Instagram

Saturday, 20 May 2017

Barkaat E Ramzan Compiled By Kaleem Ahmed Qadri

ماہِ رَمضانُ المبارک
ترتیب :محترم کلیم احمد قادری صاحب ( دھرن گاؤں )  
اسلامی سال کا نواں مہینہ رمضان المبارک ہے جو بڑی رحمتوں اور برکتوں والا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہم پر کتنا بڑا احسان ہے کہ ہمیں اُمّتِ محمدیہ میں پیدا فرماکر رمضان المبارک جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا۔ اس کی ہر ساعت رحمت بھری ہے۔ اس مہینے میں نفل کا ثواب فرض کے برابراور فرض کا ثواب ستر گنا کردیا جاتا ہے۔ ایک حدیث پاک کے مطابق ایک بار درود شریف پڑھے تو ایک لاکھ درود شریف کا ثواب ملتا ہے۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ جو کوئی رمضان المبارک میں ایک بارسبحان اللہ کہے اس کو اس قدر ثواب ملے گاجو غیر رمضان میں ایک لاکھ بار سبحان اللہ کہنے پرملتا ہے۔ اسی ماہ میں قرآنِ پاک کا نزول ہوا اور اسی ماہ میں ایک رات لیلۃالقدر ہے جو ہزار راتوں سے افضل ہے۔ اس ماہ میں مرنے والا مومن سوالاتِ قبر سے محفوظ رہتا ہے۔
٭  رمضان کا معنی ومفہوم  :-  ماہِ رمضان کے چار نام ہیں۔ (۱) ماہِ رمضان (۲)ماہِ مواسات (۳) ماہِ صبر (۴) ماہِ وسعتِ رزق
(۱) رمض کا لغوی معنی ہے گرمی یا جلنا چوں کہ مسلمان اس ماہ میں بھوک کی شدت اور پیاس کی تپش برداشت کرکے اپنے گناہوں کو جلا ڈالتا ہے اس لیے اس کو ماہِ رمضان کہا جاتا ہے۔ (۲)مواسات کا معنی ہے بھلائی کرنا چوں کہ اس مہینے میں جملہ مسلمانوں سے اور خاص کر اپنے رشتہ داروں سے بھلائی کرنا باعثِ ثواب ہے اس لیے اس ماہ کو ماہِ مواسات کہا جاتا ہے۔ (۳)ماہِ صبر اس لیے کہتے ہیں کہ روزہ دار کھانے پینے کی تمام چیزوں کو دن میں دیکھتا ہے مگر افطار تک صبر کرکے ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ (۴) ماہِ وسعتِ رزق کہنے کی وجہ یہ ہے کہ رمضان شریف میں رزق میں کشادگی ہو جاتی ہے اور غربا و فقرأ بھی اچھی اچھی چیزیں کھایا کرتے ہیں۔
بزرگانِ دین علیہ الرحمۃ والرضوان نے فرمایا کہ رمضان میں پانچ حروف ہیں۔
ر  م  ض  ا  ن  -  (ر) سے رضائے الٰہی  (م)سے مغفرتِ الٰہی (ض)سے ضمانتِ الٰہی (الف) سے الفتِ الٰہی (ن) سے نوالِ الٰہی مراد ہے اور رمضان میں پانچ عبادتیں خصوصی ہوتی ہیں ۔ روزہ، تراویح ، تلاوتِ قرآن ، اعتکاف اور شبِ قدر میں عبادت تو جو کوئی صدق دل سے یہ پانچ عبادت کرے وہ ان پانچوں انعامات کا مستحق ہے۔ (تفسیر نعیمی)
٭فضیلتِ ماہِ مضان  :-  ماہِ رمضانُ المبارک کے فضائل آیات کریمہ و احادیث مبارکہ میں کثرت سے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ’’ اگر بندوں کو معلوم ہو جاتا کہ رمضان کیا ہے تو میری امت تمنا کرتی کہ پورا سال رمضان ہی ہو۔‘‘ دوسری حدیث پاک میں تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ’’جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ عزوجل اپنی مخلوق کی طرف نظر رحمت فرماتا ہے اور جب اللہ عزوجل کسی بندے کی طرف نظر فرمائے تو اسے کبھی عذاب نہیں دے گا اور ہر روز دس لاکھ گنہ گاروں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے اور جب انتیسویں رات ہوتی ہے تو مہینے بھر میں جتنے آزاد کیے ان کے مجموعے کے برابر اس ایک رات میں آزاد کرتا ہے پھر جب عید الفطر کی رات آتی ہے ملائکہ خوشی کرتے ہیں اوراللہ عزوجل اپنے نور کی خاص تجلی فرماتا ہے اے گروہِ ملائکہ اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جس نے کام پورا کرلیا فرشتے عرض کرتے ہیں مولیٰ اُسے پورا اجر دیا جاتا ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے’’میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا۔ ‘‘


حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے کہ اس کا اوّل عشرہ رحمت ہے اس کا اوسط مغفرت ہے اور اس کا آخر جہنم سے آزادی ہے جو اپنے غلام پر اس مہینے میں تخفیف کرے یعنی کام میں کمی کرے اللہ تعالیٰ اسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ میں نے امتِ محمدیہ کو دونور عطا کیے ہیں تا کہ وہ دواندھیروں سے محفوظ رہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا یا اللہ وہ کون سے نور ہیں ارشاد ہوا نور رمضان اورنور قرآن پھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی وہ دو اندھیرے کون سے ہیں؟ فرمایا ایک قبر کا اندھیرا اور دوسرا قیامت کا ۔(درۃ النّاصحین)
حضرت سید نا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ کو اُمتِ محمدیہ پر عذاب کرنا مقصود ہوتا تو اُن کو رمضان اور سورۂ قل ھواللہ شریف ہر گز عنایت نہ فرماتا۔ ( نزھۃ المجالس)
٭اِستقبالِ ماہِ رمضان  :-  ماہِ رمضان المبارک جو ہم پر اللہ ربُّ العزت کا عظیم انعام ہے لہٰذا اس کی آمد پر اسی طرح خوشی و مسرّت کے اظہار اور استقبال کے لیے ایسا ہی ذوق و شوق ہونا چاہئے جیسا کہ اس کا حق ہے ۔
حضرت سیدنا ابراہیم برّہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول محتشم ، رحمتِ عالم نور مجسّم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو خوش خبری سناتے ہوئے ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ رمضان کا مہینہ آگیا ہے جو کہ بہت ہی بابر کت ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے روزے تم پر فرض کیے ہیں اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں۔ سرکش شیطانوں کو قید کردیا جاتا ہے اس میں ایک رات شب قدر ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ ( تنبیہ الغافلین)
رمضان المبارک کی آمد پر مبارک باد پیش کرنا سنّت رسول ہے چنانچہ روایت میں ہے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کی آمد پر اپنے صحابہ کو مبارکباد دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’اَتَا کُم رَمْضَان سیَدُ الشُہور ضَمر حَیاً وَّ اھلا ‘‘۔ لوگو تمہارے پاس تمام مہینوں کا سردار رمضان آگیا ہے اسے خوش آمدید کہتے ہیں۔ (مجمع الزاوئد ۳/۴۰)
سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ رمضان المبارک کے آنے سے خوش ہونے والے کو اللہ عزوجل قیامت کے غم سے بچائے گا۔ ( انیس الواعظین)
امیر المومنین حضرت سید نا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ رمضان المبارک کامہینہ تشریف لاتا تو فرمایا کرتے۔ ’’ اس مہینے کو خوش آمدید ہے جو ہمیں پاک کرنے والا ہے پورا رمضان خیر ہی خیر ہے دن کا روزہ ہو یا رات کا قیام اس مہینے میں خرچ کرنا جہاد میں خرچ کرنے کا درجہ رکھتا ہے ۔ ‘‘( تنبیہ الغافلین)
٭ چاند دیکھنا  :-  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاند دیکھ کر روزہ رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر افطار (عید) کرو اور اگر ابرہو تو شعبان کی گنتی تیس پوری کرلو۔ ( بخاری و مسلم)
مسئلہ  :-  پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا واجب کفا یہ ہے شعبان ، رمضان ، شوال ، ذی قعدہ اور ذی الحجہ ۔(فتاویٰ رضویہ)
٭ چاند دیکھنے کی دُعا  :-  چاند نظر آنے پر یہ دُعا پڑھیں۔
اَللّٰہُ اَکْبَر اَللّٰھُمَّ اَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِالیُمْنِ وَالْاِ یْمَانِ وَ السَّلَامَۃِ وَالْاِ سْلَا م
وَالتَّوفیْقِ لِمَاتُحِبُّ وَ تَرضٰی رَبّیِ وَ رَبُّکَ اللّٰہُ
اللہ اکبر ، اے اللہ! ہم پر یہ چاند امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ گزار اور اس چیز کی توفیق کے ساتھ جو تجھ کو پسند ہو اور جس پر تو راضی ہو، میرا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔
٭ جو شخص ماہِ رمضان المبارک کا چاند دیکھ کر حمد و ثنا بجا لائے اور سات مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ لے تو اسے مہینہ بھر آنکھوں میں کسی بھی قسم کی شکایت نہیں ہوگی۔ (نزہۃ المجالس ج ۱ص۵۷۵)
٭  احترامِ ماہِ رمضان  : -  ماہِ رمضان المبارک کا احترام ہر مسلمان پر ضروری ہے جو شخص عذر شرعی کی بنیاد پر روزہ رکھنے سے معذور ہو اسے چاہیے کہ اس مہینے کا احترام کرتے ہوئے اپنے گھر میں چھپ کر کھائے اور اس ماہ کا احترام کرے۔
حدیث پاک میں ہے ’’ جب رمضان شریف کا چاند نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت سید نا جبرئیل علیہ السلام کو فرماتاہے کہ حورانِ بہشت کو زینت کا حکم دو اور ندا کرو کہ اے اہل آسمان اور اے اہل زمین ہوشیار ہو جائو کہ یہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے جو شخص اس کی تعظیم کرے گا بخشا جائے گا اور شیطان کو قید کردو تا کہ روزہ دار گناہ کرنے سے محفوظ رہیں۔  ( انیس الواعظین)
٭ روزہ کے فضائل و خصوصیات  :-  رمضان شریف کا روزہ ہر عاقل و بالغ مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور بلا عذر چھوڑنے والا سخت گنہ گار اور دوزخ کا سزا وار ہے۔ روزہ اُمّت محمدیہ پر زکوٰۃ کے بعد   ۲   ۔؁ھ میں فرض کیا گیا ۔
قرآنِ حکیم نے روزے کی فرضیت کو یوں بیان فرمایا۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ    (سورۂ بقرہ۱۸۳)
اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیز گاری ملے۔ (کنزالایمان)
صحیح بخاری شریف میں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ (۱) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔ (۲)نماز قائم کرنا۔ (۳) زکوٰۃ ادا کرنا۔ (۴)رمضان شریف کے روزے رکھنا۔ (۵) بیت اللہ کا حج کرنا۔ (جو اس کی استطاعت رکھتا ہو)
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو ایمان کی حالت میں اور اللہ سے اجر کا طالب ہو کر رمضان کا روزہ رکھے گا اس کے اگلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ ( بخاری شریف   ۱/۲۵۵)
دوسری حدیث پاک جو حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سلطانِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ آدمی کے ہر نیک کام کا بدلہ دس سے سات سو گنا تک دیا جاتا ہے مگر اللہ عزوجل فرماتا ہے روزہ کہ وہ تومیرے لیے ہے اور اس کی جزا میں خود دوں گا۔ ایک اور حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بوٗ اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ بہتر ہے۔‘‘ ( بخاری شریف)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی ایک دن اللہ کی راہ میں روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ کو اس کے چہرے سے ستّر سال کی مسافت تک دور رکھے گا۔ ( مسلم  ص ۳۹۴)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری اُمّت کو ماہِ مضان میں پانچ ایسی خصوصی نوازشیں ملی ہیں جو پہلی امتّوں کو نہیں ملی۔ (۱) روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ (۲) مچھلیاں ان کے لیے افطار تک دعائیں کرتی رہتی ہیں۔ (۳)اللہ تعالیٰ ہر دن جنت کو آراستہ فرماتا ہے قریب ہے کہ میرے نیک اور صالح بندے تمہارے پاس آئیں۔ (۴)اس ماہ میں سرکش شیاطین قید کردیے جاتے ہیں۔ (۵)اس ماہ کی آخری رات میں روزہ داروں کے لیے مغفرت اور بخشش کی جاتی ہے۔
معلم کائنات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے سے حاصل ہونے والے ہزاروں جسمانی فوائد کو ایک جملے میں سمیٹتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’صومو اتصحوا‘‘ روزہ رکھو صحت یاب ہو جائو گے۔ صحت ہر مرض سے پاک ہونے کا نام ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر انسان روزہ رکھے تو ایک اہم فرض کی ادائیگی کے ساتھ اس کو جسمانی طور پر بھی بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
٭روزہ کے باطنی آداب  :-  روزے کی ظاہری شرط تو یہی ہے کہ روزہ دار صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور جماع سے باز رہے تاہم روزے کے کچھ باطنی آداب بھی ہیں۔ روزہ دار کے لیے ضروری ہے کہ وہ جھوٹ، غیبت ، چغلی ، عیب جوئی ، نامناسب گفتگو اور جملہ برائیوں سے اپنے آپ کو باز رکھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جوشخص جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑے رکھے۔‘‘  (بخاری شریف  ۱/۵۵)
دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں’’جب تم میں سے کوئی روزہ رکھے تو نہ فحش بات کرے نہ شور مچائے اور اگر کوئی شخص کسی سے جھگڑا کرے تو کہہ دے کہ بھائی مجھے معاف کرو میں روزہ دار ہوں۔(بخاری شریف   ۱/۵۵)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانچ چیزیں روزے کو خراب کردیتی ہیں اور ان ہی چیزوں سے وضو بھی ناقص ہو جاتا ہے۔ (۱)جھوٹ بولنا ۔ (۲)چغلی کرنا۔(۳)غیبت کرنا۔(۴)شہوت سے کسی عورت یا مرد کو دیکھنا۔ (۵)جھوٹی قسم کھانا۔ (غنیۃ الطالبین)
صوفیائے کرام کے نزدیک روزے کے تین درجے ہیں۔
(۱)      عام لوگوں کا روزہ   :… یہ پیٹ اور شرم گاہ کو خواہش کی تکمیل سے روکنا ہے۔
(۲)     خاص لوگوں کا روزہ  :… یہ کان ، آنکھ، زبان، ہاتھ پائوں اور تمام اعضاء کو گناہوں سے روکنا ہے۔
(۳)     اخص الخواص کا روزہ  :… یہ دل کو تمام برے خیالات اور دنیاوی افکار سے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز سے کلیۃ خالی کردینا ہے۔ ( احیاء العلوم  ۱/۵۸۳)
٭سحری کا بیان  :-  صبح سے پہلے رات کے اخیر حصہ کو سحر کہتے ہیں اور اس وقت روزہ کی نیت سے کھانے پینے کو سحری کہتے ہیں۔ اس وقت کا کھانا پینا سنت اور باعثِ برکت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سحری کھائو کہ سحری میں برکت ہے۔ دوسری حدیث پاک میں ہے کہ سحری کھانے والوں پر فرشتے رحمت نازل فرماتے ہیں۔ ( طبرانی)
مدینے کے تاجدار صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانے میں ہے ۔ ( ابودائود ، ترمذی)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوپہر کو تھوڑی دیر آرام کرکے قیام لیل میں سہولت حاصل کرو اور سحری کھا کر دن میں روزے کے لیے قوت حاصل کرو۔ دوسری حدیث پاک میں ہے ’’سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کھانے میں ہر لقمے کے بدلے ساٹھ برس کی عبادت کا ثواب ملتا ہے۔‘‘
سحری میں ہلکی غذا استعمال کرنا چاہیے تا کہ بدہضمی نہ ہو اور فجر کی نماز میں دشواری نہ ہو۔ سحری سے فارغ ہو کر روزہ کی نیت کرلیں اگر چہ دل کے پکّے ارادے کا نام نیت ہے لیکن زبان سے کہہ لینا مستحب ہے۔ نیت یوں کریں۔
نَوَیتُ اَنْ اَصُومُ غداً للّٰہِ تعالٰی مِن شھر رَمْضانِ ھٰذا
نیت کی میں نے کل روزہ رکھوں گا اللہ تعالیٰ کے لیے اس رمضان المبارک کا۔
٭سحری کا انمول تحفہ  :-  سحری کے وقت سات بار یہ دعا پڑھیں۔
لااِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ الحیُّی القَیُّومُ القَائِمُ عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ بِمَا کَسَبَتْ  ط
کوئی عبادت کے لائق نہیں سوائے اللہ عزوجل کے جو زندہ و قائم ہے ہر نفس پر جو اس نے کمایا حاضر ہے۔
تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دعا کے پڑھنے والے کو اللہ عزوجل بہ شمار ہر ستارے کے ایک ایک ہزار نیکیاں عطا فرماتا ہے اتنے ہی گناہ مٹاتا ہے اور اسی قدر اس کے درجات بلند فرماتا ہے۔ (انیس الواعظین)
٭ اِفطار کا بیان  :-  روزہ مکمل ہونے پر غروب آفتاب یعنی مغرب کے وقت بندے کو کھانے پینے کی اجازت مل جانا افطار ہے۔ بندۂ مومن کا ایک خالق و مالک کی اطاعت میں دن بھر صبر کا مظاہرہ کرکے اِفطار کرنا مسرّت بھرا ہوتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں (۱)ایک خوشی افطار کے وقت۔ (۲)دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت۔‘‘ (بخاری شریف)
وقت ہو جانے پر افطار میں جلدی کرنا سنت ہے چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’دن اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔ کیونکہ یہود و نصاریٰ افطار میں تاخیر کرتے تھے۔ ‘‘حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے بندوں میں مجھے زیادہ پیارا وہ ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے۔‘‘ (ترمذی جلد  ۱  ص  ۱۰)
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں کوئی روزہ افطار کرے تو کھجور یا چھوہارے سے افطار کرے کہ وہ برکت ہے اور اگر نہ ملے تو پانی سے کرے کہ وہ پاک کرنے والا ہے۔ ( ترمذی ۱۴۹)
کھجور غیرہ سے افطار کرنے کے بعد یہ دعا پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ لَکَ صُمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ
اے اللہ میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر بھروسہ کیا اور تیرے دیے ہوئے رزق سے افطار کیا تو تو مجھ سے اس کو قبول فرما۔
افطار کے وقت نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ دعا مانگنی چاہیے کہ اس وقت دُعا رد نہیں کی جاتی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ تین اشخاص کی دعا رد نہیں کی جاتی۔ (۱)روزہ دار کی افطار کے وقت۔ (۲)بادشاہ عادل کی دُعا۔ (۳)مظلوم کی دعا۔ (ترمذی و ابنِ ماجہ)
سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو کوئی رمضان المبارک میں روزے دار کو پانی پلائے تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو جائے گا گویا ابھی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔ صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حکم گھر پر ہے یا سفر میں یا اُس جگہ جہاں پانی نہ ملتا ہو؟ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب ارشاد فرمایا کہ یہ حکم عام ہے اگر چہ فرات کے کنارے پر بھی پانی پلادے۔ ( انیس الواعظین)
ایک روایت میں ہے کہ جو روزہ دار کو پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ اسے میرے حوض سے پلائے گا کہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسانہ ہوگا دوسری روایت میں آتا ہے کہ جو حلال کمائی سے رمضان میں روزہ افطار کرائے رمضان کی تمام راتوں میں فرشتے اس پر درود بھیجتے ہیں اور شبِ قدر میں حضرت جبرئیل علیہ السلام اس سے مصافحہ کرتے ہیں۔
٭ روزہ نہ رکھنے پر وعیدیں  :-  رمضان المبارک کے اس عظیم ماہ میں جہاں روزہ رکھنے کے بے شمار فضائل ہیں وہیں بغیر کسی صحیح مجبوری کے رمضان المبارک کے روزہ ترک کرنے (چھوڑدینے) پر سخت وعیدیں بھی ہیں۔ روزہ دار پر جہاں اللہ ربُّ العزت کے انعام و اکرام اور رحم و کرم کی بارش ہوتی ہے وہیں بے روزہ دار اللہ تبارک و تعالیٰ کے قہر و غضب کا سزا وار اورجہنم کا حق دار قرار دیا جاتا ہے۔
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ ایک حدیث پاک کے مطابق رمضان المبارک کا ایک روزہ بلا کسی عذر شرعی کے جان بوجھ کر چھوڑنے والے کو ۹؍لاکھ برس جہنم کی آگ میں جلنا پڑے گا۔ نیزجس نے ایک روزہ ضائع کردیا تو اب عمر بھر بھی اگر روزے رکھتا رہے تب بھی اس چھوڑ ے ہوئے ایک روزے کی فضیلت کو نہیں پاسکتا۔
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے رمضان کے ایک دن کا روزہ بغیر رخصت و بغیر مرض افطار کیا تو زمانے بھر کا روزہ اس کی قضا نہیں ہوسکتا۔ اگر چہ بعد میں رکھ بھی لے(بخاری) یعنی وہ فضیلت جو رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کی تھی اب کسی طرح نہیں پاسکتا۔
٭ مسئلہ  :-  جب بچّے کی عمر دس سال ہو جائے تو اور اس میں روزہ رکھنے کی طاقت ہوتو اس سے روزہ رکھوایا جائے اگر کسی سبب سے اس نے روزہ رکھ کر توڑ دیا تو قضا کا حکم نہ دیں۔ جو بچّے روزے رکھ سکتے ہیں تو ان کو منع نہ کریں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کریں۔
٭مسئلہ  :-  روزہ رکھنے سے اگر اتنا کمزور ہو جائے گا کہ کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو حکم ہے کہ روزہ رکھے اور بیٹھ کر نماز پڑھے۔
٭ کب روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے؟  :-
سفر، حمل، بچّہ کو دودھ پلانا، بوڑھاپا، ہلاکت کا خوف اور نقصانِ عقل اور جہاد ۔ ان سب حالتوں میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ ان وجوہات میں سے کسی وجہ سے روزہ نہ رکھے تو گناہ گار نہ ہوگا مگر یہ یاد رہے کہ مجبوری میں روزہ معاف نہیں ہو جاتا وہ مجبوری ختم ہونے پر روزہ قضا رکھنا فرض ہے البتہ قضا کا گناہ نہیں ہوگا۔ سفر سے مراد شرعی سفر ہے اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کی تحقیق کے مطابق شرعاً سفر کی مقدار ستاون میل تین فرلانگ یعنی تقریباً ساڑھے ترانوے کلو میٹر ہے جو کوئی اتنی مقدار کا فاصلہ طئے کرنے کی نیت سے گھر سے نکلاتو اسے روزہ قضا کرکے رکھنے کی اجازت ہے اور ایسا مسافر نماز میں بھی قصر کرے گا۔
٭  مُفسداتِ روزہ  :-  (جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے)
(۱)      کھانے ، پینے ، یا ہم بستری کرنے سے روزہ جاتا رہتا ہے جبکہ روزہ دار ہونا یاد ہو۔
(۲)     حُقّہ ، سِگار ، سگریٹ ، پان، تمباکو وغیرہ کھانے پینے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ اگر چہ اپنے خیال میں حلق تک دھواں نہ پہنچتا ہو۔
(۳)     عورت کا بوسہ لیا، چھوا، مباشرت کی یا گلے لگایا اور انزال ہوگیا تو روزہ جاتا رہا۔
(۴)     شکر وغیرہ ایسی چیزیں جو منہ میں رکھنے سے گھل جاتی ہیں منہ میں رکھی اور تھوک نگل گئے تو روزہ جاتا رہا۔
(۵)     سوتے میں پانی پی لیا یا کچھ کھالیا، یا منہ کھلا تھا پانی کا قطرہ حلق میں چلا گیا روزہ ٹوٹ جائے گا۔
(۶)     دانتوں کے درمیان کوئی چیز چنے کے برابر یا زیادہ تھی اسے کھاگئے یا کم ہی تھی مگر منہ سے نکال کر پھر کھالی تو روزہ ٹوٹ گیا۔
(۷)     کان میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
(۸)     کُلّی کررہے تھے بلا قصد پانی حلق سے اُتر گیا یا ناک میں پانی چڑھایا اور دماغ کو چڑھ گیا تو روزہ جاتا رہا۔
(۹)     قصداً منہ بھرقے کی اور روزہ دار ہونا یاد ہے تو روزہ ٹوٹ گیا اور اگر منہ بھر سے کم کی تو روزہ نہ ٹوٹا۔
(۱۰)    آنسو یا پسینہ منہ میں چلا گیا اور نگل لیا اگر بوند دو بوند ہے تو روزہ نہ گیا اور اگر زیادہ تھا کہ اس کی نمکینی پورے منہ میں معلوم ہوئی تو روزہ ٹوٹ گیا۔
٭ جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا  :- 
(۱)      بھول کر کھایا پیا یا جماع کیا تو روزہ نہ ٹوٹا۔
(۲)     مکھی یا دھواں یا گرد حلق میں جانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(۳)     روزہ میں خود بخود کتنی ہی قے (اُلٹی) ہو جائے، بالٹی ہی کیوں نہ بھر جائے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(۴)     کان میں پانی چلا گیا یا خود ڈالا تو جب بھی روزہ نہ ٹوٹے گا۔
(۵)     انجکشن خواہ رگ میں لگایا جائے یا گوشت میں اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(۶)     دانتوں سے خون نکل کر حلق تک پہنچا مگر حلق سے نیچے نہ اترا تو ان سب صورتوں میں روزہ نہ گیا۔
(۷)     مکھّی حلق میں چلی گئی روزہ نہ گیا اور قصداً نگلی تو چلا گیا۔
(۸)     بھولے سے کھانا کھا رہا تھا یاد آتے ہی نوالہ تھوک دیا یا پانی پی رہا تھا یاد آتے ہیں منہ کا پانی پھینک دیا تو روزہ نہ گیا۔ اگر منہ میں لقمہ یا پانی تھا اور یاد آنے کے باوجود اسے نگل گیا تو روزہ ٹوٹ گیا۔
(۹)     احتلام ہونے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
(۱۰)    جنابت کی حالت میں صبح کی بلکہ اگر سارے دن جنب بے غسل رہا تو روزہ تو صحیح ہو جائے گا مگر اتنی دیر تک قصداً غسل نہ کرنا کہ نماز قضا ہو جائے گناہ و حرام ہے حدیث میں ہے کہ جنب جس گھر میں ہوتا ہے اس میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔
(۱۱)     تھوک یا بلغم منہ میں آیا پھر اسے نگل گئے تو روزہ نہ گیا بار بار تھوکنے کی ضرورت نہیں۔
(۱۲)    کلّی کی اور پانی بالکل پھینک دیا صرف کچھ تری منہ میں باقی رہ گئی تھی تھوک کے ساتھ اسے نگل لیا روزہ نہیں ٹوٹا۔
٭ روزہ میں مسواک کا استعمال  :ـ-  روزہ میں مسواک کرنا زیادہ فضیلت و برکت کا حامل ہے۔ مسواک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ مسواک کے فضائل و فوائد بے شمار ہیں۔ حضو راکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو نماز مسواک کرکے پڑھی جائے وہ ستّر درجہ افضل ہے اس نماز پر جو بغیر مسواک کے پڑھی جائے۔ایک حدیث میں ہے کہ حضور رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ جانتا تو مسواک کو ان کے لیے فرض قراردے دیتا۔ (ابن ماجہ ص۲۵)
٭  نماز تراویح  :-  رمضان المبارک میں عشاء کی نماز کے بعد بیس رکعتیں تراویح کی ہر مسلمان مرد و عورت پر سنتِ موکدہ ہے اس کا ترک جائز نہیں۔ مرد مسجد میں جماعت سے پڑھیں اور عورتیں گھروں میں الگ الگ پڑھیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تراویح پڑھی اور اسے پسند فرمایا اس پر خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے مداومت فرمائی۔ پہلے صحابۂ کرام متفرق طور سے الگ الگ پڑھتے تھے۔ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں تمام لوگوں کو ایک امام حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت میں جمع کرکے بدعتِ حسنہ کا کام کیا۔
تراویح میں ایک بار قرآن مجید ختم کرنا سنتِ موکدہ ہے۔ دومرتبہ فضیلت اور تین مرتبہ افضل ہے۔ (بہار شریعت)
مسئلہ  :-  جس نے عشاء کی فرض نماز جماعت سے نہیں پڑھی تو وہ تراویح جماعت سے پڑھے گا۔ مگر وتر اپنی الگ پڑھے۔
مسئلہ  :-  بلا عذر تراویح بیٹھ کر پڑھنا مکروہ ہے۔
٭  تلاوتِ قرآن  :-  جس طرح ماہِ رمضان اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے اسی طرح اس ماہِ مبارک میں قرآن مجید کا نزول بھی ہمارے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ ربُّ العزت کا فرمان ہے۔
شھُر رَمْضَان الذی اُنزل فِیہِ القُراٰن  -  رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اُتارا گیا۔ قرآن مجید کا نزول چند بار ہوا اولاً لوحِ محفوظ سے پہلے آسمان کی طرف یکبارگی ماہِ رمضان کی شبِ قدر میں ہوا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر تیئس سال کے عرصے میں تھوڑا تھوڑا بقدرِ ضرورت نازل ہوتا رہا۔ (کتب تفاسیر) اس ماہِ مبارک میں خود سیّد عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور مہینوں کے مقابلے میں قرآنِ پاک کی تلاوت زیادہ فرماتے تھے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی شفاعت کریں گے روزہ کہے گا اے اللہ میں نے اسے کھانے اور خواہشات سے دن میں روکے رکھا قرآن کہے گا میں نے اسے رات کو سونے سے روکے رکھا میں اس کی شفاعت کرتا ہوں ہماری شفاعت قبول فرما چنانچہ دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی۔
لہٰذا ہمیں بھی اس ماہِ مبارک میں حروف کو اُن کے مخارج و صفات کی صحیح ادائیگی کے ساتھ وقف کی جگہوں کو پہچانتے ہوئے اور ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر زیادہ سے زیادہ قرآنِ پاک کی تلاوت کرنا چاہیے۔
٭  زاکوٰ ۃ   :-  زکوٰۃ اعظم فرض دین و اہم رکن اسلام ہے اس کی عظمت واہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن عظیم میں بتّیس جگہ نماز کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
وَاقیمٰو الصَّلٰوۃ واٰتوالزکوٰۃ  -  پ۱  سورۂ بقرہ آیت ۴۳۔ اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو۔
نماز اورزکوٰۃ کا ذکر ملا کر فرمانے کی مفسرین حکمت بیان فرماتے ہیں کہ نماز اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور زکوٰۃ بندوں کا حق ہے۔ تو موافقِ شرع دونوں کی رعایت ضروری ہے۔ احادیث کریمہ میں بھی زکوٰۃ ادا کرنے والوں کے فضائل و مناقب اور اس سے غفلت برتنے والوں کا درد ناک انجام بیان کردیا گیا ہے۔
٭  زکوٰۃ نہ دینے پر وعیدیں  :-  حدیث شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور جو زکوٰۃ نہ دیں اس کی نماز قبول نہیں(الترغیب الترہیب) ۔دوسری حدیث پاک میں ہے کہ حضوررحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو نماز ادا کرے اور زکوٰۃ نہ دے وہ مسلمان نہیں کہ اسے اس کا عمل کام آئے(ایضاً)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ دے کر اپنے مالوں کو مضبوط قلعوں میں محفوظ کرلو اور اپنے بیماروں کا علاج صدقے سے کرو اور بلا نازل ہونے پر دعا سے مدد طلب کرو۔
امیر المومنین فاروِ ق اعظم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’خشکی اور تری میں جو مال تلف ہوتا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے ہی سے تلف ہوتا ہے۔ (الترغیب والترہیب ج۲ص۱۱۰)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا پھر اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو اس کا یہ مال قیامت کے دن گنجا سانپ بنا دیا جائے گا جس کے سر پر دو چتیاں ہوںگی یہ سانپ قیامت کے دن اس کے گلے میں لپٹ جائے گا پھر اس کے دونوں جبڑوں کو بھنبھوڑے گا اور کہے گا میں تیرامال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں۔(بخاری شریف  ج۱  ص۸۸)
٭  زاکوٰۃ کی فرضیت  :-  زکوٰۃ فرض ہے اس کا منکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کا مستحق اور ادا میں تاخیر کرنے والا گناہ گار اور مردود الشہادۃ ہے۔ اصطلاحِ شریعت میں اللہ تعالیٰ کے لیے مال کا ایک حصہ جو شریعت نے مقرر کیا ہے مسلمان فقیر کو مالک کر دینا ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ فقیر ہاشمی یعنی سید نہ ہو۔ زکوٰۃ ہر مسلمان عاقل بالغ مالکِ نصاب پر فرض ہے۔ مالکِ نصاب وہ مسلمان ہے جو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر نوٹ روپے پیسے کا مالک ہو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔ اب مالکِ نصاب اپنے سونے چاندی، تجارتی اموال ، نوٹ زیورات سب کی بازار بھائو سے قیمت نکال کر اسے چالیس سے تقسیم کرے یہ چالیسواں حصہ ( یعنی ڈھائی فی صد ،سوروپے میں ڈھائی روپے) زکوٰۃ ہے۔
٭  زکوٰۃ کے شرائط :-
زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے چند شرائط ہیں۔ (۱)مسلمان ہونا۔(۲)بالغ ہونا۔ (۳)عاقل ہونا۔ (۴)آزاد ہونا۔(۵)مالکِ نصاب ہونا۔(۶)پورے طور پر مالک ہونا۔ (۷)نصاب کا دین(قرض) سے فارغ ہونا۔ (۸)نصاب کا حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہونا۔ (۹)مال کا نامی ہونا۔ (۱۰)سال گزرنا۔
٭زکوٰۃ کسے دی جائے؟  : -
 فقیر، مسکین اور قرض دار یعنی وہ شخص جس کے ذمہ قرض ہو اور اس کے پاس قرض سے فاضل کوئی مال بقدر نصاب نہ ہو ان سب کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔ زکوٰۃ اور صدقات میں افضل یہ ہے کہ پہلے اپنے بھائیوں ، بہنوں کو دے پھر اُن کی اولاد کو پھر چچا اور پھوپھیوں کو پھر اُن کی اولاد کو پھر دوسرے رشتہ داروں کو پھر پڑوسیوں کو، پھر اپنے پیشہ والوں کو۔ اور ایسے طالب علم کو بھی زکوٰۃ دینا افضل ہے کہ جو علم دین حاصل کررہا ہو بشرطیکہ یہ لوگ مالکِ نصاب نہ ہوں۔ (عالمگیری ، بہارشریعت)
٭ زکوٰۃ کے مسائل  :-
مسئلہ  :-  حاجتِ اصلیہ یعنی جس کی زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے اس میں زکوٰۃ واجب نہیں جیسے رہنے کا مکان ، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے، خانہ داری کے سامان، سواری کے جانور ، خدمت کے لیے غلام ، آلاتِ حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہل علم کے لیے حاجت کی کتابیں، کھانے کے لیے غلّہ وغیرہ ان سب پر زکوٰۃ نہیں۔ (عالمگیری، بہار شریعت)
مسئلہ  :-  زکوٰۃ دیتے وقت یا زکوٰۃ کے لیے مال علاحدہ کرتے وقت نیتِ زکوٰۃ شرط ہے۔ نیت کے یہ معنی ہیں کہ اگر پوچھے تو بلا تامل بتا سکے کہ زکوٰۃ ہے۔
مسئلہ  :-  سال بھر تک خیرات کرتا رہا اب نیت کی جو کچھ دیا ہے زکوٰۃ ہے تو ادا نہ ہوئی۔
مسئلہ  :-  زکوٰۃ اعلانیہ اور ظاہر طور پر دینا افضل ہے کہ لوگوں کو تہمت اور بدگمانی کا موقع نہ ملے اور اعلان دوسروں کے لیے ترغیب ہے کہ اس کو دیکھ کر اور لوگ بھی دیں گے۔
مسئلہ  :-  زکوٰۃ دینے میں اس کی ضرورت نہیں کہ فقیر کو زکوٰۃ کہہ کر دیں بلکہ صرف نیتِ زکوٰۃ کافی ہے یہاں تک کہ اگر ہبہ یا قرض کہہ کردیں اور نیت زکوٰۃ کی ہو ادا ہوگئی۔ ( عالمگیری) یوں ہی نذریا ہدیہ یا بچوں کی مٹھائی کھانے یا عیدی کے نام سے دی ادا ہوگئی۔ بعض محتاج ضرورت مند زکوٰۃ کا روپیہ نہیں لینا چاہتے انہیں زکوٰۃ کہہ کر دیا جائے گا تو نہیں لیں گے لہٰذا زکوٰۃ کالفظ نہ کہیں۔
مسئلہ  :-  اگر صرف سونا یا چاندی یا مالِ تجارت بقدر نصاب نہیں ہے تو جو جتنا ہے ان سب کی قیمت کا حساب لگایا جائے اور ان کا مجموعہ بقدر نصاب ہو جائے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔
مسئلہ  :-  جو مکانات یا دکانیں کرائے پر دے رکھی ہیں ان پر زکوٰۃ نہیں۔ یوںہی دکانوں میں مالِ تجارت رکھنے کے لیے شوکیس ، ترازو ، الماریاں وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں۔
مسئلہ  :-  اگر بینک میں روپیہ رکھا ہوا ہے تو گویا وہ بطور ِ امانت جمع ہے ایسی صورت میں سال بہ سال اس کی زکوٰہ واجب الادا ہے۔
مسئلہ  :-  ملازم اگر مالک نصاب ہے تو دیگر زکوٰۃ مال کے ساتھ پراویڈنٹ فنڈ(P.P) میں جب سے رقم جمع ہونی شروع ہوئی ہے اس وقت سے جمع رقم کی زکوٰۃ ہر سال واجب ہوگی۔ اور اگر مالک نصاب نہیں ہے تو جب فنڈ کی رقم زکوٰۃ کے دوسرے مالوں کے ساتھ جوڑنے سے صاحب نصاب ہو جائے تو زکوٰۃ واجب ہوگئی۔ اور ہر سال ہوتی رہے گی۔
مسئلہ  :-  ایل آئی سی (L.I.C.)جیون بیمہ، پوسٹ ، ڈاک خانہ کی رقم (R.D.)اور فکس ڈپازٹ کرنے والے پر ہر سال اصل رقم اور نفع کی زکوٰۃ نکالنا واجب ہے۔
٭  اعتکاف  :-  اصطلاحِ شریعت میں بہ نیت عبادت مسجد میں ٹھہرنے کا نام اعتکاف ہے اعتکاف بہت بڑی نعمت ہے اور اس کے بے شمار فضائل ہیں۔ اس میں ایک مسلمان دنیاوی تعلقات سے بالکل الگ تھلک ہوکر اپنا پورا وقت قرآنِ پاک کی تلاوت ، تسبیح و تہلیل اورنوافل پڑھنے میں گزارتا ہے اور خود کو کچھ دنوں کے لیے اللہ کا مہمان بنا دیتا ہے۔
اعتکاف کی تین قسمیںہیں۔ (۱)واجب۔(۲)سنتِ موکدہ۔ (۳)مستحب۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے یعنی اکیسویں شب سے چاند رات تک (یعنی عیدالفطر کا چاند نظر آنے تک) مسجد میں بہ نیتِ اعتکاف ٹھہر نا سنتِ موکدہ کفایہ ہے۔ اگر ایک نے کرلیا تو سب بری الذمہ ہوگئے اور کوئی نہ کرے گا تو سب گنہ گار ہوں گے۔
٭  اعتکاف کی فضیلت  :-  حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف کرلیا تو ایسا ہے جیسے دوحج اور دو عمرے کیے رحمتِ عالم نور مجسم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے جو شخص رمضان المبارک کے آخری عشرے میں صدق و خلوص کے ساتھ اعتکاف کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے نامۂ اعمال میں ہزار سال کی عبادت کا ثواب درج فرمائے گا اور قیامت کے دن اس کو اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا۔ ‘‘
تاجدار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص خالصاً لوجہ اللہ رمضان شریف میں ایک دن اور ایک رات اعتکاف کرے تو اس کو تین سو شہیدوں کا ثواب ملے گا۔‘‘ (تذکرۃُ الواعظین)
٭  شبِ قدر  :-  رمضان المبارک کی راتوں میں ایک ایسی رات بھی ہے جس میں عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے اس مقدس شب کا نام شب قدر ( لیلۃُ القدر) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں شبِ قدر کی شان میں مکمل ایک سورت نازل فرمادی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ( ترجمہ) بے شک ہم نے اسے شبِ قدر میں اتارا اور تم نے کیا جانا کیاہے شبِ قدر، شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبرئیل اُترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے۔ وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔ (سورۂ قدر  پ۳۰) ترجمۂ کنزالایمان)
شب قدر کی عظمت وبزرگی کی سب سے بڑی وجہ نزولِ قرآن ہے۔ قرآن مقدس اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور وہ جس پر نازل ہوا وہ رسول بھی اعظم تو پھر جس رات میں قرآن مقدس نازل ہوا وہ رات بھی کیوں عظیم نہ ہو؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے رمضان المبارک کی شبِ قدر میں لوحِ محفوظ سے پہلے آسمان پر نازل فرمایا اور پھر تقریباً تیئس برس کی مدت میں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم پر اسے بتدریج نازل فرمایا۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں یعنی اکیس ، تیئس ، پچیس، ستائیس اور انتیسویں شب میں شبِ قدر کو تلاش کرو۔ (بخاری شریف) حضرت سیدنا اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ ، امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ اور حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کے نزدیک شب قدر رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو ہوتی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جو شب قدر میں ایمان و یقین کے ساتھ قیام کرے تو اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘(بخاری ۱/۲۵۵)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب لیلۃ القدر آتی ہے تو جبرئیل علیہ السلام فرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور ہر اُس بندے پر رحمت بھیجتے ہیں اور بخشش کی دعا کرتے ہیں جو کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول و مصروف ہوتا ہے۔
شب قدر میں تلاوتِ قرآن، اذکار اورنوافل کی کثرت کرنا چاہئے جتنا ہوسکے خوب خوب عبادت کرکے رب کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے گناہوں سے توبہ اور ندامت کرنا چاہیے اور اس رات میں قضا نمازیں ادا کرنا بہتر ہے کہ جس کے ذمے فرض باقی ہو اس کی نفل قبول نہیں ہوتی۔
٭  شب قدر کے نوافل  :-  (۱) بعد نماز عشاء سات بار اِنَّااَنزلنٰہُ کی سورت پڑھیں۔ فضیلت - ہر مصیبت سے نجات ملے ، ہزار فرشتے اس کے لیے جنت کی دعا کرتے ہیں۔
(۲) دو رکعت نماز - ہر رکعت میں الحمد کے بعد ایک بار اِنَّااَنزلنٰہُ  تین بار قل ھواللّٰہ فضیلت- شب قدر کا ثواب حاصل ہوگا ایک شہر جنت میں دیا جائے گا جو مشرق سے مغرب تک لمبا ہوگا۔
 (۳)چار رکعت ( ایک سلام سے) ترکیب ہر رکعت میں الحمد کے بعد تین بار  اِنَّااَنزلنٰہُُ سات بار قُل ھُواللّٰہُ ۔ فضیلت-اللہ تعالیٰ موت کی سکرات آسان کردے گا اور قبر کا عذاب دور کردے گا۔
٭  الوادع ماہِ رمضان  :-  ماہِ رمضان المبارک جو مومن کے لیے نیکیوں اور فضائل و برکات کا خزینہ ہے جب اس کی فرقت و جدائی کا وقت قریب آتا ہے تو اس کا دل غم گین ہو جاتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ ایسا انعام و اکرام و مغفرت کا مبارک و مقدس مہینہ ہم سے رخصت ہونے والا ہوتا ہے۔ اور ایسے ہی بندۂ مومن کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مژدۂ جنت سناتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں’’ جو شخص رمضان المبارک کے آنے کی خوشی اور جانے کا غم کرے اس کے لیے جنت ہے اور اللہ عزوجل پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے۔‘‘ (انیس الواعظین)
حضرت سیّد نا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ، سرور قلب وسینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب ماہِ رمضان کی آخری رات آتی ہے تو زمین و آسمان اور ملائکہ میری اُمّت کی مصیبت کو یاد کرکے روتے ہیں عرض کیا گیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی مصیبت؟ فرمایا رمضان المبارک کا رخصت ہونا کیونکہ اس میں صدقات اور دعائوں کو قبول کیا جاتا ہے نیکیوں کا اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے، عذاب دوزخ دور کیا جاتا ہے تو رمضان المبارک کی جدائی سے بڑھ کر میری اُمّت کے لیے اور کون سی مصیبت ہوسکتی ہے؟
٭ لیلۃ الجائزہ  :-  عیدالفطر کا چاند نظر آنے کے بعد ہر طرف خوشی و مسّرت کا ماحول بن جاتا ہے ایک مہینے کے سخت امتحان میں کامیاب ہو کر ایک مسلمان کا خوش ہونا فطری بات ہے چنانچہ عیدالفطر کی رات انعام و اکرام کی رات ہوتی ہے اور اسے لیلۃ الجائزہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حدیث پاک میں ہے حضرت سیّد نا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جب عید الفطر کی مبارک رات تشریف لاتی ہے تو اسے لیلۃالجائزہ ، انعام کی رات کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ عزوجل اپنے معصوم فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے چنانچہ وہ فرشتے زمین پر تشریف لاکر سب گلیوں اور راہوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس طرح ندا دیتے ہیں’’اے اُمّتِ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اس ربّ کریم کی بارگاہ کی طرف چلو جو بہت ہی زیادہ عطا کرنے والا ہے اور بڑے سے بڑا گناہ معاف فرمانے والا ہے۔
تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جس نے عیدین کی رات یعنی شبِ عیدالفطر اور شب عید الاضحی قیام کیا اس دن اُس کا دل نہیںمرے گا جس دن لوگوں کے دل مرجائیں گے۔
٭  صدقۂ فطر  :-  عید کے دن مال داروں پر رمضان کا جو صدقہ واجب ہوتا ہے اصطلاحِ شریعت میں اسے فطرہ کہتے ہیں۔ فطرہ روزوں کے پورا کرلینے کا شکرانہ ہے تا کہ روزوں میں بھول چوک اور کوتاہی ہوگئی ہوتو صدقۂ فطر اس کا کفّارہ ہوجائے۔
حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ کا روزہ آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتا ہے جب تک صدقۂ فطر ادا نہ کرے۔ مالکِ نصاب پر واجب ہے کہ اپنے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے دو کلو ۴۵ گرام گیہوں یا اس کی قیمت فقراء و مساکین یا مدارس اہلسنت کے طلبہ کو دے۔ صدقۂ فطر نماز عید سے پہلے ادا کرنا بہتر ہے بعد نماز بھی دے سکتے ہیں۔ جن لوگوں کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے انہیں صدقۂ فطر بھی دیا جاسکتا ہے۔
٭  عید الفطر  :-  عیدالفطر کا دن بندۂ مومن کے گناہوں کی بخشش اور انعام و اکرام کا دن ہوتا ہے بشرطیکہ بندۂ مومن شرعی حدود میں رہ کر عید کی خوشی منائے اور اس روز خوشی کا اظہار کرنا سنّت ہے۔ عید کی نماز واجب ہے۔
حضرت وہب بن منّبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بھی عید آتی ہے شیطان چلّا چلّا کر روتا ہے اس کی بد حواسی دیکھ کر تمام شیاطین اس کے گرد جمع ہو کر پوچھتے ہیں اے آقا تو کیوں غضب ناک ہے اور اداس ہے وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آج کے دن اُمّتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بخش دیا ہے لہٰذا تم انہیں لذّتوں اور خواہشِ نفسانی میں مشغول کردو۔
٭  عید کی نماز پڑھنے کا طریقہ  :-  پہلے اس طرح نیت کریں۔ نیت کی میں نے دو رکعت نماز واجب عیدالفطر کی چھ زائد تکبیروں کے ساتھ واسطے اللہ تعالیٰ کے منہ میرا کعبہ شریف کی طرف، پھر کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہتے ہوئے باندھ لیں۔ ثنا پڑھنے کے بعد تین تکبیریں کہی جائیں گی اور دوسری رکعت میں الحمد کے بعد سورت ملانے کے بعد تین تکبیریں کہی جائیں گی اس طرح نماز عید میں کل چھ تکبیریں زائد ہیں۔
٭  عید کے مستحبات  :-  عید کے دن اِن پر عمل کرنا مستحب ہے۔
حجامت بنوانا، ناخن کاٹنا، غسل کرنا، مسواک کرنا، اچھے اور صاف کپڑے پہننا، عمامہ باندھنا، انگوٹھی پہننا، خوشبو لگانا، فجر کی نماز محلّے کی مسجد میں پڑھنا۔ عید گاہ جلد جانا، نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا، عید گاہ کو پیدل جانا، دوسرے راستے سے واپس آنا۔ نماز کو جانے سے پہلے طاق عدد میں یعنی تین ، پانچ ، سات کھجوریں کھالینا۔
٭  شوال کے روزے  :-  شوال کے مہینے میں چھ دن کے روزے جنہیں شش عید کے روزے بھی کہا جاتا ہے اس کے رکھنے سے بڑا ثواب ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر اس کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسا نکل گیا جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔( طبرانی  اوسط)
                رمضان المبارک کے اہم واقعات
۳؍ رمضان المبارک        :-       وصال خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا
۱۰؍رمضان المبارک        :-       وصال ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا
۱۲؍رمضان المبارک        :-       وصال حضرت علاّمہ حسن رضا رحمۃ اللہ علیہ
۱۴؍رمضان المبارک        :-       وصال حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ
۱۷؍رمضان المبارک       :-       جنگ بدر   ۲   ۔؁ھ وصال ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہا
۱۸؍رمضان المبارک        :-       وصال حضرت مولانا ریحان رضا خاں رحمۃ اللہ علیہ
۲۶؍رمضان المبارک       :-       شبِ قدر
۲۷؍رمضان المبارک       :-       شہادت امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ





..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg