Instagram

Thursday, 15 June 2017

21th Ramzan l Hazrat Ali Radi Allaho Anho K Irshadat

ارشادات وفرمودات حضرت مولائے کائنات علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ
پیش کش: ڈاکٹر مشاہد رضوی آن لائن ٹیم

      سوشل میڈیا کی دنیا میں اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ بلا تحقیق کسی بھی اچھے قول یا بات کو حضرت مولائے کائنات علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے منسوب کرکے بلاخوف و خطر شئیر کیا جاتا ہے۔ اگر واقعی وہ اقوال حضرت مولائے کائنات علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے ہیں تو لائقِ تحسین، لیکن اگر وہ آپ رضی اللّٰہ عنہ کی بیان فرمودہ نہیں ہیں تو اللّٰہ کے مقدس رسولﷺ کے مقدس صحابی خلیفۂ چہارم شیرِ خدا جوامع الکلم حضرت مولائے کائنات علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی طرف غلط بات منسوب کرنے کا وبال اپنے سر لینے والوں کو آخرت میں شرمندگی اٹھانی پڑ سکتی ہے۔ ہم اس مضمون میں علامہ مومن بن حسن شبلنجی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی کتاب’ نور الابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ سے سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کے ارشادات وفرمودات نقل کررہے ہیں:

شیریں کلامی:
من عذب لسانہ کثر اخوانہ۔
جس کی زبان شیریں ہو اس کے دوست واحباب زیادہ ہوتے ہیں۔

نیکی کی برکت:
بالبر یستعبد الحر۔
نیکی اور حسن سلوک کے ذریعہ آزاد شخص کو بھی تابع کیا جاسکتا ہے۔

تقلیل کلام:
اذا تم العقل نقص الکلام۔
جب عقل کامل ہوتی ہے تو آدمی گفتگو کم کرتا ہے۔
من طلب مالا یعنیہ فاتہ مایعنیہ۔
جو شخص بے فائدہ چیزوں کو طلب کرتا ہے، ضروری چیزیں اس سے چھوٹ جاتی ہیں۔

غیبت سے پرہیز:
السامع  للغیبۃ احد المغتابین ۔
غیبت سننے والا بھی غیبت کرنے والوں میں سے ایک ہے۔

تقدیر اور تدبیر:
اذا حلت المقادیر بطلت التدابیر۔
جب تقدیر کا فیصلہ آجاتا ہے تو تدبیر ناکام ہوجاتی ہے۔

نادان اور دانا کی پہچان:
قلب الاحمق فی فیہ ،ولسان العاقل فی قبلہ۔
بے وقوف کا دل اس کی زبان میں ہوتا ہے اور عقل مند کی زبان اس کے دل میں ہوتی ہے۔

عفوودرگزر:
اذا قدرت علی عدوک فاجعل العفو شکرا للقدرۃ علیہ۔
جب تم اپنے دشمن پر قابو پالو تو اس پر قابو پانے کے شکر میں عفو ودرگزر کو اختیار کرو!۔

بخالت کا نقصان:
البخیل یستعجل الفقر،یعیش فی الدنیا عیشۃ الفقراء ویحاسب فی الاخرۃ حساب الاغنیاء ۔البخل جامع لمساوی الاخلاق۔
بخیل شخص بہت جلد تنگدست ہوجاتا ہے ،وہ دنیا میں تو تنگدستوں کی طرح زندگی گزار تا ہے اور آخرت میں اس سے مالداروں کی طرح حساب لیا جائے گا۔بخالت تمام اخلاقی خرابیوں کا مجمع ہے۔

علم کا فائدہ اور جہالت کا نقصان:
العلم یرفع الوضیع ،والجھل یضع الرفیع۔
علم پستی میں رہنے والوں کو بلندی عطا کرتا ہے اور جہالت بلند آدمی کو بے وقار کردیتی ہے۔

تواضع وخاکساری:
لاتکون غنیا حتی تکون عفیفا،ولاتکون زاھدا حتی تکون متواضعا،ولاتکون متواضعا حتی تکون حلیما،ولا یسلم قلبک حتی تحب للمسلمین ما تحب لنفسک۔
تم اس وقت تک مالدار نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم پاک دامن نہ ہوجاؤ،اور اس وقت تک زاہد (دنیا سے بے رغبتی کرنے والے )نہیںہوسکتے جب تک کہ تم منکسر المزاج نہ ہوجاؤ،اور تم اس وقت تک متواضع نہیں ہوسکتے جب تک کہ تم بردبار نہ ہوجاؤ،اور تمہارا دل اس وقت تک قلب سلیم نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم مسلمانوں کے لئے وہ چیز پسند نہ کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔

مصیبت کے وقت صبر کا دامن تھامنے کی تلقین:
وطن نفسک علی الصبر علی ما اصابک۔قل عند کل شدۃ:’’ لا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم‘‘ تکف۔وقل عند کل نعمۃ :’’ الحمد للہ‘‘ تزد منھا۔
جو کچھ تم پر مصیبت آئے اس پراپنے آپ کو صبر کا عادی بنالو۔ہر مصیبت کے وقت’’لا حول ولاقوۃ الا باللہ العلی العظیم‘‘کہا کرو ،اس کی برکت سے تم مصیبت کو روک دوگے،اور ہر نعمت وراحت کے وقت ’’الحمد للہ‘‘کہا کروکہ تم نعمتوں میں اضافہ پاؤگے۔

گوشہ نشینی وتنہائی:
الوحدۃراحۃ ، والعزلۃ عبادۃ،والقناعۃ غنی،والاقتصاد بلغۃ۔
تنہائی راحت ہے،گوشہ نشینی عبادت ہے،قناعت(اپنے نصیب پر راضی رہنا)تونگری ہے اور میانہ روی بقدر ضرورت (چیزوں کو پورا کرتی)ہے۔

مردم شناسی کا طریقہ:
ولا تعرف الناس الا بالاختبار،فاختبر اہلک وولدک فی غیبتک،وصدیقک فی مصیبتک،وذا القرابۃ عند فاقتک
لوگوں کو امتحان وآزمائش کے ذریعہ تم پہچان سکتے ہو، توتم اپنے گھر اور اپنی اولاد کو غائبانہ میں آزماؤ!اپنے دوست کو اپنی مصیبت کے وقت آزماؤ!اور اپنے رشتہ دار کو اپنی فاقہ کشی اور تنگدستی کے وقت آزماؤ!۔

دنیا کی بے ثباتی:
آپ نے ارشاد فرمایا:
الناس نیام فاذا ماتوا انتبھوا۔
لوگ خواب غفلت میں ہیں،جب انہیں موت آئے گی تو بیدار ہوںگے۔
الدنیا والآخرۃ کالمشرق والمغرب،ان قربت من احدھما بعدت عن الاخر۔
دنیا وآخرت مشرق ومغرب کی طرح ہے ،اگر تم ان میں سے کسی ایک کے قریب ہوجاؤگے تو دوسرے سے خود بخود دور ہوجاؤگے۔
٭۔ ۔آپ نے ارشاد فرمایا:؎
الناس من جہۃ التمثال أکفاء
أبوہم آدم ، والأم حواء
تمام انسان جسم کے لحاظ سے برابر ہیں،ان کے والد حضرت آدم اور والدہ حضرت حواء ہیں علیہما السلام۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ ؎
فإن یکن لہم من أصلہم شرف
یفاخرون بہ،فالطین والماء
اگر ان کی اصل کے لحاظ سے کوئی عزت وبزرگی ہے ،جس پر وہ فخر کرسکتے ہیں تو وہ مٹی اور پانی ہے
۔۔۔۔۔۔۔ ؎
ماالفضل إلا لأہل العلم إنہم
علی الہدی لمن استہدی أدلاء
فضیلت وعظمت صرف اہل علم کے لئے ہے کیونکہ،وہ ہدایت پر ہیں اور طالبین ہدایت کے لئے رہنما ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؎
وقیمۃ المرء ما قد کان یحسنہ
والجاہلون لأہل العلم أعداء
اور آدمی کی قدر وقیمت انہیں خوبیوں سے ہے جو اسے زینت بخشے ،اور جاہل لوگ اہل علم کے دشمن ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔ ؎
فقم بعلم، ولاتطلب بہ بدلا
فالناس موتی،وأہل العلم أحیاء
تو تم طلب علم کے لئے کمربستہ ہوجاؤ اور اس علم کے ذریعہ کوئی دنیوی فائدہ کے طلبگار نہ بنو،کیونکہ عام انسان مردے ہیں اور علم والے زندے ہیں۔
      حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کی سیرت مبارکہ ،آپ کے فرامین وارشادات، عادات واطوار اور آپ کی تابناک زندگی بہترین نمونۂ عمل ہے،جس میں آپ کے چاہنے والوں اور محبین کے لئے درس حق وصداقت ہے کہ وہ غفلت سے بچیں اور آخرت کی تیاری کریں،نمازوں کا اہتمام کریں اور کتاب وسنت کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔
      اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں حبیب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ وطفیل حضرات اہل بیت کرام وصحابۂ عظام رضی اللہ عنہم سے بے پناہ محبت کرنے والا بنائے،حضرت مولائے کائنات رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی سے بے انتہاء عقیدت والفت رکھنے والابنائے اور آپ کے فیوض وبرکات سے ہمیں مستفیض فرمائے اور آپ کی تعلیمات پر عمل کرنے والا بنائے۔
      آمِیْن بِجَاہِ  طٰہٰ وَیٰسٓ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی وَبَارَکَ وَسَلَّمَ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہٖ وَصَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔