Instagram

Saturday, 28 November 2015

Malfoozat E Raza Awr Islah E Muashra



ملفوظات رضا اور اصلاح معاشرہ
کلیم احمد قادری، رضاے مصطفیٰ اکیڈمی ، دھرن گاؤں ، جلگاؤں ، انڈیا
مجدد اسلام امام احمد رضا قدس سرہ (متوفی ۱۳۴۰ھ /۱۹۲۱ ء ) ایک ایسے عالم ربانی تھے جو بہ یک وقت ایک جلیل القدر محدث و مفسر ، بے مثال فقیہ و محتاط عالم دین ، عظیم مصلح و داعی ، بلند پایہ ادیب و مصنف تھے اور سب سے بڑھ کریہ کہ ایسے عاشق رسول تھے کہ آپ کی نشست و برخاست ، خلوت وجلوت ، بلکہ ہرہر بات اور ہر ہر ادا سنّتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آئینہ دار تھی ، آپ اسلاف کی تصویر تھے ۔ آپ کی مجالس و محافل میں شریعت وطریقت ، عقائد و کلام ، سیرت و تواریخ ، احقاقِ حق و ابطالِ باطل ، ردِ بدعات و منکرات و اصلاح معاشرہ سے متعلق علوم و معارف کے دریا بہائے جاتے تھے ۔ آپ نے بلا خوف لومۃ لائم حق کا اظہار کیا اور باطل کی تردید کی ۔ اقبال ؔنے مومن کی اسی شان کو یوں بیان کیا ہے ۔   ؎
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
ضروری تھا کہ ایسے مومنِ کامل ، عارف باللہ کے ملفوظات کو جمع کیا جاتا چناں چہ یہ عظیم سعادت وقت کے جلیل القدر فقیہ حضور مفتی اعظم ہند علامہ شاہ محمد مصطفی رضا نوری علیہ الرحمہ کے حصے میں آئی آپ کے ذہن میں ملفوظات ِ رضا کو جمع کرنے کا خیال کیوں کر آیا ’’ الملفوظ ‘‘ کے مقدمے میں اس بابت تحریر فرماتے ہیں :
’’ یہاں جو دیکھا کہ شریعت و طریقت کے وہ باریک مسائل جن میں مدتوں غور وخوض کامل کے بعد بھی ہماری کیا بساط ، بڑ ے بڑے سر ٹیک کر رہ جائیں ، فکر کرتے کرتے تھکیں اور ہرگز نہ سمجھیں اور صاف اَنَا لَا اَدْرِیْ کا دم بھریں ، وہ یہاں ایک فقرے میںایسے صاف فرمادیے جائیں کہ ہر شخص سمجھ لے گویا اشکال ہی نہ تھا ، اور وہ دقائق و نکات مذہب و ملت جو ایک چیستاں اور ایک معمہ ہوں ، جن کا حل دشوار سے زیادہ دشوار ہو یہاں منٹوں میں حل فرمادیے جائیں ۔ تو خیال ہوا کہ یہ جواہر عالیہ و زواہر غالیہ یوں ہی بکھر ے رہے تو اس قدر مفید نہیں جتنا انھیں سلک تحریر میں نظم کر لینے کے بعد ہم فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ پھر یہ کہ خود ہی متمتع ہونا یا زیادہ سے زیادہ ان کا نفع حاضر با شانِ دربار عالی ہی کو پہنچنا ، باقی اور مسلمانوں کو محروم رکھناٹھیک نہیں ، ان کا نفع جس قدر عام ہو اتنا ہی بھلا لہٰذا جس طرح ہو یہ تفریق جمع ہو ۔ ‘‘    ۱؎
مرتب ملفوظات شہزادۂ اعلیٰ حضرت حضور مفتی اعظم قدس سرہ نے امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کی مجالس و محافل کے علوم و معارف اور فیوض و برکات کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے، ملت اسلامیہ پر آپ کا یہ احسانِ عظیم ہے کہ آپ نے امام اہل سنّت کی علمی مجالس کے خزائن و ذخائر کو قلم بند فرما کر ’’ الملفوظ ‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں مرتب فرما کر شائع فرمایا ۔
’’ الملفوظ ‘‘ کیا ہے ایک علوم و معارف کا گنج گراں مایہ ہے ، امام احمد رضا قدس سرہ کی ہر تصنیف جس طرح بلند پایہ ، علمی و ادبی خوبیوں کا نمونہ اور انشا پردازی کا مظہر ہے اسی طرح آپ کے ملفوظات بھی گل ہاے رنگا رنگ و علم وادب کااتھاہ سمندر ہیں ۔ جس میں غواصی کرنے والا اپنے اپنے ظرف کے مطابق بامراد ہو کر لوٹتا ہے ، الملفوظ کی ترتیب ، جامعیت ، اہمیت وافادیت سے متعلق علامہ ارشدالقادری علیہ الرحمہ کا یہ اقتباس قابل مطالعہ ہے فرماتے ہیں :
’’ جامع ملفوظات حضور مفتی اعظم ہند کا اندازِ بیان یہ ہے کہ وہ مجلس میں بیٹھنے والے کسی سائل کے سوال کو ’’عرض‘‘ اور اعلیٰ حضرت کے جواب کو’’ ارشاد‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں اور چوں کہ سوالات کے درمیان کوئی فنی ترتیب نہیں ہے اس لیے اعلیٰ حضرت کے ارشادات علم و فن کے بے شمار اصناف پر مشتمل ہیں اور رنگا رنگ پھولوں کی پنکھڑیوں کی طرح چار سو صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں ۔ کتاب میں پھیلے ہوئے ان منتشر مباحث کو بڑی حد تک مندرجہ ذیل اصناف میں سمیٹا جا سکتا ہے ۔
(۱)  حکایات و قصص         (۲)  معارفِ قرآن          (۳)  مباحث حدیث         (۴)  عقائد و ایمانیات
(۵)  فقہی مسائل            (۶)  رد فرق ہاے باطلہ     (۷)  ہیئت و فلسفہ           (۸)  تاریخ
(۹)  تصوف        (۱۰)  ہند و بیرون ہند کا سفر نامہ ‘‘  ۲؎
چوں کہ راقم کا موضوع ’’ ملفوظات رضا اور اصلاح معاشرہ ‘‘ ہے ۔ لہٰذا اس مضمون میں ملفوظات رضا سے اصلاحی رُخ سے اختصار میں گل چینی کی گئی ہے ۔ امام احمد رضا قدس سرہ کا یہ وصف اظہر من الشمس ہے کہ جہاں آپ نے اپنے دور کے باطل فرقوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ، بد مذاہب کے رد میں کتابیں تصنیف کیں وہیں معاشرے کی خلافِ شرع رسوم وعادات اوربدعات ومنکرات پر سخت تنقید کی اور تجدیدو احیاے دین اور اصلاحِ مسلمین کا عظیم فریضہ انجام دیا ، یہاں ہم الملفوظ (۱۳۳۸ھ ) سے ایسے ہی اقتباسات کو پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں جو معاشرتی اصلاح سے تعلق رکھتے ہیں اور جن پر عمل سے ایمان و کردار میں نکھا ر پیدا ہو گا۔ مولیٰ تعالیٰ ہمیں ان پر رغبت کے ساتھ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
شریعت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل :
حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ناسخ جمیع ادیانِ سابقہ ہیں ، بہت احکام شریعت موسوی اور شریعت عیسوی کہ ہماری شریعت میں منسوخ ہوئے تو اگران احکام کو چھوڑ کر ان کی پیروی کی جائے یقینا گمراہی ہے ، عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور چند یہود مشرف بہ اسلام ہوئے اور نماز میں توریت شریف بھی پڑھنے کی اجازت چاہی آیۂ کریمہ نازل ہوئی :
 ’’ یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَّلَا تَتَّبِعُوْ اخُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّمُبِیْنٌ ۔‘‘ (البقرۃ : ۲۰۸ ) اے مسلمانو، اگر مسلمان ہوتے ہو تو پورے مسلمان ہوجائو شیطان کے فریب میں نہ پڑو ، بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔   ۳؎
وسیلہ  :
جو چاہے کہ بغیر وسیلے اس ماہتابِ رسالت کے کچھ حاصل کر لوں وہ خدا کے گھر میں نقب لگانا چاہتا ہے ، بغیر اس توسل کے کوئی نعمت کوئی دولت کسی کو کبھی نہیں مل سکتی ۔ کون ہے جس سے تمام عالم منور و موجودہے وہ نہ ہو تو تمام عالم میں تاریکی عدم چھا جائے ، وہ قمر برج رسالت سیّدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہیں ۔ علماے کرام فرماتے ہیں : ’’ہو صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خزانۃ السرو موضع نفوذ الا مرجعل خزائن کرمہ وموائد نعمہ طوع ید یہ یعطی من یشاء و یمنع من یشاء لا ینفذامرالا منہ ولا ینقل خیرالا عنہ ‘‘ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خزانہ سر الٰہی اور جائے نفاذ حکم خدا ہیں ، رب العزت جل جلالہ نے اپنے کرم کے خزانے اپنی نعمتوں کے خوان حضور کے قبضے میں کردیے ، جس کو چاہیں دیں اور جس کو چاہیں نہ دیں ، کوئی حکم نافذ نہیں ہوتا مگر حضور کے دربار سے، کوئی نعمت کوئی دولت کسی کو کبھی نہیں ملتی مگر حضور کی سرکار سے، صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یہی معنی ہیں  ’’اِنَّمَا اَنَاقَاسِمٌ واللّٰہُ یُعْطِیْ ‘‘ جزایں نیست کہ مَیں ہی بانٹنے والا ہوں اور اللہ دیتا ہے ۔   ۴؎
اللہ میاں کہنا کیسا :
عرض: حضور اللہ میاں کہنا جائز ہے یا نہیں ؟
ارشاد: زبان اردو میں لفظ میاں کے تین معنی ہیں ان میں سے دو ایسے ہیں جن سے شانِ الوہیت پاک ومنزہ ہے اور ایک کا صدق ہو سکتا ہے تو جب لفظ دو خبیث معنوں اور ایک اچھے معنی میں مشترک ٹھہرا اور شرع میں وارد نہیں تو ذات باری پر اس کا اطلاق ممنوع ہو گا ۔  ۵؎
نعت کہنے کے آداب :
حقیقتاً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے اگر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہنچا جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں راستہ صاف ہے جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے ۔ غرض حمد میں ایک جانب اصلاً حدنہیں اورنعت شریف میں دونوں جانب سخت حد بندی ہے ۔   ۶؎
قرآن عظیم کا ادب :
عرض :  حضور اگر قرآن عظیم صندوق میں بندہواور ریل کا سفر یا کسی دوسری سواری میں سفر کررہا ہے اور تنگی جگہ کے باعث مجبور ہے تو ایسی صورت میں صندوق نیچے رکھ سکتا ہے یا نہیں ؟
ارشاد :  ہرگز نہ رکھے انسان خود مجبوریاں پیدا کر لیتا ہے ورنہ کچھ دشوار نہیں جس کے دل میں قرآن عظیم کی عظمت ہے وہ ہر طرح سے اس کی تعظیم کا خیال رکھے گا ۔  ۷؎
آیات اور سورتوں کا معکوس پڑھنا :
حرام اور اشد حرام ، کبیرہ اور سخت کبیرہ قریب کفر ہے ، یہ تو درکنار ، سورتوں کی صرف ترتیب بدل کر پڑھنا ، اس کی نسبت تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کیا ایسا کرنے والا ڈرتا نہیں کہ اللہ اس کے قلب کو الٹ دے نہ کہ آیات کو بالکل معکوس کر کے مہمل بنا دینا ۔   ۸؎
زمین مسجد کی بیع  :
حرام ہے اگرچہ زمین کے برابر سونا دے مسجد کے لیے جو لوگ ایسا کریں ان کی نسبت قرآن عظیم فرماتا ہے :  ’’ لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَلَھُمْ فِی الاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْم ‘‘ دُنیا میں ان کے لیے رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ۔  ۹؎
مسجد میں مٹی کا تیل جلانا :
اول تو مسجد میں کسی بدبو دار تیل کے جلانے کی اجازت نہیں نہ کہ مٹی کا تیل ، ہا ں اگر اس کی بدبو کسی مصالحہ سے دور کردی جائے تو جرم نہیں اور وہ جب تک ثابت و قابل استعمال ہے ۔  ۱۰؎
احترام مسجد :
مسجد میں یہاں کے کسی کافر کو آنے دینا سخت ناجائز اور مسجد کی بے حرمتی ہے ،فقہ میں جواز ہے تو ذمی کے لیے اور یہاںکے کافر ذمی نہیں ۔  ۱۱ ؎
 نمازوں کی قضا :
قضا نمازیں جلد سے جلد ادا کرنا لازم ہے ، نہ معلوم کس وقت موت آجائے ، کیا مشکل ہے ،ایک دن کی بیس رکعت ہوتی ہیں ۔(یعنی فجر کے فرضوں کی دو رکعت اور ظہر کی چار ، عصر کی چار ، مغرب کی تین ، عشا کی سات رکعت یعنی چار فرض تین وتر ) ان نمازوں کو سواے طلوع و غروب و زوال کے ( کہ اس وقت سجدہ حرام ہے ) ہر وقت ادا کر سکتا ہے اور اختیار ہے کہ پہلے فجر کی سب نمازیں ادا کرلے پھر ظہر ، پھر عصر، پھر مغرب ،پھر عشا کی ، یا سب نمازیں ساتھ ساتھ ادا کرتا جائے اور ان کا ایسا حساب لگائے کہ تخمینہ میں باقی نہ رہ جائیں زیادہ ہو جائیں تو حرج نہیں اور وہ سب بہ قدر طاقت رفتہ رفتہ جلد ادا کرے کاہلی نہ کرے ، جب تک فرض ذمہ پر باقی رہتا ہے کوئی نفل قبول نہیں کیا جاتا ۔  ۱۲؎
اذان کہنے کے بعد مسجد سے باہر جانا :
اگر کوئی ضرورت در پیش ہو اور جماعت میں دیر ہو تو حرج نہیں ورنہ بلا ضرورت اجازت نہیں اور موذن ہی نہیں ہر اس شخص کے لیے یہی حکم ہے جس نے ابھی اس وقت کی نماز نہ پڑھی جس کی یہ اذان ہوئی اور اذان ہونے ہی کی خصوصیت نہیں بلکہ مراد دخول وقت ہے جو مسجد میں ہو اور کسی نما زکا وقت شروع ہوجائے اور یہ دوسری مسجد کا مقیم جماعت نہ ہو اسے نما زپڑھے بغیر مسجد سے باہر جانا جائز نہیں مگر یہ کہ کسی حاجت سے نکلے اور قبل جماعت واپسی کا ارادہ رکھے ورنہ حدیث میں فرمایا وہ منافق ہے ۔  ۱۳؎
اردو میں خطبہ پڑھنا :
صحابۂ کرام کے زمانے میں عجم کے کتنے ہی شہر فتح ہوئے کئی ہزار منبر نصب ہوئے کئی ہزار مسجدیں بنائی
گئیں کہیں منقول نہیں کہ صحابہ نے ان کی زبان میں خطبہ فرمایا ہو اس واسطے کہ وہ جانتے تھے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم واقف ہیں تمام ’’ ما کان و ما یکون ‘‘ سے تمام وقائع گزشتہ و آئندہ کی آپ کو خبر ہے ۔ حضور کو یہ معلوم تھا کہ ہندی ، حبشی ، رومی ، عجمی ہر زبان والے مسلمان ہوں گے عربی نہ سمجھیں گے اور کبھی اجازت نہ دی کہ ان کی زبان میں خطبہ پڑھاجائے خود دربار اقدس میں رومی ، حبشی ، عجمی ابھی تازہ حاضر آئے ہیں عربی ایک حرف نہیں سمجھتے مگر کہیں ثابت نہیں کہ حضورنے ان کی زبان میں خطبہ فرمایا ہو یا کچھ خطبہ عربی میں اور کچھ ان کی زبان میں فرمایا ہو ایک حرف بھی ان کی زبان کا خطبہ میں منقول نہیں ۔  ۱۴؎
مسلمان کو کافر کہنا :
عرض :کسی مسلمان کو کافر کہہ دیا ،کیا حکم ہے ؟
ارشاد : بہ طور سب و شتم کہا تو کافر نہ ہوا ، گنہگار ہوا اور اگر کافر جان کر کہا تو کافر ہو گیا ۔  ۱۵؎
بزرگانِ دین کی تصاویر :
عرض :  بزرگان دین کی تصاویربہ طور تبرک لینا کیسا ہے ؟
ارشاد : کعبہ معظمہ میں حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل و حضرت مریم کی تصاویر بنی تھیں کہ یہ متبرک ہیں مگر ناجائز فعل تھا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود دست مبارک سے انھیں دھو دیا ۔   ۱۶؎
قبرستان میں جوتا پہن کر جانا :
حدیث میں فرمایا ، تلوار کی دھار پر پائوں رکھنا مجھے اس سے آسان ہے کہ مسلمان کی قبر پر پائوں رکھوں ، دوسری حدیث میں فرمایا ، اگر مَیں انگارے پر پائوں رکھوں ، یہاں تک کہ وہ جوتے کا تلا توڑ کر میرے تلوے تک پہنچ جائے تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ کسی مسلمان کی قبر پر پائوں رکھوں ، یہ وہ فرمارہے ہیں کہ واللہ ، اگر مسلمان کے سر اور سینے اور آنکھوں پر قدم اقدس رکھ دیں تو اسے دونوں جہان کا چین بخش دیں،صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔  ۱۷؎
قبرستان میں مٹھائی لے جانا :
ساتھ لے جانا روٹی کا جس طرح علماے کرام نے منع فرمایا ہے ویسے ہی مٹھائی ہے اور چیونٹیوں کو اس نیت سے ڈالنا کہ میت کو تکلیف نہ پہنچائیں یہ محض جہالت ہے اور یہ نیت نہ بھی ہو تو بھی بجائے اس کے مساکین ، صالحین پر تقسیم کرنا بہتر ہے ۔ ( پھر فرمایا) مکان پر جس قدر چاہیں خیرات کریں ، قبرستان میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ اناج تقسیم ہوتے وقت بچے اور عورتیں وغیرہ غل مچاتے اور مسلمانوں کی قبروں پر دوڑے پھرتے ہیں ۔  ۱۸؎
قبر پر پکی ڈاٹ لگانا :
قبر پر ڈاٹ لگانے میں حرج نہیں ہاں کھولی نہ جائے میت کو دفن کر کے جب مٹی دے دی گئی تو وہ امانت ہوجاتا ہے اللہ کی ، اس کا کشف جائز نہیں ، دو حال سے خالی نہیں ، معذب ہے یا منعم علیہ ۔ اگر معذب ہے تو دیکھنے والا دیکھے گا ، اسے جس سے اسے رنج پہنچے گا ،اور کر کچھ نہیں سکتا اور اگر منعم علیہ ہے تو اس میں اس کی ناگواری ہے ۔  ۱۹ ؎
وقت دفن اذان کہنا :
عرض :  وقت دفن اذان کیوں کہی جاتی ہے ؟
ارشاد :دفع شیطان کے لیے ۔ حدیث میں ہے کہ اذان جب ہوتی ہے شیطان ۳۶ ؍میل بھاگ جاتا ہے ۔ الفاظ حدیث میں یہ ہے کہ روحا تک بھاگتا ہے، اور روحا مدینہ طیبہ سے ۳۶؍ میل ہے ۔اور وہ وقت ہوتا ہے دخل شیطان کا جس وقت منکر نکیر سوال کرتے ہیں ۔ مَنْ رَبُّکَ  تیرا رب کون ہے ۔ یہ لعین دور سے کھڑا اشارہ کرتا ہے اپنی طرف کہ مجھ کو کہہ دے ۔ جب اذان ہوتی ہے بھاگ جاتا ہے وسوسہ نہیں ہوتا ۔  ۲۰؎
قبرستان میں نیا راستہ نکالنا :
فتح القدیر اور طحطاوی اور رد المحتار میں ہے  ’’ اَلْمُرُوْرُ فِی سِکَّۃٍ حَادِثَۃٍ فِی الْمَقَابِرِ حَرَامٌ ‘‘  قبرستان میں جو نیا راستہ نکلا ہو اس میں چلنا حرام ہے کہ وہ ضرور قبروں پر ہو گا ۔ بہ خلاف راہِ قدیم کے کہ قبریں اسے چھوڑ کر بنائی جاتی ہیں ۔  ۲۱؎
عورتوں کا مزارات پرجانا : 
غنیۃ میں ہے یہ نہ پوچھو عورتوں کا مزارات پر جانا جائزہے یا نہیں بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کس قدر لعنت ہوتی ہے اللہ کی طرف سے اور کس قدر صاحب قبر کی جانب سے جس وقت وہ گھر سے ارادہ کرتی ہے لعنت شروع ہوجاتی ہے اور جب تک واپس آتی ہے ملائکہ لعنت کرتے رہتے ہیں ، سواے روضۂ انور کے کسی مزار پر جانے کی اجازت نہیں ، وہاں کی حاضری البتہ سنّت جلیلہ عظیمہ قریب بہ واجبات ہے اور قرآن عظیم نے اسے مغفرت ذنوب کا تریاق بتایا ۔  ۲۲؎
عورتوں کا مسجد میں جانا :
ضعیفہ ہو ںیا قویہ عورتوں کو مسجد میں جانا ہی منع ہے، حدیث میں ارشاد فرمایا :عورت کی نماز اپنے تہ خانہ میں بہتر ہے کوٹھری میں نماز پڑھنے سے، اور اس کی کوٹھری میں نماز بہتر ہے دالان میں نما زپڑھنے سے، اور اس کی نماز دالان میں بہتر ہے صحن میں نماز پڑھنے سے، اوراس کی اپنے صحن میں نماز بہترہے میری مسجد میں نماز پڑھنے سے (پھر فرمایا) مسجد اور جماعت کی حاضری عورتوں کو معاف ہے بلکہ ممنوع ہے ۔  ۲۳ ؎
تعزیہ داری :
عرض : تعزیہ داری میں لہوو لعب سمجھ کر جائے تو کیسا ہے ؟
ارشاد : نہیں چاہیے ناجائز کام میں جس طرح جان و مال سے مدد کرے گا یوہیں سواد بڑھا کر بھی مدد گار ہو گا ۔ ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے، بندر نچانا حرام ہے اس کا تماشا دیکھنا بھی حرام ہے ۔ در مختار و حاشیہ علامہ طحطاوی میں ان مسائل کی تصریح ہے آج کل لوگ ان سے غافل ہیں متقی لوگ جن کو شریعت کی احتیاط ہے نا واقفی سے ریچھ یا بندر کا تماشا یا مرغوں کی پالی دیکھتے ہیں اورنہیں جانتے کہ اس سے گنہگار ہوتے ہیں ۔ حدیث میں ارشاد ہے کہ اگر کوئی مجمع خیر کا ہو اور وہ نہ جانے پایا اور خبر ملنے پر اس نے افسوس کیا تو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا حاضرین کو اور اگر مجمع شرکا ہو اس نے اپنے نہ جانے پر افسوس کیا تو جو گناہ ان حاضرین پر ہو گا وہ اس پر بھی ہو گا ۔   ۲۴؎
بے علم صوفی  :
صوفی بے علم مسخرۂ شیطان است ، وہ جانتا ہی نہیں شیطان اپنی باگ ڈور پر لگا لیتا ہے حدیث میں ارشاد ہوا :  ’’ المتعبد بغیر فقہ کالحمار فی الطاحون۔‘‘ بغیرفقہ کے عابد بننے والا عابد نہ فرمایا بلکہ عابد بننے والا فرمایا یعنی بغیر فقہ کے عبادت ہو ہی نہیں سکتی عابد بنتا ہے وہ ایسا ہے جیسے چکی میں گدھا کہ محنت شاقہ کرے اور حاصل کچھ نہیں ۔  ۲۵ ؎
غیر عالم کا وعظ کہنا :
غیر عالم کو وعظ کہنا حرام ہے۔…(آگے عالم کی تعریف بیان فرماتے ہیں )
 عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور پر آگاہ ہو اور مستقل ہو اور اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے ، بغیر کسی کی مدد کے ۔   ۲۶؎
کفار کے میلوں میں جانا :
عرض : ہندوئوں کے رام لیلا وغیرہ دیکھنے جانا کیسا ہے ؟
 ’’ یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً وَّلَا تَتَّبِعُوْ اخُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّمُبِیْنٌ ۔‘‘ (البقرۃ : ۲۰۸ )  مسلمان ہوئے ہو تو پورے مسلمان ہوجائو ۔شیطان کی پیروی نہ کرو وہ تمہارا ظاہر دشمن ہے ۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے استدعا کی کہ اگر اجازت ہو تو نماز میں کچھ آیتیں توریت شریف کی بھی ہم لوگ پڑھ لیا کریں ، اس پریہ آیۂ کریمہ ارشاد فرمائی ۔ توریت شریف پڑھنے کے واسطے تو یہ حکم ہوا ، رام لیلا کے واسطے کیا کچھ حکم نہ ہو گا ۔   ۲۷؎
کفار کے جنازے میں شرکت :
اگر اس اعتقاد سے جائے گا کہ اس کا جنازہ شرکت کے لائق ہے تو کافر ہوجائے گا ، اور اگر یہ نہیں تو حرام ہے ۔ حدیث میں فرمایا گیا : اگر کافر کا جنازہ آتا ہو تو ہٹ کر چلنا چاہیے کہ شیطان آگے آگے آگ کا شعلہ ہاتھ میں لیے اچھلتا کودتا ، خوش ہوتا ہوا چلتا ہے کہ میری محنت ایک آدمی پر وصول ہوئی ۔   ۲۸؎
بد مذہبوں سے میل جول :
حرام ہے اور بد مذہب ہوجانے کا اندیشہ کامل اور دوستانہ ہو تو دین کے لیے زہر قاتل ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں  اِیَّاکُمْ وَاِیَّاھُمْ لاَ یُضِلُّوْنَکُمْ وَلاَ یُفْتِنُوْنَکُمْ  انھیں اپنے سے دور کرو اور ان سے دو ر بھاگووہ تمھیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمھیں فتنہ میں نہ ڈالیں ۔  ۲۹؎
نرمی و سختی :
دیکھو نرمی کے جو فوائد ہیں وہ سختی میں ہرگز حاصل نہیںہو سکتے اگر اس شخص سے سختی برتی جاتی توہرگز یہ بات نہ ہوتی ۔ جن لوگوں کے عقائدمذبذب ہوں ان سے نرمی برتی جائے کہ وہ ٹھیک ہوجائیں یہ جو وہابیہ میں بڑے بڑے ہیں ان سے بھی ابتداء ً بہت نرمی کی گئی مگر چوں کہ ان کے دلوں میں وہابیت راسخ ہو گئی تھی اور مصداق    ثُمَّ لاَ یَعُوْدُوْنَ حق نہ مانا ، اس وقت سختی کی گئی کہ رب عزو جل فرماتا ہے  یٰٓاَ یُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِالْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ (التحریم : ۹)اے نبی جہاد فرمائو کافروں اور منافقوں پر اور ان پر سختی کرو ،اور مسلمانوں کو ارشاد فرماتا ہے ،  وَلْیَجِدُوْافِیْکُمْ غِلْظَۃً  لازم ہے کہ وہ تم میں درشتی پائیں ۔  ۳۰؎
سیاہ خضاب کرنا :
خضاب ِ سیاہ یا اس کی مثل حرام ہے صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے  غَیِّرُوْاھٰذَالشَّیْبَ وَلاَ تَقْرَبُوْ ا السَّوَاد ۔  اس سپیدی کو بدل دو اور سیاہی کے پاس نہ جائو ۔ سنن نسائی شریف کی حدیث میں ہے  یَاْتِی نَاسٌ یَخْضِبُوْنَ بِالسَّوَادِ کَحَوَا صِلِ الحَمَامِ لاَ یَرِیْحُوْنَ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِکچھ آئیں گے کہ سیاہ خضاب کریں گے جیسے جنگلی کبوتروں کے نیل گوں پوٹے وہ جنت کی بونہ سونگھیں گے ، تیسری حدیث میں ہے  مَنِ اخْتَضَبَ بِالسَّوَادِ سَوَّد اللّٰہُ وَجْھَہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ جو سیاہ خضاب کرے اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کا منھ کالا کرے گا ۔  ۳۱ ؎
عورتوں سے مشابہت :
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بہ کثرت احادیث صحیحہ میں ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں سے مشابہت پیدا کریں اور ان عورتوں پر جو مردوں سے اور تشبہ کے لیے ہر بات میں پوری وضع بنانا ضرور نہیں ایک ہی بات میں مشابہت کافی ہے ۔  ۳۲ ؎
مرد کو چوٹی رکھنا  :
حرام ہے ۔ (آگے حدیث پاک کے حوالے سے فرماتے ہیں )اللہ کی لعنت ہے ایسے مردوں پر جو عورتوں سے مشابہت رکھیں اور ایسی عورتوں پر جو مردوں سے مشابہت پیدا کریں ۔  ۳۳ ؎
داڑھی منڈانا :
کتروانا یا منڈانا ایک دفعہ کا صغیرہ گناہ ہے اور عادت سے کبیرہ جس سے فاسق معلن ہوجائے گا ۔ اس کے پیچھے نما زمکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پھیرنی واجب اگر اعادہ نہ کیا گنہگار ہو گا ۔  ۳۴؎
اعراس میں تعیین تاریخ :
عرض : حضور بزرگانِ دین کے اعراس کی تعیین تاریخ میں بھی کوئی مصلحت ہے ؟
ارشاد :  ہاں اولیاے کرام کی ارواحِ طیبہ کو ان کے وصال شریف کے دن قبور کریمہ کی طرف توجہ زیادہ ہوتی ہے چناں چہ وہ وقت جو خاص وصال کا ہے اخذ برکات کے لیے زیادہ مناسب ہوتا ہے ۔  ۳۵؎
محرم و صفر میں نکاح :
عرض : کیا محرم و صفر میں نکاح کرنا منع ہے ؟
ارشاد : نکا ح کسی مہینے میں منع نہیں یہ غلط مشہور ہے ۔   ۳۶؎
نکاح کا سہرا و باجے گاجے :
عرض : حضور نوشہ کا وقتِ نکاح سہرا باندھنا ، نیز باجے گاجے سے جلوس کے ساتھ نکاح کو جانا شرعاً کیا حکم رکھتا ہے ؟
ارشاد : خالی پھولوں کا سہرا جائز ہے اور یہ باجے جو شادی میں رائج و معمول ہیں ، سب ناجائز و حرام ہیں ۔ ۳۷؎
نوشہ کو اُبٹن ملنا :
خوشبو ہے ، جائز ہے ۔  ۳۸؎
ولیمہ کا کھانا :
ولیمہ بعد زفاف سنّت ہے اور اس میں صیغہ امر بھی وارد ہے ۔ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا :  اَوْلِمْ وَلَوْبِشَاۃٍولیمہ کرو اگرچہ ایک ہی دنبہ یا اگرچہ ایک دنبہ دونوں معنی محتمل ہیں اور اوّل اظہر ۔  ۳۹؎
کھانا کھانے کا مسنون طریقہ :
داہنا پائوں کھڑا ہو اور بایاں بچھا اور روٹی بائیں ہاتھ میں لے کر داہنے ہاتھ سے توڑنا چاہیے ، ایک ہاتھ سے توڑ کر کھانا اور دوسرا ہاتھ نہ لگانا عادتِ متکبرین ہے ۔   ۴۰؎
کھانا کھاتے وقت بولنا :
کھانا کھاتے وقت التزام کر لینا نہ بولنے کا ، یہ عادت ہے مجوس کی ۔ اور مکروہ ہے ، اور لغو باتیں کرنا ہر وقت مکروہ ، اور ذکر خیر کرنا یہ جائز ہے ۔  ۴۱ ؎
دستر خوان پر اشعار :
عرض : دستر خوان پر اگر اشعار وغیرہ لکھے ہوں تو اس پر کھانا جائز ہے ؟
ارشاد : ناجائزہے ۔    ۴۲؎
انگوٹھی کا شرعی حکم :
مرد کو سونا پہننا حرام ہے ، صرف ایک نگ کی چاندی کی انگوٹھی ساڑھے چار ماشے سے کم کی اس کی اجازت ہے ،جو سونے یا تانبے یا لوہے یا پیتل کی انگوٹھی یا چاندی کی ساڑھے چار ماشے سے زیادہ وزن کی یا کئی انگوٹھیاں اگرچہ سب مل کرساڑھے چار ماشے سے کم ہوں پہنے اس کی نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے ۔  ۴۳؎
تانبے پیتل کے تعویذ :
مرد و عورت دونوں کو مکروہ اور سونے چاندی کے مرد کو حرام عورت کو جائز ۔   ۴۴؎
رشوت :
انسانی خواہش وہاں تک معتبر ہے جہاں تک نہی شرعی نہ ہو ، رشوت شرع نے حرام فرمائی ہے وہ کسی کی خوشی سے حلال نہیںہو سکتی ۔ صحیح حدیث میں فرمایا : الراشی والمر شی کلاھما فی النار  رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں ۔  ۴۵؎
زندگی میں ایصالِ ثواب :
سوال کیا گیا کہ زید اپنی زندگی میں ایصال ثواب کر سکتا ہے یانہیں تو ارشاد فرمایا :
ہاں کر سکتا ہے محتاجوں کو چھپا کر دے یہ جو عام رواج ہے کہ کھانا پکایا جاتا ہے اور تمام اغنیا و برادری کی دعوت ہوتی ہے ایسا نہ کرنا چاہیے (پھر فرمایا ) چھپا کردینا محتاجوں کو اعلیٰ و افضل ہے حدیث میں ارشاد فرمایا :   صَدَقَۃُ السِّرِّتَدْ فَعُ مَیْتَۃَ السُّوْئِ وَتُطْفِیُٔ غَضَبَ الرَّبِّ چھپا کر صدقہ دینا بری موت سے بچاتا ہے اور رب العزت جل جلالہ کے غضب کو ٹھنڈ ا کرتا ہے (پھر فرمایا ) زندگی میں اپنے واسطے صدقہ کرنا بعد موت کے صدقہ سے افضل ہے ۔  ۴۶؎
امام ضامن باندھنا :
عرض : امام ضامن کا جو پیسہ باندھا جاتا ہے اس کی کوئی اصل ہے ؟
ارشاد :   کچھ نہیں ۔  ۴۷؎
امام احمد رضا قدس سرہ نے بدعات ومنکرات اور معاشرتی برائیوں کی تردید میں مستقل رسالے لکھے ۔ میت کے گھر جمع ہو کر کھانے پینے کے رد میں ’’ جلی الصوت لنہی الدعوۃ امام الموت ‘‘ کے نام سے رسالہ لکھا اسی طرح عورتوں کی مزارات پر حاضری کی ممانعت میں ’’ جمل النور فی نہی النساء عن زیارۃ القبور ‘‘ قوالی مع مزامیر کے رد میں ’’ اجل التبحیر فی حکم السماع والمزامیر ‘‘ جیسی تصانیف لکھیں ۔
راقم نے صرف’’ الملفوظ‘‘ سے اصلاحِ معاشرہ اور ردبدعات و خرافات کے حوالے سے عطر کشید کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس سلسلے میں مزید معلومات کے لیے علامہ یٰس ٓ اختر مصباحی کی تصنیف ’’ امام احمد رضا اور رد بدعات و منکرات‘‘ علامہ محمد عبدالمبین نعمانی مصباحی کی کتاب ’’ ارشادات اعلیٰ حضرت ‘‘اور سیّد فاروق القادری کی کتاب’’ فاضل بریلوی اور امور بدعت ‘‘ ملاحظہ فرمائیں ۔
امام احمد رضا قدس سرہ کا نت نئی باتوں (بدعات ) کے بارے میں مسلک واضح تھا ۔ ہر وہ نئی بات جس کو شارع اسلام نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع نہ کیا ہو اور جس سے منشاء شریعت کو تقویت پہنچے جائز ہے اور آپ دین تو دین دنیوی زندگی میں بھی ایسی باتوں کو پسند نہیں فرماتے تھے جو ایک فرد کے اسلامی تشخص کو مجروح کرے اورجس سے ایمان کوکسی طرح کا نقصان پہنچے ۔ آج ضرورت ہے کہ امام احمد رضا قدس سرہ کے اصلاحی افکار و نظریات کو عام کیا جائے ۔ان پر عمل کیا جائے تاکہ ہمارا کھویا ہوا وقاراور شان و شوکت ہمیں واپس مل سکے ۔ یوں ہی آپ کی اصلاحی تصانیف کی اشاعت بھی کی جائے ۔
حواشی و حوالہ جات
(۱)       الملفوظ،مرتبہ حضور مفتی اعظم علامہ مصطفی رضا نوری ،حصہ اول ص ۳۔۴، مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
(۲)       جہانِ مفتی اعظم ص ۶۸۶ ،مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی
(۳)      الملفوظ ،سوم ص ۵۶         (۴)      ایضاً ،چہارم ص ۶۵
(۵)      ایضاً ،اوّل ص ۱۰۱ (۶)       ایضاً ،دوم ص ۴۱
(۷)      ایضاً،اول ص ۶۰  (۸)      ایضاً ،سوم ص ۲۰
(۹)       ایضاً ،سوم ص ۱۶  (۱۰)     ایضاً ،دوم ص ۱۰۸
(۱۱)      ایضاً ،دوم ص ۱۱۲۔۱۱۳      (۱۲)     ایضاً ،اول ص ۶۱
(۱۳)     ایضاً، دوم ص ۶۳ (۱۴)     ایضاً، چہارم ص ۵۲
(۱۵)     ایضاً، چہارم ص ۸ 
            نوٹ : حاشیے میں حضور مفتی اعظم قدس سرہ لکھتے ہیں : یہ حکم مسلمان کے کافر کہنے کا ہے اور جو شخص با وجودادعاے ایمان
            واسلام کلمات کفر بولے ، افعال کفر کرے اس کو کافر کہا ہی جائے گا کہ یہاں مسلمان کو کافر کہنا نہیں بلکہ کافر کو کافر کہنا ہے۔
(۱۶)     ایضاً ،دوم ص ۸۷ (۱۷)     ایضاً ،دوم ص ۶۹
(۱۸)     ایضاً ،سوم ص ۱۶۔۱۷        (۱۹)      ایضاً، چہار م ص ۵۳
(۲۰)     ایضاً، چہارم ص ۶۹           (۲۱)     ایضاً، دوم ص ۷۱
(۲۲)     ایضاً، دوم ص ۱۰۷            (۲۳)    ایضاً ،سوم ص ۲۵
(۲۴)    ایضاً، دوم ص ۸۷ (۲۵)    ایضاً، سوم ص ۲۱
(۲۶)     ایضاً ،اول ص ۵۔۶           (۲۷)    ایضاً، چہارم ص ۲۲
(۲۸)    ایضاً ،چہارم ص ۲۲           (۲۹)     ایضاً، دوم ص ۷۹۔۸۰
(۳۰)    ایضاً، اول ص ۳۲ (۳۱)     ایضاً، دوم ص ۹۴
(۳۲)    ایضاً، دوم ص ۹۵ (۳۳)    ایضاً، دوم ص ۸۳
(۳۴)    ایضاً ،اول ص ۷۴            (۳۵)    ایضاً ،سوم ص ۴۳
(۳۶)    ایضاً ،اول ص ۳۶ (۳۷)    ایضاً ،اول ص ۳۸
(۳۸)    ایضاً، سوم ص ۱۴  (۳۹)     ایضاً، اول ص ۳۸
(۴۰)    ایضاً، اول ص ۸۰ (۴۱)     ایضاً، چہارم ص ۱۳
(۴۲)    ایضاً، دوم ص ۴۷ (۴۳)    ایضاً، دوم ص ۱۰۲
(۴۴)    ایضاً، سوم ص ۳   (۴۵)    ایضاً ،اول ص۵۲
 (۴۶)     ایضاً، سوم ص ۴۸                                        (۴۷)             ایضاً، سوم ص ۴۲

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg