Instagram

Monday, 13 March 2017

Na Aasman Ko Yoon Sar Kasheeda Hona Tha


نہ آسمان کو یوں سرکشیدہ ہونا تھا
حضورِ خاکِ مدینہ خمیدہ ہونا تھا

سرکشیدہ: سربلند،  مغرور
حضور: سامنے
خمیدہ: ٹیڑھا،  جھکا ہوا

جب آخر کار آسمان کو خاکِ مدینہ کے سامنے جھکنا ہی تھا تو پہلے ہی سر اٹھا کر غرور نہ کرتا،  شبِ معراج سرکارِ مدینہ صلی الله عليه وآلہ وسلم کی نعلین پاک کے ساتھ خاکِ مدینہ ہی لگی ہوئی تھی جو آسمان کے سر پر لگی اور آسمان نے جھک کر خاکِ مدینہ کی فضیلت کا اقرار کِیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر گلوں کو خزاں نارسیدہ ہونا تھا
کنارِ خارِ مدینہ دمیدہ ہونا تھا

نارسیدہ: نہ پہنچی ہوئی
کنار: گود،  بغل
خار: کانٹا
دمیدہ: اُگا ہوا

اے پھول اگر تجھے خزاں کا اتنا ہی دھڑکا لگا رہتا ہے تو تجھے چاہیے تھا کہ خاک مدینہ میں اگتا تاکہ ہمیشہ تروتازہ رہتا اور کبھی خزاں کا شکار نہ ہوتا اور پھر وہاں کے کانٹوں کا مقابلہ دنیا کے اچھے سے اچھا پھول بھی نہیں کر سکتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حضور اُن کے خلافِ ادب تھی بیتابی
میری امید!  تجھے آرمیدہ ہونا تھا

حضور: سامنے
بیتابی: بے صبری
آرمیدہ: آرام سے،  سکون سے

اُن کے حضور میں پہنچ کر بےصبری بے ادبی کے مترادف تھی،  اے میری امید تجھے آرام و اطمینان سے رہنا چاہیے تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظارہ خاکِ مدینہ کا اور تیری آنکھ
نہ اس قدر بھی قمر شوخ دیدہ ہونا تھا

اے آسمان کے چاند تجھے اتنا بےباک نہیں ہونا چاہیئے تھا کہ تو مدینہ منورہ کی خاکِ پاک کا دیدار کرے اور آنکھ بھی نہ جھپکائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کنارِ خاکِ مدینہ میں راحتیں ملتیں
دلِ حزیں تجھے اشک چکیدہ ہونا تھا

دلِ حزیں: پریشان دل
اشک چکیدہ: ٹپکا ہوا آنسو

اے پریشان دل!  رونا تو تیری قسمت میں لکھا تھا ورنہ خاکِ مدینہ کی برکت سے تو بڑے بڑے پریشان حالوں کو آرام و چین مل جاتا ہے۔
دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اے دلِ مضطر کاش تو دل نہ ہوتا بلکہ آنکھ سے ٹپکا ہوا ایک آنسو ہوتا اور مدینہ کی خاک کی نذر ہو جاتا تاکہ تجھے آرام آ جاتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
پناہِ دامنِ دشتِ حرم میں چین آتا
نہ صبر دل کو غزالِ رمیدہ ہونا تھا

پناہ: ٹھکانہ
دشت: جنگل
حرم: عزت والی جگہ مراد مدینہ منورہ
غزال: ہرن
رمیدہ: بھاگا ہوا

مدینہ شریف کے جنگل کی پناہگاہ میں دل کو سکون ملتا ہے کاش وہ جنگل ہو اور میں ہوں پھر دل کو اس طرح ہرن کی سی بے قراری نہ ہوتی۔

یا اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے،
دل کو صبر نہیں ہے اسکو تو بھاگا ہُوا ہرن ہونا تھا،، اگر صبر ہوتا تو مدینہ شریف کے جنگل کی پناہگاہ میں دل کو سکون مل جاتا؎
دل کہاں لے چلا حرم سے مجھے
ارے تیرا برا، خدا نہ کرے
ضعف مانا! مگر یہ ظالم دل
ان کے رستے میں تو تھکا نہ کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیسے کھلتا کہ اُن کے سوا شفیع نہیں
عبث نہ اوروں کے آگے تپیدہ ہونا تھا

عبث: فضول،  بے فائدہ
تپیدہ: پریشان،  تڑپا ہوا

ہم میدانِ محشر میں بلاوجہ انبیاء علیہم السلام کے روبرو تڑپتے گڑگڑاتے رہے اگر ایسے نہ ہوتا تو یہ عقدہ کیسے حل ہوتا کہ حضور شافع یوم النشور کے علاوہ کوئی شفیع نہیں،  سب یہی فرمائیں گے نفسی نفسی اذھبواالیٰ غیری، آج ہمیں اپنی فکر ہے کسی اور کے پاس جاؤ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہلال کیسے نہ بنتا کہ ماہِ کامل کو
سلامِ اَبروئے شَہ میں خمیدہ ہونا تھا

ہلال: پہلی رات کا چاند جو کمان کی طرح ہوتا ہے
ماہِ کامل: چودھویں کا چاند
ابرو: بھویں
خمیدہ: ٹیڑھا

چودھویں رات کا چاند گھٹتا گھٹتا آخر کار ہلال یعنی کمان کی طرح باریک بن جاتا ہے آخر کیوں؟  اس لیے کہ اُس نے جھک کر ابروئے مصطفیٰ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو سلامی پیش کرنی ہوتی ہے۔
یہ بھی ادب و احترام کی صورت ہے کہ کسی کا نام آئے تو طبعیت میں نرمی اور جھکاؤ پیدا ہو جائے چناچہ حضور علیہ السلام کا اسم گرامی جب امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے سامنے لیا جاتا تو آپ سر کو جھکا دیتے۔
اللہ اللہ اعلیٰ حضرت نے کیا پیاری تشبیہ بیان کی ہے کہ حضور صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے ابرو مبارک بھی کمان کی طرح اور ہلال بھی کمان کی طرح۔
پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ بھی فرماتے ہیں کہ ؎
"دو ابرو قوس مثال دسن
جیں تھیں نوک مژہ دے تیر چھٹن"

آپ کے دونوں ابرو کمان کی مانند ہیں
پلکوں کی نوک سے تیر نکل رہے ہیں

"لباں سرخ آکھاں کہ لعل یمن
چٹے دند موتی دیاں ہن لڑیاں"

سرخ لب مبارک جو کہ یمنی عقیق ہیں
سفید دانت موتیوں کی قطاریں ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّم تھا وَعْدہء اَ زَلی
نہ مُنکروں کا عَبَث بد عقیدہ ہونا تھا

لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّم: میں جہنم کو ضرور ضرور بھر دوں گا
وعدہء ازلی: دنیا کی پیدائش سے پہلے کا کِیا ہوا وعدہ
عبث: بے فائدہ،  بلاوجہ
بد عقیدہ: برے اعتقاد والا

یعنی خدا جو رب العالمين ہے ہر ایک کا پیٹ بھرتا ہے،  اُسے اپنی ایک مخلوق جہنم کا پیٹ بھی بھرنا تھا اسی لیے قرآن میں اُس نے یہ وعدہ فرمایا لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّم یعنی میں ضرور جہنم (کے پیٹ) کو بھر دوں گا۔ چنانچہ جہنم کا پیٹ بھرنے کے لیے ایسے لوگ پیدا ہو گئے جہنوں نے حضور صلی الله عليه وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کا انکار کرنا شروع کر دیا اور آپ کی ہدایات و ارشادات سے منہ پھیر لیا اور ایسے لوگوں نے حضور علیہ السلام کے فضائل سُن سُن کر یہیں جلنا شروع کر دیا اور بتا دیا کہ جہنم میں جلنے کے لیے ہم ہی موزوں ہیں کہ ہم جلنا خوب جانتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ جو بد عقیدگی کے حامل ہیں عبث و بیکار نہیں بلکہ الله تعالیٰ کی اس حکمت پر مبنی پیدا کیے گئے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے لَاَمْلَئَنَّ جَھَنَّم کا وعدہ پورا کرنے کے لیے ان سب کو جہنم کے لقمے بنا کر جہنم کا پیٹ بھرنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نسیم کیوں نہ شمیم ان کی طیبہ سے لاتی
کہ صبح گل کو گریباں دریدہ ہونا تھا

نسیم: ٹھنڈی اور ہلکی ہلکی ہوا
شمیم: خوشبو
گریاں دریدہ: گریباں پھٹا ہوا مراد ہے کھلا ہوا

صبح کی ٹھنڈی ہوا مدینہ منورہ سے خوشبو لے کر دنیا میں پھیل جاتی ہے کیونکہ اس وقت پھولوں نے کھل کر اپنا گریباں چاک کِیا ہوا ہوتا ہے تاکہ نسیمِ صبحِ مدینہ سے بھیک لے سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹپکتا رنگِ جنوں عشقِ شہ میں ہر گل سے
رگِ بہار کو نشتر رسیدہ ہونا تھا

جنوں: دیوانگی،  رنگِ جنوں سے دیوانہ پن مراد ہے
شہ: شاہ کا مخفف،  بادشاہ
رگِ بہار: بہار کی نبض
نشتر: آلہء فصد یعنی رگوں سے فاسد خون نکالنے کے لیے نوکدار اور تیز اوزار
رسیدہ: پہنچا ہوا

پھولوں سے دیوانگی کا رنگ آقائے دو جہان کے عشق کی وجہ ہی سے ٹپکتا ہے کیونکہ موسمِ بہار کی رگِ جاں میں حُب رسول کا نشتر چبھ جاتا ہے جس سے پھول نکلتے ہیں۔
صلی الله علیہ وآلہ وسلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بجا تھا عرش پہ خاکِ مزارِ پاک کو ناز
کہ تجھ سا عرش نشیں آفریدہ ہونا تھا

بجا: جائز
خاکِ مزارِ پاک: حضور علیہ السلام کے روضہ مبارک کی خاکِ پاک
آفریدہ: پیدا کِیا ہوا

سرکارِ دوعالم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے روضہ اقدس کی خاکِ پاک اگر عرشِ معلیٰ پر ناز کرے تو جائز ہے کیونکہ معراج کی رات حضور علیہ السلام کی نعلینِ پاک کے ساتھ یہی تو خاک لگی ہوئی تھی جس کے عرشِ معلیٰ نے بوسے لیے تھے۔

سخنِ رضا از صوفی محمد اول قادری نے آفریدہ کی جگہ لفظ آرمیدہ (آرام کرنے والا)  استعمال کِیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزرتے جان سے اک شور یا حبیب کے ساتھ
فغاں کو نالہء حلق بُریدہ ہونا تھا

گزرتے جان سے: مر جاتے
فغاں: شور،  آہ و زاری
نالہ: فریاد
حلق بریدہ: کٹا ہوا گلا

کاش ہم یارسول الله یا حبیب اللہ کے نعروں کی صدا گونج میں اپنی جان سرکار علیہ السلام کی نزر کر دیتے اور ہماری یہ صدا ہماری کٹی ہوئی گردن کا آخری نعرہ ہوتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے کریم گنہ زہر ہے مگر آخر
کوئی تو شہدِ شفاعت چشیدہ ہونا تھا

چشیدہ: چھکا ہوا
شفاعت چشیدہ: جس کی شفاعت ہو جائے

اے میرے پیارے آقا گناہ اگرچہ زہر ہے لیکن آپ کی ذاتِ پاک تو شفاعت کا تریاق رکھتی ہے آپ کے مضبوط سہارے کی آس پر زہر پی رہے ہیں آخر آپ نے شفاعت کا تریاق کسی کو تو دینا ہی ہے لہذا ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ ہمیں اپنی شفاعت کا شہد پلا کر گناہوں کے زہر کا اثر ختم فرما دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
جو سنگِ در پہ جبیں سائیوں میں تھا مٹنا
تو میری جان شرارِ جہیدہ ہونا تھا

سنگِ در: دروازے کا پتھر
جبیں سائی: پیشانی رگڑنا
شرار: شعلہ، چنگاری
جہیدہ: اچھل کر گرنے والی

اے میری (احمدرضاکی) جان جب آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی دہلیز پر جب پیشانی رگڑ رگڑ کر جان دینا ہی مقصود تھا تو کیوں نہ تُو ایک چنگاری ہوتی جو فوراً اچھل آپ کی دہلیز پر فدا ہو جاتی اور جلد آپ کے در کی راکھ بن جاتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیری قبا کے نہ کیوں نیچے نیچے دامن ہوں
کہ خاکساروں سے یاں کب کشیدہ ہونا تھا

قبا: مشہور لباس جو عربی لمبا سا کرتا پہنتے ہیں
خاکسار: عاجز،  گنہگار،  غریب
کشیدہ: کھینچا ہوا

حضور آپ کے دامانِ کرم (کھلا لباس رہنے کی وجہ سے)  اس لیے نیچے رہتے تھے تاکہ ہم جیسے عاجز و مسکین کل بروزِ قیامت آسانی کے ساتھ ان سے وابسطہ ہو سکیں،  جو دامنِ کرم دنیا میں نیچے رہا وہ قیامت کو بھی اوپر نہ ہوگا تاکہ غلامانِ مصطفیٰ کو آپ کے دامن میں پناہ مل سکے۔
صلی الله علیہ وآلہ وسلم
۔۔۔۔۔۔۔۔
رضا جو دل کو بنانا تھا جلوہ گاہِ حبیب
تو پیارے قیدِ خودی سے رہیدہ ہونا تھا

جلوہ گاہ: تجلی کی جگہ
قیدِ خودی: نفس کی قید
رہیدہ: آزاد

اے احمد رضا اگر تجھے اپنے دل کو محبوب کی تجلی گاہ بنانے کا اتنا ہی شوق ہے تو پہلے (قیدِ خودی سے) اپنی خواہشاتِ نفسانی سے یا اپنے وجود سے رہائی حاصل کر اور ذاتِ محبوب میں فنا ہو جا کیونکہ عشق کی دنیا میں بغیر فنا ہوئے کیونکہ عشق کی دنیا میں بغیر فنا ہوئے جلوہ نصیب نہیں ہوتا یہاں نہ ہونا ہی ہونا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکریہ: برادرم عاطف اقبال صاحب