Instagram

Sunday, 25 June 2017

kya Eid K Din Muanqa Wo Musafha Karn Bidat Hae?

کیا عید کے دن معانقہ و مصافحہ کرنا بدعت و حرام ہے؟ 
عمران سیفی رضوی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
عید کے دن اپنے مسلمان بھائی سے ہاتھ ملانا یعنی مصافحہ کرنا اور گلے ملنا یعنی کہ معانقہ کرنا ہمیشہ سے ملت اسلامیہ میں رائج تھا، اور ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی خرابی نہیں بلکہ بھلائی ہی بھلائی ہے، لیکن علمائے دیوبند کو بھلائی کے اس کام میں بھی بدعت کی برائی نظر آئ اور عید کے دن مصافحہ کرنا یا معانقہ کرنے کو بدعت اور مکروہ تحریمی یعنی کہ حرام کے قریب کا فتوٰی دے دیا،

مولوی رشید احمد گنگوہی کے دو فتوے پیش خدمت میں
سوال :- عید میں معانقہ کرنا اور بغل گیر ہونا کیسا ہے؟
جواب_ عیدین میں معانقہ کرنا بدعت ہے، فقط، واللہ تعلیٰ اعلم "
فتاوٰی رشیدیہ، از:مولوی رشید احمد گنگوہی، ناشر :مکتبہ تھانوی، دیوبند، صفحہ 148)

نہ کسی کتاب کا حوالہ نہ کوئی دلیل بس جو بھی دل میں آئے لکھ دو، علمائے دیوبند کے اکثر فتاوٰی آپ کو دلائل سے بلکل خالی ہی ملیں گے، عید کے دن معانقہ بدعت کہہ دیا لیکن اس کے بدعت ہونے کی وجہ کیا ہے؟ یہ جان کر تو آپ حیرت کریں گے،
گنگوہی صاحب کا فتوٰی کہ معانقہ کیوں بدعت ہے،

سوال_معانقہ کرنا بالخصوص عیدین کے روز کس درجہ گناہ ہے، مکروہ ہے یا حرام؟
جواب :معانقہ و مصافحہ بوجہ تخصیص کے اس روز میں اس کو موجب سرور اور باعث مودت اور ایام سے ذیادہ مثل ضروری کے جانتے ہیں بدعت ہے اور مکروہ تحریمی، "فتاوٰی رشیدیہ، از:مولوی رشید احمد گنگوہی، ناشر مکتبہ، تھانوی، دیوبند، صفحہ 148)

مذکور فتوے میں گنگوہی صاحب کہہ رہے ہیں کہ عید کے دن کو مصافحہ اور معانقہ کرنا دیگر ایام کے مقابلے میں موجب سرور یعنی کہ خوشی کا سبب اور باعث مودت یعنی کہ بھائی چارگی کی وجہ سے سمجھ کر کرتے ہیں اس لئے بدعت اور مکروہ تحریمی یعنی کہ حرام کے قریب ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ عید کے دن خوشی اور بھائی چارگی کی وجہ سے مصافحہ اور معانقہ منع ہے، تو کیا عید کے دن خوشی اور بھائی چارگی کے بجائے غم و غصہ کا اظہار کرنا چاہیے، تب ہی مصافحہ اور معانقہ جائز ہوگا؟ ایک اہم بات کی طرف ہم قارئین کی توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ سائل نے تو صرف معانقہ کے متعلق گنگوہی صاحب سے سوال کیا تھا لیکن گنگوہی صاحب نے معانقہ کے ساتھ ساتھ مصافحہ کو بھی اپنے غم و غصہ کا نشانہ بنا رہے ہیں، یہاں تک کہ گنگوہی صاحب نے "تذکرۃ الرشید" جلد اول صفحہ 181،پر عید کا مصافحہ اور معانقہ کو صاف حرام لکھ دیا ہے، جو کام قوم مسلم کے مابین اتحاد کا باعث تھا اس کو علمائے دیوبند تفریق بین المسلمین کا اپنا مقصد حل کرنے کے لئے ناجائز میں شمار کر رہے ہیں،

امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان سے مصافحہ و معانقہ کے جائز ہونے کے تعلق سے تحریر فرماتے ہیں:

معانقہ بطور برّوکرامت و اظہار محبت۔ بے فساد نیت وموادِّ شہوت، بالاجماع جائز جس کے جواز پر احادیث کثیرہ وروایات شہیرہ ناطق، اور تخصیص سفر کا دعوٰی محض بے دلیل ، احادیثِ نبویہ و تصریحاتِ فقہیہ اس بارے میں بروجہ اطلاق وارد، اور قاعدہ شرعیہ ہے کہ مطلق کو اپنے اطلاق پر رکھنا واجب اور بے مدرک شرعی تقیید وتخصیص مردود باطل ، ورنہ نصوصِ شرعیہ سے امان اُٹھ جائے ،

جوازِ معانقہ کی مندرجہ ذیل شرطیں ہیں:معانقہ کپڑوں کے اوپر سے ہو ۔) نیکی، اعزاز اور اظہار محبت کے طور پر ہو۔(۳) خرابی نیت اور شہوت کا کوئی دخل نہ ہو۔مذکورہ بالاشرطوں کے ساتھ معانقہ سفر، غیر سفر ہر حال میں جائز ہے۔دلیل: اس کا ماخذوہ روایات واحادیث ہیں جن میں قیدِ سفر کے بغیر معانقہ کا ثبوت ہے، جو لوگ صرف آمدِ سفر کے بعد معانقہ جائز بتاتے ہیں ان کا جواب یہ ہے :تمام احادیث وروایات میں مطلق طور پر جواز معانقہ کا ثبوت ہے، یہ کسی حدیث میں نہیں کہ بس سفر سے آنے کے بعد معانقہ جائز ہے، باقی حالات میں ناجائز بلکہ بعض احادیث سے صراحۃً آمدِ سفر کے علاوہ حالات میں بھی معانقہ کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔(۴) شریعت کا قاعدہ ہے کہ جو حکم، مطلق او رکسی قید کے بغیر ہو، اسے مطلق ہی رکھنا واجب وضروی ہے،معانقہ کے بارے میں جب یہ حکم مطلق او رقید سفر کے بغیر ہے، تو اسے مطلق رکھتے ہوئے سفر ، غیر سفر ہر حال میں معانقہ جائز ہوگا۔(۶) ہاں اگر کسی حکم میں خود شریعت کی جانب سے تخصیص اور تقیید کا ثبوت ہو تو اس حکم کو مخصوص او رمقید ضرور مانا جائے گا مگر معانقہ
کے بارے میں سوا اُن شرائط کے جو ابتدا میں ذکر کی گئیں آمد وسفر وغیرہ کی کوئی قید نہیں۔لہذا جواز
معانقہ کے بارے میں بے دلیل شرعی آمدِ سفر کی قید لگانا محض باطل اور نا مقبول ہے۔(فتاویٰ رضویہ جلد ٨ صفحہ ١٣٦)

خانیہ میں ہے:ان کانت المعانقۃ من فوقِ قمیصٍ او جُبّۃٍ جاز عند الکل اھ۲؎ ملخصا۔اگر معانقہ کُرتے یا جُبّے کے اوپر سے ہو تو سب کے نزدیک جائز ہے اھ ملخصاً
(۲؎ فتاوٰی خانیہ کتاب الحظروالاباحۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴/۷۸۳)

مجمع الانہر میں ہے:اذا کان علیھما قمیص اوجبۃ جاز بالاجماع ۳؎ اھ ملخصا۔
اگر معانقہ کرنے والے دونوں مردوں پر کُرتا یا جُبّہ ہو تو یہ معانقہ بالاجماع جائز ہے اھ ملخصاً،
(۳؎ مجمع الانہر کتاب الکراھیۃ مطبوعہ بیروت ۲ /۵۴۱)
ہدایہ میں ہے:قالوا الخلاف فی المعانقۃ فی ازار واحدٍ واما اذا کان علیہ قمیص اوجُبۃ فلا باس بھا بالاجماع وھو الصحیح ۴؎ ۔
طرفین ( امام اعظم وا مام محمد) اور ابو یوسف میں اختلاف ایک تہمد کے اندر معانقہ کے بارے میں ہے لیکن جب معانقہ کرنے والا کُرتا یا جبہّ پہنے ہو تو بالاجماع اس میں کوئی حرج نہیں اور یہی صحیح ہے۔
(۴؎ ہدایہ کتاب الکراہیۃ مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/۴۶۶)
در مختار میں ہے : لوکان علیہ قمیص او جبۃ جاز بلاکراھۃ بالاجماع وصححہ فی الھدایہ وعلیہ المتون ۵؎ ۔
اگر اس کے جسم پر کرتا یا جبہ ہو تو بلا کراہت بالاجماع جائز ہے، ہدایہ میں اسی کو صحیح قراردیا ، متون فقہ میں یہی ہے ۔
(۵؎ درمختار کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۴)
شرح نقایہ میں ہے: عِناقُہ اذاکان معہ قمیص او جبۃ او غیرہ لم یُکرہ بالاجماع وھو الصحیح ۱؎ اھ ملخصا۔
اس کا معانقہ جب اسی طرح ہو کہ کُرتا یا جبّہ یا کچھ حائل ہو تو بالاجماع مکروہ نہیں، اور یہی صحیح ہے اھ ملخصاً،
(۱؂ شرح نقایہ (ملا علی قاری) کتاب الکراھیۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کراچی ۲/ ۲۲۹)
اسی طرح امام نسفی نے کافی پھر علامہ اسمٰعیل نابلسی نے حاشیہ درر مولٰی خسرو وغیرہا میں جزم کیا، اور یہ وقایہ و نقایہ و اصلاح وغیرہا متون کا مفاد، اور شروح ہدایہ وحواشی درمختار وغیرہا میں مقرر ان سب میں کلام مُطلق ہے کہیں تخصیص سفر کی بُو نہیں۔اَ شِعَّۃُ اللّمعات میں فرماتے ہیں :

اما معانقہ اگر خوف فتنہ نباشد مشروع ست خصوصاً نزد قدوم از سفر ۲؎۔

معانقہ میں اگر فتنے کا خوف نہ ہو تو جائز و مشروع ہے خصوصاً جب سفر سے آرہا ہو۔

(۲؎ اشعۃ اللمعات باب المصافحۃ والمعانقہ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۴/۲۰)

یہ'' خصوصاً '' بطلانِ تخصیص پر نصِّ صریح __ رہیں احادیث نہی، ان میں زید کے لئے حجت نہیں کہ ان سے اگر ثابت ہے تو نہی مطلق۔ پھر اطلاق پر رکھے تو حالتِ سفر بھی گئی، حالانکہ اس میں زید بھی ہم سے موافق ۔ اور توفیق پر چلئے تو علماء كرام فرماتے ہیں وہاں معانقہ بروجہ شہوت مراد۔ اور او پر ظاہر کہ ایسی صورت میں تو بحالتِ سفربھی مصافحہ بھی ممنوع ، تابمعا نقہ چہ رسد ف۱ ۔

ف۱: یہ اُن احادیث سے استدلال کا جواب ہے جن میں معانقہ سے ممانعت آئی ہے۔ تو ضیح جواب یہ ہے کہ احادیث میں ممانعت مذکور ہے۔ اب اگر ان سے مطلقاً ہر حال میں ممانعت مراد لیں تو سفر، غیر سفر ہر جگہ معانقہ ناجائز ہوگا جب کہ سفر سےآنے کے وقت مانعین بھی معانقہ جائز مانتے ہیں۔ اس لئے وہ اگر احادیث نہی ہمارے خلاف پیش کریں تو خود ان کے بھی خلاف ہوں گی _ لامحالہ جوازِ معانقہ اور ممانعتِ جواز دونوں قسم کی حدیثوں میں تطبیق کرنا ہوگی، اور دونوں کے ایسے معنی لینے ہوں گے جن سے تمام احادیث پر عمل ہوسکے _ اور تطبیق یوں ہے کہ جہاں معانقہ سے ممانعت ہے وہاں معانقہ بطور شہوت مراد ہے __ اور جہاں جواز معانقہ کا ثبوت ہے وہاں معانقہ بے شہوت وفساد نیت مراد ہے جیسا کہ ہم نے ابتداءً ذکر کیا __ او رظاہر ہے کہ معانقہ بطور شہوت تو سفر سے آنے کے بعد بھی ناجائز ہے بلکہ اس طرح تو معانقہ کیا مصافحہ بھی ناجائزہے۔ احادیث جواز منع کے درمیان تطبیق مختلف فقہاء کرام نے فرمائی ہے اعلٰیحضرت رحمہ اﷲ تعالٰی نے ان کا حوالہ کتاب میں پیش کردیا ہے ۔ (مترجم)امام فخرالدین زیلعی تبیین الحقائق اور اکمل الدین بابرتی عنایہ اور شمس الدین قہستانی جامع الرموز اور آفندی شیخی زادہ شرح ملتقی الابحر اور شیخ محقق دہلوی شرح مشکوٰۃ او رامام حافظ الدین شرح وافی اور سیدی امین الدین آفندی حاشیہ شرح تنویر اور مولٰی عبدالغنی نابلسی شرح طریقہ محمدیہ میں، اور ان کے سوا اور علماء ارشاد فرماتے ہیں:

وھذا لفظ الاکمل، قال وَفّق الشیخ ابو منصور ( یعنی الماتریدی امام اھل السنۃ وسید الحنفیۃ ) بین الاحادیث فقال المکروہ من المعانقہ ماکان علی وجہ الشھوۃ وعبر عنہ المصنف ( یعنی الامام برھان الدین الفرغانی) بقولہ ازارواحدٍ فانہ سبب یفضی الیھا فاما علٰی وجہ البِر والکرامۃ اذاکان علیہ قمیص او جبۃ فلا باس بہ ۱؎ ۔

( یہ اکمل الدین بابرتی کے الفاظ ہیں) انھوں نے فرمایا شیخ ابو منصور ( ماتریدی، اہل سنت کے امام اور حنفیہ کے سردار) نے( معانقہ کے جواز و منع دونوں طرح کی) حدیثوں میں تطبیق دی ہے، انہوں نے فر مایا مکروہ وہ معانقہ ہے جو بطور شہوت ہو ۔اور مصنف ( یعنی امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ) نے اسی کو ایک تمہید میں معانقہ کرنے سے تعبیرکیا ہے، اس لئے کہ یہ سبب شہوت ہو سکتا ہے، لیکن نیکی او راعزاز کے طور پر کُرتا یا جُبہ پہنے ہوئے معانقہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (ت)

(۱؎ العنایۃ مع فتح القدیر شرح ہدایہ کتاب الکراھیۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۸ /۴۵۸)

اور کیونکر روا ہوگا کہ بے حالتِ سفرمعانقہ کو مطلقاً ممنوع ٹھہرائے حالانکہ احادیث کثیر میں سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بارہا بے صورت مذکورہ بھی معانقہ فرمایاف۱ ۔

ف۱: یہاں سے استدلال نے ایک دوسرا رنگ اختیار کیا، اعلٰیحضرت رحمہ اﷲ تعالٰی نے سولہ احادیث ان کے حوالوں کے ساتھ پیش فرمائی ہیں جن میں اُسی معانقہ کا ذکر ہے جو نیکی، اعزاز اور اظہار کے طور پر ہے___ خرابی نیت اور مواد شہوت سے ہر طرح دور ہے _ مگر بے حالت سفر ہے _ لہذا احادیث سے صراحۃً یہ ثبوت فراہم ہوجاتا ہے کہ صرف قدومِ سفر کے بعد ہی نہیں بلکہ دیگر حالات میں بھی معانقہ بلاشبہ جائز درست ہے ۔ اور جب خود سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ان تمام احوال میں معانقہ کا ثبوت حاصل ہوجاتاہے تو کوئی دوسرا اسے '' بدعت و ناروا'' کہنے کا کیا حق رکھتا ہے !
حدیث، 1_ یعنی ایک بارسید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حضرت بتول زہرا رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے مکان پر تشریف لے گئے اور سید نا امام حسن رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو بلایا، حضرتِ زہرا نے بھیجنے میں کچھ دیر کی، میں سمجھا انھیں ہار پہناتی ہوں گی یا نہلا ررہی ہوں گی، اتنے میں دوڑتے ہوئے حاضر آئے ، گلے میں ہار پڑا تھا، سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے دست مبارک بڑھائے حضور کو دیکھ کر امام حسن نے بھی ہاتھ پھیلائے، یہاں تک کہ ایک دوسرے کو لپٹ گئے، حضور نے '' گلے لگا کر'' دعا کی: الہٰی! میں اسے دوست رکھتا ہوں تو اسے دوست رکھ اور جو اسے دوست رکھے اسے دوست رکھ۔ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی حِبِّہٖ وبارک وسلم۔

(۱؎ الصحیح للمسلم باب فضل الحسن والحسین مطبوعہ راولپنڈی ۲/ ۲۸۲)

حدیث(2) نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر ایک ران پر مجھے بٹھا لیتے اور دوسری ران پر امام حسین کو، اورہمیں '' لپٹا لیتے'' پھر دعا فرماتے : الہٰی! میں ان پر رحم کرتا ہوں تو ان پر رحم فرما۔

(۲؎ الصحیح البخاری باب وضع الصبی فی الحجر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۸۸)

حدیث(3) سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے مجھے '' سینے سے لپٹایا'' پھر دُعا فرمائی: الہٰی! اسے حکمت سکھا دے۔

(۱؎ الصیح البخاری مناقب ابن عباس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۵۳۱)

حدیث(4) ایک بار دونوں صاحبزادے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس آپس میں دوڑ کرتے ہوئے آئے حضور نے دونوں کو '' لپٹالیا''

(۲؎ مسند احمد بن حنبل مناقب ابن عباس مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴/ ۱۷۲)
حدیث (5) سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے پوچھا گیا حضور کو اپنے اہل بیت میں زیادہ پیارا کون ہے؟ فرمایا: حسن اور حسین۔ اور حضور دونوں صاحبزادوں کو حضرت زہرا سےبلوا کر '' سینے سے لگالیتے '' اور ان کی خوشبوُ سُونگھتے، صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلیہم و بارک وسلم۔

(۳؂ جامع ترمذی مناقب الحسن والحسین مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۴۰ ۔ ۵۳۹)

حدیث (6) اس اثنا میں کہ وہ باتیں کررہے تھے اور ان کے مزاج میں مزاح تھا، لوگوں کو ہنسارہے تھے کہ سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے لکڑی ان کے پہلو میں چبھوئی، انھوں نے عرض کی مجھے بدلہ دیجئے، فرمایا: لے۔ عرض کی: حضور تو کرتا پہنے ہیں اور میں ننگا تھا۔ حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کرتا اُٹھایا انھوں نے حضور کو اپنی '' کنار میں لیا'' اور تہیگاہِ اقدس کو چُومناشروع کیا پھر عرض کی : یا رسول اﷲ! میرا یہی مقصود تھا۔

(۱؎ سنن ابوداؤد باب قُبلۃ الجسد ( کتاب الادب) مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۳۹۳)

ع دلِ عشّاق حیلہ گر باشد

( عاشقو ں کے دل بہانہ تلاش کرنے والے ہوتے ہیں)

صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی کل من احبہ وبارک وسلم۔

حدیث(7) میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا تو حضور ہمیشہ مصافحہ فرماتے۔ ایک دن میرے بلانے کو آدمی بھیجا میں گھرمیں نہ تھا، آیا تو خبر پائی، حاضر ہوا، حضور تخت پر جلوہ فرماتھے '' گلے سے لگالیا'' تو زیادہ جیّد اور نفیس ترتھا۔

(۲؎ سنن ابوداؤد باب فی المعانقۃ (کتاب الادب) مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/۳۵۲)

حدیث(8) میں نے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا حضور نے مولٰی علی کو '' گلے لگایا'' اور پیار کیا ، اور فرماتے تھے میرا باپ نثار اس وحید شہید پر۔

(۳؎ مسند ابو یعلٰی مسند عائشہ مطبوعہ موسس علوم القرآن بیروت ۴/ ۳۱۸)

حدیث (9) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور حضور کے صحابہ ایک تالاب میں تشریف لے گئے، حضور نے ارشاد فرمایا: ہر شخص اپنے یار کی طرف پَیرے۔ سب نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ صرف رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور ابو بکر صدیق باقی رہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صدیق کی طرف پَپر کے تشریف لے گئے اور انھیں گلے لگا کر فرمایا: میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکرکو بناتا لیکن وہ میرا یار ہے۔ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلٰی صاحبہٖ وبارک وسلم۔

(۱؎ طبرانی کبیر حدیث ۱۱۶۷۶ و ۱۱۹۳۸ مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۱/ ۲۶۱ و ۳۳۹)

حدیث(10) ہم خدمت اقدس حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھے، ارشاد فرمایا: اس وقت تم پر وہ شخص چمکے گا کہ اﷲ تعالی نے میرے بعد اس سے بہتر وبزرگ تر کسی کو نہ بنایا اور اس کی شفاعت شفاعتِ انبیاء کے مانند ہوگی ، ہم حاضر ہی تھے کہ ابو بکر صدیق نظر آئے سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے قیام فرمایا اور صدیق کو پیار کیا اور '' گلے لگایا''

(۲؎ تاریخ بغداد ترجمہ ۱۱۴۱ محمد بن عباس ابوبکر القاص مطبوعہ دارالکتب العربیہ بیروت ۳/ ۲۴ ۔ ۱۲۳)


حدیث(11) میں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو امیر المومنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ، کے ساتھ کھڑے دیکھا اتنے میں ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ حاضر ہوئے، حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان سے مصافحہ فرمایا اور ''گلے لگایا'' او ران کے دہن پر بوسہ دیا ۔ مولٰی علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ نے عرض کی: کیا حضورابو بکر کا مُنہ چومتے ہیں ؟ فرمایا: اے ابوالحسن ! ابوبکر کا مرتبہ میرے یہاں ایسا ہے جیسا میرا مرتبہ میرے رب کے حضور۔

(۱؎ سیرت حافظ عمر بن محمد ملاّ)

حدیث دوازدہم (12) :ابن عبدِ ربہّ کتاب بہجۃ المجالس میں مختصراً اور ریاض نضرہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے مطَوَّلاً، صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا ابتدائے اسلام میں اظہار اسلام اورکفار سے حرب وقتال فرمانا،اور ان کے چہرۂ مبارک پر ضربِ شدید آنا،اس سخت صدمے میں بھی حضور اقدس سید المحبوبین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا خیا ل رہنا،حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالارقم میں تشریف فرما تھے اپنی ماں سے خدمتِ اقدس میں لے چلنے کی درخواست کرنا مفصلاً مروی ، یہ حدیث ہماری کتاب مَطْلَعُ الْقُّمَریْن فی اَباَنَۃِ سَبْقَۃِ الْعُمَرَیْن ( ۱۲۹۷ھ ) میں مذکور، اس کے آخر میں ہے:

یعنی جب پہچل موقوف ہوئی اور لوگ سورہے ان کی والدہ اُم الخیر اور حضرت فاروق اعظم کی بہن ام جمیل رضی اﷲ تعالٰی عنہما انھیں لے کر چلیں،بوجہ ضعف دونوں پر تکیہ لگائے تھے، یہاں تک کہ خدمت اقدس میں حاضر کیا، دیکھتے ہی '' پروانہ وارشمع رسالت پر گر پڑے''( پھر حضور کو بوسہ دیا) اور صحابہ غایت محبت سے ان پر گرے۔حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے لئے نہایت رقت فرمائی۔

(۲؎ الریاض النضرۃ ذکرام الخیر مطبوعہ چشتی کتب خانہ فیصل آباد ۱/ ۷۶)ۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤۤ
حدیث (13) حضور سرور عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے پھر فرمایا: عثمان کہاں ہیں؟ عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ بے تابانہ اُٹھے اور عرض کی: حضور ! میں یہ حاضر ہوں۔ رسول اﷲ صـلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس آؤ۔ پاس حاضر ہوئے۔ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے '' سینہ سے لگایا'' اور آنکھوں کے بیچ میں بوسہ دیا۔

(۱؎ شرح المصطفی ( شرف النبی) باب بیست ونہم میدان انقلاب تہران ص ۲۹۰)

حدیث (14) ہم چند مہاجرین کے ساتھ خدمتِ اقدس حضور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھے حاضرین میں خلفائے اربعہ و طلحہ و زبیر و عبدالرحمن بن عوف وسعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالٰی عنہم تھے،حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں ہر شخص اپنے جوڑ کی طرف اٹھ کر جائے اور خود حضور والا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عثمانِ غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی طرف اُٹھ کر تشریف لائے ان سے'' معانقہ'' کیا اور فرمایا: تو میرا دوست ہے دُنیا و آخرت میں ۔

( ۲؎ المستدرک باب فضائل عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ مطبوعہ بیروت ۳/ ۹۷)

حدیث (15) حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے معانقہ کیا اور فرمایا:میں نے اپنے بھائی عثمان سے معانقہ کیا جس کے کوئی بھائی ہو اسے چاہئے اپنے بھائی سے '' معانقہ کرے''

(۳؎ کنز العمال بحوالہ ابن عساکر حدیث ۳۶۲۴۰ مطبوعہ دارالکتب الاسلامی حلب ۱۳/ ۵۷)

ا س حدیث میں علاوہ فعل کے مطلقاً حکم بھی ارشادہوا کہ ہر شخص کو اپنے بھائیوں سے معانقہ کرنا چاہئے۔

حدیث شانزدہم (۱۶) : کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت بتول زہرا سے فرمایا کہ عورت کے حق میں سب سے بہتر کیا ہے؟ عرض کی کہ نامحرم شخص اُسے نہ دیکھے۔ حضور نے '' گلے لگالیا اور فرمایا:ذُرِّیَّۃ بَعْضُھَا مِنْ بَعْض ۱ ؎

( یہ ایک نسل ہے ایک دوسرے سے ۔
اوکما ورد عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہ وبارک وسلم
( یا جیسا کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے وارد ہے۔(۱؎ القرآن ۳/ ۳۴)

بالجملہ احادیث اس بارے میں بکثرت وارداور تخصیص سفر محض بے اصل وفاسد۔ بلکہ سفر وبے سفر ہر صورت میں معانقہ سنت، او رسنت جب ادا کی جائے گی سنت ہی ہوگی تاوقتیکہ خاص کسی خصوصیت پر شرع سے تصریحاً نہی ثابت نہ ہو، یہاں تک کہ خود امام الطائفہ مانعین اسمٰعیل دہلوی رسالہ نذور میں کہ مجموعہ زبدۃ النصائح میں مطبوع ہوا صاف مُقِر کہ معانقہ روز عید گو بدعت ہو بدعت حسنہ ہے۔
حیث قال ( یوں کہا ۔ت) ف۱: ہمہ وقت از قرآن خوانی فاتحہ خوانی وخورانیدن طعام سوائے کندن چاہ وامثال دعاواستغفار واُضحیہ بدعت ست بدعت حسنہ بالخصوص است مثل معانقہ روز عید ومصافحہ بعد نماز صبح یا عصر ۱؎ ۔
کُنواں کھود نے ۔اور اسی طرح حدیث میں سے ثابت دوسری چیزوں، اور دعا استغفار، قربانی کے سوا تمام طریقے، قرآن خوانی ، فاتحہ خوانی، کھانا کھلاناسب بدعت ہیں ۔ مگر خاص بدعت حسنہ ہیں، جیسے عید کے دن معانقہ ۔ اور نماز فجر یا عصر کے بعد مصافحہ کرنا (بدعتِ حسنہ ہے )۔ (ت) واﷲ تعالٰی اعلم
(۱؎ مجموعہ زبدۃ النصائح)
ف۱: مولوی اسمٰعیل دہلوی پیشو یان علماء دیوبندی کی اس عبارت میں چند باتیں قابل غور ہیں:(۱) ایصال ثواب کے لئے کنواں کھدوانا، دعا ، استغفار، قربانی اور اسی طرح کی دوسری چیزیں بدعت نہیں بلکہ سنت سے ثابت ہیں۔(۲) قرآن خوانی، فاتحہ خوانی، کھانا کھلانا اوراس طرح کے دوسرے طریقے بدعت ہیں مگر بدعت حسنہ ہیں ۔ (۳) اس سے بدعت کی دو قسمیں معلوم ہوئیں:( ۱) بدعتِ حسنہ۔(۲) بدعتِ سیئہ۔ لہذا ہر بدعت بُری نہیں۔ او رہر نیا کام صرف بدعت ہونے کے باعث ناجائز و حرام نہیں ہوسکتا بلکہ بعض کام بدعت ہوتے ہوئے بھی حسن اور اچھے ہوتے ہیں(۴) روزِ عید کا معانقہ ،اور ہر روز فجر وعصر کے بعد مصافحہ بدعت حسنہ جائز اور اچھا ہے ع مدعی لاکھ پہ بھاری ہے گواہی تیری منکرین اعلٰیحضرت کا پورا رسالہ نہ مانیں، تمام احادیث وفقہی نصوص سے آنکھیں بند کرلیں مگر انھیں اپنے'' پیشوائے اعظم'' کے اقرار صریح اور کلام واضح سے ہر گز مفرنہ ہونا چاہئے،)

روایت ہے حضرت قتادہ سے فرماتے ہیں میں نے حضرت انس سے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ میں مصافحہ مروج تھا فرمایا ہاں ۱؎(بخاری)
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کوئی دو مسلمان نہیں جو آپس میں ملیں پھر مصافحہ کریں مگر ان کے جدا ہونے سے پہلے دونوں بخش دیئے جاتے ہیں ۱؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ فرمایا جب دو مسلمان ملیں تو مصافحہ کریں اللہ تعالیٰ کی حمد کریں اور اس سے معافی چاہیں تو ان کی بخشش کردی جاتی ہے

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ہم میں سے کوئی اپنے بھائی یا اپنے دوست سے ملے تو کیا اس کے آگے جھکے فرمایا نہیں ۱؎ کہا کیا اس سے لپٹ جاوے اور اسے چومے فرمایا نہیں ۲؎ عرض کیا کہ کیا اس کا ہاتھ پکڑ ے اور اس سے مصافحہ کرے فرمایا ہاں۳؎(ترمذی)

روایت ہے ایوب ابن بشیر سے وہ عنزہ کے ایک شخص سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوذر سے کہا کیا نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب تم ان سے ملتے تو تم سے مصافحہ کرتے تھے ۲؎ فرمایا کبھی ایسا نہ ہوا کہ میں آپ سے ملا ہوں اور مجھ سے مصافحہ نہ کیا ۳؎ حضور نے مجھے ایک دن بلایا میں اپنے گھر میں نہ تھا پھر جب میں آیا تو مجھے خبر دی گئی تو میں حضور کے پاس آیا آپ ایک تخت پر تھے مجھے لپٹا لیا تو یہ بہت اچھا بہت اچھا ہوا ۴؎(ابواداؤد)