Instagram

Saturday, 28 November 2015

Zuban Shanas Mutarjim Imam Ahmed Raza



زبان شناس مترجم
محمد اسحق رضوی مصباحی القادری
مدرسہ جمال مصطفی ٹانڈہ جدید، بلاس پور، رام پور

            انسان کو اللہ تعالیٰ نے مختلف زبانوں کو ادا کرنے کا سلیقہ اور شعور عطا فرمایا ہے۔ زبانوں کا ارتقا اور تخیل کی صفائی کے حصول کا کیا طریقہ رہا ہے یہ الگ بحث ہے جس کا تعلق دوسرے علوم سے ہے خاص کر علم بشریات سے اور علم تاریخ ارتقا سے تاہم یہ صاف ظاہر ہے کہ ایک زبان کے مفہوم کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کی ضرورت کافی قدیم زمانے سے محسوس ہوتی رہی ہے اور تہذیب کے دور میں ملکی، دینی، سیاسی، ادبی ضرورتوں کے تحت ترجمہ کی حاجت قائم ہوتی ہے اور کافی زمانے سے اس کے ماہرین پیدا ہوتے رہے ہیں۔
            ہر زبان کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے۔ جملہ کی ساخت میں جس میں تقدیم اور تاخیر سے کئی ایک طرح کے مفہوم لیے جاتے ہیں۔ مثلاً آپ اردو میں دیکھیں:
            کام تمام کر دیا           -  اکثر ختم کرنے اور ہلاک کرنے کے معنی میں
            تمام کام کر دیا           -  زیادہ کرنے پر، تعریف کے موقع پر
            میرے اوپر آنکھیں نکالیں    -  غصہ کرنے کے لیے، غیر محدود کر کے
            آنکھیں میرے اوپر نکالیں   -  غصہ کرنے کے لیے، محدود کرنے کے لیے، یعنی صرف
                                             میرے اوپر ناراض ہوا دوسروں پر نہیں
            اسی طرح ہر زبان میں ساخت کا مفہوم پر خاص اثر ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک زبان کے مقابلہ میں دوسری زبان کا لفظ رکھتے وقت بھی بہت سی باریکیاں نظر میں ضروری ہوتی ہیں مثلاً:
            ڈرنا، گھبرانا ، لرزہ براندام ہونا، دل ٹھکانے نہ رہا، ہاتھ پیر پھول گئے ،دھک دھک ہو گئی، خون سوکھ گیا
 یہ سارے الفاظ تقریباً خوف کھانے اور خوف کے مختلف مراحل کے لیے استعمال ہوتے ہیں اسی طرح عربی میں:
            ذُعِرَ، خاف، دھِش، ارتعدت فرائصہ، فزِعَ، إقشعرّجلدہ، ارتعد فرقا، فرِق
 وغیرہ الفاظ خوف کی مختلف حالتوں پر دلالت کرتے ہیں اسی لیے دونوں زبانوں کے مرکبات اور مفردات کے باریک فرق پر نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
            یعنی جن دو زبانوں کے مابین ترجمہ ہو رہا ہے ان کے مفردات، مرکبات، جملوں کی ساخت کے فرق پر بہت پینی نظر ہونا ضروری ہے ،یہ نظر جتنی باریک ہوگی ترجمہ اتنا ہی اچھا ہوگا حتیٰ کہ بعض وقت ترجمہ اصل کتاب سے زیادہ مؤثر ہو جاتا ہے اگرچہ ایسا شرف دنیا کے چند ترجموں کو نصیب ہوا ہے کہ اصل کتاب کو لوگ ترجمہ کے مقابلہ میں بھول گئے جیسا کہ ’’پنج تنتر‘‘کا ترجمہ جو فارسی سے ہوتا ہوا عربی میں پہنچا تھا عربی میں ہارون رشید کے زمانے میں عبداللہ بن المقفع بلیغ عرب کے قلم نے اس کے ترجمہ کو ایسا خلود بخشا کہ ان کا ترجمہ اصل کتاب سے زیادہ مشہور ہوا اور پوری دنیا میں پھر بلیغ عرب کے ترجمہ سے ہی ’’پنج تنتر‘‘ کا ترجمہ ہوا۔
            ترجمے علمی ادبی دونوں طرح کے ہوتے ہیں، اسی طرح دینی کتابوں خاص کر کتاب و سنت کے ترجمہ کی بھی ضرورت پیش آتی ہے۔ قرآن پاک اور حدیث پاک کا ترجمہ صرف عبارت کے اعتبار سے ہی سخت نہیں ہے بلکہ شرعی اعتبار سے بھی بہت مشکل ہے کیوں کہ اس میں یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں اصل معنی کی تحریف نہ ہو جائے کہ پھر سارا کیا دھرا اکارت ہو جاتا ہے اور انسان سخت گنہ گار ہوتا ہے۔
            ہم نے کتاب و سنت کے بہت سے تراجم دیکھے ہیں مگر امام احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قلم سے نکلے ہوئے ترجموں کا الگ انداز ہے، جن میں اصل سے مطابقت اتنے اعلیٰ درجہ میں پائی جاتی ہے کہ اس سے آگے نہایت مشکل معلوم ہوتی ہے، جس کی کچھ تفصیل ہم ان شاء اللہ تعالیٰ آگے صفحات میں کرنے جا رہے ہیں۔
            امام احمد رضا نے اکثر ترجمے عربی سے اردو میں کیے ہیں اور اردو سے عربی میں بھی اور کچھ فارسی کے مابین بھی کیے ہیں۔ یہاں ہم یہ بتا دیں کہ امام احمد رضا جس تاریخ میں ترجمہ کر رہے تھے اس وقت اردو نثر کی کیا حالت تھی اور اس وقت ترجموں میں کس انداز کی زبان استعمال کی جاتی تھی جس سے ظاہر ہوگا کہ امام احمد رضا کے ترجمہ کی زبان کتنی شستہ ترقی کردہ اور مستقبل کے قریب تر زبان تھی۔
            ترجمہ کی زبان جو امام احمد رضا نے استعمال کی ہے اس زبان کا تقابل اور موازنہ اس دور کی عام نثر سے کرتے ہیں تو یہ ترجمہ کی زبان ہوتے ہوئے بھی نہایت ترقی کردہ معلوم ہوتی ہے۔
امام احمد رضا کا دور:
            امام احمد رضا کی پیدائش ۱۴؍ جون ۱۸۵۶ء کو ہوئی اور ۱۸۷۰ء کو آپ نے تعلیم سے فراغت حاصل کی لہٰذا امام احمد رضا کی تحریروں کازمانہ ۱۴؍ شعبان ۱۲۸۶ھ یعنی ۱۸۷۰ء سے شروع ہوتا ہے۔ آپ نے ۱۳۳۰ھ/ ۱۹۱۱ء میں قرآن پاک کا ترجمہ فرمایا جو’’کنزالایمان‘‘ کے نام سے مشہور ہوا… تو اس دور میں اردو نثر کی حالت پر ایک اجمالی نظر ڈالتے ہیں۔
            اردو نثر کی ابتدا چودھویں صدی عیسوی ہی سے ہوتی ہے اور یہ دور اٹھارہویں صدی تک دراز ہے۔ اس دور میں اردو نثر میں فارسی دکنی زبان کا عنصر غالب رہا ہے اس دور کے آخر میں انیسویں صدی کی ابتدا میں نثر میں اصلاح شروع ہوئی اور اس اصلاح کی ضرورت سب سے پہلے انگریزوں کو ہوئی تاکہ عام زبان حاصل کر کے سیدھی سادی زبان میں بات کر سکیں اور اسی لیے کلکتہ کے فورٹ ولیم کالج میں اس سادہ نثر کا اہتمام کیا گیا۔ اس دور کے آخر میں زبان کے دو انداز شروع ہو گئے تھے۔
            (۱)  مسجع اور مقفیٰ عبارت
            (۲)  آزاد اور سادا تحریریں
            مگر آزاد اور سادہ تحریریں بھی ابھی اپنی ساخت میں ابتدائی مراحل میں تھیں۔ انیسویں صدی کے نصف آخر میں جدید نثر کا دور شروع ہوا اور یہ اردو نثر کا دور تھا، اس میں بھی ایک طرف فارسی آمیزش والا اسلوب زیادہ پسند تھا جس کی مثال’’ فسانۂ عجائب‘‘ نام کی کتاب ہے۔
            دوسری طرف آزاد اور نہایت صاف زبان لکھنے کی طرف ایک جماعت نے توجہ کی اس میں سرسید، شبلی نعمانی، ذکاء اللہ، مولوی چراغ علی، نواب محسن الملک، نذیر احمد کی تحریر صاف اور ترقی کردہ سمجھی جاتی ہے اور جدید نثر کا ان لوگوں کو معمار تصور کیا جاتا ہے۔ اس دور کے آخر میں مولانا عبدالحلیم شررؔ اور پنڈت رتن ناتھ سرشار کی تحریر نہایت عام اور سلیس زبان میں تھی۔
            بیسویں صدی کے آغاز میں آخرکار مقفیٰ نثر متروک ہوتی چلی گئی اورآزاد اور صاف نثر لکھی جانے لگی اور اسی کو مقبولیت حاصل ہوئی وجہ اس کی صاف ہے کہ ملکی اخبار اور سیاسی حالات علمی ترجمہ اسی کے ہی متقاضی تھے۔ اس دور میں راشد الخیری، خواجہ حسن نظامی، پریم چند، نیاز فتح پوری، سجاد حیدر، لطیف احمد، قاضی عبدالغفار وغیرہ نثر نویس مشہور ہوئے ہیں۔ اس کی روشنی میں ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ امام احمد رضا کو دوسرا دور مکمل اور تیسرے دور کا ابتدائی اکثر حصہ دیکھنے کو ملا۔
            اس زمانے میں اخبار و صحافت کی ہی زبان زیادہ صاف تھی۔ باقی زبان اتنی صاف نہیں تھی جس کا فرق ہم سرسید کے مضامین ’’تہذیب الاخلاق‘‘ اور ان کی دوسری تصنیف ’’آثار الصنادید‘‘ میں دیکھ سکتے ہیں۔
            اور اس دور کے ترجمہ کی زبان میں نقل لفظ کو ہی ترجیح دی جاتی تھی۔ امام احمد رضا کا خانوادہ ایک علمی خانوادہ تھا اور اردو کے ابتدائی دور کے آخر میں یعنی انیسویں صدی کے نصف اول میں ان کے والد صاحب کی چند تصانیف ہیں جن کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ حضرت مولانا نقی علی خاں نے سرسید اور حالیؔ سے پہلے ہی نہایت سلیس نثر کو اختیار کرلیا تھا۔ اس کا اثر امام احمد رضا کی نثر پر آنا لازم تھا کیوں کہ آپ کی تعلیم اکثر آپ کے والد ماجد حضرت مولانا نقی علی خاں صاحب سے ہوئی تھی۔ مگر امام احمد رضا کی نثر میں ایک عجیب طرح کی لذت ہوتی ہے جو دوسروں کے یہاں نہیں ملتی ہے۔ وہ نثر نہایت صاف اور غموض سے پاک ہوتی ہے۔ فارسی کے الفاظ کو آپ اس انداز سے پیوستہ کرتے ہیں کہ وہ اردو کے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ تقدیم و تاخیر نہایت واضح انداز سے ہوتی ہے کہ جملہ کو دوسری ترکیب میں بدلا ہی نہیں جا سکتا۔ قافیہ اور سجع والی بھی ہوتی ہے مگر وہ طبعی اور فطری ہوتی ہے کہ اس کی جگہ دوسرا لفظ موزوں نہیں ہو سکتا۔
            آپ کی نثر میں علم و ادب ایک ساتھ چلتے ہیں۔ قافیہ اور سجع واضح ترکیب بن جاتے ہیں اور سلاست، وضاحت، اختصار، عظمت، شکوہ اور تناسب اعلیٰ سطح پر موجود ہوتا ہے۔ بات یہاں پر خاص یہ ہے کہ آپ نے تمام خصوصیات کو فتویٰ میں، خط میں، ترجمہ میں غرض ہر تحریر میں محفوظ اور باقی رکھا ہے۔ غرض کہ آپ کی شاعری میں بھی یہ ہی طرز اور سلاست برقرار ہے کہ وہ شعر بھی ہے اور فطری ترکیب پر بھی اس کو نثر کرتے وقت بھی وہی شعری ہیئت برقرار رہے گی۔ شعر میں مَیں نے یہ اندازا صرف ابراہیم خاں ذوقؔ کے یہاں سب سے زیادہ پایا کہ ان کے شعر کی نثری تحلیل شعری ہیئت کو چھوڑتی نہیں، یہ شاعری اور زبان پر عظیم قدرت کی علامت ہے۔ ذوقؔ کے اس شعر کو دیکھیے۔  ؎
احاطے سے فلک کے ہم تو کب کے
نکل جاتے مگر رستہ نہ پایا
اس شعر کی نثری تحلیل بھی اس کے علاوہ نہ ہوگی… اور امام احمد رضاؔ کا یہ شعر    ؎
واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
آپ اس کی نثر اس سے بہتر نہیں لا سکتے۔
            بہر حال امام احمد رضا نے زبان کی آبرو ہر جگہ باقی و برقرار رکھی۔ آپ کثیر المطالعہ اور وسیع النظر عالم تھے اس لیے زبان کے تعلق سے ہر پہلو پر آپ کی نظر رہتی تھی اور علوم کی باریکیوں پر آپ کی نہایت اعلیٰ توجہ رہتی تھی۔ جس کا انداز ہم کو آپ کی تحریروں اور ترجموں سے ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم آپ کو ایک زبان شناس مترجم کہہ سکتے ہیں۔
ترجمہ کی خصوصیت:
            ترجمہ میں اصلی زبان سے مطابقت اور مفہوم کی مکمل ادائیگی اور دونوں زبانوں کی مستعمل ہیئت ہی ترجمہ کو حسن اور عظمت بخشتی ہے۔
            قرآن و سنت کے ترجموں میں شریعت کے تقاضوں، عقائد کے اصول، اسلام کے محکم فیصلوں کی مطابقت اور قائل کی عظمت و عزت اور مرتبۂ تقدس کا لحاظ بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ امام احمد رضا نے قرآن و سنت کے ترجموں میں ان شرائط و قواعد کا ایسا لحاظ رکھا ہے کہ آپ اس میں منفرد ہیں۔ آپ کے ترجمۂ قرآن پاک کے جائزے سے قبل ہم آپ کے سامنے دوسری عبارتوں کے ترجمہ کی چند مثالیں رکھنا چاہتے ہیں۔ رسالہ ختم النبوہ میں آپ نے متعدد احادیث و اقوال ائمہ کا ترجمہ فرمایا ہے۔ صفحہ نمبر ۱۴؍ پر ایک حدیث پاک کا ترجمہ ہم نقل کرتے ہیں یہ ایک طویل حدیث شریف کا خاص حصہ ہے جس میں قیامت کے اندر شفاعت کی طلب کا ذکر ہے کہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ وعلی نبینا السلام کے پاس آئیں گے تو آپ ان سے کہیں گے:  ’’فیاتون عیسٰی فیقولون اشفع لنا إلی ربک فلیقص بیننا فیقول إنی لست ہناکم إنی أُتُّخِذْتُ الٰھا من دون اللّٰہ وإنہ لَا یھمنی الیوم إلی نفسی ولکن ان کل متاع فی وعاء مختوم علیہ أکان یقدر علی مافی جوفہ حتی یفض الخاتم فیقولون لا فیقول إن محمدًا صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فیاتونی فأقول أنا لھا فاذا اراداللّٰہ أن یصدع بین خلقہ نادی مناد أین احمدو امتہ فنحن الاٰخرون الأولون نحن اٰخرالأمم و اول من یحاسب فتفرج لنا الامم عن طریقنا الحدیث ھذا مختصر‘‘
ترجمہ: ’’یعنی جب لوگ اورانبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کے حضور سے مایوس ہوکر پھریں گے تو سیدنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس حاضر ہوکر شفاعت چاہیں گے۔ مسیح فرمائیں گے میں اس منصب کا نہیں مجھے لوگوں نے اللہ کے سوا خدا بنایا تھا مجھے آج اپنی ہی فکر ہے مگر ہے یہ کہ جو چیز کسی سربہ مہر برتن میں رکھی ہو کیا بے مہر اٹھائے اسے پا سکتے ہیںلوگ کہیں گے نہ۔ فرمائیں گے تو محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اور یہاں تشریف فرما ہیں لوگ میرے حضور حاضر ہوکر شفاعت چاہیں گے میں فرمائوں گا میں ہوں شفاعت کے لیے پھر جب اللہ عزوجل اپنی مخلوق میں فیصلہ کرنا چاہے گا ایک منادی پکارے گا کہاں ہیں احمد اور ان کی امت صلی اللہ علیہ وسلم تو ہمیں پچھلے ہیں اور ہمیں اگلے سب امتوں سے پیچھے آئے اور سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگا اور سب امتیں عرصات محشر میں ہمارے لیے راستہ دیں گی۔‘‘
            اس عبارت میں خط کشیدہ الفاظ اور ان کے ترجمہ پر خاص غور کیجیے پھر پوری عبارت کو دیکھیے کہ ترجمہ میں ہر لفظ کے مقابلہ میں لفظ ہے۔ مفردات کے لیے اردو میں مستعمل کلمات لائے گئے ہیں اور ترکیب میں کوئی جھول اور اوچھا پن نہیں ہے۔ یہ عبارتِ ترجمہ اگر نہ ہوتی تو بھی مکمل ادائیگی کرتی معنی کی۔ ترجمہ میں ایسی مطابقت ہے کہ بے کم و کاست اصل زبان کے الفاظ کا ترجمہ بھی ہو گیا، خود اردو زبان کے اسلوب کے اعتبار سے بھی سلاست، روانی، وضاحت، اختصار، جامعیت، درستی مطالب پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ فگن ہے۔
            اسی طرح اس کتاب کے صفحہ نمبر ۵۸؍ پر دارقطنی کی ایک روایت درج ہے جس کا ترجمہ بھی آپ ہی نے فرمایا ہے :  ’’قال قلت لعمر بن علی بن الحسین بن علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم افیکم امامٌ تفترض طاعتہ تعرفون ذلک لہ من لم یعرف ذلک لہ فمات مات میتۃ جاھلیۃ فقال لا واللّٰہ ماذلک فینا من قال ھذا فھو کاذب فقلت انھم یقولون إن ھذہ المترلۃ کانت لعلی ثم للحسن ثم للحسین قال قاتلھم اللّٰہ ویلھم ما ھذا من الدین واللّٰہ ماھؤلاء الامتاء کلین بنا ھذا مختصر۔
ترجمہ:  ’’میں نے امام زین العابدین کے صاحب زادے امام باقر کے بھائی امام عمر بن علی سے پوچھا: آپ میں کوئی ایسا امام ہے جس کی طاعت فرض ہو آپ اس کا یہ حق پہچانتے ہیں ،جو اسے بے پہچانے مر جائے جاہلیت کی موت مرے، فرمایا: خدا کی قسم ہم میں کوئی ایسا نہیں، جو ایسا کہے جھوٹا ہے، میں نے کہا: رافضی تو کہتے ہیں یہ مرتبہ مولیٰ علی کا تھا پھر امام حسن پھر امام حسین کو ملا، فرمایا: اللہ رافضیوں کو قتل کرے خرابی ہو ان کے لیے یہ کیا دین ہے خدا کی قسم یہ لوگ نہیں مگر ہمارا نام لے کر دنیا کمانے والے، والعیاذ باللہ عزوجل۔‘‘
             دیکھیے ہم نے جو خوبیاں ترجمے کی ذکر کی تھیں وہ یہاں پر مکمل صورت میں موجود ہیں۔ اس کتاب میں اور الامن والعلی وغیرہ میں آپ نے کافی ترجمے کیے ہیں جو انشا اور ترجمہ کے بہترین نمونے ہیں کاش کوئی ان کو جمع کر کے کتاب تیار کر دے۔
ترجمہ قرآن پاک:
            آپ نے ترجمہ قرآن پاک میں تو اپنی قابلیت کا کمال ہی دکھایا ہے۔ یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ قرآن پاک کے ترجمہ کو شرعاً تفسیر کے درجہ میں ہی رکھا جاتا ہے۔ کیوں کہ وحی کا بدل اور خوبیاں دوسری زبان میں موجود نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مگر پھر بھی ترجمہ کا کمال یہ ہے کہ اس میں اصل سے مکمل مطابقت پیدا ہو جائے۔
امام احمد رضا کے ترجمہ کی خوبیاں:
            (۱)  اصل عبارت سے مکمل مطابقت
            (۲)  ہر لفظ کے مکمل مترادف کا وجود
            (۳)  اردو زبان کا ترقی کردہ اور مستعمل اسلوب
            (۴)  بلاغت اور بیان اور صرف و نحو کے مسائل کے مطابق معنی کا انتخاب
            (۵)  معتبر تفاسیر کے عربی ترجمہ کا اردو میں نقل
            (۶)  اسلامی عقائد و سیرت اور مسلمات کی رعایت
            (۷)  قرآن کی محکم آیات کی تعلیم کا لحاظ
            (۸)  اللہ تعالیٰ، انبیاے کرام، اولیاے کرام، صالحین کے مرتبہ کے مطابق کلمات کا انتخاب
            (۹)  اسی مختصر عبارت اور ترجمہ میں ذہن میں گردش کرنے والے سوالات کا جواب جو اس
                   کے اسلوب سے ہی معلوم ہو جاتا ہے۔
            (۱۰)  راجح تفسیر اور مقبول تفسیر کا ترجمہ میں لحاظ
            اب ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں، آپ کے ترجمہ قرآن پاک سے جن سے مندرجہ بالا خوبیوں کا آپ اندازا کر سکتے ہیں۔ ان مثالوں میں ان مواقع کو چھوڑ دیا گیا ہے جن کو بارہا ہمارے سابقین لکھ چکے ہیں لہٰذا ان مثالوں کے ساتھ ان کو بھی شامل سمجھنا چاہئے۔
            صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ    ترجمہ: راستہ ان کا جن پر تو نے احسان کیا۔
            آپ نے  اَنْعَمْتَ کا ترجمہ احسان سے کیا ہے اردو میں انعام کیے پر حق بنتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی حق بغیر اس کی رحمت کے نہیں، اس کا جو کچھ انسان پر عطیہ ہے وہ کسی عمل کے حق پر نہیں، لہٰذا احسان ہی ہے اس کی ہر ہر نعمت۔
            یوں تو اکثر محققین نے فرمایا ہے مگر امام احمد رضانے اپنے اس ترجمہ میں متقدمین مفسرین کی راے کو ترجیح دی ہے چناں چہ علامہ بغوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر معالم التنزیل میں انعمت کے ترجمہ میں ارشاد فرمایا ہے۔
            اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ         أیْ مَنَنْتَ علیھم بالھدایۃ والتوفیق
            عربی میں  منۃ  اردو میں اس کو احسان ہی کہا جاتا ہے۔
            وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ وَادْعُوْا شُھَدَآئَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ  (سورۃالبقرۃ، آیت نمبر ۲۳)
            ترجمہ: اوراگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے ان خاص بندے پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آئو اور اللہ کے سوا اپنے سب حمایتیوں کو بلا لو۔
            مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہاں پر عبدنا  میں اضافت تشریف یعنی قربت اور عزت بڑھانے پر دلالت کرنے کے لیے ہے اور امر کا صیغہ  فأتوا  مخاطب کا عجز اور بے بس ہونے کے بیان کے لیے ہے ان دونوںباتوں کی طرف امام احمد رضا نے کیسا لطیف اشارہ فرمایا کہ عربی سے ناواقف اور بلاغت کے قواعد کے ناخواندہ شخص بھی اس راز کو پا لے۔ خاص بندے۔  ترجمہ کر کے اور۔ اس جیسی ایک سورت تو لے آئو۔ اس خاص اسلوب کے ذریعہ اگر اس میں لفظ  ’’تو‘‘ نہ ہوتا تو یہ خوبی ظاہر نہ ہوتی۔
            قَالُوْآ اَ تَجْعَلُ فِیْھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْھَا وَیَسْفِکُ الدِّمَآئَ  (سورۃالبقرۃ، آیت نمبر ۳۰)
            ترجمہ: بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خوں ریزیاں کرے۔
            یہاں پر ’’دم‘‘ خون کی جمع  دماء  کا لفظ لایا گیا ہے ظاہر میں اس کا ترجمہ ہوتا ہے جو خونوں کو بہائے یعنی خون کی جمع خونوں مگر یہ جمع شاید ذوق پر گراں گزرے اس لیے امام احمد رضا فعل  یسفک اور مفعول  دماء  کا ترجمہ تو کیا ہی ساتھ میں اس کے جمع ہونے کا بھی لحاظ کیا اور گراں لفظ سے بھی گریز کر لیا اور فرمایا خوں ریزیاں کرے فعل کا ترجمہ بھی ہو گیا اور خوب صورتی کے ساتھ مفعول کے جمع ہونے کا بھی ذکر ہو گیا۔
            ہم نے بتایا کہ امام احمد رضا اردو ترجمہ میں تفسیر کی ان جہتوں کا انتخاب کرتے ہیں جو عام مسلمان کو کسی الجھن میں نہ ڈالے اور ساتھ ساتھ وہ کسی عظیم مفسر کی راے بھی ہو۔ دیکھیے سورۃ الفتح کی اس مبارک آیت میں  اِنَّافَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا o  لِّیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ  (سورۃ الفتح، آیت نمبر۱۔۲)
            ترجمہ:  بے شک ہم نے تمہارے لیے روشن فتح فرمادی تاکہ اللہ تمہارے سبب سے گناہ بخشے تمہارے اگلوں کے اور تمہارے پچھلوں کے۔
            یہاں پر اکثر مترجمین نے لفظی ترجمہ کر کے اردو زبان کا لفظ گناہ کی نسبت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دی عربی میں  ذنبٌ  کے مراتب ہیں جو منسوب الیہ کے اعتبار سے مراد لیے جاتے ہیں مگر اردو میں گناہ کو مذموم شمار کیا جاتا ہے۔ دوسرے عربی میں مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان کے مضاف کو اکثر حذف کر دیا جاتا ہے جو یہاں ہر ایک تاویل کے طور پر ہو سکتا ہے۔ اس لیے امام احمد رضا نے یہاں پر ایسا ترجمہ فرمایا جس سے آیت کے معنی کے ساتھ اصل مراد واضح ہو گئی کیوں کہ آیت فتح مکہ کی بشارت تھی اس بشارت میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے گناہ گار ہونے کا اعلان کیسے ممکن تھا وہاں پر تو آپ کے صدقہ میں آنے والی برکتوں کے ذکر کا موقع تھا:
            معالم التنزیل میں علامہ بغوی یہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر اگلوں پچھلوں کے گناہوں کی مغفرت آپ کی برکت سے ہوگی یہ مراد ہے۔ عبارت یہ ہے:
            وقال عطاء الخراسانی : ما تقدم من ذنبک یعنی ذنب ابویک آدم و حوّاء ببرکتک ۔ وما تأخر ذنوب امتک بدعوتک
            ترجمہ:  مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ الخ  یعنی اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کا مرتبہ بڑا ہے آپ کی برکت سے آپ کے والدین اولین آدم و حواکا کیا معاف کر دیا گیا اور آپ کی دعوت کی برکت سے آپ کی امت کے گناہ معاف کر دیے گئے۔ ( تفسیر البغوی، ج۴، ص۲۲۳)
            وَھُوَالَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَھُوَاَ ھْوَنُ عَلَیْہِ  (سورۃ الروم، آیت نمبر ۲۷)
            ترجمہ:  اور وہی ہے کہ اول بناتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گا اور یہ تمہاری سمجھ میں اس پر زیادہ آسان ہونا چاہیے۔
            اس تفضیل کے صیغہ میں دو چیزوں کے درمیان فرق بتایا جاتا ہے اور اصل وصف میں دونوں کو مشترک مانا جاتا ہے جیسے  زیدٌ افضل من عمرو  یعنی زید اور عمرو فضیلت میں دونوں مشترک ہیں مگر زید زیادہ فضیلت والا ہے بہ نسبت عمرو کے۔
            یہاں اگر ہم ظاہری عبارت کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آخرت اور دنیا کے پیدا کرنے پر باری تعالیٰ قادر ہے، مگر پیدا کرنے سے لوٹانا آسان ہے جس کا مفہوم یہ ہوگا کہ پہلے پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے مشکل تھا یعنی دنیا بنانا مشکل تھا اور لوٹانا آسان ہے ظاہر ہے کہ اس وقت واجب تعالیٰ کے حق میں آسان اور مشکل کا اطلاق اس کی قدرت تامہ کاملہ کے خلاف ہے۔ اس پر دنیا بنانا اور لوٹانا دونوں ممکن واقع ہیں نہ کہ مشکل۔ تو بات یہ ہے کہ اس میں آسان اور مشکل کا تعلق اس کی قدرت سے نہیں بلکہ مخاطب کی فہم سے ہے یعنی تمہارے لیے یہ سمجھنا آسان ہے کہ جب اس نے دنیا بنا دی تو دوبارہ بھی بنا سکتا ہے قیامت قائم کر کے۔
            اس باریک بات کی طرف امام احمد رضا نے ترجمہ میں اشارہ کر دیا اور آیت کی مراد قاری پر مکمل واضح ہو گئی اور مخاطب کے ذہن میں کوئی بھی تردد باقی نہ رہا۔
            آپ نے دیکھا ان چند مثالوں کو، ان سے یقین ہونا چاہیے کہ امام احمد رضا نے اپنے ترجمہ میں قدیم مفسرین کی آرا، حدیث و کتاب اللہ کے ارشادات کا مکمل لحاظ اور زبان و بیان و بلاغت و فصاحت کا ہر اعتبار سے التزام کیا ہے۔ اور قرآن پاک کے مفہوم و مراد کی طرف بالکل سیدھا سچا راستہ دکھایا ہے اور حق یہ ہے کہ اہل علم کے لیے بھی اور عام لوگوں کے لیے بھی کنزالایمان سے بہتر ترجمہ موجود نہیں۔ اب ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیں۔
            قَالَ اَرَئَ یْتَ اِذْاَ وَیْنَآ اِلَی الصَّخْرَۃِ  (سورۃ الکہف، آیت نمبر۶۳)
            ترجمہ:  بولا بھلا دیکھیے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی ۔
            علماے بلاغت نے فرمایا ہے کہ:
            أرأیت۔ الـرؤیۃ ھنا مستـعارۃ للمعرفۃ التامّۃ والمشاہدۃ الکاملۃ وھی استعارۃ تصریحیۃٌ تبعیۃ لأنھا أجریت فی الفعل وقد حُذِف المشبہ وأقیمَ المشبہ بہ مقامہ والاستفہام فی أرأیت للتعجب۔  (اعراب القرآن للدرویش، ج۴، ص۵۱۷)
            رویت سے مراد یہاں پر مکمل معرفت اور اعلیٰ درجہ کا مشاہدہ ہے اور ازروے بلاغت یہ استعارہ تصریحیہ تبعیہ ہے کہ فعل میں مستعمل ہے تو مشبہ کو حذف کیا گیا ہے اور مشبہ بہ قائم مقام ہے اور مذکور ہے اور استفہام تعجب کے لیے ہے۔
            اب پلٹ کر امام احمد رضا کے ترجمہ کو دیکھیے۔ تعجب اور مشاہدہ کی طرف کیسا لطیف اسلوب اختیار کیا ہے۔ بھلا دیکھیے تو، لفظ ’’بھلا ۔ دیکھیے۔ تو‘‘  ان تینوں کلموں کے اتصال نے مکمل بلاغت اردو میں اتار دی اسے کہتے ہیں زبان شناسی۔ تو ہم پھر یہ کہیں گے کنزالایمان جیسا ترجمہ اب موجود نہیں۔
            ہاں ان لوگوں کو ضرور یہ ترجمہ گراں گزرے گا جنھوں نے انبیاے کرام اور اولیاے عظام اور صحابۂ کرام کی عظمتوں کو تار تار کرنے کی قسم کھا رکھی ہے اور جنھوں نے اپنی خواہش سے دین بنایا ہے جو اپنی عقل کی کج رویوں سے ہٹنے کا سوچتے ہی نہیں۔ جنھوں نے بزرگوں کی تعلیم و تفسیر و تحقیق کو رد کرنے کا شیوہ بنا لیا ہے۔  ومن یضلل اللّٰہ فمالہ من ھادٍ  خدا ے تعالیٰ جس کے نصیب گم راہی کر دے تو اسے کون راستہ دکھائے۔
            والحمدللّٰہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سیدنا محمد وعلی آل سیدنا محمد واصحابہ اجمعین ۔ اٰمین

٭٭٭

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg