Instagram

Saturday, 5 September 2015

Khud Kushi Ka Badhta Rujhan

خود کشی کا بڑھتا رجحان - ایک لمحۂ فکر یہ
اسلام میں خود کشی حرام ہے ، اس کا مرتکب اللہ کا نافرمان اور جہنمی ہے
ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدؔ رضوی
            کائنات کے مذہبِ مہذب اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کا خودکشی کے بارے میں خلاصہ یہ ہے کہ خود کشی ایک حرام فعل ہے۔ اِس کا مرتکب اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور جہنمی ہے۔ قرآن و حدیث ے حوالے سے اس بارے میں روشنی ڈالنی سے پہلے آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اسے اتنا بڑا جرم کیوں قرار دیا۔
            اسلامی نظریے کے لحاظ سے انسان کا اپنا جسم اور زندگی حقیقی معنوں میں اس کی ذاتی ملکیت بلکہ یہ اﷲ عزوجل کی عطا کردہ امانت ہے۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی ایسی عظیم نعمت ہے جو بقیہ تمام نعمتوں کے لیےبنیادی حیثیت کی حامل ہے۔ اسی لیے اسلام نے جسم و جاں کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے تمام افرادِ معاشرہ کو اس امر کا پابند بنایا ہے کہ وہ بہر صورت زندگی کی حفاظت کریں۔ اسلام نے زندگی کو خوشگوار طریقے سےگزارنے کے اصولوں پر  مبنی تعلیمات بھی دی ہیں تاکہ انسانی زندگی پوری حفاظت و توانائی کے ساتھ بسر ہو۔ یہی وجہ ہے اسلام نے خودکشی (suicide) کو حرام قرار دیا ہے۔ اسلام کسی انسان کو خود اپنی جان تلف کرنے کی ہرگزہر گزاجازت نہیں دیتا۔
            قرآن و حدیث میں خود کشی کی بے شمار وعیدیں وارد ہوئی ہیں ۔ معلوم ہونا چاہیے کہ زندگی اور موت کا حقیقی مالک اﷲ جل شانہٗ ہے۔ جس طرح کسی دوسرے شخص کو موت کے گھاٹ اتارنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، اُسی طرح اپنی زندگی کو ختم کرنا یا اسے بلاوجہ ہلاکت میں ڈالنا بھی اﷲ تعالیٰ کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔ ارشاد ربانی ہے :’’ اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو ، اور بھلائی والے ہو جاؤ بیشک بھلائی والے اللہ کے محبوب ہیں‘‘ (البقرة، 2 : 195، ترجمہ کنزالایمان)۔ مفسرین اس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کسی مسلمان کا اپنے آپ ہلاکت میں ڈالنا یعنی خود کشی کرنا ہے خواہ وہ زہر کھاکر ہو یا کسی دوسرے طریقے سے ۔
            ایک اور مقام پر اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :’’ اوراپنی جانیں قتل نہ کرو ، بے شک اللّٰہ تم پر مہربان ہے ،اور جو ظلم و زیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اُسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللّٰہ کو آسان ہے‘‘(النسآء، 4 : 29، 30، ترجمہ کنزالایمان)۔امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :’’اوراپنی جانیں قتل نہ کرو‘‘۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔‘‘(التفسير الکبير، 10 : 57)
            احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔حضوررحمۃ للعالمین ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے‘‘(بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2 : 697، رقم : 1874)
            حضور رحمۃ للعالمین ﷺ کا یہ حکم واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاکی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے،حضور رحمۃ للعالمین ﷺ نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کے بارے میں ’’وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا‘‘ فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔
            احادیث مبارکہ میں حضور تاجدار کائنات ﷺ نے خودکشی کے مرتکب شخص کو دُہرے عذاب کی وعید سنائی ہے۔ ارشادِ نبویﷺ ملاحظہ ہو :’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے خود کو پہاڑ سے گرا کر ہلاک کیا تو وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا۔ اور جس شخص نے زہر کھا کر اپنے آپ کو ختم کیا تو وہ زہر دوزخ میں بھی اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ میں کھاتا ہوگا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا۔ اور جس شخص نے اپنے آپ کو لوہے کے ہتھیار سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا جسے وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا‘‘( بخاری، الصحيح،کتاب الطب، باب شرب السم والدواء به وبما يخاف منه والخبيث، 5 : 2179، رقم : 5442)حضوررحمۃ للعالمین ﷺ نے خودکشی کے عمل کو دوزخ میں بھی جاری رکھنے کا اشارہ فرمایا ہے۔ دراصل اس فعلِ حرام کی انتہائی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی بہت سے ناجائز امور کی سزا تو جہنم ہوگی مگر خودکشی کے مرتکب کو بار بار اس تکلیف کے عمل سے گزارا جائے گا۔ گویا یہ دہرا عذاب ہے جو ہر خودکش کا مقدر ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ نے خود کشی کرنے والے کے لیے جہنم کی دائمی سزا مقرر کی ہے۔ اﷲ نے ایسا کرنے والوں کے لیے حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ  فرما کر جنت حرام فرما دی ہے۔
            حضرت جندب بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ حضور رحمۃ للعالمین ﷺنے فرمایا :’’تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی زخمی ہو گیا۔ اس نے بے قرار ہوکر چھری لی اور اپنا زخمی ہاتھ کاٹ ڈالا۔ جس سے اس کا اتنا خون بہا کہ وہ مرگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے خود فیصلہ کر کے میرے حکم پر سبقت کی ہے، لہٰذا میں نے اس پر جنت حرام کر دی‘‘ (بخاري، الصحيح،کتاب الأنبياء، باب ما ذکر عن بني إسرائيل، 3 : 1272، رقم : 3276) حضرت حسن بصری علیہ الرحمہ حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا :’’پچھلی امتوں میں سے کسی شخص کے جسم پر ایک پھوڑا نکلا، جب اس میں زیادہ تکلیف محسوس ہونے لگی تو اس نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر اس پھوڑے کو چیر ڈالا جس سے مسلسل خون بہنے لگا اور نہ رکا۔ اس کی وجہ سے وہ شخص مر گیا۔ تمہارے رب نے فرمایا : میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے‘‘( ابن حبان، الصحيح، 13 : 329، رقم : 5989)
            اِن احادیث میں اِس امر کی بھی اِجازت نہیں دی گئی کہ اگر کسی کو کوئی تکلیف یا مرض لاحق ہوجائے تو وہ اس تکلیف سے چھٹکارا پانے کی غرض سے ہی اپنے آپ کو موت کے گھاٹ اتار دے۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو اس کا یہ عمل مقبول نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے باعث جہنم بنے گا۔
            احادیث مبارکہ میں ہے کہ کسی غزوہ کے دوران مسلمانوں میں سے ایک شخص نے خوب بہادری سے جنگ کی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کی شجاعت اور ہمت کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علمِ نبوت سے انہیں آگاہ فرما دیا کہ وہ شخص دوزخی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہ سن کر بہت حیران ہوئے۔ بالآخر جب اس شخص نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خود کشی کرلی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر یہ حقیقت واضح ہوئی کہ خود کشی کرنے والا چاہے بظاہر کتنا ہی جری و بہادر اور مجاہد فی سبیل اﷲ کیوں نہ ہو، وہ ہرگز جنتی نہیں ہو سکتا۔
            خود کشی کس قدر سنگین جرم ہے اس کا اندازہ حضور رحمۃ للعالمینﷺ کے اِس مبارک عمل سے بھی ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سراپا رحمت ہونے کے باوُجود خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائی حالاں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیشہ اپنے بد ترین دشمنوں کے لیے بھی دعا فرمائی، اور جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح حکم نہیں آگیا کسی منافق کی نماز جنازہ پڑھانے سے بھی انکار نہیں فرمایا۔ اس حوالے سے درج ذیل حدیث لائقِ مطالعہ ہے:’’’’حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ایک شخص لایا گیا جس نے اپنے آپ کو نیزے سے ہلاک کر لیا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی‘‘(مسلم، الصحيح،کتاب الجنائز، باب تَرْکِ الصَّلَاةِ عَلَی الْقَاتِلِ نَفْسَه، 2 : 672، رقم : 978)
            الغرض یہ کہ اسلام اپنی تعلیمات اور اَفکار و نظریات(teachings and idealogy) کے لحاظ سے کلیتاً اَمن و سلامتی، خیر و عافیت اور حفظ و امان کا دین ہے۔ اسلام میں کسی انسانی جان کی قدر و قیمت اور حرمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اِس نے بغیر کسی وجہ کے ایک فرد کے قتل کو بھی پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیاہے۔آج کل مالیگاؤں جیسے دینی بیداری کے حامل ، مسجدوں اور میناروں کے شہر میں خود کشی کے بڑھتے رجحانات کے چلتے اصلاحِ معاشرہ کے لیے متحرک افراداور تنظیموں کو چاہیے کہ آپسی نااتفاقی اور ازدواجی زندگی کے سلگتے ہوئے مسائل کے مثبت حل کے لیے باہمی افہام و تفہیم کا راستہ نکالیں اور لوگوں کو سمجھائیں کہ مسائل کا حل خود کی جان لینے میں نہیں۔ گھر کے سرپرستوں کو بھی چاہیے کہ گاہے بگاہے اپنی ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں اور ماتحت افراد کے مسائل اور مشکلات کی خبرگیری کرتے رہیں ۔ معاملہ اگر سنگین ہوتو اُس کو نہایت خوش اسلوبی سے حل کریں۔ٹی وی سیرئیلوں اور فلموں میں بتائے جانے والے خود کشی کے مناظر بھی مسلم معاشرے میں اس حرام فعل کو بڑھاوادینے میں کلیدی رول ادا کررہے ہیں ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں زندگی بسر کریں اورمخربِ اخلاق سیرئیلوں اور فلموں سے دور رہیں۔ علما و ائمہ اور دانشورانِ ملت اسلام میں خود کشی جیسے سنگین جرم کے بارے میں بیان کردہ وعیدوں سے بھی امت کو باخبر کرنے کی سعی کریں تاکہ ایک صالح معاشرے کی تشکیل ہوسکے۔

..:: Follow us on ::..


http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg