Instagram

Thursday, 10 March 2016

Huzoor Hafiz E Millat

عرس حافظ ملت حضرت مولانا الحاج حافظ عبدالعزیز مبا ر ک پو ر ی علیہ الرحمہ ۔10.11.مارچ۔2016

اسم گرامی عبدالعزیز بن حافظ غلام نور بن ملا عبدالرحیم، وقت ولادت پاس پڑوس کی بڑی بوڑھیوں نے ’’پیرا‘‘ کہا، دنیائے اسلامیان ہند میں استاذ العلماء جلالتہ العلم اور حافظ ملت کے لقب سے یاد فرمائے جاتے ہیں۔

سن ولادت

آپ کا سال پیدائش 1314ھ ہے۔ اسی سن کی کسی دوشنبہ کو قصبہ بھوج پور ضلع مراد آباد میں پیدا ہوئے۔ محلے کی عورتوں نے دو شنبہ کی مناسبت اور حسب عادت کہا کہ پیرا آیا ہے۔ دادا مرحوم نے فرمایا کہ نہیں اس کا نام عبدالعزیز ہے۔ دلی میں حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نام کے ایک بہت بڑے مولانا گزرے ہیں۔ انہی کے نام سے اس کا نام رکھتا ہوں۔ ان شاء اﷲ یہ میرا پوتا بھی بلند پایہ عالم دین ہوگا۔
تعلیم و تربیت

حضور حافظ ملت کے آباو اجداد کا تعلق انصار برادری سے ہے۔ معاشی حالت اگرچہ ہمیشہ کمزور رہی لیکن شرافت نجابت میں قصبہ بھوج پور میں یہ گھرانہ مشہور تھا۔ گھر کا ماحول اسلامی قوانین و ضوابط میں جکڑا ہوا تھا۔ والد ماجد اور جد کریم انتہائی مذہبی اور دینی مزاج رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی ابتدائی تعلیم ناظرہ قرآن سے شروع ہوئی۔ چنانچہ آپ نے ناظرہ، و حفظ قرآن کی تکمیل والد ماجد سے فرمائی، پرائمری درجات کی تعلیم۔ وطن عزیز بھوج پور میں ہوئی۔ فارسی کی ابتدائی تعلیم مولوی عبدالمجید صاحب مراد آباد سے اور پیپل سانہ میں حافظ نور بخش صاحب اور حکیم مولوی مبارک اﷲ صاحب سے گلستان تک تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد تعلیمی سلسلہ منقطع رہا۔ اس وقت قصبہ بھج پور کی بڑی مسجد کے خطیب و مدرسہ حفظ القرآن کے مدرس مقرر ہوگئے۔ شب وروز یونہی گزرتے رہے۔ ماہ رمضان المبارک میں ہر سال شبینہ خوانی کے لئے شہر مراد آباد لوگوں کی دعوت پر تشریف لے جاتے۔ آپ کی صحت اور زود خوانی کا چرچا جلد ہی پورے شہر میں ہوگیا۔ عالم یہ تھا کہ پورا قرآن شریف تنہا محراب شریف میں سنا کر اٹھتے اور ذرہ برابر تھکان محسوس نہیں کرتے۔

پانچ سال تک یہی سلسلہ رہا۔ تعلیمی سلسلہ منقطع، گھریلو ذمہ داریوں اور کاموں کا بوجھ پھر عمر کا کافی حصہ بھی گزر چکا تھا۔ تعلیم و تعلم کا کسے خیال ہوتا؟ مگر جد کریم کی پیشن گوئی بہرحال پوری ہونی تھی۔ شہر مراد آباد کے طبیب حاذق جناب مولوی حکیم محمد شریف صاحب حیدرآبادی تلمیذ رشید حضرت مولانا عبدالحق خیر آبادی گاہے بگاہے بسلسلہ علاج و معالجہ بھوج پور تشریف لایا کرتے تھے اور نماز کا وقت ہوتا تو حافظ ملت کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے۔ ایک دن فرمانے لگے۔ حافظ صاحب آپ قرآن بہت عمدہ پڑھتے ہیں اور بڑی محبت سے، فرمایا آپ طب بھی پڑھ لیجئے۔ میں آپ کو حکمت پڑھاؤں گا۔ حافظ ملت نے فرمایا۔ میں غریب آدمی مسجد کی امامت اور مدرسہ کی تدریس میرا ذریعہ معاش، روزانہ آمدورفت میرے لئے ممکن نہیں۔ حکیم صاحب نے فرمایا۔ آپ بذریعہ ٹرین مراد آباد آجائیں اور سبق پڑھ کر ٹرین ہی سے بھوج پور چلے جائیں۔ کرایہ میں جو صرف ہوگا وہ میں خود برداشت کروں گا۔ آپ نے والد صاحب سے عرض کیا۔ انہوں نے اجازت دے دی اور فرمایا روز کا آنا جانا مناسب نہیں۔ مراد آباد رہ کر ہی پڑھو۔ الغرض! ملازمت ترک فرما کر آپ حکیم صاحب کے پاس تشریف لے گئے۔ انہوں نے گلستان کا امتحان لے کر فرمایا آپ کا دماغ عربی کے لائق ہے اور میزان و منشعب وغیرہ شروع کرایا۔ وہ سب بھی دو ماہ کے اندر اندر ختم ہوگئیں۔
نہ جانے حکیم صاحب کو کیا سمجھ میں آیا کہ اس کے بعد خود پڑھانا چھوڑ دیا اور کہا کہ اب مجھے مطالعہ کرنا پڑے گا اور میرے پاس وقت نہیں ہے۔ اس لئے اب آپ مدرسہ جایئے، چنانچہ حافظ ملت نے جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخلہ لے لیا۔ تین سال تک تعلیم حاصل کرتے رہے مگر شرح جامی سے آگے نہ بڑھ سکے۔ علم کی پیاس جو شدت اختیار کرچکی تھی۔ وہ بھی کلی طور پر نہ بجھ پارہی تھی۔ تعلیم حسب منشاء نہ ہونے کی وجہ سے کسی اچھے مدرسے اور کسی مشفق مدرس کی تلاش شروع کردی۔

حسن اتفاق سے آل انڈیا سنی کانفرنس کا انعقاد مراد آباد میں ہونا طے پایا۔ اس میں مشاہیر علماء کا اجتماع ہوا۔ غوروفکر کے بعد رجحان قلب حضرت صدر الشریعہ مولانا امجد علی صاحب اعظمی کی طرف ہوا۔ درخواست پیش کی تو فرمایا۔ شوال سے اجمیر شریف آجائو۔ مدرسہ معینیہ میں داخلہ لے کر تعلیمی سلسلہ شروع کرادوں گا۔

حسب ہدایت حضور حافظ ملت، حضرت محدث اعظم مولانا سردار احمد صاحب اور مولانا غلام جیلانی صاحب میرٹھی وغیرہم اجمیر شریف 1342ھ میں پہنچے۔ اگرچہ آپ سب بھی حضرات اس وقت معیاری طالب علم نہ تھے مگر حسب وعدہ صدر الشریعہ نے داخلہ فرمالیا۔ درسی کتابیں دیگر مدرسین پر تقسیم ہوگئیں۔ حضرت صدر الشریعہ نے ازراہ شفقت خارجی اوقات میں تہذیب اور اصول الشاسی کا درس دینا شروع کیا۔ ملاحسن تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد حافظ ملت نے معاشی تنگی اور خانگی مصروفیت کا تذکرہ کرکے تعلیمی سلسلہ ختم کردیا اور دورہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حضرت صدر الشریعہ نے بگڑ کر فرمایا ’’اگر زمین پھٹ جائے اور آسمان ٹوٹ پڑے یہ تو ممکن ہے مگر آپ کی ایک کتاب چھوٹے یہ ممکن نہیں‘‘ چنانچہ حافظ ملت نے اپنا ارادہ ملتوی فرمادیا اور پوری دلجمعی کے ساتھ حضرت کی خدمت میں رہے۔ 1350ھ میں تعلیمی سلسلہ دورہ حدیث کے بعد ختم ہوا۔ اجمیر شریف میں مدرسہ معینیہ سے سند فراغت حاصل کی۔
مشاغل

فراغت کے بعد ایک سال تک بریلی میں حضرت کی خدمت میں رہے۔ شعبان 1352ء میں حضرت مولانا صدر الافاضل مولانا محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ الرحمہ نے جامع مسجد آگرہ میں مولانا نثار احمد صاحب کانپوری کے وصال کے بعد متعین کرنا چاہا تو آپ نے انکار فرمادیا اور عرض کیا کہ میں ملازمت نہیں کروں گا۔ حافظ ملت کا خیال تھا کہ تجارت کریں گے اور حتی الوسع دینی خدمات فی سبیل اﷲ انجام دیں گے۔ لیکن اسی سال ماہ شوال کے آخر میں حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے آپ کو بریلی شریف بلوالیا اور مبارک پور مدرسہ اشرفیہ میں درس تدریس کے سلسلے میں ارشاد فرمالیا۔ میں ہمیشہ باہر رہا اس کے باعث میرا ضلع خراب ہوگیا۔ بدمذبیت اور گمراہیت نے پورے ضلع پر قبضہ جمارکھا ہی۔ اس لئے دین کے لئے میں آپ کو مبارک پور بھیج رہا ہوں، جایئے اور کام کیجئے۔ آپ نے عرض کیا۔ حضرت میں ملازمت نہیں کروں گا۔ اس پر صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے فرمایا… میں نے ملازمت کے لئے نہیں کہا بلکہ خدمت دین کے لئے کہا ہے۔ اس پر آپ خاموش رہے۔ پھر فرمایا یہ مت دیکھنا کہ کیا مل رہا ہے۔
مبارک پور

جب مبارک پور آتے وقت حضرت صدر الشریعہ سے ملاقات کی غرض سے حاضر ہوئے تو ارشاد فرمایا۔ حافظ ملت صاحب میں آپ کو اکھاڑے میں بھیج رہا ہوں۔ آپ نے عرض کیا تو حضور دائو پیچ بھی سکھلا دیجئے۔ فرمایا… جائو خدا حافظ ہے۔

الغرض آپ مبارک پور 29 شوال 1352ھ کو تشریف لائے اور تدریسی خدمات میں مصروف ہوگئے۔ یہ عجیب اتفاق ہے حضور حافظ ملت صرف دو ماہ اطمینان و سکون کے ساتھ تعلیم دے سکی۔ اس کے بعد پوری زندگی اضطراب و بے چینی کی نذر ہوگئی۔ کبھی غیروں سے نبرد آزمائی، کبھی دارالعلوم اشرفیہ کی تعمیر جدید، کبھی خانگی مسائل، کبھی ملکی حالات، کبھی جماعتی سرگرمیاں اور کبھی الجامعۃ الاشرفیہ کے مسائل، اس طرح پوری زندگی انہیں سب ہماہمی میں گزری۔

الغرض مابرک پور تشریف لانے کے بعد محرم الحرام تک تدریسی خدمات کا سلسلہ یکسوئی کے ساتھ جاری رہا۔ 1353ھ محرم الحرام کے موقع پر جامع مسجد راجہ شاہ مبارک میں سید الشہداء امام عالی مقام کی سیرت و شہادت پر تقریر فرمائی۔ جس سے اہل مبارک پور بے حد متاثر ہوئے۔ بہت سے لوگ بعد تقریر ساتھ مدرسہ تک آئے اور بہت سے لوگ جو جماعتی گروہ بندیوں سے الگ تھلگ رہنا چاہتے تھے۔ حلقہ بگوش ہونے لگے۔ خود حاجی محمد عمر صاحب مرحوم ناظم اعلیٰ دارالعلوم اشرفیہ غیروں میں ہی اٹھا بیٹھا کرتے تھے۔ اتنا متاثر ہوئے کہ اپنے مکان پر ایک جلسہ کرایا جس میں حضور حافظ ملت کی تقریر کروائی۔ مخالفین نے جب اپنا جادو لوگوں پر سے اترتا دیکھا تو بوکھلا گئے۔ اس جلسے کے خلاف دوسرا جلسہ کیا اور حافظ ملت کے خلاف خوب زہر افشانی کی۔ محرم میں سبیل بنانے کو حرام قرار دیا۔ ان وجوہ کی بناء پر سنیوں نے حافظ ملت سے ان کی تردید میں جلسہ کے لئے کہا۔ حضرت نے فرمایا! ان باتوں کو چھوڑو، انہیں اعتراض کرکے خوش ہونے دو۔ میں صرف تدریس کے لئے آیا ہوں۔ جھگڑے میں نہ ڈالو لیکن لوگ بضد ہوگئے۔ جلسہ ہوا۔ آپ نے جوابی تقریر کا جواب دیا۔ سب ہی اعتراضات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں باطل قرار دیا اور ان کے انودھے علم کلام کی تغلیظ ظاہر و باہر کردی۔ اس جلسہ کا جواب بھی مخالفین نے دیا۔

اور یہ سلسلہ سوال و جواب شروع ہوگیا۔ ایک دن مخالفین کی اور ایک دن سنیوں کی تقریر ہونے لگی۔
اس درمیان حافظ ملت کا معمول یہ تھا کہ صبح نماز فجر کے بعد سے بارہ بجے دوپہر تک تدریسی سلسلہ جاری رکھتے۔ کھانے کے بعد ظہر تک مخالفین کی تقریروں کے نوٹس تیار کرتے۔ اس طرح کل 13 کتابیں تھیں۔ جن کا درس دیتے بعد عصر تفریح اور رات کے جلسے کی تیاری۔ رات میں نو بجے تک مطالعہ کتب اور نو کے بعد جلسے میں شرکت ایک بجے تک، بعد جلسہ ایک بھیڑ ساتھ چلی آتی اور دو ڈھائی بجے رات تک تبصرہ ہوتا رہتا جس دن مخالفین کا جلسہ ہوتا۔ اس دن بھی سونے نہ پاتے کہ رپورٹ حاصل کرنا ضروری ہوتا۔ یہ سلسلہ ختم ہوگیا آخر چار ماہ بعد مخالفین خاموش ہوگئے اس کے بعد ہوا۔

ناگپور میں

مبارک پور کے دوران قیام کئی بار ایسا بھی اتفاق ہواکہ حضور حافظ ملت فاقہ سے بھی رہے مگر آپ نے کسی سے تذکرہ نہیں کیا بلکہ صبروشکر کے ساتھ جمے رہے۔ دارالعلوم ابتداً بہت زیادہ بحرانی دور کا بھی شکار رہا چونکہ آمدنی کم اور خرچ زیادہ اس لئے مدرسین کو اکثر وبیشتر تنخواہیں لیٹ ملا کرتیں۔ حضرت ہر مصیبت برداشت کرتے مگر حرف شکایت زباں پر نہ لائے اور شکایت بھی کیسے کرتے، جبکہ استاذ مکرم نے خدمت دین کے لئے بھیجا تھا۔ ایک مرتبہ حافظ ملت کی تنگ دستی کی اطلاع حاجی محمد انور صاحب مرحوم بھٹہ والے محلہ پرانی بستی کو جانے کس طرح ملی۔ انہوں نے پندرہ روپے حضرت کو دینا چاہے۔ حضرت انکار فرماتے رہے مگر جب حاجی صاحب موصوف نے بہت زیادہ مجبور کیا تو قرض حسنہ کے طور پر لے لیا اور تخواہ ملنے کے بعد واپس کردیا۔

ایک دفعہ درد گردہ کی شکایت بھی حافظ ملت کو ہوئی، جیسے تیسے انتظام کرکے بناس بغرض علاج تشریف لے گئے۔ جبکہ کئی مہینے کی آپ کی تنخواہ دارالعلوم کے ذمہ باقی تھی۔ حافظ عبدالحلیم صاحب محلہ پور خواجہ کو معلوم ہوا تو چند آدمیوں کے ساتھ صدر دارالعلوم شیخ محمد امین صاحب انصاری مرحوم کے پاس حساب فہمی کے لئے پہنچ گئے اور صدر صاحب مذکور سے کافی بحث و تکرار کی اور یہ سلسلہ اتنا دراز ہوا کہ سرپرست مدرسہ حضور محدث اعظم ہند کچھوچھوی کو تشریف لاکر صدر صاحب موصوف کے اختیارات میں کچھ کمی اور ردوبدل کرنا پڑا۔ اس حادثہ سے صدر صاحب موصوف کو گمان ہوا کہ حافظ ملت کی شہ پر حافظ عبدالحلیم صاحب نے یہ اقدام کیا ہے۔ علاوہ ازیں اور بھی کچھ اسباب تھے جن کی بناء پر امین صاحب کشیدہ رہنے لگے۔
اس ماحول کو حافظ ملت نے مدنظر رکھتے ہوئے استاذ محترم صدر الشریعہ کو پوری تفصیل لکھی اور عرض کیا کہ حضور نے جس مقصد کے تحت مجھے مبارک پور بھیجا ہے وہ فوت ہورہا ہے۔ ایسی صورت میں یہاں سے چلے جانے کی اجازت مرحمت فرمادی جائے اور حافظ ملت نے شعبانکی چھٹی میں گھر جاکر استعفی لکھ کر بھیج دیا اور وہیں سے شوال 1361ھ میں بعہدہ صدر مدرس جامعہ عربیہ ناگپور تشریف لے گئے اور ایک سال تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔

دوبارہ مبارک پور میں

حضور حافظ ملت کا اشرفیہ سے چلے جانے کا اثر یہ ہوا کہ ایک سال کے اندر ہی دارالعلوم کی تعلیمی حالت دگرگوں ہونے لگی۔ اس لئے کہ حضور حافظ ملت کو مالیات کی فراہمی اور تعلیمی امور میں بڑا تجربہ اور مہارت حاصل تھی اور لوگوں کو حضور حافظ ملت کی کمی شدت کے سداتھ محسوس ہوئی چنانچہ ایک سال کے اندر ہی اندر آپ کو مبارک پور لانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ انتھک جدوجہد کے بعد حضرت صدر الشریعہ اور حضور محدث اعظم ہند علیہ الرحمہ کو مبارکپور بلوالیا۔ ایک جلسہ کا انعقاد کیا جس میں حافظ ملت کو بھی مدعو کیا گیا۔ تینوں حضرات مبارکپور تشریف لائے۔ لوگوں نے حافظ ملت سے گزارش کی اور صدر صاحب و محدث اعظم ہند سے دبائو ڈلوایا کہ مبارکپور میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ آپ صدرصاحب اور محدث اعظم ہند کے اصرار و حکم پر خاموش ہوگئے اور دوبارہ 1362ھ میں ناگپور سے استعفی دے کر مبارکپور تشریف لائے۔ اس وقت سے تادم حیات دارالعلوم اشرفیہ سے وابستہ رہ کر تدریسی و دینی خدمات کی انجام دہی میں مشغول رہے۔ بلکہ یہیں مبارکپور کو اپنا روحانی فیض اور جسد خاکی بھی سپرد کردیا۔
سفر حجاز

حضور حافظ ملت کی ایک مدت سے خواہش تھی کہ زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوں مگر فوٹو کا مسئلہ حائل تھا اس سلسلے میں آپ کا خیال یہ تھا کہ کسی فرض واجب یا سنت کی ادائیگی کے لئے کسی حرام کام کرنے کے بعد ادا کرنا ٹھیک نہیں، حج فریضہ الٰہی ہے اور فوٹو کھنچوانا شرعا حرام اور بغیر فوٹو کے گورنمنٹ پاسپورٹ ایشو نہیں کرتی۔ اس لئے اس مجبوری کے تحت حج جیسے فریضہ سے ایک مدت تک اس انتظار میں محروم رہے کہ دیکھئے بارگاہ نبوی حاضری کا پروانہ کب ملتا ہے۔ وقت گزرتا رہا۔ آخر 1967ء کا مبارک سال آیا اور احباب اور متعلقین نے بغیر فوٹو کے حج کی منظوری کی جدوجہد شروع کی۔ مدینۃ النبی سے پروانہ حاضری ہوچکا تھا۔ اس لئے سعودی عرب اور حکومت ہند دونوں نے منظوری دے دی۔ مبارکپور سے عقیدت مندوں نے نعرہ تکبیر و رسالت کی گونج میں آپ کو زیارت حرمین کے لئے روانہ کیا۔ پچاس ہزار افراد شریک ہوئے۔ بمبئی سے 16 مارچ 1967ء کو جدہ پہنچے۔ جہاز کے افسران نے آپ کو نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ رکھا۔ آپ راستہ بھر تقریر اور مسائل کے استفسارات کا جواب دیتے رہے اور لوگوں کو مطمئن کرتے رہے۔ مکہ مکرمہ کی حاضری کے دوران علماء و مشائخ نے آپ کی بے حد تعظیم و تکریم کی۔ ہندوستانی سفارت خانہ برائے سعودیہ عربیہ کے مختلف پروگراموں میں دعوت ملی اور آپ نے شرکت فرمائی تقریریں کیں۔ علماء و مشائخ نے احادیث کریمہ کی اسناد بھی لیں۔ حضور حافظ ملت نے فریضہ و ارکان حج کی ادائیگی کے بعد چھ عمرے بھی ادا فرمائے۔ اس کے بعد مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ بارگاہ نبوی میں حاضری دی اور گیارہ دن تک مدینہ منورہ میں حاضری کا شرف حاصل رہا۔ بارہویں دن واپس جدہ آئے اور 16 اپریل 1967ء کو ہندوستان کے لئے واپس ہوئے۔
بیعت و ارادت

آپ کو شرف بیعت اعلیٰ حضرت مولانا شاہ سید علی حسین صاحب اشرفی میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ سے حاصل ہے۔ انہوں نے مرید کرکے خلافت سے نوازا۔ حضرت کے استاذ محترم حضڑت صدر الشریعہ مولانا امجد علی صاحب علیہ الرحمہ و الرضوان سے بھی آپ کو خلافت و اجازت حاصل ہے۔ حضور حافظ ملت سے سلسلہ امجدیہ کی توسیع و اشاعت سلسلہ اشرفیہ کی بہ نسبت زیادہ ہوئی ہے۔

علالت

حضور حافظ ملت وصال سے دس ماہ پیشتر سے بیمار چل رہے تھے۔ ڈاکٹروں نے آرام کے لئے سخت تاکید کردی۔ مگر آپ الجامعۃ الاشرفیہ کی دھن میں مگن رہے۔ رمضان شریف میں مکان تشریف لے گئے۔ اگرچہ بیمار تھے مگر حسب معمول روزہ رکھتے رہے۔ ایک روزہ بھی ترک نہ فرمایا۔ حسب سابق اپنی مسجد میں تراویح میں ختم قرآن بھی فرمایا جس کے نتیجے میں آپ کی حالت ان امور کی انجام دہی کی وجہ سے غشی طاری ہوگئی مگر واہ رے قوت ارادی ہر کام اپنے وقت پر انجام دیتے رہے۔

بعد رمضان 1395ھ اہل خانہ کی مرضی کے بغیر مبارک پور تشریف لائے حالانکہ آپ کی حالت کو دیکھتے ہوئے سبھی نے آرام کا مشورہ دیا مگر آپ نہ مانے۔ آپ کی حالت کو دیکھتے ہوئے راقم الحروف اور حافظ عبیداﷲ خان صاحب اعظمی سیکریٹری آل انڈیا سنی لیگ بمبئی میں بھی حاضر بارگاہ ہوئی اور لگ بھگ ایک گھنٹے تک مختلف انداز میں آرام کے لئے عرض کرتے رہے۔ ہم لوگوں کی تمام باتوں کو سننے کے بعد ارشاد فرمایا ’’مولانا اونچ نیچ عقل والے اور ہوش حواس رکھنے والے کو سمجھایا جاتا ہے اور میں جامعۃ الاشرفیہ کے لئے عقل اور ہوش و حواس کی دنیا سے نکل کر جنون کی سرحد میں داخل ہوچکا ہوں۔ اس لئے مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ اس درمیان موتیا بند ہوگیا تھا۔ بہرائچ شریف میں آپریشن ہوا۔ کچھ آرام ہوا تھا کہ پھر سفر شروع فرمادیا اور آپریشن شدہ آنکھ کی پتلی پر خون جم گیا جس کی وجہ سے دوبارہ آپریشن کرانا پڑا۔ بہرکیف آپ اپنے کام میں مصروف رہے۔ دوا علاج ہوتا رہا اور وقت گزرتا رہا، یہاں تک کہ مئی کا مہینہ شروع ہوگیا۔
وصال

آہ! کون جانتا ہے کہ مئی کا مہینہ دنیائے سنیت کے لئے رنج والم کا سامان لئے آرہا ہے۔ کسے معلوم تھا کہ اس ماہ میں دین کا ایک ستون گر جائے گا۔ کون جانتا تھا کہ ایک عاشق رسول اپنی جان جان آفریں کے سپرد کرکے کروڑوں کو روتا بلکتا چھوڑ جائے گا۔ کسے پتہ تھا کہ اتنی جلد کروڑوں کے مرکز عقیدت تک موت کے بے رحم ہاتھ پہنچ جائیں گے۔ کس کو گمان تھا کہ ایک مرد مجاہد اور بطل عظیم کا پروانہ اجل بھیجا جاچکا ہے۔ آہ! کسے معلوم تھا کہ 31 مئی 1976ء کا سورج نہیں غروب ہورہا بلکہ کروڑوں اشخاص کا دل بحرنامراد میں غرقاب ہورہا ہے۔ چار بجے شام کو دیکھنے والوں کو یہ امید ہوچلی تھی کہ اب حضرت جلد ہی صحت یاب ہوجائیں گے بلکہ دس بجے رات کا سکون حافظ ملت کی شیدائیوں کے خوش آئند مستقبل کا ضمانت بن رہا تھا۔ لیکن مئی کا مہینہ گزر کر جون میں داخل ہونے والا تھا کہ خلاف امید حضور حافظ ملت 31 مئی رات گیارہ بج کر پچاس منٹ پر وصال فرماگئے۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون

3 جون 1976ء کی صبح کو تجہیز و تکفین اور تدفین کی منزلوں سے گزرے گئے۔ آپ کا مزار مقدس الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور عزیزالمساجد کے اتری جانب ہے۔