Instagram

Saturday, 28 November 2015

Arbi Zuban Wo Adab Me Imam Ahmed Raza Ki Maharat



عربی زبان و ادب میں امام احمد رضا کی مہارت
مولانا نفیس احمد مصباحی، استاذ جامعہ اشرفیہ مبارک پور
مقررہ عنوان پر لب کشائی سے پہلے مناسب یہ ہے کہ کچھ ادب اور اس کی اقسام و اصناف کو بھی ملاحظہ کرلیا جائے ، تاکہ موضوع کی فنی حیثیت اور اس کے ضروری گوشے روشن ہوجائیں اور مقالہ کی تفہیم آسان ہوجائے
ادب  :
عربی ادب کی تاریخ کے مختلف مراحل میں ادب کی مختلف تعریفیں کی جاتی رہی ہیں ، کبھی اس میں اتنی وسعت دی گئی کہ سارے علوم و فنون کو اس میں جمع کردیا گیا ، اور کبھی اس کا دامن اتنا تنگ کردیا گیا کہ صرف نظم و نثر کی ایک مخصوص قسم کے اندر ’’ ادب ‘‘ سمٹ کر رہ گیا ۔ چناں چہ تاریخ ادب کے ابتدائی مرحلوں میں ادب سے مراد وہ علوم لیے جاتے تھے جن کے ذریعہ سے تہذیب نفس کا کام لیا جائے ۔ جس کے نتیجے میں آدمی کے اندر اچھے اخلاق ، بلند کردار ، بے داغ سیرت اور معاملہ و برتائو میں صفائی اور ستھرائی پیدا ہوتی ہے ۔… مگر جب عربی معاشرہ میں وسعت اور عربی فکر و نظر میں جلا اور گہرائی پیدا ہونے لگی تو ادب کے مذکورہ دائرہ میں ’’تعلیم ‘‘ کو بھی شامل کر لیا گیا ، چناں چہ ’’مُؤَدِّب ‘‘ یا ’’ مُعَلِّم ‘‘ اس شخص کو کہا جانے لگا جو تعلیم کو بہ طور پیشہ اختیار کر کے اس سے اپنی روزی کماتا ہو اور ادب میں وہ سارے علوم شامل کیے جانے لگے جو یہ  ’’مُؤَدِّب ‘‘ یا ’’ مُعَلِّم ‘‘  اپنے شاگردوں کو سکھاتا تھا ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کیا :
یا رسولَ اﷲ ! نحن بنوأبٍ واحد ، ونراک تُکلّمُ و فودَالعرب بما لانفھم أکثرہ
( یعنی اے اللہ کے رسول ! ہم سب ایک ہی خاندان کے افراد ہیں ، لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ عربوں کے وفود سے ایسی زبان میں گفتگو کرتے ہیں جس کا بیش ترحصہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا ۔ )
تو سرکار نے فرمایا :    أَ دَّ بَنِي ربّي فأحْسَنَ تأدیبي وَرُبِّیتُ في بَني سَعدٍ ۔
   (مجھے میرے رب نے تعلیم دی ہے اور بہترین تعلیم دی ہے ، پھر مَیں نے قبیلۂ بنی سعدمیں پرورش پائی ہے ۔)
 ’’ بنو سعد‘‘ حلیمہ سعدیہ کے خاندان کا نام ہے جو اس زمانے میں قبائل عرب کے درمیان فصاحت و بلاغت میں نمایاں اور ممتاز تھا ۔ غور کیجیے یہاں سرکار نے  أَ دَّ بَنِيکا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کے معنی بہر حال ادب یا تہذیب سکھانے کے نہیں ہیں کیوں کہ خود قرآن کریم کا فیصلہ ہے کہ ’’  اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ ‘‘ (یعنی آپ بڑے بلند اخلاق کے مالک ہیں ) بلکہ یہاں ’’  أَ دَّ بَنِي ‘‘ کامعنی ہے اللہ نے مجھے تعلیم دی ، سکھایا، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صدر اسلام میں ’’ تادیب ‘‘ تعلیم کے معنی میں استعمال ہوتا تھا اور ’’ مُؤَ دِّب ‘‘ مُعَلِّم کے معنی میں بولا جاتا تھا، اور عہد اُموی میں بھی ممتاز اساتذہ کی جماعت کو ’’ مُؤَ دِّبین ‘‘ کہا جاتا تھا ، یہ لوگ اس زمانے کے دستور کے مطابق نظم و نثر اور اخبار و وقائع کی تعلیم روایت کے طریقے سے دیتے تھے۔
 (تفصیل کے لیے دیکھیے ’’ اللغۃ والادب‘‘ از محمد حسین ہیکل ، ’’ فی الأ دب الجاہلي ‘‘ از ڈاکٹر طہٰ حسین ، ’’ أسس النقد الأ دبي عند العرب ‘‘ از ڈاکٹر احمد بدوی )
ادب کا یہ مفہوم صدر اسلام اور پہلی صدی ہجری تک قائم رہا ۔ بعد میں جب اسلامی معاشرہ میں اور وسعت پید اہوئی اور علم وفن میں ترقی کے ساتھ انھیں شاخوں میں تقسیم کیا گیا اور باضابطہ ان کی اصطلاحات مقرر ہوئیں تو نحو و صرف ، بلاغت ، معانی ، بیان ، بدیع ، لغات وغیرہ فنون بھی اس کی وسعت کے دائرہ میں داخل ہو گئے اور ادب ’’ مجموعۂ فنون ‘‘ ہو گیا ۔ اس زمانے کے مایۂ ناز ادیب اور ممتاز دانش ور ’’ جاحظ‘‘ نے اعلان کردیا ۔ الأدب ھوالأ خذ من کل فن بطرف ( تمام مروّجہ فنون میں سے تھوڑے کوبہ قدر ضرورت استعمال کرنے کو ادب کہتے ہیں ) (دیکھیے البیان و التبیین ج ا )
جاحظ نے ادیب کے لیے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ جملہ فنون کے اصول اور مبادیات اسے ضرور آنے چاہئیں تاکہ وہ حسب ضرورت ان سے مدد لے سکے ۔
اور اب کسی زبان کے شعرا و مصنفین کا وہ نادر کلام جس میں نازک خیالات و جذبات کی عکاسی اور باریک معانی و مطالب کی ترجمانی کی گئی ہو اس زبان کا ’’ ادب ‘‘ کہلاتا ہے۔
اسی ادب کی بدولت نفس انسانی میں شائستگی ، اس کے افکار و خیالات میں جلا ، اس کے احساسات میں نزاکت و حسن اور زبان میں سلاست و زور پیدا ہوتا ہے ۔ ادب کا اطلاق ان تصانیف پر بھی ہوتا ہے جو کسی علمی یا ادبی شعبے میں تحقیق کا نتیجہ ہوں ۔ اس لحاظ سے گویا لفظ ادب ان تمام تصانیف کو اپنے احاطہ میں لے لیتا ہے جو محقق علما کے انکشافات ، مضمون نگاروں کے افکار ، شاعروں کے انوکھے تخیلات اور نازک تصورات پر مشتمل ہوں ۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے ’’ تاریخ الأدب العربی ‘‘ از احمد حسن زیّات )
عربی ز بان کا ادب دنیا کی دوسری تمام زبانوں کے ادب کے مقابلہ میں زیادہ مالا مال ہے اس لیے کہ اس کا آغاز انسان کی پیدائش ہی سے ہوتا ہے اور اس کی انتہا عربی تمدن کے مٹ جانے پر ہو گی ۔ خاندان مُضَر کی یہ زبان اسلام پھیلنے کے بعد صرف ایک قوم کی ہی زبان نہ رہی بلکہ ان تمام اقوام عالم کی زبان بھی بن گئی ، جو وقتاً فوقتاً اسلام کی دعوت قبول کرتی رہیں ، یہ دعوت قبول کرنے والے بھی اپنی زبانوں کے اسرار وغوامض ، انوکھے تصورات و خیالات اور اچھوتے مطالب و معانی کااس زبان میں اضافہ کرتے رہے اور آگے چل کر یہ زبان حاملِ دین و ادب ، داعیِ علم و تمدن بن کر زمین کے گوشے گوشے میں پھیل گئی اور اس نے ہر اس زبان کو جو اس سے نبرد آزما ہوئی زیر کر لیا ، اس طرح اس زبان نے یونانیوں ، ایرانیوں ، یہودیوں ، عیسائیوں ، ہندیوں اور حبشیوں کے قدیم علوم و آداب اپنے اندر جذب کر لیے ،اور زمانے کی سخت گردشوں کے باوجود ان درمیانی صدیوں میں یہ بخیر و خوبی محفوظ رہی ۔ اس نے اپنے گرد و پیش کی کئی زبانوں کو تباہ و برباد ہوتے دیکھا مگر یہ بہادری کے ساتھ پر وقار طریقے پر سر اونچا کیے تمام مذہبی فلسفوں اور ادبی افکار و خیالات کو اپنے اندر سمیٹتے ہوئے سلامتی کے ساتھ نکل آئی ۔
پھر کلام کی دوقسمیں ہیں :  (۱)  نثر    (۲)  نظم
نثر :
وہ کلام کہلاتا ہے جو وزن و قافیہ کی قید سے آزاد ہو ۔
یہ کسی بھی زبان میں تبادلۂ خیالات کرنے کے لیے کلام کی سب سے پہلی و جود پذیر ہونے والی قسم ہے، اس لیے کہ یہ آسان اور بے قید ہونے کے ساتھ ساتھ سب کی ضرورت کی چیز ہے ۔
اس کی دو قسمیں ہیں :  (۱)   مُسَجَّع   (۲)  مُرْسَل
نثر مُسَجَّع   :  وہ نثر ہے جس کے فقروں کے آخری کلمات موزون اور مُقفّٰی ہوں ۔
نثرِ مُرْسَل :  وہ ہے جس میں سادگی ہو ، تک بندی اور قافیہ بندی نہ ہو ۔
طبعی قوت ، موروثی ذہانت اور عجمیوں سے بہت کم اختلاط کے باعث عربوں کی نثر نہایت شستہ ، پاکیزہ ، آسان اور سلجھی ہوئی ہوتی تھی ۔ البتہ صرف طبعی وجوہ و اسباب کی بنا پر تلفظ اور حروف کی مخارج سے ادائیگی میں اختلاف ہوتا تھا ۔
نظم  :
اس کلام کو کہتے ہیں جس کا کوئی خاص وزن اور قافیہ ہو ۔
شعر :
ماہرین عَروض نے شعر کی تعریف یوں کی ہے کہ شعر موزوں و مقفّٰی کلام کوکہتے ہیں ۔مگر یہ تعریف ناقص ہے کیو ں کہ اس طرح ہر قسم کا کلام جس میں وزن اور قافیہ ہو شعر ہوجائے گا، حالاں کہ ایسا نہیں ہے ۔ کیوں کہ ناقدین کہتے ہیں کہ اگر جغرافیہ کے مسائل یا صرف ونحو کے قواعد یا تاریخی واقعات یا اقتصادی مسائل کو وزن و قافیہ کے قالب میں ڈھال دیا جائے تو بھی ہم اسے شعر نہیں کہیں گے ۔ وہ منظوم فن یا موضوع تو ہو سکتا ہے مگر اسے شعر کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی خیال یا حقیقت کو صرف نظم کردینا شعر ہونے کے لیے کافی نہیں ہے بلکہ اس میں کچھ اور خصوصیات کا ہونا بھی ضروری ہے ، وہ خصوصیات کیا ہیں ؟ ’’ اچھوتے خیالات و افکار ، لطیف جذبات و احساسات ‘‘ کی ایک خاص طریقے سے تعبیر ۔چناں چہ ناقدین شعر کی یہ تعریف کرتے ہیں:
’’ شعر وہ فصیح و بلیغ کلام ہے جس میں وزن کے علاوہ نادر اور اچھوتے خیالات اور لطیف جذبات و احساسات کی عکاسی اس طرح کی گئی ہو کہ انسان کے دل و دماغ پر براہِ راست اس کا اثر پڑے ۔ ‘‘
ان ناقدین کے نزدیک شعر کے اجزاے ترکیبی میں ندرتِ خیال ، لطافتِ جذبات و احساسات اور وزن کے ساتھ اثر اندازی کواوّلیت حاصل ہے ۔ لیکن انسانی جذبات و احساسات میں اس وقت تک ہیجان یا بیداری پیدا نہیں ہو سکتی جب تک کہ شاعر اپنے دل کی گہرائیوں میں ڈوب کر خوب صورت اور چیدہ الفاظ اور وزن وقافیہ کے تانے بانے سے معانی میں ہم آہنگی پیدا کر کے سامع یا قاری کے دل کے تاروں کو جھنجھنا نہ دے ۔
( شعر کی تعریف اور اس کی ماہیت سے متعلق تفصیلات کے لیے دیکھیے: (۱) ’’العمدۃ ‘‘ از ابن رشیق قیروانی ۔  (۲) ’’ نقد الشعر ‘‘  از قدامہ بن جعفر ۔ (۳) ’’ الشعر والشعراء ‘‘  از ابن قتیبہ ۔
(۴) ’’عیار الشعر‘‘ از ابن طباطبا ۔ (۵) ’’ أسس النقد الأ دبي عند العرب ‘‘ از ڈاکٹر احمد بدوی )
عربی زبان و ادب اور اس کے متعلقات کے بارے میں بنیادی گفتگو کے بعد اب ہم بر صغیر میں چودھویں صدی کی سب سے با کمال اور بے مثال شخصیت کا جائزہ لیتے ہیں جس نے اپنے نثری شہ پاروں اور شعری فن پاروں کا ایک تسلسل قائم فرما کر عربی زبان و ادب میں بھی اپنے تفوّق و کمال اور لیاقت و مہارت کا لوہا منوالیا ہے اور بر صغیر ہندو پاک کے ماہرین لسانیات کے علاوہ عرب اربابِ علم و دانش اور رجالِ فکر و فن نے بھی ایک روشن حقیقت کے طور پر اس کا اعتراف کیا ہے جس کا ذکر مناسب موقع پر آئے گا ۔
امام احمد رضا قادری قدس سرہ ہندوستان کے مشہور شہر بریلی ( یو ۔ پی ) میں ۱۰؍ شوال المکرم ۱۲۷۲ ھ مطابق ۱۴؍ جون ۱۸۵۶ء کو ایک خوش حال متمول ، علمی و روحانی گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا نام محمد ، تاریخی نام ’’ المختار ‘‘ اور جد ّ کریم مولانا رضا علی خاں بریلوی علیہ الرحمہ نے ’’ احمد رضا ‘‘ نام رکھا ، اور اسی نام سے مشہور بھی ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ ذہانت وفطانت عطا فرمائی تھی کہ چار سال کی عمر ہی میں ناظرہ قرآن مجید ختم کر لیا ، چھ سال کی عمر میں عید میلاد النبی کے موقع پر بھرے مجمع میں پُر مغز اور جامع تقریر فرمائی ۔ آٹھ سال کی عمر میں درسِ نظامی کی مشہور کتاب ’’ ہدایۃ النحو ‘‘ کی عربی زبان میں شرح لکھی اور دس سال کی عمر میں ’’ مسلّم الثبوت ‘‘ پر عربی میں حاشیہ لکھا ۔
قارئین کرام :غور فرمائیں کہ آٹھ اور دس سال کی عمر میں جب کہ آپ ابھی سنِّ بلوغ کو بھی نہیں پہنچے تھے عربی زبان میں یہ کتابیں لکھنا اس بات کا اشارہ کررہا ہے کہ اس صغر سنی کے عالم میں ہی آپ علمی و فنی اور لسانی حیثیت سے بالغ نظر ہو چکے تھے اور عربی زبان و ادب سے آپ کو ذہنی مناسبت ہو چکی تھی ۔ … اور علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت کے بعد دیگر علوم و فنون کے ساتھ عربی زبان و ادب میں وہ علمی کارنامے انجام دیے اور وہ فنی شہ پارے یادگار چھوڑے کہ جنھیں دیکھ کر ارباب علم و دانش کی عقلیں حیران ہیں ، اور اپنوں کے ساتھ پرائے بھی انھیں خراج عقیدت پیش کرتے نظر آتے ہیں ۔
اردو ، ہندی ، ملیا لم ، عربی اور انگریزی جیسی زبانوں پر بھر پور دسترس رکھنے والے اہل حدیث فاضل ڈاکٹر محی الدین الوائی استاذ جامعہ ازہر مصر اپنے ایک عربی مقالہ میں لکھتے ہیں :
’’ قدیما قیل : انّ التحقیق العلمي الأصیل و الخیال الذہني الخصیب لا یجتمعان في شخص واحد ، ولکن مولانا أحمد رضا کان قدبرہن علی عکس ھٰذہ النظریۃ التقلیدیۃ ، فکان شاعرًاذا خیال خصیب ، وتشہد لہ بذلک دواوینہ الشعریۃ باللغات الفارسیۃ و الأردیۃ و العربیۃ ۔‘‘                                    ( امام احمد رضا نمبر ، ماہ نامہ قاری دہلی ،شمارہ ۱۲ ، ج۵ ، ص ۴۷۶)
(یعنی پرانا مشہور مقولہ ہے کہ علمی تحقیق اور نازک خیالی دونوں بہ یک وقت شخصِ واحد میں یک جا نہیں ہوتیں ، لیکن مولانا احمد رضا اس روایتی نظریہ کے خلاف دلیل ہیں ، آپ (ایک محقق عالم ہونے کے ساتھ ) ایک بہترین نازک خیال شاعر بھی تھے ، جس پر آپ کے فارسی ، اردو اور عربی شعری دیوان گواہ ہیں ۔ )
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان نے عربی نثر اور نظم دونوں میں اپنے تفوّق و کمال اور صلاحیت و مہارت کے جلوے دکھائے۔ اور آپ نے عربی زبان و ادب کی دونوں صنفوں میں عظمت و جلالت کے وہ انمٹ نقوش چھوڑے جو رہتی دنیا تک درخشندہ و تابندہ رہیں گے ۔
عربی زبان میں آپ کی علمی و ادبی خدمات درج ذیل خانوں میں بٹی ہوئی نظر آتی ہیں ۔
(الف )  منثور کتابیں اور رسا ئل ۔  (ب)  قصائد اور اشعار ۔  (ج)  خطبات و مقدمات
(د)  اسانید و اجازات ۔  (ہ) کتابوں کے نام ۔  (و)  تواریخِ ولادت و وفات
اب ہم ذیل میں ان پر اجمالی نظر ڈالتے ہیں ۔
(الف )  منثور کتب و رسائل  :
ڈاکٹر احمد ادریس مصری نے اپنے مقالہ ’’ الأدب العربی فی شبہ القارۃ الہندیۃ ‘‘ میں لکھا :
’’ نواب صدیق حسن خاں قنوجی (متوفی ۱۳۰۷ھ ) کی عربی زبان میں چھپن کتابیں ہیں ، مولانا عبدالحی بن عبدالحلیم فرنگی محلی ( متوفی ۱۳۰۴ ھ ) کی چھیاسی ، اشرف علی تھانوی (متوفی ۱۳۶۲ھ ) کی تیرہ  اور مولانا احمد رضا بریلوی (متوفی ۱۳۴۰ ھ ) کی تین سو تصنیفات ہیں ۔ ‘‘
           ( حولیۃ الجامعۃ الاسلامیۃ العالمیۃ ، العدد الرابع ، عام ۱۹۹۶ م ، ص ۱۵۹ )
ذیل میں ان میں سے بعض عربی تصانیف کی فہرست پیش خدمت ہے :
(۱)  الدولۃ المکیۃ بالمادّۃ الغیبیۃ 
( ۲)  کفل الفقیہ الفاہم في أ حکام قرطاس الدراہم
(۳) جدّ الممتار علی ردّ المحتار ( ۵؍ جلدیں ) 
( ۴)  المعتمد المستند بناء نجاۃ الأبد
(۵) حسام الحرمین علی منحر الکفرو المین 
( ۶)  أجلی الا علام بأنّ الفتویٰ مطلقاً علی قول الا مام
(۷)  شمائم العنبر فی أدب النداء أمام المنبر  
(۸)  کاسرالسفیہ الواہم فی ابدال قرطاس الدراہم
(۹)  الکشف شافیا حکم فونو جرافیا 
( ۱۰)  الزلال الأنقی من بحر سبقۃ الأتقیٰ
(۱۱)  مدارج طبقات الحدیث
( ۱۲)  صیقل الرین عن أحکام مجاورۃ الحرمین 
( ۱۳)  التاج المکلل في انارۃ مدلول کان یفعل
( ۱۴)  فتاوی الحرمین برجف ندوۃ المین 
( ۱۵)  أطائب الصیّب علی أرض الطیّب
 (تفصیل کے لیے دیکھیے المصنّفات الرضویۃ از مولانا عبدالمبین نعمانی مصباحی ، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی )
(ب) خطبات و مقدمات  :
امام احمد رضا نے عربی زبان میں شان دار ، وقیع اور بیش قیمت خطبے لکھے جن میں قدر مشترک کے طور پر زورِ بیان ، متانتِ اسلوب ، قوت تاثیر ، حلاوتِ الفاظ ، آیاتِ قرآنی و احادیث نبویہ کے اقتباسات و حوالہ جات ، مطلب سمجھانے اور ذہن نشیں کرانے کے لیے قرآن کے طرز بیان کی پیروی وغیرہ اوصاف پائے جاتے ہیں ، خیال رہے کہ یہ اوصاف خاص طور سے آپ کے ان خطبوں میں پائے جاتے ہیں جو جمعہ و عیدین کے مواقع پر مسجدوں اور عید گاہوں کے منبروں پر دیے جاتے ہیں، جنھیں عربی زبان میں ’’ خُطبُ المنابِر ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ آپ نے اپنی تصانیف کے آغاز میں رواں اور بے تکلف عربی زبان میں گراں قدر خطبے لکھے ہیں ۔ جنھیں عربی میں ’’ خطبُ الدفاتر ‘‘ کہا جاتا ہے ۔
اس طرح آپ کے خطبے دو طرح کے ہوئے ۔ (۱) خطب المنابر یعنی جمعہ و عیدین کے خطبے ۔
(۲) خطب الدفاتر یعنی کتابوں کے خطبے۔ … اب ذیل میں ہم ان کے منتخب نمونے آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ آپ براہ راست انھیں دیکھیں ، جانچیں اور پر کھیں اور امام احمد رضا کی عربی زبان و ادب میں مہارت کو سلام عقیدت پیش کریں ۔
lقسم اوّل کا نمونہ  :
عید الفطر کے ایک خطبے کا نمونہ آپ کے سامنے پیش ہے ۔
الحمدﷲ حمد الشاکرین ، الحمدﷲ کما نقول ، وخیرًا مما نقول ، الحمدﷲ قبل کل شي ء ،الحمدﷲ بعد کل شي ء، الحمدﷲ مع کل شي ء، الحمدﷲ کما ینبغی بجلال وجہہ الکریم ، الحمدﷲ کما حمدہ الأنبیاء والمرسلون، والملائکۃ المقرّبون، وعباداﷲ الصالحون، اﷲ أکبر، اﷲ أکبر، لاالٰہ الّا اﷲ واﷲ أکبر، اﷲ أکبر وللّٰہ الحمد………… فیا أیھا المؤمنون رحمنا ورحمکم اﷲ، اعلموا أن یومکم ہٰذا یوم عظیم، ألا وللصائم فرحتان، فرحۃ عندالافطار وفرحۃ عندلقاء الرحمٰن، ألا وانّ فی الجنّۃ باباً یقال لہ الریان، لا ید خلہ الّا الصائمون شہر رمضان۔
lقسم دوّم کا نمونہ  :
اب ہم ذیل میں بطور نمونہ فتاویٰ رضویہ جلد اوّل کا خطبہ قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں جو فصاحت و بلاغت کا پیکر محسوس ہے ، دل کش اشارات ، واضح تلمیحات ، خوش نما تشبیہات ، خوب صورت استعارات پر مشتمل اس خطبہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے جملہ لوازم و مناسبات (یعنی اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر درود و سلام ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت اور صحابۂ کرام کی تعریف و منقبت ) کو کتبِ فقہ اور ائمۂ فقہ کے ناموں سے ادا کیا گیا ہے ۔ کتبِ فقہ کے ناموں اور ائمۂ کرام کے اسماے گرامی کو اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ کہیں حمد الٰہی کی خوشبو مہکتی ہے ، کہیں نعتِ رسول کے گلشن لہلہاتے ہیں کہیں درودو سلام کی رعنائیاں دعوتِ نظارہ دیتی ہیں، تو کہیں مدحِ صحابہ و اہل بیت کی جلوہ سامانیاں ہوتی ہیں اس خطبے میں براعتِ استہلال ، رعایت سجع اور دیگر صنائع و بدائع اور محاسنِ بلاغت کا بے تکلف استعمال ہے ، مگر کمال یہ ہے کہ ان سب کی رعایت کے باوجود خطبے کی سلاست و روانی میں کہیں بھی ذرّہ برابر فرق نہیں آتا ، نہ جملوں کی معنویت ، الفاظ کی بندش اور تراکیب کی برجستگی میں کوئی فرق محسوس ہوتا ہے ، وہ خطبہ یہ ہے :
’’ الحمدﷲ ہوا لفقہ الأکبر ، والجامع الکبیر لزیادات فیضہ المبسوط الدرر الغرر ، بہ الھدایۃ، ومنہ البدایۃ، والیہ النھایۃ، بحمدہ الوقایۃ، ونقایۃ الدرایۃ، وعین العنایۃ،وحسن الکفایۃ،والصلٰوۃ والسلام علی الامام الأعظم للرسل الکرام، مالکي و شافعي أحمد الکرام  ، یقول الحسن بلا توقف ، محمدن الحسن أبو یوسف، فانّہ الأصل المحیط، لکل فضل بسیط، ووجیز ووسیط، البحر الزخّار، والدرّ المختار، وخزائن الأسرار، وتنویر الأبصار، وردالمحتار، والبحر الرائق، ومنہ یستمدّ کل نہر فائق، فیہ المنیۃ، وبہ الغنیۃ، ومراقي الفلاح ، وامداد الفتاح، وایضاح الاصلاح ،ونور الایضاح ، وکشف المضمرات، وحلّ المشکلات، والدرّ المنتقٰی  وینا بیع المبتغی، وتنویرالأ بصار، وزواہر الجواہر، البدائع النوادر، المنزّہ وجوبًا عن الأشباہ والنظائر، مغني السائلین، و نصاب المساکین، الحاوي القدسي، لکل کمالٍ قدسي وانسي، الکافي الوافي الشافي، المصفي المصطفی المستصفی المجتبی المنتقی الصافي، عدّۃ النوازل، وأنفع الوسائل، لاسعاف السائل، بعیون المسائل، عمدۃ الأواخر وخلاصۃ الأوائل، وعلٰی آلہ وصحبہ، وأھلہ وحزبہ، مصابیح الدجی، ومفاتیح الھدیٰ، لاسیما الشیخین الصاحبین، الآخذین من الشریعۃ والحقیقۃ بکلا الطرفین، والختنین الکریمین، کل منہما نور العین، ومجمع البحرین، وعلی مجتہدي ملّتہ ، وأئمۃ أمّتہ، خصوصا الأرکان الأربعۃ ، والأنواراللامعۃ، وابنہ الأکرم، الغوث الأعظم، ذخیرۃ الأولیاء، وتحفۃ الفقہاء، وجامع الفصولین، فصول الحقائق والشرع المھذّب بکل زین، وعلینا معھم، وبھم ولھم، یاأرحم الراحمین، آمین آمین ، والحمدﷲ رب العالمین۔ ‘‘
(العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ، ج  ۱)
صنعتِ تلمیح اور اقتباس کے کامیا ب استعمال کے لیے حضرت امام احمد رضا کے خطبے کے درج ذیل جملے ملاحظہ کیجیے اور ان کی لسانی مہارت ، زبان و بیان کی قدرت کے جلووں کاسر کی آنکھوں سے مشاہدہ کیجیے ۔
’’ أما بعد فھذہ بحمدِاﷲ، ورفدِ اﷲ، وعونِ اﷲ، وصونِ اﷲ، تبارک اﷲ، وبارک اﷲ،ماشاء اﷲ، لاقوّۃ الّا باﷲ، وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل، نعم المولٰی و نعم النصیر۔ جناتٌ عالیۃ، قطو فہا دانیۃ، فیھا سرر مرفوعۃ، وأکواب موضوعۃ، ونمارق مصفوفۃ، وزرابي مبثوثۃ، من مسائل الدین الحنیفي، والفقہ الحنفي، تجد فیھا ان شاء اﷲ عینا جاریۃ من عیون تحقیقات السلف الکرام ، مع رفرف خضرو عبقري حسان من تمہیدات الخلف الاعلام، وعرائس نفائس کأنھّا الیاقوت والمرجان،لم یطمثھن قبلي انس ولا جان۔‘‘ الخ
 (حوالۂ سابق )
امام احمد رضا علیہ الرحمہ اپنی اکثر و بیش تر تصنیفات کے خطبوں میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور درود شریف کے ساتھ ساتھ وہ مسئلہ بھی بیان فرما دیتے ہیں جسے بعد میں اصل کتاب کے اندر تفصیلی دلیل کے ساتھ بیان فرماتے ہیں ۔ مقدموں اور خطبوں میں محاسنِ بلاغت اور صنائع بدائع کا بے تکلف اور بر محل استعمال کوئی ان سے سیکھے ۔
کتابوں کے نام  :
حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی عربی زبان و ادب میں کمال مہارت کا منھ بولتا ثبوت ان کی تصنیفات کے نام بھی ہیں ۔ کیوں کہ آپ نے اکثر رسائل و تصنیفات کے عربی میں ایسے حسین نام تجویز فرمائے ہیں جو نہایت موزوں، مناسب اور واقع کے عین مطابق ہوتے ہیں جنھیں پڑھنے کے بعد ہر باذوق قاری پھڑک اُٹھتا ہے اور حضرت امام کی ادبی و لسانی دسترس پر حیران و ششدر رہ جاتا ہے ۔ اکثر ناموں میں مندرجہ ذیل خصوصیات قدر مشترک کے طور پر پائی جاتی ہیں ۔
(۱) وہ نام دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے اور دونوں حصوں کا آخری حرف ایک ہی ہوتا ہے ۔ بلکہ دونوں فقروں کے آخری کلمات ہم وزن ہوتے ہیں ۔ یعنی سجع کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے ۔
(۲) ہر نام اسم بامسمّٰی ہوتا ہے یعنی نام ہی سے پتہ چل جاتا ہے کہ اس رسالہ کا موضوع کیا ہے ۔
(۳) اس سے حروفِ ابجد کے حساب سے سالِ تصنیف بھی معلوم ہوجاتا ہے ۔
درج ذیل ناموں پر غور فرمائیں تویہ حقائق آفتابِ نیم روز کی طرح روشن و تاباں نظر آئیں گے :
l           کنزالایمان في ترجمۃ القرآن( ۱۳۳۰ ھ )
l           الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ (۱۳۲۳ھ)
l           الاجازات المتینۃ لعلماء بکّۃ والمدینۃ (۱۳۲۴ھ)
l           الہاد الکاف في حکم الضِعاف (۱۳۱۳ھ )
l           اعلام الاعلام بأنّ ہندوستان دارالاسلام (۱۳۰۶ھ )
l           اقامۃ القیامۃ علی طاعن القیام لنبي تھامۃ (۱۲۹۹ھ)
l           جمل النور فی نھي النساء عن زیارۃ القبور(۱۳۳۹ھ)
l           أعالي الافادۃ في تعزیۃ الہند و بیان الشہادۃ (۱۳۲۱ھ)
l           بدر الأنوار فی آداب الآثار (۱۳۲۶ھ)
l           الکشف شافیا حکم فونو جرافیا(۱۳۲۸ھ)
l           کفل الفقیہ الفاہم في أحکام قرطاس الدراہم(۱۳۲۴ھ )
l           الزبدۃ الزکیۃ في تحریم سجود التحیۃ(۱۳۳۷ھ) ۔ وغیرہ۔
تواریخ ولادت و وفات  :
تاریخ گوئی میں بھی اعلیٰ حضرت کو حد درجہ کمال حاصل تھا آپ فارسی زبان کی طرح عربی میں بھی تاریخیں کہا کرتے تھے ، جس سے فن تاریخ گوئی میں حیرت انگیز قدرت کے ساتھ ساتھ عربی زبان میں مہارت کاپتہ چلتا ہے ۔ اعلیٰ حضرت کی تاریخ گوئی کی مثالیں تو بے شمار ہیں لیکن ہم یہاں ان تواریخ ولادت اور تواریخ وفات کو نذر قارئین کرتے ہیں جو آپ نے اپنے والد ماجد علامہ نقی علی خاں علیہ الرحمۃ والرضوان کی تصنیف ’’جواہر البیان في أسرار الأرکان ‘‘ میں مصنف کی سوانح کے آخر میں درج فرمائی ہیں جو درج ذیل ہیں :
(تواریخ ولادت )  جاء ولي نقي الثیاب علي الشان (۱۲۴۶ ھ )، رضيّ الأحوال بھيّ المکان (۱۲۴۶ھ )، وھوأ جلّ محققي الأفاضل (۱۲۴۶ھ ) ، شہاب المدققین الأماثل (۱۲۴۶ھ )، قمرفي برج الشرف (۱۲۴۶ھ )، بری من الخسوف والکلف(۱۲۴۶ھ )، أفضل سباق العلماء(۱۲۴۶ھ )، أقدم حذاق الکرماء۔
(تواریخ وفات) کان نہایۃ جمع العظماء (۱۲۹۷ھ )، خاتم أجلّۃ الفقہاء(۱۲۹۷ھ)، أمین اﷲ في الأرض أبدا(۱۲۹۷ھ)، ان موتۃَ العالِمِ موتۃ العالم (۱۲۹۷ھ )، وفاۃ عالم الاسلام ثلمۃ في جمع الأنام (۱۲۹۷ھ)، خلل في باب العبادۃ لاینسَدُّ الی یوم القیامۃ (۱۲۹۷ھ)، یاغفور(۱۲۹۷ھ)، کمِّل لہ ثوابَک یوم النشور(۱۲۹۷ھ)، امنحہ جنّۃ أعدّت للمتقین(۱۲۹۷ھ ) ، صلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا محمد وآلہ و أھلہ أجمعین(۱۲۹۷ھ)
(حیات ا علیٰ حضرت (بترتیب جدید مفتی مطیع الرحمن)ج۱ ،ص۳۱۷)
اسلوبِ بیان  :
مافی الضمیر کی ادائیگی اور اپنی بات دوسرے تک پہنچانے کے لیے ایک ادیب جو طریقِ ادا اور طرز تعبیر اختیار کرتااور جس خاص روش کو اپناتا ہے اسے ’’ اسلوب ‘‘ کہتے ہیں ۔
 اسلوب کی تین قسمیں ہیں: (۱) علمی اسلوب یعنی عالمانہ طرز بیان۔ (۲) ادبی اسلوب یعنی ادیبانہ طرز بیان۔ (۳) خطابی اسلوب یعنی خطیبانہ طرز بیان۔
اسلوب علمی تمام اسالیب کے مقابل نہایت متین ، سنجیدہ اور پرُ سکون ہوتا ہے ، اس میں نہ ادبی شوخیوں کی چاشنی ہوتی ہے ، نہ خطابی جوش و خروش ہوتا ہے۔ اس اسلوب کو علمی حقائق کی تشریح کے لیے اختیار کیا جاتا ہے جو عموماً مشکل اور دقیق ہوتے ہیں ، جنھیں سمجھانے کے لیے وضاحت و دلائل کی ضرورت ہوا کرتی ہے ۔
اسلوب ادبی کا مطمح نظر حسین سے حسین تعبیر ہے ، اس کے مخصوص اوصاف یہ ہیں کہ معانی ، الفاظ ، تراکیب اور پیرایۂ بیان، سب میں حسن و جمال ہو ، اگر زندگی کا کوئی فلسفہ بھی بیان کرنا ہے تو خوب صورت سے خوب صورت تعبیر اختیار کی جائے ۔ اس اسلوب میں ہمیشہ اس کا لحاظ کہ مضامین کا پیرایۂ بیان اتنا دل کش ہو کہ سننے والا ہر طرف سے ہٹ کر اس طرف متوجہ ہوجائے ، اس کے لیے حسبِ موقع تشبیہ و استعارہ ، تمثیل و کنایہ ہر چیز کی ضرورت ہے ۔
اسلوب خطابی کا مطمح نظر عزائم کو طاقت ور اور سرگرمِ عمل بنانا اور دلوں میں زندہ تحریک اور جوش عمل کی روح پھونکناہے ۔(تفصیل کے لیے دیکھیے مقدمۂ البلاغۃ الواضحہ )
جب ہم امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کے نثری شہ پاروں پر نگاہ ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا اسلوب نہ خالص علمی اسلوب ہے ، نہ محض ادبی یا خطابی، بلکہ یہ مختلف اسالیب کا حسین امتزاج ہے ، اسی لیے آپ کی عربی تحریروں میں نہ الفاظ و معانی کا الجھائو ہوتا ہے ، نہ طرزِ بیان میں کوئی جھول ، اسی لیے قاری کے قلب و ذہن تک مفہوم کی ترسیل بہت مؤثر اور طاقت ور پیرایے میں ہوتی ہے ۔
پوری بیدار مغزی اور توجہ کے ساتھ درج ذیل اقتباس پڑھیے، رسالہ ’’ الکشف شافیا حکم فونو جرافیا ‘‘ میں شعر کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
فما ھوالاّ أنّ الأوزان العروضیۃ آلۃ لأ داء کل قسم من الکلام موزونا، فلایحکم علیھا في أنفسھا بحسن ولا قبح، بل تتبع المودّیٰ بھا، فان کان حسنا سائغا و ذکرابالغا ففي الحدیث الصحیح: ’’انّ من الشعرلحکمۃ‘‘۔ وان کاھزلاً فارغا ورذلاًزائغا ففی القرآن المجید: ’’الشُّعَرائُ یتّبعھم الغاوٗن‘‘ ۔ وللأول بشریٰ تحیی الفؤاد’’انّ اﷲ یؤیّد حسّان بروح القدس‘‘ وعلی الآخر وعید یفتّ الأکباد: ’’ امرء القیس صاحب لواء الشعر الی النار۔‘‘
(ص ۹۵، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)
دبستان ادب :
امام احمد رضا قدس سرہ کی عربی منثور تحریروں کو دیکھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ نہ آپ دبستانِ ابن العمید سے متاثر نظر آتے ہیں جس میں سارا زور الفاظ کو پُر شوکت اور حسین و جمیل بنانے پر ہوتا ہے اور معنوی حسن کی طرف توجہ یا تو بالکل نہیں ہوتی، یا ہوتی ہے تو بہت کم ۔ اور نہ آپ دبستانِ ابن المقفع کی پیروی کرتے ہیں جس کے امتیازی اوصاف جملوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں توڑنا ، الفاظ میں ہم آہنگی، سہل پسندی ، معانی کا زیادہ اہتمام اور سجع بندی سے نفرت کی حد تک گریز اور دوری ہیں ۔ بلکہ آپ کا اسلوب بیان ان دونوں دبستانِ ادب کے درمیان ہے آپ کے یہاں معانی سے غفلت و لاپرواہی بھی نہیں اور سجع بندی سے نفرت و دشمنی بھی نہیں ، بلکہ معنوی پہلو کو پورے طور پر سامنے رکھتے ہوئے بے تکلف سجع بندی بھی پائی جاتی ہے ۔ اس طرح آپ کا طرز بیان دونوں دبستانوں کا آمیزہ معلوم ہوتا ہے ۔
ایک شبہہ کا ازالہ :
امام احمد رضا کے یہاں سجع بندی اور قافیہ بندی کے نمونے بہ کثرت ملتے ہیں جب کہ یہ دورِ جدید ، نثرِ مرسل کا دور ہے اور اب تو نثرِ مُسجّع کو عیب سمجھا جاتا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ سجع کی دو صورتیں ہوتی ہیں : اوّل یہ کہ سجع کی رعایت اس حد تک کی جائے کہ مافی الضمیر کی ادائیگی متاثر ہوجائے یا معنی و مفہوم سے یکسر نگاہیں پھیر لی جائیں۔ جیسے ایک امیر نے شہر قُم کے قاضی کو خط لکھا اور اس میں صرف سجع بندی کا لحاظ کرتے ہوئے اس بے قصور قاضی کی برخاستگی کا فرمان جاری کردیا ، خط کا مضمون کچھ اس طرح تھا ـ:
ایھا القاضي بِقُم، قد عز لناک فَقُمْ۔  ( اے شہر قُم کے قاضی ! مَیں نے تجھے برخاست کیا لہٰذا یہاں سے اُٹھ جا ۔)
جب قاضی تک یہ فرمان شاہی پہنچا تو اس نے برجستہ کہا :
مَا عَزَلَنِي الّا ھٰذا السجعُ ۔  (مجھے صرف اس سجع بندی اور تک بندی ہی نے برخاست کیا۔ )
دوم یہ کہ اس سجع میں تکلف ، تصنّع نہ ہو ،اس سے معنی کی ترسیل متاثر نہ ہوتی ہو۔
سجع کی قسم اوّل قبیح اور نا پسندیدہ ہوتی ہے جب کہ دوسری قسم نہ صرف یہ کہ عیب نہیں گردانی جاتی ، بلکہ اسے زبان و بیان پر قدرت اور مہارت کی دلیل سمجھا جاتا ہے ۔ امام احمد رضا قدس سرہ کی سجع اِسی قسم سے تعلق رکھتی ہے اس لیے یہ عیب نہیں بلکہ ان کی قادر الکلامی اور لسانی مہارت کی دلیل ہے ۔
 اسی بنیاد پر عربی زبان کے ماہرین بلکہ خود عرب علماآپ کی فصاحت و بلاغت اور زبان دانی کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں ۔
شیخ علی بن حسین مالکی مدرس مسجد حرام ، مکہ مکرمہ نے آپ کی شان میں یوں خراجِ عقیدت پیش کیا :
ذَا خبرۃٍ مَوْلَی المعارفِ والھُدیٰ
رَبَّ البلاغۃِ مَنْ بِہِ الدنیازَ ھَتْ
أَ بْدی مَعَاني المشکلاتِ بَیَانُہ
بِبِدیعِ مَنْطِقِہِ الجواہرُ نُظِّمَتْ
(ترجمہ : وہ تجربہ کار اور صاحبِ معارف و ہدایت ہیں ، ایسے بلیغ جس پر دنیا ناز کرے ۔ اس کے بیان نے مشکل معانی کو واضح کردیا ، اس کے اچھوتے بیان سے موتیوں کو پرویا گیا ہے۔ )
ڈاکٹر حازم محفوظ استاذ جامعہ از ہر کہتے ہیں :
عند ما نطالع مؤلّفاتہ النثریۃ التی کتبھا ۔ وکتب أغلبھا ۔ باللغۃ العربیۃ نتحیّر من تمکنّہ التام من اللغۃ العربیۃ وآدابھا،… ومما یدعو الی التأمل أنّ ھٰذ االامام تعلم اللغۃ العربیۃ وأجادھا اجادۃ تامّۃ… أماعن النثرا لعربی فقد بلغ أسلوبہ فیہ قمۃ الفصاحۃ و البلاغۃ۔                                                      ( محمد أحمد رضا خان والعالم العربي ، ص ۳۰۔۳۱)
( جب ہم امام احمد رضا کی ان کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں جو آپ نے عربی زبان میں لکھی ہیں تو عربی زبان و ادب میں ان کی مہارت اور کمالِ قدرت کو دیکھ کر محو حیرت ہوجاتے ہیں۔ … قابل غور پہلو یہ ہے کہ انھوں نے عربی ز بان سیکھی ، اور اسے خوب سے خوب تر کیا ۔… اور عربی نثر میں تو آپ کا اسلوب و پیرایۂ بیان فصاحت و بلاغت کی بلندیوں تک پہنچا ہو اہے ۔)
عربی شاعری  :
امام احمد رضا نے اردو ، فارسی اور عربی تینوں زبانوں میں پر مغز ، بیش قیمت اور شان دار اشعار کہے ہیں ، ان کی شاعری وارداتِ قلبی کا بیان ہوتی ہے ، انھیں شاعری پر پورا پورا قابو حاصل ہے، اس لیے ان کی زبان میں مفہوم ادا کرنے کے لیے بہت زیادہ وسعت ہے ۔ عربی ز بان سے انھیں فطری مناسبت ہے ۔ ان کی نظم و نثر کا مطالعہ کرنے والا اس حقیقت واقعیہ کے اعتراف میں کوئی تأمّل نہیں کرتا ۔
حضرت شارح بخاری علامہ مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ گیارہ سال سے زیادہ حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے دارالافتامیں خدمتِ افتا سر انجام دیتے رہے اور حضرت مفتی اعظم ہند ان پر حد درجہ اعتماد فرماتے تھے ، آپ کا بیان ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری بریلوی قدس سرہ فرماتے تھے کہ :
’’ قلب فقیر میں مضامین کی آمد اوّلاً عربی زبان میں ہوتی ہے ، دوسری زبان میں بات کہنے کے لیے نقل و ترجمہ کی ضرورت پڑتی ہے ۔‘‘
امام احمد رضا کی تحریروں کو دیکھنے سے اس بات کی حرف بہ حرف تصدیق ہوتی ہے ، عربی تو جانے دیجیے خود ان کی اردو میں عربیت کا رنگ نمایاں طور پر جھلکتا نظر آتا ہے ، عربی الفاظ کا کثرت سے استعمال ، بلکہ بہت سے اردو جملوں کا انداز ترتیب بھی عربی جیسا ملتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھیں بچپن ہی سے دینی و علمی ماحول ملا تھا ، دادا جان حضرت مولانا رضا علی خاں بریلوی اور والد گرامی حضرت رئیس المتکلمین مولا نا نقی علی خاں بریلوی علیہما الرحمۃ والرضوان اپنے وقت کے زبردست عالم تھے ، گھریلو ماحول کے علاوہ طبعی میلان اور خداداد قابلیت نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا۔ اور انھیں وجوہ کی بنا پر عربی زبان سے مناسبت ان کی فطرت ثانیہ بن گئی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں زبان پر اتنی دسترس اور اس قدرعبورملتا ہے کہ جہاں جس مضمون کو جس طرح عربی میں ادا کرنا چاہا ہے اسے بے تکلف ادا کردیا ہے ۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ آپ کی عربی ، آپ کی اردو سے کہیں فائق نظر آتی ہے ۔ آپ کے عربی اشعار کا مطالعہ کرنے کے بعد عرب اُدَبا اور ریسرچ اسکالر عربی شعر و ادب میں آپ کی مہارت اور اصنافِ سخن میں آپ کی گہرائی و گیرائی کو دیکھ کر محو حیرت ہیں ۔
ڈاکٹر حازم محمد محفوظ استاذ جامعہ ازہر مصر لکھتے ہیں :
انّ ھٰذاا لدیوان قد جعل الامام في طلیعۃ شعراء العربیۃ الأعلام في شبہ القارۃ بل أنّنا لانکون مبالغین اذاقلنا: انّ ھٰذاالامام یُعدّفي جملۃ أکابر شعراء العربیۃ في العصر الحدیث وبمطالعۃ ھذاالدیوان العربي’’بساتین الغفران‘‘ نتیقن من أسلوبہ ولغتہ العذبۃ، أنّ ناظمہ لابدّ أن یکون عربیَّ اللسان والبیان، بید أننا عند ما نطالع أغراضہ و موضوعاتہ التي تصور المجتمع الہندي في عصرہ نقول : انّ ناظمہ من تلک البیئۃ ، ونتساء ل أین وکیف ومتی تعلّم وأجادو اطلع علی اللغۃ العربیۃ۔
(اس دیوان نے امام احمد رضا کو برصغیر کے بلند پایہ شعرا میں سر فہرست کردیا ہے بلکہ مبالغہ نہ ہو گا اگر ہم یہ کہیں کہ امام احمد رضا، دور جدید میں عربی زبان کے اکابر شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں ۔اور اس عربی دیوان ’’بساتین الغفران ‘‘ کے مطالعہ کے بعد اس کے اسلوب اور زبان کی حلاوت سے ہمیں اس کا یقین ہوجاتا ہے کہ اس کو نظم کرنے والا ، زبان و بیان کے اعتبار سے ضرور عربی ہی ہے ۔ لیکن جب ہم اس کے (شعری ) اغراض و مقاصد اور ان موضوعات کو دیکھتے ہیں جو ان کے عہد کے ہندوستانی معاشرہ کی تصویر پیش کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ اسے نظم کرنے والا اسی ماحول سے تعلق رکھتا ہے، اور ہم سوال کر تے ہیں کہ اس نے کہاں ، کیسے اور کب عربی سیکھی اور اس میں عمدگی اور بہتری پیدا کی ۔)
امام احمد رضا قدس سر ہ نے اپنی شاعری میں تمام اصنافِ سخن پر طبع آزمائی فرمائی ہے ۔ ان کے یہاں نعتِ رسول بھی ہے ، حمد و مناجاۃ بھی ہے ، مدح و ہجو بھی ہے اور پاکیزہ غزل بھی ۔ انھوں نے اپنی شاعری میں خلاف واقع تشبیہات و استعارات اور جھوٹے مبالغے سے پرہیز کیا ہے ۔
عربی دیوان (بساتین الغفران )  :
امام احمد رضا کے عربی اشعار کے جمع و تدوین اور ترتیب کا کام آپ کی حیات میں نہ ہو سکا تھا ، بلکہ آپ کی وفات کے بعد بھی سالہا سال تک یہ کام کسی مرد مجاہد کے عزم واستقلال اور محنت و کاوش کا انتظار کرتا رہا ۔ اس دوران ریسرچ اسکالر ز نے آپ کی حیات و خدمات کے عنوان پر ایم ۔ اے اور پی ۔ ایچ ۔ ڈی بھی کی اور گراں قدر علمی مقالے سپرد قلم کیے لیکن کسی نے آپ کے منتشر عربی اشعار کو جمع و ترتیب کے مراحل سے گزار کر اربابِ علم و دانش کے سامنے پیش کرنے کی جرأت نہ کی ۔ بالآخر جامعہ ازہر مصر کے استاذ ڈاکٹر حازم محمد احمد عبدالرحیم محفوظ پاکستان آئے اور انھیں اس کام کی اہمیت کا احساس ہوا، اور انھوں نے کمر ہمت کس لی اور محققِ عصر علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری علیہ الرحمۃ والرضوان ،سابق شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ لاہور اور دیگر اہل علم کے تعاون سے یہ کام تکمیل آشنا ہوا ، اور آپ کے اردو دیوان ’’ حدائق بخشش‘‘ کو سامنے رکھتے ہوئے اس عربی شعری مجموعہ کا نام ’’بَسَاتین الغُفران ‘‘ رکھا ۔ یہ مجموعہ پہلی بار ۱۹۹۷ ء میں طباعت کے مرحلے سے گزرا ،اس کی طباعت و اشاعت رضا اکیڈمی برطانیہ ، رضا دارالاشاعت لاہور ، ادارۂ تحقیقات امام احمد رضا کراچی کے زیر اہتمام ہوئی ۔ اس مجموعہ میں سات سو پنچانوے اشعار اور ننانوے منظوم تاریخیں ہیں ۔ خیال رہے کہ حضرت امام کے عربی اشعار کل اتنے ہی نہیں ہیں ، یہ تو ان اشعار کی مجموعی تعداد ہے جو اس جمع و تدوین کے وقت جامع کو حاصل ہوئے تھے ۔
آپ کے اس عربی شعری مجموعہ میں عربی زبان پر کامل دسترس اور بھر پور قدرت کا عنصر ایک ناقابل انکار حقیقت بن کر سامنے آتا ہے ۔ اب ذیل میں آپ کے عربی اشعار کے کچھ نمونے کچھ ضروری تفصیلات کے ساتھ پیش خدمت ہیں ۔
قصیدتان رائعتان :
یہ دو عربی قصیدوں کا مجموعہ ہے ایک قصیدۂ نونیہ ، جس کا اصل تاریخی نام ’’ مدائح فضل الرسول ‘‘ ہے اس قصیدہ میں کل دو سو تینتالیس اشعار ہیں ، اور دوسرا قصیدۂ دالیہ ، جس کا تاریخی نام ’’ حَمَائدُ فضل الرسول ‘‘ ہے، اس کے اشعار کی مجموعی تعداد ستّر (۷۰ ) ہے ۔ یہ دونوں قصیدے تاج الفحول علامہ عبدالقادر قادری بدایونی علیہ الرحمہ کے پوتے حضرت مولانا شاہ عبدالحمید سالم القادری سجادہ نشین خانقاہ قادریہ بدایوں شریف کے پاس بخطِ شاعر ( اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری قدس سرہ ) موجود ہیں ، ۵؍ صفر ۱۴۰۹ھ کو دارالعلوم قادریہ بدایوں میں خواجۂ علم و فن حضرت علامہ خواجہ مظفر حسین صاحب رضوی مدظلہ کے ہمراہ استاذی الکریم عمدۃ المحققین صدر العلما حضرت علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ کی ملاقات حضرت سالم میاں صاحب مدظلہ سے ہوئی ، اسی موقع پر انھوں نے یہ دونوں قصیدے حضرت صدر العلما کو دکھائے اور آپ کی طلب پر بغیر کسی ٹال مٹول کے ان کی فوٹو کاپی دینے کے لیے رضا مند ہو گئے ۔ حضرت مولانا قاضی شہید عالم صاحب نے ان دونوں قصیدوں کی بہترین فوٹو کاپی کرا کے جلد ہی حضرت صد ر العلما کے پاس مبارک پور بھیج دی اور اس طرح المجمع الاسلامی مبارک پور کے زیر اہتمام یہ دونوں قصیدے۱۹۸۸ ء میں ’’ قصیدتان رائعتان ‘‘ کے نام سے شائع ہو کر اہل علم کی نگاہوں کی زینت بنے ۔ یہ دونوں قصیدے سیف اللہ المسلول حضرت علامہ شاہ فضل رسول قادری عثمانی بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان کی مدح میں لکھے ہیں ۔ راقم سطور (نفیس احمد مصباحی ) ، اور مولانا فروغ احمد اعظمی مصباحی اور مولانا نظام الدین مصباحی کی کوششوں سے یہ دونوں قصیدے دارالعلوم علیمیہ ، جمدا شاہی ، ضلع بستی ، یو ۔ پی نے جماعتِ خامسہ کے عربی ادب کے نصاب میں شامل کر لیے ہیں ۔ دارالعلوم علیمیہ کے زمانۂ تدریس میں دو سال تک یہ قصیدے میرے ہی زیر تدریس رہے اور اسی دوران مَیں نے ان کا ترجمہ بھی مکمل کر لیا اور کچھ حلّ لغات اور محاسن بلاغت کی تعیین بھی کر لی ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ان دونوں قصیدوں کی عربی اور اردو دونوں زبانوں میں راقم الحروف کے ہاتھوں لکھی ہوئی شرحیں چھپ کر اہل ذوق کو دعوت مطالعہ دیں گی ۔
قصیدہ ’’ مدائح فضل الرسول ‘‘ :
ان میں پہلا قصیدہ ’’ مدائح فضل الرسول ‘‘ باتشبیب قصیدہ ہے ۔ عموماً باتشبیب قصیدہ کے چار جُز ہوتے ہیں
(۱)  تشبیب  (۲)  گریز  (۳)  مدح یا ہجو    (۴)  خاتمہ
(۱)تشبیب : عربی شعر و ادب میں عشقیہ شاعری کو کہتے ہیں ، خواہ وہ مدحیہ قصیدہ کی تمہید کے طور پر ہو یا پوری نظم کا موضوع ہو ۔ فارسی میں جب غزل ایک صنف سخن کی حیثیت سے وجود میں آئی تو تشبیب صرف قصیدہ کی عشقیہ تمہید کا نام رہ گیا ۔ بعد میں ہر قسم کی تمہید کو تشبیب کہا جانے لگا ۔
(۲) گریز : باتشبیب قصیدہ کا دوسرا جز ’’ گریز ‘‘ ہے، اس کو عربی میں خروج ، توصُّل اور تخلّص کہتے ہیں ۔ اس کی تعریف ابن رشیق نے یوں کی ہے :
الخروج : انما ہوأن تخرج من نسیب الی مدح اوغیرہ بلطف تحیل۔ ( العمدہ ، ۱/۱۵۶ )
        (تشبیب سے مدح یا دوسرے موضوع کی طرف بہترین حیلے سے نکل جانے کا نام گریز ہے۔ )
(۳) مدح یا ہجو : یہ قصیدہ کا تیسرا اور سب سے بنیادی جُز ہے ، قصیدہ کا مرکزی مضمون اسی میں ہوتا ہے ۔ یہ جُز شعرا کی توجہ کا مرکز اور فنی مہارت کی امتحان گاہ ہو تاہے ۔
(۴) خاتمہ :قصیدہ کی آخری منزل خاتمہ ہے ، اسے مقطع اور دعائیہ بھی کہا جاتا ہے۔ اگر قصیدہ کا خاتمہ اچھا ہے تو قصیدہ اچھا مانا جاتا ہے ، ورنہ بُرا ۔ ابن رشیق قیروانی نے اپنی کتاب ’’ العُمدہ ‘‘ میںعہد عباسی کے مشہور شاعر ابوالطیب متنبی کو ان تینوں میں تمام شعرا سے فائق تسلیم کیا ہے ۔… خیال رہے کہ عربی ، فارسی اور اردو کسی بھی زبان کے قصیدوں میں ان اجزا ے ترکیبی کی پابندی لازم نہیں ہوتی ، مدحیہ قصیدوں میں تو یہ اجزا اکثر کام میں لائے گئے ہیں لیکن دوسرے موضوعات کے قصیدوں میں ان کا چنداں خیال نہیں رکھا جاتا ۔
قصیدہ’’ مدائح فضل الرسول ‘‘ باتشبیب قصیدہ ہے ۔ اس میں مندرجہ بالا چاروں جُز (تشبیب ، گریز ، مدح اور خاتمہ ) پائے جاتے ہیں ۔
تشبیب کا آغاز          ’’ رنَّ الْحَمَامُ عَلٰی شُجُوْنِ الْبَانٖ
                                      یـَا مَـا اُمَیْلِحَ ذِکْرَ بِیْضِ الْبـَانٖ ‘‘
 سے ہو کر چونتیسویں شعر      ’’  لیلٌ اذا أرْخیٰ سِتــَارَ ظَلَامِہٖ 
                                        رَفَعَ السِّتَارَۃَ عَن نجوم مَعَانٖ‘‘ پر اس کا اختتام ہو جاتا ہے ۔
قصائد کے آغاز میں تشبیب لانے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اصل مضمون کو بیان کرنے کے لیے محبوب اور اس سے نسبت و تعلق رکھنے والی اشیا، اسے یاد دلانے والے مقامات کا تذکرہ کیا جائے یا اس کے بے مثال حسن و جمال اور بے نظیر محاسن و کمالات کو بیان کیا جائے تاکہ قارئین اور سامعین دونوں کی آتشِ شوق تیز ہو ، خوابیدہ جذبات و احساسات بیدار ہوں ، اور جس وقت اصل مضمون پر آئیں اس وقت قاری کے بیان کا جوش اور سامع کی سماعت کا اشتیاق ، نقطۂ عروج اور ذروۂ کمال تک پہنچ چکا ہو ، اسی لیے آپ دیکھیں گے کہ تشبیب کا مضمون عام طور سے قصیدہ کے ایک تہائی یا نصف پر حاوی ہوتا ہے ، مگر کامیاب شاعر وہ ہوتا ہے جو اس مضمون کو اتنا طول نہ دے بلکہ چند اشعار ہی میں ایسے اچھوتے ، پُر کشش اور سحر انگیز مضامین لائے جن سے سامعین کے ذہن و دماغ کے تار جھنجھنا اٹھیں ، دل کی تشنگی اپنے شباب پر آجائے ، اور قلب و جگر پورے شوق و رغبت کے ساتھ اصل مضمون کی طرف متوجہ ہوجائے ، اور قاری ان اشعار کو پڑھ کر اور سامع انھیں سن کر پھڑک اٹھے اور بے ساختہ دل کی گہرائیوں سے شاعر کے لیے داد و تحسین سے لب ریز جذبات یا جملے نکل پڑیں ۔
امام احمد رضا قدس سرہ کی تشبیب اس معیار پر پوری اترتی ہے اور ان کی شاعر انہ مہارت اور فنی عظمت و جلالت کو بے نقاب کرتی نظر آتی ہے ۔ اس کا مشاہدہ خود مَیں نے اپنے ماتھے کی آنکھوں سے کیا ہے ۔
یہ کوئی ۱۹۹۵ ء کا قصہ ہے جب مَیں لکھنؤ میں قیام پذیر تھا ، ایک دن میری ملاقات دارالعلوم ندوہ کے دو اساتذہ سے ہوئی جو شعبۂ عربی ادب کے بلند پایہ استاذ مانے جاتے تھے ، ان میں سے ایک کا تعلق دیو بندی جماعت سے تھا جب کہ دوسرے صاحب جماعت اہل حدیث سے تعلق رکھتے تھے ، اتفاقاً اس وقت میرے ہاتھ میں ’’قصید تان رائعتان ‘‘ کا ایک نسخہ تھا ، اوّل الذکر نے یہ کتاب مجھ سے لے کر دیکھنا شروع کی ،اس کے آغاز میں عمدۃ المحققین صدر العلما حضرت علامہ محمد احمدمصباحی دام ظلہ صدر المدرسین جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور کا عربی زبان میں لکھا ہوا ایک گراں قدر اور وقیع مقدمہ ہے ، اس کو جستہ جستہ پڑھتے ہوئے جب تشبیب کے پہلے شعر تک ان کی رسائی ہوئی جو درج ذیل ہے :
 رَنَّ الْحَمَامُ عَلٰی شُجُوْنِ الْبَانٖ
یـَا مَـا اُمَیْلِحَ ذِکْرَ بِیْضِ الْبـَانٖ
تو ان پر ایک طرح سے بے خودی کی کیفیت طاری ہو گئی اور بے ساختہ زبان سے تعریف و تحسین کے کلمات نکل پڑے کہ واہ واہ ! کیا خوب کہا ہے ، پھر تین چار بار اس شعر کو دہرایا اور ہر بار تعریف و تحسین کے کلمات کا اعادہ بھی کیا۔ اور پھر جب تشبیب کے اشعار پڑھنے شروع کیے تو درج ذیل اشعار تک اسی سرمستی کے عالم میں پڑھتے چلے گئے :
یَا حُسْنَ غُصْنٍ فِیْہِ مِنْ کُلِّ الْجَنیٰ
عِنَبٌ  وَعُنَّابٌ بِہٖ سُلْوَانِيْ
واللَّوْ زُفِیْہِ الفَوْزُ والتَّفُّاج وال
رُّطَبُ ولا تَسْئَلْ عَنِ الرمَّانٖ
(ترجمہ : واہ رے اس شاخ کا حسن و جمال جس میں ہر قسم کے پھل موجود ہیں ، اس میں انگور بھی ہے اور وہ عُنَّاب بھی جو میرے لیے سامانِ تسکین ہے … اس میں بادام بھی ہے جس میں میری کامیابی ہے اور سیب اور ترو تازہ پختہ کھجوریں بھی ، اور انار کی تو بات ہی نہ پوچھو۔ )
اور پھرپوری کتاب کا سرسری مطالعہ کیا اور اس دوران کلماتِ تحسین بھی زبان سے نکلتے رہے اخیر میں انھوں نے اپنے رفیق اہل حدیث فاضل سے کہا : کہ مختلف علوم و فنون کے ساتھ عربی زبان و ادب میں بھی مولانا احمد رضا بریلوی کی مہارت کی بات اب تک صرف سنتے تھے لیکن آج ماتھے کی آنکھوں سے دیکھ لی ۔ مَیں بلا جھجھک کہتا ہوں کہ اگر شاعر کا نام بتائے بغیر یہ قصیدہ عربی زبان و ادب کے کسی شناور اور شعری ذوق رکھنے والے فاضل کے سامنے پیش کردیا جائے تو وہ اسے پڑھنے ، لفظی و معنوی خوبیوں کو دیکھنے اور اس کے دل کش اسلوبِ بیان اور طرزِ تعبیر سے محظوظ ہونے کے بعد بلا جھجھک یہ کہہ اٹھے گا کہ یہ عہد اموی یا عہد عباسی کے کسی با کمال شاعر کا کلام ہے …اس پر اہل حدیث فاضل نے کہا :کہ مولانا کے مخصوص نظریات کو چھوڑ کر عربی زبان و ادب اور دیگر علوم و فنون میں مولانا کی برتری ایک مسلّمہ حقیقت ہے جس کا اعتراف ان کے مخالفین بھی کرتے ہیں ۔ ان دونوں فضلا کی گفتگو سننے کے بعد مَیں نے دل میں کہا : الفضل ما شہدت بہ الأعداء۔ ( کمال فضل وہ ہے کہ دشمن بھی جس کی گواہی دیں ۔ )اس کے بعد دیوبندی فاضل نے مجھ سے کہا : مولاناآپ مجھے ان دونوں قصیدوں کی فوٹو کاپی دے دیجیے ، مَیں نے کہاکہ مَیں کوشش کرتا ہوں کہ آپ کو فوٹو کاپی کی بجائے اصل کتاب ہی دے دوں ، پھر اسی دن مَیں نے استاذ ی الکریم مرجع العلما حضرت علامہ محمد احمد مصباحی دام ظلہ رکن المجمع الاسلامی و صدر المدرسین جامعہ اشرفیہ کی بارگاہ میں اس واقعہ کو لکھ بھیجا اور حضرت سے چند عدد’’قصیدتان رائعتان‘‘ بھیجنے کی درخواست بھی کی ، آپ نے کرم فرمایا اور المجمع الاسلامی کی جانب سے پانچ عد د کتابیں میرے پاس بھیجیں ۔ مَیں نے وہ کتابیں ان دونوں ندوی اساتذہ کے پاس بھجوادیں اور کچھ وہاں کی لائبریری اور دارالمطالعہ میں دے دیں ۔
اس واقعہ سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ امام احمد رضا قادری علیہ الرحمۃ والرضوان کے عربی اشعار حسن و دل کشی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں جنھیں پڑھنے اور سننے کے بعد اپنے تو اپنے ہیں ، پرائے بھی بے اختیار ہو کر ان کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان نظر آتے ہیں ۔
بہر حال اس قصیدہ کی تشبیب میں چونتیس شعر ہیں ۔ پھر چار شعر گریز کے ہیں ، اس کے بعد چالیسویں (۴۰) شعر سے اپنے ممدوح علامہ فضل رسول قادری بدایونی علیہ الرحمۃ والرضوان کی مدح شروع کی ہے ، درمیان میں شعر ۱۳۱؍تا ۱۴۴ ، چودہ اشعار تاج الفحول علامہ شاہ عبدالقادر بدایونی علیہ الرحمہ کی مدح و ستائش میں ہیں۔
اور اس قصیدہ کا اختتام درج ذیل اشعار پر ہوتا ہے :
وَاَدِمْ شآ بیبَ الرِضَا ونَدَی العَطَا
لجمیع اہلِ الدینِ والاِذْعَانٖ
(تمام برادرانِ دینی و یقینی کو اپنی رضا و خوش نودی کے چھینٹوں اور جود و عطا کی بارش سے ہمیشہ بہرہ ور کر)
شَرَّ فْتَنَا بِالحقِّ فَانْصُرْنَا عَلی
بِدَعِ الْعُنُوْدِ وَنِزْعَۃِ المُجَّانٖ
(تونے ہمیں حق سے مشرف کیا تو ان معاندین کے افکارِ نو اور ان گستاخوں کے فتنہ و فساد پر ہمیں فتح و کامرانی عطا فرما۔ )
حَتّی نَکُوْنَ حُمَاۃَ دِینٍ قَیِّمٍ
ومُحَا ۃَ شرِّ الزَّیْغِ والبُطْلَانٖ
(تاکہ ہم دین حق کے محافظ اور گمرہی و باطل پرستی کے مٹانے والے رہیں ۔)
فَلَکَ الثَّنَائُ بِبَدْئِہٖ وَثَنَائِہٖ
وَلَکَ المَدِیحُ باَوَّلٍ وَّبِثَانٖ
(تو ساری تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں ، اس کے آغاز میں اور انجام میں ۔)
وَصَلَاۃُ رَبِّی دَائماً اَبَدًا عَلی
والآلِ وَالْاَصْحَابِ وَالْاَحْبَابِ وال
خَیرِ البَرِیّۃِ سَیِّدِ الْاَکْوَانٖ
نُوَّابِ وَالاَصْھَارِ والاَخْتَانٖ
(اور ہمیشہ میرے رب کی رحمتیں افضل الخلق ، سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے آل و اصحاب و احباب ، ان کے خلفا اور خسروں (حضرت صدیق اکبر و فاروق اعظم رضی اللہ عنہما )اور دامادوں (حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما ) پر نازل ہوں ۔)
صَلَّی المجیدُ عَلی الرسولِ وفضلِہٖ
ومُحِبِّہٖ ومُطِیْعہٖ بِحَنَانٖ
(خداے بزرگ وبرتر رسول ، فضلِ رسول ، محب رسول اور مطیعِ رسول پر بخشش و نوازش کے ساتھ رحمتیں نازل کرے ۔ )
صَلّٰی علیکَ اللّٰہُ یَا مَلِکَ الوَریٰ
مَا غَرَّ دَ القُمْرِیُّ فِی الاَفْنَانٖ
(اے ساری مخلوق کے بادشاہ ! اللہ آپ پر اس وقت تک رحمتیں نازل فرمائے جب تک قُمری شاخوں پر نغمہ سنجی کرے ۔ )
صَلّٰی علیکَ اللّٰہُ یا فَرْدَ العُلٰی
مَا اَطْرَبَ الْوَرْقَائُ بِالْاِلْحَانٖ
(اے بے مثال بلندی والے ! اللہ تعالیٰ آپ پر اس وقت تک رحمتیں نازل کرتا رہے جب تک فاختہ اپنی خوش آوازی سے لوگوں کو مست و بے خود کرے ۔ )
صَلّٰی عَلَیْکَ اللّٰہُ یَا مَوْلَايَ مَا
رَنَّ الحَمَّامُ علی شُجُوْنِ الْبَانٖ
(اے میرے آقا!اللہ تعالیٰ اس وقت تک آپ پر رحمت برسائے جب تک کبوتر ، بان کی شاخوں پر فریاد کرے ۔ )
قصیدہ ’’ حمائد فضل الرسول ‘‘  :
اس قصیدہ میں ستّر اشعار ہیں ، اور یہ قصیدہ ’’ غیر مُشَبَّب ‘‘ قصیدہ ہے یعنی اس کا آغاز تشبیب سے نہیں بلکہ حمدو صلوٰۃ سے ہے ۔ ذیل میں اس کے کچھ ابتدائی اشعار پیش خدمت ہیں ۔ غور کیجیے کے حضرت امام نے اس مختصر سی بحر میں کس طرح اپنی مہارت اور قادر الکلامی کا ثبوت پیش کیا ہے کہ نہ مفہوم کی ترسیل اور معنی کی تعبیر میں کوئی خلل واقع ہورہا ہے اور نہ اشعار کی سلاست و روانی متاثر ہوتی نظر آتی ہے ، فرماتے ہیں :
(۱)
الحمدُ لِلْمُتَوَحِّدٖ
بِجَلَالِہِ المُتَفَرِّدٖ
(۲)
وَصَلاۃُ مَوْلَانَا عَلٰی
خَیْرِ الاَنَامِ مُحَمَّدٖ
(۳)
والآلِ اَمْطَارِ النَّدیٰ
وَالصَّحْبِ سُحْب عَوَائِدٖ
(۴)
لَا ھُمَّ قَدْ ھَجَمَ ا لعِدیٰ
مِنْ کُلِّ شَأْ وٍ اَبْعَدٖ
(۵)
فِي خَیْلِھِمْ وَرِجَالِھِم
مَعَ کُلِّ عَادٍ مُّعْتَدٖ
(۶)
ھَاوِیْنَ زَلَّۃَ مُثْبَت
بَاغِیْنَ ذِلَّۃَ مُھْتَدٖ
(۷)
لکن عَبْدَکَ آمِن ٌ
اِذمَنْ دَعَاکَ یُؤَ یَّدٖ
(۸)
لَا اَخْتَشِي مِنْ بأسِھِمْ
یَدُ نَاصِرِیْ اَقْویٰ یَدٖ
(۹)
یَارَبِّ یَارَبَّاہُ یا
کَنْزَ الفقِیرِ الفَاقِدٖ
(۱۰)
بِکَ اَلْتَجِيْ بِکَ اَدْفَعٗ
فِی نَحْرِ کُلِّ مُھَدِّدٖ
(۱۱)
اَنْتَ القَوِيُّ فَقَوِّنِیْ
اَنْتَ القَدِیْرُ فَأَیِّدٖ
(۱۲)
فَاِلی العَظِیْم تَوَسُّلِي
بِکِتَابِہٖ وَبِاَحْمَدٖ
(۱۳)
وَبِمَنْ اَتٰی بَکلامِہٖ
وَبِمَنْ ھَدیٰ وبمَن ھُدِي
(۱۴)
وَبِطَیْبَۃٍ وَبِمَنْ حَوَتْ
وَبِمِنْبَرٍ وَّ بِمَسْجِدٖ
(۱۵)
وَبِکُلِّ مَنْ وَجَدَ الرِضیٰ
مِنْ عِنْدِ ربٍّ وَاجِدٖ
ترجمہ
(۱۔  تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے جو منفرد جلال کے ساتھ یکتا ہے ۔
۲۔۳ ۔  مولا تبارک و تعالیٰ کی رحمت خیر الانام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو اور آپ کی آل پر جو بارش جود و عطا ہیں ، اور آپ کے اصحاب پر جو فوائد و منافع کے بادل ہیں ۔
۴۔۵۔  اے اللہ ! دشمنوں نے دور دراز مقام سے اپنے سواروں اور پیادوں کے ساتھ ، ہر حد سے تجاوز کرنے والے ظالم کے ہمراہ مجھ پر یورش کردی ہے ۔
۶۔  وہ ثابت قدم انسان کی لغزش کے خواہاں اور ہدایت یافتہ شخص کی ذلت کے طلب گار ہیں ۔
۷۔  لیکن تیرا بندہ محفوظ و مامون ہے ، کیوں کہ جو تجھے پکارے اس کو قوت پہنچائی ہی جاتی ہے ۔
۸۔  مَیں ان کی طاقت و قوت سے خوف زدہ نہیں ، کیوں کہ میرے مددگار کا دستِ قدرت سب سے طاقت ور اور باقوت ہے ۔
۹۔  اے میرے پرور دگار! پالنہار !اور اے بے سروسامان بے مایہ کے خزانہ !
۱۰۔  مَیں تیری پناہ لیتا ہوں اور ہر دھمکی دینے والے کے سینے میں تیری مدد سے دھکا مارتا ہوں ۔
۱۱ ۔  توقوت والا ہے تو ہمیں قوت دے ، اور تو قدرت والا ہے تو ہمیں طاقت بہم پہنچا ۔
۱۲۱۵ ۔ تو خداے بزرگ و برتر کی بارگاہ میں اس کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اس کے کلام کو لانے والے ( حضرت جبریل ) ، نبی ہادی اور ان کے ہدایت یافتہ اصحاب ، مدینہ طیبہ اور اس کی آغوش میں آرام فرمانے والے نفوس قدسیہ ، منبرِ رسول ، مسجد نبوی اور ہر اس ذات کو وسیلہ بناتا ہوں جس نے خداے بے نیاز کی طرف سے رضا و خوش نودی کی دولت پالی ۔)
در حقیقت یہ عنوان مختلف الجہات ہے ، اگر اس کے تمام گوشوں پر گفتگو کی جائے تو ایک ضخیم کتاب تیار ہوجائے ۔ لیکن وقت کی قلت اور کام کی کثرت کے سبب مَیں یہیں پر اپنی گفتگو اس اعتراف کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ :    ؎
نکالی سیکڑوں نہریں کہ پانی کچھ تو کم ہو گا
مگر پھر بھی مرے دریا کی طغیانی نہیں جاتی

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg