Instagram

Thursday, 1 June 2017

Hazrat Aaisha Siddiqa Ki Gharelu Zindagi

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گھریلو زندگی

ڈاکٹر مشاہدرضوی ، مالیگاؤں کی کتاب ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے 

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی گھریلو زندگی بڑی سادہ تھی۔ آپ بڑی قناعت پسند خاتون تھیں۔ فقر و فاقہ سے رہتیں۔ آپ کے شوہرِ نامدار نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں تو اللہ عزوجل نے مالکِ کونین بنا کر مبعوث فرمایا تھا۔ لیکن نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غریب امتیوں کا خیال رکھتے ہوئے سادگی کو پسند فرمایا۔ کاشانۂ نبوت میں چند چیزیں تھیں۔ جہاں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیاہ کر آئی تھیں۔ کتابوں میں آتا ہے کہ چالیس چالیس راتیں گذر جاتیں مگر گھر میں چراغ روشن نہ ہوتا ، مہینہ مہینہ بھرگھر میں چولھا نہ جلتا، صرف سوکھی کھجوریں اورپانی پی کرگزر بسر ہوتی تھی۔اگر گھر میں کہیں سے کچھ آجاتا تو ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی سخی طبیعت کی بنا پر وہ سب کچھ راہِ خدا میں لٹا دیتیں۔

حضرت مسروق تابعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ :’’ مَیں ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکی خدمت میں حاضر ہوا۔ انھوں نے میرے لیے کھانا منگوایا پھر کھانا منگا کر فرمایا کہ اگر مَیں پیٹ بھر کر کھالوں اور اس کے بعد رونا چاہوں تو روسکتی ہوں! ۔ مَیں نے سوال کیا ـ:کیوں ؟ فرمایاکہ مَیں اس حا ل کو یاد کرتی ہوں جس حال میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو چھوڑ کر تشریف لے گئے ہیں ۔ اللہ کی قسم ! کسی روز (بھی) دومرتبہ آپ نے گوشت اور روٹی سے پیٹ نہیں بھرا، یہ ترمذی شریف کی روایت ہے ۔ بیہقی شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے فرمایا :’’ کہ اگر ہم چاہتے تو پیٹ بھر کر کھالیتے لیکن واقعہ یہ ہے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نفس پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے۔

حضرت عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے اور آپ نے اور آپ کے گھر والوں نے جَو کی روٹی سے بھی پیٹ نہیں بھرا۔‘‘

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ اپنے بھانجے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ:’’ اے میری بہن کے بیٹے ! سچ جانو ہم تین چاند دیکھ لیتے تھے اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں آگ نہیں جلتی تھی۔ ‘‘انھوں نے سوال کیا کہ:’’ خالہ جان! پھر آپ حضرات کیسے زندہ رہتے تھے؟ ‘‘ فرمایا :’’ کھجوروں اور پانی پر گذارا کرلیا کرتے تھے اور اس کے سوا یہ بھی ہوتا تھا کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوس میں رہنے والے انصار اپنے دودھ کے جانوروں کا دودھ ہدیۃً بھیج دیا کرتے تھے آپ اس دودھ کو ہمیں پِلا دیا کرتے تھے۔ ‘‘(بخاری و مسلم شریف)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ :’’نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں پر بغیر چراغ روشن کیے اور بغیر چولہے میں آگ جلائے کئی کئی مہینے گذر جاتے تھے اگر زیتوں کا تیل مِل جاتا تو تھوڑا سا ہونے کی وجہ سے اس کو روشن کرنے کی بجاے بدن اور سر پر مَل لیتے تھے اور چربی مِل جاتی تو اس کو کھانے میں لے آتے تھے۔‘‘

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاروایت فرماتی ہیں کہ مَیں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے (تہجد کے وقت) سوجاتی تھی اور میرے پاؤںآپ کے سامنے (سجدہ کی جگہ) پھیل جاتے تھے۔ لہٰذا جب آپ سجدہ میں جاتے تو میرے پاؤں کو ہاتھ لگادیتے تھے مَیں پاؤں سکیڑ لیتی تھی اور جب آپ سجدہ سے فارغ ہوکر کھڑے ہوجاتے تھے تو مَیں پھر پاؤں پھیلا دیتی تھی۔‘‘ اتنا بیان کرنے کے بعد مزید فرمایا کہ :’’ اس زمانے میں ہمارے گھروں میں چراغ نہ تھے۔‘‘( بخاری و مسلم شریف)

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بستر بھی عمدہ اور نرم نہیں رکھتے تھے۔ آپ ﷺ کی ہمراہی کی وجہ سے ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن بھی اسی طرح گذارا کرتی تھیں۔ بھلا اِن مقدس خواتین کو یہ کیسے گورا ہوسکتا تھا کہ خود آرام اٹھا لیںاور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سادگی سے زندگی بسر فرماتے دیکھیں؟

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاروایت فرماتی ہیں کہ :’’ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس بستر پر سوتے تھے وہ چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی اور جس تکیہ پر سہارا لگا کر بیٹھتے تھے وہ بھی اسی طرح کا تھا۔‘‘( مشکوٰۃ شریف)

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقد س کاشانے میں کپڑے بھی زیادہ نہ تھے ۔ بعض مرتبہ ایسا ہوا کہ آپ ﷺکا کپڑا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے دھویا تو آپ ﷺ اسی کپڑے کو پہنے ہوئے مسجد میں نماز کے لیے تشریف لائے اور دھونے کی تَری اُس میں موجود رہی۔‘‘

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکیمقدس کاشانے میں صرف دو ہی فردتھے ایک نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسری حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا__ ہاں!کچھ دنوں بعد ایک باندی حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا بھی گھر والوں میں شامل ہوگئیں ۔ایک مرتبہ ایک صاحب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاکے پا س آئے اس وقت آپ رضی اللہ عنہا ۵؍ درہم کا کرتا پہنے ہوئے تھی۔ اس وقت آپ کی باندی حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا بھی وہیں موجود تھیں اُس کے بارے میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہانے فرمایاکہ:’’ ذرا میری اس باندی کو دیکھو وہ اس کرتے کوگھر کے اندرپہننے سے بھی انکار کرتی ہے۔‘‘ اورفرمایا: ’’ ہمارا پچھلا زمانہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری موجودگی میں یہ تھا کہ اس قسم کے کرتوں میں کاایک کرتا میرے پاس تھا جو مدینہ میں ہر شادی کے وقت دلہن کو سجانے کے لیے مجھ سے مانگا جاتا تھا پھر رخصتی کے بعد واپس کردیا جاتا تھا۔‘‘ ( مشکوٰۃ شریف)

تاریخِ اسلام اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ کاشانۂ نبوت میں باوجود اِن ظاہری مصائب و آلام اور پریشانیوں کے گھر میں کبھی بھی کوئی نا خوش گوار واقعہ نہیں ہوا۔ گھر کے لوگوں میں جو محبت و الفت بل کہ باہمی عقیدت تھی اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں کوئی نہیں پیش کرسکتا۔

حضرت عائشہ اور دیگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی باہمی الفت
نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواجِ مطہرات کے درمیان بڑی محبت و الفت اور آپس میں بڑی بے تکلفی تھی۔ باہم کبھی بھی کسی قسم کی رنجش اورشدید اختلاف کا واقعہ کہیں نہیں ملتا ۔ یوں تونبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب چہیتی اور محبوب زوجہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تھیں ۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ آپ ﷺ تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے بھی بے پناہ محبت فرمایا کرتے تھے۔ جس کی روشن مثالیں کتابوں میں موجود ہیں۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :’’ ایک مرتبہ مَیں نے نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (آٹا دودھ یا گھی ملا کر) حریرہ پکایا، ( حریرہ - حلوے سے ملتی جلتی ایک غذا کا نام ہے جو عربوں کے یہاں پسند کی جاتی تھی) -- اس وقت ہمارے گھر میں حضرت سودہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں۔ مَیں ’’حریرہ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی اور سودہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ تم بھی کھاؤ۔ انھوں نے کھانے سے انکار کیا تو مَیں نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں ضرور کھانا پڑے گا۔ ورنہ مَیں یہ حریرہ تمہارے چہرے پر مل دوں گی۔ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے پھر بھی کھانے سے انکار کیا تو مَیں نے اپنا ہاتھ حریرہ میں ڈالا اور حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے چہرے پر لیپ دیا۔ یہ منظر دیکھ کر نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔

ام المؤمنین حضرت سودہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :’’ اس کے بعد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تم بھی عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے چہرے پر حریرہ مَل دو۔ چناں چہ مَیں نے بھی حریرہ میں ہاتھ ڈالا اور( حضرت) عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) کے چہرے پر مَل دیا تو نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر ہنسے جیسا کہ عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے فعل پر ہنسے تھے۔ اتنے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گذر ہوا وہ کسی کو پکارتے ہوئے اے عبداللہ! اے عبداللہ! کہہ رہے تھے ، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گمان ہوا کہ حضرت عمر (رضی اللہ عنہ)اندر آجائیں گے اس لیے ہم سے فرمایا کہ جاکر اپنا منہ دھولو۔ ( کنز العمال )

نبیِ کریم ﷺ کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دل لگی کرنا
ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سر میں درد ہورہا تھا ۔ جب کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض الموت شروع ہورہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ اے عائشہ! تم میرے سامنے مرتیں تو مَیں تم کو اپنے ہاتھ سے غسل دیتا اور اپنے ہاتھ سے تمہاری تجہیز و تکفین کرتا اور تمہارے لیے دعاے خیر کرتا۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے یہ سُن کر بڑے ناز و انداز سے عرض کیا کہ :’’ یارسول اللہ ! آپ میری موت مناتے ہیں اگر ایسا ہوجائے تو آپ اسی حجرے میں نئی بیوی لاکر رکھیں ۔

نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا یہ جواب سنا تو خوب تبسم فرمایا۔ ( بخاری و مسلم شریف )
..:: Follow us on ::..

http://www.jamiaturraza.com/images/Twitter.jpghttp://www.jamiaturraza.com/images/Facebook.jpg