء المصطفیٰ قادری دام ظلہ العالی حضرت سید العلماء علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد حضرت سیدی مفتی، اعظم ہند مولانا مصطفی رضا اورحضور حافط ملت علیہما الرحمۃ والرضوان کے قلوب پر ہونے والے گہرے صدمے کی کیفیت کا تذکرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’آپ کے وصال کی خبر سے پورے ہندوستان میں تہلکہ مچ گیا۔ جب یہ اندوہ ناک خبر بذریعہ تار اشرفیہ پہنچی تو فوراً حضور حافظ ملت نے تعزیت وایصال ثواب کا اجلاس طلب فرمایا اور مجھے اس سلسلہ میں تقریر کا حکم دیا۔ پھر حضرت نے عالم رقت میں فرمایا: ’’سید العلماء علیہ الرحمہ کا الجامعۃ الاشرفیہ پر بہت بڑا احسان ہے۔‘‘ حضور سیدی مفتی اعظم ہند قبلہ اس دور میںبستر علالت پر اکثر عالم محویت میں ہوتے، شاید آپ کو حضرت سید العلماء کی رحلت کی خبر شدت مرض کی بنیاد پر نہ دی گئی۔ ایک روز جب آپ کو باہر دارالافتا میں لایا گیا تو آپ کی نظر ایک پرشکوہ پوسٹر پر پڑی۔ عنوان تھا: ’’عرس چہلم سید العلماء‘‘ آپ پر رقت طاری ہوگئی فرمایا: آہ! یہ بھی رحلت فرما گئے، اور فوراً فاتحہ خوانی فرمائی۔‘‘
(سیدین نمبر، ص:۳۴،۳۵)
یہ سوانحی تحریر حضور سید العلماء سید شاہ آل مصطفی قادری مارہروی قدس سرہ کی بلند پایہ ذات اور ہمہ جہت کارناموں کا اجمالی خاکہ پیش کرتی ہے ورنہ ان کی مثالی شخصیت اور دینی وعلمی خدمات کو کما حقہ تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کی کم از کم میری زبان وقلم میں طاقت نہیں ہے۔ لیکن اتنا ضرور عرض کریں گے کہ     ؎
بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری
توفیق احسنؔ برکاتی          (۲۲؍ ستمبر ۲۰۱۲ء -۵؍ ذوقعدہ ۱۴۳۳ھ شنبہ)


..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg