Instagram

Saturday, 29 April 2017

Islam Awr Huqooq E Niswan




اسلام اور حقوق نسواں
محمد ابرار مصباحی
البرکات اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ

مذہب اسلام اس دنیا میں اس وقت آیا جب انسانیت دم توڑ رہی تھی، انسانی ظلم و جور پر ظلم کی تاریخ بھی آنسو بہا رہی تھی اور عدل ومساوات کی روح تقریبا عنقا ہو چکی تھی۔ اسلام نے ایسے نامساعد حالات کے با وجود عدل وانصاف کا نعرہ بلند کیا اور عملاً بھی اس کی شاندار تصویر پیش کی، حاکم و محکوم آقا وغلام اور اونچ نیچ کے نا ہموار ٹیلوں سے بھرے صحرائے انسانیت میں عدل و انصاف، برابری و مساوات اور یکسانیت و ہم آہنگی کے پھول کھلا کر اسے باغ و بہار بنا دیا۔
تاریخ انسانی کا اگر جائزہ لیا جاے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جو عورت عالم گیتی پر جانوروں بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ بے وقعت و مظلوم تھی اسلام نے اسے ذلت و پستی کے تحت الثریٰ سے اٹھا کر عظمت و بلندی کے بام ثریا پر رونق افروز کر دیا، اور اسے ایسے ایسے حقوق عطا کیے جن کا تصور بھی بعثت نبوی سے قبل ناممکن و معدوم تھا۔ اگر عقل و خرد کو تعصب سے پاک و صاف کر کے دل و دماغ سے اسلامی تعلیمات کا منصفانہ جائزہ لیا جاے تو یہ بات آفتاب نیم روز کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ عورت چونکہ تمدن انسانی کا محور و مرکز ہے ، گلشن ارضی کی زینت ہے ، اس لیے اسلام نے با وقار طریقے سے اسے ان تمام معاشرتی حقوق سے نوازہ جن کی وہ مستحق تھی۔ چنانچہ اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ قرار دیا ، دیگر اقوام کے بر عکس اسے ذاتی جائداد و مال رکھنے کا حق عطا کیا، اور اسے بیوی ،بیٹی ،بہن اور ماں کی شکل میں وراثت ک حصہ دار بنایا، اس کے تمام جائز قانونی حقوق کی نشان دہی کرکے اسے معاشرے کی قابل احترام ہستی قرار دیا۔ اسلامی تعلیمات میں بچی کی ولادت باعث رحمت ہے ، اس کی تربیت کا ایک خاص نظام اور نصاب ہے جو آنے والے وقت میں عفت وعصمت کے ساتھ نکاح جیسی تقریب کے حوالے سے اس پر ایک دوسرے خاندان کی تشکیل کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ ماں کی حیثیت سے وہ ایک صحت مند اور حیا دار نسل کو اسلامی معاشرے کے سپرد کرتی ہے۔
اسلام نے عورت کو ایسا مقام و مرتبہ دیا ہے اور اس کے لیے حقوق و رعایات کا ایسا سامان فراہم کیا ہے جس کی مثال تاریخ کے اوراق بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ بالخصوص وراثت کے احکام میں تو مردوں کے حصے کا تعین کرنے کے لیے عورت کے حصے کو بنیاد بنایا گیا۔ مرد کو اس کی کفالت کا ذمہ دار بنا کر کس معاش کی مشقت سے اسے محفوظ رکھا۔ اگر وہ بیٹی ہے تو والدین اس کی نگہداشت کریں گے، اگر بیوی ہے تو اس کی کفالت شوہر کے ذمہ ہو گی،اگر ماں ہے تو اولاد اس کے لیے سامان راحت فراہم کرے گی اور اگر بہن ہے تو بھائی اس کے معاون و مدد گار ہوں گے۔ یوں عورت زندگی کے کسی گوشے میں اور عمر کے کسی حصے میں معاشی یا معاشرتی پریشانی کا شکار نہیں ہوتی۔ اگر حقیقی اسلام کو سمجھا جاے اور شریعت کے ضوابط کو پیش نظر رکھا جاے تو معاشرتی زندگی میں اسلام نے جو حقوق عورت کو عطا کیے ہیں اور اسے جو تحفظ فراہم کیا ہے وہ کسی دوسری تہذیب میں ممکن نہیں۔ مرد کے حق طلاق کے ساتھ عورت کو خلع کا حق عطا کرنا عدل کی بہترین صورت ہے۔ شادی کے موقع پر عورت کے مہر کی ادائیگی حسن سلوک کا بہترین عمل ہے۔ شادی پر ولیمے کی تقریب کا انعقاد اس کے استقبال کا بہترین ذریعہ اور دلکش لحاظ ہے۔ پھر قرآن مجید نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دے کر ان کی ازدواجی زندگی کا تعین کر دیا ہے۔
﴿ھُنَّ لِبَاسٌ لَکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَھُنَّ﴾(البقرۃ، ۱۸۷)
ترجمہ: وہ تمھاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس۔ (کنز الایمان)
عورت قبل بعثت: بعثت نبوی سے قبل عورت سماجی عزت و احترام سے بالکل محروم تھی۔ اسے تمام براؤں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا۔ بیٹی کی ولادت کو باعث ننگ و عار سمجھا جاتا تھا۔عورتوں کے تعلق سے اہل عرب کے اس بد ترین رویے کو بیان کرتے ہوے اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
﴿وَاِذا بُشِّرَ اَحَدُھُمْ بِا لْاُنْثٰی ظَلَّ وَجْھُہ‘ مُسْوَدًّا وَّھُوَکَظِیْمٌّ﴾ (النحل، ۵۸)
ترجمہ: اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے۔ (کنزالایمان)
بچیاں پیداہوتے ہی زندہ در گور کر دی جاتی تھیں، ان کی کفالت و پرورش باعث عار سمجھی جاتی تھی۔ حالانکہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ طبقۂ نسواں کے بغیر بنی نوع انسان کی بقا ہی نہیں ہے۔ مگر انھیں اس بات کی بالکل پرواہ نہیں تھی۔ اس جرم عظیم کا ارتکاب کرتے وقت نہ تو انھیں شرم دامن گیر ہوتی اور نہ انھیں ترس آتا۔ بلکہ یہ کام وہ فخریہ انداز میں کیا کرتے تھے۔ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کی رسم قبیح کا تذکرہ قرآن کریم میں اس طرح ہے:
﴿وَاِذَا الْمَوْء‘دَۃُ سُءِلَتْ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ﴾ (التکویر، ۸،9)
ترجمہ: اور جب زندہ دبائی ہوئی سے پوچھا جائے کہ کس خطا پر ماری گئی۔(کنزالایمان (
قرآن کریم کی ان آیات سے واضح ہے کہ بعثت نبوی سے قبل عورت کا وجود ناپسندیدہ تھا۔ ہر قسم کی بڑائی اور فضیلت صرف مردوں کے لیے سمجھی جاتی تھی عورتوں کا اس میں کوئی حصہ نہ تھا حتی کہ عام معاملات زندگی میں بھی اچھی چیزیں مرد خود استعمال کرتے اور معمولی چیزیں عورتوں کو دیتے۔اہل عرب کے اس طرز عمل کو قرآن کریم میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
﴿وَقَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ ھٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِذُکُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلیٰٓ اَزْوَاجِنَا وَاِنْ یَّکُنْ مَّیْتَۃً فَھُمْ فِیْہِ شُرَکَآءُ سَیَجْزِیْھِمْ وَصْفَھُمْ اِنَّہ‘ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ﴾ (الانعام، ۱۳۹)
ترجمہ: اور بولے جو ان مویشی کے پیٹ میں ہے وہ نرا ہمارے مَردوں کا ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر مرا ہوا نکلے تو وہ سب اس میں شریک ہیں قریب ہے کہ اللہ انھیں ان کی باتوں کا بدلہ دے گابے شک وہ علم حکمت والا ہے۔(کنزالایمان)
قبل بعثت عورت کی حق ملکیت سے محرومی: زمانۂ جاہلیت میں عورتوں کو کسی چیز کے مالک بننے کا حق حصل نہیں تھا، نا انہیں وراثت ملتی تھی، صرف مردوں کو وارث بننے کا حق حاصل تھا۔ اس پر ان کی دلیل یہ تھی کہ وہ ہتھیار اٹھاتے ہیں اور قبیلوں کا دفاع کرتے ہیں۔ اس معاشرے میں عورت کو محض میراث سے محروم کرنے پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ وہ عورت کو بھی وراثت میں سامان کی طرح بانٹ دیا کرتے تھے۔
"عن ابن عباس قال: کانوا اذا مات الرجل کان أولیاۂ أحق بامرأتہ ان شاء بعضھم تزوجھا وان شاءُ وا زوجوھا وان شاءُ وا لم یزوجوھا فھم أحق بھا من أھلھا فنزلت ھذہ الآیۃ" (صحیح البخاری: کتاب تفسیر القرآن، باب لا یحل لکم)
ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ جب آدمی مر جاتا تو اس کے ورثا اس کی بیوی کے حق دار ہوتے، اگر ان میں سے کوئی چاہتا تو اس سے شادی کر لیتا یا جس سے چاہتے اس سے اس کی شادی کرا دیتے اور اگر نہیں چاہتے تو نا کراتے اس طرح عورت کے سسرالی اس کے میکے والوں سے زیادہ اس پر حق رکھتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
﴿یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوْاا لنِّسَآءَ کَرْھًا وَلَاتَعْضُلُوْ ھُنَّ لِتَذْھَبُواْ بِبَعْضِ مَآاٰتَیْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ یَاْ تِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُبَیِّنَۃٍ وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْءًا وَّیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا﴾ (النساء،۱۹)
ترجمہ: اے ایمان والو تمہیں حلال نہیں کہ عورتوں کے وارث بن جاؤ زبر دستی اور عورتوں کو روکو نہیں اس نیت سے کہ جو مہر ان کو دیا تھا ا س میں سے کچھ لے لو مگر اس صورت میں کہ صریح بے حیائی کا کام کریں اور ان سے اچھا برتاؤ کرو پھر اگر وہ تمہیں پسند نہ آئیں تو قریب ہے کہ کوئی چیز تمہیں ناپسند ہو اور اللہ اس میں بہت بھلائی رکھے۔(کنزالایمان)
یہودیوں کے یہاں بیوہ عورت کا مالک اس کے دیور کو قرار دیا جاتا تھا ، وہ جس طرح چاہتا اس کے ساتھ معاملہ کرتا۔عورت کسی معاملہ میں مداخلت کا حق نہ رکھتی تھی۔ عیسوی مذہب میں اگر چہ یہ قانون نہ تھا ، لیکن اس کے علاوہ بیوہ کے تحفط کے لیے بھی کوئی قانون موجود نہ تھا۔
ہندوستان کی تاریخ بھی عورتوں کے تعلق سے ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہے۔ وہ ہندوستان جہاں زمانۂ قدیم سے ایک طرف تو عورت کی پوجا ہوتی چلی آرہی ہے تو دوسری طرف یہ کڑوی حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ یہاں ستی جیسی قبیح رسم رائج تھی۔ شوہر کی موت کے بعد عورت کو اس کی چتا کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتاتھا ، یا اگر کسی طرح بچ بھی جاتی تو ساری زندگی سوگ میں بسر کرتی، نہ خوشی کی محفل میں اس کو شریک ہونے کی اجازت تھی اور نہ ہی کسی تہوار وغیرہ پر خوشی منانے کا حق رکھتی تھی۔ حتیٰ کہ اسے دوسری شادی کرنے کی بھی اجازت نہ تھی ، جس کے نتیجہ میں وہ گھٹ گھٹ کر اپنی زندگی کے باقی ماندہ ایام بسر کرنے پر مجبور تھی۔
ان احوال کو سامنے رکھ کر اگر اسالام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ آج سے چودہ صدی پیشتر اسلام نے جو مقام و مرتبہ عورتوں کو دیا اس کا عشر عشیر بھی دنیا کے کسی حصہ میں انہیں میسر نہ تھا۔
اسلام میں عورت کی حیثیت: اسلام کی آمد عورت کے لیے غلامی، ذلت اور ظلم و استحصال کے بندھنوں سے آزادی کا پیغام تھی۔اسلام نے ان تمام قبیح رسوم کا قلع قمع کر دیا جو عورت کے انسانی وقار کے منافی تھیں، اور اسے ایسے ایسے حقوق عطا کیے جن کی بنا پر وہ معاشرے میں اس عزت و تکریم کی مستحق قرار پائی جس کے مستحق مرد ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے تخلیق کے معاملہ میں عورت کو مرد کے ساتھ ایک ہی درجہ میں رکھا ، اس طرح انسانیت کی تکوین میں عورت مرد کے ساتھ ایک ہی مرتبہ میں ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالاً کَثِیْرًا وَّنِسَآءً﴾ (النساء، ۱)
ترجمہ: اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیے اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔(کنزالایمان)
اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک استحقاق اجر کے معاملہ میں دونوں برابر ہیں۔ مرد و عورت میں سے جو بھی کوئی عمل کرے اسے پورا اور برابر اجر ملے گا۔چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّی لَآاُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ﴾ ( آل عمران،۱۹۵)
ترجمہ: تو ان کی دعا سن لی ان کے رب نے کہ میں تم میں کام والے کی محنت اکارت نہیں کرتامرد ہو یا عورت تم آپس میں ایک ہو۔(کنزالایمان)
اسلام نے بچیوں کو زندہ درگور کرنے سے نجات بخشی ۔ یہ وہ رسم قبیح تھی جو احترام انسانیت کے منافی تو تھی ہی مزید یہ انسانی وجود کے خاتمہ کا سبب تھی۔اسلام نے بچیوں کی پرورش کو کار ثواب قرار دے کر طبقۂ نسواں کا تحفظ فرمایا اور نسل انسانی کو بقا بخشی۔

عورتوں کو عطا کردہ اسلامی حقوق
تعلیم و تربیت کا حق: اسلامی تعلیمات کا آغاز "اِقْرَاْ"سے کیا گیااور تعلیم نافع کو شرف انسانیت اور معرفت خدا وندی کی اساس قرار دیا گیا۔رسول اکرم ﷺ نے خواتین کی تعلیم و تربیت کو اتنی ہی اہمیت و فضیلت دی ہے جتنی مردوں کو دی ہے۔اسلامی معاشرے میں یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ کوئی شخص لڑکی کو لڑکے سے کم درجہ دے کر اس کی تعلیم و تربیت کو نظر انداز کر دے۔ چنانچہ رسول اکرم ﷺ نے تعلیم نسواں کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"الرجل تکون لہ الأمۃ فیعلمھا فیحسن تعلیمھا ویؤدبھافیحسن أدبھا ثم یعتقھا فیتزوجھا فلہ اجران" (صحیح البخاری: کتاب الجھاد، باب فضل من أسلم من أھل الکتابیین)
ترجمہ: وہ شخص جس کے پاس باندی ہو پھر وہ اسے نفع بخش تعلیم دے اوراچھے آداب سکھائے پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اس شخص کے لیے دو اجر ہیں۔
یعنی ایک اجر تو اچھی تعلیم و تربیت دینے کا ، دوسرا اجر اس بات کا کہ اسے آزاد کر کے نکاح کر لیا اس طرح اسے غلامی کی ذلت سے نجات بخشی۔ اس سے ظاہر ہے کہ اسلام اگر باندیوں تک کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کو کار ثواب قرار دیتا ہے تو وہ آزاد لڑکوں لڑکیوں کے تعلیم سے محروم رکھے جانے کو کیوں کر گوارا کر سکتاہے۔ رسول اکرم ﷺ نے علم کی عظمت وفضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
" ألکلمۃ الحکمۃ ضالۃ المؤمن فحیث وجدھافہو أحق بھا"(سنن الترمذی: کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ)
ترجمہ: علم وحکمت کی بات مومن کا گمشدہ مال ہے پس وہ اسے جہاں پائے اسے حاصل کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔
عصمت وعفت کا حق: عورت کا سب سے قیمتی سرمایہ اس کی عفت وپاک دامنی ہے ۔ معاشرے میں اس کی عزت وتکریم کو یقینی بنانے کے لیے اس کے حق عصمت کا تحفظ ضروری ہے۔اسلام نے عورت کو حق عصمت عطا کیا، اور مردوں کو اس کے حق عصمت کی حفاظت کا حکم دیتے ہوئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا:
﴿قُلْ لِّلْمُؤْ مِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذَالِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِنَّاللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ﴾ (النور،۳۰)
ترجمہ: مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریںیہ ان کے لیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو ان کے کاموں کی خبر ہے۔(کنزالایمان)
اس کے بعد عورتوں کو حکم ہوتا ہے:
﴿وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا مَاظَھَرَمِنْھَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِھِنَّ عَلٰی جُیُوْبِھِنَّ وَلَایُبْدِیْنَ زِیْنَتَھُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اٰبَآءِھِنَّ اَوْاٰبَآءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْاَبْنَآءِھِنَّ اَوْاَبْنَاءِ بُعُوْلَتِھِنَّ اَوْ اِخْوَانِھِنَّ اَوْبَنِیٓ اِخْوَانِھِنَّ اَوْ بَنِی اَخَوٰتِھِنَّ اَوْنِسَآءِھِنَّ اَوْ مَامَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ اَوِالتّٰبِعِیْنَ غَیْرِاُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِالطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْھَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَاءِ وَلَایَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِھِنَّ لِیُعْلَمَ مَایُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنِتِھِنَّ وَتُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾ (سورۃ النور، الآیۃ، ۳۱)
ترجمہ: اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپناسنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتوں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی ملک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنھیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔ (کنزالایمان)
تحفظ عصمت ہی کی وجہ سے عورت کو تنہا سفر کرنے سے منع کیاگیاہے:
"عن عبداللہ ابن عمر عن النبی ﷺ قال: لایحل لامرأۃ تؤمن باللہ والیوم الآخر تسافر مسیرۃ ثلاث لیال الاومعھا ذومحرم" (صحیح لمسلم: کتاب الحج، باب سفر المرأۃ مع محرم الی حج وغیرہ)
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو عورت اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے یہ حلال نہیں کہ تین دن کاسفر بغیر محرم کے کرے۔
سفر شرعی یعنی تین دن سے کم جو کہ تقریباً ساڑھے بانوے کلو میٹر ہے عورت تنہا کر سکتی ہے جب کہ اس کی عزت وآبرو کو کوئی خطرہ نہ ہو ۔ لیکن اس سے زیادہ مسافت کاسفر عزت وآبرو کے خطرہ کے قائم مقام ہے لہٰذا اب بغیر محرم کے سفر جائز نہیں۔ اور یہ اس کی شخصی آزادی کے منافی نہیں ہے بلکہ اس کی عزت وآبرو کی حفاظت کا ضامن ہے۔
نکاح کاحق: اسلام سے قبل عورتوں کو مَردوں کی ملکیت تصور کیا جاتا تھااور انہیں نکاح کا حق حاصل نہیں تھا۔ اسلام نے عورت کو نکاح کا حق دیا، خواہ یتیم ہو، باندی ہویا مطلقہ، شریعت کے مقرر کردہ اصول و ضوابط کی پابندی کے ساتھ انہیں نکاح کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ یَنْکِحْنَ اَزْوَاجَھُنَّ اِذَا تَرَضَوْا بَیْنَھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ﴾ (البقرۃ: الآیۃ، ۲۳۲)
ترجمہ: اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد پوری ہو جائے تو اے عورتوں کے والیو انہیں نہ روکو اس سے کہ اپنے شوہروں سے نکاح کرلیں جب کہ آپس میں موافق شرع رضامند ہو جائیں ۔(کنزالایمان)
حق زوجیت:مرد پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ حتی الوسع حق زوجیت ادا کرنے سے دریغ نہ کرے ۔ عبادات میں زیادہ شغف بھی بیوی سے بے توجہی کا سبب ہو سکتا ہے ۔ اگر خاوند دن بھر روزہ رکھے اور راتوں میں نماز پڑھتارہے تو ظاہر کہ وہ حق زوجیت ادا کرنے سے قاصر رہے گا۔ رسول اکرم ﷺ نے اسی لیے صوم وصال یعنی روزہ پر روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ، اور زیادہ سے زیادہ صوم داؤدی کی اجازت دی ہے کہ ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن نہ رکھو۔حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ:
" قال لی النبی صلی اللہ علیہ وسلم انک لتصوم الدہروتقوم اللیل، فقلت: نعم، قال: انک اذا فعلت ذٰلک ھجمت لہ العین ونفخت لہ النفس، لاصام من صام الدہر، صوم ثلاثۃ ایام صوم الدہر کلہ، قلت: فانی اطیق اکثر من ذٰلک، قال:فصم صوم داؤد علیہ السلام کان یصوم یوما ویفطر یوما" (صحیح البخاری: کتاب الصوم، باب صوم داؤد)
ترجمہ:رسول اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا : تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور ہمیشہ قیام کرتے ہو ، میں نے عرض کیا: جی ، فرمایا: اگر ایسا کرتے رہو گے تو تمھاری آنکھوں میں گڑھے پڑ جائیں گے اور تمھارا جسم بے جان ہو جائے گا، نیز ہر مہینہ میں تین روزے رکھنا گویا ہمیشہ روزہ رکھنا ہے ۔ میں نے عرض کیا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔ فرمایا: داؤد علیہ السلام والے روزے رکھ لیا کرو جو ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہیں رکھتے۔
خلع کا حق: شریعت مطہرہ نے طلاق کا حق صرف شوہر کو دیا ہے، کیونکہ شوہر ہی خاص طور سے رشتۂ زوجیت قائم رکھنے کا خواہاں ہوتا ہے، وہ مہر اور نان و نفقہ کی صورت میں بیوی پر کافی مال خرچ کر چکا ہوتا ہے، اس لیے وہ طلاق نہ دینے کو پسند کرتا ہے، جب کہ بیوی پر شوہر کا کوئی مالی حق واجب نہیں ہوتا ، اس لیے اس کو طلاق کا حق نہیں دیا۔ تاہم اسلام نے اس دوسرے پہلو کو بھی ملحوظ نظر رکھا ہے کہ کسی وقت عورت کو بھی شوہر سے جدا ہونے کی ضرورت پیش آسکتی ہے، مثلاً شوہر حق زوجیت ادا کرنے سے قاصر ہو، یا نان و نفقہ ادا نہ کرتا ہو، یا بلا وجہ اس پر ظلم و ستم کرتا ہو، یا عورت اپنے خاوند کو ناپسند کرتی ہو، یا ان جیسی دیگر تمام صورتوں میں عورت خاوند کو یہ پیش کش کرکے کہ تم نے مجھے جو مہر یا ہدیہ وغیرہ دیا ہے وہ میں تمھیں واپس کرتی ہوں اس کے عوض تم مجھے طلاق دے دو ۔ اگر شوہر اس پر رضامند ہو کر طلاق دے دے تو ٹھیک ہے ، بصورت دیگر وہ عورت قاضی سے رجوع کر کے خاوند سے چھٹکارا حاصل کرسکتی ہے۔عورت کے اس حق کو "خلع" کہتے ہیں ۔ قرآن کی درج ذیل آیت سے اس کا ثبوط فراہم ہوتا ہے:
﴿وَلَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ شَیْءًا اِلَّااَنْ یَّخَافَا اَلَّا ٰیُقِمَا حُدُدَاللّٰہِ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حدُوْدَاللّٰہِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہِ﴾ البقرۃ،  ۲۲۹)
ترجمہ:اور تمھیں روا نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا اس میں سے کچھ واپس لو مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللہ کی حدیں قائم نہ کریں گے پھر اگر تمہیں خوف ہو کہ وہ دونوں ٹھیک انہیں حدوں پر نہ رہیں گے تو ان پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو بدلہ دے کر عورت چھٹی لے۔ (کنزالایمان)
اس آیت میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ طلاق کی صورت میں تومہر میں سے کچھ بھی لینا جائز نہیں البتہ خلع میں (عورت کی طرف سے مطالبۂ طلاق پر طلاق دینے کی صورت میں خاوند کے لیے) مہر کا واپس لینا جائز ہے۔اس میں لینے والے پر کوئی گناہ ہے نہ دینے والے پر، کیوں کہ عورت اپنی خوشی سے دے رہی ہے اور شوہر اپنا وہ مال وصول کر رہا ہے جو اس نے اس عورت پر اس نقطۂ نظر سے خرچ کیا تھا کہ وہ اس کے گھر میں آباد رہے گی ۔ لیکن اب وہ رہنے کے لیے تیار نہیں تو شوہر کا یہ وہ حق ہے جسے وہ واپس لینا چاہے تو لے سکتا ہے۔
رسول اکرم ﷺ کے طرز عمل اور فیصلے سے بھی خلع کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ:
" ان امرأ ۃ ثابت بن قیس أتت النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقالت یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم) ثابت بن قیس ما أعتب علیہ فی خلق ولا دین ولکنی أکرہ الکفر فی الاسلام، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أتردین علیہ حدیقتہ قالت نعم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اقبل الحدیقۃ وطلقھا تطلیقۃ" (صحیح البخاری: کتاب الطلاق، باب الخلع)
ترجمہ:(حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ) کہ زید بن ثابت کی اہلیہ رسول اکرم ﷺکی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئیں: یا رسول اللہ ﷺ میں کسی بات پر ثابت بن قیس سے نا خوش نہیں ہوں ، نہ ان کے اخلاق سے اور نہ ان کے دین سے ، لیکن میں اسلام میں ناشکری کرنا نہیں چاہتی( ایک دوسری روایت میں ہے کہ میں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی) تو رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس کر دو گی ؟ ( جو انہوں نے تمہیں مہر میں دیا تھا)انہوں نے کہا ہاں ۔ رسول اکرم ﷺ نے (ثابت بن قیس سے ) فرمایا : باغ لے لو اور انہیں طلاق دے دو۔
حق وراثت: اسلام نے عورتوں کو مردوں کی طرح وراثت کا حق بھی دیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿لِلرِّجَالِ نَصِبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ کَثُرَ نَصِیْبًا مَّفْرُضًا﴾ (النساء، ۷)
ترجمہ: مردوں کے لیے حصہ ہے اس میں سے جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے، اور عورتوں کے لیے حصہ ہے اس میں جو چھوڑ گئے ماں باپ اور قرابت والے ترکہ تھوڑا ہو یا بہت حصہ ہے اندازہ باندھا ہوا۔ (کنزالایمان)
لیکن اسلام کے قانون وراثت کا سطحی اور سرسری مطالعہ کرنے والوں کو یہ مغالطہ لگتا ہے کہ عورت کا حصہ محض عورت ہونے کی وجہ سے مرد سے کمتر ہے۔ یہ مغالطہ قرآن کی درج ذیل آیت مبارکہ کی حکمت صحیح طور پر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے:
﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِٓیْ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ﴾ (النساء، ۱۰)
ترجمہ: اللہ تمہیں حکم دیتاہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر۔ (کنزالایمان )
تاہم اسلام کے قانون وراثت کا بنظر غائر جائزہ اس مغالطہ کی نفی کرتا ہے۔ اسلام کا قانون وراثت عورت کے حق کی تنصیف یا تخفیف نہیں بلکہ حسن معاشرت و معیشت پر مبنی ہے۔ اسلام کا قانون وراثت عورت کے تقدس وعظمت کی پاسبانی کرنے والی درج ذیل حکمتوں پر مبنی ہے:
عورت کا حصہ تقسیم وراثت کی اکائی ہے: مذکورہ بالا آیت مبارکہ پر غور تقسیم میراث کے بنیادی پیمانے کو واضح کرتا ہے۔ یہاں مردوعوررت کا حصۂ وراثت بیان کرتے ہوئے عورت کے حصہ کو اکائی قرار دیاگیاہے کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے۔ یہ نہیں کہا گیا کہ ایک عورت کا حصہ مرد کے نصف حصہ کے برابر ہے۔ بلکہ تقسیم میراث کے نظام میں عورت کے حصہ کو اساس وبنیاد بنایاگیا اور پھر تمام حصوں کی تعیین کے لیے اسے اکائی بنایا گیا ۔ گویا میراث کی تقسیم کا سارا نظام عورت ہی کے حصہ کی اکائی کے گرد گھومتاہے، جو در حقیقت عورت کی تکریم و وقار کا مظہر ہے۔
کیاحصوں کی تعیین محض جنسیت کی بنا پر ہے؟ اسلامی قانون وراثت میں حصوں کی تعیین محض جنسیت کی بنیاد پر نہیں ہے۔ بلکہ اس کی بنیاد اسلام کا عادلانہ نظام ہے ، جو ہر مرد و عورت کو اس کی ضرورت کے مطابق حق اور حصہ عطا فرماتا ہے۔ کیونکہ ماں ، بیٹی، بیوی اور بہن کی کفالت کا ذمہ دار مرد کو بنایا گیا ہے عورت کونہیں اس لیے حصوں کی تعیین دونوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔ بعض مقامات ایسے بھی ہیں جہاں مرد و عورت دونوں کے حصے مساوی ہیں ۔ قرآن کریم میں ہے:
﴿وَلِاَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍمِّنْہُمَاالسُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنْ کَانَ لَہُ وَلَدٌ﴾ (النساء، ۱۱)
ترجمہ: اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو۔ (کنزالایمان)
اس آیت میں صراحتاً مذکور ہے کہ والدین میں سے ہر ایک کے لیے سدس یعنی چھٹا حصہ ہے ، والد کو بھی سدس ملے گا اور والدہ کو بھی ۔ یہاں پر جنسیت میں اختلاف ہے لیکن حصۂ وراثت میں کوئی اختلاف نہیں ہے ، دونوں کے حصے برابر ہیں ۔ ایک اور مقام پر ہے:
﴿وَاِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ کَلٰلَۃً اَوِامْرَاَۃٌ وَّلَہُٓ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْھُما السُّدُسُ فَاِنْ کَانُوْٓا اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَھُمْ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصٰی بِھَآ اَوْ دَیْنٍ غَیْرَ مُضَآرٍّ وَصِیَّۃً مِّنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ﴾ (النساء، ۱۲)
ترجمہ: اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹتا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایاہو یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے۔ (کنزالایمان)
مذکورہ بالا دونوں آیتوں سے یہ بات یقینی طور پرمعلوم ہو گئی کہ عورت کے حصہ کی تنصیف محض جنسیت کی بنا پر نہیں کی گئی ، بلکہ کوئی دوسری وجہ ہے اور وہ یہ ہے :
چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے نے عورت کی تمام ضروریات کا کفیل مرد کو بنایا ہے اور عورت کو اس ذمہ داری سے مثتثنیٰ قرار دیا ہے۔ مزید یہ کہ عورت کے لیے روزگار اور معاشی مواقع سے فائدہ اٹھانے پر کوئی پابندی بھی نہیں لگائی گئی جبکہ وہ حدود شرع کا پاس ولحاظ رکھے، عورت پیسہ کما سکتی ہے لیکن اس صورت میں بھی کفالت کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ہی ہوگی اور وہ اپنی کمائی خصوصی حق کے طور پر محفوظ رکھ سکتی ہے۔ اگر وہ گھریلو ضروریات کے لیے خرچ کرنا چاہے تو اس کا یہ عمل احسان ہوگا، کیونکہ یہ اس کے فرائض میں شامل نہیں ہے۔ جبکہ مرد کی آمدنی چاہے عورت سے کم ہی کیوں نہ ہو پھر بھی کفالت کا ذمہ دار وہی ہوگا۔ اسی وجہ سے ذمہ داریوں کے تناسب کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک متوازن، مستحکم اور معاشی عدل وانصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کے لیے ضروری تھا کہ مَردوں کو وراثت میں زیادہ حصہ دیا جائے، تا کہ وہ اپنے اوپر عائد جملہ عائلی ذمہ داریوں کو بطور احسن ادا کر سکیں۔ گویا عورت کا حصۂ وراثت کم نہیں کیا گیا بلکہ مَرد کا حصۂ وراثت اس کی اضافی ذمہ داریوں کی وجہ سے بڑھا دیا گیا ہے اور اس طرح مَرد و عورت کی معاشرتی، سماجی اور عائلی ذمہ داریوں کی ادایئگی میں مالی توازن قائم کر دیا گیا ہے۔
اسلامی قانون وراثت میں جن رشتہ داروں کو وارث قرار دیا گیا ہے وہ تین اقسام پر مشتمل ہیں :ذوی الفروض ،عصبات اور ذوی الارحام
ذوی الفروض وہ رشتہ دار ہیں جن کے حصے متعین ہیں اور ان کے متعلق قرآن کریم یا احادیث مبارکہ میں واضح احکام موجود ہیں۔ ترکہ کی تقسیم کا آغاز ذوی الفروض سے ہوتا ہے۔ سب سے پہلے ذوی الفروض کو ملے گا اس کے بعد عصبات کو اور پھر ذوی الارحام کو ۔ ذوی الفروض درج ذیل مَردوں اور عورتوں پر مشتمل ہیں :
ذوی الفروض مرد: شوہر، والد، اخیافی بھائی، اور جد صحیح۔
ذوی الفروض عورتیں: بیوی، ماں، بیٹی، پوتی، حقیقی بہن، علاتی بہن، اخیافی بہن اور جدۂ صحیحہ۔
ذوی الفروض کا چار مَردوں اور آٹھ عورتوں پر مشتمل ہونا مَردوں اور عورتوں کی نفس وراثت میں مساوی شرکت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ذوی الفروض میں مَردوں کی تعداد سے دو گنا عورتیں شامل کی گئیں اور ان خواتین میں کچھ ایسی بھی ہیں جو براہ راست متوفی کی شرعی کفالت میں نہیں آتی ہیں اس کے باوجود انہیں وراثت میں شامل کیا گیا اس طرح تقسیم وراثت میں مرد و عورت برابر ہو گئے۔
عورت کی سماجی حیثیت: اسلامی معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عظیم فریضہ کی ادائیگی کا حکم جس طرح مَردوں کو دیا گیا عورتوں کو بھی دیا گیاہے۔ یہ وہ عظیم فریضہ ہے جس کی بنا پر امت محمدیہ کو خیر امت کے لقب سے نوازہ گیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ م یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ﴾(التوبہ، ۷۰)
ترجمہ: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں۔ (کنزالایمان)
یہ ہے اسلام کی عطاکردہ عزت وتکریم جس کی وجہ سے عورتیں معاشرے کا ایک محترم اور باوقار حصہ بن گئیں اور انہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اسلامی عہد میں علوم وفنون کے میدان میں بھی عورتیں نمایاں مقام کی حامل تھیں۔ اسلام نے دیگر افراد معاشرہ کی طرح خواتین کوبھی عزت، تکریم، وقار اور بنیادی حقوق کی ضمانت دیتے ہوئے ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جہاں ہر فرد سماج کا ایک اہم حصہ ہوتا ہے۔
اسلام نے عورتوں کو وہ تمام حقوق عطا کیے جن کی وہ مستحق ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں مرد وعورت کے الگ الگ دائرۂ کار کا تعین ہے۔ خواتین اپنے دائرے میں رہ کر امور خانہ داری انجام دیں ، بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں اور خاوند کی خدمت و اطاعت بجا لائیں ۔ مرد گھر کی ان ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو اور پوری یکسوئی اور فراغ دلی کے ساتھ اپنے اوپر عائد ذمہ داریوں کو ادا کرے۔ کسب معاش ، امور جہاں بانی اور سفارت کاری وغیرہ تمام معاملات مرد کے سپرد ہیں ۔ اس طرح زندگی کی گاڑی ان دو پہیوں سے بحسن و خوبی چلتی رہے گی۔ دونوں کا وجود انسانی زندگی کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں کی کاوشیں انسانیت کے ارتقا میں برابر کی حصہ دار ہیں۔ اس معاملے میں کوئی بھی کسی سے کمتر نہیں ۔ نہ انسانی وشہری حقوق میں اور نہ مملکت کے ارتقا و عروج میں ۔ تا ہم دونوں کے ما بین فطری صلاحیتوں میں فرق و تفاوت ہے، جو کہ ایک مسلمہ امر ہے۔اس کے پیش نظر تقسیم کار ضروری ہے، جسے دونوں کو قبول کرنا چاہئے ، اسلام نے عورت کے لیے جو حدود کار قائم کی ہیں ان میں عزت و عافیت کا انتظام ہے ۔ اسلامی تعلیمات میں مردو عورت ایک دوسرے کے حلیف ہیں حریف نہیں ، ایک دوسرے کے معاون ہیں رقیب نہیں ، ایک دوسرے کے ہمدردو غمگسار ہیں باہم دشمن نہیں۔


..:: Follow us on ::..


http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg