Instagram

Monday, 19 June 2017

24th Ramzanul Mubarak l Hazrat Maulana Rahmatullah Keranvi

پایۂ حرمین شریفین حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی مہاجر مکی وفات ۱۳۰۸ھ
24/ رمضان المبارک یوم وفات پر
(برادرِ گرامی علامہ محمدافروز قادری چریاکوٹی، کیپ ٹاؤن  کی ارسال کردہ کتاب انوارِ ساطعہ کی فائل سے ماخوذ، حضرت کے شکریے کے ساتھ ۔ مُشاہدؔ رضوی)

آپ کا نسبی تعلق قصبہ کیرانہ ضلع مظفر نگر (یو۔ پی۔ ) کے معروف عثمانی خانوادے سے ہے ، والد کا نام خلیل الرحمن بن نجیب اللہ تھا ۔ کیرانہ ہی میں جمادی الاولیٰ ۱۲۳۳ھ میں آپ کی پیدائش ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے بزرگوں سے حاصل کی۔ پھر دہلی گئے جہاں ان کے والد مہاراجہ ہندوراؤ بہادر کے میر منشی تھے ۔ وہیں مولانا محمد حیات پنجابی اور مولانا عبد الرحمن چشی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ، مولانا امام بخش صہبائی سے فارسی پڑھی ، فراغت کے بعد اپنے وطن قصبہ کیرانہ میں ایک دینی مدرسہ قائم کیا جس سے سیکڑوں تشنگان علم نے اپنی علمی پیاس بجھائی ، انوار ساطعہ کے مصنف مولانا عبد السمیع بے دلؔ رام پوری نے اسی مدرسہ میں آپ سے تعلیم پائی ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عیسائی مشنریوں نے ہندوستان میں اپنی اسلام دشمن سرگرمیاں تیز کر رکھی تھیں ، پادری فانڈر عیسائیوں کا سر گروہ تھا مولانا کیرانوی نے اکبر آباد آگرہ میں ۱۱؍ رجب ۱۲۷۰ھ/۱۰؍ اپریل ۱۸۵۴ء کو اس سے مناظرہ کیا ، دو دن تک مناظرہ چلتا رہا، بالآخر تیسرے دن پادری فانڈر مناظرہ کے لیے نہیں آیا۔ پھر اس کے بعد اسی سبب سے انگریز آپ کے مخالف ہو گئے ، یہاں تک کہ آپ ہندوستان سےہجرت کے لیے مجبور ہو گئے ۔ آپ نے مکہ مکرمہ کا رخ کیا اورشیخ العلما علامہ سید احمد زینی دحلان مکی علیہ الرحمہ سے گہرے روابط پیدا کیے جس کے نتیجے میں آپ کو مسجدِ حرام میں درس دینے کی باقاعدہ اجازت مل گئی۔ آپ مولانا سید احمد زینی دحلان سے بہت متاثر تھے ، اپنی کتاب اظہار الحق کے مقدمہ میں ان کا ذکر بڑی عقیدت و محبت سے بلند پایہ آداب و القاب کے ساتھ کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کتاب کو عربی زبان میں لکھنے کا اصل سبب علامہ سید احمد زینی دحلان مکی کا حکم ہی ہے ۔ پھر ۱۲۹۰ھ میں آپ نے مکہ مکرمہ ہی میں ایک دینی مدرسہ قائم کیا جس کا نام ’’مدرسہ صولتیہ ‘‘ رکھا، جو کلکتہ کی ایک مخیر اور فیاض خاتون محترمہ صولت النساء کے نام سے منسوب ہے، جنھوں نے اپنی جیبِ خاص سے مکہ مکرمہ کے محلہ خندریسہ میں مدرسے کے لیے ایک جگہ خرید کر اپنی نگرانی میں اس کی تعمیر کرائی تھی۔ اس مدرسہ میں دینی علوم و فنون کے علاوہ مولانا نے ایک صنعتی اسکول بھی قائم کیا تھا جس میں مہاجرین اور عرب طلبہ کو صنعت اور دست کاری بھی سکھائی جاتی تھی۔
آپ نے تین بار قسطنطنیہ کا سفر فرمایا ، پہلا سفر سلطان عبد العزیز خان مرحوم کی دعوت پر ۱۲۸۰ھ/۱۸۶۴ء میں ہوا، جب کہ دوسرا سفر سلطان عبد المجید خاں مرحوم کی دعوت پر ۱۳۰۱ھ میں ہوا۔ اور اسی موقع پر سلطان کی طرف سے آپ کو ’’پایۂ حرمین شریفین‘‘ کا لقب ملا۔ اور تیسرا سفر ۱۳۰۳ھ میں موتیا بند کے علاج کے لیے سلطان کی دعوت پر کیا۔ مولانا کیرانوی کا شمار اپنے دور کے اکابر علماے اہلِ سنت میں ہوتا ہے ۔ وہ تمام عقائد و معمولات میں مذہبِ اہلِ سنت کے ناصر و حامی اور اس پر سختی کے ساتھ کاربند رہے ، جس کا ثبوت زیرِ نظر کتاب انوارِ ساطعہ اور تقدیس الوکیل مؤلفہ مولانا غلام دستگیر قصوری پر آپ کی شان دار تقریظات و تائیدات ہیں۔ ہم ثبوت کے لیے اسی مقدمہ میں تقدیس الوکیل پر آپ کی تقریظ کو نقل کریں گے۔
اسلام اور مسلمانوں کی گو ناگوں علمی و عملی خدمات کے بعد آپ نے پچہتر سال کی عمر میں جمعہ کے دن ۲۲؍ رمضان ۱۳۰۸ھ مطابق ۱۸۹۰ء میں مکہ مکرمہ میں وفات پائی اور جنت المعلّیٰ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے جوار میں صدیقین و شہدا کے قریب مدفون ہوئے۔ اس چھوٹے سے احاطہ میں پانچ مزارات ہیں جن میں مولانا کیرانوی کے علاوہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور مولانا عبد الحق الٰہ آبادی شیخ الدلائل(مصنف اکلیل شرح مدارک التنزیل) خاص طور سے قابلِ ذکر ہیں۔
آپ نے درج ذیل کتابیں تصنیف فرمائیں:(۱)ازالۃ الاوہام(فارسی)، (۲) ازالۃ الشکوک(اردو)، (۳)اعجازِ عیسوی(اردو)،(۴) اوضح الاحادیث،(۵)بروق لامعہ، (۶) معدل اعوجاج المیزان۔، (۷) تقلیب المطاعن، (۸) معیار الحق،(۹) اظہار الحق (عربی)۔ یہ ساری کتابیں عیسائیوں کے رد میں ہیں ۔ آخر الذکر کتاب مولانا کیرانوی کی ردِ عیسائیت پر آخری اور سب سے گراں قدر اور مدلل کتاب ہے ، امام احمد رضا لائبریری، جامعہ اشرفیہ ، مبارک پورمیں موجود ہے ، راقم نے اس کا جستہ جستہ مطالعہ کیا ہے۔(۱)
(۱) (الف) مقدمہ بائبل سے قرآن تک ج۱/ص۱۷۹-۲۱۸، مطبوعہ حافظی بک ڈپو، دیوبند۔  (ب)  نزہۃ الخواطر، ج۸/ص۱۶۰-۱۶۲۔   (ج)انوارِ ساطعہ،ص   (د)   تقدیس الوکیل، از مولانا غلام دستگیر قصوری، ص۴۱۵، مطبوعہ نوری بک ڈپو، لاہور۔   (ہ)   انگریز نوازی کی حقیقت، از مولانا یٰسین اختر مصباحی،ص۳۸، مطبوعہ دار القلم، دہلی، ۱۴۲۸ھ/۲۰۰۷ء۔