Instagram

Monday, 11 September 2017

Aalahazrat K Ek Sher Ki Aruuzi Wazahat

اعلی حضرت کے ایک شعر کی عروضی وضاحت
از:
میرزا امجد رازی

میرے ایک نہایت عزیز دوست علّامہ زین العابدین زینٓ عطّاری نے آج مجھے بتایا کہ ان کے شہر میں ایک دو کہنہ مشق شاعر جو کہ بزعمِ خود علمِ عروض میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں ۔اعلیٰحضرت کے مندرجہ ذیل شعر کو خارج از بحر و وزن کہتے ہیں۔شعر یہ ہے۔۔۔

غم ہو گئے بے شمار آقا
بندہ تیرے نثار آقا

جواب تو اِن کو میں نے زبانی کلامی بھی دے دیا تھا لیکن سوچا کہ ایسے نہ جانے اور کتنے نابالغ العروض ہوں گے جن کی نظر میں یہ شعر خارج از وزن ہو گا اور وہ حضرتِ امام احمد رضا پر اپنی کم علمی و کوتاہ نظری کی وجہ سے اِس نقدِ بے وقعت کو لئے اپنی خستہ حال علمیت کا رعب جھاڑتے ہوں گے اور دوسروں کو گمراہ کرتے ہوں گے۔
اِس لئے یہ جواب اہلِ فیس بک کے سامنے بھی پیش کرتا ہوں تاکہ جو نہیں جانتے وہ جان جائیں ۔جن تک بات نہیں پہنچی پہنچ جاۓ۔۔اور حجّت قائم ہو جاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب :

سب سے پہلے اِن تین زحافات کو سمجھیں !

1: زحافِ خرب
اصطلاحِ علمِ عروض میں اِس زحاف سے مراد اجتماعِ خرم و کف ہے
جیسے " مفاعیلن " سے " فاعیل " بعد ازاں اِسے " مفعول " سے بدلا جاتا ہے۔۔یہ زحاف بحر کے جس رکن میں عمل کرتا ہے اُس رکنِ مزاحف کو اخرب کہا جاتا ہے

2 : قبض
اصطلاحِ علمِ عروض میں اِس سے مراد رکنِ سالم کے پانچویں حرفِ ساکن کا اسقاط ہے۔
جیسے " مفاعیلن " سے " مفاعلن " اِس میں رکنِ سالم کے حرفِ خامس " ی " کو ساقط کیا گیا ہے۔۔یہ زحاف بحر کے جس رکن میں عمل کرے اُس رکنِ مزاحف کو مقبوض کہا جاتا ہے

3 : حذف
اصطلاحِ علمِ عروض میں اِس سے مراد رکنِ سالم کے آخری سببِ خفیف کا اسقاط ہے
جیسے " مفاعیلن " سے " مفاعی " بعد ازاں اِسے " فعولن " سے بدلا جاتا ہے۔۔یہ زحاف بحر کے جس رکن میں عمل کرے اُس رکنِ مزاحف کو محذوف کہا جاتا ہے

اب بالترتیب دائرۂ مجتلبہ سے اخراج پانے والی مسدس الاصل بحرِ ہزج مسدس سالم
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن میں اِن مذکورہ زحافات کا عمل دیکھئے۔۔

مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
مفعول مفاعلن فعولن
خرب قبض حذف

گویا بحرِ ہزج مسدس سالم سے حاصل ہونے والا مزاحف آہنگ یہ ہے

مفعول مفاعلن فعولن
بحرِ ہزج مسدس مزاحف اخرب مقبوض محذوف

اب اِس مزاحف وزن پر اعلیٰحضرت کے مصرعِ اوّل کی تقطیع ملاحظہ کریں

مفعول مفاعلن فعولن
غم ہو گ ءِ بے شما ر آ قا

لیکن دوسرے مصرع کی تقطیع کرنے سے پہلے زحافِ تخنیق کو بھی سمجھنا ہو گا
زحافِ تخنیق :
اصطلاحِ علمِ عروض میں اِس سے مراد دو مزاحف رکنوں میں اگر تین حرکات اکٹھی آ جائیں تو دوسرے رکن کے " وتد " کے حرفِ اوّل کی حرکت ختم کر کے وہ حرف ماقبل متحرک الآخر رکنِ مزاحف سے پیوست کر دیتے ہیں۔۔جیسے " مفعول مفاعلن " میں۔۔۔۔
کہ اِس میں " مفاعلن " کی میم کی حرکت ختم کر کے حرفِ میم ساکن کو " مفعول " متحرک الآخرۃ کے لام سے پیوست کر دینے سے صورتِ حاصلہ یہ بنتی ہے۔

مفعولن فاعلن فعولن

کلامِ امام کا پہلا مزاحف وزن تھا مفعول مفاعلن فعولن
لیکن جب پہلے دو مزاحف ارکان میں زحافِ تخنیق لگا تو مفعولن فاعلن فعولن حاصل ہوا

اب اسی وزن پر مصرعِ ثانی کی تقطیع ملاحظہ کریں

مفعولن فاعلن فعولن
بندہ تے رے نثا ر آقا

گویا یہ کلام بحرِ ہزج مسدس سالم سے حاصل ہونے والے درجِ ذیل دو مزاحف آہنگ میں ہے

1 : مفعول مفاعلن فعولن۔۔۔۔۔۔۔۔بحرِ ہزج مسدس مزاحف اخرب مقبوض محذوف
2 : مفعولن فاعلن فعولن۔۔۔۔۔۔۔۔ بحرِ ہزج مسدس مزاحف اخرب مقبوض محذوف مخنّق

اِن دونوں مزاحف اوزان کا ایک ہی کلام میں اجتماع جائز ہے ۔
دلیل میں میرزا غالبٓ کے ایک کلام کا مطلع و مقطع دیکھیے

مطلع : فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے
نالہ پابندِ نَے نہیں ہے
مقطع : ہستی ہے نہ کچھ عدم ہے غالبٓ
آخر تُو کیا ہے ! اے ۔۔نہیں ہے

اسی بحر و اوزانِ مزاحف میں اعلیٰحضرت نے دو اور طویل کلام قلمبند کئے ہیں

1 : اللہ اللہ کے نبی سے
فریاد ہے نفس کی بدی سے
2 : ایمان ہے قالِ مصطفائی
قرآن ہے حالِ مصطفائی

کلامِ ثانی کا ایک شعر انہیں دو اوزان کے اجتماع میں دیکھیں

اصحاب نجومِ رہنما ہیں
کشتی ہے آلِ مصطفائی

اعلیٰحضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلی علیہ الرحمہ پر اعتراض وہی بندہ کرتا ہے جس کا علم اور جس کی عقل ناقص ہو

کرتا ہوں ختم سخن اپنی دعا پر رازیٓ
چھوٹے مجھ سے نہ کبھی دامنِ اعلیٰحضرت

از :استاذ  میرزا امجد رازی