Instagram

Saturday, 28 November 2015

Fakhr E Hindustan



فخر ہندوستان
مفتی محمد مطیع الرحمن رضوی،
پوسٹ بذریعہ : ڈاکٹر محمد حسین مُشاہدرضوی
            چودہویں صدی عیسوی کے مابعد زمانہ کو دور جدید اور اس میں فروغ پانے والے علوم و فنون کو جدید علوم سے تعبیر کیاجاتا ہے ۔ مغربی دنیا اسی عہد میں علم و فن سے آشنا ہونی شروع ہوئی اور آج اس کو ناز ہے کہ اس نے بے شمار ایسے سپوتوں کو جنم دیا ہے جنہوں نے چہار دانگ عالم میں علم و فن کے جھنڈے گاڑ دئیے۔
            پولینڈ کے زیر حکمرانی پر شیا کو ناز ہے کہ اس نے ۱۴۷۳ء میں کو پرنیکس جیسے شخص کو پیدا کیا ، جس نے دنیا کو سورج کے گرد زمین کی گردش کا نظریہ دیا، جو آج تقریباً پوری دنیا کی مسلّمہ حقیقت ہے ۔
            اٹلی کو فخر ہے کہ اس کے شہر پیسا میں ۱۵۶۴ء کو گلیلیو نے جنم لیا، جس نے دور بین ایجاد کرکے اس کی مدد سے کو پرنیکس کے نظریہ کی مزعومہ صداقت کو لوگوں سے تسلیم کرایا، اور گرتے ہوئے جسم کی ہیئت پر موجودہ تحقیق کا سہر ا بھی اسی کے سر ہے ۔
            جرمن کے لئے سرمایۂ افتخار ہے کہ اس کے اندر ۱۵۷۱ء کو کیپلر نے پیدا ہو کر ستاروں کی حرکت کا جدید نظریہ پیش کیا اور نظام شمسی سے متعلق اصول و قوانین متعین کیے ۔
            برطانیہ بھی کسی سے کم نہیں ، اس نے بھی ۱۶۴۲ء کو آئزک نیو ٹن جیسا سائنس داں پیدا کرکے کلاہ افتخار میں چار چاند لگالیے ، جس کے پیش کردہ نظریۂ حرکت اور نظریۂ کشش ثقل آج سائنسی دنیا کا ناقابل تردید کارنامہ سمجھا جاتا ہے ۔ یونہی ۱۷۹۱ء میں مائیکل فریڈنے بھی اسی دھرتی پر جنم لیا جو برقی عہد کا پیش رو کہلاتا ہے ۔
            سوئیڈن اپنے لئے یہی کافی سمجھتا ہے کہ اس کی سرزمین پر ۱۷۰۷ء کو لیننا یوس پیدا ہوا ، جسے سائنسی دنیا علم نباتات کا موجد کہتی ہے ۔ پھر ۱۷۴۳ء کو انطون پیدا ہوا ، جس نے باقاعدہ آکسیجن کی دریافت کی ، اور جسے لوگ جدید علم کیمیا کا بانی بھی کہتے ہیں ۔ اسی طرح ۱۷۴۴ء میں علم حیوانیات کا ماہر جین انطون نے جنم لیا۔
            کمبر لینڈ کے لئے نشان امتیاز ہے کہ ۱۷۶۶ء کو اس میں جون ڈارٹن جیسا ماہر علم و فن پیدا ہوا، جس نے جوہر کی تشخیص کی ۔
            اسکارٹ لینڈ مگن ہے کہ اس میں چارلس لائٹر نامی ماہرار ضیات پیدا ہوا جسے جدید دنیا اس فن کا بانی کہتی ہے ۔
            مغربی جرمنی کا سر افتخار سب سے بلند ہے کہ اس کے اندر ۱۸۷۹ء کو البرٹ آئن اسٹائن جیسا سائنس داں وجود میں آیا، جس نے نظریۂ اضافت وغیرہ پیش کرکے دنیا کو محوحیرت کردیا۔
            مگر مشرق کے ہندوستان میں ۱۸۵۶ء کو ایک ایسا بچہ پیدا ہوا، جس نے آنکھ تو کھولی خالص اسلامی گھرانے میں ، اور تعلیم بھی پائی خالص دینی ۔ اس نے اپنا مطمح زندگی بھی مذہبی علوم و فنون ہی کی خدمت کو بنایا۔ لیکن جب اس نے اپنا رخ بدلا اورجدید علوم وفنون کی طرف توجہ کی ، وہ بھی اس لئے کہ اس کی چھٹھی حس نے محسوس کیا کہ مغربی دنیا کے ماہر ین اپنے ان جدید علوم و فنون کی آڑ میں غیر محسوس طورپر اسلامیات کی رگ کاٹنا چاہتے ہیں ، تو پندر ہویں صدی عیسوی سے بیسویں صدی عیسوی تک کے ان الگ الگ فنون میں ماہرین : کوپرنیکس ، گلیلیو ، نیوٹن ، آئن اسٹائن ،البرٹ ایف۔ پورٹا کا نام لے لے کر خود انہیں فنون کی روشنی میں ان کا رد کیا اور ان کے خلاف اسلام نظریات کے تارو پودبکھیر دیئے۔
            تاریخ کو حیرت ہے کہ اس نے عہد جدید کی اس چھ سو سالہ مدت میں علم و فن کی الگ الگ فلک آسا شخصیتیں تو دیکھی تھیں ، مگر ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ خالص اسلامی ماحول میں جنم لے کراسی ماحول میںتربیت پانے والا بچہ، جس نے بڑے ہوکر بھی محض دین ہی کو اپنا نصب العین بنائے رکھا ہو ، وہ بیک وقت جدید یت کے بھی تمام شعبوں میں ایکسپرٹ ہو ۔ اسلامیات کی جملہ شاخوں میں داد تحقیق دینے کے ساتھ ساتھ حیاتیات (Biology)حیوانیات (Zoology) نباتات (Botany) جغرافیہ (Geography) طبقات الارض (Geology) ہیئت (Astronomy) ارثما طیقی (Arithmetic) شماریات (Statistics) ریاضی (Mathematics) لوگارثم (Logariphm) اقلیدس (Geometry)مثلث مسطح (Plane Trigonometry)مثلث کروی (Spherecal Trigonometry) طبعیات (Physics) کیمیا (Chemistry) صوتیات (Sound waves) اشعیات (Radiology) مناظرومرایا (Optics) توقیت (Timings) موسمیات (Meterology) موجودات (Natural Science) وغیرہ پر بھی ایسی مکمل دستر س رکھتا ہو کہ ان میں سے ایک ایک فن پر زندگی تج دینے والے افراد اس کے علم کے آگے بونے نظر آئیں ۔
            وہ بچہ کون تھا؟ اترپردیش کے شہر بریلی میں مولانا نقی علی ولد مولانا رضا علی ولد حافظ کاظم علی صاحب کے گھر میں پیدا ہونے والا احمد رضا ، جسے دنیا اپنے ادراک کے مطابق فقیہ بے نظیر ، مجدد اعظم اور امام علم وفن کی حیثیت سے جاننے ماننے پر مجبور ہوتی چلی جارہی ہے ۔
            میں یہ باتیں محض عقیدت کی بنا پر نہیں کہہ رہا ہوں ۔ میری ان باتوں پر ان کی تقریباً ایک ہزار مطبوعہ وغیر مطبوعہ تصانیف شاہد عدل ہیں ۔ مطبوعہ تصانیف میں فتاویٰ رضویہ جلد اول ، جلد چہارم ، فوز مبین اور کشف العلۃ کو اس سلسلے میں خصوصی امتیاز حاصل ہے ۔
            ضرورت ہے کہ ان کے مندرجات سے نئے انداز میں دنیا کو روشناس کرائیں ، تا کہ ایک طرف امام احمد رضاکی شناخت کی راہ ہموار ہو ، تو دوسری طرف اسلام کی حقانیت بھی سر چڑ ھ کر بولے ۔

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg