Instagram

Saturday, 28 November 2015

Imam Ahmed Raza Awr Muashi Nizam



امام احمد رضا اور معاشی نظام
محمد ہاشم اعظمی مصباحی
استاذ دارالعلوم غوث اعظم ، لیکچرر شعبۂ عر بی، نیشنل کالج ناسک سٹی ،مہاراشٹر

            خالق عالم کی عادت کریمہ رہی ہے کہ باطل قوتوں کی سرکوبی کے لیے اپنے محبوب بندوں کو پیدا فرماتا رہا ہے۔ اور یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ابتداے آفرینش ہی سے حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائیاں ہوتی رہی ہیں باطل قوتوں کاپنجہ مروڑنے کے لیے انبیا و مرسلین کا سلسلۂ دراز چلا، ان کے بعد یہ ذمہ داری علماے ربانیین و اولیاے کاملین کے سر ڈالی گئی جو نہایت ہی خلوص و لگن کے ساتھ اسلام کی ترویج و اشاعت اور تجدید و احیاے دین کے کارنامے انجام دیتے رہے ہیں جس کی مثال نہیں پیش کی جا سکتی۔
            یوں تو ہر دور میں ایسی شخصیتیں ہویدا ہوتی رہی ہیں جنھوں نے اپنے علم و فضل اور عقل و بصیرت سے پوری دنیا کو مستفیض و مستنیر کیا ہے۔ جن کے وجود ناز میں ملک و ملت کا افتخار اور قوم و ملت کی فکر رہی ہے بلاشبہہ انھیں مقدس و پاک باز ہستیوں میں امام احمد رضا خاں محدث بریلوی رضی اللہ عنہ کی ذات بابرکات بھی ہے۔
ولادت باسعادت: 
            علم و فن کے آفتاب و ماہ تاب امام احمد رضا خاں قادری کی پیدائش ۱۰؍ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ مطابق ۱۴؍ جون ۱۸۵۶ء کو ہفتہ کے دن ظہر کے وقت اتر پردیش کے ضلع بریلی شریف کے محلہ جسولی میں ایک پٹھان گھرانے میں ہوئی۔
اسم گرامی: 
            احمد رضا (ولادت ۱۲۷۲ھ/۱۸۵۶ء  وصال۱۳۴۰ھ/۱۹۲۱ء) بن مولانا نقی علی خاں (ولادت ۱۲۴۶ھ/ ۱۸۳۰ء  وصال ۱۲۹۷ھ/۱۸۸۰ء) بن مولانا رضا علی خاں (ولادت ۱۲۲۴ھ/۱۸۰۹ء  وصال ۱۲۸۲ھ/۱۸۶۶ء) ہے، اپنی کتاب ’’حدائق بخشش‘‘ میں خود ارشاد فرماتے ہیں   ؎
احمد ہندی رضاؔ ابن نقی ابن رضا
از اب و جد بندہ و واقف زہر عنواں توئی
تعلیم و تربیتـ:  
            آپ ایک ایسے علمی، فکری اور عشق مصطفوی سے سرشار خاندان میں پیداہوئے جہاں درس و تدریس، وعظ و تقریر، فقہ و افتا، نعت نویسی و نعت خوانی اور سب سے زیادہ تحریر و انشا اور تصنیف و تالیف کا لازمی رواج بلکہ خاندانی دستور تھا۔ آپ نے اکثر علوم و فنون اپنے والد ماجد سے حاصل کیے۔ ان کے علاوہ گھریلو اتالیق اور بعض علماے کرام سے بھی استفادا کیا۔
            آٹھ سال کی کم عمری میں ہی ہدایۃ النحو کی شرح بہ زبان عربی تحریر کی، تیرہ سال کی قلیل عمر میں عربی زبان میں حمدو ہدایت کی تعریف و توصیف میں رسالہ تحریر کیا اور ۱۴؍ سال کی عمر ہی میں رضاعت کا مشکل مسئلہ حل کیا اس کے بعد باضابطہ مسند افتا و قضا پر فائز ہو گئے۔
اساتذہ: 
            مولانا نقی علی خاں (والد ماجد)، حضرت شاہ آل رسول مارہروی (م۱۲۹۷ھ/۱۸۷۹ء)، شیخ احمد بن زینی دحلان مکی (م۱۲۹۹ھ/۱۸۸۱ء)، شیخ عبدالرحمن سراج مکی (م۱۳۰۱ھ/۱۸۸۳ء)، شیخ حسین بن صالح (م۱۳۰۲ھ/ ۱۸۸۴ء)، مولانا عبدالعلی رام پوری (م۱۳۰۳ھ/۱۸۸۵ء)، حضرت شاہ ابوالحسین احمد نوری (م۱۳۲۴ھ/۱۹۰۶ء)، جناب مرزا غلام قادر بیگ بریلوی (م۱۳۳۶ھ/۱۹۱۷ء) آپ کے اساتذہ کی فہرست صرف آٹھ ہے اور بہت سے علوم و فنون میں آپ کو فطری مہارت حاصل تھی۔
            امام احمد رضا علم و فن کے ایسے عبقری تھے کہ عقل حیران ہے کہ وہ کون سا علم ہے جس پر آپ کو عبور نہ رہا ہو۔ موجودہ ترقی یافتہ دور میں علوم و فنون کے اب تک جتنے شعبے دریافت کیے گئے ہیں المختصر یہ کہ ان سب پر آپ کو مکمل دست رس حاصل تھی جن کے شواہد آپ کی تصانیف میں جابجا پائے جاتے ہیں۔ آپ دینی و دنیوی علوم کے حسین سنگم تھے یہی وجہ ہے کہ جہاں آپ نے علوم اسلامیہ میں تجدید و احیا کا کام انجام دیا ہے وہیں علوم دنیا میں بھی بے مثال کارنامے یادگار چھوڑے ہیں۔ آپ کو ۵۵؍ علوم پر درک کامل حاصل تھا اور ایک ہزار سے زائد تصانیف موجود میں۔ ۱۴؍ سال کی عمر سے لے کر ۶۸؍ سال کی عمر تک جو ۵۵؍ سال کا طویل عرصہ ہے اسے آپ کی پوری تصنیفات پر منقسم کیا جائے تو روزانہ اوسط تحریر کے حساب سے ۵۶؍ صفحات قوم کے حوالے کرتے نظر آئیں گے۔ آپ کے عظیم کارناموں کو دیکھ کر پروفیسر سر ضیاء الدین کو یہ اعتراف کرنا پڑا کہ ’’امام احمد رضا حقیقت میں عبقری شخصیت ہیں اور آپ صحیح معنوں میں نوبل انعام کے مستحق ہیں۔‘‘ موصوف علوم ظاہری و باطنی کے ساتھ ساتھ سیاسی و سماجی نبض شناس بھی تھے اور بہت بڑے مدبر و مفکر بھی تھے۔ اب میں آپ کی کچھ معاشی و اقتصادی بصیرتوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اور اس بات پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں کہ انھوں نے مسلمانوں کی معاشی زبوں حالی کو دور کرنے کے لیے اور مالی بحران سے نکالنے کے لیے کیسے کیسے رہ نما اصول پیش کیے ہیں جو نہ صرف یہ کہ مسلمانوں بلکہ پوری دنیا کے معاشی نظام کو استحکام بہم پہنچاتے ہیں۔
            آج پوری دنیا مالی و معاشی بحران کا شکار ہے بعض ممالک میں تو اس کے اثرات بہت ہی زیادہ پائے جاتے ہیں۔ خاص طور سے معاشی بحران کا شکار سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور طاقت ور ممالک ہیں اس پر مزید ستم یہ کہ جتنے بڑے پیمانہ پر کساد بازاری اور گراوٹ کا سلسلہ شروع ہوا ہے اس پر نہ جلدی قابو پایا جا سکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز کیا جا سکتا ہے کیوں کہ نقصان اتنا بڑا ہے کہ مستقبل قریب میں نہ اس کی تلافی کے امکانات نظر آتے ہیں اور نہ ہی اس بحران سے نکلنے کے دور دور تک آثار نظر آتے ہیں۔ دنیا بھر کے بڑے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کو ۱۷؍ جولائی ۲۰۰۸ء تک جو نقصان ہوا ہے اس کا تخمینہ تقریباً ۴۳۵؍ بلین ڈالر لگایا گیا ہے۔ عالمی سطح پر معاشی بدحالی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ ۳۳؍ ممالک خوراک کے سنگین بحران سے دوچار ہیں۔
            اہم سوال یہ ہے کہ اتنی تیزی کے ساتھ معاشی زوال کی شروعات کیوں ہوئی؟ اس کا جواب ماہر معاشیات ڈاکٹر اوصاف احمد، اسلامی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ جدہ کے مطابق یہ ہے کہ: ’’یہ معاشی نظام کسی اخلاقی عنصر سے یک سر محروم ہے۔ یہ نظام انسانی وجود کے اعلیٰ روحانی اور اخلاقی پہلوئوں کو نظر انداز کر کے اس کے مادی وجود پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے۔‘‘ گوکہ یہ سچ ہے کہ انسان روٹی کے بغیر نہیں رہ سکتا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان صرف روٹی سے زندہ نہیں رہ سکتا یہ سچ ہے کہ انسان صرف تبلیغ اور تصوراتی تخیلات سے بہت زیادہ متاثر نہیں ہوتا تو اس کے ساتھ یہ بھی سچ ہے کہ انسان ہمیشہ خود غرضی، ذاتی مفاد اور مادی منفعت سے متاثر ہوکر کام نہیں کرتا۔ سچ تو یہ ہے کہ زیادہ تر انسانوں کے لیے کسی بڑے اخلاقی اور روحانی مقاصد کا حصول ہی ان کی زندگی میں معنی و مفہوم پیدا کرتا ہے۔
            امام احمد رضا قادری جب دوسری مرتبہ حج کے لیے تشریف لے گئے تو آپ سے وہاں چند مسائل دریافت کیے گئے تھے۔ ایک مسئلہ کا تعلق علم معاشیات سے تھا۔ سوال تھا کہ کاغذ کے نوٹ سے لین دین جائز ہے یا حرام؟ آپ نے بغیر کسی کتاب کی مدد کے مختصر وقت میں اس سوال کا تحقیقی، مدلل و مفصل جواب بہ شکل کتاب عربی زبان میں تحریر فرما دیا جس کا نام خود آپ نے کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم(۱۳۲۴ھ) تجویز کیا۔ آج یہ آپ کی معرکۃ الآرا تصنیف تسلیم کی جاتی ہے اور معاشی معاملات میں بینکار حضرات برابر استفادا حاصل کر رہے ہیں۔ اور یہ میرا دعویٰ ہے جو مبنی بر حقیقت ہے کہ بینکار حضرات کفل الفقیہ کے نکات پر مکمل طریقے سے عمل پیرا ہو جائیں تو بینک کبھی مالی بحران کا شکار نہ ہوگا۔ اس کے علاوہ معاشیات کے تعلق سے آپ نے ایک رسالہ بہ نام ’’تدبیر فلاح و نجات و اصلاح‘‘(۱۳۳۱ھ) تحریر فرمایا۔ اس میں آپ نے معاشی نظام کے تعلق سے بڑی اہم بحث فرمائی ہے۔ اس کے نکات میں سے ایک حسین نکتہ یہ ہے کہ:
             ’’ان امور کے علاوہ جن میں حکومت دخل انداز ہے مسلمان اپنے معاملات باہم فیصل کریں تاکہ مقدمہ بازی میں جو کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں پس انداز ہو سکیں۔‘‘
             ایک دوسرا نکتہ بھی ملاحظہ کریں جو کئی جہتوں سے بہت ہی اہمیت کا حامل ہے، وہ یہ ہے کہ:
            ’’بمبئی، کلکتہ، رنگون، مدراس، حیدر آباد کے تواں گر مسلمان اپنے بھائیوں کے لیے بینک کھولیں۔‘‘
             ان نکات کی معنویت کا اندازا پروفیسر ڈاکٹر رفیع اللہ صدیقی کے اس اعتراف سے ہوتا ہے کہ:
            ’’میں بہ حیثیت معاشیات کے طالب علم ان کی وضاحت کروں۔ یہ کام بہت بڑا ہے اگرچہ گزشتہ بیس سال سے معاشیات پر درس دے رہا ہوں لیکن اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ میرا علم بہت محدود ہے۔‘‘
(ضمیمہ تدبیر فلاح و نجات و اصلاح،ص۳، مطبوعہ نوری مشن مالیگاؤں)
             دنیا کو ان رہ نما اصول و نکات کا اندازا اس وقت ہوا جب پہلی جنگ عظیم کے بعد خاص کر ۳۰-۱۹۲۹ء کے بعد عالمی سرد بازاری کی وجہ سے عوام اور حکومتوں کی دل چسپی کا آغاز علم معاشیات سے ہوا، ۱۹۳۶ء میں ایک انگریز ماہر معاشیات جے۔ایم۔کینز نے اپنا نظریۂ روزگار و آمدنی پیش کیا جو معاشیات کے میدان میں ایک انقلاب کا سبب بنا۔
            قارئین ذرا اندازا لگائیں کہ جدید معاشی نظام کی ابتدا ۱۹۳۶ء کے بعد سے ہوئی لیکن یہ کتنی حیرت انگیز تصویر ہے کہ زمانہ جسے ایک مولوی کی تحریر سمجھ کر خاطر میں نہیں لا رہا تھا ان تحریروں میں جدید معاشی و اقتصادی تقاضوں کی جھلک موجود ہے، جس کو محدث بریلوی نے ۱۹۱۲ء ہی میں پیش کر دیا تھا۔ بہ قول اقبالؔ    ؎
تقدیر امم کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ
            امام احمد رضا کے معاشی نظریات اس وقت شائع ہوئے جب علم معاشیات کی جانب دل چسپی و توجہ نہ تھی بلکہ لوگ اسے خشک فن سمجھ کر چھوڑ دیا کرتے تھے۔ وہ زمانہ تھا ۱۹۱۲ء کا، اے کاش! آپ کے نظریات و نکات پر توجہ دی جاتی تو پہلی جنگ عظیم کے بعد عالمی سردبازاری کا منھ نہ دیکھنا پڑتا اور آج جب کہ پوری دنیا اقتصادی بحران کی زد میں ہے، سُپر پاور ممالک عالمی کانفرنس بلانا چاہتے ہیں تاکہ اس وبا سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔ ایسے حالات سے دوچار ہونا نہ پڑتا۔ اب آپ کے نظریات کو اسلام و قرآن کے آئینے میں دیکھتے ہیں کہ جو محدث بریلوی نے نظریات پیش کیے ہیں وہ اسلامی نظریات کے محور پر گردش کر رہے ہیں یا نہیں۔
            (۱)  ’’ان امورکے علاوہ جن میں حکومت دخل انداز ہے مسلمان اپنے معاملات باہم فیصل کر یں تاکہ مقدمہ بازی میں جو کروڑوں روپے خرچ ہورہے ہیں پس انداز ہو سکیں۔‘‘
             حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو برس پہلے ہی فضول خرچی کی مذمت کر دی تھی۔ اور ماہرین معاشیات بھی فضول خرچی کی مذمت کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں سخت مذمت فرمائی ہے۔ ارشاد باری ہے :
            وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًاo اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْآ اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ( بنی اسرائیل: ۲۶۔۲۷)
            ’’ اور فضول نہ اڑا بے شک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ‘‘  (کنزالایمان)
            تقسیم ہند سے پہلے تک معاشی حالات کا جائزہ لیا جائے تو اندازا ہوگا کہ مسلمانوں نے باہمی مقدمہ بازی میں کروڑوں روپے فضول خرچ کر دیے، اور آج بھی کر رہے ہیں۔ امام احمد رضا کے پہلے نکتے کے تناظر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آپ مقدمہ بازی پر کیے جانے والے اخراجات کو ناپسند کرتے تھے۔
            پہلی بات یہ ہے کہ اس طرح آپس میں نفرت و عداوت کا جذبہ کارفرما ہوگا۔ دوسری اہم بات یہ کہ کروڑوں روپے جو بے جا خرچ ہو رہے ہیں انھیں اپنی فلاح و بہبود پر خرچ کریں تاکہ معاشی بحران کا شکار نہ ہوں۔
            (۲) ’’بمبئی، کلکتہ، رنگون، مدراس، حیدر آباد کے تواں گر مسلمان اپنے بھائیوں کے لیے بینک کھولیں۔‘‘
            یہ نکتہ قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ سے ماخوذ ہے:
             وَاٰ تَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِ  (البقرۃ:۱۷۷)
             ’’اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور راہ گیر اور سائلوں کو اور گردنیں چھڑانے میں‘‘  (کنزالایمان)
            مال کی بچت اور بینکنگ نظام ہماری معاشی زندگی کے لیے کتنے اہم ہیں یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ کہنا بالکل مناسب ہوگا کہ مستحکم بینکنگ نظام ذاتی و ملکی معیشت کو تازہ روح فراہم کرتا ہے۔ یہ بھی ایک حیرت انگیز تصویر ہے کہ ۱۹۱۲ء میں صرف ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں اور نام ور جگہوں پر بینک قائم کیے گئے تھے۔ جن کی ملکیت بھی انگریزوں کے ہاتھوں میں تھی۔ اسی وقت امام احمد رضا کی دور رس نگاہیں مستقبل کا پیچھا کر رہی تھیں اور دیکھ رہی تھیں کہ بچت اور بینک کی اہمیت کس قدر ہے۔ اور دنیا کے سامنے مستقبل کا خاکہ پیش کر دیا اور بینکنگ نظام مرتب کر دیا جن سے آج دنیا جزوی طور پر استفادا کر رہی ہے۔
            امام احمد رضا نے لوگوں کو صرف اسراف (فضول خرچی) سے ہی بچنے کی تلقین نہیں کی ہے بلکہ صاحب ثروت و دولت مسلمانان ہند سے پرزور گزارش کی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کے لیے بینک قائم کریں تاکہ باصلاحیت مسلم تاجروں کو سرمایہ فراہم ہو۔ اور صنعت و حرفت میں ترقی کر سکیں اور کم حیثیت کے غریب مسلمان بھی اپنی چھوٹی چھوٹی بچائی ہوئی رقم محفوظ کر سکیں۔
            محدث بریلوی کے معاشی نظریات آج کے سرمایہ دارانہ نظام کی طرح آزاد نہیں ہیں، جہاں افراد آپسی معاملات کے لیے کسی اخلاقی ضابطے کے پابند نہیں ہوتے۔ بلکہ آپ کے نظریات صرف ’’اسلامی نظریات‘‘ کے محور پر گردش کرتے نظر آتے ہیں۔ جہاں آفاقی اخلاقی ضابطے کا پابند ہونے کی وجہ سے عاملین ہمیشہ ایک دوسرے کی رہ نمائی کرتے ہیں، انسانی معاملات اور ایک دوسرے سے برتائو کے سلسلے میں اسلامی معاشی نظام ہمہ گیر اور آفاقی صورت پیش کرتا ہے۔ یہ تمام انسانوں کو وسیع انسانی برادری کا جز قرار دیتا ہے اور ان کے درمیان امن باہم، سکون و اطمینان، فلاح و بہبود کو ہمیشہ بڑھاوا دینے کی ترغیب دیتا ہے۔ اسلامی نظام تمام انسانی معاملات میں عدل قائم کرتا ہے، انفرادی آزادی اور انسانی وقار کو اپنے نظام اقدار میں ایک اعلیٰ مقام عطا کرتا ہے اگر آج بھی لوگ ان نظریات پر عمل پیرا ہو جائیں تو حالات بدل سکتے ہیں اور معاشی بدحالی دور ہو سکتی ہے۔
٭٭٭

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg