Instagram

Saturday, 28 November 2015

Imam Ahmed Raza Ek Hama Jahat Shakhsiat



امام احمد رضا ایک ہمہ جہت شخصیت
مولانا محمد مجاہدحسین حبیبی قادری، رُکن آل انڈیا تبلیغ سیرت ، مغربی بنگال
شیخ الاسلام والمسلمین حجۃ اللہ علی العالمین ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ملت اسلامیہ پہ بڑے احسانات ہیں ۔ ان کی زندگی کا لمحہ لمحہ خدمت دین و سنیّت کے لیے وقف تھا ۔ آپ نے محض ۶۸؍ سالہ زندگی پائی مگر اس مختصرسی زندگی میں پچپن سے زائد علوم و فنون پر تقریباً ۱۴؍سو کتابیں تحریر فرمائیں ، یہ کتابیں اپنے عنوان کے تحت دلائل و براہین سے پرُ انتہا درجے کی جامع ہیں ویسے فقہ اور حدیث میں آپ کو خاص مہارت حاصل تھی ۔ اگر یہ کہا جائے کہ آپ کے عہد میں یا گزشتہ صدیوں میں آپ جیسا کوئی فقیہ سرزمین ہند میں پیدا نہیں ہوا تو کچھ مبالغہ نہیں ہو گا اس دعوے پر آپ کے رشحات قلم سے نکلے ہوئے ہزاروں فتاویٰ اور بہ کثرت کتابیں شاہدعدل ہیں ۔ ان کی فقہی بصیرت کا اعتراف کرتے ہوئے ڈاکٹر اقبالؔ نے کہا تھا:
’’ ہندوستان کے دور آخر میں ان جیسا طباع اور ذہین فقیہ پیدا نہیں ہوا ۔‘‘
(تحریری بیان ڈاکٹر عابد احمد علی مرحوم لاہور ، محررہ یکم اگست ۱۹۶۸ ء )
آپ کی فقہی اور علمی تحقیقات نے علماے عرب کو بھی ان کی طرف متوجہ کیا اور حیرت میں ڈال دیا ۔ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے حافظ کتب حرم حضرت علامہ سیّد اسمٰعیل خلیل مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :  ’’  واﷲ اقول والحق اقول انہ لو راھا ابو حنیفۃ النعمان لاقرت عینہ ولجعل مؤلفھا من جملۃ الاصحاب ‘‘ ترجمہ : مَیں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر امام اعظم ابو حنیفہ نعمان رضی اللہ عنہ ان فتاویٰ کو دیکھتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور ان فتاویٰ کے مؤلف یعنی امام احمد رضا کو اپنے تلامذہ میں شامل فرما لیتے ۔
( الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ والمدینۃ ، رضا اکیڈمی ، ص ۲۲ )
ہم مسلک علما و دانش وران کے علاوہ دیگر مکاتب فکر کے عمائدین نے بھی آپ کی فضیلت اور وسعت نظری کا برملا اقرار کیا ہے۔ چناں چہ جماعت اسلامی کے بانی ابوالاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں :
 ’’ مولانا احمد رضا خاں کے علم وفضل کا میرے دل میں بڑا احترام ہے فی الواقع وہ علوم دینی پر بڑی وسیع نظر رکھتے ہیں اور ان کی اس فضیلت کا اعتراف ان لوگوں کو بھی ہے جو ان سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ ‘‘
(مقالات یوم رضا لاہور ، ص ۴۰ )
اسی طرح مولانا ابوالحسن علی ندوی کے والد مولانا عبدالحی لکھنوی اعلیٰ حضرت کی فقہی بصیرت کااعتراف کرتے ہوئے لکھتے ہیں ’’ برع فی العلم وفاق اقرانہ فی کثیر من الفنون لا سیما الفقہ والاصول ۔‘‘ ترجمہ : بیش تر علوم و فنون خصوصاً فقہ اور اصول میں ( احمد رضا ) اپنے معاصرین پر فائق تھے ۔
(نزہۃالخواطر، جلد ۸ )
مندرجہ بالا سطور کو بار بار پڑھیے ۔ بلا شبہہ حق و صداقت ہمیشہ سر چڑ ھ کر بولتا ہے اور اپنے بیگانے اس کا برملا اعتراف کرتے ہیں ۔   ؎
ملک سخن کی شاہی تم کو رضاؔ مسلّم
جس سمت آگئے ہو سکے بٹھا دیے ہیں
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کو اگرچہ بہ صورت فقیہ پہچانا جاتا ہے تاہم آپ ۵۵؍ سے زائد علوم و فنون پر مہارت تامہ رکھتے تھے جیسا کہ مرقوم ہو چکا ہے ۔ قدرت نے آپ کی ذات میں وہ تمام خوبیاں اور صفات پیدا فرمادی تھیں جن سے عشق رسول جھلکتا ہو ۔ چناں چہ آپ کا نعتیہ دیوان’’ حدائق بخشش ‘‘اس کی بہترین مثال ہے ۔ مولانا کوثر نیازی سابق چیف جسٹس حکومت پاکستان اعلیٰ حضرت اور ان کے نعتیہ دیوان حدائق بخشش کی مدحت سرائی کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’ ان کی امتیازی خصوصیت ان کا عشق رسول ہے جس میں وہ سرتا پا ڈوبے ہوئے ہیں ۔ چناں چہ ان کا نعتیہ کلام بھی سوز و گداز کی کیفیتوں کا آئینہ دار ہے ۔ ‘‘
( امام احمد رضااور رد بدعات و منکرات،ص ۳۷۳)
اردو کے مشہور و ممتاز شاعر مرزا داغ ؔدہلوی اعلیٰ حضرت کے اشعار کی تعریف کیا کرتے تھے ۔ رئیس المتغزلین مولانا حسرت موہانی آپ کے اشعار کا ورد فرمایا کرتے تھے ۔ یہ وہ شواہد ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نثر کے ساتھ ساتھ نظم پر بھی ید طولیٰ رکھتے تھے ۔ جو سراسر عشق رسول میں ڈوبے ہوئے ہوتے تھے ۔آپ نے اردو زبان میں قرآن حکیم کا با محاورہ ترجمہ بھی کیا جو دیگر تراجم قرآن کے درمیان امتیازی شان رکھتا ہے ۔ آپ کا ترجمۂ قرآن ۱۹۱۱ ء بمطابق ۱۳۳۰ ھ میں’’ کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن ‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا ۔ اس ترجمے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ شان الوہیت اور جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کا سچا پاسبان ہے ۔اورایسا کیوں نہ ہو کہ اللہ رب العزت اس دین کی تجدید کے لیے ہر صدی میں جن برگزیدہ ہستیوں کو پید افرماتا ہے ۔ اسی سلسلۃ الذہب کی آپ ایک اہم کڑی ہیں لہٰذا آپ کی تحریر و تصنیف کے ذریعہ جناب الوہیت اور شان رسالت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت کی پاسبانی ایک لازمی امر تھا جسے آپ نے بہ خوبی نبھایا اور صرف اسی قدر پر اکتفانہیں کیا بلکہ آپ کے عہد میں دین و سنّت کی آڑ لے کر جن فتنوں نے بھی سرابھارا آپ نے سبھوں کا رد بلیغ فرمایا ۔ قادیانیت ، وہابیت ، دیوبندیت ، شیعیت سبھوں کے چہروں کو بے نقاب فرمایا اور دلائل و براہین کے ذریعہ ثابت فرمایا کہ مذہب حقہ تو وہ اہل سنّت و جماعت ہی ہے ۔ اس طرح آپ کی پوری زندگی احقاق حق و ابطال باطل سے بھری نظر آتی ہے ان حالات کو دیکھ کر بالآخر اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے ۔   ع
بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا صرف اسلامی علوم و فنون ہی پر گہری بصیرت نہیں رکھتے تھے بلکہ ان علوم و فنون پر بھی انھیں کامل مہارت حاصل تھی جن کا براہ راست اسلامی علوم سے تعلق نہیں ، جیسے علم معاشیات ۔ امام احمد رضا اس پر بھی مہارت رکھتے تھے ۔آپ نے مسلمانوں کے معاشی حالات سدھارنے کے لیے جو تاریخی تجاویز پیش کیں اس کے مطالعہ سے آپ اس دعوی کی صداقت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں ۔
 جناب حاجی منشی لعل خاں صاحب نے مسلمانوں کی زبوں حالی کا ذکر کرتے ہوئے دریافت کیا کہ مسلمان کیا کریں کہ ان کی مفلسی دور ہو جائے اور وہ خوش حالی کی زندگی گزار سکیں ۔ جناب حاجی منشی لعل خاں صاحب کی گزارش پر آپ نے رسالہ’’ تدبیر فلاح ونجات و اصلاح‘‘ تحریر کیا جو ۱۹۱۲ ء میں کلکتہ سے شائع ہوا ۔
اس تاریخی تجویز میں قوم کی خوش حالی اور فارغ البالی کے لیے آپ نے چار نکات پیش کیے جو حسب ذیل ہیں ۔
(۱) ان امور کے علاوہ جن میں حکومت دخل انداز ہے مسلمان اپنے معاملات باہم فیصل کریں ۔ تاکہ مقدمہ بازی میں جو کروڑوں روپے خرچ ہورہے ہیں پس انداز ہو سکیں ۔
(۲) بمبئی ، کلکتہ ، رنگون ، مدراس ، حیدر آباد ، دکن کے تونگر مسلمان اپنے بھائیوں کے لیے بینک کھولیں ۔
(۳) مسلمان اپنی قوم کے سوا کچھ نہ خریدیں ۔
(۴) علم دین کی ترویج و اشاعت کریں ۔      (تدبیر فلاح و نجات و اصلاح ، از امام احمد رضا ، ص ۲۸ )
اب ہم یہاں قدرے تفصیل سے ان چار نکاتوں پر گفتگو کرنا چاہیں گے تاکہ امت مسلمہ ان سے بہرہ مند ہو سکے ۔
پہلا نکتہ :
 ان امور کے علاوہ جن میں حکومت دخل انداز ہے ، مسلمان اپنے معاملات باہم فیصل کریں تاکہ مقدمہ بازی میں جو کروڑوں روپے خرچ ہورہے ہیں پس انداز ہو سکیں ۔
اس نکتے میں اہم بات پس اندازی یعنی بچت ہے ۔ اسراف اور فضول خرچی کی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے ممانعت فرمائی ہے ۔ ماہرین اقتصادیات بھی فضول خرچی کی بے حد مذمت کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک غیر پیداواری کاموں پر کیے جانے والے اخراجات قطعاًغیر پیداواری حیثیت رکھتے ہیں ۔
تقسیم ہند سے پہلے تک کی مسلمانوں کی اقتصادی حالت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے باہمی مقدمہ بازی پر کروڑوں روپے ضائع کیے ۔ بلکہ یوںکہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ مقدمہ بازی ان کا محبوب مشغلہ بن چکا تھا ۔
پروفیسر رفیع اللہ صدیقی لکھتے ہیں کہ ’’ امام احمدرضا بریلوی کے پہلے نکتے سے اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ وہ مقدمہ بازی پر کیے جانے والے اخراجات کو نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے تھے ۔ پہلی بات تو یہ کہ اس طرح مسلمان آپس میں مخالفت پر تلے رہتے ہیں ۔ دوسری اور اہم بات یہ تھی کہ یہ کروڑوں روپیہ جو مقدمہ بازی کی نذر ہورہا تھا اگر بچایا جا سکتا تو مسلمانوں کے کس قدر کام آتا ۔ یہ اخراجات قطعاًغیر ضروری تھے ۔ اگر مفاہمت اور سمجھ بوجھ سے کام لیا جاتا تو اکثر و بیش تر مقدمات کی ضرورت ہی باقی نہ رہتی ۔‘‘ (پھر دو سطر کے بعد پروفیسر صاحب لکھتے ہیں ) ’’ امام احمد رضا بریلوی نے ۱۹۱۲ ء میں پس اندازی کی ہدایت فرمائی تھی ۔ کیوں کہ انھیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کی اقتصادی بد حالی دور کرنے کا یہی بہترین علاج ہے کہ وہ غیر ضروری اخراجات یکسر ختم کردیں اور اس طرح جو کچھ پس انداز ہو ، وہ اپنی فلاح و بہبود پر صرف کریں ۔‘‘
 (فاضل بریلوی کے چار معاشی نکات ، از پروفیسر رفیع اللہ صدیقی ، ص ۷)
یہاں مَیں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ ۱۹۱۲ ء کے مقابلے میں آج مسلمانوں کی اقتصادی و معاشی صورت حال زیادہ تشویش ناک ہے ۔ نہ سرکاری ملازمتیں مل رہی ہیں اور نہ ذاتی صنعت و حرفت کے لیے سہولیات ، روزگار نہ ہونے کے سبب مسلم معاشرہ میں روز بہ روز جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے ۔ یعنی آزادی سے پہلے کے مقابلے آج زیادہ خراب صورت حال ہے ۔ ایسے میں ضروری ہے کہ ہماری قوم اپنے محسن کے پیش کردہ تجویز کو اپنائیں اور اپنے معاملات کو رٹ کچہری کے باہر خود ہی نمٹا لیں ،اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو بلا مبالغہ ملک گیر پیمانے پر ہم اپنی قوم کی اربوں ، کھربوں کی جائیدادیں ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں ۔ اور ان پیسوں سے دیگر فلاح و بہبود کے کام انجام دے سکتے ہیں ۔
دوسرا نکتہ :
بمبئی ، کلکتہ ، مدراس ، حیدر آباد، دکن کے تونگر مسلمان اپنے بھائیوں کے لیے بینک کھولیں ۔
اس دوسرے نکتے کی تشریح وتوضیح کرتے ہوئے پروفیسر رفیع اللہ صدیقی لکھتے ہیں کہ :’’یہ نکتہ معاشی نقطۂ نظر سے اس قدر اہم ہے کہ ہمیں مولانا احمد رضا خاں کی اقتصادی سمجھ بوجھ کا قائل ہونا پڑتا ہے ۔ ۱۹۱۲ ء میں ہندوستان کے صرف چند بڑے بڑے شہروں میں بینک قائم تھے ۔ جن کی ملکیت انگریزوں کے ہاتھوں میں تھی ۔ بر صغیر میں ۱۹۴۰ ء تک کوئی مسلم بینک موجود نہ تھا ۔ ۱۹۱۲ ء میں بینک اور بینکوں کی اہمیت کا اندازہ لگا لینا کوئی آسان بات نہ تھی لیکن مولانا کی نگاہوں سے معاشیات کے مستقبل کے اس اہم ادارے کی اہمیت پوشیدہ نہ رہ سکی اور انھوں نے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں کے لیے بینک قائم کریں ۔ ‘‘
اسی کے چند سطروں کے بعد بینکنگ اور جدید اقتصادی نظام کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر صاحب لکھتے ہیں :’’ اقتصادی منصوبہ بندی میں سرمایہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے ۔ کوئی بھی اقتصادی منصوبہ خواہ وہ کتنا ہی بڑا یا کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو بغیر سرمایہ کے تکمیل کے مرحلے طے نہیں کر سکتا ۔ اقتصادی ترقیاتی منصوبوں میں بینکوں کے سپر د یہ اہم کام ہوتا ہے کہ وہ سرمایہ کی قلت کو دور کریں اور بچت اور سرمایہ کاری کی ہمت افزائی کریں ۔ ایک مضبوط بینکنگ نظام چھوٹی چھوٹی بچتوں کو اس طرح یک جا کر کے کام میں لاتا ہے کہ اس کے ذریعہ بڑے بڑے اقتصادی منصوبے پایۂ تکمیل کو جا پہنچتے ہیں ۔ اس طرح بینک دو اہم فرائض انجام دیتے ہیں ۔                                                          (فاضل بریلوی کے چار معاشی نکات ، ص ۱۱ )
یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ۱۹۱۲ ء میں اقتصادی و معاشی علوم کے جان کار یا ان علوم کے مراکز ہمارے ملک میں نہ کے برابر تھے ۔ ایسے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی نے آنے والے انقلاب کو وقت سے پہلے ہی بھانپ لیا اور مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا کہ وہ فضول خرچی سے بچیں ۔ پس اندازی سے کام لیں ۔ صاحب ثروت مسلمان اپنے بھائیوں کے لیے بینک کھولیں ۔ جہاں کم حیثیت کے مسلمان اپنی بچت محفوظ رکھ سکیں اور یہ بینک با صلاحیت مسلمان تاجروں کو سرمایہ فراہم کرے تاکہ وہ صنعت و حرفت کے میدان میں دوسری قوموں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہو سکیں بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں ۔ ۱۹۱۲ ء میں امام احمد رضا بریلوی نے مسلمانان ہند کے سامنے یہ تجویز رکھی تھی اگر اس زمانے میں اس تجویز پر عمل کر لیا گیا ہوتا تو آج ملک گیر پیمانے پر مسلمانوں کی اقتصادی و معاشی حالت یقینا بہتر ہوتی ۔
ظاہر ہے کہ جب مسلمان مسلمانوں کے لیے بینک قائم کرتے تواس کی بنیاد غیر سودی نظام پر استوار ہوتیں ۔ اس طر ح لاکھوں کروڑوں کم پونجی والے تجارت پیشہ مسلمان جو سودی نظام کے تحت چلنے والے بینکوں کے قرض اور سودی نظام کے جال میں پھنس کر تباہ وبرباد اور قلاش ہو گئے وہ بچ سکتے تھے ۔ پھر سرکاری اور پرائیوٹ بینکوں میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ان کے اس غیر ذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے مسلم تاجر اور دیگر صنعت و حرفت سے منسلک حضرات ترقی کی دوڑ سے بہت دور ہو چکے ہیں اسلامی بینک ہوتے تو ان نقصانات سے بچا جا سکتا تھا ۔ بلکہ ان کی مدد سے تاجر پیشہ بڑے بڑے کارخانے قائم کرتے اور اپنی صنعت و حرفت کو ترقی دیتے تو اس طرح ہمارے نوجوانوں کو روزگار کے بھی مواقع فراہم ہوتے اور معاشرے سے غربت و مفلسی دور ہو سکتی تھی ۔ اب بھی متمول مسلمان محض اپنی قوم کی بھلائی کے لیے ممبئی ، حیدر آباد ، مدراس اور گجرات کے بڑے شہروں میں اسلامی بینک قائم کر سکتے ہیں ۔ پھر جب انھیں قدرے استحکام مل جائے تو ملک کے گوشے گوشے میں اس کی شاخیں قائم کر کے اپنی قوم اور ان کی صنعت وحرفت کو تقویت پہنچا سکتے ہیں۔
تیسرا نکتہ :
مسلمان اپنی قوم کے سوا کسی سے کچھ نہ خریدیں ۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے ۱۹۱۲ ء میں مسلمانوں کو یہ تجویز پیش فرمائی تھی کہ وہ صرف اپنی قوم ہی سے خرید و فروخت کریں ۔ اگر اس تجویز پر عمل کیا گیا ہوتا تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ مسلمان معاشی اعتبار سے خوش حال
نہ ہوتے ۔
خیر اب ملک آزاد ہو چکا ہے اور حالات بالکل مختلف ہو چکے ہیں ۔ پھر بھی اس تجویز پر جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو عمل کرنا چاہیے ۔ اس طرح اپنی دولت اپنے بھائیوں کے ہاتھوں منتقل ہو گی اور اس کا منافع انھیں حاصل ہو گا جو کسی نہ کسی جہت سے اپنی ہی قوم کی خوش حالی و فارغ البالی کا سبب بن سکتا ہے ۔
چوتھا نکتہ :
چوتھا نکتہ اگر چہ معاشی و اقتصادی نہیں ہے تاہم اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے ۔ جو کچھ اس طرح ہے ’’علم دین کی ترویج و اشاعت کریں ۔‘‘ یہ تجویز آپ نے ۱۹۱۲ ء میں پیش فرمائی یہ وہ زمانہ تھا کہ ہندوستان پر انگریزی سامراج کا پرچم لہرا رہا تھا ۔ پورا ملک ظاہری غلامی کے ساتھ ساتھ تہذیبی طور پر بھی مغربی تہذیب کی غلامی میں جکڑ چکا تھا ۔ ہماری نئی نسل بھی ذہنی و تہذیبی طور پر انگریزوں کی غلامی کی طرف بڑھ رہی تھی ۔وہ انگریزی تعلیم کی طرف بڑھ رہے تھے اور مذہبی تعلیم سے یکسر غفلت بر ت رہے تھے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے محسوس کیا کہ مغربی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تہذیب کی بھی ہماری نسل دل دادہ ہوتی جارہی ہے ۔ اس تشویش ناک صورت  حال سے نمٹنے کے لیے امام احمد رضا نے علم دین کی ترویج و اشاعت کا نسخہ پیش کیا ۔ مگر افسوس ناک سانحہ یہ ہے کہ اس کیمیا اثر نسخے پر عمل نہیں کیا گیا ۔ نتیجہ ظاہر ہے حالات نہایت ہی ابتر ہو چکے ہیں ۔ ہماری نئی نسل جو پورے طور پر مذہب بے زار اور بے لگام ہو چکی ہے ۔ مغربی تہذیب اور رنگینیوں نے ہمارے نوجوانوں کو ایسا متوالا بنالیا ہے کہ وہ فرنگیت کے قریب اور اسلام سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ ایسے میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو مغرب کی اندھی تقلید سے باز رکھنے کی کوشش کریں ۔ انھیں اسلامی تعلیم ، اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ سے روشنا س کرائیں ۔ اگر ہم خلوص و للہیت کے ساتھ نوجوان نسل کی رہ نمائی کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ منزل مقصود کو نہ پا لیں ۔ بقول ڈاکٹر اقبالؔ   ع
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
آج بھی اگر مسلمانان ہند اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیش کردہ فارمولہ اپنا لیں تو وہ پھر سے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتے ہیں اور خوش حالی و فارغ البالی پھر سے مسلمانوں کے گھر دستک دے سکتی ہے ۔ بشرطیکہ وہ اپنی اس کاوش میں مخلص ہوں ۔ ویسے ان تجاویز کو پڑھ کر بے ساختہ زبان پر امام احمد رضا محدث بریلوی کے بارے میں یہ مصرع آجاتا ہے ۔  ع
بسیار خوباں دیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg