Instagram

Saturday, 17 June 2017

21st Ramzanul Mubarak Hayat E Hazrat Ali Al Murtaza Radi Allaho Anho

امیر المومنین حضرت سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ: حیات اقدس کی جھلکیاں
بقلم: غلام مصطفٰی قادری، باسنی راجستھان

مرتضیٰ شیر حق اشجع الاشجعیں
ساقیِ شیر و شربت پہ لاکھوں سلام
(امام احمد رضاؔ محدث بریلوی)

اسم گرامی وسلسلۂ نسب

آپ کا نام علی کنیت ابوالحسن ، ابوتراب اور لقب حیدر ومرتضیٰ ہے۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے ، علی بن ابی طالب معروف بہ عبد ابن عبدالمطلب معروف بہ شیبہ بن ہاشم معروف بہ عمر بن عبدمناف معروف بہ مغیرہ بن قصیٰ المعروف بہ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ۔  (تاریخ الخلفاء ص:۲۵۳)

ولادت

حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت (پیدائش) بعثت نبوی سے دس سال قبل ہوئی، ابو طالب جب معاشی بحران سے دوچار ہوئے تو سرکار کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کو اپنی کفالت میں لے لیا اور آغوش رسالت میں پروان چڑھے۔ (مشاہیر حدیث ص:۶۹)

والد کا نام ابوطالب والدہ ماجدہ فاطمہ بنت اسد ہیں وہ فرماتی ہیں کہ جب میرا یہ بچہ پیدا ہوا تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کانام علی رکھا اور اس کے منہ میں لعاب دہن ڈالا اور اپنی زبان مبارک اس مولود مسعود کو چوسنے کے لیے اس کے منہ میں ڈالی جسے یہ بچہ چوستا رہا یہاں تک کہ سو گیا۔ (ضیاء النبی۲؍۲۳۰)

جس خوش نصیب کو بچپن میں نبوی انعامات سے اس طرح حصہ ملا ہو اس کے مقدر کا کیا کہنا ، بلاشبہ رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زیر تربیت رہ کر آپ علمی اور روحانی انوار کی بارش میں نہاتے رہے اور ایک وقت ایسا آیا کہ آپ کے فیضان علمی کی بارش سے اہل جہاں فیض یاب ہوئے۔

قبول اسلام

گزشتہ سطور میں بتایا جاچکا ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی ذات حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے۔ اور بچوں میں سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہونے والے خوش نصیب حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ کے ایمان لانے کا واقعہ اس طرح بیان کیاگیاہے:

ایک روز آپ کا شانۂ نبوی میں حاضر ہوئے ، دیکھا کہ حضور کریم اور حضرت خدیجہ دونوں نماز پڑھ رہے ہیں، انہوں نے پوچھا: آپ کیا کرر ہے ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’یہ اللہ کا دین ہے جسے اس نے اپنے لیے پسند کیا اور اس کی تبلیغ کے لئے رسول مبعوث کئے ہیں پس میں تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان لاؤ اور اس کی عبادت کرو۔

حضرت علی نے جواب دیا یہ عجیب بات ہے اس کے بارے میں میں نے آج تک نہیں سنا جب تک میں اپنے والد سے مشورہ نہ کرلوں میرے لیے کوئی فیصلہ کرنا ممکن نہیں۔

حضور نے فرمایا: اے علی! اگر تم اسلام نہیں لاتے تو کم از کم اس راز کو افشا نہ کرنا ایک رات یوں ہی گزر گئی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو نور ایمان سے روشن کردیا وہ صبح سویرے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا۔ سوموار (پیر) کا دن تھا جب حضرت علی نے حضور کو مع ام المومنین نماز پڑھتے دیکھا، منگل کے روز آپ مشرف بہ اسلام ہوئے اس وقت آپ کی عمر ۸ سال کی تھی۔

(ضیاء النبی۲؍۲۳۰۔۲۳۱)

سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نشر واشاعت کے لئے زندگی بھر کوشاں رہے ۔ آپ کا لقب اسد اللہ بھی ہے اور حیدر بھی۔ آپ کی کنیت ابوتراب کے بارے میں آیا ہے کہ ان میں اور سیدہ (فاطمۃ الزہراء) میں کچھ شکر رنجی ہوگئی یہ مسجد میں فرش پر جاسورہے حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے انہیں اٹھایا، پیٹھ پر گرد لگی تھی فرمایا:قم یا اباتراب‘‘اے ابو تراب اٹھو۔ (نزھۃ القاری۱؍۳۹۳)

ہجرت مولیٰ علی

تاجدار کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خدائی حکم سے جب مکہ معظمہ سے مدینہ منور ہ کی طرف ہجرت فرمارہے تھے اس وقت سیدنا علی سے آپ نے فرمایاتھا: اے علی مجھے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا حکم منجانب اللہ ملا ہے لہٰذا آج رات میرے بستر پر تم سوجانا۔ لوگوں کی امانتیں لوٹا کر مدینے کی طرف ہجرت کرلینا ۔ چنانچہ حکم مصطفی کی آپ نے تعمیل کی۔ یہاں سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ عنا کا کفارو مشرکین سے بے خوف وخطر ہوکر سوجانا آپ کی پختگیٔ ایمان اور ناموس مصطفی کی حفاظت کے لیے قربان ہونے کا جذبۂ بے بیکراں ثابت ہوتا ہے چنانچہ صبح آپ نے لوگوں کی امانتیں لوٹا دیں آپ تین دن مکہ میں رہے ۔ پھر مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ ہجرت کے بعد بھی آپ کو یہ انعام ملا کہ عقد مواخات کے وقت رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کو اپنا بھائی بنالیا اوریوں ارشاد فرمایا:انت اخی فی الدنیا والاخرۃ‘‘ تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔ (روہ الترمذی)

نگاہ مصطفی میں مقام علی رضی اللہ عنہ

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے اس چہیتے صحابی کو جو عزت وشان عطا فرمائی وہ گنتی کی سطروں میں نہیں آسکتی۔ آپ نے فضائل علی میں بہت کچھ ارشاد فرمائے۔ حضرت مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا، ان کے علم وعمل اور حمیت اور غیرت کی تعریف فرمائی اور اہل اسلام کو ان سے عقیدت ومحبت رکھنے کا حکم فرمایاتازگی ایمان کے کے لئے چند مبارک کلمات نذر قارئین ہیں ملاحظہ فرمائیں:

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکر م صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ان علیا منی وانا منہ وہوولی کل مومنٍ‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح  ص:۵۶۴)

’’علی مجھ سے ہیں ، میں علی سے ہوں اور وہ ہر مومن کے ولی ہیں‘‘۔

حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول محترم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’من کنت مولاہ فعلی مولاہ‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح  ص:۵۶۴ )

جس کا میں مولیٰ ہوں اس کے علی مولیٰ ہیں‘‘۔

حضو رپرنور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم میرے اور ابراہیم خلیل اللہ علیہما الصلوٰۃ والسلام کے بیچ میں خوش تیز چلیں گے یا میرے اور ان کے بیچ میں جنت کی طرف انہیں یوں لے جائیں گے جیسے نئی دلہن کو دولہا کے یہاں لے جاتے ہیں ۔‘‘ (جامع الاحادیث ۴؍۵۸۳)

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حضرت علی کے مقابل کوئی جوان نہیں اور ان کی تلوار ذوالفقار کے سامنے کوئی تلوار نہیں‘‘۔ (حوالہ مذکور)

ایک اور حدیث پاک ملاحظہ کریں جس میں چاروں خلفائے راشدین کی عظمت کا بیان ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

’’رحم اللہ علیا اللہم ا در الحق معہ حیث دار ہٰذا انا مدینۃ العلم وابوبکر اساسہا وعمر حیطانہا وعثمان سقفہا وعلی بابہا (مراۃالمناجیح ص: ۸؍۵۷۱)

’’اللہ تعالیٰ علی پر رحم فرمائے حضرت علی رخ کریں حق کا رخ بھی ادھر ہوجائے میں علم کا شہر ہوں ابوبکر اس کی بنیاد ہیں اور عمر اس کی دیوار ہیں اور عثمان اس کی چھت ہیں اور علی اس کا دروازہ ہیں‘‘۔

    بعض کم فہم لوگ حضرت مولاعلی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق ،عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنھم سے افضل بتاتے ہیں اس سلسلے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ ٗنے بڑی پیاری بات فرمائی ہے چنانچہ آپ رقم طرازہیں :

’’اہل سنت وجماعت نصرھم اللہ تعالیٰ کااجماع ہے کہ مرسلین ملائکہ ورسل وانبیاے بشر صلوات اللہ تعالیٰ وتسلیماتہ علیھم اجمعین کے بعد حضرات خلفاے اربعہ رضوان اللہ علیھم اجمعین تمام مخلوق الٰہی سے افضل ہیں تمام امم عالم اولین وآخرین میں کوئی شخص ان کی بزرگی وعظمت ووجاہت وکرامت وقرب وولایت کو نہیں پہنچتا۔ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ ذوالفضل العظیم ۔

پھر ان میں باہم ترتیب یوں ہے کہ سب سے افضل صدیق اکبر ،پھر فاروق اعظم،پھر عثمان غنی ،پھر مولیٰ علی صلی اللہ تعالیٰ علیٰ سید ھم ومولاھم والہ وعلیھم وبارک وسلم

اس مذہب مہذب پر آیات قرآن عظیم واحادیث کثیرہ حضور پر نور نبی کریم علیہ وعلیٰ الہ وصحبہ الصلوۃ والتسلیم وارشادات جلیلہ واضحہ امیر المؤمنین مولیٰ علی مرتضیٰ ودیگر ائمہ اہل بیت طہارت وارتضاواجماع صحابہ کرام وتابعین عظام وتصریحات اولیاے امت وعلماے  ملت رضی ا للہ عنھم اجمعین سے وہ دلائل باہرہ وحجج قاہرہ (روشن دلیلیں اور زبر دست حجتیں ) ہیں جن کااستیعاب (پوراپورا حاصل کرنا)نہیں ہوسکتا۔(فتاویٰ رضویہ شریف ۱۱؍۱۴۶مطبوعہ ممبئی)

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں آپ کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ چہیتی اور لاڈلی شہزادی جو سیدہ فاطمۃ الزہراء، خاتون جنت اور جگر گوشۂ رسول اور جان احمد کی راحت کہلاتی ہیں آپ ہی کے نکاح میں آئیں اس سے بھی نگاہ مصطفوی میں آپ کی قدر ومنزلت کا پتہ چلتا ہے۔ چوں کہ آپ کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کئی نسبتیں حاصل ہیں آپ حضور کے چچا زاد بھائی اور داماد ہیں سیدہ فاطمہ کے شوہر اور حسن وحسین رضی اللہ عنہما کے والد گرامی ہیں اسی طرح حضور کی خاص تربیت میں رہے اس لئے تحدیث نعمت کے طور پر فرمایا کرتے۔ ’’تم جانتے ہو میرا اللہ کے حبیب کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ حضور علیہ السلام نے مجھے گود میں پالا میں جب بچہ تھا تو آپ مجھے اپنے سینہ اقدس اور جسم اطہر سے لگاتے اور مجھے آپ کے مبارک پسینہ کی خوشبو سونگھنے کا شرف حاصل ہے۔

نکاح

 ۲ھ ؁ میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب سے چہیتی لخت جگر خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرارضی اللہ عنہا کا عقد اپنی آغوش شفقت ورحمت کے پروردہ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کردیا بعد نکاح اس مقدس جوڑے پر وضو کاپانی چھڑکا اور خیر وبرکت کی دعافرمائی۔

دینی خدمات

سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ عنہ نے اسلام اور سنیت کی تبلیغ واشاعت کے لیے خوب کاوشیں کیں۔ اپنی خدادادصلاحیتوں کا اس راہ میں بخوبی استعمال کیا، بدر سے لے کر جنگ حنین تک کے ہر معرکۂ حق وباطل میں اپنی شجاعت وبہادری کے جوہر دکھاتے رہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کے محافظ بنے رہے۔ آپ کی جاں بازیاں اور قربانیاں بے مثال ہیں، کئی نازک حالات میں جہاں کوئی بھی آگے بڑھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا آپ بلاخوف وخطر جان کی پروہ کئے بغیر اسلام کے تحفظ وبقا کے لئے اپنے آپ کو پیش کردیتے ایسے متعدد واقعات تاریخ اسلام میں موجود ہیں۔

بدر کے معرکے میں کفار کے مقابلے کے لئے سب سے پہلے تین انصاری صحابہ حضرت عوف، حضرت معاذ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نکلے اس وقت عتبہ نے کہاتھا کہ یہ لوگ ہماری جوڑکے نہیں ہیں ہمارے ساتھ پنجہ آزمائی کے لئے ہمارے مد مقابل بھیجو چنانچہ ایسے موقع پر جن بہادران اسلام کو آگے بڑھایا گیا ان میں ایک حضرت مولیٰ علی رضی اللہ عنہ کی ذات تھی۔ لافتی الا علی لاسیف الا ذوالفقارکے مظہرومصداق سیدنا علی آگے بڑھے اور ذوالفقار حیدری نے بدر کے میدان میں جو شان دکھائی آج بھی اس کے تذکرے پڑھ کر اہل ایمان مچل جاتے ہیں ۔ آپ نے عتبہ کے بیٹے ولید سے مقابلہ کرتے ہوئے اسے سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا اور اپنی شمشیر خار اشگاف سے وار کرتے ہوئے اسے آن واحد میں کیفر کردار تک پہنچادیا۔ اور اس طرح میدان بدر میں مسلمانوں کی پہلی فتح ہوئی ۔ اس موقع پر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اسلامی علم عطافرمایا اور ذوالفقار حیدری ہمیشہ کے لئے آپ کو سپرد فرمادی۔

جنگ اُحد بھی تاریخ اسلام کا روشن اور درخشاں باب ہے جہاں مسلمانوں نے اپنی جان ومال کی پرواہ کیے بغیر تحفظ اسلام کی خاطر مثالی قربانیاں پیش کیں۔ یہ جنگ ۳ھ میں ہوئی اور اس میں بھی مسلمانوں کوفتح مبین حاصل ہوئی۔ جس وقت جنگ پورے شباب پر تھی سرکٹ کٹ کر گر رہے تھے سینے گھائل ہورہے تھے اس وقت سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات انصار کے جھنڈے کے نیچے تشریف فرماتھے حضور نے علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ جھنڈا اٹھالو۔ جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا آپ نعرہ لگارہے تھے ’’انا ابو القصم‘‘ میں باطل کی پشت توڑنے والا ہوں۔

اسی اثناء میں کفار کے علمبردار طلحہ بن ابی طلحہ نے للکار کر کہا: ہل من مبارز‘‘ ہے کوئی میرے ساتھ پنجہ آزمائی کرنے والا۔ کسی نے اس کی للکار کا جواب نہ دیا وہ کہنے لگا، اے محمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام) کے صحابہ تمہارا تو یہ خیال ہے کہ تمہارے مقتول جنت میں ہیں اور ہمارے مقتول دوزخ میں ۔ لات کی قسم تم جھوٹ کہتے ہو، اگر تم اسے سچ یقین کرتے تو تم میں سے کوئی میرے مقابلہ کے لیے نکلتا۔ شیر خدا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا فر کی اس ڈینگ پر اللہ کا نام بلند کرتے ہوئے میدان میں نکل آئے ۔ لشکر اسلام اور لشکر کفار کی صفوں کے درمیان ان کا مقابلہ ہوا۔ شیر خدا نے اس کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ دیا، بجلی کی تیزی سے اس پر تلوار کا وار کیا وہ پیکر نخوت جو چند لمحے پیشتر شیخیاں بگھاررہاتھا زمین پر پڑا تڑپ رہاتھا آپ نے دوسرا وار نہ کیا کیونکہ بے دھیانی میں اس کی شرم گاہ ننگی ہوگئی تھی اور اہل مروت کا یہ شیوہ نہیں کہ دشمن کو ایسی حالت میں موت کے گھاٹ اتارا جائے لیکن وہ ایک وار کی تاب بھی نہ لاسکا اور کچھ دیر بعد دم توڑ گیا‘‘۔  (ضیا ء النبی ۳؍۴۸۵)

یہی نہیں اسلام وکفر کے درمیان ہونے و الے بیشتر معرکوں میں مولیٰ علی رضی اللہ عنہ  نے شرکت فرمائی اور کامیاب وکامران ہوئے۔ غزوۂ احزاب (خندق) اور صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی آپ کی جرات وجوانمردی سے مسلمانوں کے حوصلوں میں پختگی آئی اور آپ نے رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کاحق ادا کردیا۔

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوۂ خیبر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل میں جھنڈا اس شخص کو دوں گا جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ فتح عطا کرے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اس کو محبوب رکھتے ہیں ۔ (بخاری شریف ۲؍۶۰۵)

بس پھر کیا تھا آرزو مندوں کی رات کاٹنی مشکل ہوگئی مجاہدین کی نیندیں اُڑگئیں ہر ایک کی یہی تمنا تھی کہ اس نعمت عظمیٰ سے سرفراز ہو، صبح ہوتے ہی سب کے سب بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے اور ادب واحترام سے دیکھنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا دست رحمت کس خوش نصیب کو سرفراز فرماتا ہے پیارے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک لبوں کی جنبش پر ارمان بھری نگاہیں قربان ہورہی تھیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’علی ابن ابی طالب کہاں ہیں ؟عرض کیاگیا ان کو تکلیف ہے، ان کی آنکھوں پر آشوب ہے۔ آپ نے فرمایا، انہیں بلا لو۔ حضرت علی حاضرکئے گئے آپ نے اپنے دہن مبارک کے شفا بخش لعاب کو ان کی آنکھوں میں ڈالا اور دعا فرمائی۔ اسی وقت ایسا آرام ہوا گویا آپ کو کبھی تکلیف ہی نہ تھی ۔(فضائل اہل بیت ص:۶۹۔۷۰)

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جھنڈا عطا فرمایا اور آپ جھنڈا لے کر قلعہ خیبر کی طرف بڑھے۔

شیر خدا رضی اللہ عنہ نے ’’قلعہ قموس‘‘ کے پاس پہنچ کر یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی لیکن انہوں نے اس دعوت کا جواب اینٹ اور پتھر، اور تیر وتلوار سے دیا اور قلعہ کا رئیس اعظم ’’مرحب‘‘ خود بڑے طنطنہ کے ساتھ نکلا سر پر یمنی زرد رنگ کا ڈھاٹا باندھے ہوئے اور اس کے اوپر پتھر کا خود پہنے ہوئے رجز کا یہ شعر پڑھتے ہوئے حملہ کے لئے آگے بڑھا۔

قد علمت خیبر انی مرحب

شاکی السلاح بطل مجرب

خیبر خوب جانتا ہے کہ میں مرحب اسلحہ پوش ہوں بہت ہی بہادر اور تجربہ کارہوں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں رجز کا یہ شعر پڑھاکہ

انا الذی سمتنی امی حیدرہ

کلیث غابات کریہ المنظرۃ

یعنی میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر (شیر) رکھا میں کچھار کے شیر کی طرح ہیبت ناک ہوں۔

مرحب نے بڑے طمطراق کے ساتھ آگے بڑھ کر حضرت شیر خدا پر اپنی تلوار سے وار کیا مگر آپ نے ایسا پینترا بدلا کہ مرحب کا وار خالی گیا پھر آپ نے بڑھ کر اس کے سر پر اس زور کی تلوار ماری کہ ایک ہی ضرب سے خود کٹا مغفر کٹا اور ذو الفقار حیدری سر کو کاٹتی ہوئی دانتوں تک اتر آئی اور تلوار کی مار کا تڑاکہ فوج تک پہنچا اور مرحب زمین پر گر کر ڈھیر ہوگیا۔

مرحب کی لاش کو زمین پر تڑپتے ہوئے دیکھ کر اس کی تمام فوج حضرت شیر خدا پر ٹوٹ پڑی لیکن ذوالفقار حیدری بجلی کی طرح چمک چمک گرتی تھی جس سے صفیں کی صفیں الٹ گئیں اور یہودیوں کے مایۂ ناز بہادر مرحب، حارث، اسیر عامرہ وغیرہ کٹ گئے اسی گھمسان کی جنگ میں حضرت علی رضی اللہ علیہ کی ڈھال کٹ کر گر پڑی تو آپ نے آگے بڑھ کر قلعہ قموص کا پھاٹک اکھاڑ ڈالا اور کواڑ کو ڈھال بناکر اس پر دشمنوں کی تلوار روکتے رہے یہ کواڑ اتنا بڑا اور وزنی تھا کہ حضرت علی شیر خدا نے کمال شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے خبیر کو فتح کرلیا اور رسول کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان صداقت کا نشان بن کر فضاؤں میں لہرانے لگاکہ

’’کل میں اس آدمی کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا وہ اللہ ورسول کا محب بھی ہے اور اللہ ورسول کا محبوب بھی۔ (سیرۃ المصطفیٰ ص:۲۹۳۔۲۹۴)

۱۰ھ میں عرب کے مختلف خطوں میں تبلیغ دین کے لیے وفود بھیجے گئے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آپ کو یمن کا قاضی بناکر بھیجا آپ کی کوششوں سے وہاں خوشگوار تبدیلی ظاہر ہوئی اور اسلام کی اشاعت ہوئی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرمانے کے بعد خلفائے ثلاثہ کے عہد میں حضرت علی اہم ملکی وسیاسی معاملات میں اپنے مفید مشوروں سے نوازتے رہے آپ کی اصابت رائے سے بڑے بڑے کام تکمیل کو پہونچے، حضرت عمر جب شام تشریف لے گئے تو آپ کو اپنا نائب بنایا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ۳۵ھ میں ہوئی تو آپ کے ہاتھوں پر خلافت کی بیعت کی گئی۔ بیعت خلافت کے بعد آپ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو ہادی بناکر بھیجا ہے جو خیر وشر کو وضاحت کے ساتھ بتاتی ہے لہٰذا خیر کو اختیار کیجئے اور شرسے الگ رہیے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی چیزوں کو حرمت کا درجہ دیا ہے ان میں سب سے فائق حرمت مسلمان کی ہے توحید واخلاص کے ذریعہ مسلمانوں کے حقوق کو اللہ نے مضبوطی سے مربوط کردیاہے مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے تمام مسلمان محفوظ رہیں۔ (مشاہیر حدیث ص:۶۹۔۷۰)

علم وفضل

باب مدینۃ العلم کی علمی بصیرتوں کا پوچھنا ہی کیا، جس کی تربیت آغوش مصطفی میں ہوئی ہو اس کی علمی شان کا کیا کہنا۔ بلاشک وشبہ حضرت علی مرتضیٰ رضی الہ عنہ علم وحکمت، فہم وبصیرت، شعر وادب، قوت استنباط واجتہاد اور تقریر ووعظ کے میدان میں امتیازی شان رکھتے تھے۔ رسول کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی علمی وفکری صلاحیتوں ہی کی بنیاد پرآپ کو یمن کا قاضی بناکر بھیجا تھا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین آپ کے علم وفضل کے معترف تھے چنانچہ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے ’’میں نے تفسیر قرآن سے متعلق جو کچھ بھی سیکھا حضرت علی سے سیکھا‘‘۔

ابوالطفیل فرماتے ہیں:میں علی کی مجلس میں اس وقت حاضر ہوا جب وہ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے، حضرت علی نے فرمایا: مجھ سے سوال کرو خدا کی قسم کسی چیز کے بارے میں دریافت نہیں کروگے مگر تم کو اس سے با خبر کردوں گا ۔پھر فرمایا:

’’مجھ سے قرآن کے بارے میں پوچھو بخدا کوئی آیت ایسی نہیں جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو کہ وہ دن میں اتری یا رات میں، میدان میں اتری یا پہاڑ پر۔(خلفائے راشدین ص:۴۹۷)

ارشادات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی آپ کو کافی مہارت تھی آپ سے ۵۸۶ ؍احادیث مروی ہیں اسی طرح تفسیری افادات پر آپ کی گہری نظر تھی جنہیں دوسروں تک پہنچاتے رہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں:

’’قرآن سات حرفوں (یعنی قرأتوں) میں نازل ہوا اور کوئی حرف ایسا نہیں جس کا ایک ظاہر اور ایک باطن نہ ہو اور ہر حرف کے ظاہر وباطن کا علم حضرت علی کے پاس ہے۔(فضائل اہل بیت، ص:۷۴)

اپنی خداداد علمی استعداد ولیاقت سے آپ نے بڑے بڑے پیچیدہ مسائل حل فرمائے اور لوگوں کی رہنمائی فرمائی۔

حضرت ابی حزن ابن اسود فرماتے ہیں کہ ایک مجنونہ عورت نے نکاح کے ۶؍ماہ بعد بچہ جنا ، لوگوںنے اس پر زنا کا الزام لگایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے رجم کا ارادہ فرمایا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا کہ چھ ماہ کے بعدبھی بچہ ہوسکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:وحملہ وفصالہ ثلثون شہراً  ’’اور بچہ کے حمل میں رہنے اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے اور دودھ چھڑانے کی مدت دو برس ہے فرمایا ’وفصالہ فی عامین‘ لہٰذا چوبیس ماہ دودھ چھڑانے اور چھ ماہ حمل میں رہنے کے پورے تیس ہوئے نیز مجنون مرفوع القلم ہے۔

فترک عمر رجمہا وقال لولا علی لہلک عمر‘‘تو حضرت عمر نے اس کے رجم کا ارادہ ترک کردیا اور فرمایا اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا یعنی ایک بے گناہ عورت کا سنگسار ہونا میری ہلاکت کا باعث بن جاتا۔‘‘ (فضائل اہل بیت ص:۸۶)

محبت رسول ﷺ

حضرت سیدنا علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ عاشق مصطفی تھے حضور سے بے حد محبت فرمایا کرتے۔ کسی نے آپ سے سوال کیا کہ آپ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کتنی محبت ہے؟ تو آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مال، ہماری اولاد، ہمارے باپ، ہماری ماں اور سخت پیاس کے وقت پانی سے بڑھ کر ہمارے نزدیک محبوب ہیں۔ (شفا شریف ۱؍۱۸)

سیدنا علی کی محبت وعقیدت کے بے شمار واقعات ہیں، بلاشبہ وہ جاہ ومال اور اولاد کو آپ کی محبت پر قربان کرنے کے لئے تیار رہاکرتے، مقام صہبا میں جب کہ تاجدار کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کے زانوئے اطہر پر آرام فرمارہے تھے آپ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خواب ناز پر نماز جیسی متاع گرانمایہ نثار کردی تھی، یہ حسن ادب اور انداز محبت ہی تو تھا کہ جنگ اُحد کے موقع پر انتہائی نازک وقت میں بھی رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور آپ کا دفاع کرتے رہے۔

اتباع سنت

محبت ادب سکھاتی ہے، محبوب کی ہر ادا پر قربان ہونے کی تعلیم دیتی ہے، محبوب کے چلنے پھرنے، کھانے پینے اور دیگر عادات واطوار کو اپنانے پر ابھارتی ہے، صحابہ کرام نے اپنے آقا سے محبت ہی نہیں کی بلکہ محبت کا حق ادا کردیا۔ وہ اپنے آقا کے معمولات کو یاد کرکے انہیں اپنی زندگی میں ڈھالتے رہتے۔ اس طرح کے سیکڑوں واقعات تاریخ نے محفوظ کئے ہیں۔ سیدنا علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی اتباع سنت کے واقعات بھی بڑے نرالے ہیں جنہیں پڑھ کر محبت انگڑائی لینے لگتی ہے چنانچہ حضرت ابودحیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا انہوں نے وضو کیا پھر بچا ہوا پانی کھڑے ہوکر پیا۔ پوچھا گیا تو فرمایا:

صنع رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کما صنعت‘‘

(سنن نسائی باب الانتفاع بفضل الوضوء)

’’رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا جیسے میں نے کیا‘‘

اخلاق وعادات

آغوش رسالت میں تربیت کا شرف عظیم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حصہ میں آیا تھا اس لیے وہ خلق نبی کا نمونہ بن گئے تھے۔ آپ اسلامی اخلاق ومحامد کا پیکر جمیل تھے آپ کی زندگی کے تمام پہلو اہل حق کے لیے مشعل راہ ہیں، عرب کے دور جاہلیت کی ہوا بھی آپ کے دامن اخلاق کو مس نہ کرسکی۔ شرک وکفر اور بیہودہ رسوم سے کبھی آلودہ نہ ہوئے پوری زندگی اسلامی نظام اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھی۔ زہد وورع، توکل وقناعت کا پیکر تھے۔

(مشاہیر حدیث ص:۷۵)

وفات وتدفین

سیدنا مولیٰ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تین ماہ کچھ دن کم یا پانچ سال تک مسند آرائے خلافت رہے ۔۱۸؍رمضان المبارک ۴۰ھ میں نماز فجر کے لیے جاتے ہوئے مسجد کوفہ میں عبدالرحمن بن ملجم نے سر اقدس پر زہر آلود تلوار ایسی ماری کہ دماغ تک پہونچ گئی ،تیسرے دن بیس رمضان کو اسی صدمے سے وصال فرمایا ۔سبطین کریمین اور عبداللہ بن جعفر بن طیار نے غسل دیا۔ حضرت امام حسن نے نماز جنازہ پڑھائی۔ بروایت صحیح کوفے (کوفے سے قریب نجف اشرف) ہی میں مدفون ہوئے۔ عمر مبارک ترسٹھ سال کی ہوئی۔ (نزھۃ القاری ص: ۱؍۳۴۹)

(عشرہ مبشرہ مطبوعہ سنی تبلیغی جماعت باسنی راجستھان)