Instagram

Saturday, 20 May 2017

Ramzan Ul Mubarak Awr Hamari Zimmedariyan

 رمضان المبارک اور ہماری ذمہ داریاں 
از: علامہ محمد عبدالمبین نعمانی صاحب قبلہ
(دارالعلوم قادریہ ، چریاکوٹ 

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
     الحمدﷲ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سیّد المرسلین وعلیٰ آلہٖ و صحبہٖ اجمعین۔

    رمضان المبارک یقینا اہلِ ایمان کے لیے بڑا بابرکت اور رحمتوں بھرا مہینہ ہے۔ اس ماہِ معظم میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ نیکیوں کے ثواب میں اور دنوں کی بہ نسبت اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ بڑے بڑے پاپی بھی اس موسمِ رحمت میں خدا کی طرف رجوع کر کے اپنے دامنِ مراد کو بھرتے نظر آتے ہیں۔ نمازیوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے، مساجد کی رونق دوبالا ہو جاتی ہے۔ قرآن پاک پڑھنے اور سننے کا ماحول بن جاتا ہے۔ سروں پر ٹوپیاں بھی نظر آنے لگتی ہیں۔ خیر خیرات کا بھی دور دورہ ہو جاتا ہے۔ اپنے غریب و محتاج بھائیوں کے ساتھ غم گساری کا جذبہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اہلِ ثروت لوگ زکوٰۃ و صدقات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگتے ہیں… تاہم ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اس پر نور اور پر بہار موقع پر کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سے نادانی یا غفلت میں کچھ کوتاہیاں بھی ہو جاتی ہیں، یا ایسا تو نہیں کہ ہم مزید جو ثواب بہ آسانی کما سکتے ہیں، ان سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس لیے ذیل میں چند تجاویز اپنے اسلامی بھائیوں کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہیں تا کہ ذرا سی توجہ سے ہم مزید ڈھیروں ثواب کے مستحق بن جائیں اور اپنی مرادوں کی جھولیاں خوب خوب بھرلیں، اور شیطان کی چالوں سے ہوشیار ہو جائیں۔
روزہ نہ رکھنے والے:
(۱)    روزۂ رمضان کی جو اہمیت ہے اس کو جان کر اکثر مسلمان روزہ ضرور رکھتے ہیں لیکن بعض ایسے بھی مسلمان ہیں جو اس نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں، کچھ چھپے اور کچھ کھلے عام کھاتے پھرتے بھی نظر آتے ہیں، ایسے مسلمانوں کو سمجھانے اور انھیں غیرت دلانے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً جو کھلے عام کھاتے پیتے ہیں دوہرے مجرم ہیں ایک تو روزہ نہ رکھنے کے دوسرے اس گناہ کے برملا اظہار کرنے کے، اور یہ گناہ بڑا سخت ہے یہاں تک کہ اسلامی حکومت کو حکم ہے کہ ایسے پاپیوں کو قتل کر کے روے زمین کو ان سے پاک کردے، ان کو اللہ کی اس زمین پر جینے اور چلنے پھرنے کا کوئی حق ہی نہیں۔ اور اسلامی حکومت نہیں تو ان کے ساتھ سختی کرنے کا حکم ہے، ان کا بائی کاٹ کریں ان سے لین دین بند کر دیں، ان سے ہر طرح کے معاملات ختم کر دیں، ورنہ خود بھی گنہ گار ہو ں گے۔
رمضان کے دنوں میں ہوٹلوں پر بندش:
(۲)    رمضان کے مہینے میں بعض مسلمان محض پیسہ کمانے کی دُھن میں اپنے ہوٹل کھلے رکھتے ہیں اور پردے سے یا بے پردہ بے روزہ داروں کو کھانا کھلاتے ہیں یہ بھی شریعت اسلامیہ میں گناہ اور جرم ہے اور اس عمل سے ماہ رمضان کی حرمتوں کو پامال کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، لہٰذا ایسے ہوٹل والوں کو سمجھانے کی کوشش کی جائے کہ چند دنیا کے سکوں کے بدلے رمضان کی بے حرمتی کیوں کرتے ہیں۔ دوسروں کے ساتھ خود بھی کیوں گناہوں کی گٹھری اپنے سر پرلادتے ہیں  اگر یہ ہوٹل والے نہ مانیں تو ان کے ساتھ بھی سختی کریں ہو سکے تو بزور اُن کے ہوٹل بند کرائیں، ورنہ ان کے ساتھ بھی بائی کاٹ کا معاملہ کریں۔ جو دن میں ہوٹل کھلا رکھے، افطار کے بعد اس کے ہوٹل سے کوئی سامان نہ خریدیں۔ ان شاء اللہ اس تدبیر سے ضرور اثر پڑے گا اور اس گناہ کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ کوئی ہوٹل والا اگر کسی کو گالی دے دے تو وہ اس کے وہاں سے کھانا پینا بند کر دیتا ہے، تو جو رمضان المبارک کے تقدس کو پامال کرے وہ زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کے وہاں سے کھانا پینا بند کر دیا جائے۔
اپنے روزوں کو مکروہات سے بچائیں:
(۳)    رمضان شریف کی ساری بہاریں روزوں کی وجہ سے ہیں، لہٰذا ہمیں اس بات کا بھی پورا پورا خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارے روزے خراب نہ ہونے پائیں جو امور مفسداتِ روزہ ہیں یعنی جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ان کو اچھی طرح سمجھیں اور جاننے کی کوشش کریں تا کہ روزہ ٹوٹنے نہ پائے، یوں ہی مکروہات سے بچنے کی بھی کوشش کریں، آدمی مکان کپڑا اور کھانے پینے میں ہر طرح کا اہتمام کرتا ہے۔ کمی کوتاہی کو ہر ممکن دور کرنے کی کوشش کرتا ہے، کپڑا عمدہ ہو، کھانا لذیذ اور وافر ہو، مکان بہترین ہو لیکن روزے کے بارے میں غفلت سے کام لیتا ہے اور اگر بتایا جائے کہ اس کام سے روزہ مکروہ ہوتا ہے تو کہتا ہے مکروہ ہی تو ہوتا ہے ٹوٹتا تو نہیں۔ گویا آدمی دنیا کے کاموں میں تو مکروہات کو پسند نہیں کرتا مگر امر آخرت اور عبادت الٰہی میں کوتاہیوں کو روا رکھتا ہے، یہ اس بات کی علامت ہے کہ آج کا مسلمان دنیا کو ترجیح دیتا ہے اور آخرت کی طرف سے غفلت کا شکار ہے۔ جو اخروی نقصان کا پیش خیمہ اور خدا کی ناراضی کا باعث ہے۔ اس کے لیے مسائل کی کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے، یا ایسی محافل قائم ہوں جہاں روزے کے مسائل اجتماعی طور پر بیان کیے جائیں، یا کسی ایک نماز کے بعد روزانہ ائمۂ مساجد رمضان و روزے کے مسائل سے قوم کو آگاہ کریں اور جنھیں یہ مسائل معلوم ہوں وہ دوسروں تک پہنچائیں۔
کھانے میں اعتدال:
(۴)    رمضان کے ایام میں بہت لوگ کھانا اس قدر کھاتے ہیں کہ طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے اور کچی ڈکاریں آنے لگتی ہیں، جس سے روزہ کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ رمضان میں بھی اعتدال کے ساتھ کھائیں تا کہ معدہ متاثر نہ ہو اور بدن میں روزے کی حالت میں جو قوت ملنی چاہیے اس میں فرق نہ آنے پائے۔ محض زیادہ کھانے سے آدمی تندرست نہیں رہتا، بلکہ اعتدال کے ساتھ کھانے سے غذا اپنا پورا کام کرتی ہے اور بدن کو قوت ملتی ہے۔
تراویح سے متعلق ضروری باتیں:
(۵)    تراویح کے معاملے میں کئی خرابیاں معاشرے میں گھس آئی ہیں۔ اوّل یہ کہ عام طور سے لوگ چند روز تو خوب شوق سے تراویح میں شریک ہوتے ہیں، پھر ایک عشرہ گزرتے ہی چھوڑ بیٹھتے ہیں۔ کہیں ایسا بھی ہوتا ہے کہ آٹھ دس روز کی تراویح میں پورا قرآن سن کر اس کے بعد تراویح چھوڑ دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ پورا قرآن تو سن لیا اب ضرورت نہیں۔ حالاں کہ پورے ماہ رمضان میں تراویح سنتِ موکدہ ہے۔ ثانیاً: تراویح میں اس حافظ کو ترجیح دیتے ہیں جو زیادہ تیز قرآن پڑھے، اور کم وقت لگائے، چاہے کچھ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ حالاں کہ ترتیل و تجوید سے قرآن پڑھنا ضروری ہے، اس میں صرف یہی نہیں کہ تراویح نہیں ہوتی بلکہ گناہ بھی ہوتا ہے۔
    حضرت صدر الشریعہ(مولانا امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ) فرماتے ہیں:
    ’’خوش خواں (اچھی آواز سے پڑھنے والے) کو امام بنانا نہ چاہیے بلکہ درست خواں (صحیح پڑھنے والے) کو بنائیں۔‘‘  (عالم گیری)
    افسوس صد افسوس! کہ اس زمانے میں حفاظ کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہے، اکثر تو ایسا پڑھتے ہیں کہ یعلمون تعلمون  کے علاوہ کچھ پتا نہیں چلتا، الفاظ و حروف کھا جایا کرتے ہیں، جو اچھا پڑھنے والے کہے جاتے ہیں انھیں دیکھیے تو حروف صحیح نہیں ادا کرتے، ہمزہ، الف، عین اور ذ۔ ز۔ ظ اور ث۔ س۔ ص۔ ت۔ ط وغیرہا حروف میں تفرقہ (امتیاز) نہیں کرتے، جس سے قطعاً نماز ہی نہیں ہوتی۔ فقیر (یعنی صدر الشریعہ) کو انھیں مصیبتوں کی وجہ سے تین سال ختم قرآن مجید سننا نہ ملا۔ مولیٰ عز و جل مسلمان بھائیوں کو توفیق دے کہ مَا اَنْزَلَ اﷲُ  (جیسا کہ اللہ نے نازل فرمایا ہے) پڑھنے کی کوشش کریں۔
                         (بہارِ شریعت: ۴/۳۵)
    اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جن دنوں میں سورئہ تراویح پڑھی جاتی ہے اس میں بھی خوب جلد جلد پڑھنے کو کمال سمجھتے ہیں چاہے حروف ادا ہوں یا نہ ہوں، اس طرح تو سورۂ تراویح بھی نہیں ہوتی محض اٹھا بیٹھی ہوتی ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو پانچ منٹ پہلے تراویح ختم کر دے، اس کی تعریف ہوتی ہے۔ اور جو پانچ منٹ تاخیر کر دے۔ اگرچہ صحیح اور صاف پڑھائے۔ اس کو اچھا نہیں سمجھتے، معلوم نہیں، ۵۔ ۷ منٹ میں کون سا بڑا کام ہو پائے گا اور کتنی تجارت فروغ پا جائے گی، تراویح بڑی ہو یا سورہ والی ہر ایک میں قرآن پاک صحت سے پڑھنا فرض ہے۔ آج کل مسلمان چند منٹ بچانے کے لیے قرآن غلط پڑھتے یا پڑھواتے ہیں یہ قابل افسوس ہے اور گناہ بھی۔ مسلمان بلکہ انسان اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور عبادت میں نماز سب سے اہم ہے اس کو لا پروائی سے ادا کرنا بڑا گناہ ہے۔ہاں اگر صحیح خواں کے ساتھ کوئی خوش خواں بھی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ بہتر ہے کہ قرآن کو خوش آوازی سے مزین کرنا بھی اچھا ہے۔
تراویح میں تجارت:
(۶)    آج کل تراویح پڑھنا اور پڑھوانا پیسہ لینے دینے کے لیے ہوتا ہے، بالعموم یہی حال ہے۔ الا ماشاء اللہ، اس طرح تراویح تو خراب ہوتی ہی ہے۔ ثواب سے بھی امام و سامع دونوں محروم ہو جاتے ہیں، بلکہ الٹے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ کتنی وہ مسجدیں جہاں پیسے کم ملتے ہیں رمضان میں ویران ہو جاتی ہیں، اور جہاں زیادہ ملتے ہیں، حافظوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے کہ ہمیں موقع دیا جائے، ہمیں موقع دیا جائے۔ اس کے لیے سفارشیں ہوتی ہیں اور دبائو ڈلوائے جاتے ہیں۔ گویا مسجد نہیں ہوئی نیلام مارکیٹ ہوگئی، کتنی جگہ مستقل امام جو حافظ بھی ہے، اس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور دوسرے کو جگہ دے دی جاتی ہے کہا جاتا ہے کہ امام صاحب کہیں اور جا کر پڑھائیں یہ ظلم اور بدخلقی نہیں تو اور کیا ہے؟
    حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ اس صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے مسئلہ ارقام فرماتے ہیںکہ: آج کل اکثر رواج ہو گیا ہے کہ حافظ کو اجرت دے کر تراویح پڑھواتے ہیں یہ ناجائز ہے۔ دینے والا اور لینے والا دونوں گنہ گار ہیں۔ اجرت صرف یہی نہیں کہ پیش تر (پہلے) مقرر کر لیں کہ یہ لیں گے یہ دیں گے بلکہ اگر معلوم ہے کہ یہاں کچھ ملتا ہے اگر چہ اس سے طے نہ ہوا ہو، یہ بھی ناجائز ہے کہ المعروف کالمشروط  (جو چیز مشہور و معروف ہے وہ مشروط ہی کی طرح ہے۔)
    ہاں اگر کہہ دے کہ کچھ نہیں دوں گا، یا نہیں لوں گا، پھر پڑھے اور (لوگ) حافظ کی خدمت کریں تو اس میں حرج نہیں کہ الصریحُ یقوقُ الدلالۃ (جو بات صراحۃً کہہ دی جائے وہ اس پر فوقیت رکھتی ہے جو دلالت سے ثابت ہو۔) (بہارِ شریعت، ج۴ ص۳۵)
    یہ مسئلہ آج کے لیے بڑا لمحۂ فکریہ ہے، اس کے چکر میں کتنی مسجدیں ویران ہو گئیں، کتنی مساجد میں گستاخانِ رسول کا قبضہ ہو گیا۔ پھر بھی بعض اہلِ علم اس لین دین کو جائز کرنے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں، پیسے اور مال داری کی بڑی فکر ہے۔ ایمان و عقیدے کو بچانے کی طرف توجہ ہی نہیں۔ پیسے کی ایسی ہوڑ مچی ہوئی ہے کہ بعض حافظ اپنے گائوں گھر کی مسجدیں چھوڑ کر کے ممبئی یا دوسرے بڑے شہروں میں چلے جاتے ہیں، پھر جب ان کو مقابلے کے میدان میں شکست ہوتی ہے یا جگہ نہیں ملتی تو ان کا ہارٹ فیل ہونے لگتا ہے حالاں کہ ان کو خوشی خوشی اپنے گھر واپس آکر اپنی مسجد آباد کرنی چاہیے اور خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ایک بڑی لعنت سے نجات ملی۔میرے سامنے خود ایسے واقعات آئے ہیں۔
    بعض ایسے اللہ والے حافظ بھی ملے کہ انھیں نذرانہ دیا جانے لگا تو چھوڑ کر بھاگ اٹھے اور نہیں لیا۔ بعض رونے لگے کہ میں نے اللہ کا کلام پیسہ لینے کے لیے نہیں سنایا ہے، بعض ایسے بھی ملے جنھوں نے یہ سوچ کر لے لیا کہ اب تو چندہ جمع ہو گیا ہے واپس ہونا مشکل ہے، اس لیے لے لیا مگر لے کر اسے غربا میں تقسیم کر دیا یا کسی مسجد یا مدرسہ میںجہاں ضرورت تھی دے دیا۔ یقینا ایسوں کا کردار قابلِ تقلید ہے اور دوسروں کے لیے درسِ عبرت۔
گُل، کھینی اور روزہ:
(۷)    گُل، کھینی اور تمباکو کے رسیا حضرات تو ماہِ رمضان میں بھی نہیں مانتے اور اپنے روزے ان چیزوں کو استعمال کر کے برباد کر دیتے ہیں، بعض علما نے اگرچہ احتیاط کے ساتھ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے، مگر مکروہ سب نے گردانا ہے۔ پھر ان کا استعمال کر کے روزے کو خطرے میں ڈالنا اور مکروہ کر لینا کہاں کی عقل مندی ہے، خصوصاً جب کہ بعض علما نے روزہ ٹوٹنے کا بھی فتویٰ دیا ہے۔ آدمی کو جہاں جان اور مال کا خطرہ ہو تا ہے نہیں جاتا، جہاں روزہ نماز چلے جانے کا خطرہ ہو وہاں سے تو ضرور بچنا چاہیے۔ اور جب کہ احتیاطیں بھی ایسی ہوں کہ ان پر عمل کرنا نہایت دشوار ہو، جیسا کہ گُل کا معاملہ ہے، اس کی تیزی کی وجہ سے اس کے اثرات بالعموم حلق تک جا پہنچتے ہیں اور روزہ ٹوٹ جاتا ہے، مگر لگانے والا یہ سمجھتا ہے کہ فلاں مفتی صاحب نے تو جائز قرار دیا ہے۔ اسے نہ احتیاطیں یاد رہتی ہیں اور نہ ان پر وہ عمل کر پاتا ہے۔اور روزہ جیسا فرض ضائع کر بیٹھتا ہے۔
ماہ رمضان اور زکوٰۃ:
(۸)    رمضان المبارک میں نیکیوں کا جذبہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے اکثر حضرات اپنی زکوٰۃ اور فطرے رمضان میں نکالتے ہیں اور غربا و مساکین میں تقسیم کرتے ہیں، اس سلسلے میں ایک بے احتیاطی تو یہ ہوتی ہے کہ بہت سے لوگ وہ ہوتے ہیں جن پر زکوٰۃ کا حولانِ حول (سال گزرنا) رمضان سے قبل ہوتا ہے، مثلاً رجب میں یا شعبان میں یا اس سے پہلے کسی مہینے میں لیکن یہ لوگ ادائیگی کو موخر کر کے رمضان میں لے جاتے ہیں اور زیادہ ثواب کے چکر میں پڑ کر الٹے فرض کی تاخیر کا گناہ اپنے سر لادتے ہیں۔ وقت سے پہلے تو آدمی زکوٰۃ دے سکتا ہے لیکن وقت پورا ہو جانے کے بعد ایک دن کی بھی تاخیر اور ٹال مٹول کرنا ہرگز جائز نہیں بلکہ گناہ ہے، ہاں اگر کسی کی شوال میں ذی قعدہ یا ذی الحجہ میں زکوٰۃ ادا کرنی واجب ہوتی ہے وہ تقدیم پر عمل کرتے ہوئے رمضان ہی میں نکال دے تو زکوٰۃ بھی ادا ہوگی، رمضان کا ثواب بھی ملے گا اور غریبوں کی پیشگی مدد کرنے پر بھی وہ مزید اجر کا مستحق ہوگا۔ ہاں جن کی زکوٰۃ کا وقت رمضان ہی میں ہے ان کو تو بہرحال رمضان ہی میں نکالنا ضروری ہے، تاخیر جائز نہیں۔ آدمی جس دن مالکِ نصاب ہوا، ایک سال گزرنے کے بعد اس دن اس کو اپنے مال کی زکوٰۃ دے دینا فرض ہے۔ ظاہر ہے مالکِ نصاب ہونے کے لیے رمضان ہی کا مہینہ ضروری نہیں سال کے کسی بھی مہینے میں آدمی مالکِ نصاب بن سکتا ہے۔
    زکوٰۃ کے سلسلے میں یہ بھی بہت ضروری ہے کہ مدارس کو جب زکوٰۃ دیں تو ذرا توجہ دے کراس کی تحقیق بھی کر لیں کہ وہ مدرسہ زکوٰۃ کا مستحق ہے یا نہیں۔ اور جو مدارس مصرفِ زکوٰۃ ہیں ان کو دینے کے ساتھ ہی ساتھ اپنے پاس پڑوس کی بھی ضرور خبر لیں۔ رشتہ داروں کو بھی دیکھ لیں، ان میں جو مستحقِ زکوٰۃ ہو اسے توجہ دے کر زکوٰۃ کی رقم دیں کہ عام طور سے باوقار اور شریف غربا حیا کی وجہ سے مانگتے نہیں اور کتنے مانگنے والے بلکہ اکثر مانگنے والے خوش حال اور بدعمل پائے جاتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ ان سب کی تحقیق مشکل ہے، لیکن جو غربا ہماری تحقیق میں آچکے ہیں، جن کے احوال سے ہم اچھی طرح واقف ہیں، ان کو محض اس لیے نظر انداز کر دینا کہ وہ دروازے پر مانگنے نہیں آتے، کسی طرح درست نہیں، بلکہ ان کی طرف سے غفلت کرنے پر مواخذۂ آخرت سے بھی ڈرنا چاہیے۔رمضان المبارک کا مہینہ غم گساری اور ہم دردی کا مہینہ ہے۔ اس ماہِ مبارک میں ہمیں اپنے قریبی مستحقین پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔اور ان کے دکھ درد کا مداواکرنا زیادہ ضروری سمجھنا چاہیے۔
رمضان میں دولتِ تہجد پانے کا آسان طریقہ:
(۹)    نمازِ تہجد ایک ایسی نماز ہے جس کی اہمیت قرآنِ پاک سے بھی ثابت ہے اور حدیثِ رسول سے بھی۔ قرآن پاک میں ہے:
      وَمِنَ اللَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ (اسراء : ۷۹/۱۷) (اور رات کے کچھ حصے میں تہجد کرو، یہ خاص تمھارے لیے زیادہ ہے)
    یہ نمازحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی۔ جمہور کا یہی قول ہے۔ لیکن سرکار کی امت کے لیے یہ نماز سنت ہے، اس کا وقت نمازِ عشا کے بعد ہے جب سو کر اٹھے۔ اس کی رکعتیں ۲؍ سے ۸؍ تک سنت ہیں۔ جس قدر ہو سکے اس کے ادا کی کوشش کرنی چاہیے۔ رمضان المبارک اس کے لیے بڑا سنہرا موقع ہے۔ اور دنوں میں عشا کے بعد سو کر اٹھنا اور طلوعِ فجر سے پہلے اسے پڑھنا ضرور مشکل ہے، لیکن رمضان میں آدمی عشا کے بعد سو کر سحری کے لیے اٹھتا ہے، وہی تہجد کا وقت ہے۔ سحری تیار ہو تو کھا لے پھر پڑھے یا پہلے پڑھ لے پھر سحری کرے۔ اس پورے ماہِ رمضان میں پڑھتے پڑھتے ہو سکتا ہے بعض اسلامی بھائیوں کو مستقل تہجد کی بھی عادت بن جائے تو پھر کیا کہنا۔ لہٰذا ماہِ رمضان میں ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ تہجد کی نماز چھوٹنے نہ پائے، کہ اس سے زیادہ آسانی کسی اور مہینے میں نہیں مل سکتی۔
مائک پر تراویح:
(۱۰)    مائک لگا کر تراویح پڑھانے کا رواج بھی بہت عام ہوتا جا رہا ہے، جس میں قرآنِ پاک کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ ہر سننے والے پر ۱۴؍ سجدے بھی واجب ہوتے ہیں، جب کہ اکثر ادا نہیں کرتے اور گنہ گار ہوتے ہیں۔ مائک کے رسیا حضرات کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اس پر غور کرنے کی اور اصلاح کی ضرورت ہے کہیں کہیں تو رات بھر مائک پر شبینہ پڑھایا جاتا ہے، اور تیز آواز سے پورا علاقہ گونجتا ہے۔ اس سے بھی جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں، محتاجِ بیان نہیں۔ قرآن اس لیے نازل نہیں ہوا کہ کسی کی نیند میں خلل ڈالا جائے۔ یہاں بھی سجدۂ تلاوت کا وجوب اور اسے ادا نہ کرنے کا گناہ الگ قابلِ توجہ ہے۔ اور جلد پڑھنے کی خرابی تو شبینہ میں بہت عام ہے چاہے حروف ادا ہوںیانہ ہوں لہٰذا شبینے کا اہتمام بھی بہت احتیاط کے ساتھ کرنا چاہیے۔
(۱۱)    آج کل رمضان شریف میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ لوگ افطار کا سامان مسجد میں بھیج دیتے ہیں اور بوقت افطار محلے کے روزہ دار افراد اور بچے بھی افطار کے لیے آجاتے ہیں مسجد ہی میں کھاتے پیتے اور مسجد کو آلودہ کرتے ہیں، یہ جائز نہیں، اگر کوئی امام یا مؤذن یا مسافر کے لیے افطاری کا سامان بھیجتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ثواب کا کام ہے ، لیکن عام لوگوں کے لیے اس صورت میں بھیجنا درست نہیں جب کہ لوگ مسجد ہی میں کھاتے پیتے ہیں، کیوںکہ روزہ دار ہو یا بے روزہ دارماہِ رمضان ہو یا غیر رمضان، مسجد میں کھانے پینے کی ممانعت ہے، اجازت صرف معتکف (اعتکاف کرنے والے) کو ہے۔ اس کو بھی حکم ہے کہ مسجد کو گندی نہ کرے، حضرت صدر الشریعہ فرماتے ہیں:
    معتکف کے سوا اور کسی کو مسجد میں کھانے پینے، سونے کی اجازت نہیں اور اگر یہ کام کرنا چاہے تو اعتکاف کی نیت کر کے مسجد میں جائے اور نماز پڑھے (اگر مکروہ وقت نہ ہو) یا ذکر الٰہی کرے پھر یہ کام کر سکتا ہے۔ (رد المحتار)        (بہارِ شریعت: ۵/۱۵۲- ۳/۱۵۴)
    اور فرماتے ہیں: ہندوستان میں تقریباً ہر جگہ رواج ہے کہ ماہ رمضان میں عام طور پر مسجد میں روزہ افطار کرتے ہیں، اگر خارج مسجد کوئی جگہ ایسی ہو وہاں افطار کریں جب تو مسجد میں افطار نہ کریں۔ ورنہ داخل ہوتے وقت (نفلی) اعتکاف کی نیت کریں اب افطار کرنے میں حرج نہیں مگر اس بات کا اب بھی لحاظ کرنا ہوگا کہ مسجد کافرش، چٹائی آلودہ نہ کریں۔      (بہارِ شریعت ۱۶/۱۲۰)
    واضح رہے کہ مسجد کا فرش جہاں جوتے اتار کر جاتے ہیں وہ بھی مسجد ہے اس کا اور اندرونی حصۂ مسجد کا ایک ہی حکم ہے۔ یوں ہی برآمدہ یا دالان جو فرش کے بعد ہوتا ہے وہ بھی مسجد ہے۔ اور تمام لوگوں کا روزانہ رمضان میں اعتکاف و ذکر کا اہتمام کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ پھر نئے لوگ بھی آتے رہتے ہیں۔ ہر ایک حکم شرع سے واقف بھی نہیں ہوتا تو سبیل اسلم (بہتر طریقہ) یہی ہے کہ خارج مسجد جو جگہ ہو وہاں ہی افطار کا اہتمام کریں، کچھ لوگ غلطی سے یہ بھی سوچتے ہیں کہ مسجد میں افطار کرنا کوئی فضیلت کی بات ہے، یہ محض غلط فہمی ہے۔ اسلام میں ایسا کچھ حکم نہیں، زیادہ بہتر یہی ہے کہ آدمی اپنے گھر سے افطار کر کے ہی آئے، اگر مکان کچھ دور ہو تو مختصر افطار کر کے نمازِ مغرب پڑھے اور نماز کے بعد باقی افطاری کو استعمال کرے، بالعموم رمضان شریف میں مغرب کی نماز ذرا تاخیر ہی سے ہوتی ہے، نمازیوں کے گھروں سے آنے کا انتظار کیا جاتا ہے، اور یہی بہتر بھی ہے، البتہ کہیں کہیں دیکھا گیا ہے کہ مؤذن صاحب نے مختصر افطاری کی اور اقامت شروع کر دی، امام صاحب آئے انھوں نے نماز بھی شروع کر دی اور اکثر نمازی ابھی گھروں میں یا راستے میں ہیں اس طرح ان کے آتے آتے ایک یا دو رکعتیں چھوٹ جاتی ہیں، نماز میں اس قدر جلدی نہیں کرنی چاہیے جس کے سبب بہت سے مصلیوں کی نماز یا رکعت چھوٹ جائے اور گھر سے آنے والوں کو بھی چاہیے کہ تاخیر نہ کریں۔ مختصر افطاری پر ہی اکتفا کریں، اور ایک صورت بہتری کی یہ ہے کہ جماعت کا وقت مقرر کر لیں مثلاً افطاری کے وقت سے پانچ یا سات یا دس منٹ کے بعد اقامت ہونا طے ہو جائے۔ سہولت اور آنے والوں کی عادت کے مطابق ہی وقت معین ہو تو اس میں آسانی ہے۔ اب کوئی تاخیر کرتا ہے تو وہ خود ذمے دار ہے، ایسا نہ ہونے پر دیکھا جاتا ہے کہ جن کی کوئی رکعت چھوٹتی ہے وہ ہنگامہ کرنے لگتے ہیں۔ کہیں مؤذن کو برا کہا تو کبھی امام کی شان میں گستاخی کی۔ نوبت گالی گلوچ تک آجاتی ہے۔لہٰذا مسجد کی انتظامیہ اور امام و مؤذن کو اس کی طرف بھی خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
افطار میں کچی پیاز اور لہسن منع ہے:
(۱۲)    افطاری کی اشیا سے متعلق یہ مسئلہ بھی قابل توجہ ہے کہ، مسجد میں جو افطاری آتی ہے اس میں کچی پیاز شامل نہ ہو بلکہ گھروں میں جو افطاری ہو اس میں بھی اس کی احتیاط برتی جائے کہ مسجد میں کچی پیاز، لہسن کھانا منع ہے اور یوں ہی انھیں کھا کر مسجد میں جانا اور نماز پڑھنا بھی مکروہ، ہاں افطار کرنے اور نماز پڑھنے کے بعد جو کھائیں اس میں اگر کچا لہسن پیاز ہو تو حرج نہیں جب کہ مسجد سے باہر یا گھر میں ہو۔جیسا کہ صدر الشریعہ فرماتے ہیں:
    مسجد میں کچا لہسن، پیاز کھانا یا کھا کر جانا جائز نہیں جب تک بو باقی ہو کہ فرشتوں کو اس سے تکلیف ہوتی ہے، حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: جو اس بدبودار درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کہ ملائکہ کو اس چیز سے ایذا ہوتی ہے جس سے آدمی کو ہوتی ہے۔ رواہ البخاری و مسلم عن جابر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ (اس حدیث کو امام بخاری و مسلم نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔)
    یہی حکم ہر اس چیز کا ہے جس میں بدبو ہو جیسے گندنا (لہسن سے مشابہ ایک ترکاری) مولی، کچا گوشت، مٹی کا تیل، وہ دیا سلائی جس کے رگڑنے میں بو آتی ہے۔ ریاح خارج کرنا وغیرہ وغیرہ، جس کو گندہ دہنی (منھ کی بدبو) کا عارضہ ہو یا کوئی بدبودار زخم ہو یا کوئی بدبودار دوا لگائی ہو تو جب تک بو منقطع (ختم) نہ ہو اس کو مسجد میں آنے کی ممانعت ہے۔(بہارِ شریعت ۳/۱۵۴، بحوالہ در مختار، رد المحتار)
معتکف کے لیے احتیاطیں:
(۱۳)    معتکف کو بھی مسجد میں احتیاط سے رہنا چاہیے، دنیا کی ضروری باتیں کرنا معتکف کو اگرچہ جائز ہے، مگر بے کار اور فضول باتوں سے اس کو بھی بچنا لازم ہے۔ یوں ہی شور شرابے سے بھی پرہیز کرے، مسجد کی چٹائیوں اور فرش کو بھی گندہ نہ کرے، دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی چاہیے کہ معتکف سے بلاوجہ کی باتیں نہ کریں، نہ اس کا وقت ضائع کریں نہ اس کے پاس شور کریں، اور شور کرنا تو یوں بھی مسجد میں منع ہے۔ بلکہ معتکف کی جہاں تک ہو سکے خدمت کریں اس کی ضروریات کا خیال کریں کہ یہ بہت بڑی سعادت ہے۔ معتکف کی عبادت اور اعتکاف کے ثواب میں شریک ہونے کا یہ بہترین طریقہ ہے۔اسی لیے قرآن پاک میں ارشاد ہوا- اَنْ طَھِّرا بَیْتِیَ لِلطَّائِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ (بقرہ: ۲/۱۲۵)  کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں، اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے۔
سحری کے وقت زوردار آواز سے پرہیز:
(۱۴)    سحری کے وقت بعض مساجد سے یا گھروں سے یا انجمنوں کے آفس سے بہت زور زور سے نعت خوانی یا مسلسل جگانے کی آوازیں آتی ہیں اس سے بچنا چاہیے، آواز معتدل ہو اور وقفے وقفے سے بیدار کریں تو یہ ضرورت کی وجہ سے ہے اس لیے اس میں حرج نہیں۔ کیوںکہ کچھ لوگ بیمار ہوتے ہیں، کچھ بہت پہلے اٹھنا نہیں چاہتے تو ان کی نیند اور آرام میں خلل ہوتا ہے، ہاں بالکل آخر وقت یعنی دس پندرہ منٹ باقی ہوں تو اس وقت نعت خوانی کر سکتے ہیں اور ۵- ۵ منٹ پر بیداری کی آواز بھی لگا سکتے ہیں تا کہ جو لوگ کسی وجہ سے اب تک نہ اُٹھے ہوں وہ اب جلد اٹھ کر سحری میں کچھ کھا پی لیں۔موبائیل اور اَلارم تو اب بہت عام ہو چکا ہے اگر روزہ دار حضرات اس کا اہتمام کریں تو جگانے والوں کا کام بہت کم ہو سکتا ہے اور بعض مقامات پر دیکھا بھی گیا ہے کہ کوئی کسی کو جگاتا نہیں، سب خود ہی اُٹھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
رمضان میں قرآن کو خوب تلاوت کریں:
(۱۵)    قرآنِ پاک کی تلاوت تو ہر مہینے میں بڑی فضیلت کی چیز ہے۔ لیکن ماہ رمضان خاص قرآن کا مہینہ ہے۔ رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی بطور خاص اس ماہ میں جبرئیل امین کے ساتھ قرآن پاک کا دور کیا کرتے تھے، اس لیے ہمیں بھی چاہیے کہ جس قدر ہو سکے قرآن کی تلاوت میں وقت گزاریں۔ افطاری وغیرہ خریدنے میں کچھ لوگ بہت وقت صَرف کرتے ہیں ان کو چاہیے کہ اپنے وقت کو بچا کر اس عمل خیر میں بھی صرف کریں اور نیکیوں کے مستحق بنیں، قرآن پاک کی تلاوت کے فضائل و برکات بے شمار ہیں ان کے بیان کی یہاں اس مختصر(مضمون)میں گنجائش نہیں کتب فضائل میں انھیں دیکھا جا سکتا ہے۔ فضائل قرآن از مولانا افتخار احمد قادری، المجمع الاسلامی مبارک پور سے شائع ہوئی ہے۔ اردو زبان میں اس موضوع پر سب سے ضخیم اور مستند کتاب ہے۔ اس کا مطالعہ بڑا مفید ہے۔ائمہ حضرات کو بھی چاہیے کہ اسے پڑھ کر مساجد میں سنائیں۔
روزہ اور پرہیزگاری:
(۱۶)    روزے کا اصل مقصد قرآن پاک نے یہ بیان کیا ہے کہ انسان کے اندر تقویٰ کو فروغ ملے۔ ارشادِ خداوندی ہے: 
    یٰأَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (بقرہ: ۲/۱۸۳)
    (اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمھیں پرہیزگاری ملے)
    یعنی روزے کی فرضیت اس لیے ہے کہ ایمان والے پرہیزگار ہو جائیں، گناہوں سے بچ جائیں اور آئندہ بھی ان میں گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا ہو جائے، آدمی بھوکا پیاسا اس لیے رہتا ہے اور حلال چیزوں کو خواہش کے باوجود اس لیے چھوڑ دیتا ہے کہ ربّ عزّ و جل راضی ہو جائے۔ تو حرام و ناجائز کام مثلاً جھوٹ، چوری، رشوت، حرام کمانا، دھوکا وغیرہ اعمالِ بد سے رمضان میں ضرور بچنا چاہیے۔اور پھر غیر رمضان میں کھانے پینے، جماع کی تو عام اجازت ہوتی ہے لیکن گناہوں سے بچنا توہر وقت لازم ہے اس لیے جب رمضان میں حلال سے بچ گئے تو حرام سے کچھ زیادہ ہی بچنے کا اہتمام کرنا چاہیے، گویا کھانے پینے جماع سے بچنے کا روزہ تو صرف ماہ رمضان میں ہوتا ہے مگر محرمات سے بچنے کا روزہ سال بھر کا ہے۔ اس لیے حدیث شریف میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    جو بری بات کہنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کچھ حاجت (یعنی پرواہ) نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔  (بخاری، ابودائود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، از ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
    ایک روایت میں ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ سِپَر (ڈھال) ہے (یعنی گناہوں سے روکنے والا) جب تک اسے پھاڑا نہ ہو۔ عرض کی گئی کس چیز سے پھاڑے گا فرمایا جھوٹ یا غیبت سے، (بیہقی، طبرانی)            (بہارِ شریعت: ۵/۱۲۴)
    ایک اور روایت اس طرح ہے- حضور نے فرمایا: روزہ اس کا نام نہیں کہ کھانے پینے سے باز رہنا ہو۔ روزہ تو یہ ہے کہ لغو اور بے ہودہ باتوں سے بچا جائے۔ اور فرمایا: بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ انھیں روزے سے سواے پیاس کے کچھ نہیں ملتا اور بہت رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ انھیں جاگنے کے سوا کچھ حاصل نہیں، (ابن ماجہ، نسائی وغیرہ)   (بہارِ شریعت: ۵/۱۲۴)
    آیت پاک کے ساتھ مذکورہ احادیث سے بھی معلوم ہوا کہ روزے کی حالت میں صرف بھوکے پیاسے رہنے پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ گناہوں سے بھی بچنے کی پوری پوری کوشش کرے کہ یہی اصل تقویٰ ہے۔ کیوں کہ جھوٹ، چغلی، غیبت، گالی دینا، بے ہودہ بکنا، کسی کو تکلیف دینا ویسے بھی ناجائز و حرام ہے۔ روزہ کی حالت میں اور سخت حرام ہے اور ان کی وجہ سے روزے میں کراہت آتی ہے۔ یعنی ان گناہوں کی وجہ سے آدمی روزہ و رمضان کی برکتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ جو بہت بڑا نقصان اور خسارہ ہے۔ اور ایسوں ہی کے لیے حدیث میں آیا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ان کو خدا کی رحمت سے دوری کی دعا کی ہے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین کہا ہے۔ حدیث میں فرمایا: جس نے رمضان پایا اُس نے روزے رکھ کر اپنے گناہوں کو معاف نہ کروایا وہ رحمت سے دور ہو، سرکار فرماتے ہیں میں نے کہا آمین، (حاکم، ابن حبان)    (بہارِ شریعت: ۵/۹۷)
دُعائے افطار کب پڑھے؟:
(۱۷)  اَللّٰھُمَّ  اِ نِّیْ لَکَ صُمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلٰی رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ
    (اے اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے روزہ رکھا اور تیرے ہی اوپر ایمان لایا اور تیرے ہی رزق پر افطار کیا)
    اس دعا کو افطار کر کے پڑھ لینا چاہیے۔ عام طور سے لوگ افطار سے پہلے ہی اس دعا کو پڑھ لیتے ہیں جب کہ یہ افطار کرنے کے بعد کی دعا ہے۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر افطار کرے پھر مذکورہ دعا پڑھے، ہاں درود شریف اوّل آخر ضرور پڑھ لینا چاہیے۔
افطار پارٹیاں:
    روزہ افطار کرانا یقینا بڑے ثواب کا کام ہے لیکن کوئی ثواب کا کام اسی وقت تک ثواب کا رہتا ہے جب تک کہ اس میں کوئی دنیاوی غرض اور رِیا نہ شامل ہو، ورنہ ثواب تو کجا اُلٹے وہ عذاب کا کام ہو جاتا ہے۔ اسی قبیل سے افطار کرانا بھی ہے کہ یہ کام خالص ثواب کا ہے اس کو اسی غرض سے انجام دینا چاہیے، نام و نمود اور شہرت کو اس میں داخل کرکے اس کے اُخروی فائدے کو ٹھیس پہنچانا اچھا نہیں۔ اسی قبیل سے سیاسی افطار پارٹیاں بھی ہیں کہ ان سے افطاری کرانے والوں کا مقصد اپنی سیاسی ساکھ مضبوط کرنا ہوتا ہے۔یہ کام خالص ثواب کا ہے، شہرت اور سیاسی مفاد سے اس کا کچھ تعلق نہیں۔ ایسی افطار پارٹیوں میں زیادہ تر غیر روزے دار حضرات اور غیر مسلم بھی حاضر ہوتے ہیں۔ یہ اور عجیب تر ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض ایک جشن اور نمائشی پروگرام ہوتا ہے۔ ثواب آخرت کا مقصد ہی مد نظر نہیں ہوتا، پھر پارٹیاں غیر مسلم حضرات بھی کراتے ہیں جو ثواب کے مستحق ہی نہیں۔
افطاری کی بہتات:
    کچھ لوگ اس قدر افطاریاں مساجد میں بھیج دیتے ہیں کہ وہ کھانے سے زیادہ ہو جاتی ہیں۔پھر ان کو پھینکنا پڑتا ہے، حالاں کہ چاہیں تو یہ افطاریاں کم کر کے دو روز میں تقسیم کر دیں یا غربا و مساکین کے گھروں میں بھیج دیں تو اللہ کی نعمت اور مال ضائع نہ ہو، پھر ثواب تو محض افطار کا ہے، اور افطار کے بعد جو کچھ کھانے کی اشیا خریدی گئیں اگر ان کو استعمال کر لیا گیا تو اس کا ثواب ضرور ملے گا۔ رمضان المبارک کے مہینوں میں بہت سے غریب مسلمان نہایت مفلوک الحالی کی زندگی گزارتے ہیں۔ سحری افطاری کا معقول انتظام تو ان کے تصور سے بھی بالا ہوتا ہے یوں ہی عید کی خوشیاں بھی ان کے لیے عنقا ہوتی ہیں اس لیے مختصر افطاری کے بعد جو رقم بچے اس سے ان غریبوں کی کفالت کی جائے تو بہت بہتر ہے۔
سحر و افطار میں اوقات کی احتیاطیں:
    بعض مساجد میں افطار کے وقت بہت عجلت کرتے ہیں، احادیث میں عجلت کرنے کا حکم بھی ہے یعنی وقت ہوجانے کے بعد بلاوجہ افطار میں تاخیر کرنا منع ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ وقت ہوجانے کا پورا پورا یقین ہو جائے جو اوقات پوسٹروں اور کارڈوں میں دیے جاتے ہیں یقینا وہ انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں ان میں ایک دو منٹ کا فرق بھی ہو سکتا ہے اور اگر وہ یقینی بھی ہوں تو کیا ضروری ہے کہ گھڑیاں بالکل درست ہوں۔گھڑیوں میں ایک دو منٹ کا فرق تو بہت عام ہے، لہٰذا افطار میں تین سے پانچ منٹ کی تاخیر احتیاطاً کرنی چاہیے، یوں ہی سحری میں پانچ دس منٹ پہلے ہی سحری موقوف کر دینی چاہیے۔
    لہٰذا افطار کا وقت ہوتے ہی فوراً جن مساجد میں اذان ہو جاتی ہے مناسب نہیں، اس میں روزے کو خطرے میں ڈالنا پایا جاتا ہے، یوں ہی سحری میں وقت فجر ہوتے ہی اذان دے دی جاتی ہے، اس میں روزے کا خطرہ تو نہیں لیکن اذانِ فجر کو وقت پر نہ ہونے کا خطرہ ہے۔ حکم یہ ہے کہ وقت سے قبل کی اذان اس نماز کی اذان نہ ہوگی جس کے لیے دی گئی ہے اور اس طرح نماز کی جماعت مکروہ ہوتی ہے لیکن کیلنڈر کا وقت ہونے کے پانچ منٹ کے بعد اذان فجر دینی چاہیے، گویا ختم سحری اور اذان میں دس سے پندرہ منٹ تک کا وقفہ ہو۔ تا کہ روزہ اور نماز دونوں کی احتیاطوں پر عمل ہو جائے، کچھ غیر سنی مساجد میں یہ بے احتیاطیاں زیادہ ہوتی ہیں لہٰذا گرد و پیش کی مساجد پر غور کر لینا چاہیے اور ان کی اذانوں پر آنکھ بند کر کے اعتماد نہ کرنا چاہیے اور بہت سے سنی مؤذنین بھی جہالت کی وجہ سے احتیاط نہیں کرتے، لہٰذا اذانوں کو گھڑیوں اور ٹائم ٹیبل سے ملاتے رہنا بھی ضروری ہے تاکہ خطرات سے بچا جا سکے۔
طلبہ و اساتذہ کے لیے سنہرا موقع:
    رمضان المبارک کے مہینے میں بالعموم مدارس اسلامیہ میں تعطیل کلاں ہوتی ہے، تعلیم و تعلم کا سلسلہ بند رہتا ہے، ایسے موقع پر اگر اساتذۂ کرام علما و حفاظ اپنے اپنے علاقوں کے مسلمانوں کو دینی تعلیم و تربیت سے آراستہ کریں، اس کے لیے باضابطہ تعلیم و تربیت کی محافل قائم کریں تو ماہ ڈیڑھ ماہ میں بہت بڑا دینی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے، علما تمام مسلمانوں پر توجہ دیں اور طلبہ نوجوانوں کو دین کی طرف راغب کریں اس مقصد خیر میں یقینا کام یابی مل سکتی ہے، افسوس ہوتا ہے کہ بہت سے اساتذہ اور اکثر طلبہ اس طویل چھٹی کو غیر ضروری مشاغل میں گزار کر اپنی عمر عزیز کے بہت ہی قیمتی لمحات کو ضائع کر دیتے ہیں، دینی اور دنیاوی دونوں طرح کے منافع و برکات سے محروم رہ جاتے ہیں، اس ضمن میں چند گزارشات یہ ہیں۔
(۱)    جو قرآن شریف پڑھے ہوں ان کی تصحیح پر توجہ دی جائے تا کہ قرآن پاک صحتِ مخارج کے ساتھ پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے۔
(۲)    نمازوں کے طریقے بتائے جائیں اور نماز کی دعائیں یاد کرائی جائیں۔ اور نماز کے ضروری مسائل بھی انھیں از بر کرائے جائیں۔ نماز، وضو کی عملی مشق بھی کرائی جائے۔
(۳)    عقائد حقہ اہل سنت و جماعت کی ضروری باتیں مسلمانوں کو بتائی جائیں۔
(۴)    معاشرے میں پھیلی ہوئی بری رسموں کی قباحتیں بھی ذہنوں میں بٹھائی جائیں اور ان سے دور رہنے کی تلقین کی جائے۔
(۵)     درس قرآن، درس حدیث، اور درس مسائل شریعت کی محافل قائم کی جائیں۔ ترجمۂ اعلیٰ حضرت کنز الایمان مع تفسیر، انوار الحدیث، بہار شریعت اور فیضان سنت جیسی کتابوں سے درس دیا جائے تو بہت فائدہ ہوگا، علماے اہل سنت کی دیگر کتابوں میں سے جو دست یاب ہوں ان سے بھی درس دیا جا سکتا ہے، مثلاً سیرت مصطفی، سیرت رسولِ عربی، سچی حکایات، شان حبیب الرحمن، صحابہ کا عشق رسول، وغیرہ۔
(۶)    ْؑٓعقائد و مسائل اور فضائل پر مشتمل دینی رسائل و کتب کو جو مختصر ہوں ان کو عوام میں تقسیم کرنے کی تحریک چلائی جائے اور اہل خیر حضرات سے اس سلسلے میں تعاون لیا جائے جو طلبہ گھریلو طور پر خوش حال ہوں اور جو علما مال دار ہوں ان کو چاہیے کہ خود بھی اس کارِ خیر میں حصہ لیں اور مالی قربانی دیں۔
(۷)    اپنے علاقوں میں غریب و مفلوک الحال مسلمانوں کا پتا لگا کر ان کی امداد کریں اور اہل خیر حضرات کو اس کام کی طرف متوجہ کریں۔ کیوںکہ بالعموم شریف غربا کسی کے دروازے تک نہیں جاتے اور تنگی کی زندگی گزارتے رہتے ہیں، روزہ و رمضان کے حسین موقع پر بھی وہ تنگ دستی ہی کا شکار رہتے ہیں، ضرورت مند اور پریشان حال حضرات کی امداد بہت بڑے ثواب کا کام ہے، حدیث شریف میں ہے جو کسی کی دنیاوی پریشانی دور کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی پریشانیاں رفع فرمائے گا۔
    غریب طلبہ کی امداد پر بھی توجہ دی جائے تا کہ وہ مالی تنگی کی وجہ سے تعلیم چھوڑنے والے ہوں تو اس ارادے سے باز آجائیں اور بدستور شوق و ذوق سے اپنے تعلیمی سلسلے کو باقی رکھیں۔
رمضان اور رویتِ ہلال:
    رمضان شریف اور عید کے موقع پر چاند کے تعلق سے بڑی ہنگامہ آرائیاں ہوتی رہتی ہیں یہ کچھ تو عوام کی مسائل شریعت سے ناواقفی کی وجہ سے اور کچھ کم پڑھے لکھے اور غیر محتاط علماو ائمہ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ علما و ائمہ کو خاص طور سے رمضان شریف قریب آتے ہی فقہی کتابوں میں رویت ہلال کے مسائل کو دیکھ لینا چاہیے اس سے بڑی آسانی ہوگی، یہ حقیقت ہے کہ جدید ذرائع ابلاغ خاص طور سے موبائل فون نے بڑے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ فقہ و فتویٰ کے ماہرین کو چاہیے کہ اس سلسلے میں شرعی اصولوں کے ساتھ حالاتِ حاضرہ پر بھی توجہ دے کر مسائل کا حل نکالیں، اور بہر صورت عوام الناس کو چاہیے کہ علما و مفتیانِ کرام کے فیصلوں کا احترام کریں، شریعت میں اپنی راے کو دخل دینے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔
    ماہِ شوال یعنی عید الفطر کے ثبوت کے لیے شریعت نے سخت اصول رکھا ہے لیکن ماہ رمضان کے ثبوت کے لیے تخفیف کا اصول ہے۔ اس کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ حضرت صدر الشریعہ اعظمی علیہ الرحمہ بہارِ شریعت میں فرماتے ہیں:
    ہر گواہی میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ’’گواہی دیتا ہوں‘‘ کہ بغیر اس کے شہادت نہیں۔ مگر ابر میں رمضان کے چاند کی گواہی میں اس کہنے کی ضرورت نہیں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ میں نے اپنی آنکھ سے اس رمضان کا چاند آج یا کل یا فلاں دن دیکھا ہے۔ یوں ہی اس کی گواہی میں دعویٰ، مجلس قضا اور حاکم (قاضی) کا حکم بھی شرط نہیں۔ یہاں تک کہ اگر کسی نے حاکم کے یہاں گواہی دی تو جس نے اس کی گواہی سنی اور اس کو بظاہر معلوم ہوا کہ یہ عادل ہے۔ اس پر روزہ رکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ حاکم کا حکم (یعنی قاضی کا فیصلہ) اس نے نہ سنا ہو مثلاً حکم دینے سے پہلے ہی چلا گیا۔
    اور فرماتے ہیں: ابر اور غبار میں رمضان کا ثبوت ایک مسلمان، عاقل، بالغ، مستور یا عادل شخص سے ہو جاتا ہے۔ وہ مرد ہو خواہ عورت، آزاد ہو یا باندی، غلام یا اس پر تہمتِ زنا کی حد ماری گئی ہو جب کہ توبہ کر چکا ہو۔
    عادل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ کم سے کم متقی ہو، یعنی کبائرِ گناہ سے بچتا ہو اور صغیرہ (چھوٹے گناہ) پر اصرار نہ کرتا ہو اور ایسا کام نہ کرتا ہو جو مروت کے خلاف ہو۔ مثلاً بازار میں کھانا۔
    فاسق اگرچہ رمضان کے چاند کی گواہی دے اس کی گواہی قابل قبول نہیں۔ رہا یہ کہ اس کے ذمہ گواہی دینا لازم ہے یا نہیں۔ اگر امید ہے کہ اس کی گواہی قاضی قبول کر لے گا تو اسے لازم ہے کہ گواہی دے۔
    مستور یعنی جس کا ظاہر حال، مطابق شرع ہے، مگر باطن کا حال معلوم نہیں، اس کی گواہی غیر رمضان میں قابل قبول نہیں۔ (در مختار)
    جس عادل شخص نے رمضان کا چاند دیکھا، اس پر واجب ہے کہ اس رات میں شہادت ادا کردے۔ یہاں تک کہ اگر لونڈی یا پردہ نشین عورت نے چاند دیکھا تو اس پر گواہی دینے کے لئے اس رات میں جانا واجب ہے… یوں ہی آزاد عورت کو گواہی کے لئے جانا واجب ہے۔ اس کے لئے شوہر سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ مگر یہ حکم اس وقت ہے جب اس کی گواہی پر ثبوت موقوف ہو کہ بے اس کی گواہی کے کام نہ چلے ورنہ کیا ضرورت؟ (بہارِ شریعت: ۵/۱۰۷، فاروقیہ دہلی)
    رویت کے باقی مسائل بہار شریعت حصہ پنجم میں دیکھیں۔
مسائل روزہ اور ہماری غفلت:
    رمضان شریف کا مہینہ آتے ہی بلکہ آنے سے پہلے بہار شریعت، قانون شریعت یا اور کسی مستند فقہی کتاب سے رویت ہلال اور روزے کے مسائل کا مطالعہ کر لینا چاہیے، ائمہ مساجد اور علماے کرام کو بھی چاہیے کہ رمضان شریف کے آتے ہی مسائل رویت و روزہ کو عوام الناس کے گوش گزار کر دیں تا کہ روزہ کے مسائل ان کی معلومات میں پھر تازہ ہو جائیں اور خود علما و ائمہ کے لیے بھی یہ مفید ہے کہ اکثر رمضان کے مہینے میں لوگ روزہ کے مسائل دریافت کرتے رہتے ہیں، بلکہ صدقۂ فطر اور زکوٰۃ کے مسائل پر بھی نظر ڈال لیا کریں تا کہ جب کوئی سوال کرے تو ان کو بتانے میں آسانی ہو۔
رمضان مواسات کا مہینہ ہے:
    امام بیہقی نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک طویل حدیث رمضان المبارک اور روزے کے فضائل میں روایت کی ہے۔ اس میں ہے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ یہ مہینہ مواسات کا ہے اور اس مہینے میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے جو اس میں روزہ افطار کرائے اس کے گناہوں کے لیے مغفرت کا سبب ہے اور اس کی گردن (جہنم) کی آگ سے آزاد کرادی جائے گی اور افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو، بغیر اس کے کہ اس کے اجر میں سے کچھ کم ہو۔ (صحابہ کہتے ہیں) ہم نے عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ہم میں کا ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کرائے۔ حضور نے فرمایا:
    ’’اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو (بھی) دے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک خرما (کھجور) یا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کرائے اور جس نے روزہ دار کو بھرپیٹ کھانا کھلایا اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائے،یہ وہ مہینہ ہے کہ اس کا اول رحمت ہے اور اس کا اوسط مغفرت ہے اور اس کاآخر جہنم سے آزادی ہے۔ جو اس مہینے میں اپنے غلام پر تخفیف کرے یعنی کام میں کمی کرے اللہ اسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرمائے گا۔ (بہارِ شریعت: ۵/۹۳، فاروقیہ)
    اس حدیث پاک میں جہاں روزے کے فضائل اور ماہ رمضان کی برکتوں کا ذکر ہے وہیں اس میں مسلمانوں کو اس بات کی بھی ترغیب دلائی گئی ہے کہ اس ماہ مبارک کو اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ مواسات میں گزاریں۔ مواسات کے معنی ہیں، غم گساری، ہم دردی، جان و مال سے کسی کی مدد کرنا۔ یہ بڑا جامع لفظ ہے، امیر غریب سب کی بھلائی اور ہم دردی اس میں آگئی، کوئی غم گین ہو اس کی حاجت روائی کرے، پریشان و متفکر ہو تو اس کو دلاسہ دے، نیک مشوروں اور خوش کن کلمات سے اس کی پریشانی رفع کرے۔ افطار کرانا اور روزہ دار کو پیٹ بھر کھانا کھلانا یہ بھی ایسی نیکیاں ہیں جن کی حدیث میں ترغیب دلائی گئی ہے۔ اس میں امیر غریب دونوں برابر ہیں لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ کسی غریب کا روزہ افطار کرانا اور اچھی غذا سے بھرپور ضیافت کرنا ایک بڑی نیکی ہی نہیں غربا پروری اور غم گساری کی بھی مثال ہے اور مواسات ہی کا تقاضا ہے کہ غریبوں، مسکینوں اور حاجت مندوں کو تلاش کر کے اس ماہ مبارک میں اس کی کفالت کی جائے، ان کو احساس کمتری کے گڈھے سے نکالا جائے۔ ان کے چہروں سے افسردگی دور کی جائے اور اس کے لیے کچھ ضروری نہیں کہ زکوٰۃ فطرے ہی کی رقم استعمال کی جائے، رشتہ داری، پڑوس اور اسلامی بھائی چارہ کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی نجی رقموں سے جس قدر ہو سکے اس کی غم گساری کی جائے، زکوٰۃ فرض اور فطرہ تو واجب ہے ان کو ادا کرنا ہی ہے۔ زکوٰۃ اس وقت فرض ہے جب مالک نصاب کے مال پر سال پورا ہو اور فطرہ عید کے دن واجب ہوتا ہے، اگرچہ پیشگی ادا کرنا بھی صحیح ہے، اس لیے رمضان المبارک کو جو ماہ مواسات کہا گیا ہے، غالباً اس کا تقاضا یہی ہے کہ خاص اس مہینے میں غربا پروری اور اپنے بھائیوں کی غم گساری اپنے مالِ خاص سے کی جائے، ہاں جس کے پاس اتنا حوصلہ نہ ہو وہ زکوٰۃ اور فطرے پر ہی اکتفا کرے یہ بھی بسا غنیمت ہے۔
    آج کل عام طور سے یہ دیکھا جاتا ہے لوگ بڑوں کو، مال داروں کو افطار کے لیے دعوت دیتے ہیں دبے کچلے غریب و محتاج افراد کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جب کہ یہ زیادہ اس کے مستحق ہیں کہ ان کی افطاری سحری اور کھانے کا اہتمام کیا جائے تا کہ ان کے دل سے جو دعائیں نکلیں وہ اہل ثروت حضرات کے گناہوں کا کفارہ اور دفع بلیات کا ذریعہ بن جائیں، بعض اہل خیر حضرات اس خاص پہلو پر توجہ دیتے بھی ہیں ان کا یہ عمل دوسرے لوگوں کے لئے لائق تقلید ہے۔
٭٭٭
اعتکاف: روح کی غذا
 اعتکاف کے فضائل :
اعتکاف ایک ایسی نیکی ہے جس کی اہمیت قرآن پاک میں بھی بیان کی گئی ہے اور احادیث رسول میں بھی۔ قرآن پاک میں ہے:طَہِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَالْعٰکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوْدِ ۔  میرا گھر خوب ستھرا کرو۔ طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع وسجود والوں کے لیے۔ (البقرہ: ۲؍ ۱۲۵)
اس آیت میں اعتکاف والوں کے لیے خانۂ خدا کو پاک صاف رکھنے کا حکم ہے۔ اس سے اعتکاف کے لیے مسجد کی خصوصیت کا بھی پتہ چلتا ہے کہ مردوں کے لیے مسجد ضروری ہے۔ ہاںعورتیں اپنے گھروں میں اعتکاف کرسکتی ہیں اور یہ گھر میں اس جگہ اعتکاف کریں گی جو نماز کے لیے خاص ہے۔اوراسی آیت سے یہ بھی معلوم ہواکہ نمازکے ساتھ اعتکاف بھی قدیم عبادت ہے۔
دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے: وَلَا تُبَاشِرُوْہُنَّ وَاَنْتُمْ عٰکِفُوْنَ  فِے الْمَسٰجِدِ  (البقرہ: ۲؍ ۱۸۷)اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ معتکف کو جائز نہیں کہ شہوت سے عورتوں کو ہاتھ لگائے یا ان سے جماع کرے۔ اعتکاف کے مسائل اور بھی ہیں لیکن قرآن نے اس خاص مسئلے کو بیان کرکے اس کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اعتکاف کا ایک خاص مقصد یہ بھی ہے کہ اللہ کے بندے کچھ دنوں کے لیے اپنی عورتوں سے دور رہ کر خدا کی عبادت میں لگ جائیں اور اپنی توجہ کو دنیا کی طرف سے بالکل ہٹالیں۔ روزہ رکھ کر آدمی کھانے پینے اور جماع سے دن کے حصوں میں بچتا ہے رات میں یہ سب چیزیں جائز ہیں لیکن اعتکاف کی حالت میں رات کے وقت بھی جماع سے پرہیز کرنے کاحکم ہے۔ البتہ کھانے پینے کی رات میں اجازت ہے، روزہ دار دن میں بازار آجاسکتا ہے خرید وفروخت بھی کرسکتا ہے لیکن اعتکاف کی حالت میں معتکف کوگھومنے پھرنے خرید وفروخت کرنے کی بھی اجازت نہیں اور سواے مخصوص ضروریات کے مسجد سے نکلنا بھی جائز نہیں۔ خرید وفروخت اور تجارت کے لیے نکلنا بہر حال منع ہے البتہ اپنی یا بال بچوں کی ضرورت کی کوئی چیز خریدی اور سامان مسجد سے باہر ہوتو اس کی اجازت ہے۔ (ماخوذ: از بہار شریعت، ۵؍ ۱۵۲)
ابوداؤد شریف کی روایت ہے: ام المؤمنین حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: معتکف پر سنت یہ ہے (یعنی یہ حکم حدیث سے ثابت ہے) کہ نہ مریض کی عیادت کو جائے ،نہ جنازے میں حاضر ہو، نہ عورت کو ہاتھ لگائے اور نہ اس سے مباشرت کرے اور نہ کسی حاجت کے لیے جائے مگر اس حاجت کے لیے جاسکتا ہے جو ضروری ہے (جیسے پیشاب، پاخانہ اور جمعہ کے لیے اگر اس مسجد میں نہ ہوتا ہو) اور اعتکاف بغیر روزہ کے نہیں اور اعتکاف جماعت والی مسجد میں کرے۔ (مشکوٰۃ: ص؍۱۸۳، بہار شریعت:۵؍ ۱۴۶)
ابن ماجہ کی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے معتکف (اعتکاف والے) کے لیے فرمایا: وہ یعنی معتکف گناہوں سے باز رہتا ہے اور نیکیوں سے اسے اس قدر ثواب ملتا ہے جیسے اس نے تمام نیکیاں کیں۔ (مشکوٰۃ: ص؍۱۸۳)
سبحان اللہ اس حدیث پاک سے اعتکاف کی کیسی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے اور اعتکاف جیسی عبادت کے لیے کوشش کرنی چاہیے کہ یہ سنہرا موقع جس کا لمحہ لمحہ عبادت وثواب میں گزرتا ہے، بڑی قسمت والوں کو ہاتھ آتا ہے۔ آدمی سال بھر تو دنیا کے کاموں میں لگا رہتا ہے، کاش رمضان المبارک کے ایک آخری عشرے کو تو رب العالمین کے لیے خاص کرکے اس کی طرف سے ملنے والی رحمت ومغفرت کی سوغات کا مستحق بن جائے اور گناہوں سے آلودہ زندگی کو طہارت وپاکیزگی سے آراستہ اور ہمکنار کرلے۔
امام بیہقی شعب الایمان میں، سیدناعلی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہمااپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان میں دس دنوں (یعنی آخری عشرے) کا اعتکاف کرلیا تو ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے ادا کیے۔  (شعب الایمان:الجزء؍ ۵،ص؍۴۳۶)
اعتکاف کرنے والے کے لیے یہ ایک بڑی بشارت ہے کہ دس روز تک اللہ کے لیے جس نے اس کے گھر میں اپنے کو محصور کرلیا اور دنیاوی علائق سے اپنے کو دور رکھا تو اس کے بدلے اللہ کی طرف سے دو حج اور دو عمرے کا اسے ثواب عطا کیا جاتا ہے۔
اور حج وعمرے کے فضائل احادیث میں یہ بیان کیے گئے ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ راوی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: حج وعمرہ محتاجی اور گناہوں کو ایسے دور کرتا ہے جیسے بھٹی لوہے اور چاندی، سونے کے میل کو دور کرتی ہے اور حج مبرور (مقبول) کا ثواب جنت ہی ہے۔(مشکوۃ شریف:مناسک،ص؍۲۲۲)
اورحضرت ابوہریرہ سے ایک ر وایت ہے کہ جس نے حج کیا اور رفث (یعنی فحش کلامی) اور فسق نہ کیا تو گناہوں سے ایسا پاک لوٹا جیسے اس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔(مشکوۃ شریف:ص؍۲۲۱)
حضرت ابوہریرہ ہی کی ایک اورروایت میں ہے: عمرہ سے عمرہ تک ان گناہوں کا کفارہ ہے جو درمیان میں ہوئے اور حج مبرور کا ثواب جنت ہی ہے۔ (بہار شریعت: جلد ششم، ص؍۳،۴/مشکوۃ:۲۲۱)
یہ ایک حج وعمرہ کا ثواب ہے اور اعتکاف ایسا ہے جیسے کہ دو حج وعمرہ ادا کیے۔ا س سے اعتکاف کی فضیلت بہ خوبی واضح ہے۔
حضرت عطاخراسانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:معتکف کی مثال اس محرِم کی طرح ہے جواپنے آپ کورحمٰن کی بارگاہ میں ڈال دیتاہے اورکہتاہے :اللہ کی قسم میں تیرے درکونہیں چھوڑوں گاحتیٰ کہ تومجھے اپنی رحمتوں سے نوازدے۔(بیہقی،درمنثورتفسیرآیت ولاتباشروھن)
اعتکاف کے تفصیلی مسائل تو بہار شریعت اور فتاویٰ رضویہ میں ملاحظہ کیجیے۔ یہاں مختصر چند ضروری مسائل بہار شریعت سے نقل کیے جاتے ہیں۔
اعتکاف کسے کہتے ہیں:
 مسجد میں اللہ کے لیے نیت کے ساتھ ٹھہرنا اعتکاف ہے اور اس کے لیے مسلمان عاقل اور جنابت وحیض ونفاس سے پاک ہونا شرط ہے۔ بلوغ یعنی بالغ ہونا شرط نہیں بلکہ نابالغ جو تمیز رکھتا ہے اگر بہ نیت اعتکاف مسجد میں ٹھہرے تو یہ اعتکاف صحیح ہے۔ (عالم گیری، در مختار، رد المحتار)
اعتکاف کس مسجد میں ہو:
اعتکاف کے لیے جامع مسجد ہونا شرط نہیں بلکہ مسجد جماعت میں ہوسکتا ہے،مسجد جماعت وہ ہے جس میںامام ومؤذن مقرر ہوں اگر چہ اس میں پنج گانہ جماعت نہ ہوتی ہو اور آسانی اس میں ہے کہ مطلقاً ہر مسجد میں اعتکاف صحیح ہے اگر چہ وہ مسجد جماعت نہ ہو، خصوصاً اس زمانے میں کہ بہتیری مسجدیں ایسی ہیں جن میں نہ امام ہیں نہ موذن، (رد المحتار)
اعتکاف کی قسمیں:
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں:(۱) واجب کہ اعتکاف کی منت مانی۔(۲) سنت مؤکدہ کہ رمضان کے پورے عشرۂ اخیرہ یعنی آخر کے دس دن میں اعتکاف کیا جائے یعنی بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت اعتکاف کی نیت سے مسجد میںہو اور تیسویں کے غروب آفتاب کے بعد یا انتیس کو چاند ہونے کے بعد نکلے۔ اگر بیسویں تاریخ کو بعد نماز مغرب اعتکاف کی نیت کی تو سنت مؤکدہ ادا نہ ہوئی۔مغرب سے پہلے نیت کرناضروری ہے۔یہ اعتکا ف سنت کفایہ ہے کہ اگر سب ترک کردیں تو سب سے مطالبہ یعنی مواخذہ ہوگا اور شہر میں ایک نے کرلیا تو سب بری الذمہ ہوجائیں گے۔
(۳) ان دو کے علاوہ جواعتکاف کیا جائے وہ مستحب وسنت غیر مؤکدہ ہے۔ (در مختار ، عالم گیری)
مستحب اعتکاف کے لیے نہ روزہ شرط ہے نہ اس کے لیے کوئی خاص وقت مقرر بلکہ جب مسجد میں گیااور اعتکاف کی نیت کی توجب تک مسجد میں ہے معتکف ہے، چلا آیا اعتکاف ختم ہوگیا۔ (عالم گیری)
حضرت صدر الشریعہ اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:یہ بغیر محنت ثواب مل رہا ہے کہ فقط نیت کرلینے سے اعتکاف کا ثواب ملتا ہے اسے تو نہ کھونا چاہیے۔ مسجد میں اگر دروازے پر یہ عبارت لکھ دی جائے کہ ’’اعتکاف کی نیت کرلو اعتکاف کا ثواب پاؤگے‘‘ تو بہتر ہے کہ جو اس سے ناواقف ہیں انہیں معلوم ہوجائے گااورجوجانتے ہیں ان کے لیے یاددہانی ہوجائے گی ۔( بہار شریعت: پنجم،ص؍۱۰۲۲، مکتبۃ المدینہ )
اعتکاف کی شرطیں:
سنت اعتکاف میں یعنی رمضان شریف کی پچھلی دس تاریخوں میں جوکیاجاتاہے اس میں روزہ شرط ہے لہٰذااگرکسی مریض یامسافر نے اعتکاف کیامگرروزہ نہ رکھاتوسنت ادا نہ ہوئی بلکہ یہ اعتکاف نفلی ہوا (ردالمحتار)منت کے واجب اعتکاف میں بھی روزہ شرط ہے۔ (عا لم گیر ی )
معتکف کا مسجد سے نکلنا کب جائز ہے؟
معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دو عذر ہیں۔ ایک حاجت طبعی کہ مسجد میںپوری نہ ہوسکے جیسے پاخانہ، پیشاب، استنجا، وضو اور غسل کی ضرورت ہو۔ اگر مسجد میں وضو وغسل کی جگہ بنی ہو یا حوض ہوتو باہرجانے کی بھی اجازت نہیں۔دوم حاجت شرعی مثلاً جمعہ کے لیے جانا یا اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا۔ جب کہ منارہ پر جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ ہو اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہوتو غیر مؤذن معتکف بھی منارہ پر جاسکتا ہے، موذن کی تخصیص نہیں۔ (در مختار، رد المحتار ملخصاً)
قضاے حاجت کے لیے گیا تو طہارت کرکے فوراً چلا آئے، ٹھہرنے کی اجازت نہیں اور اگر معتکف کا مکان مسجد سے دور ہے اور اس کے دوست کا قریب تو یہ ضروری نہیں کہ دوست کے یہاں قضاے حاجت کو جائے بلکہ اپنے مکان پر بھی جاسکتا ہے اور اگر اس کے خود دومکان ہیں ایک نزدیک دوسرا دور تو نزدیک والے مکان میں جائے کہ بعض مشائخ فرماتے ہیں :دور والے مکان میں جائے گاتو اعتکاف فاسد ہوجائے گا۔ (رد المحتار، عالم گیری)
اگر ایسی مسجد میں اعتکاف کیا جہاں جمعہ نہیں ہوتا تو جمعہ کے لیے نکل سکتا ہے لیکن صرف اتنے وقت کے لیے کہ وہاں پہنچ کر سنتیں پڑھے پھر جمعہ کے بعد کی چار یا چھ سنتیں پڑھ کر چلا آئے۔
اگر ایسی مسجد میں اعتکاف کیا کہ اس میں جماعت نہیں ہوتی تو جماعت کے لیے نکل کر دوسری مسجد میں جاسکتا ہے، (بہار شریعت)
اگر وہ مسجد گر گئی یا کسی نے مجبور کرکے وہاں سے نکال دیا اور فوراً دوسری مسجد میں چلا گیاتو اعتکاف فاسد نہ ہوا۔ (عالم گیری)
اگر ڈوبنے یا جلنے والے کو بچانے کے لیے مسجد سے باہر گیا یا گواہی دینے کے لیے گیا یا جہاد میں سب لوگوں کا بلاوا ہوا اور یہ بھی نکلا یا مریض کی عیادت یا نماز جنازہ کے لیے گیا اگر چہ کوئی دوسرا پڑھنے والا نہ ہو، تو ان سب صورتوں میں اعتکاف فاسد ہوگیا۔ (عالم گیری وغیرہ)
پاخانہ پیشاب کے لیے گیا تھا قرض خواہ نے روک لیا، اعتکاف فاسد ہوگیا۔ (عالم گیری) یعنی جب مسجد کے باہر گیا تب یہ حکم ہے۔
معتکف نے بھول کر کھالیا تو اعتکاف فاسد نہ ہوا۔ گالی گلوج یا جھگڑا کرنے سے اعتکاف فاسد نہیں ہوتا مگر بے نور وبے برکت ہوجاتا ہے۔ (عالم گیری وغیرہ)یعنی مکروہ ہوجاتاہے۔
معتکف مسجد ہی میں کھائے، پیئے، سوئے۔ ان امور کے لیے مسجد سے باہر ہوگا تو اعتکاف جاتا رہے گا۔ (در مختار وغیرہ)مگر کھانے پینے میں یہ احتیاط لازم ہے کہ مسجدآلودہ (گندی)نہ ہو۔
معتکف کے سوا اور کسی کو مسجد میں کھانے پینے سونے کی اجازت نہیں اور اگر یہ کام کرنا چاہے تو اعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں جائے اورنماز پڑھے یا ذکر الٰہی کرے ۔پھر یہ کام کرسکتا ہے۔ (رد المحتار)
اعتکاف میں سکوت کا حکم:
معتکف اگر بہ نیت عبادت سکوت کرے یعنی چپ رہنے کو ثواب کی بات سمجھے تو مکروہ تحریمی ہے اور اگر چپ رہنا ثواب کی بات سمجھ کر نہ ہوتو حرج نہیںاور بری بات سے چپ رہا تو یہ مکروہ نہیں بلکہ یہ تو اعلیٰ درجے کی چیز ہے کیوں کہ بری بات زبان سے نہ نکالنا واجب ہے اور جس بات میں نہ ثواب ہو نہ گناہ یعنی مباح بات بھی معتکف کو مکروہ ہے مگر بوقت ضرورت اور بے ضرورت مسجد میں مباح کلام نیکیوں کو ایسے کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو، (در مختار)
یہ مسئلہ خاص طور سے قابل توجہ ہے کہ اکثر معتکف حضرات مباح باتوں میں حرج نہیں سمجھتے یعنی مباح کلام بھی بوقت حاجت ہو۔بغیرحاجت اس سے بھی پرہیزکرے۔
معتکف کیا کرے:معتکف نہ چپ رہے نہ کلام کرے تو کیا کرے؟ یہ کرے: قرآن مجید کی تلاوت، حدیث شریف کی قراء ت اور درود شریف کی کثرت، علم دین کا درس وتدریس، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ودیگر انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کی سیرتوں اور اذکار، اولیا و صالحین کی حکایات اور امور دین کی کتابت یعنی تصنیف وتالیف وغیرہ ۔ (در مختار)اورسب سے اہم یہ ہے کہ جس پرنمازیں قضاہیں تمام نفل عبادات چھوڑکران کواداکرنے کی کوشش کرے۔
اعتکاف کی قضا:نفل اعتکاف اگر چھوڑ دے تو اس کی قضا نہیں کہ وہیں تک ختم ہوگیا اور مسنون اعتکاف کہ رمضان کی پچھلی دس تاریخوں تک کے لیے بیٹھا تھا اسے توڑاتو جس دن توڑا فقط اسی ایک دن کی قضاکرے پھر سے دس دنوں کی قضا واجب نہیں۔ (رد المحتار)
اعتکاف کی قضا صرف قصداًتوڑنے سے نہیں بلکہ اگر عذر کی وجہ سے چھوڑا مثلاً بیمار ہوگیا یا بلا اختیار چھوٹا مثلاً عورتوں کو اعتکاف کی حالت میں حیض یا نفاس یا جنون و بے ہوشی طویل طاری ہوئی توان میں بھی قضا واجب ہے۔ اور بعض فوت ہوتو کُل کی قضا کی حاجت نہیں بلکہ بعض کی قضا کرے اور کُل فوت ہو تو کُل کی قضا ہے۔ (رد المحتار ملخصاً) (بہار شریعت: ج؍۵؍ ۱۴۷ تا ۱۵۵، مطبوعہ فاروقیہ بک ڈپو دہلی)
معتکف کے لیے حوض اور وضو خانے کا حکم:
معتکف کو حوض یاو ضو خانے جانے کی اجازت ہے۔ چاہے وضو کی حاجت ہو یا وضو پر وضو کرنا چاہے بہرصورت جاسکتا ہے اور وضو کے بعد اگر کچھ توقف کیا تب بھی اعتکاف فاسد نہیں ہوگا۔ یوں ہی غسل خانے میں غسل کرنے گیا تب بھی اعتکاف فاسد نہیں ہے چاہے غسل کی حاجت ہو یا نہ ہو کہ وضو خانہ وغیرہ جب مسجد سے ملحق ہوتو اعتکاف والے کے لیے خارج مسجد کاحکم نہیں۔
حضرت صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ (خلیفۂ اعلیٰ حضرت) فرماتے ہیں:
فناے مسجد جو جگہ مسجد سے باہر اس سے ملحق ضروریات مسجد کے لیے مثلاً جوتا اتارنے کی جگہ اور غسل خانہ وغیرہ ان میں جانے سے اعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔بلا اجازت شرعیہ اگر باہر چلا گیا تو اعتکاف ٹوٹے گا۔فناے مسجد اس معاملے میں حکم مسجد میں ہے۔ سحری کے اعلان کے لیے فناے مسجد میں جاسکتا ہے۔ (فتاویٰ امجدیہ: ج؍۱، ص؍ ۳۹۹)
ہاں اگر مسجد سے ملحق وضو خانہ، حوض اور غسل خانہ وغیرہ بالکل خارج مسجد ہو یا سرے سے ہو ہی نہیں تو صرف حاجت کے وقت ہی ان کے لیے مسجد سے باہر جاسکتا ہے۔ اس صورت میں البتہ اگر غیر ضروری غسل یا وضو کے لیے گیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
تنبیہ:مسجد سے ملحق فناے مسجد میں پاخانہ بنا ہو اوراعتکاف کرنے والے تعداد میں زیادہ ہوں تو جس کو حاجت شدید ہو وہ گھر کے یا دوسرے قریب کے پاخانے میں باہر جاسکتا ہے جب کہ اندر زیادہ انتظار کرنا پڑے۔
معتکف کے لیے ضروری احتیاطیں:
اعتکاف کرنے والا ایک آدمی ہو یا بہت سے، ان سب کو ذیل کے امور کی پابندی کرنی چاہیے ۔
(۱)دنیاوی اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کریں۔
(۲)ہنسی، ٹھٹھا، مذاق سے بچیں۔
(۳)مسجد میں شور غوغا بالکل نہ کریں حتیٰ کہ آواز بھی بلند نہ کریں۔
(۴)گالی گلوچ اور فحش سے بچنا تو بہت ضروری ہے کہ اس سے اعتکاف اور روزہ دونوں مکروہ ہوں گے اور ایسا کرنا گناہ بھی ہے۔
(۵) کھانے پینے میں زیادتی نہ ہو کہ پیٹ خراب ہو اور دیگر پریشانیاں یا بیماریاں قریب آئیں اور پھر عبادت وتلاوت میں فرق آئے۔
(۶)اعتکاف میں کم کھانے، کم بولنے اور کم سونے پر بہ طور خاص عمل کریں کہ یہ روحانیت کا سر چشمہ ہے۔
(۷)مسائل دینیہ شرعیہ سیکھیںکہ یہ سب عبادتوں سے بڑھ کر عبادت ہے۔ اس کے لیے علما سے رابطہ کریں اور ان سے استفادہ کریں۔ خود علما بھی ایسے مواقع پر عوام الناس کو دین کی باتیں بتانے میں خاص دل چسپی لیں اوروقت دیں کہ یہ دونوں کے لیے باعث سعاد ت اور موجب اجر ہے۔
(۸)موبائیل سے بالکل اجتناب کریں کہ یہ دنیاوی روابط کو بڑھاوا دینے والا اور اعتکاف کے لیے بہت مُضر ہے۔ سخت ضرورت پر کبھی استعمال کرلیا تو حرج نہیں۔
(۹)دوست احباب کی بھیڑ جمع نہ کریں نہ دوسرے لوگ معتکف کے پاس زیادہ وقت دیں۔ کسی ضرورت سے جانا ہوتو ضرورت پوری کرکے فوراً ان سے جدا ہوجائیں۔ اسی میں دونوں کے لیے بھلائی ہے۔
(۱۰)معتکف علما ہوں تو علمی ودینی استفادے کے لیے ان کے پاس بیٹھنے میں حرج نہیں بلکہ بہت مفید اور باعث ثواب ہے۔
برادران اسلام اور دیگر اسلامی بھائیوں سے گزارشات:
(۱)معتکف ایک ہو یا متعدد، دیگر حضرات کو چاہیے کہ ان کی خدمت کو اپنی سعادت تصور کریں ان کی ضروریات کی حتی الوسع تکمیل میں کوشاں رہیںکہ یہ بڑے ثواب کاکام ہے۔
(۲)بعض مساجد میں اعتکاف کرنے والوں کی تعداد بہت ہوجاتی ہے۔ ممبئی کی بعض مساجد میں سنا گیا کہ ان کی تعداد چالیس تک پہنچ جاتی ہے یا اس سے بھی زیادہ بلکہ نوجوانوں کے بارے میں یہ سن کر اور خوشی ہوتی ہے کہ وہ دنیاوی کھیل کود سے دور ہوکر خدا کے گھر میں دس روز کے لیے آبیٹھتے ہیں ۔یہ صورت حال بڑی خوش آئند اور مسرت بخش ہے تو ان دین پسندوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور ان کے لیے ان ایام میں دین کی ضروری تعلیم کامنتظمین کو معقول بندوبست کرنا چاہیے تاکہ ان کے لیے یہ ایام صرف یہی نہیں کہ عبادت میں گزریں بلکہ اہم فریضے کی ادائیگی یعنی دین سیکھنے میں صرف ہوں۔ اس کے لیے علما سے وقت لیا جائے کہ وہ وقتاً فوقتاً آکر ان کی دینی تعلیم اورتربیت میں حصہ لیں اور نوجوانوں کو بھی چاہیے کہ دین سیکھنے میں بھرپور دل چسپی لیں، اس سنہرے موقع کو غنیمت جانیں اور اپنے اندر دینی شعور بیدار کرنے اور روحانیت کو پروان چڑھا نے کی طرف توجہ دیں۔
(۳)دوسرے اسلامی بھائی اور انتظامیہ مساجد کے افراد بھی ان معتکفین کی ضروریات اور سہولیات کا خاص خیال رکھیں کہ اعتکاف کی برکتوں سے انہیں بھی مالا مال ہونے کا یہ ایک حسین موقع ملتاہے جو سال بھر میں پھر کبھی ہاتھ آنے والا نہیں۔ قرآن پاک میں آیا: تَعَاوَنُوْا عَلَے الْبِرِّ وَالتَّقْویٰ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو، گناہ اور سرکشی پر مدد نہ کرو۔ (مائدہ: ۵؍۲)
     اعتکاف کرنے والوں کو بھی چاہیے کہ اپنے مقصد پر ہر وقت نظر رکھیں اورسوچیں کہ وہ دنیا کو چھوڑ کر دس روز کے لیے کیوں خانۂ خدا میں گوشہ نشین ہوئے ہیں۔ ان کے اندر بھی عملی اورروحانی انقلاب آنا چاہیے۔ اگر ان کے اندر کوئی بری عادت تھی تووہ دور ہوجانی چاہیے ورنہ گناہ تو ہر جگہ گناہ ہوتا ہے۔ اللہ کے گھر میں اس کا مواخذہ اور بڑھ جاتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ نیکی اور ثواب کمانے آئے تھے الٹے گناہ کابوجھ نہ سرپرلے جائیں۔اللہ عزوجل ہمیں اعتکاف کے روحانی اوراسلامی پروگرام پرعمل کرنے اوراس کی برکتوں سے مالامال ہونے کی توفیق مرحمت فرما ئے ۔ آمین۔   ٭٭٭
..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg