Instagram

Saturday, 28 November 2015

Taleemat E Raza Awr Ham



تعلیمات رضا اور ’’ہم‘‘
محمد رضا مرکزی ،استاذ جامعۃ القادریہ نجم العلوم ، مالیگاؤں
            د نیائےاسلام میں ایسی شخصیتوں کی کمی نہیں جنہوں نے اپنے علم وعقل اور بصیرت سے ساری دنیاکو مستفیض فرمایا اور متحیر کیا ہے ۔ابن سینا، عمرخیام، امام رازی، امام غزالی، البیرونی، فارابی، ابن رشدوغیرہ وہ شخصیتیں ہیں جن کے علمی کارناموں پر رہتی دنیا تک فخر کیا جائے گا ، ان میں سے کوئی فلسفہ وحکمت کاامام ہے۔کوئی ریاضی وہیت کا، کوئی فلسفہ اخلاق کا، اور کوئی فلسفہ یونان کا،لیکن سب سے زیادہ حیرت انگیز شخصیت سر زمین ہند میں ہوئی وہ ذات ستودہ والاصفات "امام احمد رضا"(ولادت:۱۴جون۱۸۵۶ء، ۱۰شوال المکرم ۱۲۷۲ھ اور وفات:نومبر ۱۹۲۱ء،۲۵صفر المظفر ۱۳۴۰ھ) کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔
            ذیل میں دنیائے اسلام کے بطل ِجلیل ،چودہویں صدی کے مجدد اعظم ،معمار قوم و ملت ِاسلامیہ ،فقیہہ اعظم ِعالم اسلام یعنی اعلٰی حضرت امام احمد رضا خاںبریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تعلیمات پر کچھ عرض ہے ۔کیو نکہ آپ توحید ورسالت کے حقیقی علمبردار اور اسلام کی صحیح ترین تصویر یعنی مقدس حنفیت کے سر گرم مبلغ وبیباک ترجمان تھے ۔مگر افسوس کہ سنیوں نے اپنے اس ٘محسن کے علمی کارناموں کو نہ کما حقہ محفوظ کیااور نہ دنیا والوں کو اس نابغہ عصر کی علمی عظمت سے آشنا کرانے کی زحمت ہی گوارا کی ۔دوسری طرف مخالفین نے اس آسمان علم وعرفاں کی طرف دھول اڑانے میں کوئی کسر نہیں رکھی ۔مذکورہ حقائق کے باوجود امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا نام علمی کارناموں کی وجہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔
            مولانا عبد الحکیم شاہجہاں پوری تحریر فرماتے ہیں کہ "امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے مقدس شجراسلام میں غیر اسلامی نظریات کی پیوند کاری کرنے والوں سے جہاد کیا نیز علمائے حق اور علما ئے سوء میں پہچان کرائی اور ایسے "مصلحین " کے تعاقب میں ہمیشہ سر گرم عمل رہے جنھوں نے نئے نئے فرقے بنا کر مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا اور جو بات بات پر سچے اور پکے مسلمانوں کو بھی مشرک اور بدعتی وغیرہ ٹھہراتے رہتے تھے "۔(امام احمد رضا کی فقاہت ،مولانا عبدالحکیم اختر شاہ جہا نپوری)
            اگر امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کی تمام کتابوں کامطالعہ تعصب کو بالائے طاق رکھ کر کیا جائے تو بے ساختہ زبان سے یہی جملہ نکلے گا کہ "اس شخصیت کو دنیا میں جاری "بدعات ومنکرات " کو روکنے ہی کے لئے بھیجا گیا تھا "۔امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے امت ِمسلمہ کے اعمال کی اصلاح  کے لئے پوری زندگی صرف کر دی ۔اور آپ کی تعلیمات دور حاضر کے جملہ مسلمانان عالم کے لئے مشعلِ راہ اور لائق تقلید ہے ۔افسوس اس بات پر ہے کہ آج ہم ان تعلیمات پر عمل نا کر کہ مخالفین کو بولنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں ۔
            وہ تعلیمات کیا ہیں ملاحظہ فرمائیں اور اس پر خود کو ،اپنے گھر والوں کو ،پڑوسیوں کو ،اپنے اعزاء واقرباء کو عمل کے لئے تیار کریں ۔انشاء اللہ برکت الہٰی کا نزول ہوگا۔
            ایمان اور کامل ایمان کے بارے میں امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
             "محمد الرسول اللہ ﷺ کو ہر بات میں سچا جاننا،حضور ﷺ کی حقانیت کو صدق دل سے ماننا ایمان ہے ۔جو اس کا مقر ہے اسے مسلمان جانیں گے جبکہ اس کے کسی قول یا فعل یاحال میں اللہ اور رسول ﷺکا انکار یا تکذیب یا توہین نہ پائی جائے۔اور جس کے دل میں اللہ اور رسولﷺکا علاقہ تمام علاقوں پر غالب ہواللہ ورسول ﷺ کے محبوبوں سے محبت رکھے ۔اگر چہ اپنے دشمن ہوں اور اللہ ورسولﷺ کے مخالفوں بدگوں سے عداوت رکھے اگر چہ اپنے جگر کے ٹکڑے ہوں ۔جو کچھ دے اللہ کے لئے دے اور جو کچھ روکے اللہ کے لئے روکے ۔اس کا ایمان کامل ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ "من احب للہ وابغض للہ واعطی للہ ومنع للہ فقد استکمل الایمان"۔
            آج کل یہ فیشن چل پڑا ہے ۔عورتوں کا باریک باریک کپڑا پہننا،(غیب داں نبی ﷺ نے اسے قیامت کی نشا نیوں میں شمار کرایا ہے)۔ اور اس کے ساتھ ہی نماز پڑھنا، اس کے تعلق سے امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
             "آزاد عورتوں کو سر سے پاؤں تک تمام بدن کا چھپانا فرض ہے مگر چہرہ یعنی پیشانی سے تھوڑی اور ایک کنپٹی سے دوسری کنپٹی تک (جس میں سر کے بالوں کا یا کان کوئی حصہ داخل نہیں نہ تھوڑی کے نیچے کا)یہ تو بالاتفاق نماز میں چھپانا فرض ہے اور گٹوں تک دونوں ہاتھ اور ٹخنوں تک دونوں پاؤں ان میں اختلاف روایت ہے ان کے سوا اگر کسی عضو کا چوتھائی حصہ نماز میں قصدا کھولے اگرچہ ایک آن کو یا بلا قصد بقدر ادائے رکن یعنی تین بار سبحان اللہ کہنے کی دیر تک کھلا رہے تو نماز نہ ہو گی ۔اور باریک کپڑے جن سے بدب نظر آئے یا رنگت دکھائی دے یا سر کے بالوں کی سیاہی چمکے نماز نہ ہو گی"۔
            بچہ کی پیدائش پر بچے کا کیا نا م رکھنا چاہیےامام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
            "ایک حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ فرماتے ہیں جو میری محبت کی وجہ سے اپنے لڑکے کا نام محمد یا احمد رکھے گا ۔اللہ تعالٰی باپ اور بیٹے دونوں کو بخشے گا۔ایک روایت میںہے کہ قیامت کے دن ملائکہ کہیں گے جن کا نام محمد یا احمد ہے جنت میں چلے جاؤ۔ایک روایت میں ہے ملائکہ اس گھر کی زیارت کو آتے ہیں جس میں کسی کا نام محمد یا احمد ہے۔ایک روایت میں ہے کہ جس مشورے میں ا س نام کا آدمی شریک ہو اس میں برکت رکھی جاتی ہے ۔ایک روایت میں ہے کہ تمھارا کیا نقصان ہے کہ تمھارے گھروں میں دو یا تین محمد ہوں"۔
            کھانا کھانے کا مسنون طریقہ کیا ہے ؟آپ فرماتے ہیں" ۔کہ
            "داہنا پاؤں کھڑا ہو اور بایا ں بچھا اور روٹی با ئیں ہاتھ میں لے کر داہنے ہاتھ سے توڑنا چاہیے ۔ایک ہاتھ سے توڑ کر کھانا اور دوسرا ہاتھ نہ لگانا عادتِ متکبرین ہے"۔
            اور ولیمہ کے بارے میں فرماتے ہیں
             "ولیمہ بعد زفاف سنت ہے اور اس میں صیغہ امر بھی وارد ہوا ہے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ارشاد فرمایا "او لم ولو شاۃ"ولیمہ کرو اگر چہ ایک ہی دنبہ یا ایک ہی بکری "۔
            نوشہ کاسہرا :
            "خالی پھولوں کا سہرا جائز ہے ۔ اوریہ باجے جو شادی میں رائج ہیں اور معمول بن گئے ہیں سب ناجائز و حرام ہیں ۔نوشہ کو ابٹن کہ خوشبو ہےجائز ہے "۔اور"نکاح کے بعد جو چھوارے لٹانے کا رواج ہے حدیث شریف سے ثابت ہے اور لٹانے میں کوئی حرج نہیں اور یہ حدیث دار قطنی وبیہقی طحطاوی سے مروی ہے "۔
            طلب وبیعت میں فرق:
            "طالب ہونے میں طلب صرف فیض ہے اور بیعت کے معنی پورے طور سے بکنا ۔بیوت اس شخص سے کرنا چاہیے جس میں یہ چار باتیں ہوں ورنہ بیعت جائز یہ ہو گی ۔اولا سنی صحیح العقیدہ ہو ثانیا کم از کم اتنا علم ضروری ہے کہ بلا کسی امداد کے اپنی ضروریات کے مسائل کتاب سے خود نکال سکے ۔ثالثااس کا سلسلہ حضور ﷺ تک متصل ہو ۔کہیں منقطع نہ ہو ۔ رابعافاسق ِ معلن نہ ہو ۔ اور مزید فرمایا کہ لوگ بیعت بطور رسم ہوتے ہیں بیعت کے معنی نہیں جانتے بیعت اسے کہتے ہیں کہ حضرت یحییٰ منیری کے ایک مرید دریا میں ڈوب رہے تھے حضرت خضر علیہ اسلام حاضر ہوئے اور فرمایااپنا ہاتھ مجھے دے کہ تجھے نکال لوں ۔ ان مرید نے عرض کہ یہ ہاتھ حضرت یحییٰ منیری کے ہاتھ میں دے چکا ہوں اب دوسرے کو نہ دوں گا حضرت خضر علیہ اسلام غائب ہو گئے اور حضرت یحییٰ منیری ظاہر ہوئے اور نکال لیا"۔
            وقت دفن اذان کہنا:
            "وقت دفن اذان دفع شیطان کے لئے کہی جاتی ہے حدیث شریف میں ہے کہ اذان جب ہوتی ہے شیطان ۳۶ میل دور بھاگ جاتا ہے ۔الفاظ حدیث میں ہے کہ روحا تک بھا گتا ہے ۔اور روحا مدنیہ طیبہ سے ۳۶ میل ہے اور وہ وقت ہوتا ہے دخل شیطان کا جس وقت منکر نکیر سوال کرتے ہیں من ربک ،تیرا رب کون ہے ۔یہ لعین دور سے اشارہ کرتا ہے اپنی طرف کہ مجھکو کہہ دے جب اذان ہوتی ہے بھاگ جاتا ہے وسوسہ نہیں ہوتا "۔
            حضرت خضر علیہ السلام نبی ہیں یا نہیں ؟آپ فرماتے ہیں کہ
            "جمہور کا مذہب یہی ہے اور صحیح بھی یہی ہے کہ وہ نبی ہیں زندہ بھی ہیں خدمتِ بحر انھیں سے متعلق ہے اور الیاس علیہ السلام بر میں ہیں ۔اور مزید فرماتے ہیں کہ چار نبی زندہ ہیں کہ ان کو وعدہ الہی ابھی نہیں آیا ۔یوں تو ہر نبی زندہ ہیں ۔ان اللہ حرم علی الارض ان ےاکل اجساد الانبیاء فنبی اللہ حی یرزق۔بے شک اللہ حرام کیا زمین پر کہ انبیاء علیہم الصلاۃوالسلام کے جسموں کو خراب کرے تو اللہ کے نبی زندہ ہیں اور رزق دئے جاتے ہیں ۔انبیاء علیہم السلام پر ایک آن کو محض تصدیق وعدہ الہیہ لے لئے موت طاری ہوتی ہے ۔بعد اس کے پھر ان کو حیات ِحقیقی حسی دنیوی عطا ہوتی ہے ۔خیر ان چاروں میں سے دو آسمان پر ہیں اور دو زمین پرحضر والیاس علیہما السلام زمین پر ہیں اور ادریس ورعیسٰی علیہما السلام آسمان پر"۔
            تحیۃ المسجد کی فضیلت:
            "ایک بار حضور ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا اے بلال کیا سبب ہے کہ میں جنت میں تشریف لے گیا تو تم کو آگے آگے جاتے دیکھا۔عرض کی یا رسول اللہ ﷺ جب میں وضو کرتا ہوں دو رکعت نماز نفل پڑھ لیتا ہوں فرمایا یہی سبب ہے "۔ 
            حر مت ِسجدہ ِتعظیمی:
            "مسلمان ! اے مسلمان!اے شریعت مصطفوی کے تابع فرمان!جان اور یقین جان کہ سجدہ حضرت عزت عز جلالہ کے سوا کسی کے لئے نہیں ۔اس کے غیر کو سجدہ عبادت تو یقیناًاجماعاًشرک مہین وکفر مبین اورسجدہ تحیت حرام وگناہ کبیرہ بالیقین ۔اس کے کفر ہونے میں اختلاف علمائے دین ۔ایک جماعت فقہا ءسےتکفیرِمنقول اور عندالتحقیق کفر صوری پر محمول۔کما سیاتی بتوفیق المولی سبحانہ وتعالٰی"۔
            صحابہ کرام نے حضورﷺ کو سجدہ تحیت کی اجازت چاہی ۔اس پر ارشاد ہواکیا تمہیں کفر کا حکم دیں ۔معلوم ہوا کہ سجدہ تحیت ایسی قبیح چیز ہے جسے کفر سے تعبیر فرمایا ۔جب خودحضور اقدس ﷺکے لئے سجدہ تحیت کا یہ حکم ہے پھر اوروں کاکیا ذکر۔اللہ الھادی(الزبدۃالزکیہ )
            عورتوں کے لئے زیارتِ قبور:
            "عورتوں کو زیارت قبور منع ہے ۔حدیث میں ہے لعن اللہ زائرات القبور،اللہ کی لعنت ان عورتوں پر جو قبروں کی زیارت کو جائیں ۔مجاور مردوں کو ہونا چاہیے ۔عورت مجاور بن کر بیٹھے اور آنے جانے والوں سے اختلاط کرے یہ سخت بدعت ہے ،عور ت کو گوشہ نشینی کا حکم ہے ۔نہ یوں مردوں کے ساتھ اختلاط کا جس میں بعض اوقات مردوں کے ساتھ اسے تنہائی بھی ہو گی اور یہ حرام ہے "۔واللہ تعالیٰ اعلم
            اجمیر شریف میں خواجہ صاحب کے مزار پر عورتوں کا جانا کیسا ؟ اس کے جواب میں امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ تحریر فرمانے ہیں
             "غنیہ میں ہے یہ نہ پوچھو کہ عورتوں کا مزارات پرجانا جائز ہے یا نہیں بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کس قدر لعنت ہوتی ہے اللہ کی طرف سے ۔اور کس قدر صاحب ِقبر کی ۔جس وقت وہ گھر سے ارادہ کرتی ہے لعنت شروع ہو جاتی ہے اور جب تک واپس آتی ہے ملائکہ لعنت کرتے رہتے ہیں ۔سوائے روضہ انور کے کسی اور مزار ہر جانے کی اجازت نہیں ۔وہاں کی حاضر البتہ سنتِ جلیلہ عظیمہ قریب بواجبات ہیں ۔ اور قرآن عظیم نے اسےمغفرت ِذنوب کا تریاق بنایا" ولو انھم اذ ظلمواانفسھم جاؤک فاستغفرا اللہ واستغفرلھم الرسول لوجدوا للہ تواباًرحیما"۔اگر وہ جب اپنی جانوںپر ظلم کریں تمھارے حضور حاضر ہوں ۔پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کے لئے معافی مانگےتو ضرور اللہ کو توبہ قبول کرنے والامہربان پائیں گے ۔
            خود حدیث میں ارشاد ہوا"من زارقبری وجبت لہ شفاعتی"جو میرے مزار کریم کی زیارت کو حاضرہوا اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو گئی۔دوسری حدیث میں ہے ۔"من حج ولم یزرنی فقد جفانی "جس نے حج کیا اور میری زیارت کو نہ آیابے شک اس نے مجھ پر جفا کی ۔ایک تو یہ ادائے واجب دوسرے قبول توبہ تیسرے دولت ِشفاعت حاصل ہوناچوتھے سرکارﷺ کے ساتھ معاذ اللہ جفاسے بچنا ۔یہ عظیم اہم امور ایسے ہیں جنہوں نے سب سرکاری غلاموں اور سرکاری کنیزوں پر خاک بوسیآستان عرش نشان لازم کر دی ۔ 
            بخلاف دیگر قبور ومزارات کےکہ وہاں ایسی تاکیدیں مفقود اور احتمال ِمفسدہ موجود۔اگر عزیزوں کی قبریں ہیں بے صبری کریں گی ۔اولیاء کے مزار ہیں تو محتمل کہ بے تمیزی سے بے ادبی کرے ۔یا جہالت سے تعظیم میں افراط۔جیسا کہ معلوم ومشاہد ہے ۔لہذا ان کے لئے طریقہ اسلم احتراز ہی ہے۔
             کفایہ شعبی پھر تا تارخانیہ میں ہے ۔امام قاضی سے سواک ہوا کہ کیا عورتوں کا قبرستان کو جانا جائز ہے ؟فرمایا ایسی بات میں جائز نا جائز نہیں پوچھتےپو چھو کہ جائے گی تو اس پر کتنی لعنت ہو گی ۔۔خبردار!جب وہ جانے کا ارادہ کرتی ہے اللہ اور فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں اور جب گھر سے چلتی ہے سب طرف شیطان اسے گھیرلیتے ہیں ۔اور جب قبر پر آتی ہے میت کی روح اس پر لعنت کرتی ہے۔اور جب پلٹتی ہے تو اللہ کی لعنت کے ساتھ پھرتی ہے ۔البتہ حاضری وخاک بوسیِآستانِ عرش نشان سرکار اعظم ﷺاعظم المندوبات بلکہ قریب واجبات ہے اس سے نہ روکیں تعدیل ِادب سکھائیں گے۔
            حرمتِ مزامیر:
            "مزامیر یعنی آلات ِلہو ولعب بر وجہ لہو ولعب بلا شبہ حرام ہیں جن کی حرمت اولیاء وعلماء دونوں فریق مقتدا کے کلمات عالیہ میں مصرح ان کے سننے سنانے کے گناہ ہونے میں شک نہیں کہ بعد اصرار کبیرہ ہے ۔اور حضرات علیہ ّسادات ِبہشت کبرائے سلسلہ عالیہ چشت رضی اللہ تعالٰی عنھم وعنّا وبھم کی طرف اس کی نسبت ٘محض باطل وافترا ہے۔
            حضرت سیدی فخرالدین زرّای قدس سرہ کہ حضور سیدنا محبوب الہٰی سلطان الاولیاء نظام الحق والدنیا والدین محمداحمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اجلہ خلفاء سے ہیں جنہوں نے خاص عہدِکرامت مہدِحضور ممدوح میں بلکہ خود بحکم والا ،مسئلہ سماع میں رسالہ "کشف القناع عن اصول السماع"تالیف فرمایا۔آپ فرماتے ہیں اسی رسالے میں کہ " بعض مغلوب الحال لوگوں نے اپنے غلبہ حال وشوق میں سماع مع مزامیر سنا اور ہمارے پیران طریقت رجی اللہ تعالٰی عنہم کا سننا اس تہمت سے بری ہے ۔وہ تو صرف قوال کی آوازہے ان اشعار کے ساتھ جو کمال ِصنعت ِالہٰی جل ّوعلا سے خبر دیتے ہیں ۔بلکہ خود حضور ممدوح رضی اللہ عنہ نے اپنے ملفوظات شریفہ "فوائد الفوا د"وغیرہا میں جا بجا حرمت ِمزامیر کی تصریح فرمائی بلکہ حضور والاصرف تالی کو بھی منع فرماتے کہ مشابہ ِلہو ہے ،بلکہ ایسے افعال میں عذر ِغلبہ حال کو بھی پسند نہ فرماتے کہ مدعیان ِباطل کو راہ نہ ملے ۔فوائد الفواد شریف میں صاف تصریح فرمائی ہے کہ "مزامیر حرام است"حضور ممدوح کے یہ ارشادت ِعالیہ ہمارے لئے سند کافی اور ان اہل ہوا وہوس مدعیان ِچشت پر حجت ِوافی۔ہاں جہاد کا طبل ،سحری کا نقارہ ،حمام کا بوق،اعلان ِنکاح کا نے جلاجِل دف جائز ہیں کہ یہ آلات ِلہو ولعب نہیں ۔اور اسیطرح حدیث شریف میں ہے کہ "الغناء ینبت النفاق کما ینبت الماءالبقل"(گانا نفاق کو اسی طرح انسانی قلوب طرح پیدا کرتا ہے جس طرح پانی فصل کو)
            اور اگر اشعار حمد ونعت ومنقبت ووعظ وپند وذکر آخرت بوڑھے یا جوان مرد خوش الحانی سے پڑھیں اور بہ نیت نیک سنے جائیں کہ اسے عرف میں گانا نہیں کہتے بلکہ پڑھنا کہتے ہیں تو اس کے منع پرتو شرع سے اصلاًدلیل نہیں ۔
            حضور پر نور ﷺ کا حسان بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لئے خاص مسجد اقدس میں منبر رکھنا اور ان کا اس پر کھڑے ہو کر نعت اقدس سنانا اور حضور اقدس ﷺ وصحابہ کرام کا استماع فرمانا خود صحیح حدیث بخاری شریف سے واضح اور عرب کے رسم حدی زمانہ صحابہ وتابعین بلکہ عہد رسالتِ اقدس میں رائج رہنا خوش الحانی ِرجال کے جواز پر دلیل لائح ،انجشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حدی پر حضور ﷺنے انکار نہ فرما یابلکہ بلحاظ عورات "رویدک یا انجشہ لا تکسر القواریر"ارشاد ہوا۔
            باجہ بھی اس حرمت میں داخل ہے ۔باجوں کی حرمت میں احادیث کثیرہ وارد ہیں ۔حدیث ِصحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرماتے ہیں "لیکونن فی امتی اقوام لیستحلون الحرہ والحریر والخمر والمعازف"ضرور میری امت میں وہ لوگ ہونے والے ہیں جو حلال ٹھرائیں گے عورتوں کی شرم گاہ یعنی زنا اور ریشمی کپڑوں اور شراب اور باجوں کو۔حدیث صحیح جلیل متصل ہے ۔
            بعض خانقاہیں جہاں پشتہا پشت سے قوالیا ں ہوتی چلی آرہی ہیں ان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ رحریر فرماتے ہیں "خالی قوالی جائز ہے اور مزامیر حرام۔زیادہ غلو اب منتسبانِ سلسلہ عالیہ چشتہ کو ہے اور حضرت سلطان المشائخ محبوب الہٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ فوائد الفواد شریف میں فرماتے ہیں ۔"مزامیر حرام است"۔اور حضرت مخدوم شرف الملۃ والدین یحیٰ منیری قدس سرہ نے "مزامیر کو زنا "سے شمار فرمایا۔
            فتاوی رضویہ جلد دہم میں بھی صفحہ ۱۹۹سے ۲۰۰پر نیز اس سے پہلے صفحہ ۵۴تا۵۶پر تفصیل سے حکم مزامیر موجود ہے ۔اور"متصوفہ زمانہ کہ مزامیر کے ساتھ قوالی سنتے ہیں ۔اور کبھی اچھلنے کودنے لگتے ہیں اور ناچنے گانے لگتے ہیں اس قسم کا گانا بجانا نا جائز ہے ۔ایسی محفل میں جانا اور وہاں بیٹھنا ناجائز ہے مشائخ سے اس قسم کے گانے کاکوئی ثبوت نہیں ۔جو چیز مشائخ سے ثابت ہے وہ فقط یہ ہے کہ اگر کبھی کسی نے ان کے سامنے کوئی ایسا شعر پڑھا دیا جو ان کے حال وکیف کے موافق ہے تو ان پر کیفیت ورقت طاری ہو گئ اور بے خود ہو کر کھڑ ے ہو گئے ۔اور حال وارفتگی میں ان سے حرکات غیر اختیاریہ صادر ہوئے اس میں حرج نہیں ۔
            "مشائخ وبزرگان دین کے اور ان متصوفہ کے حال وقال میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔یہاں مزامیر کے ساتھ محفلیں منعقد کی جاتی ہیں جن میں فساق وفجار کا اجتماع ہوتا ہے نا اہلوں کا مجمع ہوتا ہے گانے والوں میں اکثر بر شرع ہوتے ہیں ،تالیا ں بجاتے ہیں اور مزامیر کے ساتھ گاتے ہیں اور خوب اچھلتے کودتے ناچتے گاتے تھرکتے ہیںاور اس کا نام حال رکھتے ہیں ۔ان حرکات کو صوفیائے کرام کے احوال سے کیا نسبت۔یہاں سب چیزیں اختیاری ہیں وہاں بے اختیاری تھیں "۔(بہار شریعت ص۱۳۱،شانزدہم)
            ایک اور مقام پر مزامیر کے تعلق سے تحریر فرماتے ہیں امام احمد رضا خاں محقق بریلوی رضی اللہ عنہ"مزامیر حرام ہیں اور حرام ہر حال میں حرام رہے گا ،لوگ گناہوں میں مبتلا ہیں اس کے سبب گناہ جائز ہوجائے تو شریعت کا منسوخ کرنا فاسقوں کے ہاتھ میں رہ جائے"۔(فتاویٰ رضویہ ،ج۲۴،ص۱۳۹)
            ھندوں کے میلے میں شرکت:
            "قرآن ِکریم میں اللہ رب العزّت ارشاد فرماتا ہے "یا یھا الذین امنوا ادخلوا فی السلم کافۃ ولاتتبعوا خطوات الشیطان انہ لکم عدو مبین "مسلمان ہو تو پورت مسلمان ہو جاؤشیطان کی پیروی نہ کرووہ تمھارا ظاہر دشمن ہے ۔حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ نے استدعا کی کہ اگر اجازت دیں تو نماز میں کچھ آیتیں تورات شریف کی بھی ہم لوگ پڑھ لیا کریں ۔اس پر یہ آیہ کریمہ ارشاد فرمائی ۔(الملفوظ ص۲۵،۲۶)
            ایک اور مقام پر اہل ہنود کے میلوں میں جانے والوں کو آگاہ فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں
            "اہل ہنود کے میلوں کو دیکھنے کے لئے جانا مطلقاًنا جائز ہے ۔اگر ان کا مذہبی میلہ ہے جس میں وہ اپنا کفر وشرک کریں گے۔کفر کی آوازوں سے چلائیں گے۔جب تو ظاہر ہے۔اور یہ صورت سخت حرام منجملہ کبائر ہے پھر بھی کفر نہیں اگر کفری باتوں سے نافر ہے۔معاذ اللہ ان میں سے کسی بات کو پسند کرے یا ہلکا جانے تو آپ ہی کافر ہے ۔اس صورت میں عورت نکاح سے نکل جائے گی اوریہ اسلام سے۔ورنہ فاسق ہے اور فسق سے نکاح نہیں جاتا۔پھر بھی وعید شدید ہے اور کفریات کا تماشہ بناناضلال بعید ہے ۔
            اور اگر مذہبی میلہ نہیں ۔لہو ولعب کا ہے جب بھی ناممکن کہ منکرات وقبائح سے خالی ہو ۔اور منکرات کا تماشہ بنانا جائز نہیں ۔
            اور اگر تجارت کے لئے جائے اگر میلہ ان کے کفروشرک کاہے ۔جانا ناجائز وممنوع ہے کہ اب وہ جگہ ان کا معبد ہے اور معبد کفار میں جانا گناہ ۔اور اگر لہوولعب کا ہے اور خود اس سے بچے ،نہ اس میں شریک ہو نہ اس کو دیکھے ،نہ وہ چیزیں جو ان کے لہوولعب ِممنوع کی ہو ں بیچے تو جائز ہے ۔پھر بھی مناسب نہیں کہ ان کا مجمع ہے ۔پر وقت محل لعنت ہے تو اس سے دوری ہی میں خیر۔اور اگر خود شریک ہو یا تماشہ دیکھے یا ان کے لہو ِممنوع کی چیزیں تو آپ ہی گناہ ونا جائز ہے۔ہاں ایک صورت جواز مطلق کی ہے وہ یہ کہ عالم انہیں ہدایت اور اسلام کی دعوت کے لئے جائے جب کہ اس پر قادر ہو۔یہ جانا حسن ومحمود ہے۔اگرچہ ان کا مذہبی میلہ ہو ۔ایسا تشریف لے جاناخود حضور سید عالم ﷺ سے بارہا ثابت ہے۔(ملخصاً،عرفانِ شریعت ص۲۷،۲۸)
            "کافروں کو میلے میں جانے سے آدمی کافر نہیں ہوتا کہ عورت نکاح سے نکل جائے۔جو لوگ ایسا فتویٰ دیتے ہیں شریعت ِمطہرہ پر افتراءکرتے ہیں ۔البتہ اس میں شریک ہونا مسلمانوں کو منع ہے ۔حدیث میں ہے ۔"من کثرسوادقوم فھو منھم "دوسری حدیث میں ہے "من جامع المشرکین و سکن معہ فانہ مثلہ "علماء فرماتے ہیں کہ مسلمان کو چاہیے کہ مجمع ِکفار پر ہو کر نہ گزرے کہ ان پر لعنت اترتی ہے ۔اورظاہر کہ ان کا میلہ صد ہا کفر کے اشعار اور شرک کی باتوں پر مشتمل ہو گا۔اور یہ ممانعت وازالہ منکر پر قادر نہ ہو گا ۔تو خواہی نخواہی گونگا شیطان اور کافر کا تابعدار ہو کر مجمع ِکفار میں رہنا اوران کت کفریات کو دیکھنا سننا مسلمان کی ذلت ہے"۔(فتاویٰ رضویہ ،ص۶۷،جلددہم )
            طواف وبوسہ قبر:
            بوسہ وطواف وسجدہ قبر برائے تعظیم سے متعلق ایک سوال کے جواب میں امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ لکھتے ہیں ۔
            "بلا شبہ غیر کعبہ معظمہ کا طواف ِ تعظیمی نا جائز ہے اور غیر خدا کو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے ۔اور بوسہ قبر میں علماء کا اختلاف ہے اور احوط منع ہے "۔(احکام شریعت ،حصہ ۳،ص۳،و فتاویٰ رضویہ ،جلد دہم ص۷۷)
            "مزارکا طواف کہ محض بہ نیتِ تعظیم کیا جائے نا جائز ہے کہ تعظیم ِطواف مخصوص بخانہ کعبہ ہے ۔مزار کو بوسہ نہ دینا چاہیے۔علماء اس میں مختلف ہیں اور بہتر بچنا اور اسی میں ادب زیادہ ہے ۔آستانہ بوسی میں حرج نہیں اور آنکھوں سے لگانا کہ اس سے شرع شریف میں ممانعت نہ آئی۔اور جس چیز کو شرع نے منع نہ فرمایامنع نہیں ہو سکتی ۔قال اللہ تعالٰی ان الحکم الااللہ ۔۔اور ہاتھ باندھے الٹے پاؤں آنا ایک طرز ادب ہے اور جس ادب سے شرع نے منع نہ فرمایااس میں حرج نہیں ۔ہاں!اگر اس میں اپنی یا دوسرے کی ایذاکا اندیشہ ہو تو اس سے احتراز کیا جائے۔واللہ تعالٰی اعلم (فتاویٰ رضویہ ،ص۸،جلد چہارم،ومترجم ص۵۲۸ج۹)
            بوسہ قبر وطوافِ قبر و قبر کی بلندی سے متعلق ایک جواب میں تحریر فرماتے ہیں ۔
            "بعض علماء اجازت دیتے ہیں اور بعض روایات بھی نقل کرتے ہیں ۔کشف الغطاء میں ہے کہ " کفایہ الشعبی میں قبر ِوالدین کو بوسہ دینے کے بارے میں ایک اثر نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس صورت میں کوئی حرج نہیں ۔اور شیح بزرگ نے بھی شرح مشکوۃٰمیں بعض آثار میں اس کے وارد ہونے کا ارشاد کیا اور اس پر کوئی جرح نہ کی "۔(کشف الغطاء،فصل دہم زیارت قبور ،ص۷۹)
            مگر جمہور علماء مکروہ جانتے ہیںتو اس سے احتراز ہی چاہیے ۔اشعۃ اللمعات میں ہے کہ "قبر کو نہ ہاتھ لگائے ،نہ ہی بوسہ دے"۔(اشعۃاللمعات ،باب زیارت القبور ،ج۱،ص۷۱۶)
            مولانا علی قاری "منسک متوسط" میں تحریر فرماتے ہیں کہ "طواف کعبہ کی خصوصیات ہے تو انبیاء واولیاء کی قبروں کے گرد حرام ہو گا۔(منسک متوسط مع ارشاد الساری،ص۳۴۲)
            مگر اسے مطلقاًشرک ٹھرا دینا جیسا کہ طائفہ وہا بیہ کا مزعوم ہے محض باطل و غلط اور شریعت ِ مطہرہ پرافتراء ہے ۔
            اور قبر کی بلندی ایک بالشت یا کچھ زائد ہو۔"ایک بالشت کی مقدار کوہان کی طرح بنا دی جائے ۔یا کچھ زیادہ کر دی جائے "۔(در مختار ،ج ۱ص۱۲۵،ردالمحتار وبدائع )
            زیادہ فاحش بلندی مکروہ ہے ۔حلیہ میں ہے کہ
            "کراہت بہت زیادہ اونچی کرنے پر محمول ہے ۔اور عدم کراہت قلیل زیا دتی پرجو ایک بالشت کی مقدار ہو یا اس سے کچھ کم "۔واللہ تعالیٰ اعلم (فتاوی رضویہ ،ج۹،ص۵۶۲/۵۲۷مسئلہ ۱۵۹ با ۱۶۱)
            مزار پر حاضری کا طریقہ:
            "مزارات ِ شریفہ پر حاضر ہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اورکم از کم چار ہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز بادب سلام عرض کرے۔مزار کو نہ ہاتھ لگائے نہ بوسہ لے اور طواف بالاتفاق نا جائزاور سجدہ حرام "۔(فتاوی رضویہ ج۹،ص۵۲۲)
            قبر وقبرستان:
            "قبروں پر چلنے کی ممانعت ہے ۔نہ کہ جوتا پہننا،کہ سخت توہین ِ اموات مسلمین ہے ۔ہاں ! جو قدیم راستہ قبرستان میں ہو جس میں قبر نہیں ۔اوس میں چلنا جائز ہے اگرچہ جوتا پہنے ہو۔قبروں پر گھوڑے باندھنا ،چارپائی بچھانا ،سونا سب منع ہے "۔(فتاویٰ رضویہ ج۴ص۱۰۷)
            در مختار میں ہے کہ "قبرستان میں ایسے راستے پر چلنا ممنوع ہے جس کے بارے میں گمان ہو کہ ہو نیا بنا لیا گیا ہے ۔یہاں تک کہ جب اپنی میت کہ قبر تک کسی دوسری قبر کو پا مال کئے بغیر نہ پہنچ سکتا ہو تو وہاں تک جانا ترک کرے ۔رات کو دفن کرنا اور قبر کے پاس تلاوت کرنے والے کو بٹھانا مکروہ نہیں ،یہی مختار ہے "۔(در مختار ،باب صلوۃ الجنائز ،ج۱ص۱۶۲)
            عالمگیری میں ہے کہ
            "قبروں پر گلاب وغیرہ کے پھول رکھنا اچھا ہے "۔(فتاویٰ ہندیہ ،ج۵ص۳۳۱)
            ردالمحتار میں ہے کہ
             "پھول جب تک تر رہتا ہے اللہ تعالٰی کی تسبیح کر کے میت کا دل بہلاتا ہے اور خدا کے ذ کر سے رحمت نازل ہوتی ہے اس بات سے اور احادیث ِپاک کے اتباع کے لحاظ سے اس کا مندوب ہونا اخذ ہوتا ہے ۔اسی پر اس کا قیاس بھی ہو گا جو ہمارے زمانے میں آس وغیرہ کی شاخیںرلھنے کا دستور ہے "۔(ردالمحتار ج۱ص۶۰۷)
            "قبر پر نماز پڑھنا حرام ،قبر کی طرف نماز پڑھنا حرام ،اور مسلمان کی قبر پر قدم رکھنا حرام،قبروں پر مسجد بنانا یا زراعت وغیرہ کے لئے استعمال کرنا حرام۔ردالمحتار میں حلیہ سے ،فتح القدیر و طحطاوی میں اس کا ذکر ہے ۔اگر مسجد میں کوئی قبر آجائے تواس کے آس پاس چارون طرف تھوڑی تھوڑی دیوار اگرچہ پاؤگز ہو قائم کر کہ اس پر چھت بنائیں کہ اب نماز یا پاؤں رکھنا قبر پر نہ ہو گا ۔بلکہ اس چھت پر جس کے نیچے قبر ہے اور نماز قبر کی طرف نہ ہو گی بلکہ اس دیوا رکی طرف اور یہ جائز ہے "۔(عرفان ِشریعت ج۲ص۲)
            چوری کا مال :
            چوری کا مال دانستہ خریدنا حرام ہے بلکہ معلوم نہ ہو مظنون ہو جب بھی حرام ہے ۔مثلاً کوئی جاہل شخص کہ اس کے مورثین بھی جاہل تھے کوئی وعلمی کتاب بیچنے کو لائے اور اپنی مِلک بتاے اس کے خریدنے کی اجازت نہیں ۔اور اگر نہ معلوم ہے نہ کوئی واضح قرینہ تو خریداری جائز ہے ۔پھر اگر معلوم ہو جائے کہ یہ چوری کا مال ہے تو اس کا استعمال حرام ہے بلکہ مالک کو دیا جائے اور وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو،اور ان کا بھی پتہ نہ چل سکے تو فقراء کو"۔(فتاویٰ رضویہ ج۷ص۳۸)
            مسجد میں سوال:
            "مسجد میں سوال نہ کرئے کہ حدیث میں اس سے ممانعت آئی ہےاور اسے دینا بھی نہیں چاہیے کہ شنیع(برے)پر اعانت ہے ۔علماء فرماتے ہیں کہ مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے تو ستر اور در کار ہیں جو اس دینے کا کفّارہ ہوں کما فی الھندیہ والحدیقۃ الندیہ ۔۔اور اگر ایسی بے تمیزی سے سوال کرتا ہے کہ نمازیوں کے سامنے گزرتا یا بیٹھے ہوؤں کو پھاند کر جاتا ہے تو اسے دینا بالاتفاق ممنوع"۔(احسن الوعاء، ص۱۳۲)
            داڑھی کی مقدار:
            "داڑھی منڈانے اور خسخسی کرانے والاحدِ شرع سے کم رکھنے والا فاسق معلن ہے ۔ اسے امام بنانا گناہ ہے ۔فرض ہویا تراویح یا کسی نماز میں اسے امام بنانا جائز نہیں ۔حدیث میں اس پر غضب اور ارادہ قتل وغیرہ کی وعید یں وارد ہیں ۔اور قرآن ِ عظیم میں اس پرلعنت ہے ۔نبی ﷺ کے مخالفوں کے ساتج اس کا حشر ہو گا "۔(احکام ِشریعت ،ح ۲،ص۲۳)
            مرد کی انگوٹھی :
            "چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ کی ساڑھے چار ماشہ سے کم وزن کی مرد کو پہننا جائز ہے اور دو انگوٹھیاں یا کئی نگ کی ایک انگوٹھی یا ساڑھے چار ماشہ خواہ زائد چاندی کی اور سونے ،کانسے ، پیتل ،لوہے ،تانبے کی مطلقاًنا جائز ہے ۔گھڑی کی زنجیر سونے چاندی کی مرد کو حرام اور دھاتوں کی ممنوع ہے۔اور جو چیزیں منع کی گئی ہیں ان کو پہن کر نماز پڑھنا اور امامت مکروہ تحریمی ہے"۔(احکامِ شریعت،ج۱،ص۷۲)
            قبروں پر چادر چڑھانا:
            "قبور ِاولیا ئے کرام قدسنا اللہ بااسرارہم پر چادر بقصد تبریک ڈالنا مستحسن ہے "۔(فتاویٰ رضویہ مترجم ،ج۹،ص۵۳۳)
            "مزار پر جب چادر موجود ہو،خراب نا ہوئی ہو بدلنے کی حا جت نہیں ،تو چادر چڑھانا فضول خرچی ہے ۔بلکہ جورقم اس میں صرف کرے ۔وہ اللہ کے ولی کو ایصالِ ثواب کرنے کے لئےکسی محتاج کو دے "۔(احکام ِ شریعت ،ص۴۲،ج۱)
            عرس میں آتش بازی اور نیاز کا کھانا لٹانا :
            "آتش بازی اسراف ہے ۔اور اسراف حرام ہے اور کھانے کا لٹانا بے ادبی ہے اور بے ادبی محرومی ہے ۔تضیعِ مال ہے ۔اور تضیع حرام ،روشنی اگر مصالح ِ شرعیہ سے خالی ہوتو وہ بھی اسراف ہے "۔(فتاویٰ رضویہ،ج۲۴،ص۱۱۲)
            ذیل میں کچھ اور چیزوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو ہمارے معاشرے میں رائج ہے اور لوگ اسے"شرعی طریقہ"سمجھتے ہیں ۔ان تمام "غیر شرعی امور" سے مسلمانوں کو آگاہ کرتے ہیں امام ِاہل سنت امام احمد رضا محقق بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ
            "مردے کا کھانا صرف فقراء کے لئے ہو،عام دعوت کے طور پر جو کرتے ہیں یہ منع ہے ،غنی نہ کھائے ،کما فی فتح القدیر ومجمع البرکات"(فتاویٰ رضویہ ،ج۹،ص۵۳۶)
            "قبر وں کی زیارت ہر وقت جائز ہے ۔مگر شب میں تنہا قبرستان نہیں جانا چاہیے ۔اورزیارت کا افضل وقت روزِ جمعہ بعدِ نماز صبح ہے"(ایضاًص۵۲۲)
            "عو د لوبان وغیرہ کوئی چیز نفس ِقبر پر رکھ کر جلانے سے احتراز چاہیے اگر چہ برتن میں ہو۔صحیح مسلم میں حضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی:"انھوں نے دم ِ مرگ اپنے فرزند سے فرمایا جب میں مر جاؤں تو میرے ساتھ نہ کوئی نوحہ کرنے والی جائے نہ آگ جائے"۔(مسلم ،کتاب الایمان ،ض۱،ص۷۶)شرح ِمشکوۃللامام ابن حجرالمکی میں ہے کہ"کیونکہ آگ میں فالِ بد ہے"۔(فتاویٰ رضویہ ،ج۹،ص۴۸۲)
            "تاش اور شطرنج نا جائز ہیں اور تاش زیادہ گناہ وحرام کہ ا سمیں تصاویر بھی ہیں "۔ (فتاویٰ رضویہ ،ج۲۴،ص۱۱۳)
            یہ ہیں وہ عظیمِ الشان لائق ِتقلید وعمل تعلیمات امام احمد رضا خاں محقق بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ ۔لیکن افسوس صد ہزار افسوس کہ آج ہم ان تعلیما  ت سے کوسوں دور ہو کر "بے جاغیر شرعی رسموں " کو اپنے معاشرہ میں رائج کر چکے ہیں ۔اور اس پر فخر سے عمل کر کہ خود کو سچا ،پکا "عاشق ِ رسولﷺ"و"عاشق ِ امام احمد رضاخاں علیہ الرحمہ "شمار کرواتے ہیں ۔اور مخالفین اسی کا فائدہ اٹھا کر "مسلک اعلٰی حضرت " و "امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ" کو گوں کے سامنے غلط ڈھنگ سے پیش کرتے ہیں ۔اگرہم ان تعلیمات پر عمل کرنا شروع کر دیں تو یقیناً مخالفین کا منہ خود بہ خود بند ہو جائے گا۔اور اکناف ِعالم میں امام احمد رضا خاں کی حقیقی شخصیت "نصف النھارِشمشی "کی طرح ابھر کر جلوہ گر ہوجائے گی۔ 
            مولانا مرغوب حسن قادری اعظمی اپنے مقا لہ"امام احمد رضا ایک مظلوم مصلح "میں تحریر فرماتے ہیں کہ "آج امام احمد رضا مظلوم ،اسلئے مظلوم کہ اس نے اپنے زور قلم سے جن فتنوں کو مسمار کر دیا تھا آئے دن ان کی شر انگیزیاں پھر ابھر رہی ہیں تو کیا ہمارا جذبہ ملی یہی ہے کہ ہم ساحل پر بیٹھ کر اپنے عظیم محسن کے ڈوبتے سفینے کو نذرِ بھنور کر دیں ۔اس کے لئے ضرورت ہے کہ ان کے منتشر پاروں کو یکجا کریں اور دنیا کے سامنے پھر سے اس کی صدائے غیبی کو اک بار پیش کر دیں ۔جس نے اس چودہویں صدی کے ہوش ربا دور میں اپنے عیش وآرام کو بھینٹ چڑھا کر امت کے لئے ایک مشعل ِراہ ایک شمع فروزاں ،ایک شمع ہدایت روشن کر دیا تھا خدا ہمارے دلوں کو اس عظیم محسن کی بارگاہ سے وابستہ رکھے۔
تیری بھیگی ہوئی پلکوں کے نثار
کیا مرا در د جگر یاد آیا

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg