Instagram

Thursday, 1 June 2017

Hazrat Aaisha Siddiqa Awr Uloom Ki Isha'at

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہااور علوم کی اشاعت

ڈاکٹر مشاہدرضوی ، مالیگاؤں کی کتاب ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال فرمانے کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے بڑی تیزی سے دینی علوم کی اشاعت اور فروغ کے لیے نمایاں کارنامے انجام دیے ۔ان کے شاگردوںکی ایک بڑی تعداد ہے۔ کتابوں میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے علم دین سیکھنے والے افراد کی تعداد ۲۰۰؍ کے لگ بھگ ہے۔ جن میں صحابۂ کرام بھی ہیں اور تابعین حضرات بھی ، رضی اللہ عنہم اجمعین ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکی وفات ۵۸ھ میں ہوئی، اس حساب سے دیکھا جائے تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انھوں نے ۴۸؍ سال تک مسلسل علمِ دین پھیلایا ۔ آپ رضی اللہ عنہا سے روایت کردہ احادیث کی تعداد ۲۲۱۰ بتائی جاتی ہے ، جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے اسلامی علوم و فنون کی ترویج و اشاعت میں کتنا بڑا اور اہم کردار ادا کیا۔

روایتوں میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے بڑے خلوص و للہیت اور فیاضی کے ساتھ علم دین کی اشاعت فرمائی۔ لڑکے او رعورتیں اور جن مردوں سے ان کا پردہ نہ تھا وہ پردے کے اندر بیٹھ کر اُن کی علمی مجلس میں فیض حاصل کرتے تھے ، اور باقی حضرات جنھیں ان کی شاگردی کا شرَف حاصل ہوا وہ پردے کے پیچھے بیٹھ کر علم کی تحصیل کیا کرتے تھے ۔ مختلف قسم کے سوالات کیے جاتے تھے اور نبیِ کریم معلم کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی فیض یافتہ امت کی یہ مقدس ماں جنھیں رازدار ِ نبوت کہا جاتا ہے یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہااُن کے سوالات کے تسلی بخش جوابات قرآن اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اعمال و افعال کی روشنی میں عنایت فرماتی تھیں۔ ہاں! بعض مرتبہ کسی مسئلے کے حل کے لیے وہ سائل کو کسی دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ یا امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن میں سے کسی کے پاس بھیج دیا کرتی تھیں ۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکو یہ معلوم ہوتا تھا کہ اس مسئلہ کا شافی و کافی حل وہیں سے ملے گا۔ دینی مسائل معلوم کرنے کے لیے اگر کوئی سائل شرماتا تو وہ فرماتیں کہ علم کے حصول کے لیے شرماؤ نہیں بل کہ جو پوچھنا ہو وہ کھل کر پوچھو ۔ یہی اصول دراصل درس و تدریس کاکامیاب ترین اصول ہے۔

آپ رضی اللہ عنہا ہر سال حج بیت اللہ شریف کے لیے مکۂ معظمہ تشریف لے جایا کرتی تھیں تاکہ دور دراز سے آنے والے زائرین بھی اپنی علمی پیاس بجھا سکیں اور وہ علوم دینیہ کی ترویج و اشاعت کا فریضہ انجا دے سکیں۔ روایتوں میں آتا ہے کہ حج کے لیے آنے والے افراد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے خیمہ کے باہر جمع ہوجاتے اور دینی سوالات کرتے اور وہ ان کے جوابات عنایت فرماتیں ۔ مکۂ معظمہ میں زم زم کے کنویں کے قریب پردہ ڈال کر آپ رضی اللہ عنہا تشریف فرما ہوجاتیں اور فتویٰ طلب کرنے والوں کا مجمع لگ جاتا ۔ آپ تمام لوگوں کے سوالات کے جوابات دے کر اُن سائلین کی رہنمائی فرماتیں ۔ اس طرح حج بیت اللہ شریف کی ادایگی کے ساتھ ساتھ علم دین کی اشاعت کا یہ عمل پورے جوش و خروش اور مستعدی سے جاری رہتا۔
Image may contain: text
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا شمار اُن جلیل القدرصحابہ میں کیا گیا ہے جو باضابطہ طور پرفقیہ اورمفتی تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہااپنے والد ماجد حضرت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کے زمانۂ خلافت سے مفتی ہوگئی تھیں۔ یہاں تک کہ کتابوں میں آتا ہے کہ جلیل القدر خلفاے اسلام حضرت عمر فاروق و حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہما تو خود آدمی بھیج کر ان سے مسائل معلوم کرواتے تھے۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے زمانۂ امارت میں دمشق کے اندر قیام فرما تھے اور جب ضرورت پیش آتی قاصد بھیج کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے مسئلہ معلوم کرکے عمل کرواتے تھے۔ قاصد ملک شام سے چل کر مدینۂ منورہ آتا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے گھر کے دروازے کے سامنے باادب کھڑے ہوکر سوال کا جواب حاصل کرتا اور واپس چلا جاتا تھا۔

اسی طرح بہت سارے لوگ خطوط لکھ کر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے دینی معلومات حاصل کیا کرتے تھے اور وہ ان کے جوابات لکھا دیتی تھیں۔ حضرت عائشہ بنت طلحہ رضی اللہ عنہا جو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکی خاص شاگردہ ہیں فرماتی ہیں :’’ لوگ مجھے دور دور کے شہروں سے خطوط لکھتے تھے اور ہدایا بھیجتے تھے مَیں عرض کرتی تھی کہ اے خالہ جان! یہ فلاں شخص کا خط ہے اور اس کا ہدیہ ہے، فرمائیے اس کا کیا جواب لکھوں؟ وہ فرمادیتی تھیں کہ اے بیٹا اسے یہ جواب لکھ دو اور ہدیہ کا بدلہ دے دو۔‘‘

احادیث شریفہ کی کتابوں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے فتاوے کثیر تعداد میں موجود ہیں ۔ لوگ آپ رضی اللہ عنہا سے خصوصی طور پر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اندرونِ خانہ زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کیا کرتے تھے اور وہ بہت بے تکلفی اور خلوص کے ساتھ جواب عنایت فرمایا کرتی تھیں۔ چوں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کائناتِ ارضی میں معلم بنا کر ہی بھیجے گئے تھے۔ آپ ﷺ کا ایک ایک فعل اور ایک ایک عمل ہمارے لیے بہترین نمونہ اور آپ ﷺ کا اسوۂ حسنہ ہماری دینی ، دنیا وی اور اُخروی کامیابی کا ضامن ہے۔ اسی وجہ سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاہوں یاکوئی دوسری ازاوجِ مطہرات رضی اللہ عنہن نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی کے کسی بھی پہلو کو وہ ہرگز نہیں چھپاتی تھیں ۔ آپ ﷺکی سیرت و کردار اور شمائل و خصائل سے دنیا کو مالامال کرنے میں انھیں امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کااہم رول رہا ہے۔

حضرت اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :’’ مَیں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا اپنے گھر کے کام کاج میں مصروف رہا کرتے اور جب نماز کا وقت ہوجا تاتو نماز پڑھنے کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے اس کو ذرا تفصیل سے اس طرح بیان فرمایاکہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جوتی کی مرمت خود فرمالیا کرتے تھے اور اپنا کپڑا خود ہی سی لیتے تھے اور اپنے گھر میں اس طرح کام کیا کرتے تھے جیسے تم لوگ اپنے گھر وں میں کام کرتے ہو۔‘‘(ترمذی شریف)

ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ :’’ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی طرح بات میں بات نہیں پروتے چلے جاتے تھے بل کہ آپ ﷺ کی گفتگو ایسی سلجھی ہوئی ہوتی تھی کہ ایک ایک کلمہ علاحدہ علاحدہ ہوتا تھا جسے پاس بیٹھنے والاآسانی سے یاد کرلیتا تھا۔‘‘(ترمذی شریف)

ایک مرتبہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنسنے کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ :’’ مَیں نے آپ ﷺکوکبھی پورے دانتوں اور ڈاڑھوں کے ساتھ ہنستے ہوئے نہیں دیکھا جس سے آپ کے مبارک حلق کا کوّا نظر آئے آپ ﷺ تو بس مسکراتے تھے۔‘‘ (بخاری شریف)

حضرت سعد بن ہشام فرماتے ہیں کہ مَیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میںحاضر ہو ااور عرض کیا کہ :’’ یاام المؤمنین! نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اَخلاق و عادات کے بارے میں ارشاد فرمائیے کہ وہ کیسے تھے؟ اس پر انھوں نے فرمایا :’’ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ہو؟ ‘‘ مَیں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ -- فرمایا:’’ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن ہی تھی۔‘‘( مشکوٰۃ شریف)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جانتی تھیں کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوۂ حسنہ امت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اس لیے انھوں نے آپ ﷺکی ہر ہر بات اورایک ایک ادا اچھی طرح سے محفوظ کرلیا نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اندرونی حالات اور رات کے اعمال و افعال حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہا کا امت پر بڑا احسان ہے کہ انھوں نے مصاحبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امت کو علوم دینیہ سے سرفراز کیا۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کلماتِ حکمت
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابڑی ذہین اور صاحبِ حکمت و موعظمت تھیں ۔ آپ کی باتیں اور اقوال بڑے سبق آموزہوتے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہا بڑی عمدہ اور پتے کی باتیں فرماتی تھیں۔ بعض صحابہ بھی ان سے نصیحتیں کرنے کی فرمایش کیا کرتے تھے۔

زیادہ کھانے کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ :’’ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد سب سے پہلی مصیبت اُمت میں یہ پیدا ہوئی کہ لوگ پیٹ بھر کر کھانے لگے۔ جب پیٹ بھرتے ہیں تو بدن موٹے ہوجاتے ہیں اور دل کمزور ہوجاتے ہیںاور نفسانی خواہشیں زور پکڑ لیتی ہیں۔‘‘

ایک مرتبہ فرمایاکہ:’’ گناہوں کی کمی سے بہتر کوئی پونجی ایسی نہیں ہے جسے لے کر تم اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرو جسے یہ خوشی ہوکہ عبادت میں محنت سے انہماک رکھنے والے سے بازی لے جائے اسے چاہیے کہ اپنے آپ کو گناہوں سے بچائے۔‘‘

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک خط حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے نام لکھا جس میں اپنے لیے مختصر نصیحت کرنے کی فرمایش کی ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے اس کے جواب میں فرمایا:
ترجمہ: ’’ تم پر سلام ہو۔ سلام کے بعد یہ واضح ہوکہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مَیں نے سنا ہے کہ جو شخص لوگوں کی ناراضگی کا خیال نہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو اللہ تعالیٰ لوگوں کی شرارتوں سے بھی اسے محفوظ فرما دیتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو ناراض کرکے لوگوں کو راضی رکھنا چاہتا ہو اللہ تعالیٰ اس کی مدد نہیں فرماتا بل کہ اسے لوگوں کے حوالے فرمادیتا ہے وہ اس کو جیسے چاہیں استعمال کریں اور جس طرح چاہیں اس کا دَلیہ بنادیں۔ والسلام علیک ۔‘‘

ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو غالباً ان کی درخواست پر یہ بھی لکھا کہ :
ترجمہ: ’’یعنی جب بندہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کام کرتا ہے تو اس کو اچھا کہنے والے بھی بُرا کہنے لگتے ہیں۔

..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg
‘‘