Instagram

Saturday, 28 November 2015

Imam Ahmed Raza Ka Usloob E Nigarish : Arbab E Fikr Wo Qalam Ki Nazar Me


امام احمد رضا کا اسلوبِ نگارش : اربابِ فکر و قلم کی نظر میں
ڈاکٹر رضا ء الرحمن عاکف سنبھلی، محلہ میاں سراے ، سنبھل ، مرادآباد
امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کی تصنیفات علم و عرفان اور زبان و بیان کی ایک دُنیا اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں ۔ اور ان کا یہ سارا وصف ، یہ تمام خوبیاں کسی استاد کی رہ نمائی کی بدولت نہیں بلکہ مبداء فیاض نے خود اپنی جانب سے آپ کو تبحر علمی کی شکل میں مرحمت فرمائی تھی ۔ تبحر علمی نے آپ کے اسلوب نگارش کو اتنا پختہ بنادیا تھا کہ مضامین کی بلندی کے ساتھ ہی عبارت کی انشا پردازی میں بھی کسی کو انگشت نمائی کا موقع نہ ملا ۔ ان کی قادر الکلامی اور زبان و بیان کی مہارت کا عالم یہ تھا کہ جب وہ کسی مفہوم کو تحریر کا جامہ پہنانے کا ارادہ کرتے تو الفاظ معنی کے تناسب سے خود تحریر کا زریں لباس پہن کر اُتر آتے ۔ اِس لیے آپ کے اسلوب تحریر میںجامعیت کے ساتھ ہی انفرادیت بھی ہے جو بڑے اہم و خاص صاحبان قلم کو ہی نصیب ہوتا ہے ۔
امام احمد رضاخاں کی قادرالکلامی اور انشا پردازی کا تقریباً ہر وہ صاحبِ قلم ہی معترف ہے جس نے آپ کی  تصنیفات ، تحقیقات اور دیگر مضامین کا بہ نظر غائر مطالعہ کیا ہے ۔ جیسا کہ مولانا سیّد محمد حسینی اشرفی مصباحی ، سجادہ نشین آستانۂ عالیہ شمسیہ اشرفیہ رائچور (کرناٹک ) چیف ایڈیٹر ، ماہ نامہ ’’ سنّی آواز ‘‘ ناگ پور نے آپ کے اسلوب پر لکھا ہے :
’’ اعلیٰ حضرت بریلوی قدس سرہ کی ہزاروں صفحات پر مشتمل نثریات جن میں بہ کثرت فنون اور ہر فن کے سیکڑوں انواع اور ہر نوع کے لیے ہزاروں الفاظ کا بر محل ، بر جستہ روانی کے ساتھ استعمال ۔ متعدد فنون اور اصطلاحات کثیرہ کا ہر موقع پر اِس کی مناسبت سے صحت کے ساتھ ذکرکرنا جہاں آپ کے اسلوب کی عظیم الشان خوبی ہے وہیں ان فنون کے دیگر ماہرین و متبحرین کو حیرت میں ڈالے ہوئے ہے۔‘‘    ۱؎
شمس العلما حضرت علامہ جون پوری اکثر درس کے دوران فرمایا کرتے تھے کہ امام احمد رضاخاں بہت ہی منفرد لب و لہجہ اور اثر انگیز اسلوب کے مالک تھے جیسا کہ ایک جگہ انھوں نے لکھا ہے :
’’ امام احمد رضا بریلوی نے جو تحریر کردی وہ اٹل ہے ۔ اس میں کہیں کسی قسم کا نقص نہیں ۔ نہ اس پر اپنے ہی انگلی اُٹھا سکتے ہیں اور نہ ہی غیر ۔ ‘‘  ۲؎
احسن العلما حضرت مولانا مصطفی حیدر حسن مارہروی علیہ الرحمہ نے بھی ایک ملاقات کے دوران آپ کے اسلوب نگارش کے سلسلے میں فرمایا تھا :
’’ میاں اعلیٰ حضرت کی کیابات کرتے ہو ۔ انھوں نے جو لفظ جہاں استعمال کیا وہ نگینے کی طرح جڑا ہوا ہے اسے نہ ہٹایا جا سکتا ہے اور نہ ہی بڑھایا جا سکتا ہے ۔ ‘‘  ۳؎
امام احمد رضا نثر میں تو قلم کے امام تھے ہی آپ نے شاعری کو بھی اپنے مافی الضمیر کے اظہار کا ذریعہ بنایا  مگر شاعری کی کسی کم تر صنف کو نہیں بلکہ اس کی اعلیٰ ترین صنف یعنی نعت نگاری کو اپنایا ۔ انھوں نے جو بھی اشعار کہے ان میں فصاحت و بلاغت ، شگفتگی و برجستگی ، رمز و ایمانیات ، مجاز مرسل ، تشبیہات ، استعارات و کنایات اور شعری و فنی کمالات کا کھل کر مظاہرہ کیا ہے ۔ آپ نے شاعری و نثر دونوں میں ہی محاورات اور عمدہ زبان کا خوب استعمال کیا ۔ آپ کی اسی خوبی اور اسلوب نگارش کے اعلیٰ وصف کااعتراف کرتے ہوئے ممتاز ماہر تعلیم استاذ الاساتذہ اور مشہور محقق و ادیب پروفیسر ڈاکٹر غلا م مصطفی خاں سابق صدر شعبۂ اُردو سندھ یونیورسٹی فرماتے ہیں :
’’ وہ کون سا علم ہے جو انھیں ( حضرت امام احمد رضا خاں ) کو نہیں آتا؟ وہ کون سا فن ہے جس سے وہ واقف نہ تھے ؟ اسلامی علوم و فنون اور دیگر میدانوں میں اعلیٰ کمال کے ساتھ ہی شعر و ادب میں بھی ان کا لوہا ماننا پڑتا ہے اور میرا تو ہمیشہ سے ہی یہ خیال ہے کہ اگر ان کے یہاں استعمال کیے ہوئے محاورات ، مصطلحات ، ضرب الامثال اور بیان و بدیع کے متعلق تمام الفاظ ان کی جملہ تصانیف سے یک جا کر لیے جائیں تو ایک ضخیم لغت تیار ہو سکتی ہے ۔ ‘‘  ۴؎
امام احمد رضا خاں کے اسلوب نگارش کی انفرادیت اور مضامین کی عمدگی کی وجہ سے ہی تو آپ کو امام شعر و ادب کہا گیا ہے ۔ مولانا وارث جمال قادری اپنی تصنیف مسمّٰی بہ نام امام شعر و ادب کے ص ۵۸ ؍پر آپ کے اسلوب کی تعریف کے طور پر لکھتے ہیں :
’’ مولانا کی تحریر میں تشبیہات ، استعارات ، اقتباسات ، فصاحت ، بلاغت ، حلاوت ، ملاحت ، لطافت ، نزاکت ، حسن تعلیل ، حسن تشبیب ، حسن طلب ، حسن تضاد ، تنسیق الصفات علی الصدر ، ندرت تخیل ، جدت تمثیل ، صنعت تلمیح ، صنعت تلمیع ، صنعت طباق و تضاد ، صنعت اتصال تربیعی ، صنعت مقابلہ ، صنعت تجنیس ، صنعت مماثل ، صنعت مستوفی ، تجاہل عارفانہ ، مراعات النظیر وغیرہ کا سد ا بہار چمن نظر آتا ہے ۔ جو ان کے اسلوبِ نگارش کی عمدہ مثال ہے ۔ ‘‘  ۵ ؎
چوں کہ تحقیق اور معاملہ کی حقیقت کو اس کی گہرائی تک سمجھنا بھی اسلوب ہی کا ایک وصف ہے اور محقق کے اندر اسلوب کی اس خوبی کا ہونا بھی اشد لازمی ہے ۔ امام احمد رضا بھی چوں کہ ایک مایۂ ناز محقق تھے اس لیے آپ کے اسلوب میں بھی اس صفت کا پایا جانا عین فطری عمل تھا ۔ چناں چہ آپ کے اس وصف کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رقم طراز ہیں :
’’ جد الممتار کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام احمد رضا اس انداز سے تحقیق فرماتے ہیں کہ بات کی تہ تک پہنچ جاتے ہیں ۔ تاریک گوشوں کو منور کر دیتے ہیں ۔ کبھی ایک اصل کے تحت جزئیات جمع کردیتے ہیں ، کبھی اصول کی روشنی میں نئے جزئیات کا استخراج کرتے ہیں جس سے وسعت فکر و نظراور قوت استنباط کا پتہ چلتا ہے ، لغزشوں اور خطائوں پر بھی گرفت کرتے ہیں مگر ادب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے ۔ الجھی ہوئی گرہیں بڑی آسانی سے کھول دیتے ہیں ۔ ‘‘  ۶؎
یہی مصنف امام احمد رضاخاں کے اسلوب کے محاسن کا ذکر کرتے ہوئے آگے چل کر لکھتے ہیں :
’’ امام احمد رضا کو مختلف علمی مباحث کو پھیلانے اور سمیٹنے کی بھی حیرت انگیز قدرت تھی ۔ اور یہ بات جبھی پیدا ہوتی ہے جب صاحب قلم کو مختلف علوم و فنون پر پورا پورا قابو ہو ۔ ایجاز و اختصار ، امام احمد رضاکے اسلوب کی وہ خصوصیت ہے جو ان کو معاصرین میں ممتاز کرتی ہے ، امام احمد رضا کی تصانیف اور حواشی و شروح کا مطالعہ کرنے والا قدم قدم پر دریا کو کوزے میں بند پائے گا ۔ ‘‘  ۷؎
آپ کے اسلوب کی قصیدہ خوانی ڈاکٹر سراج احمد بستوی نے بھی کی ہے جیسا کہ انھوں نے اپنے سندی تحقیقی مقالے ’’ مولانا احمد رضا خاں بریلوی کی نعتیہ شاعری ، ایک تحقیقی مطالعہ ‘‘ میں لکھا ہے :
’’ امام احمد رضا بریلوی کے اسلوب کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ سائل و مستفتی نے آپ سے جس زبان و اسلوب میں سوال کیا آپ نے بھی اسی اسلوب و زبان میں جواب دیا ہے ۔ چناں چہ ایک بار نواب سلطان احمد خاں صاحب بریلوی نے اُردو نظم میں اس طرح سوال کیا :
مسئلہ  : 
عالمان شرع سے ہے اس طرح میرا سوال
گر کسی نے ترجمہ سجدے کی آیت کا پڑھا
اور ہوں سجدے ادا کرنے تلاوت کے جسے
پس سبک دوشی کی اس کی شکل کیا ہوگی جناب
دیں جواب اس کا براے حق مجھے وہ خوش خصال
تب بھی سجدہ کرنا کیا اس شخص پہ واجب ہوا
پھر ادا کرنے سے ان سجدوں کے وہ پہلے مرے
چاہیے ہے آپ کو دینا جواب بالصواب
الجواب  :
ترجمہ بھی اصل سا ہے وجہ سجدہ بالیقیں
فرق یہ ہے فہم معنی شرط اس میں ہے نہیں
آیت سجدہ سنی جانا کہ ہے سجدہ کی جا
اب زباں سمجھے نہ سمجھے سجدہ واجب ہو گیا
ترجمہ میں اس زباں کا جاننا بھی چاہیے
نظم معنی دو ہیں ان میں ایک تو باقی رہے
تاکہ من الوجہ یہ صادق ہو سنا قرآن کو
ورنہ ایک موج ہوا تھی چھو گئی جو کان کو

ہے یہی مذہب بہ یفتیٰ علیہ الاعتماد
سجدہ کا فدیہ نہیں اشباہ میں تصریح کی
کہتے ہیں واجب نہیں اس پر وصیت وقت موت
یعنی اس کا شرع میں کوئی بدل ٹھہرا نہیں
یہ نہیں معنی کہ ناجائز ہے یا بیکار ہے
شامی از فیض و نہر واللہ اعلم بالرشاد
صیرفیہ میں اس  انکار کی تصحیح کی
فدیہ گر ہوتا تو کیوں واجب نہ ہوتا جبر فوت
جز ادا یا تو بوقت عجز کچھ چارہ نہیں
آخر نیکی ہے نیکی ماحی اوزار ہے
قلۃ اخذام اتعلیل فی امر الصلٰوۃ
وھو بحث ظاہر و العلم حقا لا الہ‘‘۸ ؎
ڈاکٹر سراج احمدبستوی اپنے اسی مقالے میں امام احمد رضا خاں کے اسلوب کا ذکر کرتے ہوئے مزید رقم طراز ہیں :
’’ جب ہم ان کی تصنیفات و تالیفات اور تراجم پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں علم و ادب سے متعلق ان کی کتابیں مختلف زبانوں مثلاً عربی ، فارسی ، اُردو ، ہندی وغیرہ میں ایک منفرد اسلوب نگارش کے ساتھ نظر آتی ہیں جو دوسرے ادیبوں کے ادبی و علمی سرمائے پر فوقیت رکھتی ہیں ۔‘‘  ۹؎
امام احمد رضاکے اسلوب نگارش پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک اور معروف صاحب قلم مولانا یٰس ٓ اختر مصباحی اس طرح رقم طراز ہیں :
’’ فصاحت و بلاغت ، دل کشی اور رعنائی ، جلال و جمال ، لطافت و نزاکت ، تشبیہات و استعارات ، ندرت تخیل ، جدت تمثیل ،قوافی کا زور ، تسلسل بیان ، تنوع مضامین ، والہانہ عقیدت و احترام ۔ یہ تمام خوبیاں اپنے پورے کمال کے ساتھ مولانا کے اسلوب میں موجود ہیں ۔ ‘‘  ۱۰؎
فرد کی اَنا جب تک کائنات کی روح سے ہم آہنگ نہیں ہوتی ’’ مَیں ‘‘ جب تک ’’ ہم ‘‘ نہیں بنتا ۔ اس وقت تک بلند پایہ اسلوب یا اعلیٰ ادب وجود میں نہیں آتا ۔ الفاظ کے سرمائے اور ان کے بر محل استعمال نے بھی امام احمد رضاخاں کے اسلوب میں یہ وصف پیدا کردیا ہے ۔ آل احمد سرور کے نزدیک ’’ اسٹائل و ہ تلوار ہے جو اپنا کام کرجائے لیکن نظر نہ آئے۔ ‘‘ اعلیٰ حضرت اعلیٰ پائے کے صاحب علم عالم دین اور مجدد اعظم ہونے کے ساتھ ہی مایۂ ناز صاحب قلم بھی تھے اور ان کے مضامین کے اندر وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جو ایک اچھے صاحب قلم کا اعلیٰ وصف ہوتی ہیں ۔ آپ کی انھیں خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے مولانا عبدالمجتبیٰ رضوی نے آپ کے اسلوب نگارش کے متعلق لکھا ہے :
’’ امام احمد رضا بریلوی قدس سرہ کے کلام میں نازک کلامی ہی نہیں بلکہ ایسے ایسے مضامین کو آپ نے قلم بند فرمایا ہے جس سے اُردوے معلی کا دامن خالی تھا ۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کے عمدہ اسلوب نگارش نے اُردو زبان و ادب پر زبردست احسان کیا ہے ۔ ان کے یہاں سادگی ، بے ساختگی ، سلاست و روانی نمایاں خصوصیات ہیں ۔ الفاظ کے بر محل استعمال پر آپ کو مکمل قدرت حاصل تھی ۔ تشبیہات ، استعارات ، صنائع و ضرب الامثال کا بے تکلف اور مناسب انداز میں استعمال ہے ۔ آپ کی تحریریں تصنع اور فنی سقم سے پاک و صاف ہیں ۔ ‘‘  ۱۱؎
مذکورہ بالا شہادتوں سے آپ کی نثری خدمات کا ایک عظیم خاکہ ذہن پر اُبھرتا ہے ۔ اور اُردو ادب کی پوری نثری تاریخ پر امام احمد رضا جیسا صاحب اسلوب اہل قلم جو ادب کے ساتھ ساتھ جملہ علوم و فنون کا ماہر بھی ہو نظر نہیں آتا ۔ ایک دو کتابیں یا چند مضامین کو ہی اُردو کی خدمت قرار دے دینا یہ گروہی تعصب تو ہو سکتا ہے کوئی علمی خدمت نہیں ۔ امام احمد رضا خاں کی ذات نے یہ ثابت کردیا کہ اہل علم و فن تحقیق کے میدان میں ہی اپنی علمی برتری کے جھنڈے نہیں گاڑتے بلکہ ان کی ذات سے بھی ادب نکھرتا اور سنورتا ہے ۔ اس حقیقت کا اعتراف مولانا سیّدریاست علی قادری (کراچی پاکستان )نے اِن الفاظ میں کیا ہے :
’’امام احمد رضا خاں کی علمی و ادبی خدمات کو کسی طرح بھی صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ۔ وہ ایک کہنہ مشق ادیب اور بے باک قلم کار تھے ۔ ان کی تحریروں میں بلا کی سلاست اور روانی پائی جاتی ہے ۔ ان کے یہاں متعدد ایسے شہ پارے بھی نظر آتے ہیں جنھیں دیکھ کر آنکھیں چمک جاتی ہیں ، دل مسرور ہوجاتا ہے اور طبیعت جھوم اُٹھتی ہے ۔ ان کا حسین انداز بیان ، زبان کی چستگی و ٹھہرائو ، بر محل شیریں الفاظ کا در و بست ،استعارات کی جودت ، طرز ادا میں نفاست ، جذبات میں خلوص ، ادائیگی بیان میں مہارت ، فکر میں گہرائی ، اظہار میں بے ساختگی و رفعت ، خیالات میں شادابی و طہارت انھیں عناصر کے امتزاج سے وہ اپنی تحریروں کے چہروں کا غازہ تیار کرتے تھے ۔ ان کے یہاں سرعت نگارش کا یہ عالم تھا کہ ایک ہی نشست میں پورا رسالہ قلم بند کر لیتے ۔ نفس موضوع اور بندش الفاظ پر ایسی قدرت کہ ایک دفعہ کے لکھے ہوئے کو قلم زدکرنے کی نوبت نہ آتی غرض کہ انھیں اسلوب پر زبردست عبور تھا ۔ ‘‘  ۱۲؎
امام احمد رضا کے اسی وصف کو دیکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امام احمد رضا کا نثری کارنامہ بہت عظیم ہے اور انھوں نے اپنی تحریروں میں جو اسلوب استعمال کیا ہے وہ بالکل ہی انفرادی حیثیت کا حامل ہے ۔ چناں چہ مولانا وارث جمال قادری آپ کے حسن اسلوب کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں :
’’ ان کے علمی کارنامے وسعت ، تنوع ، مضامین کی بلندی ، اسلوب نگارش، جودت فکر اور تعداد کی کثرت کے لحاظ سے ایک پوری اکیڈمی کے صد سالہ خدمات پر بھاری ہیں ۔ ایک متحرک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا جو کام ہوتا ہے اعلیٰ حضرت نے تنہا انجام دے کر اپنی علمی و عملی اعلیٰ صلاحیتوں کا ثبوت دیا ہے ۔ ‘‘  ۱۳؎
امام احمد رضا خاں چونکہ مایۂ ناز عالم دین ، مجدداعظم اور محقق عادل تھے ، اس لیے ان کے اسلوب نگارش میں جہاں ایک طرف ادبی ندرت اور فنی بانک پن نظر آتا ہے وہیں تحقیق و تنقید کا اعلیٰ معیار بھی ملتا ہے ۔ آپ کے اس وصف کااعتراف اکثر اہل قلم نے کیا ہے چناں چہ صدر الافاضل حضرت مولانا نعیم الدین مراد آبادی اس سلسلے میں لکھتے ہیں :
’’ آپ کا اسلوب نگارش اور انداز بحث بالکل محققانہ ہے ۔ منطقی مغالطات اور سفسطوں سے آپ کا کلام بالکل پاک ہوتا ہے ۔ ترقیق اس قدر کہ علما کو مطالب تک پہنچنے کے لیے بسا اوقات عرق ریزی اور جاں فشانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ احتمالات مکالف کی تمام راہیں زبردست دلائل سے اوّل بند کردی جاتی ہیں جس بحث میں بھی قلم اٹھایا ہے ممکن نہیں کہ مخالف کو جاے دم زدن باقی رہی ہو ۔ معاندانہ مکابرے اور سفیہانہ سب و شتم تو کسی علمی تحقیق کا جواب نہیں ہوسکتے اور اس کام کا انجام دینا ہر زبان دراز ، عدیم المروت والحیا کو آسان بھی ہے ۔ مگر علمی معارب میں ہر زہ سرائی کیا بار پانے کے قابل ہے ؟ مگر نہ دیکھا گیا کہ محققانہ طور پر کسی شخص کو اس امام المتکلمین کے سامنے لب کشائی کی جسارت و جرأت ہوئی ہو ۔ ‘‘  ۱۴؎
یہی مصنف امام احمد رضا خاں کی علمی وسعت اور ان کی زبان و بیان کی خوبیوں نیز اسلوب نگارش کی انفرادیت کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے ہیں ۔
’’ مجھے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ مَیں ان کی وسعت معلومات ، دقت نظر ، علوے مضامین ، بلندی تحقیق ، بہترین اسلوب نگارش ، جودت کلام کی تعریف کرنے سے قاصر ہوں ۔ ‘‘  ۱۵؎
امام احمد رضا کے زبان و بیان کے مکمل قادر ہونے اور ان کے مضامین کی عمدگی اور انفرادیت نیز اسلوب نگارش کے کمال و حسن کااعتراف آپ کے اکثر سوانح نگاروں نے کیا ہے ۔ اور شاید کوئی ایسا صاحب قلم ہو جس نے آپ کی علمیت کے ساتھ ہی آپ کے حسن نگارش کو تسلیم نہ کیا ہو ۔ چناں چہ آپ کے اسی وصف کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں ڈاکٹر طلحہ رضوی برقؔ دانا پوری ، صدر شعبۂ اُردو ، فارسی جین کالج آرا ، بہار اِس طرح رقم طراز ہیں :
’’ انھیں زبان و بیان پر مکمل ملکہ حاصل تھا ۔ فارسی و عربی میں مہارت کے ساتھ ساتھ مقامی زبانوں کا ستھرا ذوق رکھتے تھے ۔ ان کی اُردو لکھنؤ کی با محاورہ ٹکسالی زبان ہے، زبان کی سنجیدگی لب و لہجہ کی بلند آہنگی ، طنطنہ اور زور بیان اس میدان میں بے مثل استادی کی دلیل ہے ۔ ‘‘  ۱۶؎
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں کے اسلوب نگارش میں جہاں اہل قلم کو ان کی عظمت کا اعتراف ہے وہیں کچھ حضرات آپ کی زبان میں مشکل پسندی اور دقیق الفاظ کی کثرت کا شکوہ بھی کرتے ہیں ۔ چناں چہ کچھ اسی طرح کی بات اعجاز مدنی  ایم۔ اے۔ ڈیپ ، ایل۔ بی۔ لب سائنس ،برہانی کالج ، ممبئی نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے :
’’ اعلیٰ حضرت کی تعلیمات بہت گہرے مطالعہ و مشاہدے کی دین ہیں اگر سالک صدق دل سے آپ کی راہ پر سفر اختیار کرے تو اس کی منزل کامیابی سے ہم کنار ہو سکتی ہے اعلیٰ حضرت کی تمام تصنیفات انتہائی ادق اور مشکل عربی و فارسی زبان میں تحریر ہوئی ہیں ۔ نیز آپ کی اُردو بھی کافی مشکل ہے ۔ ‘‘  ۱۷؎
مندرجہ بالا اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کا اسلوب سخت اور زبان مشکل تھی۔ گزشتہ سطور میں پہلے ہی لکھا جا چکا ہے کہ آپ عالم دین اور مفتی و مجد د تھے اس لیے آپ کی زبان میں عربی و فارسی کے الفاظ کی کثرت ہونا فطری بات ہے ۔ اِس کے ساتھ ہی یہ بات بھی ملحوظ رکھی جائے کہ آپ اعلیٰ پائے کے محقق بھی تھے اس لیے آپ کی زبان ادق ہونا بھی لازمی تھا ۔ ان تمام تفصیل کے باوجود بھی اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آپ کی زبان میں مشکل الفاظ کے استعمال کے باوجود بھی ان کے اسلوب کی نیرنگی و لطافت کم نہیں ہونے پاتی ۔ بلکہ ان کے اسلوب نگارش کی رنگینی نے اس کے اندر اور بھی چار چاند لگادیے ہیں ۔ ڈاکٹر طلحہ رضوی برقؔ نے اپنے ایک اور مضمون میں آپ کی زبان میں مشکل الفاظ کو تسلیم کرنے کے باوجود اس بات کا بھی کھلے دل سے اعتراف کیا ہے کہ اس سے آپ کی زبان کے سلاست و روانی میں کوئی فرق نہیں آتا ۔ جیسا کہ آپ نے لکھا ہے :
’’ روز مرہ ، محاورہ اور لب و لہجہ کا یہ ستھرا پن ان کے اسلوب کا خاص جوہر ہے ۔ اس کے باوصف سخت اور دشوار زمینوں میں حضرت رضا نے جو مضامین باندھے ہیں وہ ان کی قادر الکلامی پر دال ہیں ۔ آپ کی طبیعت مشکل پسند تھی اور یہ مشکل بھی انھیں اتنی سہل تھی گویا کوئی تکلیف ہی نہیں ۔ ‘‘  ۱۸؎
امام احمد رضا خاں کی تصانیف چوں کہ محض ادب ہی نہیں بلکہ ان کی نوعیت علمی ، فنی ، تحقیقی ہے ۔ اسی لیے آپ کا اسلوب نگارش محض الفاظ کی جادوگری ہی نہیں بلکہ مدلل اور محقق ہے ۔ آپ کے یہاں زبان و بیان کی نیرنگیوں کے ساتھ ہی استدلال کا وجود اور دلائل کی بہتات ہے ۔ کیوں کہ اس طرح کی تصانیف میں اپنے موقف کو واضح و ثابت کرنے کے لیے مصنف کی یہ زبردست مجبوری ہوتی ہے کہ وہ براہین و دلائل کا سہارا لے اور اپنی بات نہ صرف ادبی طور پر ہی بلکہ علمی اندازسے بھی قاری کے سامنے پیش کرے ۔ چناں چہ اسی وجہ سے آپ کی تصانیف میں جو اسلوب نگارش اپنایا گیا ہے وہ ادبی ہونے کے ساتھ ہی منطقی و استدلالی بھی ہے ۔ جیسا کہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر ڈاکٹر طیب علی رضا انصاری نے بھی اپنے تحقیقی مقالے میں اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’ امام احمد رضا کی تصانیف کا اگربہ نظر غائر مطالعہ کیا جائے تو بے شمار ادبی ، مذہبی اور سیاسی شہ پارے مل جائیں گے ۔یہ ادبی شہ پارے اُردو ادب کے لیے اضافہ ہی نہیں بلکہ اس کا ایک انمول سرمایہ بھی ہیں ۔ بلا شبہہ وہ اُردو ادب کے مزاج شناس تھے ۔ ہر موقع پر ، ہر مقام پر انھوں نے وہی اسلوب اختیار کیا ہے جو اس کا اقتضا تھا ۔ وہ جو کچھ لکھتے تھے کامل غور و فکر کے بعد یہی وجہ ہے کہ ان کے اسلوب میں دلائل کی کثرت ہوتی ہے لیکن ان کے دلائل کی کثرت نے ان کے اسلوب کی شگفتگی کو مجروح نہ ہونے دیا ۔ ان کی تحریروں میں جا بجا ایسے الفاظ و محاورے مل جاتے ہیں جن کو اگر امام احمد رضا بریلوی استعمال نہ کرتے تو وہ کبھی کے متروک ہو چکے ہوتے ۔‘‘  ۱۹؎
یہ بات پہلے بھی متعد د مرتبہ لکھی جا چکی ہے کہ امام احمد رضاخاں کا ایک علمی مقام تھا ۔ اور منصب افتا پر فائز ہونے کی وجہ سے ان کی زبان فقہی و فنی اصطلاحوں سے لبریز تھی ۔ اس کے باوجود آپ کی زبان میں فنی مشکلات یا ادبی سقم نہیں پایا جاتا ۔ یہ بھی اسلوب نگارش کی ایک عمدہ مثال ہے کہ ایک مذہبی محقق کی زبان ادبی معیار پر بھی پوری اترتی ہو ۔
حواشی
(۱)       مضمون  :  اعلیٰ حضرت امام احمد رضا اور اُردو ادب، مشمولہ یادگارِ رضا ۱۴۲۰ھ/۱۹۹۹ء ، ص ۲۱ ،ناشر :رضا اکیڈمی ممبئی
(۲)       یادگارِ رضا  ۱۴۲۰ ھ / ۱۹۹۹ ء، ص  ۹۱     
(۳)      ایضاً
(۴)      ایضاً،ص  ۱۱۶        
(۵)      تجلیات امام احمد رضا ، از محمد امانت رسول، ص ۹۷
(۶)       امام احمد رضا کی فقہی بصیرت ، ص۲۲ ۔ ۲۳         
(۷)      ایضاً ، ص ۲۴
(۸)      مولانا احمد رضا خاں کی نعتیہ شاعری : ایک تحقیقی مطالعہ ، ص ۱۱۵ تا ۱۱۶
(۹)       ایضاً ، ص ۱۴۲
(۱۰)     دبستانِ رضا ۔ امام احمد رضا ارباب علم و دانش کی نظر میں ،از علامہ یٰس ٓ اختر مصباحی، ص  ۲۶
(۱۱)      تذکرۂ مشائخ قادریہ رضویہ ، ص ۴۱۶  تا  ۴۱۷        
(۱۲)     امام احمد رضا کے نثری شہ پارے ، ص  ۷
(۱۳)     امام شعر و ادب ، ص ۱۳        
(۱۴)     افاضات صدر الافاضل ،بحوالہ : قاری امام احمد رضا نمبر ، ص  ۱۸۸
(۱۵)     ایضاً
(۱۶)     مضمون : امام احمد رضا و اصفِ شاہ ہُدیٰ ، مشمولہ قاری امام احمد رضا نمبر ، ص ۴۶۲
(۱۷)     امام احمد رضا اور تعلیمات تصوف : قاری امام احمد رضا نمبر ، ص ۲۲۳
(۱۸)     امام احمد رضا واصفِ شاہ ہُدیٰ  :  قاری امام احمد رضا نمبر ، ص ۴۶۴
 (۱۹)   امام احمد رضا ، حیات اور کارنامے ، طیب علی انصاری ، تحقیقی مقالہ براے پی۔ ایچ۔ ڈی ، ص ۳۳۵

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg