Instagram

Saturday, 20 May 2017

Ramzan K Teen Ashre Awr Un Ki Khusoosiyat

رمضان کے تین عشرے اور ان کی خصوصیات
ڈاکٹر مشاہدرضوی آن لائن ٹیم


حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ رمضان کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کاابتدائی حصہ "رحمت"ہے،درمیانی حصہ"مغفرت"اور آخری حصہ"دوزخ سے نجات"کا ہے۔امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی شعب الایمان میں حدیث پاک ہے:اور یہ ایسا مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت کاہے، درمیانی حصہ مغفرت کاہے اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی کاہے۔(شعب الایمان للبیھقی،فضائل شھررمضان،حدیث نمبر3455، مشکوۃ المصابیح ، کتاب الصوم، ص 173/174،زجاجۃ المصابیح ج1،، کتاب الصوم،ص541)پہلا دہا رحمت ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بغیر اللہ تعالی کی توفیق کے کوئی عمل نہیں ہوسکتا،روزہ رکھنے،تراویح پڑھنے،قرآن شریف سننے اور پڑھنے کی توفیق نہ دیتا تو ہم کیا کرتے؟اللہ تعالی کی رحمت ہے کہ شروع رمضان ہی سے ان عبادتوں کی توفیق عطا فرمائی ،اس لئے یہ دہا رحمت ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے کہ نیکیویں سے برائیاں معاف ہوجاتی ہیں،تو جب پہلے دہے میں توفیق ہونے کی وجہ سےنیکیاں شروع ہوئیں اور ان کی وجہ سے گناہ معاف ہوگئے تو دوسرا دہا مغفرت کا ہوا۔گناہ معاف ہونا ہی دوزخ سے بچاتا ہے،اس لئے تیسرا دہا دوزخ سے نجات کا ہوا۔اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں:ایک تو یہ کہ جن کو روزے اور تراویح نصیب نہیں ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے کوئی ایسا برا کام ہوا ہے ،خدائے تعالی نہيں چاہتا کہ وہ روزے رکھیں،تراویح پڑھیں،جس کی وجہ سے ان کی مغفرت ہوجائے،دوزخ سےنجات مل جائے۔
    حضرات!یہ بہت خوفناک بات ہے؛توبہ کرنا چاہئے!پھر جن لوگوں نے روزے رکھے،تراویح پڑھی،قرآن مجید سنا اور تلاوت کی وہ اپنے ان اعمال پر ناز نہ کریں اور اسے کچھ اپنا کمال نہ سمجھیں،جت تک کوئی بات من جانب اللہ دل میں نہيں ڈالی جاتی،آدمی کچھ نہیں کرسکتا،اوریہ خدائے تعالی کے اختیار میں ہے،جب تک ادھر سے مدد نہ ہو کچھ نہیں ہوسکتا،اس لئے فخر نہ کریں۔ہاں اس بات پر خوش ہونا چاہئے کہ اللہ تعالی نے ہماری مدد فرمائی،توفیق دی،ہم نے روزہ رکھا،تراویح پڑھی،قرآن شریف سنا اور پڑھا۔ملخص از:مواعظ حسنہ،ج1،188/191


..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg